Explained with ayahs 93–96
ایک مذہب و مسلک
اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا (ترجمہ) یعنی اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کردیتا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ باایمان ہی ہوتے۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لئے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ قسموں…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 98
" صبر سے کام لینے والوں کو "، یعنی ان لوگوں کو جو راہ طمع اور خواہش اور جذبہ نفسانی کے مقابلہ میں حق اور راستی پر قائم رہیں، ہر اس نقصان کو برداشت کرلیں جو اس دنیا میں راستبازی اختیار کرنے سے پہنچتا ہو، ہر اس فائدے کو ٹھکرا دیں جو دنیا میں ناجائز طریقے اختیار کرنے سے حاصل ہوسکتا ہو، اور حسن عمل کے مفید نتائج کے لیے اس وقت تک انتظار کرنے کے لیے تیار ہوں جو موجودہ دنیوی زندگی ختم ہوجانے کے بعد دوسری دنیا میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →دنیا کی راحت وکلفت دوستی دشمنی سب فنا ہونے والے ہیں اور ان کے ثمرات و نتائج جو اللہ کے پاس ہیں وہ باقی رہنے والے ہیں
مَا عِنْدَكُمْ کے لفظ سے عام طور پر ذہن صرف مال و متاع کی طرف جاتا ہے استاذ محترم مولانا سید اصغر حسین صاحب ؒ نے فرمایا کہ لفظ ما لغت کے اعتبار سے عام ہے اور عموم کے معنی مراد لینے سے کوئی امر شرعی مانع نہیں اس لئے اس میں دنیا کا مال و متاع بھی داخل ہے اور اس میں پیش آنے والے تمام حالات و معاملات خوشی اور غم رنج اور راحت بیماری اور صحت نفع اور نقصان کسی کی دوستی یا دشمنی یہ سب چیزیں شامل ہیں کہ سب کی سب فنا ہونے والی ہیں البتہ ان حالات و معاملات پر جو آثار مرتب ہونے والے ہیں…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 96 تا 105:۔ مخالفین کے بعض اعتراضات کے جواب : آگے پہلے تو مخالفین حق کو دھمکی اور ان مسلمانوں کو جو حق کے مخالفین کے نرغہ میں تھے صبر و استقامت کی نصیحت اور اس کے اچھے انجام کی بشارت ہے۔ پھر قرآن کی دعوت کے سلسلہ میں جو چیز شیاطین کی رویشہ دوانیوں سے محفوظ رکھنے والی ہے اس کی ہدایت اور بعض ان اعتراضات کا جواب ہے جو یہود نے لوگوں کو قرآن اور پیغمبر ﷺ سے بد ظن کرنے کے لیے پھیلائے تھے اور جن کو قریش نے بھی بےسمجھے بوجھ دہرانا شروع کردیا تھا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
مخالفین کے لیے تنبیہ اہل ایمان کے لیے بشارت : مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ۭ وَلَنَجْزِيَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
94۔ 1 مسلمانوں کو دوبارہ مذکورہ عہد شکنی سے روکا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری اس اخلاقی پستی سے کسی کے قدم ڈگمگا جائیں اور کافر تمہارا یہ رویہ دیکھ کر قبول اسلام سے رک جائیں اور یوں تم لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے مجرم اور سزا کے مستحق بن جاؤ۔ بعض مفسرین نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت مراد لی ہے۔ یعنی نبی کی بیعت توڑ کر پھر مرتد ہوجانا، تمہارے ارادوں کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسلام قبول کرنے سے رک جائیں گے اور یوں تم دگنے عذاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
42: پہلے کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں ”صبر“ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اپنی نفسانی خواہشات کو دبا کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کو بھی صبر کہا جاتا ہے، اور کسی تکلیف کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی شکایت نہ کی جائے تو وہ بھی صبر ہے۔
Read the full tafseer →ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق (61 : 59) ” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہی باقی رہنے والا ہے “۔ قرآن کریم وفائے عہد کے لئے لوگوں کے عزم کو قوت دیتا ہے اور وفائے عہد کی راہ میں تکالیف اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے اور ان تکالیف پر صبر کرنے والوں کے ساتھ اجر حسن کا وعدہ کرتا ہے۔
ولنجرزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون (61 : 69) ” اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر ، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے “ ۔ اور اس سلسلے میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان کو معاف کردیں گے۔ پس جزاء میں صرف اعمال کا اچھا پہلو ملحوظ رہے گا۔
عمل اور جزاء کی…
Read the full tafseer →2 پھر باقی و دائم کو چھوڑ کر فانی و زائل کا پسند کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔
3 یعنی جو لوگ خدا کے عہد پر ثابت قدم رہیں گے اور تمام مشکلات اور صعوبتوں کو صبر کے ساتھ برداشت کریں گے، ان کا اجر ضائع ہونے والا نہیں۔ ایسے بہترین عمل کا بدلہ ضرور ہمارے یہاں سے مل کر رہے گا۔
Read the full tafseer →وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ
ہر نیکو کار شخص کے تمام اعمال ایک درجے کے نہیں ہوتے کوئی نیکی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور کوئی نسبتاً چھوٹے درجے کی۔ مگر جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے ان کی اعلیٰ درجے کی نیکیوں کو سامنے رکھ کر ان کے اجر وثواب کا تعین کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →100 صبر کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیوی مفادات کی خاطر اسلام کی اعلیٰ اقدار اور اصولوں کو قربان نہیں کردیتے بلکہ اصولوں کی خاطر دنیوی مفادات کو قربان کردیتے ہیں اور دنیا کا مال و دولت جتنا بھی ہو اور دنیوی مفادات جتنے بھی ہوں وہ کم ہی ہیں کیونکہ وہ سب ختم اور فنا ہوجانے والے ہیں۔ مگر اصولوں کی خاطر دنیوی مفادات کو ٹھکرا دینے سے جو آخرت میں اجر ملے گا وہ بہت بہتر، پائیدار اور ابدی ہوگا۔
Read the full tafseer →154۔ یعنی دنیا کا سارا ذخیرہ اولا تو وہ ہے ہی کتنا، اور پھر جتنا ہے، سریع الزوال کیسا ہے، آنا فانا ختم ہوجانے والا ،۔ اور اجر آخرت اول تو بےحساب وبے نہایت، اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ دائم و لازوال، غیر منقطع، موجودہ ” مہذب “ دنیاعقاید میں جس شے کو سب سے زیادہ اور یکسر بھولی ہوئی ہے وہ یہی آخرت کی نعمتیں اور ان کی اہمیت ہے، فسق ومعصیت کی طرف لے جانے والی، اور تقوی وطاعت کی طرف سے بےپروا کردینے والی سب سے بڑھ کر یہی آخرت فراموشی ہے، اور اسی لئے قرآن مجید صدہامختلف پیرایوں سے اسی کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ آیت صریح ہے آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کے باب میں۔
155۔ ترہیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
آیت نمبر 90 تا 100
ترجمہ : بلا شبہ اللہ تعالیٰ عدل (یعنی) توحید یا انصاف اور احسان (یعنی) اداء فرائض کا یا (اس طرح) عبادت کرنے کا گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اہتمام کرنے کی وجہ سے خاص طور پر قرابتداروں کا ذکر کیا ہے حالانکہ احسان کے عموم میں وہ بھی داخل ہیں حکم دیتا ہے اور (اللہ) فحش یعنی زنا اور شرعًا منکرات سے مثلاً کفر و معاصی، اور لوگوں پر ظلم کرنے سے منع کرتا ہے (ممانعت ظلم کو اہتمام کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ تو نھی عن الفحش میں ظلم بھی داخل ہے) امرو نہی کی تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو، (تذکرون) میں…
Read the full tafseer →ما عند کم ینفد وما عند اللہ جو کچھ تمہارے پاس ہے ‘ وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ‘ وہ باقی رہے گا۔ یعنی جو کچھ دنیوی مال و متاع تمہارے پاس ہے ‘ وہ فنا ہوجائے گا اور اللہ کی رحمت کے خزانے کبھی فنا نہیں ہوں گے۔ یہ جملہ لاَ تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِالخ کی علت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنی دنیا کو پسند کرتا ہے ‘ وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت کو پسند کرتا ہے ‘ وہ اپنی دنیا کا ضرر کرتا ہے۔ تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی (دنیا) پر ترجیح دو (آخرت کو پسند کرو ‘ دنیا کی پرواہ مت کرو) رواہ الحاکم بسند صحیح واحمد۔
