Explained with ayahs 68–69
وحی سے کیا مراد ہے ؟
وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لئے مقدر کردیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آ بادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 57
رب کی ہموار کی ہوئی راہوں“ کا اشارہ اس پورے نظام اور طریق کار کی طرف ہے جس پر شہد کی مکھیوں کا ایک گروہ کام کرتا ہے۔ ان کے چھتوں کی ساخت، ان کے گروہ کی تنظیم، ان کے مختلف کارکنوں کی تقسیم کار، ان کی فراہمی غذا کے لیے پیہم آمدورفت، ان کا باقاعدگی کے ساتھ شہد بنا بنا کر ذخیرہ کرتے جانا، یہ سب وہ راہیں ہیں جو ان کے عمل کے لیے ان کے رب نے اس طرح ہموار کردی ہیں کہ انہیں کبھی سوچنے اور غور فکر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بس ایک مقرر نظام ہے جس پر ایک لگے بندھے طریقے پر شکر کے یہ بیشمار چھوٹے چھوٹے کارخانے ہزارہا برس سے کام کیے چلے جا رہے ہیں۔
سورة النَّحْل 58
شہد کا ایک مفید اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ یہ دوسری ہدایت ہے جس میں مکھی کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی رغبت اور پسند کے مطابق پھل پھول سے رس چوسے، یہاں مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فرمایا لیکن بظاہر یہاں لفظ كُلِّ سے دنیا بھر کے پھل پھول مراد نہیں ہیں بلکہ جن تک آسانی سے اس کی رسائی ہو سکے اور مطلب حاصل ہو سکے کل کا یہ لفظ ملکہ سبا کے واقعہ میں بھی وارد ہوا ہے وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی استغراق کلی مراد نہیں ہے کہ ملکہ سباء کے پاس ہوائی جہاز اور ریل موٹر ہونا بھی لازم آئے بلکہ اس وقت کی تمام ضروریات ومناسبات مراد ہیں یہاں بھی مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ سے یہی مراد ہے یہ مکھی ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
تفسیر آیت 68 تا 69: وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ 68ۙثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۭ يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 69
وحی سے یہاں مراد وہ جبلی اور فطری وحی ہے جو ہر مخلوق کو اپنے اندر کی ودیعت کردہ صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے فاطر فطرت وجبلت کی طرف سے ہوئی ہے۔ ذلل ذلول کی جمع ہے جس کے اصلی معنی مطیع و منقاد کے ہیں۔ یہاں یہ سبل کی صفت ہے اس وجہ سے اس کے…
Read the full tafseer →69۔ 1 شہد کی مکھی پہلے پہاڑوں میں، درختوں میں انسانی عمارتوں کی بلندیوں پر اپنا مسدس خانہ اور چھتہ اس طرح بناتی ہے کہ درمیان میں کوئی شگاف نہیں رہتا۔ پھر وہ باغوں، جنگلوں، وادیوں اور پہاڑوں میں گھومتی پھرتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں کا جوس اپنے پیٹ میں جمع کرتی ہے اور پھر انھیں راہوں سے، جہاں جہاں سے وہ گزرتی ہے، واپس لوٹتی ہے اور اپنے چھتے میں آ کر بیٹھ جاتی ہے، جہاں اس کے منہ یا دبر سے وہ شہد نکلتا ہے جسے قرآن نے ' شراب ' سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی مشروب روح افزا۔
69۔ 2 کوئی سرخ، کوئی سفید، کوئی نیلا اور کوئی زرد رنگ کا، جس قسم کے پھلوں اور کھیتوں سے وہ خوراک حاصل کرتی ہے، اسی حساب سے اس کا رنگ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
