Al-Baqara 2:134

Al-Baqara · from ayah 134

2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ— لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ— وَلَا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ۚ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

That was a nation which has passed on. It will have [the consequence of] what it earned, and you will have what you have earned. And you will not be asked about what they used to do.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 16 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:134

وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ایک امت ہے کہ گزرچکی ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ایک امت تھی جو گزر چکی، ان کے لئے وہی کچھ ہوگا جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہوگا جو تم کماؤ گے اور تم سے ان کے اعمال کی باز پُرس نہ کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی۔ جو کچھ اس جماعت نے اعمال کیے وہ ان کے لیے ہیں اور جو کچھ تم کماؤ گے وہ تمہارے لیے ہے۔ اور تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ایک گروہ تھا جو گزر چکا، اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تمہیں ملے گا جو کچھ تم نے کمایا، اور جو کچھ وہ کرتے رہیں اس کے بابت تم سے سوال نہیں ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، ان کیلئے ہے وہ کچھ جو انہوں نے کمایا (اپنی زندگی میں) اور تمہارے لئے ہے وہ کچھ جو تم نے خود کمایا، اور تم سے کوئی پوچھ نہ ہوگی ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ ایک جماعت ہے جو گزر چکی۔ ان کے آگے ان کا کیا ہوا آئے گا اور تمہارے آگے تمہارا کیا ہوا اور وہ جو کچھ کرتے رہے اس کی پوچھ گچھ تم سے نہ ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے تھا جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہوگا جو تم کماؤ گے تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے لئے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے وہ تمہارے لئے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

They were a people who passed away; they shall receive the reward of what they earned and you shall have the reward of what you will earn; and you will not be questioned as to what they did.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are a people who have passed away. For them is what they earned, and for you is what you earned. Nor shall you be questioned as to what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are a people who have passed away. For them is what they earned, and for you is what you earned. Nor shall you be questioned as to what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That was a nation who has passed away. They shall receive the reward of what they earned and you of what you earn. And you will not be asked of what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those are a people who have passed away. Theirs is that which they earned, and yours is that which ye earn. And ye will not be asked of what they used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That was a nation which has passed on. It will have [the consequence of] what it earned, and you will have what you have earned. And you will not be asked about what they used to do.

— Saheeh International

That nation (children of Abraham) is gone. They have reaped what they sowed, and the same applies to you. You are not responsible for their deeds.

— Muhammad Sarwar

This is a people that have passed away; they shall have what they earned and you shall have what you earn, and you shall not be called upon to answer for what they did.

— Muhammad Habib Shakir

That are a community who have passed away, unto them shall be that which they earned and unto you that which ye earn, and ye shall be questioned not of that which they were wont to Work.

— Abdul Majid Daryabadi

That was a people that hath passed away. They shall reap the fruit of what they did, and ye of what ye do! Of their merits there is no question in your case!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:134

