Explained with ayahs 168–169
روزی دینے والا کون ؟
اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لئے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں، میں تمہیں روکتا ہوں کہ شیطان کی راہ پر نہ چلو جس طرح اور لوگوں نے اس کی چال چل کر بعض حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ پروردگار عالم فرماتا ہے میں نے جو مال اپنے بندوں کو دیا ہے اسے ان کے لئے حلال کردیا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا مگر شیطان نے اس دین حنیف…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 166
یعنی کھانے پینے کے معاملے میں ان تمام پابندیوں کو توڑ ڈالو جو توہمّات اور جاہلانہ رسموں کی بنا پر لگی ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(بعض مشرکین بتوں کے نام جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضائے حق و وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے، حق تعالیٰ اس باب میں خطاب فرماتے ہیں کہ) اے لوگو ! جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے (شرعی) حلال پاک چیزوں (کی نسبت اجازت ہے کہ ان کو کھاؤ (برتو) اور (ان میں سے کسی حلال چیز سے یہ سمجھ کر پرہیز کرنا کہ اس سے اللہ راضی ہوگا یہ سب شیطانی خیالات ہیں تم) شیطان کے قدم بقدم مت چلو فی الواقع وہ (شیطان) تمہارا صریح دشمن ہے (کہ ایسے ایسے خیالات وجہالات سے تم کو خسران ابدی میں…
Read the full tafseer →یہ خطاب عربوں سے ہے جن کے شرک کی طرف اوپر کی آیات میں اشارہ کیا تھا۔ پہلے توحید کے سلسلہ میں ان کی بدعات سے تعرض کیا ہے۔ پھر آگے چل کر اہل کتاب کی بدعات کی تردید کی ہے۔ عربوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ " زمین کی چیزوں میں سے جو جائز و پاکیزہ چیزیں ہیں ان کو کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو "۔ شیطان کے نقش قدم کی پیروی سے مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے جی سے محض اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت جو حلال و حرام ٹھہرا رکھے ہیں ان کی کوئی شرعی سند نہیں ہے، بلکہ یہ راہ تمہیں شیطان نے سجھائی ہے اور تم نے اس کی پیروی میں خدا کی جائز کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا اور اس طرح خدا کے حق تحریم و تحلیل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
168۔ 1 یعنی شیطان کے پیچھے لگ کر اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام مت کرو۔ جس طرح مشرکین نے کیا اپنے بتوں کے نام وقف کردہ جانوروں کو وہ حرام کرلیتے تھے، جس کی تفصیل سورة الا نعام میں آئے گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو حنیف پیدا کیا پس شیطان نے ان کو دین سے گمراہ کردیا اور جو چیزیں میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں وہ اس نے ان پر حرام کردیں۔ (صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا باب الصفات التی یعرف بھافی الدنیا اھل الجنۃ واھل النار
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–172
106: مشرکین عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے مثلاً مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی، یہ آیت ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ وہی ایک معبود اور اللہ ہے ۔ وہی ایک خالق ہے اور جو لوگ دوسروں کو اللہ ہمسر بناتے ہیں ۔ ایک شدید ان کا منتظر ہے ۔ اب یہاں بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے بندوں کا رازق بھی وہی ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں قانون سازی کا اختیار بھی اسی کو ہے اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ وحدت الوہیت کا یہ قدرتی ثمرہ ہے ۔ جس ذات نے پیدا کیا ہے اور پھر پرورش کی ، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ حلال و حرام کے معاملے میں قانون سازی کرے اور قانون سازی اور نظریات عقائد سے ہم آہنگ ہو۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ، سوائے ان کے…