ولنجزین…
Read the full tafseer →(96) یا یہ کہ جب تم اس کی تصدیق کرنا چاہو اور جو مال و دولت تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور ثواب خداوندی باقی رہے گا اور جو لوگ وفائے عہد وغیرہ پر ثابت قدم ہیں۔ ہم ان کے دنیا کے اچھے کاموں کے بدے میں آخرت میں ان کو اس کو ثواب دیں گے۔
Read the full tafseer →مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ : چاہے وہ مقدار کے لحاظ سے کتنا ہی زیادہ ہو، بلکہ خواہ ساری دنیا ہو۔
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا۔۔ : لام تاکید اور نون ثقیلہ کی تاکید اکٹھے ہوں تو قسم جیسی تاکید کا فائدہ دیتے ہیں۔ صبر کا معنی اپنے آپ کو کسی چیز پر باندھنا اور روک کر رکھنا ہے، یعنی جنھوں نے دنیوی طمع کے مقابلے میں اپنے آپ کو حق پر قائم رکھا۔ صبر بہترین عمل ہے، کیونکہ یہ تمام اعمال کی بنیاد ہے، اس کی تین قسمیں ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر قائم رہنا اور طبیعت کو ان کا پابند رکھنا صبر ہے، اسی طرح اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں سے روکنا صبر ہے اور تیسری قسم مصیبت کے وقت جزع فزع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
آیت نمبر 95 تا 96
قولہ تعالیٰ : ولا تشروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا یہ عہد توڑنے پر اموال لینے اور رشوت سے نہی ہے، یعنی تم دنیا کے قلیل سازوسامان کے عوض اپنے عہدوں کو نہ توڑو۔ وہ بلاشبہ قلیل ہی ہے اگرچہ وہ کثیر بھی ہو، کیونکہ یہ زائل ہونے والا اور ختم ہوجانے والا سامان ہے، پس یہ فی الحقیقت قلیل ہی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد : ما عند کم ینفدو ما عند اللہ باق (جو (مال وزر) تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو (رحمت کے خزانے) اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ باقی رہیں گے) سے یہی مراد ہے۔ پس دنیا اور آخرت کی حالت کے درمیان فرق بیان کرو یا اس طرح کہ یہ ختم ہوجاتا ہے اور بدل جاتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
1:۔ ابن ابی حاتم نے ا بوبکر بن حفص ؓ سے روایت کیا کہ سعیدہ الاسد یہ ایک مجنونہ عورت تھی بال اور پتے جمع کرتی تھی (اور ان کو کات کر پھر ریزہ ریزہ کردیتی تھی) تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ (الآیہ ) ۔
2:۔ ابن مردویہ نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابن عباس ؓ نے فرمایا اے عطا کیا میں تجھ کو جنت والوں میں سے ایک عورت نہ دکھاوں (پھر) انہوں نے مجھ کو ایک حبشی زرد رنگ کی عورت دکھائی اور فرمایا یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی مجھے جنون کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو عافیت دے رسول اللہ ﷺ نے اس سے…
Read the full tafseer →[مَا : وہ جو ] [ عِنْدَكُمْ : تم لوگوں کے پاس ہے ] [ يَنْفَدُ : فنا ہوجائے گا ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے ] [ بَاقٍ ۭ: باقی رہنے والا ہے ] [ وَلَنَجْزِيَنَّ : اور ہم لازماً پورا پورا دیں گے ] [ الَّذِينَ : ان کو جو ] [ صَبَرُوْٓا : ثابت قدم رہے ] [ اَجْرَهُمْ : ان کا اجر ] [ بِاَحْسَنِ مَا : اس کے بہترین کے مطابق جو ] [ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ عمل کرتے تھے ]
ند
[ نَفَادًا : (س) ختم ہونا۔ فنا ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 96 ۔]
Read the full tafseer →آخرت کی نعمتیں باقی رہنے والی ہیں، صبر کرنے والے مردوں اور عورتوں کو حیات طیبہ نصیب ہوگی اور ان کے اعمال کا اچھا اجر ملے گا
