Explained with ayahs 165–167
محبت اللہ تعالیٰ یا اپنی پسند سے ؟
اس آیت میں مشرکین کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہو رہا ہے، یہ اللہ کا شریک مقرر کرتے ہیں اس جیسا اوروں کو ٹھہراتے ہیں اور پھر ان کی محبت اپنے دل میں ایسی ہی جماتے ہیں جیسی اللہ کی ہونی چاہئے حالانکہ وہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے، وہ شریک اور حصہ داری سے پاک ہے بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یارسول اللہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ پیدا اسی اکیلے نے کیا ہے۔ پھر فرمایا ایماندار اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ان کے دل عظمت الہٰی اور توحید ربانی سے معمور ہوتے ہیں، وہ اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
سورة الْبَقَرَة 163
یعنی خدائی کی جو صفات اللہ کے لیے خاص ہیں ان میں سے بعض کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں، اور خدا ہونے کی حیثیت سے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے جو حقوق ہیں، وہ سب یا ان میں سے بعض حقوق یہ لوگ ان دوسرے بناوٹی معبودوں کو ادا کرتے ہیں۔ مثلاً سلسلہء اسباب پر حکمرانی، حاجت روائی، مشکل کشائی، فریاد رسی، دُعائیں سننا اور غیب و شہادت ہر چیز سے واقف ہونا، یہ سب اللہ کی مخصوص صفات ہیں۔ اور یہ صرف اللہ ہی کا حق ہے کہ بندے اسی کو مقتدر اعلیٰ مانیں، اسی کے آگے اعتراف بندگی میں سَر جُھکائیں، اسی کی طرف اپنی حاجتوں میں رجوع کریں، اسی کو مدد کے لیے پکاریں، اسی پر بھروسہ کریں، اسی سے امیدیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
ربط
اوپر عذاب آخرت کو سخت فرمایا ہے آگے اس سختی کی کیفیت کا بیان فرماتے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
(وہ سختی عذاب کی اس وقت معلوم ہوگی) جب کہ (ان مشرکین میں سے) وہ (ذی اثر) لوگ جن کے کہنے پر دوسرے (عوام) چلتے تھے ان (عام) لوگوں سے صاف الگ ہوجاویں گے جو ان کے کہنے پر چلے تھے اور سب (خواص وعوام) عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے اور باہم ان میں جو تعلقات تھے (کہ ایک تابع تھا دوسرا متبوع تھا وغیرہ وغیرہ) اس وقت سب قطع ہوجاویں گے (جیسے دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جرم میں سب شریک ومتفق ہوتے ہیں اور تنقیح مقدمہ کے وقت سب الگ الگ بچنا چاہتے ہیں حتی کہ باہمدگر شناخت تک کے منکر ہوجاتے ہیں) اور (جب) یہ تابع لوگ (متبوعین…
Read the full tafseer →یہ اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ سے بدل پڑا ہوا ہے اور اسی عذاب کی مزید وضاحت کر رہا ہے کہ آجن جن کو یہ خدا کا شریک و ہمسر ٹھہراتے ہیں اور جن سے اس طرح محبت کر رہے ہیں جس طرح خدا سے محبت کرنی چاہیے، جب عذاب آخرت ظاہر ہوگا تو یہ اپنے ان جان نثاروں اور پیرو وں سے صاف صاف اظہار براءت کردیں گے اور اس عذاب سے بچانے میں ان کے کچھ کام نہ آئیں گے جو ان کے سر پر کھڑآ ہوگا۔ ـاسبابـ کا مفہوم : اسباب، سبب کی جمع ہے جس کے اصلی معنی رسی کے ہیں۔ پھر یہیں سے اس کے اندر تعلق و توسل اور اسباب و وسائل کا مفہوم پیدا ہوا اور پھر مزید وسعت پا کر کسی شے کے متعلقات و اطراف کے لیے بھی اس کا استعمال ہونے لگا چناچہ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
165۔ 1 مذکورہ دلائل کے باوجود ایسے لوگ ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے اسی طرح کی محبت کرتے ہیں جس طرح اللہ سے کرنی چاہیے، بعثت محمدی کے وقت ہی ایسا نہیں تھا بلکہ شرک کے یہ مظاہر آج بھی عام ہیں، بلکہ اسلام کے نام لیواؤں کے اندر بھی یہ بیماری گھر کرگئی ہے۔ انہوں نے نہ صرف غیر اللہ اور پیروں فقیروں اور سجادہ نشینوں کو اپنا ماوی وملجا اور قبلہ حاجات بنارکھا ہے بلکہ ان سے ان کی محبت، اللہ سے بھی زیادہ ہے اور توحید کا وعظ ان کو بھی اسی طرح کھلتا جس طرح مشرکین مکہ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی جس کا نقشہ اللہ نے اس آیت میں کھینچا ہے آیت (وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–167