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 133–134

ازلی اور ابدی مستحق عبادت اللہ وحدہ لا شریک مشرکین عرب پر جو حضرت اسماعیل کی اولاد تھے اور کفار بنی اسرائیل پر جو حضرت یعقوب کی اولاد تھے دلیل لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حضرت یعقوب نے تو اپنی اولاد کو اپنے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی وصیت کی تھی ان سے پہلے تو پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ سب نے جواب دیا کہ آپ کے اور آپ کے بزرگوں برحق کی۔ حضرت یعقوب حضرت اسحاق کے لڑکے اور حضرت اسحاق حضرت ابراہیم کے۔ حضرت اسماعیل کا نام باپ دادوں کے ذکر میں بطور تخطیب کے آگیا ہے کیونکہ آپ چچا ہوتے ہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ عرب میں چچا کو بھی باپ کہہ دیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 134 یعنی اگرچہ تم ان کی اولاد سہی، مگر حقیقت میں تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا نام لینے کا تمہیں کیا حق ہے جبکہ تم ان کے طریقے سے پھرگئے۔ اللہ کے ہاں تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے رہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ ”جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے،“ یہ قرآن کا خاص انداز بیان ہے۔ ہم جس چیز کو فعل یا عمل کہتے ہیں، قرآن اپنی زبان میں اسے کسب یا کمائی کہتا ہے۔ ہمارا ہر عمل اپنا ایک اچھا یا برا نتیجہ رکھتا ہے، جو خدا کی خوشنودی یا ناراضِ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ وہی نتیجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آباء و اجداد کے اعمال کی جزا سزا اولاد پر نہیں ہوگی لَهَا مَا كَسَبَتْ لآیۃ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کے نیک اعمال اولاد کے لئے کافی ہوں گے جب تک وہ خود اپنے اعمال کو درست نہ کریں اسی طرح باپ دادا کے برے اعمال کا عذاب بھی اولاد پر نہ پڑے گا جب کہ یہ اعمال صالحہ کے پابند ہوں اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مشرکین کی اولاد جو بلوغ سے پہلے مرجائے ان کو اپنے ماں باپ کے کفر و شرک کی وجہ سے عذاب نہیں ہوگا اور اس سے یہود کے اس عقیدے کی بھی تردید ہوگئی کہ ہم جو چاہیں عمل کرتے رہیں ہماری مغفرت تو ہمارے آباء و اجداد کے اعمال سے ہوجائے گی اسی طرح آجکل کے بعض سید خاندان کے لوگ اس خیال میں رہتے ہیں کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خلاصہ بحث : یہ آیت اس سلسلہ بیان میں دو مرتبہ آئی ہے۔ ایک یہاں، پھر چند ہی آیات کے بعد پارے کے خاتمے پر جہاں یہ سلسلہ بیان ختم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ خلاصہ بحث ہے جو مخاطب کے سانے رکھنا مقصود ہے۔ بتانا یہ ہے کہ تمہارا سارا فخر و اعتماد اپنے باپ دادا پر رہ گیا ہے، تم سمجھتے ہو کہ تمہارے حصے کے اعمال بھی وہ انجام دیے گئے، اب تمہیں صرف ان کی نیکیوں کے پھل کھانے ہیں، تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں رہ گئی ہے۔ یہ فخر و اعتماد بالکل وہم و خیال پر مبنی ہے، انہوں نے اپنے حصے کی ذمہ داریاں انجام دی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو انجام دے کر اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں، وہ اپنی نیکیوں کا صلہ خود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

134۔ 1 یہ بھی یہود کو کہا جا رہا ہے کہ تمہارے آباواجداد جو انبیاء و صالحین ہو گزرے ہیں، ان کی طرف نسبت کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے، اس کا صلہ انہیں ہی ملے گا، تمہیں نہیں، تمہیں تو وہی کچھ ملے گا جو تم کماؤ گے۔ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہی ہے جو پچھلے صالحین کا بھی سرمایا تھا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی نجات کا بھی واحد ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 133–137

86: بعض یہودیوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب (اسرائیل) ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ وہ یہودیت کے دین پر رہیں، یہ آیت اس کا جواب ہے۔ اس آٰیت کو سورة آل عمران کی آیت 65 کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو بات اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ہر شخص اپنا حساب خود دے گا ۔ ہر ایک کا اپنا راستہ ہے ، ہر ایک کا ایک عنوان ہے اور ہر کسی کی اپنی خصوصیات ہیں ۔ وہ ایک مومن جماعت تھی جس کا بعد میں آنے والے اس کے فاسق جانشینوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بعد میں آنے والے ناخلف اور نالائقوں کا ان پاک بازوں سے کیا واسطہ ؟ وہ ایک علیحدہ جماعت تھے اور یہ ایک علیحدہ جماعت ہیں ۔ ان کا جھنڈا علیحدہ تھا اور ان کا جھنڈا جدا ہے ۔ ان کا تصور حیات ایک ایمانی تصور حیات تھا اور ان نالائقوں کا تصور حیات بالکل جاہل تصور ہے ۔ جاہلی تصور حیات میں ایک جماعت اور دوسری جماعت اور ایک دور ایک دوسرے دور میں فرق نہیں کیا جاتا کیونکہ اس کے تصور کے مطابق اگر دو معاشروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یہودیوں کو اور نصرانیوں کو یقین تھا کہ ماں باپ کے گناہوں میں اولاد گرفتار ہوگی اور ان کے ثواب میں بھی اولاد شریک ہوگی۔ سو یہ غلط ہے اپنا کیا اپنے آگے آئے گا بھلا یا برا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 134 تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ ج یہ آیت اس رکوع میں دو مرتبہ آئی ہے۔ یہ انسانوں کا ایک گروہ تھا جو گزر گیا۔ ابراہیم ‘ اسماعیل ‘ اسحاق ‘ یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد سب گزر چکے۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ ج یہاں پدرم سلطان بود کا دعویٰ کوئی مقام نہیں رکھتا۔ ہر شخص کے لیے اپنا ایمان ‘ اپنا عمل اور اپنی کمائی ہی کام آئے گی۔ وَلاَ تُسْءَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ تم سے تو یہی پوچھا جائے گا کہ تم کیا کر کے لائے ہو ؟ تمہارا باپ سلطان ہوگا ‘ لیکن تم اپنی بات کرو کہ تم کیا ہو ؟ اس پس منظر میں اب یہود کی خباثت کو نمایاں کیا جا رہا ہے کہ ابراہیم اور یعقوب علیہ السلام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

