Explained with ayahs 130–132
توحید کے دعوے اور مشرکین کا ذکر
ان آیتوں میں بھی مشرکین کی تردید ہے کہ جو اپنے آپ کو دین ابراہیمی پر بتاتے تھے حالانکہ کامل مشرک تھے جبکہ حضرت خلیل اللہ کی موحدوں کے امام تھے۔ توحید کو شرک سے ممتاز کرنے والے تھے عمر بھر میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا بلکہ ہر مشرک سے اور ہر قسم کے شرک سے اور ہر غیر اللہ سے جو اللہ مانا جاتا ہو وہ دل سے نفرت کرتے تھے اور ان سب سے بیزار تھے۔ اسی بنا پر قوم سے الگ ہوئے وطن چھوڑا بلکہ باپ تک کی مخالفت کی پروانہ کی اور صاف کہ دیا کہ آیت (قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ) 6۔ الانعام :78) میں بیزار ہوں، اس چیز…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 130
مُسْلِم وہ جو خدا کے آگے سر اطاعت خم کر دے، خدا ہی کو اپنا مالک، آقا، حاکم اور معبود مان لے، جو اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے سپرد کردے اور اس ہدایت کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے، جو خدا کی طرف سے آئی ہو۔ اس عقیدے اور اس طرز عمل کا نام ”اسلام“ ہے اور یہی تمام انبیا کا دین تھا جو ابتدائے آفرینش سے دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں میں آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ملت ابراہیمی کا بنیادی اصول اسلام یعنی اطاعت حق ہے وہ صرف اسلام میں منحصر ہے
اس کے بعد دوسری آیت میں ملت ابراہیمی کے بنیادی اصول بتلائے گئے ارشاد ہوا۔
اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی جب فرمایا ابراہیم ؑ سے ان کے رب نے کہ اطاعت اختیار کرو تو انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اطاعت اختیار کی رب العالمین کی اس طرز بیان میں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اللہ جل شانہ کے خطاب اسلم کا جواب بظاہر خطاب ہی کے انداز میں یہ ہونا چاہئے کہ اَسْلَمْتُ لَکَ یعنی میں نے آپ کی اطاعت اختیار کرلی مگر حضرت خلیل اللہ ؑ نے اس طرز خطاب کو چھوڑ کر یوں عرض کیا کہ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ…
Read the full tafseer →‘ اسلام ’ کا مفہوم : اسلام کے معنی اپنے آپ کو پورے طور پر خدا کی مرضی اور اس کے احکام کے حوالہ کردینا ہے۔ یہاں ہمارے نزدیک اس سے بیٹے کی قربانی کی طرف اشارہ ہے۔ یوں تو وہ تمام امتحانات، جن سے وہ گزارے گئے، ان کے اسلام کی جانچ ہی کے لیے تھے، گویا ہر امتحان زبان حال سے ان کے سامنے ‘ اسلم ’ ہی کا مطالبہ رکھنے کے لیے نمودار ہوا لیکن خاص طور پر حضرت اسمعیل ؑ کی قربانی کا حکم جس میں کامیابی کے بعد وہ برگزیدگی اور امامت کی عزت سے نوازے گئے ہیں، کامل سپردگی اور کامل حوالگی کا ایک ایسا مطالبہ تھا جس کی تعبیر کے لیے سب سے زیادہ جامع اور حقیقت افروز لفظ اگر کوئی ہوسکتا تھا تو ‘ اسلم ’ ہی کا لفظ ہوسکتا…
Read the full tafseer →131۔ 1 یہ فضیلت و برگزیدگی انہیں اس لئے حاصل ہوئی کہ انہوں نے اطاعت و فرماں برداری کا بےمثال نمونہ پیش کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
85: یہاں سر تسلیم خم کرنے کے لئے قرآن کریم نے ”اسلام“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی سر جھکانے اور کسی کے مکمل تابع فرمان ہوجانے کے ہیں۔ ہمارے دین کا نام اسلام اسی لئے رکھا گیا ہے کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ ہی کا تابعدار بنے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ شروع ہی سے مومن تھے اس لئے یہاں اللہ تعالیٰ کا مقصد ان کو ایمان لانے کی تلقین کرنا نہیں تھا اسی لئے یہاں اس لفظ کا ترجمہ اسلام لانے سے نہیں کیا گیا البتہ اگلی آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کی جو وصیت اپنی اولاد کے لئے مذکور ہے وہاں اسلام کے مفہوم میں دونوں باتیں داخل ہیں، دین برحق پر ایمان رکھنا بھی اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
