بہترین دعا
تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے، وہی انہیں پھر فوت کرے گا بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں پچھتر سال کی عمر میں عموما انسان ایسا ہی ہوجاتا ہے طاقت ختم ہوجاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے۔ علم کی کمی ہوجاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی دعا میں فرماتے تھے (اللھم انی اعوذبک من البخل والکسل والھرم وارذل العمر و عذاب القبر وفتنتہ الدجال وفتنتہ المحیا و الممات) یعنی اے اللہ میں بخیلی سے، عاجزی سے، بڑھاپے سے، ذلیل عمر سے، قبر کے عذاب سے، دجال…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 60
یعنی حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ تمہاری پرورش اور رزق رسانی کا سارا انتظام اللہ کے ہاتھ میں ہے بلکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ تمہاری زندگی اور موت دونوں اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے کا اختیار رکھتا ہے نہ موت دینے کا۔
سورة النَّحْل 61
یعنی یہ علم جس پر تم ناز کرتے ہو اور جس کی بدولت ہی زمین کی دوسری مخلوقات پر تم کو شرف حاصل ہے، یہ بھی خدا کا بخشا ہوا ہے۔ تم اپنی آنکھوں سے یہ عبرت ناک منظر دیکھتے رہتے ہو کہ جب کسی انسان کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ لمبی عمر دے دیتا ہے تو وہی شخص جو کبھی جوانی میں دوسروں کو عقل سکھاتا تھا، کس طرح گوشت کا ایک لوتھڑا بن کر رہ جاتا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اپنی حالت بھی سوچنے کے قابل ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تم کو (اول) پیدا کیا پھر (عمر ختم ہونے پر) تمہاری جان قبض کرتا ہے (جن میں بعض تو ہوش و حواس میں چلتے ہاتھ پاؤں اٹھ جاتے ہیں) اور بعض تم میں وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں (جن میں نہ قوت جسمانیہ رہے نہ قوت عقلیہ رہے) جس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتا ہے (جیسا کہ اکثر ایسے بوڑھوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ابھی ان کو ایک بات بتلائی اور ابھی بھول گئے اور پھر اس کو پوچھ رہے ہیں) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی قدرت والے ہیں (علم سے ہر ایک مصلحت جانتے ہیں اور قدرت سے ویسا ہی کردیتے ہیں اس لئے حیات…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ ڐوَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ۔ یعنی زندگی اور موت اور عمر کی چھوٹائی اور بڑائی بھی خدا ہی کی طرف سے ہے۔ چناچہ تم میں سے کتنے ہیں جو بچپن یا جوانی ہی میں مرجاتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو ارذل عمر تک پہنچتے ہیں یہاں تک کہ ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہیں جانتے۔ علیم و قدیر خدا ہی ہے۔ وہی تمام علم کا منبع ہے اور وہی ہر چیز کے لیے اندازے اور پیمانے مقرر کرتا ہے۔ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ کا اسلوب بیان اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →70۔ 1 جب انسان طبعی عمر سے تجاوز کرجاتا ہے تو پھر اس کا حافظہ بھی کمزور ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ عقل بھی ماؤف، اور وہ نادان بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ یہی طویل عمر ہے جس سے نبی نے بھی پناہ مانگی ہے۔
Read the full tafseer →29: انتہائی بڑھاپے کی حالت کو ”ناکارہ عمر“ سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں انسان کی جسمانی اور ذہنی قوتیں ناکارہ ہوجاتی ہیں۔ اور سب کچھ جاننے کے باوجود کچھ نہ جاننے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بڑھاپے کے اس حصے میں انسان اس علم کا اکثر حصہ بھول جاتا ہے جو اس نے اپنی پچھلی زندگی میں حاصل کیا تھا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ ابھی اسے ایک بات بتائی گئی، اور تھوڑی سی دیر میں وہ ایسا ہوگیا جیسے اس کو کچھ بتایا ہی نہیں گیا تھا۔ یہ حقائق بیان فرما کر غافل انسان کو اس طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اسے اپنی کسی طاقت اور صلاحیت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ جو کوئی طاقت اسے ملی ہوئی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔
آیت نمبر 70 تا 73
ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے…
Read the full tafseer →5 قدرت کے بہت سے خارجی نشان بیان فرما کر انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ خود اپنے اندرونی حالات پر غور کرے۔ وہ کچھ نہ تھا، خدا نے وجود بخشا پھر موت بھیجی اور دی ہوئی زندگی واپس لے لی یہ کچھ نہ کرسکا اور بعضوں کو موت سے پہلے ہی پیرانہ سالی کے ایسے درجہ میں پہنچا دیا کہ ہوش و حواس ٹھکانے نہ رہے۔ نہ ہاتھ پاؤں میں طاقت رہی، بالکل نکما ہوگیا۔ نہ کوئی بات سمجھی ہوئی یاد رکھ سکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ علم وقدرت اسی خالق ومالک کے خزانہ میں ہے۔ جب اور جس قدر چاہے دے اور جب چاہے واپس کرلے۔ حضرت شاہ صاحب کے نزدیک آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس امت میں کامل پیدا ہو کر پھر ناقص پیدا ہونے لگیں گے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 70 وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ ڐوَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ
ایسی عمر جس میں آدمی ناکارہ ہو کر دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے۔
لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ
بڑھاپے میں اکثر لوگوں کی قوت فکر متاثر ہوجاتی ہے اور زیادہ عمر رسیدہ لوگوں کو تو dementia ہوجاتا ہے جس سے ذہنی صلاحیتیں ختم ہوجاتی ہیں اور یادداشت جواب دے جاتی ہے۔ اس کیفیت میں بڑے بڑے فلسفی اور دانشور بچوں جیسی باتیں کرنے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →69 کوئی مخلوق اپنی مقررہ حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی :۔ ان خارجی مثالوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کی اپنی مثال پیش کی۔ کہ پہلے وہ بچہ ہوتا ہے اپنی تربیت کے لیے خوراک کھاتا ہے جس سے اس کا قد بھی بڑھتا ہے، ہمت بھی بڑھتی ہے، عقل اور علم میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے جو ایک مخصوص حد تک جاکر رک جاتا ہے اس کے بعد انسان وہی غذائیں کھاتا ہے جو پہلے کھاتا تھا مگر اس کے اثرات بالکل برعکس برآمد ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے جسم میں طاقت کے بجائے کمزوری واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے عقل بہت کم ہونے لگتی ہے۔ یادداشت کمزور ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ پہلے کی سیکھی ہوئی باتیں بھی بھولنے لگتا ہے۔ اعضاء مضمحل ہونے لگتے ہیں اور…
Read the full tafseer →104۔ (جیسا کہ بہت زیادہ پیرانہ سالی کے وقت اکثر مشاہدہ میں آتا رہتا ہے) یہ پیدا کرنے کا، موت دینے کا، بعض کو پیر فرتوت بنادینے کا، سارا کام صرف حق تعالیٰ ہی کا ہے، کوئی اس میں اس کا شریک وسہیم نہیں، یہ نہیں کہ پیدائش کا دیوتا کوئی اور ہے، موت کا کوئی اور، اور زندہ رکھنے کا کوئی اور۔ (آیت) ” ارذل العمر “۔ یعنی عمر کی وہ منزل کہ جب نہ قوت جسمانی ہی برقرار رہے، اور نہ قوت دماغی، (آیت) ” لکی “ میں ل عاقبت یا نتیجہ کا ہے۔
105۔ وہ اپنی صفت علم اقتضاء سے ہر شخص کی ضرورت ومصحلت کا علم رکھتا ہے، اور صفت قدرت کے اقتضاء سے ویسا ہی اس کا انتظام بھی کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
آیت نمبر 66 تا 70