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں یہ بتایا کہ جتنی دنیا بھی کمالو گے وہ سب ختم ہوجائے گی اور اعمال صالحہ پر (جس میں گناہوں سے بچنا اور نقض عہد سے بچنا بھی شامل ہے) جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت میں انعام ملے گا اور وہاں جو اکرام ہوگا وہ سب باقی رہنے والا ہے (اس میں ان لوگوں کو خاص تنبیہ ہے جو عہد توڑ کر اس کے عوض مال لے لیتے ہیں اور دنیاوی اعزاز حاصل کرلیتے ہیں۔ )
جب دنیا سامنے آنے لگتی ہے اور جاہ و مال کے منافع نفس کو متاثر کرنے لگتے ہیں اور آدمی کو ابھارتے ہیں کہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
تلقین مکارم اخلاق محاسن اعمال و آداب
قال اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان .... الیٰ .... والذین ہم بہ مشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن پر شے کا بیان ہے اور وہ ایک جامع کتاب ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اور اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اب ان آیات میں بتلاتے ہیں کہ یہ قرآن جو اللہ نے آپ ﷺ پر نازل کیا ہے وہ تمام مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور اعمال خیر کا حکم دیتا ہے اور تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے منع کرتا ہے اور قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کی اصلاح کرتا ہے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالو اور نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ قسم کھا کر توڑو اور نہ خدا سے بدعہدی…
Read the full tafseer →80: دنیا کی تحقیر کا بیان مقصود ہے یعنی دنیوی ساز و سامان کی طرف توجہ نہ کرو بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز فانی اور ختم وجانے والی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں منکرین کے لیے جو عذاب ہے اور مومنین کے لیے جو ثواب ہے وہ کبھی کتم نہیں ہوگا جو لوگ دنیا میں عہد اسلام پر قائم رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود کی پابندی کریں گے آخرت میں ان کے تمام اعمال کا انہیں پورا پورا اجر وثواب ملے گا۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں جہاں دولت دنیا کے فریب میں آنے سے ڈرایا جاتا ہے وہاں عام طور سے تین باتیں مذکور ہوتی ہیں (1) دولت دنیا قلیل و حقیر ہے۔ (2) اس کی وجہ سے دنیا میں عذاب آتا ہے (3) آخرت میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–100
(فانی اور باقی مال)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کو پورا کرنے کی سخت تلقین فرمائی تھی اپنی قسموں کے ذریعہ حقیر مال حاصل کرنے کی مذمت بیان فرمائی ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس مال کی حقیقت بیان فرمائی ہے جو عہد شکنی کے ذریعے کمایا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ”۔ ماعندکم ینفد جو کچھ تمہارے پاس ہے ، وہ تو ختم ہوجائے گا ، جس مال کی خاطر تم نے جھوٹی قسمیں اٹھائیں اور پھر عہد کو توڑا ، وہ تمہارے پاس نہیں رہے گا مفسرین کرام فرماتے کہ لفظ ما عام ہے اور اس سے صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہر چیز زندگی صحت ، زمین ، مکان ، باغات ، کھیتیاں کارخانے وغیرہ اس میں شامل…
Read the full tafseer →مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ۭ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 96
نفد
النَّفَادُ : الفَناءُ. قال تعالی: إِنَّ هذا لَرِزْقُنا ما لَهُ مِنْ نَفادٍ [ ص/ 54] يقال : نَفِدَ يَنْفَدُ «1» قال تعالی: قُلْ لَوْ كانَ الْبَحْرُ مِداداً لِكَلِماتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ [ الكهف/ 109] ، ما نَفِدَتْ كَلِماتُ اللَّهِ [ لقمان/ 27] . وأَنْفَدُوا : فَنِيَ زادُهم، وخَصْمٌ مُنَافِدٌ: إذا خَاصَمَ لِيُنْفِدَ حُجَّةَ صاحبِهِ ، يقال : نَافَدْتُهُ فَنَفَدْتُهُ.