166 یعنی انبیاء کی اور ان کے متبعین کی جماعت۔ اگرچہ اے یہود ! تم ان کی اولاد ہو مگر ان کے اعمال تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے۔ تمہارے لیے تو وہی کچھ ہوگا جو تم خود کر رہے ہو۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تمہارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے رہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

482 ۔ (اور ان کے فضائل و کمالات بھی ان کے ساتھ گزر چکے۔ تمہیں آخر ان کے نام گنانے سے کیا حاصل ؟ ) (آیت) ” تلک امۃ “ سے مراد یہی اجداد یہود ہیں۔ جن کا شمار جماعت انبیاء میں ہے۔ خطاب یہاں یہود سے ہے جو آبائی مفاخرت، نسلی عظمت، پیغمبر زادگی کے نشہ میں چور تھے۔ اس میں بڑا سبق آج کل کے پیرزادوں، رسمی مشائخ زادوں، اور بہت سے بدعتی فرقوں کے لیے موجود ہے۔ بلاسعی عمل محض بزرگوں کی نسبت سے فائدہ اٹھانے کی جڑ ہی اسلام نے کاٹ دی ہے۔ 483 ۔ اسلام کے طفیل اب یہ بات معمولی سی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن قرآن نے جب اس حقیقت کا اعلان کیا ہے اس وقت بہت ہی اہم اور گویا ایک نادر سی بات تھی۔ شخصی وذاتی ذمہ داری اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

