An-Nahl 16:97

An-Nahl · from ayah 97

16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً ۚ— وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌ ۚ وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whoever does righteousness, whether male or female, while he is a believer - We will surely cause him to live a good life, and We will surely give them their reward [in the Hereafter] according to the best of what they used to do.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 13 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:97

جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا نیگ (اجر) دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو شخص بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو کوئی نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، وہ ایمان پر ہے، تو ہم اس کو ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ہم ان کو جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا بہتر صلہ دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو بھی کوئی نیک کام کریگا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ ایمان رکھتا ہو، تو ہم اسے (دنیا میں) ضرور ایک پاکیزہ زندگی سے نوازینگے اور (قیامت کے روز) ہم ایسے لوگوں کو ضرور ان کا اجر عطا کریں گے ان کے ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

نیک عمل جو کوئی بھی کرے گا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو تو ہم اسے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔ اور ہم انہیں ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ضرور اجر دیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس کسی نے بھی نیک عمل کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ہو وہ مؤمن تو ہم اسے (دُنیا میں) ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ہم انہیں ضرور دیں گے ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اس کو دنیا میں پاک اور آرام کی زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے نیک اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whosoever acts righteously - whether a man or a woman - and embraces belief, We will surely grant him a good life; and will surely grant such persons their reward according to the best of their deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever, male or female, has acted righteously, while being a believer, We shall certainly make him live a good life, and shall give such people their reward for the best of what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever, male or female, has acted righteously, while being a believer, We shall certainly make him live a good life, and shall give such people their reward for the best of what they used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whoever does righteous deeds - whether male or female - while he (or she) is a believer; then We will certainly give them a good life, and We will certainly grant them their rewards in proportion to the best of what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whosoever doeth right, whether male or female, and is a believer, him verily we shall quicken with good life, and We shall pay them a recompense in proportion to the best of what they used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whoever does righteousness, whether male or female, while he is a believer - We will surely cause him to live a good life, and We will surely give them their reward [in the Hereafter] according to the best of what they used to do.

— Saheeh International

All righteously believing male or female will be granted a blessed happy life and will receive their due reward and more.

— Muhammad Sarwar

Whoever does good whether male or female and he is a believer, We will most certainly make him live a happy life, and We will most certainly give them their reward for the best of what they did.

— Muhammad Habib Shakir

Whosoever worketh righteously, male or female, and is a believer, We will surely quicken him to a clean life, and will surely recompense them their hire for the best of that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

Whoever works righteousness, man or woman, and has Faith, verily, to him will We give a new Life, a life that is good and pure and We will bestow on such their reward according to the best of their actions.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:97

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کتاب و سنت کے فرماں بردار اللہ تبارک و تعالیٰ جل شانہ اپنے ان بندوں سے جو اپنے دل میں اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر ایمان کامل رکھیں اور کتاب و سنت کی تابعداری کے ماتحت نیک اعمال کریں، وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں دنیا میں بھی بہترین اور پاکیزہ زندگی عطا فرمائے گا۔ عمدگی سے ان کی عمر بسر ہوگی، خواہ وہ مرد ہوں، خواہ عورتیں ہوں، ساتھ ہی انہیں اپنے پاس دار آخرت میں بھی ان کی نیک اعمالیوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ دنیا میں پاک اور حلال روزی، قناعت، خوش نفسی، سعادت، پاکیزگی، عبادت کا لطف، اطاعت کا مزہ، دل کی ٹھنڈک، سینے کی کشادگی، سب ہی کچھ اللہ کی طرف سے ایماندار نیک عامل کو عطا ہوتی ہے۔ چناچہ مسند…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 99 اس آیت میں مسلم اور کافر دونوں ہی گروہوں کے ان تمام کم نظر اور بےصبر لوگوں کی غلط فہمی دور کی گئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سچائی اور دیانت اور پرہیزگاری کی روش اختیار کرنے سے آدمی کی آخرت چاہے بن جاتی ہو مگر اس کی دنیا ضرور بگڑ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔ اس صحیح رویہ سے محض آخرت ہی نہیں بنتی، دنیا بھی بنتی ہے۔ جو لوگ حقیقت میں ایماندار اور پاکباز اور معاملہ کے کھرے ہوتے ہیں ان کی دنیوی زندگی بھی بےایمان اور بد عمل لوگوں کے مقابلہ میں صریحا بہتر رہتی ہے۔ جو ساکھ اور سچی عزت اپنی بےداغ سیرت کی وجہ سے انہیں نصیب ہوتی ہے وہ دوسروں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اس سے پہلی آیات میں ایفاء عہد کی تاکید اور عہد شکنی کی مذمت کا بیان تھا جو ایک خاص عمل ہے اس آیت میں تمام اعمال صالحہ اور عاملین صالحین کا عمومی بیان ہے مضمون آیت کا یہ ہے کہ آخرت کا اجر وثواب اور دنیا کی برکات صرف ایفائے عہد میں منحصر نہیں اور نہ کسی عامل کی تخصیص ہے بلکہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ) جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو (کیونکہ کافر کے اعمال صالحہ مقبول نہیں) تو ہم اس شخص کو (دنیا میں تو) بالطف زندگی دیں گے اور (آخرت میں) ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ان کا اجر دیں گے۔ معارف و مسائل حیات طیبہ کیا چیز ہے ؟ جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ یہ اسی بشارت کی تفصیل ہے، فرمایا کہ جو کوئی نیک عمل کرے گا، عام اس سے کہ وہ مرد ہے یا عورت، اگر وہ ایمان پر قائم ہے تو ہم اس کو اچھی اور پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا بہترین صلہ دیں گے۔ اچھی اور پاکیزہ زندگی بسر کرانے کا یہ وعدہ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے ہے۔ جو لوگ ایمان پر قائم رہنے اور عمل صالح کی زندگی بسر کرنے کا عزم کرلیتے ہیں ان کو آزمائشیں تو پیش آتی ہیں۔ شیاطین جن و انس ان کو ستانے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