ترجمہ : اور امر واقعہ یہ ہے کہ چوپایوں میں (بھی) تمہارے لئے بڑی عبرت ہے چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے ہم اسی گوبر (یعنی) معدہ کے فضلے اور خون کے درمیان سے، (نسقیکم) عبرہ کا بیان ہے، مِنْ ابتدائیہ ہے نسقیکم کے متعلق ہے، ہم پینے والون کو خوشگوار (خوش ذائقہ) صاف دودھ پلاتے ہیں جو حلق میں بآسانی اترنے والا اور حلق میں نہ پھنسنے والا ہے، جس میں نہ گوبر اور خون کے مزے کی آمیزش ہے اور نہ رنگ وبو کی، حالانکہ وہ ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے اور انگوروں اور کھجوروں کے پھلوں میں بھی (تمہارے لئے عبرت ہے) کہ جن سے تم شراب بناتے ہو، جو نشہ آور ہوتی ہے خمر کا نام سَکَر (بطور مبالغہ) مصدر کے…
Read the full tafseer →وا اللہ خلقکم ثم یتوفکم ومکن من یرد الی ارذل العمر لکی لا یعلم بعد علم شیئا ان اللہ علیم قدیر اور اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا اور وہی تمہاری جانیں قبض کرتا ہے (بچپن میں ‘ یا جوانی میں ‘ یا متوسط عمر میں ‘ یا بڑھاپے میں) اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بیخبر ہوجاتا ہے۔ بیشک اللہ بڑے علم اور بڑی قدرت والا ہے۔
اَرْذَلِ الْعُمُرِ بدترین عمر ‘ ناکارہ عمر ‘ انتہائی بڑھاپا۔ قتادہ نے کہا : ارذل عمر نوے سال ہے۔ حضرت علی نے فرمایا : پچھتر برس ارذل عمر ہے۔ بعض نے اسّی برس کی عمر کو ارذل عمر کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں…
Read the full tafseer →(70) اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہلے پیدا کی اور پھر تمہاری عمریں ختم ہونے پر تمہیں موت دیتا ہے اور بعض لوگ تم میں سے وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ مخلوق کی حالتوں کی تبدیلی کو جاننے والا ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ۔۔ : بارش اور اس کے اثرات، چوپاؤں اور ان سے حاصل ہونے والے دودھ، کھجور اور انگور اور ان سے حاصل ہونے والی اشیاء اور شہد کی مکھی کی عجیب و غریب کارکردگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب خود انسان کے اندر پائے جانے والے دلائل میں سے چند کا بیان فرمایا۔ اس آیت میں انسان کی زندگی کے چار پانچ دور مذکور ہیں۔ سب سے پہلے پیدائش، اس کے ساتھ فوت کرنے کا ذکر فرمایا، باقی ادوار کا بعد میں ذکر فرمایا، کیونکہ پیدائش کے بعد ہر شخص پر ان تمام ادوار کا گزرنا ضروری نہیں۔ وفات کبھی پیٹ ہی میں ہوجاتی ہے، کبھی زندگی کے کسی اور مرحلے میں۔ کچھ لوگ سب سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 70
قولہ تعالیٰ : واللہ خلقکم ثم یتوفکم اس کا معنی پہلے بیان ہوچکا ہے۔ ومنکم من یرد الی ارذل العمر یعنی وہ اسے بدکام بنا دیتا ہے اور اسے کمینہ بنا دیتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد وہ ہے جس کی قوت و طاقت اور عقل کم ہوجاتی ہے، اور وہ اسے بےعقلی تک پہنچا دیتی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد أسفل العمر (انتہائی گھٹیا اور ناکاروہ عمر) ہے، یعنی وہ اس بچے کی مثل ہوجاتا ہے جس میں کوئی عقل نہیں ہوتی اور دونوں معنی باہم قریب قریب ہیں۔ اور صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ پناہ مانگتے ہوئے کہتے تھے : اللھم إنی أعوذبک من الکسل وأعوذبک من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اللہ تعالیٰ نے الہام کیا شہد کی مکھی کو۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نحل ایک چھوٹا سا جانور ہے اس کی طرف وحی بھیجی یعنی اس کے دل میں (بات) ڈال دی۔
شہد کی مکھی بھی عجائب قدرت میں سے ہے :
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کوئی قاصد اس کی طرف نہیں بھیجا۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اس کو حکم فرمایا کہ تو پھلوں میں سے رس نکال کر کھائے اور اس کو حکم…