تِلْکَ اُمِّۃٌ قَدْخَلَتْ یعنی تم اگرچہ ان کی اولاد سہی مگر حقیقت میں تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں، ان کے نام لینے کا تمہیں کیا حق ہے جب تم ان کے راستہ سے پھرگئے ؟ اللہ کے یہاں تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے ؟ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے تھے، تمہیں اپنے انبیاء صالحین کی طرف نسبت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں، انہوں نے جو کچھ کیا اس کا صلہ ان ہی کو ملے گا تمہیں نہیں، تمہیں تو وہی ملے گا جو کچھ تم کماؤ گے، اس سے معلوم ہوا کہ اسلاف کی نیکیوں پر اعتماد اور سہارا غلط ہے، اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ ( ان کے کام ان کا کیا ہوا آئے گا اور تمہارے کام تمہارا کیا ہوا آئیگا) یعنی جب یہ امر مسلم ہے کہ جو جس نے کیا ہے وہی اسکے سامنے آئیگا تو پھر تم اے یہودیوں اپنے آپ کو اس شرف نسبت کی وجہ سے ناجی اور رستگار سمجھتے ہو۔ سراسر حماقت ہے یاد رکھو جب تک تم انکی اطاعت نہ کرو گے وہ اور انکی نیکیاں تمہارے کچھ کام نہ آئینگے۔ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ( اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ گچھ نہ ہوگی) بلکہ ہر شخص سے اس کے اعمال کی باز پرس ہوگی ابن ابی حاتم نے بطریق سعید و عکرمہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(134) یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس نے جو نیکیاں کی ہیں وہ اس کے لیے خاص ہیں اور جو تم اچھے کام کرتے ہو وہ تمہارے لیے ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان لوگوں کے اعمال اوراقوال کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یہود کو تنبیہ ہے کہ وہ انبیاء اور صلحاء کی طرف اپنی نسبت پر مغرور نہ ہوں، یہ نسبت تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی، بلکہ نجات کا دارو مدار انسان کے اپنے اعمال پر ہے ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 134 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تلک امة قدخلت، تلک مبتدا ہے اور امة خبر ہے اور قد خلت، امة کی صفت ہے اگر تو چاہے تو قدخلت کو خبر بنادے اور امة، تلک سے بدل ہوگا۔ لھا ما کسبت، ما محل رفع میں ہے یا کو فیوں کے ایک قول کے مطابق صفت ہے ولکم ما کسبتم یہ لھاما کسبت کی مثل ہے۔ خیر اور شرکا ارادہ فرمایا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ اعمال اور کساب کی نسبت بندے کی طرف کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر اسے قدرت دی ہے اگر وہ اچھے اعمال پر اچھی جزا دے تو یہ اس کا فضل ہوتا ہے اور برے اعمال پر سزا دے تو یہ اسکا عدل ہے۔ یہ اہل سنت کا مذہب ہے قرآن میں اس مفہوم کی آیات کثیر ہیں۔ بندہ اپنے افعال کا مکتسب ہے اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” تلک امۃ قد خلت “ سے مراد ہے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(تِلْکَ : وہ) (اُمَّــۃٌ : ایک امت ہے جو) (قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہے) ( لَھَا : اس کے لئے ہی ہے ) (مَا کَسَبَتْ : وہ جو اس نے کمایا) (وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لئے ہی ہے ) (مَّا کَسَبْتُمْ : وہ جو تم لوگوں نے کمایا) (وَلَا تُسْئَلُوْنَ : اور تم لوگوں سے نہیں پوچھا جائے گا) (عَمَّا : اس کے بارے میں جو ) (کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ کیا کرتے تھے) ترکیب : ” تِلْکَ “ مبتدأ جبکہ ” اُمَّۃٌ“ خبر ہے اور نکرہ موصوفہ ہے۔ ” قَدْ خَلَتْ “ اس کی صفت ہے۔ ” مَا “ موصولہ ہے اور ” کَسَبَتْ “ اس کا صلہ ہے۔ صلہ موصول مل کر مبتدأ ہیں۔ اس کی خبر ” وَاجِبٌ“ محذوف ہے اور ” لَھَا “ قائم مقام خبر مقدم ہوتی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 134–135

یہودیوں کے اس غرور کا جواب کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں یہودیوں کو اس بات پر غرور تھا اور اب بھی ہے کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں اور ان کے نسل اور نسب میں ہونے کی وجہ سے ہم عذاب سے بچ جائیں گے۔ اس آیت میں صاف صاف اس بات کی تصریح فرما دی کہ وہ حضرات اپنے اپنے عقائد اور اعمال لے کر دنیا سے چلے گئے انہوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے ساتھ ہے ان کے اعمال صالحہ ان کے کام آئیں گے اور تم نے جو کچھ کیا وہ تمہارے ساتھ ہے ان کے اعمال میں سے کوئی حصہ تمہیں نہ ملے گا۔ دوسروں کے اعمال کی وجہ سے خواہ مخواہ آس لگائے بیٹھے ہو جبکہ یہ آس اور امید قانون خداوندی کے خلاف ہے، تم اپنے عقائد اور اعمال اور کفر و ایمان کو دیکھو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–134