یہ ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) ، یعنی خالص اور واضح اسلام اور فرمان برداری ۔ اور اس سے کنارہ کش صرف وہی ہوگا جو اپنے اوپر ظلم کرے گا ۔ اس سے دور وہی ہوگا جو دراصل احمق ہوگا ۔ اور اپنے آپ کو برباد کرنے والا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسے رب ذوالجلال نے دنیا کی امت کے لئے چنا اور جن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی کہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے ۔ انہوں نے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ جب ان سے ان کے رب نے کہا ” مسلم ہوجا “ تو انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی تردد اور انحراف کے فوراً سر تسلیم خم کردیا اور فوراً کہا قَالَ اَسلَمتُ لِرَبِّ العَالَمِینَ ” میں رب العالمین کا فرماں بردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
2 جس ملت و مذہب کا شرف مذکور ہوچکا اسی ملت کی وصیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت یعقوب نے اپنی اولاد کو فرمائی تو جو اس کو نہ مانے گا وہ ان کا بھی مخالف ہوا۔ اور یہود کہتے تھے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہودیت کی وصیت فرمائی سو وہ جھوٹے ہیں جیسا اگلی آیت میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 131 اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْلا قالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
یہاں تک کہ اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم آیا تو اس پر بھی سرتسلیم خم کردیا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلۂ امتحانات کا آخری امتحان تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کا سو برس کی عمر میں لیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ مانگ کر ستاسی برس کی عمر میں بیٹا اسماعیل علیہ السلام لیا تھا اور اب وہ تیرہ برس کا ہوچکا تھا ‘ باپ کا دست وبازو بن گیا تھا۔ اس وقت اسے ذبح کرنے کا حکم ہوا تو آپ علیہ السلام فوراً تیار ہوگئے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ جب بھی ہم نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ہمارا حکم مانو تو اسے حکم برداری کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
163 دین کا معنی اللہ تعالیٰ کی مکمل حاکمیت اور اپنی مکمل عبودیت کو تسلیم کرلینا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے طرز فکر اور طرز عمل کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع بنا لیا تھا اور طرز فکر و عمل کی تبلیغ و اشاعت میں اپنی پوری زندگی صرف کی اور اس راہ میں جو بڑی مشکلات پیش آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور یہ طرز زندگی اللہ کو اتنا محبوب تھا کہ اس نے آپ کو پوری دنیا کا امام بنادیا۔ اب کوئی بیوقوف ہی ایسی پسندیدہ روش سے اعراض کرسکتا ہے، یا ایسا شخص جو تجاہل عارفانہ سے کام لے رہا ہو۔
Read the full tafseer →472 ۔ اسلموا کا دوسرا ترجمہ ” اسلام لے آؤ “ یا ” مسلم ہوجاؤ “ بھی ہوسکتا ہے۔ پہلے بھی ذکر آچکا ہے اور یہاں اسے پھر یاد کرلیا جائے کہ قرآن مجید میں واقعات کا بیان ہمیشہ ترتیب تاریخی کے اعتبار سے نہیں ہوتا۔ اسلام لانے کے معنی ہیں اپنے آپ کو تمامتر خدائے واحد کے سپرد کردینا، اس کا پرستار بن جانا۔ عقیدہ، معاشرت، معاملت غرض کہ زندگی کے ہر بڑے چھوٹے شعبہ میں اسی کے قانون کو قبول کرنا۔ اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا، اصطلاح میں اسلام و ایمان گویا مترادف ہے، اور یہی دین اسلام ہمیشہ انبیاء کا رہا ہے۔
473 ۔ یعنی میں خدائے پروردگار عالم پر اسلام لے آیا، یہاں گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اشارۃ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
آیت نمبر 130 تا 136