( ند ) النفاد
( س ) ختم ہوجانا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ولاتشتروا الخ عہد الٰہی دین اور خدا کے رسول کی فرمانبرداری کا اقرار ہے جو ازل میں ہر ایک نے کیا تھا اور نیز دنیا میں بھی زبان سے لوگ حضرت ﷺ سے عہد کرتے تھے اور خدا کے نام پاک کی قسم کھا کر اقرار کرنا یہ بھی عہدالٰہی ہے پھر اس عہد کو بیشتر لوگ دنیاوی طمع میں آ کر یا اس پر قائم رہنے میں مال کا نقصان جان کر توڑ ڈالتے ہیں اس کو تھوڑے سے داموں پر فروخت کرنا فرمایا اور اس سے منع کیا اور پھر دنیا کی بےثباتی بیان کی کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ تھڑ جاتا ہے اس کو فنا ہے خود تم کو ہی فنا ہے اور خدا کے ہاں جو کچھ اجر آخرت ہے اور ہمیشہ رہے گا اور جو اس امر میں تکالیف و خسارت مال کی برداشت کرے گا عہدالٰہی…
Read the full tafseer →مَاعِنْدَکُمْ یَنْفَدُوَمَا عِنْدَاللّٰہِ بَاقٍ ط وَلَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 96)
(جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔ )
اہلِ ایمان کے لیے بشارت
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کے عہد کے مقام و مرتبہ کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھنا کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے دین کی کسی بات کو دنیا کے خزف ریزوں کے بدلے میں بدلنے کی کوشش نہ کرنا۔ ساری دنیا کی دولت بھی اس کی ایک ایک آیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کی خاطر اللہ کے نام کو بدنام اور اپنا ایمان برباد نہ کرو دنیا تو ختم ہونے والی ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارا صلہ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔
انسان دنیوی مفاد کی خاطر جھوٹی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ وہ نقصان سے بچ جائے یا اسے فائدہ پہنچے۔ اس برائی سے منع کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ جس جھوٹی انا اور دنیوی مفاد کی خاطر اپنے رب کے عظیم نام کو استعمال کرتے اور عملاً دین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہو۔ اس پر غور کرو کہ یہ دنیا تو عارضی اور ختم ہوجانے والی ہے۔ اگر تم جھوٹی انا اور عارضی مفاد کے مقابلہ میں اخلاقی قدروں اور دین کے اصولوں پر قائم رہو تو اللہ کے ہاں اس کا نہ ختم ہونے…
Read the full tafseer →96: مَاعِنْدَکُمْ (جو تمہارے پاس ہے) دنیا کا سامان یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ (وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے) اس کی رحمت کے خزائن۔ بَاقٍ (وہ باقی رہنے والا ہے۔ ) فناو ختم نہ ہوگا۔ وَلَنَجْزِیَنَّ (اور ضرور ہم بدلہ دیں گے) ۔
قراءت : نون سے مکی و عاصم کی قراءت ہے۔ نافع بن عامر، حمزہ وغیرہ کی قراءت میں یاء ہے۔ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا (وہ
لوگ جنہوں نے صبر کیا) مشرکین کی ایذائوں پر اور اسلام پر ثابت قدمی میں مشقتیں اٹھائیں۔ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ (انکا بدلہ بہتر اس سے جو وہ کرتے تھے) ۔
Read the full tafseer →(96)” ما عندکم ینفد “ جو کچھ دنیا میں ہے اور دنیا بھی فانی ہے۔ ” وما عنداللہ باقی ولنجزین “ ابو جعفر، ابن کثیر، عاصم نے نون کے ساتھ پڑا ہے اور دوسراے قراء یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ” الذین صبروا “ عہد کی پاسداری میں خواہ خوشی میں ہو یا تنگی میں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی دنیا کو پسند کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت کو پسند کرتا ہے وہ اپنی دنیا کا ضرر کرتا ہے۔ تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہونے والی پر ترجیح دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