دعاء ابراہیمی برائے وجود امت مسلمہ وقوم مسلمانان و ظہور رسول محترم از ساکنان حرم کہ صاحب قرآن و خاتم پیغمبراں باشد قال تعالیٰ ۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک۔۔۔ الی۔۔۔ انک انت العزیز الحکیم (ربط) ان دونوں بزرگوں نے اپنی فراست صادقہ اور نور نبوت سے یہ سمجھا کہ جب ہم کو ایسے خانہ تجلی آشیانہ کی تعمیر کا حکم ہوا ہے تو لا محالہ اس کے ہمرنگ کسی ایسی عبادت کا بھی حکم ہونے والا ہے جو عشق اور محبت کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ اور ان عبادتوں کا بجا لانے والا صورۃً اگرچہ انسان ہوگا مگر معنیً ہمرنگ ملائک ہوگا گویا کہ دربار خداوندی کا معاینہ اور مشاہدہ کر رہا ہے اور جس امت کے لیے اس گھر کو قبلہ بنایا جائے گا اس کو ایسے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

255 تِلْکَ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اشارہ ہے۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین کو اپنے بزرگوں پر ناز تھا اور وہ اپنی صاحبزادگی کے غرور میں مسرور تھے اور کہتے تھے کہ اچھا اگر ہم بدکار ہیں تو کیا ہوا ہمارے آباء و اجداد تو نیک اور توحید پرست تھے جب وہ جنت میں جائیں گے تو ہم بھی ان کے طفیل بخش دئیے جائیں گے اور ہمیں بھی جنت میں جگہ مل جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا غرور شکن جواب دیا کہ وہ جماعت تو گذر چکی اور ان کے کمالات بھی ان کے ساتھ ہی گئے۔ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۔ ان کا کیا ان کے آگے آئے گا اور تمہارا کیا تمہارے آگے۔ لہذا دل سے یہ بات نکال ڈالو کہ ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 130–134

گذشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے پہلے بیت اللہ شریف کی بنیاد اور اس کی تعمیر کا ذکر فرمایا اور پھر اسی ضمن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر تھا دعا میں سب سے پہلے عمل کی قبولیت اور پھر اطاعت اور فرمانبرداری کی توفیق طلب کی گئی تھی اس کے بعد دونوں باپ بیٹے کی اولاد میں سے امت مسلمہ کے قیام اور پھر ان میں سے ایک عظیم الشان رسول کی بعثت کی دعا تھی اور پھر ان فرائض کا ذکر تھا جو آخری رسول انجام دے گا ، یہاں پر مرکزی نکتہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت ہی ہے کیونکہ اہل کتاب آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے ، یہ مرکزی مضمون آگے دور تک جائے گا ابتداء میں حضرت خلیل (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تِلْكَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ۝ 0 ۚ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ۝ 0 ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 134 الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 133–134

ترکیب : ام منقطعہ ای بل اکنتم علی جہتہ التوبیخ شہداء خبرکان اذظرف شہداء کا حضر فعل یعقوب مفعول الموت فاعل و قریٔ بالعکس اذ بدل ہے اذ سابق سے قال فعل ضمیر ہو راجع یعقوب کی طرف فاعل لبنیہ متعلق قال سے ما بمعنی من استفہامیہ معمول تعبدون قالو اکافاعل بنین الہک والہ ابآئک مفعول، ابراھیم الخ بدل آباء سے الہا واحدا صفت و موصوف بدل ہے الٰہ اول سے اور ممکن ہے کہ حال مؤطیہ ہو کقولک رأیت زیداً رجلاً صالحاً یہ سب جملہ جواب ہوا اذقال لبنیہ کا یہ اذا اپنے جواب سے مل کر بدل ہوا اذا اول کا اور پھر تمام جملہ استفہام توبیخی ہوا و نحن لہ مسلمون جملہ حال ہے فاعل نعبد سے یا معطوف ہے نعبد پر تلک مبتدا امۃً موصوف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ ج لَھَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَاکَسَبْتُمْ ج وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (یہ ایک گروہ تھا جو گزر گیا اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے کمایا اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کے بارے میں تم سے سوال نہیں کیا جائے گا) (البقرۃ : 134) بحث کو سمیٹ کر ایمان و عمل اور آخرت کی جواب دہی کی طرف متوجہ کیا گیا اسی سلسلہ بیان میں گزشتہ کسی جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ یہود کی گمراہی اور دین سے لاتعلقی کے متعدداسباب تھے، لیکن ان میں ایک اہم تر سبب یہ تھا کہ وہ ایمان وعمل کو نجات کی بنیاد بنانے کی بجائے نسل اور نسب کو بنیا دبنا چکے تھے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 133–134