ترجمہ : اور کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو بےرغبتی کرے ملت ابراہیمی سے کہ اس کو ترک کر دے مگر وہی جس نے اپنے آپ کو بیوقوف بنا لیا (یعنی بیوقوف محض ہو) (اور) اس بات سے ناواقف ہو کہ وہ اللہ کی مخلوق ہے، اور یہ کہ اس پر اللہ کی عبادت واجب ہے، یا یہ معنی ہیں کہ اس نے اپنے نفس کی تحقیر کی ہے، اور اس کو ذلیل کر رکھا ہے، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی رسالت اور دوستی کے لئے منتخب کرلیا ہے، اور بلاشبہ وہ آکرت میں بھی ان صالحین میں ہوگا جن کے لئے مراتب عالیہ ہیں اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب اس سے اس کے رب نے کہا سرتسلیم خم کر دے یعنی اللہ کا فرمانبردار ہوجا اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر،…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ ( جب ان سے کہا ان کے پروردگار نے حکم بردار بن جا) عطا نے فرمایا ہے کہ اَسْلِمْ کے یہ معنی ہیں کہ اپنے تمام کام اور نفس حق تعالیٰ کو سونپ دو اور کلبی نے اَسْلِمْ کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اپنے دین اور عبادت کو اخلاص کی زینت سے مزین کرو ابن عباس ؓ نے کہا یہ خطاب اس وقت فرمایا تھا جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) غار سے نکلے تھے : اذ قالا یا تو اصْطَفَیْنَا کے متعلق اور اس کی علت ہے اور یا بتقدیر اذکر منصوب ہے صورت اخیرہ میں حاصل یہ ہوگا کہ اس وقت کو یاد کرو جب حق تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا ” تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارا برگزیدہ بندہ…
Read the full tafseer →(131) جب حضرت ابراہیم ؑ سرنگ سے نکلے تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اپنے قول کو لوٹاؤ اور لاالہ الا اللہ“۔ پڑھو چناچہ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میں نے اپنی تمام باتوں کو اس ذات وحدہ لاشریک کی طرف موڑ دیا ہے جو کہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اپنے دین اور عمل کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرلو، حضرت ابراہیم ؑ نے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا تابع و فرمانبردار ہوگیا اور اپنے دین و عمل سب ہی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرلیا۔
اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں…
Read the full tafseer →”اَسْلَمَ یُسْلِمُ“ کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی کے سپرد کردینا اور وہی کرنا جو وہ کہے۔ ابراہیم ؑ نے اللہ کے لیے اپنے مسلم ہونے کا اقرار کیا اور وجہ بھی ذکر فرمائی کہ رب العالمین ہونے کی وجہ سے یہ حق ہی اسی کا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 131
اذکا عامل اصطفینٰه کا قول ہے۔ یہ قول اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا جب اللہ تعالیٰ نے ان کی ستارے، چاند اور سورج سے آزمائش کی۔ ابن کیسان اور کلبی نے فرمایا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ اپنے دین کو خالص کر۔ بعض نے فرمایا : اسلم کا معنی ہے خضوع وخشوع کر۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ییہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس وقت فرمایا : جب آپ سرنگ سے نکلے تھے۔ جیسا کہ سورة الانعام میں اس کا ذکر آئے گا۔ اسلام یہاں تمام وجوہ کے ساتھ ہے۔ کلام عرب میں اسلام کا معنی خضوع اور انقیاد ہے۔ پر اسلام، ایمان نہیں ہے اور ایمان، اسلام ہے کیونکہ جو اللہ پر ایمان لایا اس نے اللہ…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 127 کا بقیہ حاشیہ )
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کا طواف کیا
(61) الازرقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائی تو ان کے سر پر سبز پٹی بندھی ہوئی اور اس کے اوپر غبار تھا رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا یہ کیا غبار ہے جس کو میں تیری پٹی پر دیکھتا ہوں انہوں نے عرض کیا میں نے بیت اللہ کی زیارت کی تو رکن پر فرشتوں کا ہجوم تھا اور یہ غبار جو آپ دیکھ رہے یہ اس غبار میں سے ہے جو ان کے پروں سے اڑ رہا تھا۔