97۔ 1 حیات طیبہ (بہتر زندگی) سے مراد دنیا کی زندگی ہے، اس لئے آخرت کی زندگی کا ذکر اگلے جملے میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک مومن باکردار کو صالحانہ اور متقیانہ زندگی گزارنے اور اللہ کی عبادت و اطاعت اور زہد و قناعت میں جو لذت و حلاوت محسوس ہوتی ہے، وہ ایک کافر اور نافرمان کو دنیا بھر کی آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود میسر نہیں آتی، بلکہ وہ ایک طرح کی بےچینی و اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ " ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا " جس نے میری یاد سے اعراض کیا اس کا گزران تنگی والا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 96–97

42: پہلے کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں ”صبر“ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اپنی نفسانی خواہشات کو دبا کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کو بھی صبر کہا جاتا ہے، اور کسی تکلیف کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی شکایت نہ کی جائے تو وہ بھی صبر ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

چناچہ اس آیت سے درج ذیل اصول وضع ہوتے ہیں : (1) جزاء و سزا میں انسان کے دونوں جنس مرد اور عورت ایک ہی حکم رکھتے ہیں۔ دونوں اس معاملے میں بالکل مساوی ہیں اور دونوں کی سزا وجزاء برابر ہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لفظ (من) اگرچہ مرد اور عورت دونوں کے لئے آتا ہے لیکن من ذکر اونثی (61 : 79) ” کا لفظ زیادہ تاکید اور وضاحت کے لئے اضافہ کردیا۔ اس سورة میں اس لفظ کو بالخصوص اس لئے بھی لایا گیا کہ اس میں عورت کے بارے میں اہل جاہلیت کے برے خیالات کی تردید بھی کی گئی تھی۔ مثلاً یہ کہ عورتوں کے بارے میں اس سوسائٹی کی رائے اچھی نہ تھی اور جس شخص کو یہ خبر ملتی کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 اوپر کی آیت میں صابرین اور ایفائے عہد کرنے والوں کے اجر کا ذکر تھا۔ یہاں تمام اعمال صالحہ کے متعلق عام ضابطہ بیان فرماتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ جو کوئی مرد یا عورت نیک کاموں کی عادت رکھے، بشرطیکہ وہ کام صرف صورۃً نہیں بلکہ حقیقتہً نیک ہوں۔ یعنی ایمان اور معرفت صحیحہ کی روح اپنے اندر رکھتے ہوں تو ہم اس کو ضرور پاک، ستھری اور مزیدار زندگی عنایت کریں گے۔ مثلاً دنیا میں حلال روزی، قناعت و غنائے قلبی، سکون و طمانیت، ذکر اللہ کی لذت، حب الٰہی کا مزہ، ادائے فرض عبودیت کی خوشی، کامیاب مستقبل کا تصور، تعلق مع اللہ کی حلاوت جس کا ذائقہ چکھ کر ایک عارف نے کہا تھا۔ چوں چتر سنجری رخ بختم سیاہ باد در دل اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 97 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ایسے لوگ بیشک دنیا میں روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کریں مگر انہیں سکون قلب کی دولت نصیب ہوگی ان لوگوں کے دل غنی ہوں گے کیونکہ حضور کا فرمان ہے : اَلْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ کہ اصل امیری تو دل کی امیری ہے۔ اگر انسان کا دل غنی ہے تو انسان واقعتا غنی ہے اور اگر ڈھیروں دولت پا کر بھی دل لالچ کے پھندے میں گرفتار ہے تو ایسا شخص دراصل غنی یا امیر نہیں فقیر ہے۔ چناچہ نیکو کار انسانوں کو دنیوی زندگی میں ہی غنا اور سکون قلب کی نعمت سے نوازا جائے گا کیونکہ یہ نعمت تو ثمرہ ہے اللہ کی یاد کا : اَلاَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

