Explained with ayahs 183–184
روداد روزہ اور صلوۃ
اللہ تعالیٰ اس امت کے ایمان داروں کو مخاطب کر کے انہیں حکم دے رہا ہے کہ روزے رکھو روزے کے معنی اللہ تعالیٰ کے فرمان کی بجا آوری کی خالص نیت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع سے رک جانے کے ہیں اس سے فائدہ یہ ہے کہ نفس انسان پاک صاف اور طیب و طاہر ہوجاتا ہے ردی اخلاط اور بےہودہ اخلاق سے انسان کا تنقیہ ہوجاتا ہے، اس حکم کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہے کہ اس حکم کے ساتھ تم تنہا نہیں بلکہ تم سے اگلوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم تھا، اس بیان سے یہ بھی مقصد ہے کہ یہ امت اس فریضہ کی بجاآوری میں اگلی امتوں سے پیچھے نہ رہ جائے جیسے اور جگہ ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا)…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 184
یعنی ایک سے زیادہ آدمیوں کو کھانا کھلائے، یا یہ کہ روزہ بھی رکھے اور مسکین کو کھانا بھی کھلائے۔
سورة الْبَقَرَة 185
یہاں تک وہ ابتدائی حکم ہے، جو رمضان کے روزوں کے متعلق سن 2 ہجری میں جنگ ِ بدر سے پہلے نازل ہوا تھا۔ اس کے بعد کی آیات اس کے ایک سال بعد نازل ہوئیں اور مناسبت مضمون کی وجہ سے اسی سلسلہء بیان میں شامل کردی گئیں۔
سورة الْبَقَرَة 186
“ سفر کی حالت میں روزہ رکھنا یا نہ رکھنا آدمی کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ نبی ﷺ کے ساتھ جو صحابہ ؓ سفر میں جایا کرتے تھے، ان میں سے کوئی روزہ رکھتا تھا اور کوئی نہ رکھتا تھا اور دونوں گروہوں میں سے کوئی دوسرے پر اعتراض نہ…
Read the full tafseer →مریض کا روزہ
(آیت) فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا مریض سے مراد وہ مریض ہے جس کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف پہنچے یا مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو بعد کی آیت وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے جمہور فقہاء امت کا یہی مسلک ہے،
مسافر کا روزہ
اَوْ عَلٰي سَفَرٍ یہاں لفظ مسافر کے بجائے علیٰ سفر کا لفظ اختیار فرما کر کئی مسائل کی طرف اشارہ فرمادیا۔
اول یہ کہ مطلقا لغوی سفر یعنی اپنے گھر اور وطن سے باہر نکل جانا روزہ میں رخصت سفر کے لئے کافی نہیں بلکہ سفر کچھ طویل ہونا چاہئے کیونکہ لفظ عَلٰي سَفَرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پر سوار ہو جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھر سے دس…
Read the full tafseer →“ گنتی کے چند دن ”: یعنی روزے کی یہ مشقت تم پر کچھ زیادہ مدت کے لیے نہیں ڈالی گئی ہے بلکہ سال میں صرف گنتی کے چند دن اس کے لیے خاص کیے گئے ہیں جس طرح اوپر والی آیت میں کما کتب علی الذین من قبلکم کے الفاظ تالیف قلوب کے طور پر آئے ہیں۔ اسی طرح، ایاما معدودات، کے الفاظ بھی بطور تالیف قلب وارد ہیں کہ تربیت تقوی اور تزکیہ نفس کا یہ کورس چند روزہ ہے، اس سے پست ہمت اور دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے، نفس پر شاق ہونے والی عبادت کے بیان میں قرآن مجید نے تالیف قلب کا یہ انداز اکثر مقامات میں ملحوظ رکھا ہے۔ انفاق اور زکوۃ کے سلسلہ میں بعض چیزوں کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ آگے زیادہ واضح مثالیں اس کی آئیں گی۔
‘…
Read the full tafseer →184۔ 1 یہ بیمار اور مسافر کو رخصت دے دی گئی ہے کہ بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان المبارک میں جتنے روزے نہ رکھ سکے ہوں وہ بعد میں رکھ کر گنتی پوری کرلیں۔
184۔ 2 يُطِيقُونَهُ کا ترجمہ یتجشمونہ (نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں) کیا گیا ہے۔ یعنی جو شخص بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے جسے شفایابی کی امید نہ ہو روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے وہ ایک مسکین کو کھانا بطور فدیہ دے دے لیکن زیادہ تر مفسرین نے اس کا ترجمہ طاقت ہی کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا اسلام میں روزے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے طاقت رکھنے والوں کو بھی رخصت دے دی گئی تھی کہ اگر وہ روزہ نہ رکھیں تو اس کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا دیا کریں۔…