93۔ 96۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ اگر اللہ جل شانہ چاہتا تو سارے جہان کے لوگوں کو ایک ہی فرقہ بنا دیتا کوئی کسی کا مخالف نہ ہوتا اور بد عہدی اور جھوٹی قسم کھانے کا موقع پیش نہ آتا مگر اس کی مشیت اس کو مقتضی نہ ہوئی اسی بات میں اس کی حکمت تھی کہ متعدد طریقے قائم ہوں اور وہ جس کو چاہے راہ راست پر آنے کی توفیق نہ دے اور جسے چاہے ہدایت دے دے اور پھر قیامت کے دن سارے لوگوں سے ان کے اعمال کی پرسش کرے کہ تم نے کیا بھلائی کی اور کیا برائی کی پھر اس کے بعد اللہ پاک نے اس بات کا ذکر کیا اور تاکید کی کہ تم قسم کھا کر اور قول وقرار کر کے پھرو نہیں اس میں بہت بڑی خرابی تمہارے لئے بھی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
آیت : (95-97)
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں۔ فرمایا : (ولاتشتروابعھد اللہ ثمنا قلیلا) ” اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول “ یعنی وہ متاع دنیا جو تم بد عہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ (انما عنداللہ) ” بیشک جو اللہ کے ہاں ہے “ دنیوی اور خروی ثواب ‘ اس شخص کے لئے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس لئے لیا۔ (ھوخیر لکم) ” وہ تمہارے لئے بہتر ہے “ اور وہ زائل ہوجانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔ پس انہوں نے باقی رہنے والی چیز کو ختم ہوجانے والی چیز پر ترجیح دی ہے۔ (ماعندکم) ” جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–97
قول باری ہے (ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قو ۃ انکاتاً تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو تقرب الٰہی کی نیت سے اپنے اوپر کوئی نیکی اور عبادت لازم کرلے اور پھر اسے فسخ کر کے پورا نہ کرے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اون یا کسی قسم کی کوئی اور شے کات کر دھاگا بنائے اور پھر اسے اچھی طرح کات لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کو ڈالے۔ قول باری (من بعد قوۃ) کا یہی مفہوم ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ مضبوطی کے ساتھ سوت یا اون کاتنے کا نام دیتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرے یا کوئی عبادت واجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
210۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کے بدلے میں ثمن قلیل کو اپنانے کی ممانعت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور خبردار تم لوگ اللہ کے عہد کے بدلے میں کوئی گھٹیا مول نہ اپنا لینا “ کہ حق و ہدایت کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے کہ دنیا کی ساری دولت بھی اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ تو پھر اس کے مقابلے میں ان کچھ ٹکوں کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے جو انسان حق فروشی کے بدلے اپنائے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ فثبتنا اللہم علی صراطک المستقیم دآئماوابدا۔ سو اس ارشاد ربانی کا مطلب یہ ہوا کہ حق کے مقابلے اور اللہ کے عہد کے بدلے میں کوئی بھی مول کبھی نہ لینا کہ یہ سب کچھ ہیچ فانی اور ثمن قلیل ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
211۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–98
اللہ کا عہد اور پاکیزہ زندگی