(62) الازرقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) نے حج کیا اور حج کے احکام ادا کئے جب حج کرچکے تو عرض کیا اے اللہ !…
Read the full tafseer →(اِذْ قَالَ : جب کہا ) (لَــہٗ : اس سے ) (رَبُّــہٗ : اس کے رب نے ) (اَسْلِمْ : تو فرمانبردار ہو) ( قَالَ : (تو) اس نے کہا) (اَسْلَمْتُ : میں فرماں بردار ہوا) (لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں کے رب کے لئے)
ترکیب : ” اِذْ “ یا تو ” اصْطَفَیْنٰــہُ “ کا ظرف ہے ‘ یا ” فِی الدُّنْیَا “ سے بدل ہے ‘ یا اس سے پہلے ” اُذْکُرْ “ فعل محذوف ہے۔ ” اِذْ قَالَ “ میں ” قَالَ “ کا فاعل ” رَبُّــــہٗ “ ہے۔ اس میں ” ہُ “ کی ضمیر اور ” لَــہٗ “ کی ضمیر ‘ دونوں حضرت ابراہیم کے لئے ہیں ‘ جن کا ذکر گزشتہ آیت میں آیا ہے۔ ” اَسْلِمْ “ کے بعد ” قَالَ “ کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے اور یہ بھی حضرت…
Read the full tafseer →اسلام کا معنی اور مفہوم :
پھر فرمایا : (اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (یعنی جب ان کے رب نے ان سے کہا کہ فرمانبر دار ہوجا تو انہوں نے عرض کیا میں رب العالمین کا فرمانبر دار ہوں) ۔
لفظ اسلام کا مادہ سین۔ لام۔ میم ہے۔ جب یہ مادہ باب افعال میں مستعمل ہوتا ہے تو حکم ماننے فرمانبرداری کرنے اور حکم کے سامنے جھک جانے اور ظاہر و باطن سے فرمانبر دار ہوجانے پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا صیغہ اسم فاعل مسلم ہے جس کی جمع مسلمون اور مسلمین ہے۔ اللہ جل شانہ خالق اور مالک ہیں سب اس کے بندے ہیں۔ بندہ اپنے خالق کا فرمانبر دار ہو اس سے بڑھ کر اس کی کوئی سعادت نہیں ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
دعاء ابراہیمی برائے وجود امت مسلمہ وقوم مسلمانان و ظہور رسول محترم از ساکنان حرم کہ صاحب قرآن و خاتم پیغمبراں باشد
قال تعالیٰ ۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک۔۔۔ الی۔۔۔ انک انت العزیز الحکیم
(ربط) ان دونوں بزرگوں نے اپنی فراست صادقہ اور نور نبوت سے یہ سمجھا کہ جب ہم کو ایسے خانہ تجلی آشیانہ کی تعمیر کا حکم ہوا ہے تو لا محالہ اس کے ہمرنگ کسی ایسی عبادت کا بھی حکم ہونے والا ہے جو عشق اور محبت کا رنگ لیے ہوئے ہو۔ اور ان عبادتوں کا بجا لانے والا صورۃً اگرچہ انسان ہوگا مگر معنیً ہمرنگ ملائک ہوگا گویا کہ دربار خداوندی کا معاینہ اور مشاہدہ کر رہا ہے اور جس امت کے لیے اس گھر کو قبلہ بنایا جائے گا اس کو ایسے…
Read the full tafseer →250 اِذْ کا عامل اِصْطَفَیْنَا ہے۔ اَسْلِمْ ، اِسْلَام مصدر سے ہے۔ جس کے معنی تفویض اور حوالے کرنے کے ہیں جیسے اسلم وجھہہ یہاں بھی اس لفظ کا معنی یہی ہے یعنی اپنے اپ کو خدا کے حوالے کردے اور بالکل اسی کا ہوجا۔ اسی سے امیدیں وابستہ رکھ، اسی سے مانگ، اسی کو پکار اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ معناہ اسلم نفسک الی اللہ تعالیٰ وفوض امرک الیہ (خازن ص 97 ج 1) بعض نے اس کے معنی اخلاص کے لیے ہیں یعنی خالص اللہ کی عبادت کر اور اس کی عبادت کسی کو شریک نہ کر اور اپنی عبادت کو شرک سے بچا کر رکھ۔ اخلص دینک وعبادتک للہ واجعلھا سلیمۃ (خازن ص 96 ج 1) قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
گذشتہ سے پیوستہ :
اللہ تعالیٰ نے پہلے بیت اللہ شریف کی بنیاد اور اس کی تعمیر کا ذکر فرمایا اور پھر اسی ضمن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر تھا دعا میں سب سے پہلے عمل کی قبولیت اور پھر اطاعت اور فرمانبرداری کی توفیق طلب کی گئی تھی اس کے بعد دونوں باپ بیٹے کی اولاد میں سے امت مسلمہ کے قیام اور پھر ان میں سے ایک عظیم الشان رسول کی بعثت کی دعا تھی اور پھر ان فرائض کا ذکر تھا جو آخری رسول انجام دے گا ،