28: چھتریاں اٹھانے سے مراد وہ ٹٹیاں ہیں جن پر مختلف قسم کی بیلیں چڑھائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر شہد کی مکھی کے گھر بنانے کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ وہ جو چھتے بناتی ہے وہ عجیب و غریب صنعت کا شاہکار ہوتے ہیں اور عام طور پر وہ یہ چھتے اونچی جگہوں پر بناتی ہے تاکہ اس میں بننے والا شہد زمین کی کثافتوں سے بھی محفوظ رہے۔ اور اسے تازہ ہوا بھی میسر آئے۔ توجہ اس طرف دلائی جا رہی ہے کہ یہ سب کچھ اسے اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے معارف القرا ان ج : 5 ص 362 تا 367
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت نمبر 68 تا 69
شہد کی مکھی اس الہام کے مطابق کام کرتی ہے جو خالق نے تخلیق کے وقت اس کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔ یہ بھی وحی کی ایک قسم ہے اور یہ مکھی اس کے مطابق عمل پیرا ہے۔ یہ مکھیاں جس پیچیدہ انداز میں اپنا کام جاری رکھتی ہیں ، اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ کس انجینئرنگ سے اپنا چھتہ تیار کرتی ہیں۔ وہ باہم تقسیم کار کس طرح کرتی ہیں اور پھر وہ عسل مصفیٰ کو کس طرح علیحدہ کرتی ہیں ؟
یہ اپنی فطرت کے مطابق گھر بناتی ہیں ، پہاڑوں میں ، درختوں کی شاخوں میں ، لوگ دیواروں پر جو بیل بوٹے چڑھاتے ہیں ان میں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کی فطرت کے مطابق زمین کے اندر راستے ہموار کیے ہیں کہ یہ عسل…
Read the full tafseer →12 " کُلِیْ " اور " فَاسْلُکِیْ " سب اوامر تکوینیہ ہیں۔ یعنی فطرۃً اس کو ہدایت کی کہ اپنی خواہش اور استعداد مزاج کے مناسب ہر قسم کے پھلوں اور میووں میں سے اپنی غذا حاصل کرے، چناچہ مکھیاں اپنے چھتہ سے نکل کر رنگ برنگ کے پھول پھل چوستی ہیں جس سے شہد اور موم وغیرہ حاصل ہوتا ہے۔
1 یعنی غذا حاصل کرنے اور کھا پی کر چھتہ کی طرف واپس آنے کے راستے صاف کھلے پڑے ہیں۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ چناچہ دیکھا گیا ہے کہ مکھیاں غذا کی تلاش میں بعض اوقات بہت دور نکل جاتی ہیں پھر بےتکلف اپنے چھتہ میں واپس جاتی ہیں۔ ذرا راستہ نہیں بھولتیں۔ بعض نے ( فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا) 16 ۔ النحل :69) کا مطلب یہ لیا ہے کہ…
Read the full tafseer →يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ
شہد کی مکھی جن جن جڑی بوٹیوں اور پودوں کے پھولوں کا رس چوستی ہے ان کے خواص اور ان کی تاثیرات کو گویا وہ کشید کرتی ہے۔ اس طرح شہد میں مختلف ادویات کے اثرات بھی شامل ہوجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔
Read the full tafseer →67 شہد کے چھتے اور مکھیوں میں نظم وضبط :۔ ایک مکھی ان مکھیوں کی سردار یا ان کی ملکہ ہوتی ہے جسے عربی میں یعسوب کہتے ہیں۔ باقی سب مکھیاں اس کی تابع فرمان ہوتی ہیں مکھیاں اسی کے حکم سے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور اگر وہ ان کے ہمراہ چلے تو سب اس کی پوری حفاظت کرتی ہیں اور ان میں ایسا نظم و ضبط پایا جاتا ہے جسے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اتنے چھوٹے سے جاندار میں اتنی عقل اور سمجھ کہاں سے آگئی۔ مکھیاں تلاش معاش میں اڑتی اڑتی دوردراز جگہوں پر جا پہنچتی ہیں اور مختلف رنگ کے پھلوں، پھولوں اور میٹھی چیزوں پر بیٹھ کر ان کا رس چوستی ہیں۔ پھر یہی رس اپنے چھتہ کے خانوں میں لاکر ذخیرہ کرتی رہتی…
Read the full tafseer →100۔ ان مکھیوں کا ایک ایک پھل پھول پر رس چوسنے کیلئے بیٹھتے رہنا اور میلوں کا سفر طے کرکے، بغیر راستہ بھولے بھٹکے، اپنے چھتے کی طرف واپس آجانا ایک مشہور عالم واقعہ ہے۔ (آیت) ” سبل ربک “۔ راستوں کا انتساب حق تعالیٰ نے اپنی جانب کیا ہے۔ شہد کی مکھیوں کے آنے جانے کے راستہ اس حکمت سے بنانا صرف اسی ذات کا کام ہے، جسے اور راستے خاص اس مکھی کیلئے مسخر ومنقاد ہیں۔