105: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ کائنات کے ان حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پھیلے پڑے ہیں اور اگر ان پر معقولیت کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ؛ چونکہ روز مرہ ان کو دیکھتے دیکھتے ہماری نگاہیں ان کی عادی ہوگئی ہیں، اس لئے ان میں کوئی حیرت کی بات ہمیں محسوس نہیں ہوتی ورنہ ان میں سے ایک ایک چیز ایسے محیرالعقول نظام کا حصہ ہے جس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سوا کائنات کی کسی طاقت کے بس میں نہیں ہے، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات جس طرح کام کررہی ہیں، چاند اور سورج جس طرح ایک لگے بندھے نظام الاوقات کے تحت دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
یہ ہیں ایمان کی کارستانیاں اور ایمان کی برکات ! وسعت نظر حد احساس و شعور ، حسن ، ہم آہنگی اور کمال قدردانی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اس کائنات کا ادراک جدید ہے ۔ اور حسن و جمال کا ایک نیا شعور ہے ۔ ایمان دراصل ، اللہ تعالیٰ کے قوانین کے رنگین میلے میں چہل پہل کا نام ہے جس میں صبح وشام تماشائے قدرت کا نئے سے نیا نظارہ پیش ہوتا ہے ۔ لیکن کارگاہ حیات کی ان نیرنگیوں کے باوجود ، یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو عقل کے ادراک سے کورے ہیں ۔ ان کی نظر کوتاہ ہے اور وہ قوانین فطرت کی ایسی وحدت کو اور اس کائنات کے چلانے والے اس واحد اور منضبط نظام کو جو عقیدہ توحید کی طرف صاف صاف اشارہ کرتا ہے نظر انداز کردیتے ہیں…
Read the full tafseer →6 یعنی وہ وقت ایسا ہوگا کہ بیزار ہوجائیں گے متبوع اپنے تابعداروں سے اور بت پرست اور بتوں میں کوئی علاقہ باقی نہ رہیگا ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا عذاب الہٰی دیکھ کر۔
Read the full tafseer →آیت 166 اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا
ہر انسانی معاشرے میں کچھ ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو دوسرے لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں ‘ چاہے ارباب اقتدار ہوں ‘ چاہے مذہبی مسندوں کے والی ہوں۔ لوگ انہیں اپنے پیشوا اور راہنما مان کر ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی ہر سچی جھوٹی بات پر سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ جب عذاب آخرت ظاہر ہوگا تو یہ پیشوا اور راہنما اس عذاب سے بچانے میں اپنے پیروؤں کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے اور ان سے صاف صاف اظہار براءت اور اعلان لاتعلقی کردیں گے۔
وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْبَابُ
جب جہنم ان کی نگاہوں کے سامنے آجائے گی تو تمام…
Read the full tafseer →205 اس دنیا میں تو عالم اسباب کی بہت سی باتیں انسان کی آنکھوں سے مخفی ہیں۔ مگر قیامت کو جب یہ سب اسباب واضح طور پر دیکھ لیں گے تب انہیں معلوم ہوگا کہ تصرف و اقتدار کے جملہ اختیارات تو صرف اللہ ہی کو حاصل تھے اور حاصل ہیں۔ اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر اس وقت ان کی یہ ندامت کسی کام نہ آئے گی اور سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Read the full tafseer →596 ۔ (قیامت میں) یہاں اس منظر کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جب قیامت میں مشرکین کے خواص، علماء وامراء اپنے عوام اور اپنے مقلدین اور رعایا سے علیحدگی کا اعلان کردیں گے، اور انہیں بےیارومددگار چھوڑ دیں گے۔
597 ۔ اہل باطل کے جتنے بھی باہمی تعلقات اور رابطے ہیں، استادی شاگردی کے ہم نسبی و قرابت کے، ہم وطنی اور دوستی کے، یہ سب اسی دنیا تک محدود ہیں، آخرت میں جو حقائق کے مشاہدہ ومعائنہ کا وقت ہوگا، سب ایک دوسرے سے بےتعلق بلکہ آپس میں مخالف نظر آئیں گے۔ یہ قرآن ہی کی نص ہے۔ الاخلاء یومئذ بعضہم لبعض عدوا الا المتقین۔ بھم میں ب۔ عن کے معنی میں بھی لی گئی ہے۔ بھم اے عنہم (معالم) قیل بمعنی عنھم (عکبری) اور ب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