یہاں پر مرکزی نکتہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت ہی ہے کیونکہ اہل کتاب آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے ، یہ مرکزی مضمون آگے دور تک جائے گا ابتداء میں حضرت خلیل (علیہ…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ 0 ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 131
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ترکیب : ومن استفہام انکاری مبتداء یرغب عن ملۃ ابراھیم جملہ اس کی خبر الامن میں من محلاً منصوب ہے بجہت استثناء کے اور ممکن ہے کہ مرفوع ہو ضمیر یرغب سے بدل ہو کر پس یہ موصولہ ہے اور سفہ فعل ضمیر ہو مستتر اس کا فاعل نفسہ مفعول یہ جملہ صلہ فی الآخرۃ متعلق ہے صالحین سے اذظرف ہے اصطفینا کا اور اس کی علت ہے یا منصوب ہے با ضمارا ذکر وصی فعل بہا ای بالملۃ ابراہیم فاعل بنیہ مفعول ویعقوب معطوف ہے ابراہیم پر ای و وصی یعقوب بنیہ یا بنی الخ یہ جملہ بیان ہے اس وصیت کا وانتم مسلمون حال ہے فلا تموتن سے والتقدیر لا تفارقو الاسلام حتی تموتو او انتم مسلمون۔
تفسیر : یعنی تم جو امور مذکورئہ بالا کا انکار کرتے ہو…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ لا قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (البقرۃ : 131)
(اور وہ وقت یاد کرو ! جب حضرت ابراہیم کو ان کے پروردگار نے فرمایا، اسلام لے آئو (سب کچھ سپرد کردو) ، حضرت ابراہیم نے کہا میں نے اپنے آپ کو پروردگارِ عالم کے سپرد کردیا)
اسلام کا مفہوم
اَسْلِمَ کا معنی ہے ” اسلام لے آ “ اور اسلام کا معنی ہے ” سپرد کردینا، حوالہ کردینا “۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان حقیقت میں یہی رشتہ ہے۔ اس میں کمی اور کمزوری گمراہی ہے اور اس سے اعراض اور انحراف کفر ہے۔ اسی رشتے کو پختہ کرتے چلے جانا اور اس کی نزاکتوں کو سمجھ کر سرتاپا تسلیم وانقیاد بن جانا، اس تعلق کی معراج ہے اور یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقیدے کی وضاحت ان کو بیت اللہ کا بانی ثابت کرنا ان کا اہل مکہ سے خصوصی تعلق اور نبی کریم کی نبوت کے بارے میں واضح ثبوت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی جارہی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو بھی اسی عقیدے کی وصیت فرمائی تھی جس کی دعوت نبی آخر الزمان ﷺ پیش کررہے ہیں۔ جو شخص ابراہیم (علیہ السلام) کے عقیدہ اور ان حقائق کو نہیں مانتا اس کی حماقت میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور اطاعت گزاریاں ‘ قربانیاں ‘ دعائیں بالخصوص یہ التجا جس میں نبی آخر الزماں کی بعثت کی آرزو کی گئی ہے ان سے وہی شخص اعراض…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 131:
اِذْ قَالَ : (جب کہا) نحو۔ نمبر 1۔ یہ اصطفیناہ کا ظرف ہے۔
نمبر 2۔ یا اذکر مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ اس وقت کو یاد کرو تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے وہی منتخب و صالح ہیں۔ کہ جن کی ملت قابل اعراض نہیں۔
لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ : (ان کو ان کے رب نے تو فرمانبردارہو جا) یقین کر یا اطاعت کر یا اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر۔
قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ : (کہا میں نے اپنے تمام کاموں کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کیا۔ میں خالص ہوا میں نے خالص کیا۔ یا میں مطیع ہوا۔
Read the full tafseer →131۔ (آیت)” اذ قال لہ ربہ اسلم “ یعنی اسلام پر مستقیم رہ اور اسی پر ثابت قدم رہ کیونکہ وہ تو پہلے سے مسلم تھے تو رب اسلم کا یہ معنی نہ ہوگا کہ اسلام لا بلکہ معنی ہوگا اسلام پر قائم اور گامزن ثابت قدم رہ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اس وقت فرمایا ۔