101۔ کوئی آٹھ نو قسم کے شہد تو اکیلے ملک عرب ہی میں ہوتے ہیں۔ (آیت) ” شراب “۔ کہ اسی شیریں مشروب کو شہد کہتے ہیں۔
102۔ (بہت سی بیماریوں سے) شہد کے منافع و فضائل طب یونانی (عربی) ، طب ہندی (ویدک) طب افرنگی (ڈاکٹری) سب کو مسلم ہیں، اور یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
آیت نمبر 66 تا 70
ترجمہ : اور امر واقعہ یہ ہے کہ چوپایوں میں (بھی) تمہارے لئے بڑی عبرت ہے چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے ہم اسی گوبر (یعنی) معدہ کے فضلے اور خون کے درمیان سے، (نسقیکم) عبرہ کا بیان ہے، مِنْ ابتدائیہ ہے نسقیکم کے متعلق ہے، ہم پینے والون کو خوشگوار (خوش ذائقہ) صاف دودھ پلاتے ہیں جو حلق میں بآسانی اترنے والا اور حلق میں نہ پھنسنے والا ہے، جس میں نہ گوبر اور خون کے مزے کی آمیزش ہے اور نہ رنگ وبو کی، حالانکہ وہ ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے اور انگوروں اور کھجوروں کے پھلوں میں بھی (تمہارے لئے عبرت ہے) کہ جن سے تم شراب بناتے ہو، جو نشہ آور ہوتی ہے خمر کا نام سَکَر (بطور مبالغہ) مصدر کے…
Read the full tafseer →ثم کلی من کلی الثمرات فاسلکی سبل ربک ذللا پھر ہر قسم (یعنی ہر ضروری اور مناسب قسم) کے پھلوں کو چوس اور پھر اپنے رب کے راستوں پر چل جو آسان ہیں۔
الثَّمَرَات میں الف لام جنسی ہے اور لفظ کُلِّ استغراقی نہیں ہے بلکہ ہر مرغوب اور مناسب پھل مراد ہے۔ یعنی ہر قسم کے مناسب ‘ پسندیدہ اور میسر آجانے والے پھلوں کا عرق چوس لے ‘ خواہ میٹھے ہوں یا کڑوے۔
سُبُلَ رَبِّکِ یعنی ان راستوں پر چل کر شہد تیار کر جو تیرے رب نے تجھے بتا دئیے ہیں اور فطری طور پر تجھے سکھا دئیے ہیں اور جب دور دور کے پھلوں کا رس چوس کر اپنے گھر کو لوٹے تو اپنے رب کے بتائے ہوئے راستوں پر لوٹنا ‘ راستہ نہ بھول جانا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →(69) پھر ہر قسم کے مختلف پھلوں سے چوستی پھر اور چوس کر واپس آنے کے لیے اپنے پروردگار کے بتائے ہوئے راستوں پر چل لیے بااعتبار چلنے کے اور یاد رہنے کے آسان ہیں، پھر شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں سے سفید، زرد، سرخ، رنگ کا شہد نکلتا ہے، اس میں انسانوں کی بہت سی بیماریوں کے لیے شفا ہے یا یہ کہ قرآن کریم کے لیے بیان شافی ہے، ان مذکورہ چیزوں میں ایسے لوگوں کے لیے جو کہ مخلوقات خداوندی میں غور کرتے ہیں، بڑی دلیل اور عبرت ہے۔
Read the full tafseer →”ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ“ یہ امر اباحت کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں کہ ضرور ہی ہر پھل میں سے کھاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ جو چاہو کھاؤ، جیسے کہتے ہیں حرام چھوڑ کر ہر چیز کھاؤ، یعنی تمہیں اجازت ہے۔ اس حکم کی تعمیل مشاہدے میں بھی آئی ہے کہ مکھیاں پہلے اپنا چھتا بناتی ہیں، پھر خوراک کے لیے نکلتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت میں اس کے نفع نقصان کی سمجھ رکھ دی ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے فرمایا : (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى) [ طٰہٰ : 50 ] ”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔“ مگر شہد کی مکھی کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا :…