Read the full tafseer →تشریح : شروع میں جب روزے فرض کئے گئے تو یہ آسانی بھی دی گئی تھی کہ اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ ادا کردے تو یہ بھی جائز ہے، بعد میں آیت نمبر : 185 نازل ہوئی جو آگے آرہی ہے اس آیت نے اس سہولت کو واپس لے لیا اور یہ حتمی حکم دے دیا گیا کہ جو شخص بھی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزے رکھے، تاہم فدیہ کی سہولت ان لوگوں کے لئے اب بھی باقی رکھی گئی ہے جو نہایت بوڑھے ہوں اور ان میں روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہ ہو اور آئندہ ایسی طاقت پیدا ہونے کی امید بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →بات کا دوسرا رخ دیکھئے ، کہا جاتا ہے ! یہ تو چند دن ہیں پوری عمر کے روزے تو فرض نہیں کئے گئے ۔ تمام زمانے کے لئے تو فرض نہیں ہیں ۔ ساتھ ساتھ یہ کہ بیمار اس وقت تک مستثنیٰ جب تک وہ صحت یاب نہ ہوجائیں ۔ مسافروں پر اس وقت تک لازم نہیں جب تک گھر نہ لوٹ آئیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور سہولت اور تخفیف خاص رعایت دی گئی ہے ۔
أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ” چند مقرر دنوں کے روزے ہیں ، اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے ۔ “
سفر اور مرض کے اعتبار سے آیت کا مفہوم عمومیت کا حامل…
Read the full tafseer →12 یعنی چند روز گنتی کے جو زیادہ نہیں روزہ رکھو اور اس سے رمضان کا مہینہ مراد ہے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے۔
13 پھر اس مدت قلیل میں بھی اتنی سہولت اور فرما دی گئی کہ جو بیمار ایسا ہو کہ روزہ رکھنا دشوار ہو یا مسافر ہو تو اس کو اختیار ہے کہ روزے نہ رکھے اور جتنے روزے کھائے اتنے ہی رمضان کے سوا اور دنوں میں روزے رکھ لے خواہ ایک ساتھ یا متفرق کر کے۔
1 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں مگر ابتداء میں چونکہ روزہ کی بالکل عادت نہ تھی اس لئے ایک ماہ کامل پے درپے روزے رکھنا ان کو نہایت شاق تھا تو ان کے لئے یہ سہولت فرما دی گئی تھی کہ اگرچہ تم کو کوئی عذر مثل مرض یا سفر کے پیش نہ ہو مگر صرف عادت نہ…
Read the full tafseer →آیت 184 اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ط
مَعْدُوْدٰت جمع قلت ہے ‘ جو تین سے نو تک کے لیے آتی ہے۔ یہ گویا اس کا ثبوت ہے کہ یہاں مہینے بھر کے روزے مراد نہیں ہیں۔
فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَ یَّامٍ اُخَرَ ط وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ط
ان آیات کی تفسیر میں ‘ جیسا کہ عرض کیا گیا ‘ مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ میں نے اپنے مطالعے کے بعد جو رائے قائم کی ہے َ میں صرف وہی بیان کر رہا ہوں کہ اس وقت امام رازی رح کے بقول یہ فرضیتّ علی التّعیین نہیں تھی بلکہ علی التّخییر تھی۔ یعنی روزہ فرض تو کیا گیا ہے لیکن اس کا بدل بھی دیا جا رہا ہے…
Read the full tafseer →230 یعنی انتیس یا تیس دن جو کہ قمری مہینہ کی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مدت ہے۔ شریعت نے قمری مہینہ کی تعین کو ستاروں کے علم یا آلات روئیت کے حساب سے معلق نہیں کیا بلکہ اس کی بنیاد رؤیت ہلال پر رکھی ہے یعنی چاند کو دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کرو اور چاند (شوال کا) دیکھ کر ہی روزے رکھنا ختم کرو۔ اب رؤیت ہلال مختلف ممالک میں مختلف اوقات اور مختلف تاریخوں پر ہونا عین ممکن ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ ماہ رمضان کے دوران مختلف، ممالک کا سفر کرنے والوں میں سے کسی کے روزوں کی تعداد 28 رہ جائے اور کسی کے 31 ہوجائے۔ ایسی صورت میں جس شخص کے روزے 28 بن رہے ہوں وہ بعد میں ایک روزہ کی قضا دے گا اور جس کے…
Read the full tafseer →)652 ۔ یعنی ان فرض روزوں کی ایک متعین تعداد ہے جیسا کہ ڈسپلن (تنظیم یا باقاعدگی) کا اتقضا ہے۔ یہ نہیں کہ جب جس کا جی چاہے جنتے دنوں کے لیے رکھ ڈالے۔ وحدت امت کے لحاظ سے لازمی تھا کہ ایک متعین زمانہ، متعین حدود کے ساتھ ساری امت کے لیے مقرر ہو، ضمنا یہ پہلو بھی نکل آیا کہ ان فرض روزوں کی تعداد کچھ بہت بڑی نہیں۔ یہ نہیں کہ سال سال بھر روزے رکھتے ہی جاؤ۔ چھ مہینے بلکہ تین مہینے بھی نہیں۔ سال بھر میں کل 29 یا 30 دن۔