Read the full tafseer →[وَاللّٰهُ : اور اللہ ہی نے ] [ خَلَقَكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [ يَتَوَفّٰىكُمْ : وہ وفات دیتا ہے تم کو ] [ ڐوَمِنْكُمْ مَنْ : اور تم میں سے وہ بھی ہے جو ] [ يُّرَدُّ : لوٹا دیا جاتا ہے ] [ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ : عمر کے سب سے گھٹیا (حصہ) کی طرف ] [ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ : تاکہ وہ نہ جانے ] [ بَعْدَ عِلْمٍ : جاننے کے بعد ] [ شَـيْــــًٔـا : کچھ بھی ] [ ۭان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ عَلِيْمٌ: جاننے والا ہے ] [ قَدِيْرٌ: قدرت والا ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰکُمْ ) (اور اللہ نے تمہیں پیدا فرمایا پھر وہ تمہیں اٹھالے گا یعنی موت دے گا) (وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ الآی اَرْذَلِ الْعُمُرِلِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْءًا) (اور تم میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جو نکمی عمر کی طرف لوٹا دئیے جاتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے) سمجھ اور حافظہ کی جو قوت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی جس سے جوانی میں اور بڑھاپے میں خوب کام لیا جاتا رہتا ہے جب خوب زیادہ بڑھاپا آجاتا ہے تو آدمی نکما ہوجاتا ہے جو چیزیں جانتا تھا اب انہیں نہیں جانتا اور ایک چیز کے بارے میں بار بار پوچھتا ہے حتیٰ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →53:۔ موت وحیات بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اسی نے تم سب کو خلعت حیات عطا فرمائی موت بھی اسی کے قبضہ میں ہے کسی کو بچپن میں موت سے ہمکنار فرما دیتا ہے، کسی کو جوانی میں اور کسی کو بڑھاپے میں ” ان اللہ علیم قدیر “ وہ سب کچھ جاننے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ جس طرح وہ نطفہ بےجان سے لے کر انسان کے بڑھاپے تک کے تمام درمیانی انقلابات پر قادر ہے اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے پر بھی قادر ہے، یہ منکرینِ قیامت پر احتجاج ہے۔
Read the full tafseer →(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے پہلے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا ، اس کے بعد اپنی قدرت کی چند مثالیں بیان کیں جو اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہیں ، منجملہ ان کے آسان کی طرف سے پانی کا نزول اور اس کے ذریعے مختلف چیزوں کی پیدائش کا ذکر ہے پھر مویشیوں سے دودھ اور پھلوں سے پاکیزہ روزی کا ذکر ہوا شہد کی مکھیوں کے ذریعے نہایت مفید اور مرغوب شہد کا بیان ہوا جس میں اللہ نے بہت سی بیماریوں کے لیے شفا رکھی ہے ، فرمایا یہ اس کی قدرت کے بیرونی دلائل ہیں ، اور یہ کن لوگوں کے لیے مفید ہیں ؟ فرمایا (آیت) ” لقوم یتفکرون “۔ غور وفکر کرنے والوں کے لیے (آیت) ” لقوم یعقلون “ عقل سے کام لینے والوں کے لیے (آیت) ” لقوم…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ ڐوَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ 70ۧ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة…
Read the full tafseer →ترکیب : شیئًا بصریوں کے نزدیک مصدر سے منصوب ہے اور کو فیوں کے نزدیک یعلم سے فہم فیہ سواء مبتداء خبر سے مل کر یہ جملہ واقع ہے موقع میں فعل و فاعل کے فالتقدیر فما الذین فضلوا برادی رزقھم علی ماملکت ایمانھم فیستو وا اور یہ فعل منصوب ہے جواب نفی ہو کر اور مرفوع بھی ہوسکتا ہے شیئًا رزقا سے منصوب ہے اگر اس کو مصدر مانا جائے اور اگر بمعنی مرزوق لیا جائے تو اس سے بدل ہے۔
تفسیر : ان آیات میں انسان کے حالات سے استدلال کرتا ہے : اول اللہ خلقکم الخ کہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا۔ نطفہ کا رحم میں انسان بنانا اور اس کے مواقف اس کو اعضاء عطا کرنا یہ ضرور کسی مدبرحکیم کا کام ہے طبیعت اور مادہ تو خود بےشعور ہے…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰکُمْ قف لا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِلِکَیْ لاَ یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۔ (سورۃ النحل : 70)
(اور اللہ تعالیٰ ہی نے تم کو پیدا کیا اور پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں سے بعض ارذل عمر کی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں تاکہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے، بیشک اللہ تعالیٰ ہی علم والا اور قدرت والا ہے۔ )