Read the full tafseer →آیت نمبر 69
قولہ تعالیٰ : ثم کلی من کل الثمرت اور یہ اس لئے ہے کیونکہ یہ درختوں سے کلیاں کھاتی ہیں۔ فاسلکی سبل ربک پھر تو اپنے رب کی راہوں پر چلتی رہا کر۔ اور السبل کا معنی الطرق (راستے) ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی نسبت اپنی طرف کی ہے کیونکہ وہ ان کا خالق ہے، یعنی تو پہاڑوں اور درختوں کے درمیان میں رزق تلاش کرنے کے لئے اپنے رب کی راہوں پر داخل ہوجا۔ ذللا یہ ذلول کی جمع ہے اور اس سے مراد مطیع کیا ہوا ہے، یعنی وہ راہیں جو مطیع اور مسخر کردی گئی ہیں، پس ذللا یہ النحل سے حال ہے، یعنی شہد کی مکھی تابعداری کرتی ہے اور وہاں جاتی ہے جہاں اس کا مالک چاہے، کیونکہ یہ اپنے مالکوں کی اتباع اور پیروی کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اللہ تعالیٰ نے الہام کیا شہد کی مکھی کو۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نحل ایک چھوٹا سا جانور ہے اس کی طرف وحی بھیجی یعنی اس کے دل میں (بات) ڈال دی۔
شہد کی مکھی بھی عجائب قدرت میں سے ہے :
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کوئی قاصد اس کی طرف نہیں بھیجا۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”‘ واحی ربک الی النحل “ یعنی اس کو حکم فرمایا کہ تو پھلوں میں سے رس نکال کر کھائے اور اس کو حکم…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [ كُلِيْ : تو کھا ] [ مِنْ كُلِ الثَّمَرٰتِ : سارے پھلوں میں سے ] [ فَاسْلُكِيْ : پھر تو چل ] [ سُبُلَ رَبِكِ : اپنے رب کے راستوں میں ] [ ذُلُلًا ۭ: جو سدھائے ہوئے ہیں ] [ يَخْرُجُ؛نکلتی ہے ] [ مِنْۢ بُطُوْنِهَا : ان کے پیٹوں سے ] [ شراب : پینے کی ایک چیز ] [ مُّخْتَلِفٌ: مختلف ہیں ] [ اَلْوَانهٗ : اس کے رنگ ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ شِفَاۗءٌ: شفا ہے ] [ لِلنَاسِ ۭ: لوگوں کے لئے ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے ] [ يَّتَفَكَّرُوْنَ : جو غور و فکر کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
اس کے بعد شہد کی مکھی کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور لوگوں کی بنائی ہوئی عمارتوں میں گھر بنا یعنی شہد کے لیے چھتہ تیار کرلے اور شہد کی مکھی سے فرمایا کہ تو پھلوں میں سے کھالے یعنی چوس لے اور اس کام کے لیے اللہ کے بنائے راستوں میں آنا جانا، یہ راستے شہد کی مکھی کے لیے آسان فرما دئیے تھے، جب وہ پھلوں سے رس چوس کر آتی ہے تو چوسا ہوا مواد ان چھتوں میں جمع کرتی ہے جو پہلے سے بنا رکھے تھے، یہ جمع شدہ مواد جسے شہد کی مکھیاں چوس چوس کر لاتی ہیں عسل یعنی شہد ہے اس کو پیتے ہیں یہ میٹھی مقوی چیز ہے اور اس کا رنگ بھی مختلف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–83
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید
قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔
(ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔
(1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
52:۔ شہد کی مکھی کو وحی کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اس کے دل میں ڈال دی کہ وہ پہاڑوں اور درختوں میں اپنا چھتہ بنائے اور ہر قسم کے پھولوں اور پھلوں سے رس چوس کر کر شہد تیار کرے۔ ” ذللا “ ذلول کی جمع ہے یعنی تابع اور مطیع اور یہ ” سبل ربک “ سے حال ہے۔ شہد کی مکھی جب گشت سے واپس ہوتی ہے تو بھولے بھٹکے بغیر اپنے چھتہ پر آجاتی ہے گویا کہ تمام راستے اس کے فرمانبردار ہیں وہ جس راستہ سے چاہے سیدھی اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہے۔ ” مختلف الوانہ “ شہد کا رنگ موسمی تغیرات اور ماحول کے مختلف الالوان پھولوں اور پھلوں کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے سفید، زرد اور سرخ وغیرہ۔ ” فیہ شفاء للناس “ شہد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(ربط آیات)