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) غار سے نکلے حضرت کلبی (رح) فرماتے ہیں اسلم کا معنی ہے کہ اپنے دین اور عبادات کو خالصتا اللہ تعالیٰ کے لیے کیجئے حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیجئے اور اپنے معاملات اسی کے حوالہ کیجئے (آیت)” قال اسلمت لرب العالمین “ یعنی میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
(130 ۔ 132) ۔ سورة نحل میں آئے گا { وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } جس کا مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیمی میں پوری توحید تھی اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اہل مکہ کا حال یہود و نصاریٰ کا سا ہرگز نہیں تھا کیوں کہ اہل مکہ تو صریح صریح بت پرست ہیں اور اہل کتاب نے بھی طرح طرح کی شرک اور بدعت کی باتیں نکال رکھی ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) تو ابتدائے عمر سے شرک سے بیزار رہے اس شرک کی بیزاری کے سبب سے انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو چھوڑ دیا اور صاف کہہ دیا { اِنِّیْ بَرِیٌ مِمَّا تُشْرِکُوْنَ } (6۔ 78) جس کا پورا قصہ سورة انعام میں آئے گا۔ غرض شرک میں مبتلا ہو کر جو یہ لوگ اپنے آپ کو ملت…
Read the full tafseer →(اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ ) ” اور جب انہیں ان کے رب نے کہا مطیع ہوجاؤ “ یعنی (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے نہایت فرمانبرداری سے عرض کی : ( اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں۔
پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنادیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور سنل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–133
دادا کی میراث
قول باری ہے : ام کنتم شھدآء اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیہ ما تعبدون من بعدی قالوا نعبد الھلک والہ والہ آبآئک ابراھیم و اسمعیل فراسحق الھا واحدا (پھر کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا ؟ اس نے وفات کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچا۔ بچو، میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟ ان سب نے جواب دیا : ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگ ابراہیم، اسمعیل اور اسحاق نے مانا ہے) یہاں دادا اور چچا کو باپ کا نام دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا : واتبعت ملۃ ابائی ابراھیم و اسحق ویعقوبا میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم،…
Read the full tafseer →365 حضرت ابراہیم کی شان تسلیم و رضا کا ایک مظہر و نمونہ : کہ جب ان سے ان کے رب نے فرمایا کہ تم فرمانبردار ہوجاؤ تو حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو سپرد کردیا پروردگار عالم کے۔ پس میرا جسم و جان سب کچھ میرے خالق ومالک کے حوالے ہے جس نے مجھے وجود بخشا اور ہر طرح کی عنایات سے نوازا اور سرفراز فرمایا۔ اور یہی مدعا و مفہوم ہے اسلام کا کہ اس کے لغوی معنی آتے ہیں " سپردن " یعنی حوالے کردینا۔ سو یہیں سے ملت ابراہیمی کی تعیین و تشریح بھی ہوگئی کہ اس سے مراد اسلام ہی ہے جو کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کا پسندیدہ، پاکیزہ اور ایک ہی دین حق ہے۔ اور تمام انبیاء اور رسل ۔ علیھم الصلوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
احمق کی نشانی، دین ابراہیم (علیہ السلام) سے انحراف
تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اخلاقی اور روحانی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم انتہائی نیک اچھے اور مکمل انسان تھے اسی طرح جو اچھی تعلیمات، اچھے اخلاق، اچھے کردار اور اچھے دین کی انہوں نے دعوت دی ہے وہ ہر نیک، اچھا اور مکمل انسان فوراً قبول کرلیتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو احمق، ہٹ دھرم اور انتہائی نافرمان ہیں۔ یہ اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے ان کو بتایا جارہا ہے کہ جس جلیل القدر پیغمبر کو وہ اپنا پیشوا مانتے ہیں ان کا دین یہی تھا جو آنحضرت ﷺ پیش کر رہے ہیں ان کی تعلیمات بھی وہی ہیں اس لئے ان پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