انسان کی ذات اور اس پر ہونے والی تبدیلیوں سے استدلال
وہ رب کائنات جس نے انسانوں کی تربیت کے لیے قسم قسم کی نعمتیں پیدا فرمائیں اور انسانوں کو وہ کچھ عطا کیا جو نہ صرف ان کی ضرورت تھا بلکہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دودھ اور شہد کی بناوٹ کا ذکر کرنے کے بعد انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی زندگی کے مختلف مراحل کا احساس دلایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی پیدائش اور زندگی کے مختلف مراحل کی طرف توجہ دلانے سے پہلے تخلیق کے عجب کرشمے بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگو ! ذرا غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے چوپائے کے پیٹ میں خون اور گوبر کے بیچ میں سے کس طرح تمہارے لیے صاف شفاف سفید اور میٹھا دودھ پیدا کیا ہے۔ پھر پھلوں کی طرف دیکھو بالخصوص کھجور اور انگور سے کتنا میٹھا اور عمدہ مشروب تمہارے لیے تیار کیا۔ اگر تھوڑی سی عقل استعمال کرو تو یقیناً اپنے رب پر ایمان لانے کے لیے تیار ہوجاؤ گے۔ مزید…
Read the full tafseer →عمر کا رذیل حصہ :
70: وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰکُمْ (اور اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں وفات دیں گے) تمہاری ارواح کو ابدان سے قبض کرنے کے بعد وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ (اور بعض تم میں سے لوٹائے جاتے ہیں رذیل ترین عمر کی طرف) خسیس اور حقیر ترین عمر کی طرف اور وہ پچھتّر سال کی ہے۔ نمبر 2۔ اسّی سال کی ہے۔ نمبر 3۔ نوے سال کی ہے۔ لِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا (جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد بیخبر ہوجاتا ہے) جس کا نتیجہ علم کا بھولنا ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ تاکہ اپنے علم سے زیادہ علم کو وہ نہ جانے۔ اِنَّ اللّٰہُ…
Read the full tafseer →(70)” واللہ خلقکم ثم یتوفا کم “ پہلے آپ کو بچپن دیا پھر جوانی اور پھر بڑھاپا۔” ومنکم من یرد الی ارذل العمر “ مقاتل (رح) نے کہا کہ اس سے مراد بڑھاپا ہے۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد نوے سال ہے اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ارذل عمر 75 سال ہے اور بعض کا قول ہے کہ اسی سال عمر ارذل العمر ہے۔ ” لکیلا یعلم بعد علم شیئاً “ یعنی تمام معلومات کے ہونے کے باوجود سب کچھ بھول جائے۔ ” ان اللہ علیم قدیر “ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیشہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تو مجھے بخل، سستی اور ارذل عمر اور عذاب قبر اور فتنہ دجال اور فتنہ محیاد و ممات سے پناہ دے۔
Read the full tafseer →70۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ساٹھ برس کی عمر کا ہو کر جو شخص دنیا کی مکروہات میں پھنسا رہے اس طرح کا شخص اگر اللہ کے روبرو توبہ کرنے اور نیک کام کرنے کا موقع نہ پانے کا عذر کرے گا تو اس کا عذر مقبول نہ ہوگا 1 ؎۔ کیونکہ اتنی بڑی عمر پانے سے اس کو اللہ کی طرف جھک جانے کا اچھا موقع مل چکا ہے۔ اسی طرح کی روایتوں سے علماء نے انسان کی عمر کے چار درجے ٹھہرائے ہیں اول درجہ تو دن بدن بڑھنے کا ہے اس کی مدت تینتیس برس تک ہے پھر چالیس تک ایک ہی حالت پر آدمی رہتا ہے اسی کو سن وقوف کہتے ہیں پھر چالیس سے ساٹھ تک اندرونی گھٹاؤ انسان کی حالت میں شروع ہوجاتا ہے ایسی…
Read the full tafseer →آیت : (70)