101 پاکیزہ زندگی کیسے حاصل ہوتی ہے ؟:۔ اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ اگرچہ تقسیم کار کی بنا پر مرد کو اس دنیا میں عورت پر فوقیت حاصل ہے مگر اخروی اجر کے لحاظ سے دونوں کا مرتبہ یکساں ہے۔ وہاں معیار صرف ایمان اور نیک اعمال ہوں گے۔ اگر اس معیار کے مطابق عورت مرد سے فائق ہوگی تو اسے یقیناً مردوں سے بہتر درجہ بھی مل سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے سے مومن کی دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی۔ اور یہ جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ایک ایماندار، دیانتدار اور را ستباز انسان کو آخرت میں تو ضرور اجر ملے گا مگر وہ دنیا میں نقصان میں ہی رہتا ہے۔ یہ خیال سراسر غلط ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

156۔ (اسی دنیا میں، جیسا کہ انبیاء ومومنین، متقین کی پاکیزہ زندگیاں خود اس پر گواہ ہیں) (آیت) ” من ذکر اوانثی “۔ اس تصریح نے اس حقیقت کو ایک بار پھر روشن کردیا کہ اجراعمال کے لحاظ سے عورت اسلام کی نظر میں مرد سے کم نہیں، اس کے مساوی ہے، اور مشرک قوموں نے عورت کو حق تعالیٰ کی نظر میں جو ایک پست و حقیر مخلوق ٹھیرایا ہے، اس کی پوری تردید ہوگئی۔ یہ تو ماضی کا قصہ تھا، لیکن کیا عجب ہے کہ جاہلیت جدید کسی دنیا کو اس عقیدہ کی جانب بھی لے جائے کہ نظام فطرت میں عورت نہیں عورت نہیں بلکہ مرد پست و حقیر ہے، تو قرآن مجید کی یہ آیت اس وہم کی تردید کے لئے بھی کافی ہوگی ،۔ (آیت) ” وھو مومن “۔ یہ ایمان تو پہلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–100