تشریح : یہاں بھی اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار یوں کیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا یا سب کو ہی گمراہ کردیتا مگر اس نے تو انسان کو دونوں راستے دکھا کر ارادہ اور مرضی کا اختیار دے دیا جو چاہو اختیار کرلو اور پھر اعمال صالحہ میں عہد کا پورا کرنا، قسموں کو نہ توڑنا اور غلط کاموں کے لیے اپنے عہد کو یا قسموں کو توڑ دینا کہ تمہاری اس بدفعلی کو دیکھ کر، یعنی اخلاقی کمزوری کو دیکھ کر نو مسلم اسلام سے نفرت کرنے لگیں۔ اس کی کئی شکلیں ہیں۔ مثلاً کسی کو دھوکہ دینے کے لیے قسم کھا لینا، یا پھر ناجائز کام کرنا، مثلاً ابن عطیہ کے کلام سے اس کی تعریف یوں ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
(رکوع نمبر 13)
اسرارومعارف
پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔
(عدل)
کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں…
Read the full tafseer →ف 7 چاہے وہ مقدار کے لحاظ سے کتنا ہی زیادہ ہو۔
8 یعنی جنہوں نے دنیوی لالچ کے مقابلے میں حق و صداقت کا دامن ن چھوڑا۔
9 فرض سنت، مستحب سب بہتر کام ہیں اس لئے ان سب کا اجر ملیگ ا۔ اس اعتبار احسن کے مقابل ہمیں حسن کو مباح کہا جائے گا جو باعث ثواب نہیں ہوتا کیونکہ جزا صرف طاعت کے کاموں پر ملتی ہے۔ (شوکانی) یا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے جیسا کہ فرمایا : من جاء بالحسنۃ فلہ مشر امثالھا۔ یا ہم کسی عمل کے ادنیٰ فرد کی جزا بھی اس کے اعلیٰ فرد کے مطابق دیں گے۔ (کذافی الشوکانی والقرطبی)
Read the full tafseer →(16:96) ینفد۔ نفد ینفد (باب سمع) نفاد سے واحد مذکر غائب۔ ختم ہوجائے گا۔ جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی۔ (18:109)
آپ کہہ دیجئے کہ اگر (سارے کے سارے) سمندر روشنائی ہوجائیں میرے پروردگار کی باتیں لکھنے کے لئے تو سمندر ختم ہوجائیں گے۔ اور میرے پروردگار کی باتیں ختم نہ ہو سکیں گی۔
باق۔ باقی رہنے والا۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ ناقص یائی سے ہے۔ اصل میں باقی تھا ضمہ ی پر دشوار تھا۔ اس کو ساکن کیا۔ اب ی اور تنوین ود ساکن جمع ہوئے تو ی اجتماع ساکنین سے گرگئی باق ہوگیا۔ بقاء مصدر۔ باب سمع سے آتا ہے بقی یبقی بقاء کسی چیز کا اپنی اصلی حالت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 96
شاء اللہ اللہ نے چاہا۔ لتسئلن البتہ تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ ل اتتخذو تم نہ بناؤ۔ تزل پھسلج اتا ہے۔ تذوقوا تم چکھو۔ صددتم تم نے روکا۔ لاتشتروا تم نہ بیچو، فروخت کرو۔ ینفد ختم ہوجائے گا۔ باق باقی رہنے والا ۔ احسن زیادہ بہتر۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 96
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ عقل سے انسان خیر اور شر کو پہچانتا ہے اور ارادہ کی قوت سے ہدایت یا گمراہی میں سے کسی ایک راستہ کا انتخاب کر کے اس پر چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوجائے تو وہ نجات حاصل کر کے جنت کی ابدی راحتوں سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ جب وہ صراط مستقیم پر چلنے کا پختہ…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ تم جس طرح ناپید ہونے والو ہو اسی طرح تمہارے پاس کی چیزیں بھی ناپید ہونے والی ہیں۔ اور خداوند عالم جس طرح ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اسی طرح اس کے پاس کی چیزیں بھی دائم البقا ہیں۔ پھر صبر کرنے والوں کو بشارت دی کہ صابرین کو ایسا بدلہ ملے گا جس طرح انہوں نے اپنے نفسوں پر جبر کر کے صبر کیا اسی طرح اللہ پاک انہیں جزا بھی دے گا۔ ایک عمل کا دس گنا سے لے کر ساتھ سو تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