653 ۔ (اور بیماری کے باعث روزہ اس پر شاق ہو) ۔ بیماری کی حالتیں مختلف ہوتی ہیں، بیماری بہت شدید بھی ہوسکتی ہے اور بہت خفیف برائے نام بھی ہوسکتی ہے اور پھر موسم، عمر، جثہ وغیرہ کے…
Read the full tafseer →مریض کا روزہ : فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا مریض سے مراد وہ مریض ہے جس کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف پہنچے، یا مرض میں اضافی یا صحت میں تاخیر کا اندیشہ ہو، وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ کا یہی مطلب ہے۔
مسافر کا روزہ : اَوْ عَلٰی سَفَرٍ یہ امر غور طلب ہے کہ مختصر لفظ مسافر کے بجائے علیٰ سفر کا لفظ اختیار فرما کر کئی اہم مسائل کی طرف اشارہ فرما دیا، اول یہ کہ مطلقاً لغوی سفر یعنی گھر یا بستی سے باہر نکلنے کا نام سفر نہیں بلکہ سفر کچھ طویل ہونا چاہیے اس لئے کہ لفظ علیٰ سَفَرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پر سوار ہو جس سے یہ بات خودبخود معلوم ہوتی ہے کہ گھر سے دس پانچ میل چلے جانا مراد…
Read the full tafseer →اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ (چند روز ہیں گنتی کے) فعل محذوف صوموا (روزہ رکھو) کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ الصیام مصدر کی وجہ سے منصوب نہیں ہے کیونکہ درمیان میں اجنبی فاصل ہے۔ معدودات کا مطلب یہ ہے کہ گنتی کے چند دن ہیں کیونکہ عادتاً جو چیز کم ہوتی ہے اسی کو شمار کیا کرتے ہیں اور بہت کو شمار نہیں کرتے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اِیَّامًا معدودات ( گنے ہوئے دن) سے ہر مہینے کے تین روزے اور ایک روزہ عاشورہ کا مراد ہے کیونکہ یہ روزے ربیع الاوّل سے لے کر رمضان تک ہر مہینے میں تین تین روزے واجب تھے پھر رمضان کے روزوں کا حکم ہوگیا اور یہ منسوخ ہوگئے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہجرت کے بعد اوّل جو…
Read the full tafseer →(184) تیس، دن تک روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے اور جو شخص بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان میں روزے نہ رکھ سکے تو دوسرے دنوں میں جتنے اس نے رمضان المبارک میں روزے نہیں رکھے ہیں اتنے ہی روزے رکھ لے اور جو حضرات روزے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں تو ہر روزہ کے بدلہ میں جس کو اس نے رمضان میں کھولا ہے نصف صاع گیہوں (گندم) کا ایک مسکین کو دے دے مگر یہ آیت ”فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ“۔ سے منسوخ ہے اور (آیت) ”علی الذین یطیقونہ“۔ کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ جو حضرات فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں مگر روزہ نہیں رکھ سکتے، یعنی بہت ہی بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ….) روزہ ان پانچ فرائض میں داخل ہے جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ [ بخاری، الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم : 8 ]
الصِّيَامُ یہ مصدر ہے، یہ ”صَوْمٌ“ کی جمع نہیں، بلکہ ”صَوْمٌ“ بھی مصدر ہے، اصل میں یہ کسی بھی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں، کھانا پینا ہو یا کلام ہو یا چلنا پھرنا، اسی لیے گھوڑا چلنے سے یا چارا کھانے سے رکا ہوا ہو تو اسے ”فَرَسٌ صَاءِمٌ“ کہتے ہیں، رکی ہوئی ہوا کو بھی ”صَوْمٌ“ کہتے ہیں۔ (راغب) شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم ہے۔
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) یہ روزے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
آیت نمبر 183 تا 184
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام۔ جب مکلفین پر قصاص اور وصیت کے فرض ہونے کا ذکر کیا تو ان پر روزوں کے فرض ہونے کا ذکر کیا تو ان پر روزوں کے فرض ہونے کا بحی ذکر کیا اور ان پر روزوں کو بھی لازم کیا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے : یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔ اس حدیث کو حضرت ابن عمر نے روایت کیا ہے۔ صوم کا لغوی معنی رکنا اور ایک حال سے دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
روزہ کی فرضیت