آیات 130- 141
اسرارو معارف
حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔
ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ف 1 یہاں الدین " سے ملت اسلام مراد ہے جیسا کہ آیت کے خاتمہ میں صراحت ہے اس آیت میں دین اسلام یا توحید پر سختی سے کار بند رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ خاتمہ بھی اسی پر ہو۔ (فتح القدیر) اس حالت پر موت گر انسان کے اختیار کی چیز نہیں ہے کہ کو ن کہ نیک خاتمہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے عموم ہوتا یہ ہے کہ انسان اپنے دل لگاؤ کے ساتھ راستہ بھی اختیار کرلیتا ہے موت بھی اسی حالت پر ہوتی ہے کیونکہ اللہ کریم کی سنت یہی ہے کہ انسان نیک یا بد جو راستہ بھی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کی توفیق دیدی جاتی ہے۔ ( دیکھئے آیت اللیل 5؛10) ( ابن کثیر تبصرف) ان آیات میں بھی یہود و نصاری اور مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →(2:131) اسلم۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، اسلام (افعال) مصدر سے۔ تو حکم برداری کر۔ شریعت میں اسلام کی دو قسمیں ہیں۔
(1) ایک وہ جس سے انسان کی جان و مال محفوظ ہوجائے۔ یعنی اسلام کا صرف زبان سے اقرار خواہ دل سے اعتقاد ہو یا نہ ہو۔ اس کا درجہ ایمان سے نیچے ہے۔ اس معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے ۔ قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلما (49:14) کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے ۔ تو کہہ کہ تم ایمان نہیں لائے، پر کہو کہ ہم مسلمان ہوئے۔
(2) دوسرے وہ کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ دل سے بھی اعتقاد ہو۔ عمل سے پورا کرے۔ اور قضا، وقدر الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔ آیت ہذا (2:131) میں یہی اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–141
لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141
یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
بخشش اعمال سے ہے نہ کہ نسب سے شان نزول : شرک میں مبتلا ہو کر جو لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیروکار بتاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ یہ لوگ ملت ابراہیمی پر تو کسی طرح نہیں ہو سکتے بلکہ یہ لوگ تو ملت ابراہیمی کے مخالف اور اس سے پھرے ہوئے ہیں ، تو یہ ان کی کم عقلی اور بیوقوفی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین و دنیا میں عالی مرتبہ ہونے کا، اور انہوں نے اپنی اولاد کو توحید پر مرتے دم تک قائم رہنے کی جو وصیت کی تھی اس کا ذکر فرمایا ۔ تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فرمابرداری اور وصیت کے مخالف ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–139
[84] یعنی اپنے عقائد اور اپنی عبادت میں ہر طرف سے پاک صاف۔
Read the full tafseer →(ف 3) ان آیات میں یہ بتایا ہے حضرت ابراہیم کس قدر سلیم الفطرت تھے ، صحیح بات مانتے ہیں انہیں کبھی تامل نہیں ہوا ، خدا نے جب انہیں اسلام و توحید کی دعوت دی تو ابراہیم فورا اسلمت پکار اٹھے اور اس کے بعد ساری زندگی تسلیم و رضا کی زندگی ہے ۔ خواب میں بھی دیکھ پایا کہ خدا کی راہ میں بچے کی قربانی ضروری ہے ۔ تو آمادہ ہوگئے اور بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی ، قوم نے جب مخالفت کی اور حرقوہ کی صدائیں چاروں طرف سے آنے لگیں اس وقت آپ ڈرے نہیں تسلیم و رضا کا پیکر بنے ہوئے آگ میں کود پڑے ۔
حل لغات :
الحکمۃ : دانائی کی بات ، اسوہ رسول