ربط آیات : اوپر عذاب کی شدت کا بیان تھا یہاں شدت کی کیفیت کا بیان ہے، اِذ تَبَرَّأ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا یہاں اس منظر کا نقشہ پیش کیا گیا ہے، جب قیامت میں مشرکین کے خواص علماء اور امراء اپنے عوام اور اپنے متبعین اور رعایا سے لاتعلق کا اعلان کریں گے اور انہیں بےیارومددگار چھوڑ دیں گے اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے کہیں گے کاش ہم کو ایک موقع دنیا میں واپسی کا دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں ہم بھی دنیا میں ان سے بیزار ہو کر اور ٹکاسا جواب دے کر دکھا دیتے۔ وَتَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ اہل باطل کے جتنے بھی باہمی تعلقات اور رابطے…
Read the full tafseer →اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ ( یاد کرو اس وقت کو کہ) ( جب اگل 1 ہوجائیں گے وہ سردار جن کی پیروی کی گئی تھی ان لوگوں سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور دیکھیں گے عذاب) اِذْ تَبَرَّا یا تو بتقدیر اذکر منصوب ہے اور یا اِذْ یَرَوْنَسے بدل ہے وَرَا وُ العَذَاب میں واؤ حالیہ ہے اور قد اس پر سے مقدر ہے اور یا واؤ عطف کا ہے اور عطف تَبَرَّا پر ہے اسی طرح وَ تَقَطَّعَتْ میں بھی دونوں احتمال ہیں اور یہ بیزاری و علیحدگی قیامت میں اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ سرداروں کو اور ان کے تابعین کو ایک جگہ جمع فرمائے گا اور بعض نے کہا اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(166) جس دن یہ سردار اپنے ماننے والوں سے الگ ہوجائیں گے، سردار اور ان کے تابع، سب کے سب عذاب کو دیکھ لیں گے اور دنیا میں آپس میں جو معاہدے اور دلیلیں تھیں وہ سب کی سب ختم ہوجائیں گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
(تَبَرَّاَ) یہ ”بَرِئَ“ سے باب تفعل ہے۔ حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”بالکل بےتعلق ہوجائیں گے“ کیا گیا ہے اور ”بِخٰرِجِيْنَ“ میں باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”وہ کسی صورت آگ سے نکلنے والے نہیں“ کیا گیا ہے۔ ان آیات میں قیامت کے دن ان مشرکوں کی حالت زار کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ کاش ! وہ دنیا میں اللہ کی بات پر یقین کرکے اس انجام سے بچ جائیں۔ مزید دیکھیے سورة قصص (63، 64) اور سورة احقاف (5، 6) ان آیات سے قدیم اور جدید علماء کی جماعت نے حرمت تقلید پر استدلال کیا ہے کہ جس طرح اہل شرک جن کے پیچھے لگے، وہ اپنے پیچھے لگنے والوں سے بےزاری ظاہر کریں گے، اسی طرح ائمۂ مجتہدین بھی اپنے مقلدوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 166
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذتبرا الذین اتبعوا اس سے مراد سردار اور رؤساء ہیں وہ کفر پر اپنے متبعین سے براءت کریں گے۔ حضرت قتادہ، عطا اور ربیع سے مروی ہے۔ قتادہ اور سدی کا یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد گمراہ کرنے والے شیاطین ہیں جو انسانوں سے براءت کریں گے۔ بعض نے فرمایا : یہ ہر متبوع میں عام ہے وراوا العذاب یعنی اتباع کرنے والے اور جن کی اتباع کی گئ بعض نے فرمایا : دنیا میں عذاب کو آنکھوں سے دیکھنے کے وقت۔ بعض نے فرمایا : آخرت میں پیشی اور سوال کے وقت۔
میں کہتا ہوں : یہ دونوں ہوں گے۔ وہ موت کے وقت اس ذلت کو دیکھیں گے جس کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے اور آخرت میں عذاب الیم کا مزہ چکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا یحبونھم کحب اللہ “ سے مراد ہے کہ وہ نقصان پہنچاتے ہیں حق کو بتوں کے ذریعہ لفظ آیت ” والذین امنوا اشد حب اللہ “ سے مراد ہے مکہ کے کافروں کو جتنی اپنے (باطل) معبودوں سے محبت ہے۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ سے اس سے زیادہ محبت ہے۔
(2) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اندر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی وہ لوگ اطاعت کرتے تھے جیسے اللہ کی اطاعت کرتے ہیں جب (ان کو) حکم کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں۔