(1) امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا۔ رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔
نماز و روزے کے حکم میں تبدیلی
(2) امام احمد، ابو داؤد، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے سنن میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نماز تین احوال میں پھیری گئی اور روزہ تین احوال میں پھیرا گیا۔ نماز کے تین احوال یہ ہیں نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →[ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ : گنے ہوئے کچھ دن ہیں ] [ فَمَنْ کَانَ : پس جو ہو ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ مَّرِیْضًا : مریض ] [ اَوْ عَلٰی سَفَرٍ : یا کسی سفر پر ] [ فَعِدَّۃٌ : تو شمار ہے ] [ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ : دوسرے کسی دنوں سے ] [ وَعَلَی الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں پر جو ] [ یُطِیْقُوْنَـــــــہٗ : طاقت رکھتے ہیں اس کی ] [ فِدْیَۃٌ : فدیہ ہے ] [ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ : ایک مسکین کا کھانا ] [ فَمَنْ تَطَوَّعَ : پھر جو نفلاً زیادہ کرے ] [ خَیْرًا : کسی نیکی کو ] [ فَھُوَ خَیْرٌ : تو یہ بہتر ہے ] [ لَّــــــہٗ : اس کے لیے ] [ وَاَنْ : اور یہ کہ ] [ تَصُوْمُوْا : تم لوگ روزہ رکھو ] [ خَیْرٌ :…
Read the full tafseer →(ایَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ) فرما کر یہ بتایا کہ یہ چند دن کے روزے ہیں۔ ان روزوں کو رکھ لینا کوئی ایسی مشکل بات نہیں ہے۔ اس کے بعد مریض اور مسافر کے لیے آسانی بیان فرمائی کہ وہ اپنے مرض اور ایام سفر میں روزہ نہ رکھیں تو رمضان گزر جانے کے بعد دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی کرکے روزے رکھ لیں۔ یعنی چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرلیں۔ اس کی تو ضیح آئندہ آیت کے ذیل میں آئے گی۔ انشاء اللہ !
یہ جو فرمایا (وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ) (کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ان پر فدیہ ہے ایک مسکین کے کھانے کا) یہ ابتدائی حکم تھا۔ سنن ابو داؤد میں ص 74 ج 1 پر ہے کہ جب رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
حکم سوم صوم۔
قال تعالی، یا ایھا الذین امنو کتب۔۔۔ الی۔۔ کنتم تعلمون۔
اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ بجائے اہل ایمان کے اپنے نفس موذی کو مارو کہ جو ہر وقت تمہاری تاک میں ہے اور تمہارے خدا کے درمیان سدراہ ہے تمہارا دشمن ہے اور تمہارے جانی اور ایمانی دشمن یعنی شیطان کادوست بلکہ حقیقی اور جڑواں بھائی ہے مثل مشہور ہے کہ شیطان اور نفس دونوں حقیقی بھائی ہیں ساتھ پیدا ہوئے اس لیے ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اس دشمن کو ماردو اور روح کو زندہ کرو جو تمہارے پاس فرشتوں کی جنس کی ایک چیز ہے نفس کے مارنے اور روح کو زندہ کرنے کا بہترین طریقہ صبر ہے اور صبر حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ چند روز روزے رکھو قوت…
Read the full tafseer →339 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ شروع میں روزے علی التخییر فرض تھے یعنی ہر آدمی کو اکتیار تھا کہ چاہے وہ روزے رکھے یا اگر طاقت ہو تو ہر روزہ کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلادے بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض کا خیال ہے یہاں لا مقدر ہے اور اصل میں عبارت یوں ہے۔ ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ لَايُطِيْقُوْنَهٗ ۔ یا ہمزۂ افعال سلب ماخذ کیلئے ہے اور ضمیر منصوب سے مراد روزہ ہے اور اس میں شیخ فانی، حاملہ اور دودھ پلانیوالی عورت کا حکم بیان کیا گیا ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ یطیقونہ میں ضمیر منصوب فدیہ کی طرف راجع ہے جو بعد میں مذکور ہے لیکن رتبۃً مقدم ہے کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
گزشتہ سے پیوست
اس سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کی حفاظت کا قانون بیان فرمایا ، پھر مال کی حفاظت کا قانون بتلایا اور فرمایا کہ بیجا تصرف سے منع فرمایا ، حق تلفی کو ناجائز قرار دیا اور بتایا کہ یہ بات تقویٰ کے خلاف ہے۔ ایمانیات کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسلام کا قانون فوجداری بیان فرمایا اور قصاص اور دیت کا تذکرہ کیا اور فرمایا یہ اصول بیان کرنے کا مقصد ہے کہ تم اس پر عمل پیرا ہو کر تقویٰ حاصل کرو۔