Read the full tafseer →9 اہل عرب بت پرستی کرتے تھے اور بتوں کے نام پر سانڈ بھی چھوڑتے تھے اور ان جانوروں سے نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے اور یہ بھی ایک طرح کا شرک ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا منصب اللہ کے سوا کسی کو نہیں اس بارے میں کسی کی بات ماننی گویا اس کو اللہ کا شریک بنانا ہے اس لئے پہلی آیات میں شرک کی خرابی بیان فرما کر اب تحریم حلال سے ممانعت کی جاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ زمین میں پیدا ہوتا ہے اس میں سے کھاؤ بشرطیکہ وہ شرعا حلال و طیّب ہو نہ تو فی نفسہٖ حرام ہو جیسے مردار اور خنزیر اور (وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ ) 2 ۔ البقرۃ :173) (جن جانوروں پر اللہ کے سوا کسی کا نام پکارا جائے اور اسکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
آیت 168 یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّبًاز وَّلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ
یہ بحث دراصل سورة الانعام میں زیادہ وضاحت سے آئے گی۔ عرب میں یہ رواج تھا کہ بتوں کے نام پر کوئی جانور چھوڑ دیتے تھے ‘ جس کو ذبح کرنا وہ حرام سمجھتے تھے۔ ایسی روایات ہندوؤں میں بھی تھیں جنہیں ہم نے بچپن میں دیکھا ہے۔ مثلاً کوئی سانڈ چھوڑ دیا ‘ کسی کے کان چیر دیے کہ یہ فلاں بت کے لیے یا فلاں دیوی کے لیے ہے۔ ایسے جانور جہاں چاہیں منہ ماریں ‘ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ظاہر ہے ان کا گوشت کیسے کھایا جاسکتا تھا ! تو عرب میں بھی یہ رواج تھے…
Read the full tafseer →208 حلال سے مراد ایک تو وہ سب چیزیں ہیں جنہیں شریعت نے حرام قرار نہیں دیا۔ دوسرے وہ جنہیں انسان اپنے عمل سے حرام نہ بنا لے۔ جیسے چوری کی مرغی یا سود اور ناجائز طریقوں سے کمایا ہوا مال اور پاکیزہ سے مراد وہ صاف ستھری چیزیں ہیں جو گندی سٹری، باسی اور متعفن نہ ہوگئی ہوں۔ حرام چیزوں سے بچنے کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک مال قبول کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا : چناچہ فرمایا آیت یٰایُّھَا الرُّسُلُ ۔۔…
Read the full tafseer →602 ۔ یعنی کھاسکتے ہو، بالکل جائز ہے کہ کھاؤ پیو۔ کھانے کی اجازت مل رہی ہے نہ کہ حکم، مراد یہ نہیں کہ لازمی طور پر کھاؤ۔ خطاب عام نسل انسانی سے ہے۔ دین حنیف ابراہیمی کو چھوڑ کر یہود، نصاری، مشرکین، سب ہی کھانے پینے کے باب میں طرح طرح کی غلط روی اور کج راہی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اور خلط کرکے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کے حکم رکھ رہے تھے (آیت) ” مما فی الارض “ میں من تبعیضیہ ہے۔ من للتبعیض اذلا یوکل کل مافی الارض (بیضاوی) (آیت) ” حللا “ جو غذائیں بجائے خود جائز ہیں۔ اور حرام نہیں کی گئی ہیں۔ فالحلال ما احلہ الشرع (معالم) المراد منہ مایکون جنسہ حلالا (کبیر) (آیت) ” طیبا “۔ یعنی جو غزائیں حاصل…
Read the full tafseer →آیت نمبر 168 تا 173
ترجمہ : اور (یہ آیت) ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے سوائب وغیرہ (بتوں کے نام پر آزاد کئے ہوئے جانور) کو حرام کرلیا تھا، لوگو ! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ (پیو) طَیّبًا، حَلَالًا کی صفت مؤکدہ ہے، یا بمعنی مُتَلَذَّذًا ہے، (یعنی مرغوب و پسندیدہ) اور شیطان کے نقش قدم پر (یعنی طریقہ) پر نہ چلو یعنی اس کے آراستہ راستہ پر، وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے یعنی اس کی عداوت بالکل واضح ہے وہ تمہیں صرف گناہ اور فحش یعنی شرعا قبیح بات کا حکم کرتا ہے اور اس بات کا حکم کرتا ہے کہ تم اللہ کے بارے میں وہ باتیں کہو جن کو تم نہیں جانتے یعنی جو چیزیں حرام نہیں کی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ ( اے لوگو ! کھاؤ ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں) جب قبائل ثقیف و خزاعہ و عامر بن صعصعہ و بنی مدلج نے اپنے اوپر بہت سی چیزیں جیسے حرث اور انعام اور بحیرہ اور سائبہ و حام و وصیلہ وغیرہ حرام کرلیے تو آیت : یَاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا الخ نازل ہوئی۔
حَلٰلًا طَيِّبًا (حلال اور ستھری) حَلالاً یا تو کُلُوا کا مفعول ہے یا مَا فِی الاْرض سے حال ہے اور مِمَّا فِی الاْرَْضِمیں مِن تبعیضیہ ہے جس کو شارع نے منع کیا ہو وہ حلال ہے کیونکہ اصل ہر شئے میں حلت ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہے : خَلَقَ لَکُم مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ( یعنی پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