(3) عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے…
Read the full tafseer →[ اِذْ تَـبَرَّاَ : جب اظہارِ بیزاری کریں گے ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جن کی ] [ اتُّبِعُوْا : پیروی کی گئی ] [ مِنَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جنہوں نے ] [ اتَّبَعُوْا : پیروی کی ] [ وَرَاَوُا : اور وہ لوگ دیکھیں گے ] [ الْعَذَابَ : عذاب کو ] [ وَتَقَطَّعَتْ : اور کٹ جائیں گے
بِھِمُ : ان کے ] [ الْاَسْبَابُ : سارے بندھن ]
س ب ب
سَبَّ (ن) سَبًّا : (1) رسّی کاٹنا ‘ تعلقات کے بندھن کاٹنا۔ (2) گالی دینا (کیونکہ اس سے تعلقات منقطع ہوتے ہیں) ۔ { وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ } (الانعام :108) ” اور تم لوگ گالی مت دو ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
مشرکین کی باطل معبودوں سے محبت اور اس پر سخت عذاب
توحید کا ذکر کرنے اور توحید کے دلائل بیان فرمانے کے بعد اب ان لوگوں کی حالت بیان فرمائی جنہوں نے توحید سے منہ موڑا اور شرک کو اختیار کیا۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود تجویز کرلیے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھتے ہیں۔ ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے لیے نذریں مانتے ہیں، اور ان کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں ان کا حال بتانے کے بعد فرمایا (یُحبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ) کہ یہ لوگ ان باطل معبودوں سے ایسی محبت کرتے ہیں۔ جیسی اللہ تعالیٰ سے محبت ہونی چاہیے۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (ص 34 ج 2) کہ یہاں محبت سے تعظیم اور فرمانبرداری مراد ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–171
استعجاب واستبعاد براتخاذ انداد بعد واضح شدن وحدانیت رب عباد۔
قال تعالی، ومن الناس من یتخذ۔۔۔ الی۔۔۔ العذاب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اہل عقل اور اہل نظر کا بیان تھا اب اس آیت میں بدعقلوں کا بیان ہے کہ جب اللہ کی واحدانیت اور اس کی رحمانیت کے دلائل اظہر من الشمس ہیں تو عقل کا مقتضی یہ تھا کہ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے مگر حد آدمیت اور دائرہ انسانیت سے باہر ہیں کہ اللہ کے سوا جو کہ منعم حقیقی ہے ایسے ہم سر اور شریک بناتے ہیں جو خداوندذوالجلال سے اس درجہ فروتر اور کمتر ہیں کہ خدا سے کوئی نسبت نہیں رکھتے دلائل اور براہین سے تو یہ ثابت ہے کہ اللہ کا ایک بھی شریک اور ہمسر نہیں ہوسکتا اور یہ لوگ اس…
Read the full tafseer →303 یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب مشرکین اپنے معبودوں اور مشرک پیشوآں اور پیروں کو مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ ان سے جدا ہوجائیں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ اس آیت میں قیامت کا یہ حسرتناک منظر پیش کیا گیا ہے۔ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا۔ (یعنی متبوعین) سے یہاں مشرک علماء اور رؤسا مراد ہیں جو دنیا میں اپنے ماننے والوں اور ماتحتوں کو شرک سکھایا کرتے تھے اور توحید سے انہیں دور رکھا کرتے تھے۔ انھم السادۃ من مشرکی الانس (کبیر ص 111 ج 2) بِھِمْ میں ب بمعنی عن ہے اور اسباب سے مراد محبت، نسل اور دین کے وہ تعلقات ہیں جن کو مشرکین نے اپنی نجات کے لیے کافی سمجھ رکھا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ منظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
خدا کا ند ٹھہرانا
گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اسباب معیشت کی صورت میں بنی نوع انسان پر کئے۔ اس احسان کا تقاضا یہ تھا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانتے اور خلاص اسی کی عبادت کرتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ومن الناس من یتخذ من دون اللہ انداداً بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو مذ یعنی مدمقابل بناتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ند کی مذمت میں پہلے بھی آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فلا تجعلوا اللہ انداداً وانتم تعلمون “ ۔ اللہ تعالیٰ کے مدمقابل اور شریک نہ بنائو۔ کیونکہ تم بخوبی جانتے ہو کہ خلاق ، مالک اور رازق صرف وہی…
Read the full tafseer →اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْـبَابُ 166
برأ
أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1]
( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری
کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
ترکیب : من یتخذ من نکرہ موصوفہ اور جائز ہے کہ بمعنی الذی ہو یحبونہم موضع نصب میں ہے صفت ہے اندادا کی اور جائز ہے کہ موضع رفع میں ہو صفت من کی کحب اللہ کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی ای حباکحب اللہ اشد کا متعلق محذوف ہے۔ تقدیرہ اشد حبا للہ من حب ہولاء الانداد لو حرف شرط یریٰ فعل احد اس کا فاعل محذوف اور ممکن ہے الذین الخ فاعل قرار دیا جاوے اور یری بمعنی علم ہو ای لو عرف الذین ظلمو اور ممکن ہے کہ الذین الخ فاعل ہو اور یری بمعنی لو شاہد الذین ظلموا ان القوۃ الخ مفعول ہے یری کا بصر ای او یرون العذاب اس کا ظرف ہے اور اذ تبرالذین میں جو اذ ہے وہ بدل ہے اس اذ سے ورائو العذاب و تقطعت وقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
اِذْ تَبَرَّاالَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْبَابُ ۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْاَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَمِنْھُمْ کَمَا تَبَرَّئُ وْا مِنَّا ط کَذٰلِکَ یُرِیْھِمُ اللّٰہُ اَعْمَالَھُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْھِمْ ط وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ۔ (البقرۃ : 166 تا 167)
(اس وقت کا خیال کرو جب کہ مقتدا اپنے پیروکاروں سے اظہارِ برأت کریں گے اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے اور ان کے تعلقات یک قلم ٹوٹ جائیں گے۔ اور ان کے پیرو بھی کہیں گے : اے کاش ! ہمیں دنیا میں ایک بار اور جانا نصیب ہو تاکہ ہم بھی ان سے اسی طرح اظہارِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے اور دنیا میں غیر اللہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے پر پھٹکار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہی واحد معبود ہے اور وہی کائنات کا خالق ومالک اور کائنات کے نظام کو چلائے ہوئے ہے۔ اس کے نظام میں کوئی ذرّہ برابر بھی دخل ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس نے نظام کائنات میں کسی کو اپناہمسر اور شریک کار نہیں بنایا اور آخرت میں بھی کوئی اس کے اختیارات اور نظام میں کوئی دم مارنے کی ہمت نہیں پائے گا۔ جو لوگ دنیا میں پیروں، فقیروں، حکمرانوں اور باطل معبودوں یہاں تک کہ دنیاوی مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 166:
اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَ اَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ ۔ : (یاد کرو اس وقت کو جب الگ ہوجائینگے
وہ سردار جنکی پیروی کی گئی ان لوگوں سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور وہ عذاب دیکھیں گے اور انکے سب تعلقات ٹوٹ جائینگے)
اختلافِ قراءت :
اِذْ تَبَرَّأَ ۔ عاصم کے علاوہ قرائے عراق نے سارے قرآن میں جہاں ذال اور تاء جمع ہوں تو وہاں ادغام کر کے پڑھا ہے۔
نحوی تحقیق :
یہ اذ یرون سے بدل ہے الذین اتبعوا سے مراد رؤسا ہیں جن کی پیروی کی گئی۔
من الذین اتبعوا سے مراد متبع و پیروکار۔ وَرَاَوُا العذاب۔ واو حالیہ ہے ای تبرء وا فی حال…
Read the full tafseer →(تفسیر) 166۔ :
(آیت)” اذ تبر الذین اتبعوا من الذین اتبعوا وراوا العذاب “ یہ قیامت کے دن ہوگا جس دن کے اللہ تعالیٰ سرداروں کو اور ان کے پیروکاروں کو جمع فرمائیں گے تو بعض ، بعض سے اعلان بیزاری کریں گے ، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے ۔
علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں اس جگہ سرداروں سے مراد جن اور ” اتبعوا “ پیروکاروں سے مراد جن اور ” اتبعوا “ پیروکاروں سے مراد انسان ہیں (آیت)” وتقطعت بھم “ یہاں ” بھم “ بمعنی ” عنھم “ ہے ۔ (الاسباب) باہمی تعلقات جو دنیا میں ان کے درمیان تھے قرابت داریاں دوستیاں اور ان کا باہمی میل ملاپ عداوت میں بدل جائے گا ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ اسباب سے یہاں مراد ارحام ہیں ۔ جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
(165 ۔ 167) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں بنائیں ان نشانیوں کو دیکھ کر قریش ایمان نہ لائے اور اپنے شرک پر اڑے رہے تو ان کے شرک کا دنیا اور آخرت میں انجام ہے اس کی حالت فرمانے کی غرض سے یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ دنیا میں ان کے شرک کے سبب سے بدر کی لڑائی میں وہ رسوائی ان کی ہوئی جس کی تفصیل جنگ بدر کے قصہ میں آئے گی کہ بڑے لوگ ان میں کے کچھ قتل ہوگئے اور کچھ قید سب عزت خاک میں مل گئی اور آخرت میں اس شرک کی بدولت ان کے لئے وہ عذاب مہیا ہو رہا ہے کہ اگر وہ عذاب دنیا میں نظر آجاوے تو سب شرک و کفر بھول جائیں اور اللہ ہی کو معبود حقیقی جاننے لگیں دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
یہ آیت کریمہ (مضمون کے اعتبار سے) کتنے خوبصورت طریقے سے پچھلی آیت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو بیان فرمایا اور اس کے قطعی دلائل وبراہین بیان کئے جو علم یقینی عطا کرتے اور ہر قسم کے شک و شبہ کو زائل کردیتے ہیں تو یہاں اس نے ذکر فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں (آیت) مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا ” جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک ٹھہرا لیتے ہیں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور مثیل، جنہیں وہ عبادت، محبت، تعظیم اور اطاعت میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں اور حجت قائم کرنے اور توحید بیان کرنے کے بعد بھی جو شخص اس حالت پر رہنے پر مصر ہو تو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–173
مردار کی تحریم
ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے…
Read the full tafseer →447 گرؤوں کا اپنے پیروکاروں سے تبراء اور اظہار بیزاری : اور ان کی پیروی یہ لوگ اس امید پر کرتے تھے کہ ایسے مشکل وقت میں یہ ہمارے کام آئیں گے، مگر کام آنا تو درکنار وہ سرے سے ان کے اس شرک ہی کا انکار کر دینگے، اور ان سے براءت و بیزاری اور اپنی علیحدگی کا اعلان کردیں گے، بلکہ اس سے بھی آگے یہ کہ وہ ان کے مخالف اور دشمن بن جائیں گے۔ اس لئے قرآن حکیم " کَلَّا " کے حرف زجر و تنبیہ کے ساتھ ان کو خبردار کرتا ہے کہ ایسی خود ساختہ امیدوں کے جھوٹے سہاروں پر نہیں رہنا، ورنہ حساب کتاب کے اس کڑے دن بہت پچھتانا پڑیگا۔ ارشاد ہوتا ہے { کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عََلَیْہِمْ ضِدًّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
شرک کا برا انجام
تشریح : ان آیات میں قیامت کے دن کا بڑا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے۔ کاش انسان جو بھٹک چکا ہے ان آیات سے سبق سیکھ سکے اور راہ راست اختیار کرلے، کیونکہ اس دن ان کے جھوٹے معبود ان سے دور ہوچکے ہونگے اور لاعلمی کا اظہار کریں گے تب وہ لوگ حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم دوبارہ دنیا میں جاسکیں تو پھر ہم بھی اپنے مرشدوں سے لاتعلقی کا اظہار کرکے اس عذاب سے بچ سکیں، لیکن اس وقت افسوس و ندامت کچھ بھی کام نہ آئے گی اور وہ آگ کے عذاب سے کسی صورت بھی نجات نہ پا سکیں گے۔ اس لئے ہر وقت خیال کرو کہ جہاں بھی کوئی نیک راستہ یا نیکی کا عمل کرنے کو مل جائے اس کی طرف لپکو کیونکہ یہی دنیا عمل کا گھر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–167
آیات 164- 167
اسرارو معارف