فرضیت روزہ
آیات زیر درس میں ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن روزہ کا بیان ہے۔ جس طرح اس سے پہلے اصولوں کو تقویٰ کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ۔ اسی طرح روزہ رکھنے کی غرض وغایت بھی تحصیل تقویٰ…
Read the full tafseer →اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ 0 ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ 0 ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَہٗ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ 0 ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَہُوَخَيْرٌ لَّہٗ 0 ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 184
يوم
اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ،
( ی و م ) الیوم
( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
ترکیب : یا حرف ندا الذین آمنوا صلہ و موصول منادی کتب فعل مجہول الصیام مفعول مالم یسم فاعلہ کما موضع نصب میں ہے صفت ہے کتب کی ای کتبنا کما کتب ایاما موصوف۔ معدودات صفت یا یہ منصوب ہے صوموا مقدر سے یا الصیام سے فمن شرطیہ کان کا اسم ضمیر ہے جو من کی طرف پھرتی ہے اور مریضا اس کی خبر معطوف علیہ او علی سفر معطوف موضع نصب میں اے او مسافرا فعدۃ مبتداء والخبر محذوف ای علیہ من ایام اخر صفت ہے عدۃ کی۔ پس یہ مجموعہ جو اب شرط ہے علی الذین یطیقونہ جملہ خبر فدیۃ مبدل منہ طعام مسکین بدل مجموعہ مبتداء جملہ معطوف برجملہ سابقہ۔
تفسیر : قصاص اور وصیت حیات دنیاوی کا سبب تھا اور کلام الٰہی میں جس طرح حیات دنیا کی…
Read the full tafseer →مقاصد کے ذکر کے بعد فرمایا : اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ” گنتی کے چند دن “۔
اَیَّـامًا مَّعْدُوْدٰتٍسے مراد کیا ہے ؟
اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ سے کیا مرا د ہے ؟ بعض اہل علم نے تین دن کے روزے مراد لیے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے ہر ماہ اللہ نے تین روزے فرض کیے تھے جو رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد منسوخ ہوگئے۔ لیکن دیگر اہل علم یہ کہتے ہیں کہ رمضان کے علاوہ اس امت پر اور کسی قسم کے روزے فرض نہیں کیے گئے۔ ہر ماہ میں آنحضرت ﷺ جو تین روزے رکھتے تھے ان کی حیثیت فرض روزوں کی نہیں بلکہ نفلی روزوں کی تھی۔ ہم اس سلسلے میں خود کچھ کہنے کی بجائے امام ابن جریر ( رح) کی رائے نقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
فہم القرآن
ربط کلام : روزہ دار اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے حلال چیزیں چھوڑدیتا ہے اس بناء پر اسے حرام چھوڑنا مشکل نہیں رہتا تزکیۂ نفس اور حقیقی تقو ٰی روزے سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ روزے کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
سال کے گیارہ مہینے مسلمان کو حلال کھانے کی کھلی چھٹی تھی کہ وہ جو چاہے اور جس وقت چاہے کھاپی سکتا ہے۔ لیکن جونہی رمضان کا چاند نمودار ہوا یکدم اس پر پابندی لاگو کردی گئی کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے کی کسی چیز کو خوردو نوش کی نیت سے ہاتھ نہ لگائے اور نہ بیوی سے جماع کرے۔ حرام کھانے پر تو دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی قدغن لگ چکی تھی اب تو حلال پر بھی دن بھر کے لیے…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 184:
اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌلَّہ ‘ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : (چند گنتی کے دن ہیں۔ پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی ضروری ہے۔ اور ان لوگوں پر جو طاقت نہیں رکھتے ایک محتاج کا کھانا کھلانا ہے پھر جو اپنی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے واسطے بہتر ہے اگر تم سمجھو)
فرضیت روزہ :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 184۔:
(آیت)” ایاما معدودات “ کہا گیا ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھنے واجب تھے اور دسویں محرم کا روزہ بھی فرض تھا ، پس اس طرح انہوں (ایمان والوں) نے ربیع الاول سے لے کر اگلے سال کے رمضان شریف تک سترہ (17) مہینے روزے رکھے ، پھر رمضان المبارک کے ساتھ سابقہ مذکورہ روزے منسوخ ہوگئے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہجرت کے بعد جو منسوخی ہوئی وہ قبلہ شریف اور روزوں کی منسوخی تھی اور کہاجاتا ہے رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت غزوہ بدر سے ایک ماہ اور چند دن پہلے ہوئی ، حضرت محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں ، کہ غزوہ بدر سترہ (17) رمضان المبارک بروز جمعہ ہجرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–185
(183 ۔ 185) ۔ ارکان دین میں سے روزہ دوسرا رکن ہے دوسرا رکن اس سبب سے اس کو کہتے تھے کہ جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اور آپ کو معراج ہوئی تھی جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں آئے گا تو نماز اسی رات فرض ہوچکی تھی جس کی تفصیل صحیحین کی حدیث میں ہے کہ پچاس نماز فرض ہوئیں اور حضرت موسیٰ کی صلاح سے آنحضرت نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی خواہش کی اور آخر کو رات دن میں یہ پانچ وقت کی نمازیں باقی رہیں 1۔ اب روزہ اس آیت سے ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوا ابتدائے اسلام میں اختیار دیا گیا تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے۔ اور جو چاہے ہر روزہ کے عوض میں دونوں وقت ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔ پھر اس حکم سے کہ پھر جو پائے تم میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–185
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر احسان فرماتے ہوئے ان پر روزے فرض کئے جس طرح اس نے پہلی امتوں پر روزے فرض کئے تھے، کیونکہ روزے کا تعلق ایسی شرائع اور اوامر سے ہے جو ہر زمانے میں مخلوق کی بھلائی پر مبنی ہیں۔ نیز روزے اس امت کو اس جرأت پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اعمال کی تکمیل اور خصائل حسنہ کی طرف سبقت کرنے میں دوسرے لوگوں سے مقابلہ کریں، نیز روزے بوجھل اعمال میں سے نہیں ہیں جن کا صرف تمہیں ہی بطور خاص حکم دیا گیا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے روزے کی مشروعیت کی حکمت بیات کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ُ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْن ” تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ “ کیونکہ روزہ تقویٰ کا سب سے بڑا…
Read the full tafseer →ابوبکر جصاص کہتے ہیں ظاہر آیت اس امر کا مقتضی ہے کہ جس شخص پر لفظ مریض کا اطلاق ہوا اس کے لیے افطار یعنی روزے چھوڑ دینا جائز ہے خواہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اسے کوئی ضرر لاحق ہو یا نہ ہوتا ہم ہمیں اس امر میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ ایسا مریض جسے روزہ رکھنے کی صورت میں کوئی ضرر لاحق نہ ہو اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ چناچہ حضرت امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ اگر کسی کو اس بات کا خوف ہو کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کی آنکھ کی تکلیف بڑھ جائے گی یا بخار اور شدت اختیار کرلے گا تو وہ روزہ نہ رکھے۔ امام مالک کا مئوطا میں قول ہے کہ جو شخص روزے کی وجہ سے نڈھال ہوجائے تو…
Read the full tafseer →496 روزوں کی فرضیت گنتی کے چند دنوں کیلئے : یعنی صرف ماہ رمضان المبارک کے تیس یا انتیس دن۔ سال کے بارے میں سے گیارہ مہینے تمہیں چھٹی اور آزادی ہے۔ صرف ایک مہینے کے روزے اور اس پر ملنے والی رحمتیں اور برکتیں بےحد و حساب۔ سو کتنی ہی رحمت و عنایت کا سودا ہے یہ جس سے تمہیں تمہارے رب رحمان و رحیم نے اس طرح مشرف و سرفراز فرمایا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ دل و جان سے اس کی قدر کرو اور اس کی رحمتوں اور برکتوں سے زیادہ سے زیادہ مستفید و فیضیاب ہونے کی کوشش کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اور گنتی کے ان دنوں کی تحدید و تعیین میں بھی بڑے اثرات اور خاص حکمتیں ہیں۔ سو یہ دن اگر اس سے زیادہ ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–184