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیتکا بیان تھا۔ جس کا اہل کتاب انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا ان سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا تم ان کی وفات کے وقت موجود تھے کہ انہوں نے یہ نصیحت نہیں کی تھی ؟ انبیائے عظام کے ذمہ قوموں کی رہنمائی کا فریضہ ہوا کرتا ہے۔ اس جان کٹھن اور ہمہ وقت بھاری ذمہ داری کے باوجود انبیاء اپنے اہل خانہ کی ذمہ داریوں سے لمحہ بھر کے لیے غافل نہیں ہوا کرتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ ان کی ذات اہل خانہ اور لوگوں کے لیے بہترین نمونہ ثابت ہوں۔ اس بارے میں وہ اس قدر فکر مند ہوتے تھے کہ جب موت کا فرشتہ سرہانے کھڑا جان قبض کرنے کی اجازت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

134۔ تِلْکَ : (وہ) یہ امت مذکورہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ابراہیم اسماعیل و یعقوب اور ان کی موحد اولاد اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ : (ایک جماعت تھی جو گزری) گزر چکی غیر کی کمائی کام نہ آئے : لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَـکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ : (ان کے لئے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے جو تم نے کمایا) یعنی کسی کو غیر کی کمائی کام نہ دے گی۔ خواہ کان کو مقدم مانیں یا مؤخر۔ کہ ان کو وہ چیز فائدہ دے گی جو انہوں نے کمائی۔ پس اسی طرح تمہیں وہ چیز کام آئے گی جو تم نے کمائی۔ یہ بات فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے باپوں پر فخر کر کے (برائیوں پر ڈھٹائی اختیار کرنے والے تھے) اور اعمال کو کوئی حیثیت نہ دیتے تھے۔ وَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 134۔: (آیت)” تلک امۃ “ جماعت (آیت)” قدخلت “ گذر چکی ۔ (آیت)” لھا ماکسبت “۔ جو عمل کیا ہوگا وہی کام آئے گا (آیت)” ولکم ماکسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون “ ہر شخص سے اپنے ہی عمل کے بارے میں سوال کیا جائے گا نہ کہ کسی اور کے عمل کے بارے میں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 133–134

(133 ۔ 134) ۔ اوپر کی آیت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی وصیت کا ذکر ہے تھا اور اس آیت میں حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے آخری وقت پر اپنی اولاد سے توحید پر رہنے کا اقرار جو بطور وصیت کے لیا تھا اور اس اقرار میں حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے چچا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اسی توحید پر قائم رہنے کا ذکر ہے جس سے اولاد یعقوب ( علیہ السلام) اور اولاد اسماعیل ( علیہ السلام) دونوں کو ذکر کرنا مقصود ہے کہ ان دونوں میں سے ایک بھی اپنے بڑوں پر نہیں ہے اور جب یہ لوگ اپنے بڑوں کے طریقہ پر نہ ہوں قیامت کے دن بڑوں کے نیک عمل ان کے کام نہیں آسکتے اس دن تو ہر ایک کو اپنے اپنے عمل کے جدا جدا جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ خبردی ہے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ) یعنی وہ امت گزر گئی (لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ) ” اس کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے وہ جو تم کماؤ گے “ یعنی ہر شخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے : تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو ا یعملون ( وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے ، جو کچھ انہوں نے کیا یا وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کمائو گے وہ تمہارے لیے ہے، تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے) یہ آیت تین معانی پر دلالت کرتی ہے۔ اول یہ کہ آباء کی اطاعت پر ابناء ( بیٹوں) کو ثواب نہیں ملے گا اور آباء کے گناہوں کی سزا بیٹوں کو نہیں دی جائے گی۔ اس میں ان لوگوں کے مسلک کا ابطال ہے جو مشرکین کی اولاد کی ان کے آباء کے گناہوں کی بنا پر تعذیب کو جائز قرار دیتے ہیں، نیز اس سے یہود کا یہ زعم بھی باطل قرار پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے آباء کی نیکیوں کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