آیت نمبر 90 تا 100 ترجمہ : بلا شبہ اللہ تعالیٰ عدل (یعنی) توحید یا انصاف اور احسان (یعنی) اداء فرائض کا یا (اس طرح) عبادت کرنے کا گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اہتمام کرنے کی وجہ سے خاص طور پر قرابتداروں کا ذکر کیا ہے حالانکہ احسان کے عموم میں وہ بھی داخل ہیں حکم دیتا ہے اور (اللہ) فحش یعنی زنا اور شرعًا منکرات سے مثلاً کفر و معاصی، اور لوگوں پر ظلم کرنے سے منع کرتا ہے (ممانعت ظلم کو اہتمام کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ تو نھی عن الفحش میں ظلم بھی داخل ہے) امرو نہی کی تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو، (تذکرون) میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من عمل صالحا من ذکر او انثی وھو مؤمن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ جو شخص کوئی نیک کام کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ صاحب ایمان ہو تو ہم اس شخص کو (دنیا میں) بالطف زندگی عطا کریں گے۔ ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون اور آخرت میں ان کے اچھے کاموں کے عوض ان کا اجر عطا کریں گے۔ وَھُوَ مُؤْمِنٌ بشرطیکہ وہ مؤمن ہو۔ ایمان کی شرط اسلئے لگائی کہ کافر کسی ثواب کے مستحق نہیں ‘ خواہ کیسے ہی اچھے اعمال کریں۔ زیادہ سے زیادہ عذاب کی تخفیف کی امید کی جاسکتی ہے ‘ کیونکہ اللہ کے نزدیک ثواب کا مدار خلوص اور حسن نیت پر ہے (یعنی محض خوشنودئ خدا کیلئے ہونا ضروری ہے) اور کافروں کی نیکیوں میں یہ چیز مفقود…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(97) اور جو شخص بھی خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی اچھا کام کرے گا اور اللہ تعالیٰ پر یقین قائم رکھے گا، بشرطیکہ مومن مخلص ہو تو ہم اس کو لطف والی زندگی دیں گے یعنی طاعت میں یا قناعت میں یا یہ کہ جنت میں اور ان کے دنیاوی اچھے کاموں کے بدلہ ان کو آخرت میں ثواب دیں گے، یہ آیت مبارکہ عبدان بالاشوع اور امرء القیس کندگی کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان دونوں میں ایک زمین کا جھگڑا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى : لفظ ”مَنْ“ (جو بھی) میں مرد اور عورت دونوں آجاتے ہیں، مگر پھر دونوں کا خاص الگ الگ ذکر فرمایا، تاکہ نہ عورتیں اپنے آپ کو کمتر یا محروم سمجھیں، نہ کوئی اور انھیں ایسا خیال کرے۔ اسلام کے سوا کہیں عورت کو یہ عزت نہیں ملی۔ حَيٰوةً طَيِّبَةً : پاکیزہ زندگی میں حلال روزی، قناعت (اللہ نے جس حال میں رکھا ہے اسی پر خوش رہنا) ، سچی عزت، سکون و اطمینان، دل کا غنی ہونا، اللہ کی محبت، ایمان کی لذت سبھی چیزیں شامل ہیں، جو ایمان اور عمل صالح کی بدولت نصیب ہوتی ہیں، ایمان یا عمل صالح یا دونوں سے محروم لوگوں کو یہ چیزیں کبھی حاصل نہیں ہوتیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 97 قولہ تعالیٰ : من عمل صالحا من ذکر اوانثی وھو مؤمن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ یہ شرط اور جواب شرط ہے۔ اور حیات طیبہ کے بارے میں پانچ قول ہیں : (1) اس سے مراد رزق حلال ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، عطا اور ضحاک رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ (2) اس سے مراد قناعت ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری، زید بن وہب اور وہب بن منبہ نے کہا ہے، اور اسے حکم نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، اور یہی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے۔ (3) اس کا طاعات (و عبادات) کی توفیق دینا ہے کیونکہ یہ اعمال اسے اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچا دیتے ہیں ؛ یہ معنی ضحاک نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے : جس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس (آیت) ” من عمل صالح من ذکر اونثی وھو مومن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” الحیاۃ الطیبۃ “ سے مراد ہے اس دنیا کی زندگی میں حلال رزق عطا کیا جاتا ہے اور جب وہ اپنے رب کے پاس حاضر ہوگا تو اس کو اپنے عمل کا اچھا بدلہ ملے گا۔ (آیت) ” من عمل صالح من ذکر اونثی وھو مومن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ ولنجزینہم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون (97) “ 2:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” الحیاۃ الطیبہ “ سے مراد ہے اس دنیا کی زندگی میں رزق حلال اور جب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَنْ : جس نے ] [ عَمِلَ : عمل کیا ] [ صَالِحًا : کوئی نیک (عمل)] [ مِّنْ ذَكَرٍ : کسی مرد میں سے ] [ اَوْ انثٰى: یا کسی عورت میں سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُوَ : وہ ] [ مُؤْمِنٌ: صاحب ایمان ہو ] [ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ : تو ہم لازماً جِلائیں گے اس کو ] [ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ : جیسے پاکیزہ جینا ہوتا ہے ] [ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ : اور ہم لازماً پورا پورا دیں گے ان کو ] [ اَجْرَهُمْ : ان کا اجر ] [ بِاَحْسَنِ مَا : اس کے بہترین کے مطابق جو ] [ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ عمل کرتے تھے ] (آیت۔ 97) عَمِلَ کا مفعول عَمَلًا محذوف ہے اور صَالِحًا اس کی صفت ہے۔ نُحْیِیَنَّ کا مفعول چہٗ کی ضمیر ہے اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

فرمایا (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (الآیۃ) کہ جو بھی کوئی مرد ہو یا عورت اچھا عمل کرے گا اسے ہم حیات طیبہ (اچھی زندگی) دیں گے، اس میں ایک قانون بتادیا جس میں ہر نیک عمل پر ہر مومن مرد و عورت کے لیے حیات طیبہ کا اور اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ حیات طیبہ ” اچھی زندگی “ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں علامہ قرطبی نے پانچ اقوال نقل کیے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے قناعت مراد ہے، تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے طاعات کی توفیق دینا مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ذریعہ بنتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں (مَقْعَدِ صِدْقٍ ) نصیب ہونا مراد ہے، ان اقوال کے بعد دو قول اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–100