(168۔ 169) اب اللہ تعالیٰ کھیتی اور جانوروں کے حلال ہونے کو بیان فرماتے ہیں، اے مکہ والو کھیتی اور ان جانوروں کو کھاؤ، جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی قسم کی کوئی حرمت نہیں بیان کی گئی ہے، اور کھیتی اور حلال جانوروں کے اپنے اوپر حرام کرنے میں شیطان کی ملمع کاری اور اس کے وسوسوں اور خیالات کا کی پیروی نہ کرو، اس کی دشمنی واضح اور ظاہر ہے، شیطان برے کام اور گناہوں اور ایسے امور میں جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →سورة بقرہ میں ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب دوسری مرتبہ کیا گیا ہے۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو ”انداد“ (شریک) بنانے کا برا انجام ذکر کیا گیا ہے۔ مشرکین ان ”انداد“ کی تعظیم و تکریم میں اتنی زیادتی کرتے کہ عبادت اور دعا میں بھی ان کو پکارتے اور ان کے نام پر بہت سے مویشی مثلاً بحیرہ، سائبہ، وصیلہ وغیرہ حرام قرار دے دیتے، ان پر نہ سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے اور ان کو اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھتے (دیکھیے انعام : 138، 139) اور دوسری طرف انھوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرایا تھا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز۔ چناچہ اس آیت میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 168
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یایھا الناس بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت ثقیف، خزاعہ اور بنی مدلج کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے اپنے اوپر جانوروں میں سے کچھ حرام کئے تھے۔ لفظ عام ہے اور یہاں طیب سے مراد حلال ہے یہ لفظ کے اختلاف کی وجہ سے تاکید ہے۔ یہ طیب کے بارے میں امام مالک کا قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : طیب سے مراد ہے جس سے لذت حاصل کی جائے۔ یہ تنویع ہے اسی وجہ سے گندے حیوان کے کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا بیان سورة انعام اور سورة اعراف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حللا طیبا، حللا حال ہے۔ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
(1) ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت نبی اکرم ﷺ کے پاس تلاوت کی گئی لفظ آیت ” یایھا الذین کلوا مما فی الارض حللا طیبا “ سعد بن ابی وقاص ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مستجاب الدعا بنا دے۔ آپ نے فرمایا اے سعد ! اپنے کھانے کو حلال کرلے تو مستجاب الدعا ہوجاؤ گے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے آدمی جب حرام لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس سے چالیس دن کی عبادت قبول نہیں کی جاتیں اور جو گوشت حرام اور سود سے پیدا ہوتا ہے وہ دوزخ کی آگ کا زیادہ مستحق ہے۔
(2) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[ یٰٓـــاَیـُّھَا النَّاسُ : اے لوگو !] [ کُلُوْا : تم کھائو ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ حَلٰلًا طَیِّبًا : حلال ‘ پاکیزہ (رزق) کو ] [ وَّلَا تَتَّبِعُوْا : اور تم لوگ پیروی مت کرو ] [ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ : شیطان کے نقش قدم کی ] [ اِنَّـہٗ : یقینا وہ ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ: ایک کھلا دشمن ہے ]
ح ل ل
حَلَّ (ن ‘ ض) حِلاًّ اور حَلَالًا : رسی کھولنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے : (1) گرہ کھولنا۔ (2) کسی جگہ اترنا (منزل پر سواری سے اتر کر سامان کی رسیاں کھولتے ہیں) ۔ (3) احرام کھولنا (احرام کی پابندیاں یعنی بندشیں کھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
حلال کھانے اور شیطان کے اتباع سے پرہیز کرنے کا حکم