ان فی خلق اسلوت والارض…………………لایت لقوم یعقلون۔
توحید باری کے لئے تکوینی دلائل :
یہ بات کہ وہ اکیلا ہی مستحق عبادت ہے اور وہی ہے ہر کہ دمہ پہ رحم کرنے والا ، سب کا خالق ومالک اور رازق معاندین کے لئے بیحد ثقیل تھی۔ خصوصاً نزول کلام کے وقت تو حال یہ تھا کہ گھر کے ہر فرد نے اپنا علیحدہ بت بنارکھا تھا اور پھر مختلف امور کے لئے مختلف خدا ادر الہٰ ۔ تو آج بھی مذاہب باطلہ میں دیکھے جاسکتے ہیں کہ انسان اپنی عقل کے مطابق سوچتا ہے تو یہ کام کہ ساری کائنات کا رب واحد ہے اور تمام امور اکیلا ہی انجام دے رہا ہے اس کی رسائی سے بالاتر ہے۔
ان حقائق تک پہنچنے کے لئے نور نبوت سے اکتساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
ف 4 ان آیتوں میں قیامت کے دن مشرکین اور ان کے پیشواؤں کی حالت زار کا ذکر ہے کہ جن رؤسا اور پیشواؤں کی محبت یہ دم بھرتے ہیں قیامت کے دن وہ ان سے بیزاری اور لا تعلقی کا اظہار کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھتے ہی ان کے باہم تعلقات قطع ہوجائیں گے آخر کار یہ اپنے پیشواؤں کی دیدہ شوئی کو دیکھ کر بایں الفاظ اپنے غیظ وغضب کا اظہار کریں گے کے کاش ہمیں پھر دنیا میں لوٹا دیا جائے تو ہم بھی تم سے بیزاری کا اظہار کریں جس طرح آج تم ہم سے کر رہے ہو۔ ان کی بد اعمالیاں ان کے دلوں میں حسرت بن کر رہ جائیں گی۔ وما ھم بخا رجین من النار۔ سے ثاتب ہوتا ہے کہ کفار ابدی جہنمی ہیں اور یہ کہ جہنم کبھی فنا نہ…
Read the full tafseer →(2:166) اذ تبرا۔ ای اذکر الوقت اذ تبرا۔ یاد کرو اس وقت کو کہ جب بیزاری ظاہر کریں گے۔
تبرا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تبرء (تفعل) مصدر۔ وہ بیزار ہوا۔ اس نے بیزاری ظاہر کی ۔ (یہاں جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے) اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ان اللہ یری من المشرکین ورسولہ (9:3) کہ خدا ان مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دست بردار ہے) ۔
البرئ۔ البراء کے اصل معنی کسی مکروہ امر سے نجات حاصل کرنے کے ہیں۔ جیسے برات من المرض میں تندرست ہوا۔ برء تد و ابرء تہ۔ میں نے اس کو تہمت سے بری کردیا۔ رجل بریء پاک اور بیگناہ آدمی ۔ برئ۔ مادہ۔
اتبعوا۔ ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب اتباع۔ مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
لغات : آیت نمبر 165 تا 167
یتخذ (بنا لیتا ہے) یحبون (وہ محبت کرتے ہیں) کحب اللہ (جیسے اللہ سے محبت کرنا) ۔ اشد حبا (بےانتہا محبت) ۔ تبرا (بےزاری کا اظہار، نفرت کا اظہار کیا) ۔ الذین اتبعوا (جن کی پیروی کی گئی (پیشوا یا بت) ۔ الذین اتبعوا (جنہوں نے اتباع کی) ۔ راوا (دیکھیں گے (دیکھا) ۔ تقطعت (کٹ جائیں گے (کٹ گئے) ۔ کرہ (دوبارہ جانا) ۔ یریھم (وہ ان کو دکھائے گا) ۔ حسرت (حسرتیں، افسوس) ۔ خارجین (نکلنے والے ) ۔ النار (آگ ، جہنم دوزخ)
تشریح : آیت نمبر 165 تا 167
اب ان لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کے سامنے سا را نظام کائنات ہے جس میں اللہ کی ربوبیت اور شان رحمت صاف نظر آرہی ہے مگر کھلی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
بت پرستوں کا انجام
شان نزول : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں بتلائیں ۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر قریش ایمان نہ لائے اور اپنی شرک پر اڑے رہے ، تو ان کے شرک کا دنیا اور آخرت میں جو انجام ہے اس کی حالت ظاہر فرمانے کی غرض سے یہ آیت نازل فرمائی ۔ دنیا میں ان کے شرک کے سبب سے بدر کی لڑائی میں وہ رسوائی ان کی ہوئی جس کی تفصیل جنگ بدر کے قصہ میں آوے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–172
[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4
[107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
اکل حلال :
(ف 1) عرب میں ایسے قبائل بھی تھے ثقیف وخزاعہ کی طرح جو حلال چیزوں کو حرام قرار دے لیتے تھے اور ایسے بھی تھے جو حرام اور مکروہ چیزیں استعمال میں لاتے تھے ، قرآن حکیم نے ان آیات میں اکل حلال کی طرف توجہ دلائی ہے ۔