تلقین مکارم اخلاق محاسن اعمال و آداب قال اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان .... الیٰ .... والذین ہم بہ مشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن پر شے کا بیان ہے اور وہ ایک جامع کتاب ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اور اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اب ان آیات میں بتلاتے ہیں کہ یہ قرآن جو اللہ نے آپ ﷺ پر نازل کیا ہے وہ تمام مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور اعمال خیر کا حکم دیتا ہے اور تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے منع کرتا ہے اور قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کی اصلاح کرتا ہے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالو اور نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ قسم کھا کر توڑو اور نہ خدا سے بدعہدی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

81:۔ جو مرد و زن دنیا میں نیک کام کرے بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اس کی دنیا کی زندگی بھی پاکیزہ اور پر لطف ہوگی کیونکہ مومن موحد کو اللہ تعالیٰ کی بندگی، اطاعت، اور صبر و قناعت میں جو لطف اور قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے وہ شاہانِ دنیا کو تخت و تاج اور بیشمار سامان تعیش سے بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اور آخرت میں بھی اپنے تمام اعمال کی پوری پوری جزا پائیں گے۔ بعض مفسرین نے ” حیۃ طیبۃ “ سے اخروی زندگی مراد لی ہے۔ جس کا پاکیزہ اور پر لطف ہونا کسی تشریح و توضیح کا محتاج نہیں۔ والمراد بالحیاۃ الطیبۃ الحیاۃ التی تکون فی الجنۃ اذ ھناک حیاۃ بلا موت و غنی بلا فقر و صحۃ بلا سقم و ملک بلا ھلک و سعادۃ بلا شقاوۃ (روح ج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 96–100

(فانی اور باقی مال) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کو پورا کرنے کی سخت تلقین فرمائی تھی اپنی قسموں کے ذریعہ حقیر مال حاصل کرنے کی مذمت بیان فرمائی ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس مال کی حقیقت بیان فرمائی ہے جو عہد شکنی کے ذریعے کمایا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ”۔ ماعندکم ینفد جو کچھ تمہارے پاس ہے ، وہ تو ختم ہوجائے گا ، جس مال کی خاطر تم نے جھوٹی قسمیں اٹھائیں اور پھر عہد کو توڑا ، وہ تمہارے پاس نہیں رہے گا مفسرین کرام فرماتے کہ لفظ ما عام ہے اور اس سے صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہر چیز زندگی صحت ، زمین ، مکان ، باغات ، کھیتیاں کارخانے وغیرہ اس میں شامل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 97؀ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

من عمل الخ سے عام بندوں کو بشرطیکہ وہ مومن ہوں اطلاع دیتا ہے کہ نیکوں کو ؎ 1 دنیا میں بھی خوش رکھیں گے اور آخرت میں بھی اجر نیک دیں گے۔ 1 ؎ حیات طیبہ کی تفسیر میں علماء کے متعدد اقوال ہیں ابن عباس و سعید بن جبیرو ضحاک و عطا کہتے ہیں دنیا میں رزق حلال نصیب ہونا آخرت میں اعمال صالحہ کی عمدہ جزا پانا حیات طیبہ ہے حسن بصری و وہب بن منبہ کہتے ہیں قناعت سے بسر کرنا حیات طیبہ ہے انسان کے لیے لاکھ دولت ہو جب قناعت نہیں دل کی بےچینی جو طلب جاہ و مال میں رہتی ہے کسی نعمت کا مزہ نصیب نہیں ہونے دیتی۔ امام جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں خدا کی اطاعت میں عمر بسر کرنا حیات طیبہ ہے ابوبکر وراق فرماتے ہیں خدا کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ج وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 97) (جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان ہے تو ہم اس کو ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ہم ان کو ان کے بہترین اعمال کا صلہ دیں گے۔ ) غلط فہمیوں کا ازالہ وحیِ الٰہی یا دین کی رہنمائی کے بارے میں دنیا میں دو طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک غلط فہمی تو یہ ہے کہ اہل دنیا یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انسان زندگی ان ہدایات کے مطابق گزارے جیسے اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) کہتے ہیں تو پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 94–97