370 ہر کوئی اپنے ہی کئے کرائے کا ذمہ دار ہے : یہود و نصاری کا یہ زعم اور دعوی تھا کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ پس یہی بات ہمارے لئے کافی ہے اور اسی انتساب کی بنا پر ہمارا سب کام ٹھیک ہوجائیگا۔ تو ان کو بتایا گیا ہے کہ تمہارا یہ زعم باطل اور بےبنیاد ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلے کا دار و مدار انتساب پر نہیں، اپنے عقیدہ و کردار پر ہے۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائیگا ۔ { لاَ تََزِرُ وَازِِرَۃٌ وِزُرَاُخْرٰی } ۔ یہ حضرات اللہ پاک کی برگزیدہ اور پاکیزہ ہستیوں کی ایک جماعت تھی جو گزر چکی۔ ان کو اپنا عمل و کردار کام آئیگا اور تم لوگوں کو اپنا۔ نہ تم سے ان کے بارے میں کوئی پوچھ ہوگی اور نہ انکا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 133–134

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت تشریح : حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت سارہ کے بیٹے، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی تھے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) تھے اس آیت میں اللہ جل شانہ یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ تم جو من گھڑت باتیں بنا کر اسلام سے پھر رہے ہو اور غلط باتیں اپنے بزرگوں کے متعلق کہتے ہو تو کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے موت کے وقت اپنے بیٹوں سے سوال کیا کہ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اسی اللہ کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ کے دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آپ کے چچا حضرت اسماعیل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

آیات 130- 141 اسرارو معارف حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 133–134

ف 3 یہود کو تنبیہ کی ہے کہ وہ انبیا اور صلحاء کی طرف انتساب سے مغرور نہ ہوں یہ انتساب تمہارے کچھ کام نہیں آسکے گا بلکہ نجات کا مداد انسان کے خود اپنے اعمال پر ہے ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہوں گے سلسلہ بیان کے لیے دیکھئے آیت 141)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:134) تلک امۃ۔ اسم اشارہ بعید واحد مؤنث۔ اس کا اشارہ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کی طرف ہے۔ امۃ۔ جماعت۔ امت۔ ہر وہ جماعت جس میں کوئی رابطہ اشتراک موجود ہو اسے امت کہا جاتا ہے۔ خواہ یہ اتحاد مذہبی وحدت پر ہو یا جغرافیائی یا عصری وحدت کی وجہ سے ہو۔ ام یئم سے مشتق ہے جس کا معنی ہے قصد کرنا۔ امہ بمعنی مقصود ہوا۔ جماعت کو امت اس لئے کہنے لگے ۔ کہ جس طرح جماعت ہوتی ہے لوگ اسی کا قصد کرتے ہیں (مظہری) نیز ملاحظہ ہو 2:124 ۔ لفظ اماما کے محاذ۔ کسبت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس نے کمایا۔ اچھا یا برا کوئی کام کیا۔ لہا۔ لکم۔ میں لام منفعت کے لئے ہے یعنی اس اچھے یا برے کام کی جزاوسزا اس کے کرنے والے کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–141

لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141 یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 133–134

اوپر کی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت کا ذکر تھا ، اور اس آیت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے آخری وقت پر اپنی اولاد سے توحید پر رہنے کا اقرار جو بطور وصیت کے لیا تھا ۔ اور اس اقرار میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چچا حضرت اسماعیل کے اسی توحید پر قائم رہنے کا ذکر ہے ۔ جس سے اولاد یعقوب اور اولاد اسماعیل دونوں کو قائل کرنا مقصود ہے ، یہ دونوں اپنے بڑوں کے طریقہ پر نہیں ہیں ۔ قیامت کے دن بڑوں کے نیک عمل ان کے کام نہیں آویں گے ۔ ہر ایک کو اپنے اپنی عمل کا جدا جدا جواب دینا ہوگا ۔ چناچہ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے ترمذی وغیرہ میں معتبر سند سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ چار…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