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہی ہے جس نے بندوں کو پیدا کیا اور ان کی تخلیق کے ایک مرحلے سے دسرے مرحلے میں داخل کیا اور جب وہ اپنی مدت مقررہ پوری کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو وفات دے دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ طویل عمر عطا کرتا ہے حتیٰ کہ (یرد الی ارذل العمر) ” اس کو بدترین عمر تک پہنچا دیتا ہے “ اس عمر میں انسان ظاہری اور باطنی قوی کی کمزوری کا شمار ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ عقل بھی ‘ جو کہ انسان کا جوہر ہے ‘ اس سے متاثر ہوتی ہے ‘ اس کی عقل کی کمزوری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ ان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے جو اسے معلوم تھیں ‘ اس کی عقل بچے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
شہد شفا ہے
قول باری ہے (یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ فی شفا للناس۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے) اس میں شہد کی طہارت کا بیان ہے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ شہد میں مردہ مکھیاں اور ان کے انڈے بچے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی طہارت کا حکم لگا دیا نیز یہ بتادیا کہ اس میں لوگوں کے لئے شفا کا سامان ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر ایسا جانور جس کے اندرخون نہ ہو اگر وہ پاک چیز میں مرجائے تو اس سے وہ چیز خراب اور ناپاک نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →136۔ خالق سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی نے پیدا فرمایا تم سب کو (اے لوگو) اور تمہیں عدم کے اندھیروں سے نکال کر وجود کی روشنی سے سرفراز فرماتا ہے۔ اور خلق و ایجاد اسی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ اور جب اس کی اس صفت وشان میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کے حق عبودیت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس وہ ہر شریک اور شرک کے ہر شائبے سے پاک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو تمہارا وجود خود دلیل ہے۔ اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا، تم اگر اسی میں صحیح طور پر غور کرلوتوسب کچھ واضح ہوجائے گا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب…
Read the full tafseer →خود انسان اللہ کی قدرت کا ثبوت ہے
تشریح : پہلے دودھ کی نعمت، پھر پھلوں کی نعمتوں اور پھر شہد کی بہترین نعمت کا ذکر کیا گیا اور فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت، عظمت اور رحمت یاد دلانے کے لیے کافی نہیں ؟ اب انسان کو خود اس کی اپنی خلقت (پیدائش) کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کس طرح اللہ نے تمہیں لاغر اور ناتواں حالت میں ایک بچہ کی حیثیت سے پیدا کیا، پھر بتدریج تمہاری جسمانی حالت کو مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا گیا اور اس طرح تم بچپن سے لڑکپن، پھر جوانی سے بڑھاپے کی طرف چلتے چلے جاتے ہو۔ کچھ لوگ تو اس کے دوران میں ہی فوت ہوجاتے ہیں اور کچھ بڑھاپے کی اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں جب وہ دوبارہ ایک بچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
ذرا جانوروں ہی کی تخلیق پر غور کرلو کہ ان کے معدے گوبر اور خون سے بھرے ہوتے ہیں مگر انہیں مادوں میں سے ایک حصے کو دودھ بنا دیتا ہے ان کے اندر ایسا نظام بنا دیا ہے کہ خون اور فضلات میں سے صاف ستھرا اور خوشگوار دودھ الگ ہو ، پینے والوں کے لیے ایک بہترین نعمت کی صورت میں نکلتا ہے یعنی ایسی عجیب شئے کہ بہترین غذا بھی ہے اور دوا بھی کہ قدرت نے ہر حیوان کی پہلی غذا یہی مقرر کردی ہے اس لیے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ دودھ پیو دعا کرو ” اللھم بارک لنا فیہ وزدنامنہ “۔ کہ اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت دے اور یہ نعمت اور زیادہ عطا فرما ،
(اچھا اور لذیذ کھانا)
اور اس آیہ مبارکہ سے…