روزے کی فرضیت اور مسائل
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ بندوں کو مخاطب کرتا ہے کہ تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں، ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن رمضان کا روزہ ہے اس کا حکم 2 ہجری جنگ بدر سے پہلے نازل ہوا۔ تفصیل والی آیات ایک سال بعد نازل ہوئیں مگر انہیں ان کے ساتھ ہی جمع کردیا گیا ہے۔ روزے کا مطلب ہے کہ نیت کے ساتھ ساتھ سحری سے لیکر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے، بیوی کے ساتھ ہم بستری اور اخلاقی برائی (غیبت، فحش کلامی، بدکلامی، لڑائی جھگڑا) سے اپنے آپ کو (اللہ کی رضا کیلئے) بچائے رکھنا۔
یہ عبادت خالصتاً اللہ اور بندے کے درمیان ہوتی ہے اور رمضان کا مہینہ اس پاکیزہ عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
آیات 183- 188
اسرارو معارف
رمضان اور احکام رمضان :
تیسرا حکم نیکی اور بر کے باپ میں ” صوم “ کا ہے ، اسے ارشاد فرمانے کا ایک خاص انداز ہے کہ قبل ازیں نوع انسانی کو دعوت عبادت دی۔ مگر اس میں یہ انداز نہیں بلکہ ایک عمومی رنگ ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو۔ مگر یہاں ارشاد ہے ،
’ تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے گزرنے والوں پر فرض کیا گیا تھا ‘۔
اس کی وجہ ظاہر ہے کہ پہلے مخاطب نوع انسانی ہے اور دوسرا خطاب خاص مومنین کو ہے اور ان کی روحانی تربیت اور حصول رحمت کے لئے ایک خاص اہتمام ہے۔
دراصل انسان روح اور جسم سے مرکب ہے جس طرح جسم مادہ کی ایک ٹھوس اور کثیف شکل ہے اسی طرح روح انتہائی…
Read the full tafseer →ف 6 آیت میں یطیقونہ کے معنی حضرت ابن عباس اربعض علمانے جن میں امام بخاری بھی شامل ہیں یتجشمو نہ کئے ہیں یعنی جن کو رو سے سے سخت مشقت ہوتی ہے وہ رزہ رکھنے کی بجائے ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ بوڑھے مرد اور عورت کے لیے اب بھی یہ حکم باقی ہے۔ اکثر علمانے یطیقونہ کے معنی روزے کی طاقت رکھنا ہی کئے ہیں اور بعد کی آیت سے اسے منسوخ مانا ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر) بہر حال یطیقو نہ کا دیا ہوا ترجمہ اور جن کو روزہ کھنے کی طاقت ہی نہیں ہے محل نظر ہے۔ الکشاف)7 مثلا ایک سے
Read the full tafseer →(2:184) ایاما معدودات موصوف و صفت، منصوب بوجہ فعل مقدر صوموا (جس کا یہ مفعول فیہ ہے) چند گنتی کے دن۔
معدودات۔ اسم مفعول جمو مؤنث۔ معدودۃ۔ واحد ۔ گنے ہوئے۔
فمن۔ شرطیہ۔ کان کا اسم ضمیر ہے جو من کی طرف راجع ہے اور مریضا اس کی خبر۔ معطوف علیہ او حرف عطف علی سفر معطوف موضع نصب میں ہے۔ ای او کان مسافرا۔ فعدۃ مبتداء اس کی خبر محذوف ہے۔ ای فعلیہ عدۃ من ایام اخر۔ من ایام اخر۔ صفت ہے عدۃ کی۔ پس فمن کان ۔۔ علی سفر شرط ہے اور فعدۃ من ایام اخر جواب شرط ہے۔
عدۃ یہ عد سے بروزن فعلۃ بمعنی معدود ہے (جیسے کہ طحن بمعنی مطحون ہے (پسا ہوا آٹا) گنے ہوئے۔
یطیقونہ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اطاقۃ (افعال) مصدر سے۔ وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
لغات القرآن : آیت نمبر 183 تا 187
معدودات (معدودۃ، چند) ۔ عدۃ (مدت) ۔ ایام اخر (دوسرے دن ) ۔ یطیقونہ (اس کی طاقت ہو (اصل میں یہ لا یطیقونہ ہے یعنی جس کو اس کی طاقت نہ ہو) ۔ طعام مسکین (ایک غریب کا کھانا) ۔ تصوموا (تم روزہ رکھو) ۔ شھر (مہینہ) ۔ شھد (موجود، جو پائے ) ۔ لا یرید (نہیں چاہتا ہے) ۔ الیسر (آسانی، سہولت) ۔ العسر (تنگی ، دشواری) ، لتکملوا (تا کہ تم مکمل کرلو) ۔ لتکبروا ( تاکہ تم (اللہ ) کی بڑائی بیان کرو۔ سال (اس نے پوچھا) ۔ عبادی (میرے بندے) ۔ اجیب (میں جواب دیتا ہوں) ۔ دعان (مجھے پکارا (دعا ، ن ، ی) ۔ فلیستجیبوا (پھر قبول کرنا چاہئے) ۔ ولیؤمنوا (اور ایمان لانا چاہئے) ۔ احل (حلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–185