بہترین جائیداد : (ف 2) جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو اسلام پر قائم رہنے کی تلقین کی اسی طرح حضرت یعقوب نے بھی اپنے آخری لمحات زندگی میں اپنے بیٹوں کو بلا کر پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی پرستش کرو گے ؟ وجہ یہ تھی کہ مصر میں جہاں حضرت یعقوب آرہے تھے ، کثرت سے بت پرست رائج تھی ، آپ نے اس لیے کہ ان میں توحید کا احساس باقی رہے ، بلا کر پوچھا اور غرض یہ تھی کہ اولاد کسی حالت میں بھی اعلاء کلمۃ اللہ سے غافل نہ ہو ۔ حضرت ابراہیم و یعقوب (علیہما السلام) کی وصیت اس چیز کا پتہ چلتا ہے کہ ان کی ساری زندگی کس کے حصول میں گزری ، وہ اپنے آخری اوقات میں مال و دولت سپرد نہیں کرتے ، جائیداد کے متعلق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 132–134

ف 1 اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) اسی بات کی اپنے بیٹوں کو وصیت فرما گئے اور حکم دے گئے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی اپنے بیٹوں کو یہی حکم دے گئے اور وہ حکم یہ تھا کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے اس دین اسلام کو تمہارے لئے منتخب فرمایا ہے لہٰذا تم مرتے دم تک اس پر قائم رہنا اور تم بجز اسلام کے اور کسی حالت میں نہ مرنا کیا جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی موت کا وقت قریب آیا تو تم خود وہاں موجود تھے جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے یہ دریافت کیا کہ تم میرے مرنے کے بعد کس کی پرستش کرو گے تو ان سب نے جواب دیا کہ ہم اس کی پرستش و عبادت کریں گے جو آپ کا اور آپ کے باپ دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 128–134

ف 4۔ جس جماعت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ صرف بنی اسماعیل ہیں جن میں جناب رسول اللہ مبعوث ہوئے۔ پس جہاں جن پیغمبر کے لیے دعا ہے اس سے مراد صرف آپ ہوئے کیونکہ یہ دعا دونوں صاحبوں نے کی ہے تو وہی جماعت مراد ہوسکتی ہے جو دونوں کی اولاد ہو اور پیغمبر کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ اس جماعت سے ہوں تو جماعت بنی اسماعیل میں سے ہیں اس لیے حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ظہور ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیا سے رخصت ہونے والے انبیاء (علیہ السلام) سب ایک ہی جماعت تھے : 247: یہاں بات انہی انبیاء کرام کی ہے جو اجد اد یہود ہیں جن کا شمار انبیاء میں ہے۔ یہود سے کہا جا رہا ہے کہ آبائی مفاخرت ، نسلی عظمت پیمبرزادگی کے نشہ میں کیوں چور ہو اور ایسا کہنے میں ایک بڑا سبق آج کل کے پیرزادوں ، رسمی مشائخ زادوں اور بہت سے بدعتی فرقوں کے لیے موجود ہے کہ بلاسعی عمل محض بزرگوں کی نسبت سے فائدہ اٹھانے کی جڑ ہی اسلام نے گویا کاٹ دی ہے۔ اسلام کی ہدایت کی وجہ سے آج یہ بات معمولی سی معلوم ہوتی ہے لیکن قرآن کریم نے جب اس حقیقت کا اعلان کیا تو اس وقت بہت ہی اہم اور ایک نادر سی بات تھی۔ شخصی و ذاتی ذمہ داری اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 134 tells us that the good deeds of one's forefathers shall not suffice one, if one has not been performing good deeds oneself, and that, similarly, one shall not have to suffer for the misdeeds of one's forefathers, if one's own account is clean. It follows upon this principle that children of mushrikin مشرکین (associators) and Kafirin کافرین (infidels), if they die before having come of age, shall not be punished in the other world on account of the disbelief of their parents. The verse also refutes the claim of the Jews that irrespective of what they had been doing they would go to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

134. What is being said here is that even though they might be their offspring in terms of blood - relationship they had, in fact, no true relationship with them. What right did they have to pretend to belong to them when they had departed far from their way? For God would not ask people what their forefathers did; it was rather about their own conduct and action that they would be questioned. ' Theirs is what they have earned ' is a characteristically Qur'anic expression. What we ordinarily characterize as either 'action' or 'doing' is termed by the Qur'an as 'earning'. The reason is that…

Read the full tafseer →