ان آیات میں اول تو ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی جو زمین میں حلال اور پاکیزہ چیزیں موجود ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ شیطان کے قدموں کا تباع نہ کریں۔ شیطان کا اتباع کرنے اور اس کی بات ماننے میں سراسر نقصان اور خسران اور ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس کا کوئی مشورہ اور کسی بھی عمل کی ترغیب انسانوں کے لیے خیر نہیں ہوسکتی وہ تمہارا دشمن ہے اس نے دشمنی پر کمر باندھی ہوئی ہے۔ اسے دوزخ میں جانا ہے اس کی کوشش یہ ہے کہ سب بنی آدم بھی میرے ساتھ دوزخ میں چلے جائیں۔ وہ ہمیشہ برائی ہی کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور بدکاری ہی کا راستہ بتاتا ہے۔ اس کا یہ بھی کام ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–171
استعجاب واستبعاد براتخاذ انداد بعد واضح شدن وحدانیت رب عباد۔
قال تعالی، ومن الناس من یتخذ۔۔۔ الی۔۔۔ العذاب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اہل عقل اور اہل نظر کا بیان تھا اب اس آیت میں بدعقلوں کا بیان ہے کہ جب اللہ کی واحدانیت اور اس کی رحمانیت کے دلائل اظہر من الشمس ہیں تو عقل کا مقتضی یہ تھا کہ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے مگر حد آدمیت اور دائرہ انسانیت سے باہر ہیں کہ اللہ کے سوا جو کہ منعم حقیقی ہے ایسے ہم سر اور شریک بناتے ہیں جو خداوندذوالجلال سے اس درجہ فروتر اور کمتر ہیں کہ خدا سے کوئی نسبت نہیں رکھتے دلائل اور براہین سے تو یہ ثابت ہے کہ اللہ کا ایک بھی شریک اور ہمسر نہیں ہوسکتا اور یہ لوگ اس…
Read the full tafseer →ف 307:۔ دلائل توحید اور مشرکین کے لیے تخویف اخروی کے بعد اب آگے شرک فعلی کی دونوں قسموں یعنی تحریم لغیر اللہ اور نذر لغیر اللہ یا بالفاظ دیگر تحریمات مشرکین اور نیازات مشرکین کی تردید کی گئی ہے۔ مشرکین اپنے معبودوں کو خوش کرنے کے لیے دو قسم کا شرک فعلی کیا کرتے تھے۔ ایک تو یہ وہ جانوروں کو اپنے معبودوں کے لیے نامزد اور معین کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ وہ جہاں چاہیں بلا روک گھو میں پھریں اور کھائیں پئیں۔ اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس سے ہمارے معبود ہم پر خوش اور مہربان ہوجائیں گے اور آڑے وقت ہماری مدد کریں گے اور ہمارے مال وجان میں برکت دیں گے اور ہم سے بیماری اور تکلیف دور کریں گے۔ ایسے جانوروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–171
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل اور شرک کا رڈ تھا اور یہ بتلایا گیا تھا کہ جو لوگ دوسروں کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ کے ساتھ کرنی چاہئے ، وہ لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سزا اور عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے برے انجام سے خبردار کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ان کے اعمال ان کے لئے حسرت کا باعث بنیں گے۔ قیامت کے دن ایسے لوگ افسوس کا اظہار کریں گے۔ مگر وہ افسوس ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا اور نہ وہ کبھی دوزخ کی آگ سے باہر نکل سکیں گے۔
قانون کی پابندی
قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ موضوع کی نوعیت کے اعتبار سے کبھی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا 0ؗۖ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ 0 ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 168
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–170
ترکیب : حلالا مفعول ہے کلوا کا اور من متعلق ہے کلوا سے اور یہ ابتداء غایۃ کے لیے ہے اور ممکن ہے کہ من محذوف سے متعلق ہو اور حلالا سے حال ہو اور طیبا صفت ہے حلالا کی خطوات خطوہ کی جمع ہے اور خطوہ کہ ہ کو بالفتح پڑھیں تو اس کے معنی مصدر کے ہیں اور جو ضمہ سے تو فاصلہ بین القد میں کے وان تقولوا موضع جر میں ہے کس لیے کہ اس کا عطف بالسوء پر ہے۔ بل اس جگہ اضراب کے لیے ہے۔ او عطف کے لیے اور ہمزہ استفہام کے لیے بمعنی توبیخ اور جواب کو محذوف ہے۔ تقدیرہ یتبعونہم مثل الذین الخ مبتداء کمثل الذی ینعق خبروفی الکلام حذف تقدیرہ مثل داعی الذین کفروا ای مثل داعیھم کمثل الناعق بالغنم الادعا منصوب سے ہے یسمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰـلًا طَیِّـبًا صلے ز وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّـہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔ اِنَّمَا یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْٓئِ وَالْفَحْشَآئِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ : 168 تا 169)