ویزکیھم : مصدر تزکیہ ، پاک کرنا ، دلوں اور دماغوں میں لطافت و نزاکت پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
ف 2 اور کون شخص ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور اس کے دین کو قبول کرنے اور اختیار کرنے سے روگردانی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرے مگر ہاں وہی شخص رو گردانی کرے گا جو اپنی ذات ہی سے بیخبر ہو یعنی ایسا احمق ہو جو اپنے آپے کو بھی نہ سمجھتا ہو اور اس کو خود اپنی بھی معرفت حاصل نہ ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس ملت کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا تھا اور اس کو برگذیدہ کیا تھا اور اسی ملت کی وجہ سے وہ آخرت میں بھی زمرئہ صاحلین اور نیک و شائستہ لوگوں میں سے ہے جس وقت اس کے رب نے اس کو القا اور الہام کے طور پر فرمایا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! تو اطاعت و فرمانبرداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
ف 4۔ جس جماعت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ صرف بنی اسماعیل ہیں جن میں جناب رسول اللہ مبعوث ہوئے۔ پس جہاں جن پیغمبر کے لیے دعا ہے اس سے مراد صرف آپ ہوئے کیونکہ یہ دعا دونوں صاحبوں نے کی ہے تو وہی جماعت مراد ہوسکتی ہے جو دونوں کی اولاد ہو اور پیغمبر کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ اس جماعت سے ہوں تو جماعت بنی اسماعیل میں سے ہیں اس لیے حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ظہور ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
ملت ِابراہیمی سے منہ موڑنے والا کبھی عقلمند نہیں ہو سکتا :
242: مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ پیچھے آپ نے پڑھا ہے وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ ہے آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ ملت ابراہیمی تو عین دین فطرت ہے اس کی تعلیمات عین طبع سلیم کی ترجمان ہیں ، ظاہر ہے کہ پھر اس سے کنارہ کشی تو صرف وہی اختیار کرسکتا ہے جس کی فطرت ہی سلیم نہ رہی ہو بلکہ مسخ ہوچکی ہو۔ اس مقدمہ کی تصدیق انسان جو چاہے اعتقاد سے نہیں آزمائش سے کرے۔ اسلام نے جماعت یعنی سوسائٹی کا جو نظام قائم کیا ہے وہی بہترین نظام جماعتی ہے ہر فرد کے لئے جو ضابطہ و عمل بنادیا ہے وہی بہترین ضابطہ شخصی ہے عقل و جذبات ، فرد و جماعت دل ، جسم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
Verse 131 defines the basic principle of the religion of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . Allah asked him to submit himself, and he willingly and gladly agreed to submit himself to "the Lord of the worlds." Let us add that the word of command employed in this verse is Aslim اَسلِم ، which comes from the same root as the word Islam. It is difficult to find an exact English equivalent, for the word signifies "to obey, to submit oneself, to surrender one's will." Anyhow, we should notice that in reply to the divine command, he did not say, as one would have expected, اَسلَمتُ لَک : "I submit…
Read the full tafseer →130. 'Muslim' signifies he who bows in obedience to God, who acknowledges God alone as his Sovereign, Lord and Master, and the only object of worship, devotion and service, who unreservedly surrenders himself to God and undertakes to live his life in accordance with the guidance that has come down from Him. Islam is the appellation which characterizes the above -mentioned belief and outlook which constitutes the core and kernel of the religion of all the Prophets who have appeared from time to time among different peoples and in different countries since the very beginning of human life.
Read the full tafseer →