[61] یعنی کوئی شخص اسلام کی سچائی کا قائل ہوجانے کے بعد محض تمہاری بدعہدی سے اس دین سے برگشتہ نہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
مسلمان خادم دین ہوتا ہے :
(ف 1) یعنی اسلام کو اپنی اغراض نفسانی کے لئے دین فروشی کسی طرح مناسب اور مؤدن نہیں کیونکہ دنیا کی تمام نعمتیں عارضی اور فانی ہیں ، اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی اور دائم ہے ، اس لئے عقل مند وہ ہے جو دائم اور باقی رہنے والی چیز کا سودا عارضی اور فانی چیز سے نہ کرے ۔
غرض یہ ہے کہ مسلمان دینی مفاد کو دنیوی مفاد پر ترجیح دیتا ہے ، دنیا میں اس کا مطح نظر ہوتا ہے کہ میرے ہر اقدام سے دین کی خدمت ہو ، یہ یاد رہے کہ اس طرح دیندار کسی طرح گھاٹے اور ٹوٹے میں نہیں رہتے ، بلکہ ان کو دنیا ودین دونوں کی نعمتیں حاصل ہوجاتی ہیں ، مسلمان کا زاویہ نگاہ بلند اور وسعی ہوتا ہے ۔ وہ…
Read the full tafseer →96 ۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا اور نبڑ جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا اور دائمی ہے اور جو لوگ وفائے عہد میں ثابت قدم رہتے ہیں اور عہد کے پورا کرنے میں جو تکلیف ہوتی ہے اس پر صبر کرتے اور ثابت قدم رہتے ہیں ہم ان کو ان کے اچھے کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے ضرور صلہ اور اجر عنایت فرمائیں گے۔ یعنی تمہارے پاس جو دنیا سے وہ فنا ہونیوالی ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت اور وہاں کا اجر جو ہماری بارگاہ سے ملے گا وہ دائمی ہے۔ آیت کے آخری حصے میں اس اجر کے ملنے پر تاکیدی وعدہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ف 7۔ یعنی قسموں اور عہدوں کو مت توڑو۔
Read the full tafseer →تمہارے پاس کتنا بھی مال اکٹھا ہوجائے انجام کار اس کو ختم ہونا ہے :
110۔ زیر نظر آیت میں دنیا کا مال کتنا بھی ہو وہ آخرت کے لحاظ سے تھوڑا ہی ہے اس کی مزید تفصیل فرما دی کہ یہ کیسے ہوا ؟ فرمایا یہ ایسے ہوا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے ۔ (آیت) ” ماعندکم “ کے لفظ سے فقط مال ہی مراد نہیں ہے کہ اگر نقد روپیہ وصول نہ کیا تو اس حکم سے بچ گئے (ما) لغت کے اعتبار سے عام ہے اور عموم کے معنی مراد ہیں اس لئے اس میں دنیا کا مال ومتاع بھی ہے اور اس میں پیش آنے والے تمام حالات ومعاملات بھی یعنی خوشی وغمی ‘ رنج اور راحت ‘ بیماری اور صحت ‘ نفع اور نقصان…
Read the full tafseer →All Worldly Gains and States will Perish - Only their Outcome with Allah shall Remain
A casual look at the expression: مَا عِندَكُمْ (ma ` indakum: 'what is with you' meaning world gains) leads one to think of wealth and possessions only. My revered teacher, Maulana Sayyid Asghar Husain of Deoband, may the mercy of Allah be upon him, said that the word: مَا ma (what) is general lexically and there is nothing prohibiting us from taking it in a general sense, therefore, included under it are wealth and possessions of the present world as well as all states and matters that one experiences…
Read the full tafseer →98. Those who practice fortitude are the people who will always stand firm in the struggle between right and truth on one side and greed and lust on the other. They bear every loss for the sake of righteousness and spurn away every gain that they might obtain by adopting unlawful means. They patiently wait for the rewards of their good deeds in the Hereafter.
Read the full tafseer →