(اے لوگو ! کھائو زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیزہ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ وہ تو بس تمہیں برائی اور بےحیائی کی راہ سجھائے گا اور اس بات کی کہ تم اللہ کی طرف وہ باتیں منسوب کروجن کو تم نہیں جانتے)
شرک کی ایک اور صورت سے اجتناب کا حکم
گزشتہ رکوع سے جو نیا سلسلہ کلام شروع ہوا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہاں پہلی آیات کے ساتھ معنوی ربط پایا جارہا ہے۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر شرک اور حرام و حلال کا مسئلہ ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ [ الانعام : 137 تا 140۔ النحل : 35] آیات ملاحظہ فرمائیں۔
حلال وطیب کھانے کے بارے میں قرآن مجید نے بنی نوع انسان کے تینوں طبقات کو مخاطب کرتے ہوئے ایک جیسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ آغاز میں عوام الناس کو مخاطب کیا جارہا ہے اور اس کے بعد ٹھیک چوتھی آیت میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ سورة المومنون آیت 51 میں انبیاء کی مقدس جماعت کو خطاب کرتے ہوئے حلال کھانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ جب تک اس پر اپنے اپنے مقام پر سب لوگ…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 168:
یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہ ‘ لَکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ : (اے لوگو۔ کھائو ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں حلال اور ستھری اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)
شان نزول : یہ ان لوگوں کے متعلق اتری جنہوں نے بحیرہ و سائبہ وغیرہ تحریمات بنا رکھی تھیں یٰٓایھا الناس کلوا۔ کلوا کا امر اباحت کے لئے ہے۔ ان لوگوں کو مخاطب کیا جنہوں نے بحیرہ وغیرہ بنا رکھے تھے۔
نحوی تحقیق :
مما فی الارض میں مِنْ تبعیضیہ ہے یعنی زمین کی بعض اشیاء کیونکہ تمام اشیاء زمین سے کھانے والی نہیں۔ حَلٰلاً ۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 168۔:
(آیت)” یایھا الناس کلوا مما فی الارض حلالا طیبا “۔ یہ قبیلہ ثقیف وخزاعہ ، عامر بن صعصعہ اور بنی مدلج کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے آپ پر کھیتی اور بعض جانوروں کو حرام کیا (جس کھیتی کو وہ بتوں کے نام کرتے یا وہ جانور جن کو بتوں کی نیاز کرتے ان کو اپنے استعمال میں نہ لاتے تھے) جانوروں کی تفصیل نام بنام۔
(بحیرہ) : یہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کا دودھ بتوں کی نیاز کردیتے تھے ، اس کا نام بحیرہ اس لیے ہے کہ وہ اس جانور کے کان کو پھاتر دیتے تھے ، بحیرہ بروزن فعیلہ بمعنی مفعولہ ہے ، بحر کے معنی شق (پھاڑنے) کے ہیں بحیرۃ یعنی ” مشقوقۃ الاذن “ جس مؤنث کا علامت کے طور پر کان پھاڑ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
(168 ۔ 169) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود حقیقی اور خالق مخلوقات ہونے کا ذکر فرما کر اس آیت میں اپنے رازق مطلق ہونے کا ذکر فرمایا ہے مشرکین مکہ نے اپنے رسم و رواج کے طور پر بعض جانوروں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا مثلاً وہ جانورو جن کو وہ سانڈ کے طور پر یا اس کے کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے یا وہ اونٹ کے نطفہ سے دس جھول بچوں کے پیدا ہوچکے ہوں یا اونٹنی کے پیٹ میں بعض بچوں کو مردوں کے لئے مخصوص ٹھہراتے تھے عورتوں کو وہ گوشت نہیں کھانے دیتے تھے سورة مائدہ اور انعام میں اس کا ذکر تفصیل سے آئے گا۔ اصل تو ان کی تنبیہہ میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ لیکن اب بھی جو شخص جان دار یا غیر جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–170
یہ خطاب مومن اور کافر تمام لوگوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر احسان فرمایا کہ انہیں اس بات کا حکم دیا کہ وہ زمین سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے اناج، پھل، میوہ جات اور حیوانات اس حال میں کھائیں (آیت) حلالا۔ کہ ان کا کھانا تمہارے لئے حلال ہو، وہ غصب شدہ مال ہو نہ چوری کیا ہوا، نہ حرام معاملے کے ذریعے سے اور نہ حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور نہ کسی حرام امر پر اس سے مدد لی گئی ہو۔ (آیت) طیباً ” پاکیزہ “ یعنی وہ خبیث اور ناپاک نہ ہو، مثلاً مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور دیگر تمام ناپاک چیزیں۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے، کھانے اور فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–173