شان نزول : ارکان دین میں روزہ دوسرا رکن ہے۔ دوسرا رکن اس سبب سے اس کو کہتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اور آپ کو معراج ہوئی تھی جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں آوے گا، تو نماز اسی رات فرض ہوچکی تھی جس کی تفصیل صحیحین کی حدیث میں ہے کہ پچاس نمازیں فرض ہوئیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صلاح (تجویز) سے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی خواہش کی اور آخر کو دن رات میں پانچ وقت کی نماز ہی باقی رہیں۔ اب روزہ اس آیت ہجرت کے دوسرے سال سے فرض ہوا۔ ابتدائے اسلام میں اختیار دیا گیا تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے ہر روزہ کے عوض میں دونوں وقت ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے۔ پھر اس حکم سے کہ…
Read the full tafseer →[117] یہ رعایت کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اور پھر نہ رکھیں تو ان کے ذمہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ اس دوسرے حکم کے تحت جو اگلی آیت میں آ رہا ہے منسوخ کردی گئی۔
[118] یعنی ایک سے زیادہ آدمیوں کو کھانا کھلائے یا فدیہ کے ساتھ روزہ بھی رکھے۔
Read the full tafseer →بیمار کے لئے رخصت :
(ف 2) جو شخص بیمار ہو اور روزہ رکھنا اس کے لئے مضر ہو یا وہ مسافر ہو ، اس کے لئے یہ رعایت رکھی ہے کہ وہ صحت وحضر کے دنوں میں روزہ رکھ لے اور وہ لوگ جو قطعا روزے نہیں رکھ سکتے وہ ایک آدمی کو کھانا کھلا دیں ، تاکہ فرض کا احساس باقی رہے اور وہ بہرحال اس نظام صوم میں منسلک رہیں ، اس رعایت میں حاملہ ومرضعہ عورت بھی داخل ہے ۔
Read the full tafseer →ف 1 گنے ہوئے چند دن ہیں جن کا روزہ رکھا کرو پھر ان میں بھی یہ رعایت کی جاتی ہے کہ جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو اس پر دوسرے دنوں کو شمار کرکے ان میں روزہ رکھتا ہے اور جو لوگ طاقت رکھتے ہوں اور روزہ نہ رکھناچا ہیں تو ان کے ذمہ روزہ کا فدیہ اور بدلا ہے جو ایک مسکین کا کھانا ہے اور جو شخص اپنی رغبت اور خوشی سے زیادہ کار خیر کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگرچہ ہم نے بیمار اور مسافر اور اہل طاقت کو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے لیکن اس حال میں بھی تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم روزے کی فضیلت اور اس کی قدرو منزلت کو جانتے ہو۔
گنے ہوئے چند دن کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →ف 3۔ اب یہ حکم منسوخ ہے البتہ جو شخص بہت بوڑھا ہو یا ایسابیمار ہو کہ اب صحت کی توقع نہیں ایسے لوگوں کے لیے یہ حکم اب بھی ہے۔
Read the full tafseer →چند گنتی کے دنوں کا روزہ فرض ہے یعنی 90 یا 30 دن کا :
313: اسلام میں روزہ نام ہے اپنے قصد و ارادہ سے ایک مدت معین کے لئے اپنے جائز اور طبعی خواہشوں کی تکمیل سے دستبرداری کا اور اس سے ایک طرف طبی اور جسمانی اور دوسری طرح روحانی اور اخلاقی جو فائدے حاصل ہوتے ہیں فرد اور امت دونوں کو اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ فرض روزوں کی ایک متعین تعداد ہے جیسا کہ ڈسپلن یعنی تنظیم یا باقاعدگی کا اقتضاء ہے۔ یہ نہیں جب جس کا جی چاہے جتنے دنوں کے لئے روزے رکھ سکے رکھ لے ۔ وحدت امت کے لحاظ سے لازمی تھا ایک متعین زمانہ ، متعین حدود کے ساتھ ساری امت کے لئے مقرر ہو۔ ضمناً یہ پہلو بھی نکل آیا کہ ان فرضی روزوں کی تعداد…
Read the full tafseer →Fasting When Sick
Verse 184 gives concession in the matter of fasting to a 'sick' person and to a person on journey'. The word 'sick' used here refers to a person who cannot fast without an unbearable hardship or has strong apprehension that his illness will be aggravated. The words "and (Allah) does not want hardship for you"occuring in the following verse (185) have a clear indication to this effect. This position is also accepted by the consensus of the Muslim jurists.
Fasting When In Travel
It will be noticed that while giving concession to a traveller, the Qur'anic text elects to use…
Read the full tafseer →184. This act of extra merit could either be feeding more than the one person required or both fasting and feeding the poor.
185. Here ends the early injunction with regard to fasting which was revealed in 2 A.H. prior to the Battle of Badr. The verses that follow were revealed about one year later and are linked with the preceding verses since they deal with the same subject.
Read the full tafseer →