Read the full tafseer →ف 1 حیوانات میں قدرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب خود انسان کے اندر جو دلائل پائے جاتے ہیں ان کو بیان فرمایا اور حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی ابدتائے نشات سے لے کر عالم شباب، کہولت اور سب سے آخر میں شیخوختہ ان مختلف اطوار پر غور کرے تو صانع حکیم کے علم وقدرت کا عجیب نقشہ سامنے آتا ہے کہ عمر کی اس منزل میں پہنچ کر انسان بالکل بچہ بن جاتا ہے اور اس کی بےبسی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اس کے ہوش و حواس سلب ہوجاتے ہیں اور کوئی اس کی حفاظت کرنے والا نہیں ہوتا۔ اسے قرآن نے ارزدل العمر قرار دیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت نکمی عمر کی طرف لوٹائے جانے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ فتح القدیر)
2 یعنی اس امت میں بھی…
Read the full tafseer →(16:70) یتوفکم۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر توفی سے (باب تفعل) وہ تمہاری جانوں کو لے لیتا ہے
یرد۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ رد مصدر باب نصر۔ وہ لوٹایا جاتا ہے۔
ارذل العمر۔ عمر کا بڑھاپا۔ جب انسان کے قویٰ مضمحل اور ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ یعنی بہت بڑی عمر تک جب جسمانی ودماغی قوتیں کمزور پڑجاتی ہیں۔
لکی میں لام عاقبت یا نتیجہ کا ہے ای نتیجۃ۔
کی حرف تعلیل ہے فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اسے نصب دیتا ہے لکی لا یعلم۔
لکی لا یعلم بعد علم شیئا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کا علم رکھنے کے بعد بیخبر ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 70
اوحی وحی کی ، الہام کیا۔ النخل شہد کی مکھی۔ اتخذی تو بنالے۔ بیوت گھر۔ یعرشون وہ لوگ اونچا اٹھاتے ہیں۔ کلی (مونث) تو کھالے اسلکی تو چل۔ سبل (سبیل) راستے۔ ذلیل آسان کئے ہوئے، ہموار۔ شفاء شفا ہے، صحت ہے۔ یتوفی وہ موت دیتا ہے۔ یرد لوٹایا جاتا ہے۔ ارذل العمر نکمی عمر، بےفائدہ زندگی ۔ لکی لایعلم تاکہ وہ نہ جانے۔
تشریح آیت نمبر 68 تا 70
گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ انسان اگر اس کائنات کی ایک ایک چیز پر غور کرے گا تو اس کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کائنات خود بخود نہیں چل رہی ہے بلکہ اس کو چلانے…
Read the full tafseer →انسان کی عمر کے درجے
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی عمر کے چار درجے ہیں : (1) اول درجہ تو دن بدن بڑھنے کا ہے اس کی مدت تینتیس برس تک ہے۔ (2) پھر چالیس برس تک ایک ہی حالت پر آدمی رہتا ہے، اسی کو سن وقوف کہتے ہیں۔ (3) پھر چالیس سے ساٹھ سال تک اندرونی گھٹاؤ انسان کی حالت میں شروع ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی عمر کو ادھیڑ کہتے یہں۔ (4) اس کے بعد طرح طرح کے اندرونی مرض پیدا ہو کر وہ ادھیڑ پنے کی حالت بھی باقی نہیں رہتی اور بات کہہ کر بھرل جانا اور خرابیاں اس ناکارہ عمر کی شروع ہوجاتی ہیں۔ جس ناکارہ عمر کا ذکر آیت میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کی عمر کا انقلاب یاد دلا کر یہ تنبیہ فرمائی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
[38] شہد کی مکھی کی یہ صنعت گری جدوجہد، نظم و ضبط اور سرگرمی کا ایک پورا سلسلہ ہے جو عرصے تک جاری رہتا ہے اس لئے اس کے کاموں کو سبل سے تعبیر کیا یعنی عمل کی راہوں سے۔ یعنی اس کے لئے جو راہ عمل ٹھہرا دی گئی ہے اس پر ٹھیک ٹھیک چلتی رہتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ذرا بھی ادھر ادھر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
(ف 2) اللہ کے بیشمار مظاہر قدرت میں سے آیا ، مسئلہ کہلوت اور شیخوخت انسانی کا بھی ہے کہ کس طرح آیک انسان جوانی سے پیر فرقرت بن جاتا ہے اور چہرہ پر بڑھاپے کی جھریاں کس طرح نمودار ہوجاتی ہیں ؟
اگر زندگی محض مادی اسباب وذرائع کی رہین منت ہو تو پھر شباب کی قوتوں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے ، مگر چونکہ یہ اللہ کا مقررہ قانون ہے اس لئے آج بھی باوجود سائنس کی حیرت انگیز ترقیوں اور کمال کے انسان کہولت وپیری کو دور نہیں کرسکا ۔