فہم القرآن ربط کلام : دنیا کی خاطر اللہ کے نام کو بدنام اور اپنا ایمان برباد نہ کرو دنیا تو ختم ہونے والی ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارا صلہ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ انسان دنیوی مفاد کی خاطر جھوٹی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ وہ نقصان سے بچ جائے یا اسے فائدہ پہنچے۔ اس برائی سے منع کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ جس جھوٹی انا اور دنیوی مفاد کی خاطر اپنے رب کے عظیم نام کو استعمال کرتے اور عملاً دین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہو۔ اس پر غور کرو کہ یہ دنیا تو عارضی اور ختم ہوجانے والی ہے۔ اگر تم جھوٹی انا اور عارضی مفاد کے مقابلہ میں اخلاقی قدروں اور دین کے اصولوں پر قائم رہو تو اللہ کے ہاں اس کا نہ ختم ہونے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

97: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی (جس نے کوئی نیک عمل کیا خواہ وہ مرد ہے یا عورت) من مبہم ہے دونوں نوع مذکر و مونث کو شامل ہے۔ البتہ ظاہر مذکر کیلئے ہے۔ اس ابہام کو مِنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی سے رفع کیا تاکہ وعدہ دونوں کیلئے عام ہوجائے۔ وَھُوَ مُؤْمِنٌ (اس حال میں کہ وہ مومن ہو) ایمان کی شرط لگائی کیونکہ کفار کے اعمال کسی شماروقطار میں نہیں۔ حیاتِ طیبہ کیا ہے ؟ نکتہ : یہ آیت بتلا رہی ہے کہ عمل ایمان کا حصہ نہیں۔ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً (ہم ضرور اس کو پاکیزہ زندگی دیں گے) یعنی دنیا میں اور اس لئے فرمایا۔ وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(97)” من عمل صالحاً من ذکر اونثیٰ وھو مومن فلنحینہ حیاۃ طیبۃ “ سعید بن جبیر ؓ اور عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد درزق حلال ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے قناعت مراد ہے۔ مقاتل بن حیان کا قول ہے کہ اطاعت میں زندگی گزارنا مراد ہے۔ ابو بکر وراق کا قول ہے کہ اس سے مراد طاعت کی شیرینی پاکیزہ زندگی ہے ۔ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد جنت ہے۔ عوف نے حسن سے روایت نقل کی ہے کہ حسن نے فرمایا کہ جنت کے علاوہ کسی کی زندگی طیب نہیں ہوتی ۔” والنجز ینھم اجرھم یا حسن ما کانوا یعلمون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

97۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جو شخص اسلام کے عہد پر قائم رہے گا اور نیک عمل کرے گا خواہ وہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت تو اس کو دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی دنیا میں اس کی چین سے کٹے گی اور آخرت میں اس کے عمل کا بہتر سے بہتر بدلہ ملے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص مطابق شریعت کے عمل کرے گا اس کے لئے دنیا اور دین کا یہ اجر ہے۔ حیات طیبہ میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں یوں کہا ہے کہ مراد حیات طیبہ سے رزق حلال ہے 1 ؎۔ جو دنیا میں نیک عمل کرنے والے مومن کو عطا ہوتا رہے گا اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے اس کی تفسیر قناعت کے ساتھ کی ہے 2 ؎۔ مسند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 95–97

آیت : (95-97) اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں۔ فرمایا : (ولاتشتروابعھد اللہ ثمنا قلیلا) ” اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول “ یعنی وہ متاع دنیا جو تم بد عہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ (انما عنداللہ) ” بیشک جو اللہ کے ہاں ہے “ دنیوی اور خروی ثواب ‘ اس شخص کے لئے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس لئے لیا۔ (ھوخیر لکم) ” وہ تمہارے لئے بہتر ہے “ اور وہ زائل ہوجانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔ پس انہوں نے باقی رہنے والی چیز کو ختم ہوجانے والی چیز پر ترجیح دی ہے۔ (ماعندکم) ” جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 92–97

قول باری ہے (ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قو ۃ انکاتاً تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو تقرب الٰہی کی نیت سے اپنے اوپر کوئی نیکی اور عبادت لازم کرلے اور پھر اسے فسخ کر کے پورا نہ کرے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اون یا کسی قسم کی کوئی اور شے کات کر دھاگا بنائے اور پھر اسے اچھی طرح کات لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کو ڈالے۔ قول باری (من بعد قوۃ) کا یہی مفہوم ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ مضبوطی کے ساتھ سوت یا اون کاتنے کا نام دیتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرے یا کوئی عبادت واجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 95–97

210۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کے بدلے میں ثمن قلیل کو اپنانے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور خبردار تم لوگ اللہ کے عہد کے بدلے میں کوئی گھٹیا مول نہ اپنا لینا “ کہ حق و ہدایت کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے کہ دنیا کی ساری دولت بھی اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ تو پھر اس کے مقابلے میں ان کچھ ٹکوں کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے جو انسان حق فروشی کے بدلے اپنائے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ فثبتنا اللہم علی صراطک المستقیم دآئماوابدا۔ سو اس ارشاد ربانی کا مطلب یہ ہوا کہ حق کے مقابلے اور اللہ کے عہد کے بدلے میں کوئی بھی مول کبھی نہ لینا کہ یہ سب کچھ ہیچ فانی اور ثمن قلیل ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 211۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 93–98

اللہ کا عہد اور پاکیزہ زندگی تشریح : یہاں بھی اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار یوں کیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا یا سب کو ہی گمراہ کردیتا مگر اس نے تو انسان کو دونوں راستے دکھا کر ارادہ اور مرضی کا اختیار دے دیا جو چاہو اختیار کرلو اور پھر اعمال صالحہ میں عہد کا پورا کرنا، قسموں کو نہ توڑنا اور غلط کاموں کے لیے اپنے عہد کو یا قسموں کو توڑ دینا کہ تمہاری اس بدفعلی کو دیکھ کر، یعنی اخلاقی کمزوری کو دیکھ کر نو مسلم اسلام سے نفرت کرنے لگیں۔ اس کی کئی شکلیں ہیں۔ مثلاً کسی کو دھوکہ دینے کے لیے قسم کھا لینا، یا پھر ناجائز کام کرنا، مثلاً ابن عطیہ کے کلام سے اس کی تعریف یوں ہوتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–100

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔ (عدل) کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 پاک زندگی میں حلال روزی قناعت سچی عزت سکون و اطمینان دل کی تو نگری اللہ کی محبت اور لذت سبھی چیزیں شامل ہیں۔ مطلب یہ کہ ایمان اور عمل صالح سے اخروی زندگی ہی نہیں بلکہ دنیوی زندگی بھی نہایت سکھا اور چین سے گزرے گی۔ شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:97) لنحیینہ مضارع بلام تاکید نون ثقیلہ جمع متکلم ۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع فعل عمل کا فاعل ہے۔ یعنی نیک صالح عمل کرنے والا۔ ہم اس کو ضرور بالضرور زندگی بخشیں گے۔ حیوۃ طیبۃ۔ پاکیزہ زندگی۔ اسی دنیا میں کہ اس میں رزق حلال حاصل ہو۔ قناعت ہو اطمینان و تسکین ہو رضاء الٰہی حاصل ہو۔ یا عالم برزخ کی زندگی کہ اس کی قبر روضۃ من ریاض الجنۃ ہو اس کی برزخ کی زندگی باغات جنت سے ایک باغ بن جائے یا اخروی زندگی۔ کہ وہاں نہ موت کا ڈر نہ نعمتوں کے ختم ہوجانے کا خدشہ جہاں صحت بلاسقم۔ سعادت بلا شقاوت حاصل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 100 صالح نیک، بہتر۔ ذکر مرد۔ انثیٰ عورت۔ نحیین ہم ضرور زندگی دیں گے۔ حیوۃ طیبۃ پاکیزہ زندگی۔ نجزین ہم ضرور بدلہ لیں گے۔ احسن زیادہ بہتر۔ قرات تم نے پڑھا، تلاوت کی۔ استعذ پناہ مانگ لے۔ سلطن زور، قوت۔ پتوکلون وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یتولون دوستی کرتے ہیں۔ تشریح آیت نمبر 97 تا 100 ان آیات میں اللہ نے فرمایا ہے کہ عورت ہو یا مردان میں سے جو بھی ایمان اور عمل صالح کا پیکر ہوگا۔ ہم اس کو نہ صرف حیاۃ طیبہ عطا کریں گے بلکہ اس نے جو بھی نیکی اور بھلائی کے کام کئے ہوں گے ان پر اس کے تصویر سے بھی بہتر اجر وثواب عطا کریں گے۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ یہ قرآن کریم جو ہر نیکی، ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اسلام کے عہد پر قائم رہنے کا ذکر اس آیت میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جو شخص اسلام کے عہد پر قائم رہے گا اور نیک عمل کرے گا، خواہ وہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت اس کو دنیا میں بھی بھلائی ہے او آخرت میں بھی بھلائی۔ دنیا میں اس کی زندگی چین سے کٹے گی اور آخرت میں اس کے عمل کا بہتر سے بہتر بدلہ ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[62] اس بشارت سے یہ مراد نہیں کہ مومن صالح کو کبھی فقر یا مرض طاری نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی برکت سے اس کے قلب میں ایسا نور پیدا ہوگا جس سے وہ ہر حال میں صابر و شاکر اور تسلیم و رضا سے رہے گا۔ سکون و جمعیت خاطر کی اصل یہی رضا ہے۔ ایک مومن کی دنیوی زندگی بےایمان اور بدعمل لوگوں کے مقابلے میں کہیں بہتر رہتی ہے۔ جو ساکھ اور سچی عزت اپنی بےداغ سیرت کی وجہ سے اسے نصیب ہوتی ہے وہ بدعمل اور بےایمان کو نصیب نہیں ہوتی۔ وہ بوریا نشین ہو کر بھی قلب کے جس اطمینان اور ضمیر کی جس ٹھنڈک سے بہرہ مند ہوتا ہے وہ محل میں رہنے والا فاسق و فاجر شخص نہیں پاسکتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اسلام نے حصول مراتب میں مرد اور عورت کی کوئی تخصیص نہیں کی اسلام کی نگاہ میں مرد و عورت مساوی طور پر اللہ کی چوکھٹ پر جھک سکتے ہیں اعمال صالحہ کے میدان میں دونوں یکساں دوڑ سکتے ہیں نئی اور پاک زندگی کے حصول میں دونوں برابر کوشش کرسکتے ہیں ۔ اس لئے قرآن کہتا ہے کہ مرد و عورت میں جو کوئی بھی بشرط ایمان نیک عمل کرے گا وہ نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرے گا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