مردار کی تحریم
ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے…
Read the full tafseer →451 حلال اور پاکیزہ چیزوں کے کھانے کا حکم : حلال یہ کہ اس کے اصل وجود میں کوئی ایسی خرابی و قباحت نہ پائی جاتی ہو، جس کی بنا پر شریعت مطہرہ نے اس کو حرام و ممنوع قرار دے دیا ہو، کہ ایسی حرام و ممنوع چیزوں کا اخذ و تناول جائز نہیں ہوگا، جیسے خمر، خنزیر، میتہ اور دم مسفوح وغیرہ۔ اور طیب و پاکیزہ سے مراد یہ ہے کہ ان کے حصول واکتساب میں کسی حرام و ممنوع فعل کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو، جیسے چوری، ڈکیتی، غصب، دھوکہ، اور سود و قمار وغیرہ ذرائع سے حاصل کردہ مال۔ پس جو اشیاء حلال و طیب ہوں کہ ان کے اصل وجود میں بھی کوئی خرابی نہ ہو، اور ان کے حصول میں بھی کسی فعل ممنوع اور برائی کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
کسب حلال اور شیطان کی سعی
تشریح : ان آیات میں حلال و پاکیزہ چیزوں کو کھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر وہ چیزیں جن سے کراہت آئے یا جسم کے لئے نقصان دہ ہوں یا ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی ہوں ان کے کھانے کی ممانعت کی گئی ہے مگر بغیر وجہ کے حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لوگ حلال اور پاکیزہ کو اپنے اوپر حرام نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ حلال اور پاکیزہ کی پرواہ کئے بغیر کھاتے پیتے ہیں وہ شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور شیطان انسانوں کا کھلا دشمن ہے، وہ کبھی بھی انسان کی خیر خواہی نہیں کرتا اس آیت میں شیطان کی دو خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
آیات 168- 176
اسرارو معارف
یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔
لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…
Read the full tafseer →ف 5 سورت بقرہ میں یا یھا الناس کے لفظ کے ساتھ خطاب یہاں دوسری مرتبہ کیا گیا ہے۔ اوپر کی آتیوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو انداد بنانے سے تحذیر کا ذکر چلا آرہا ہے۔ ، مشرکین ان انداد کی تعظیم و تکریم میں اسقدر غلو کرتے کہ عبادت ودعا میں بھی انہی کو پکارتے اور ان کے نام پر بہت سے مویشی بھی حرام قرار دے دیتے۔ ان پر نہ سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے ان کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے۔ سورة انعام 138 ۔ 139) چناچہ اس آیت میں اس قسم کی تحریمات سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا۔ صحیح مسلم میں آنحضرت ﷺ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جو مال…
Read the full tafseer →(2:168) حلالا طیبا۔ حلالا۔ مفعول ہے کلوا کا طیبا صفت ہے۔ حلالا کی۔ پاک ، ستھرا حلال۔
لاتبتعوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر، تم پیروی مت کرو۔ اتباع (افتعال) مصدر۔
خطوت الشیطن۔ مضاف مضاف الیہ۔ خطوت جمع ہے خطوۃ کی۔ وہ فاصلہ جو دو قدموں کے درمیان ہو۔ خطوۃ ایک بار قدم اٹھانا۔ خطو مادہ۔ خطوت الشیطن سے مراد شیطانی راستے ہیں مطلب یہ ہے کہ شیطان کے نقش قدم پر مت چلو۔
عدو مبین۔ موصوف و صفت۔ کھلا دشمن۔ مبین۔ ابان یبین۔ ابانۃ (باب افعال) اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ ابانۃ۔ ظاہر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ بین مادہ۔ اس سے باب افعال تفعیل، استفعال، لازم بھی آتے ہیں اور متعدی بھی اسی لئے مبین کے معنی ظاہر کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6
کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔
تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6
اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–171
حلال و حرام کا ذکر
شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے جانوروں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا مثلاً وہ جانور جن کو وہ سانڈ کے طور پر یا اس کے کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ فرمایا کہ توحید وقرآن پر ایمان لاؤ، اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا اور جب باپ دادا ہی دین کے امور نہ سمجھتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہوں تو ان کی پیروی کرنا حماقت وگمراہی ہے۔ اور جس طرح چوپائے ، چرانے والے کی صرف آواز ہی سنتے ہیں، کلام کے معنی نہیں سمجھتے، یہی حال ان کفار کا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صدائے مبارک کو سنتے ہیں لیکن اس کے معنی ذہن نشین کرکے ارشاد فیض بیناد سے فائدہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–172
[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4
[107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
اکل حلال :
(ف 1) عرب میں ایسے قبائل بھی تھے ثقیف وخزاعہ کی طرح جو حلال چیزوں کو حرام قرار دے لیتے تھے اور ایسے بھی تھے جو حرام اور مکروہ چیزیں استعمال میں لاتے تھے ، قرآن حکیم نے ان آیات میں اکل حلال کی طرف توجہ دلائی ہے ۔
حلت و حرمت کا مسئلہ اس نے قابل لحاظ ہے کہ خوراک کا مسئلہ براہ راست ہمارے اخلاق سے تعلق رکھتا ہے ، اباحت مطلقہ جہاں صحت کے لئے مضر ہے ‘ وہاں اخلاق کے بھی مفید نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خاص خاص قسم کی غذائیں خاص خاص نوع کے اخلاق و عادات پیدا کرنے میں ممدومعاون ہوتی ہیں اس لئے وہ مذہب جو اصلاح اخلاق کا مدعی ہے ، ضرور ہے کہ خوراک کے مسئلے سے شدید تعرض کرے ، ماکولات ومشروبات…
Read the full tafseer →ف 1 اے لوگو ! زمین میں جو چیزیں موجود ہیں ان میں سے وہ چیزیں جو شرعاً حلال و پاکیزہ ہوں ان کو تم کھائو اور دیکھو شیطان کی پیروی نہ کرو اور اس کے قدم بقدم نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیاء خوردنی تمہارے لئے زمین میں پیدا کی ہیں ان میں سے جو شریعت نے حلال و پاکیزہ فرمائی ہیں ان کو حسب ضرورت کھانے اور استعمال کرنے کی اجازت ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ حلال چیزوں کو حرام کرکے بیٹھ جائو اور ان کا کھانا ترک دو جیسا کہ بعض یہود اب تک اپنی منسوخ شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھ رہے ہیں یا بعض عرب کے قبائل بعض جانوروں کو بتوں کیلئے خاص کرلیتے تھے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–172
ف 2۔ بعض مشرکین بتوں کے نام پر جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضاء حق وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے اس آیت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو حلال و طیب چیزیں کھانے کی ہدایت :
295: مسلمانوں کو خلافت ارضی حاصل کرنا ہے اس لئے انہیں صرف ان چیزوں کا استعمال کرنا چاہئے جن کی طہارت و پاکیزگی کا انہیں یقین ہو جن کو ناجائز ذرائع سے حاصل نہ کیا گیا ہو اور جن اشیاء کی قانون الٰہی نے اجازت دے دی ہو۔ اس مقصد عظیم کے کسب و حصول کے لئے ضرورت ہوگی بہترین دل و دماغ کی اور یہ تر و تازگی نہیں پیدا ہو سکتی جب تک عمدہ سے عمدہ پاکیزہ چیزیں استعمال میں نہ ہوں پس دنیا کی ہر اچھی چیز ایک مسلمان ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ کھائے اور حکومت کے لئے تیار ہو۔ البتہ ان چیزوں سے پرہیز لازم ہے جو روحانی و جسمانی صحت کے لئے مضر ہوں جن سے جذبات خبیثہ اور…
Read the full tafseer →The meaning of the words
The real meaning of the root word حلَّ (halla) in (halalan tayyiban:
حَلَاً طَیِّباً : permissible and good) is 'to open a knot'. In that sense, what has been made halal حلال means that a knot has been opened and the restriction has been removed. The blessed Companion Sahl ibn ` Abdullah ؓ has said: "Salvation depends on three things - eating halal حلال ، fulfilling (Divine) obligations and following the Sunnah of the Holy Prophet ﷺ ." The word طَیَّب (tayyib) means 'good' as inclusive of the clean and the pure and covers the twin aspects of being lawful, permissible…
Read the full tafseer →166. The demand made here is that they should violate all those taboos in matters of food and drink which have their basis in superstitious beliefs or irrational usages.
Read the full tafseer →