علم التشریح نے آج بےانتہاء ترقی کرلی ہے اور نظریہ تجدید شباب بھی کامیاب ہورہا ہے ، مگر اس کا اثر محض بڑھاپے کے آثار سے ہے ، نفس کہولت کو دور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
حل لغات :
النحل :…
Read the full tafseer →70 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہی تم کو پیدا کیا ہے پھر وہی مقررہ عمر پوری ہونے کے بعد تم کو قبض کرلیتا ہے اور بعض تم میں سے وہ ہے جس کو نکمی اور ناکارہ عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ سب کچھ سننے اور سمجھنے کے بعد انجان ونادان ہوجاتا ہے اور کچھ نہیں سمجھتا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور کمال قدرت کا مالک ہے۔ یعنی بعض تو جلدی مرجاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخری حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ سمجھدار ہوتے ہوئے آخری میں بھولا اور انجان بن جاتا ہے اور کسی شے کو نہیں سمجھتا اور بالکل بچہ بن جاتا ہے۔ ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس امت میں کامل ہونے کے بعد پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
ف 3۔ نشہ کی چیز اس میں دو قول ہیں اول یہ کہ نزول آیت کے وقت مسکرات حرام نہ تھے کیونکہ آیت مکی ہے اس لیے امتنان فرمایا لیکن چونکہ حرام ہونے والے تھے اس لیے اس کو حسن وغیرہ کے ساتھ موصوف نہ کیا جیسا رزق کو کیا ہے دوسرا قول یہ کہ گونزول آیت کے وقت مسکرات حرام بھی ہوگئے ہوں اس احتمال پر کہ شاید یہ آیت مدنی ہو لیکن یہاں امتنان حسی مقصود نہیں تاکہ حلت پر موقوف ہو بلکہ امتنان معنوی یونی استدلال علی التوحید ہے۔
Read the full tafseer →اللہ نے تم کو پیدا کیا اور پھر تمہاری زندگی کے مختلف ادوار مقرر کر دئیے :
80۔ قرآن کریم نے اس سے پہلے بارش ‘ نباتات ‘ چوپائے اور شہد کی مکھی کے مختلف احوال بیان فرما کر انسان کو اپنی قدرت ‘ رحمت اور ربوبیت کے انعامات پر متنہ کیا اب اس آیت میں اس کی اندرونی حالت پر غوروفکر کی اس کو دعوت دیتا ہے کہ اے انسان تو کچھ بھی نہ تھا اللہ نے تجھ کو وجود سے نوازا پھر جب چاہا موت بھیج کر وہ نعمت ختم کردی لیکن بعض اوقات موت سے پہلے تجھ کو پیرانہ سالی کے ایسے درجے میں پہنچا دیا کہ تیرے ہوش وحواش ٹھکانے نہ رہے اور تیرے سارے اعضاء کی طاقت ختم ہو کر رہ گئی تیرے سارے اعضاء موجود ہیں لیکن سارے کے سارے ہی بیکار…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned previously were various states of water, vegetation, cattle and honey bee through which Allah Ta’ ala had reminded human beings of His perfect power of creation and of His blessings for the created. Now, through the words of the present verse, they have been invited to ponder over the very state they are in. Human beings were nothing. Allah Ta’ ala blessed them with existence. Then, by sending death when He willed, He terminated that blessing. As for some others, they are, much before their death, carried to such a stage of extreme old age that their senses do not work,…
Read the full tafseer →60. It is to emphasize this: Allah not only provides you with the necessities and good things of life (as stated in the preceding verses), but also has full power over your life and death. None else has any power to give lift or cause death.
61. This fact has been mentioned to bring home to the disbelievers and the mushriks that knowledge, which gives superiority to man over all creatures on this earth, has been given by Allah, as if to say: You yourselves have seen that when a man, who once possessed much knowledge, becomes very old, he is reduced to a mere lump of flesh. Then that man who…
Read the full tafseer →