97 ۔ جو شخص نیک اعمال کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن اور صاحب ایمان ہو تو ہم اس کو زندگی عطا کریں گے ایک پاکیزہ اور پر لطیف زندگی اور ہم ان کو ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ان کا اجر اور اصلہ عطا فرمائیں گے۔ حیات طیبہ یعنی دنیا میں اطمینان قلب اور ذکر و شغل کی لذت اور آخرت میں اجر وثواب اور صلہ یا آخرت کی زندگی کو حیات طیبہ فرمایا اور یہ واقعہ ہے کہ وہاں سے بہتر زندگی کہاں مل سکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اچھی زندگی قیامت کو جلا دیں گے یا دنیا میں اللہ کی محبت میں اور لذت میں ۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ کیونکہ کافر کے اعمال صالحہ مقبول نہیں۔ 2۔ حیات طیبہ سے یہ مراد نہیں کہ اس کو فقر یا مرج کبھی نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی برکت سے اس کے قلب میں ایسانور ہوگا جس سے وہ ہر حال میں شاکر وصابر اور رضا و تسلیم رہے گا اور اصل جمعیت کی یہی رضا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عامل مذکر ہو یا مؤنث اس کا ایمان والا ہونا ضروری ہے : 111۔ نیک عمل جو کوئی بھی کرے گا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو تو ہم اسے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اس دنیا میں جیسا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) ‘ مومنین ومتقین کی پاکیزہ زندگیاں خود اس پر گواہ ہیں ۔ مادی تہذیب کے علم برداروں کے ذہن میں عقبی کی زندگی جاوداں کا کوئی تصور ہی نہیں ، ان کی ساری کوششیں اس دنیوی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار ‘ آرام دہ اور پر جلال بنانے پر مرکوز ہیں ۔ وہ جو کام کرتے ہیں ان کے پیش نظر فقط مادی منفعت ہوتی ہے حتی کہ جو ضابطہ اخلاق انہوں نے اپنا رکھا ہے جسے دیکھ کر ظاہر بین لوگ ان کی اخلاقی برتری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary What is 'good life'? According to the majority of commentators, the expression 'good life' used here means a pure and pleasing life in the present world while some Tafsir authorities have taken it to mean life in the Hereafter. And a closer look at the explanation given by the majority would also show that it does not mean that such a person will never encounter poverty or sickness. Instead, it means that a believer - even if he ever faces poverty or pain - has two things with him which shield him from becoming disturbed. First comes his habit of remaining content with the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

99. This verse removes the wrong notions of both the Muslims and the disbelievers who are of the opinion that those who adopt a just honest and pious attitude, are most surely losers in this world, though they might be gainers in the Hereafter. Allah removes this misunderstanding, as if to say: This presumption of yours is wrong. The righteous attitude not only leads to a happy life in the Hereafter, but it also guarantees, by Allah’s grace, a pure and happy life even in this world. And this is a fact that those people who are sincerely righteous, honest, pure and fair in their dealings enjoy…

Read the full tafseer →