حلت و حرمت کا مسئلہ اس نے قابل لحاظ ہے کہ خوراک کا مسئلہ براہ راست ہمارے اخلاق سے تعلق رکھتا ہے ، اباحت مطلقہ جہاں صحت کے لئے مضر ہے ‘ وہاں اخلاق کے بھی مفید نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خاص خاص قسم کی غذائیں خاص خاص نوع کے اخلاق و عادات پیدا کرنے میں ممدومعاون ہوتی ہیں اس لئے وہ مذہب جو اصلاح اخلاق کا مدعی ہے ، ضرور ہے کہ خوراک کے مسئلے سے شدید تعرض کرے ، ماکولات ومشروبات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
ف 3 مشاہدہ عذاب کا وقت وہ وقت ہوگا جب کہ وہ تمام ذی اثر اور صاحب اقتدار لوگ جنکی پیروی کی جاتی تھی اور ان کا کہا چلتا تھا ان سب لوگوں سے بیزار اور علیحدہ ہوجائیں گے جو ا ن کی پیروی کیا کرتے تھے اور ان کے کہنے پر چلتے تھے اور یہ سب تابع اور متبوع عذاب خداوندی کا مشاہرہ کریں گے اور ان کے ہر قسم کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے اور وہ تمام پیروی کرنیوالے عوام اپنے سرداروں اور بڑوں کی یہ حالت دیکھ کر یوں کہیں گے۔ کاش ! ہم کو کسی طرح باز گشت میسر آجائے اور ایک دفعہ دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو ہم بھی ان سے اسی طرح بےزاری کا اظہار کریں اور ان سے الگ ہوجائیں جس طرح یہ ہم سے آج الگ ہوگئے اسی طرح اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
ف 4۔ اگر کسی مشرک کو یہ ثابت ہوجاوے کہ میرے معبود سے مجھ پر ضرر پڑے گا تو فورا محبت منقطع ہوجاوے اور مومن باوجود اس کے کہ نافع ضار حق تعالیٰ ہی کو اعتقاد کرتا ہے لیکن پھر بھی محبت ورضا اس کی باقی رہتی ہے۔
5۔ اور عذاب آخرت کو سخت فرمایا ہے آگے اس سختی کی کیفیت کا بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →وہ وقت یاد کرو جب پیشوا اپنے پیروئوں سے بیزار ہوں گے :
293: فرمایا وہ دن ایسا دن ہے کہ جن جن کو ان لوگوں نے اپنا پیشوا بنا رکھا تھا وہ سب ان سے الگ ہوجائیں گے۔ فرشتے کہیں گے کہ اے اللہ ! ہم ان سے بیزار ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے ۔ اے اللہ تو پاک ذات ہے تو ہی ہمارا ولی ہے یہ لوگ تو جنات کی عبادت کرتے تھے انہی پر ایمان رکھتے تھے۔ اسی طرح جنات بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاف صاف ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کریں گے ایک جگہ فرمایا :
وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ0081 كَلَّا 1ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
Towards the end of the preceding verse it was said that the punishment of the Hereafter is severe. How severe it will be is now the subject of the present verse.
The severity of the punishment against which the polytheists have been warned will unfold itself when their leaders whom they followed will disown them as their votaries; and they both, the leaders and the led, will witness the punishment, and whatever bonds of leading and following may have existed between them would be snapped apart, very much like it happens in our mortal world when people share in the illegal but wriggle out…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
163. There are certain attributes which belong exclusively to God. Moreover, there are certain duties that man owes to God by virtue of His being his Lord. The indictment of the Qur'an is that the people in question ascribe to others than God the attributes which are exclusively His and likewise consider others to be the rightful claimants of certain rights over man which belong only to God. To be Lord of the entire complex of causal relationships found in the universe, to dispense the needs and requirements of people, to deliver them from distress and afffliction, to heed complaints and…
Read the full tafseer →