شرک اور مشرکین کے رد کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کے متعلق دلائل بیان فرمائے ، ان میں سے پہلے آسمان سے پانی نازل کرنے کا ذکر ہوا ، پھر مویشیوں ، انگوروں اور کھجوروں کا تذکرہ ہوا ، ان کے فوائد بیان کرکے اللہ نے انہیں بطور دلیل ذکر کیا کہ ان چیزوں میں غور وفکر کرکے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی قدرت اور حکمت کو سمجھ سکتے ہیں اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کیسا کمال رکھا ہے جو انسان کے لیے نہایت لذیز اور مشفی مشروب مہیا کرتی ہیں اس سورة کا نام سورة النحل اسی مناسبت سے ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر…
Read the full tafseer →ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۭ يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 69
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ترکیب : ان مفسرہ ہے اتخذی جملہ تفسیر اوحی کی لفظ نحل اگرچہ مذکر ہے۔ مگر معنی کے لحاظ سے مونث کا صیغہ 1 ؎ آیا۔ بیوتا اتخذی کا مفعول ومن الشجر معطوف ہے من الجبال پر ذللا جمع ذلول کی یہ حال ہے ضمیر اسلکی سے یا سبل سے ای اسلکی سبل ربک وانت ذلل منقادۃ اور اسلکی سبل ربک حال کونھا مذللتہ ذللھا اللہ تعالیٰ وسھلھا یخرج جملہ مستانفہ جس میں شہد کی مکھیوں کے الہام کا نتیجہ بتاتا ہے۔
تفسیر : حیوانات میں چرندوں میں سے دودھ کا نکالنا بیان ہوچکا۔ اب پرندوں میں جو کچھ منافع انسان کے لیے رکھے ہیں ان کا ذکر فرماتا ہے یا یوں کہو وہاں چارپایوں سے دودھ نکالنا بیان کیا تھا جن کو انسان دانہ چارہ بھی کہلاتا ہے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلیَ النَّحْلِ اَنِ اتَّحِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوْنَ ۔ ثُّمَ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکَ ذُلُلاً ط یَخْرُجُ مِنْ م بُطُوْنِھَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ فِیْہِ شِفَآئٌ لِّلْنَّاسِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 68۔ 69)
(اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تو پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو چھتیں اٹھاتے ہیں، ان میں چھتے بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں سے رس چوس، پھر اپنے پروردگار کے ہموار راستوں پر چل، یوں نکلتا ہے ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مکھی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی رزاقی اور خلاقی کے دلائل۔
مکھیاں، کیڑے، مکوڑے دیوانہ وار منڈلاتے پھولوں کا طواف کرنے کے ساتھ ساتھ ” Polination “ کا وہ عمل کرتے ہیں جو سب انسان مل کر بھی نہیں کرسکتے۔ ارشاد ربانی ہے :
” تیرے رب نے شہد کی مکھی کو پیغام بھیجا کہ پہاڑوں، درختوں اور بیلوں میں اپنا گھر بنا۔ تمام پھلوں سے رس حاصل کر اور اپنے رب کے دیے ہوئے دستور عمل کو باقاعدگی سے نبھا اور دیکھو تو سہی اس (شہد کی) مکھی کے پیٹ سے رطوبت نکلتی ہے۔ جس کے رنگ طرح طرح کے ہوتے ہیں اور جس میں امراض کی شفا ہے۔ مکھی کے ان اعمال میں ان لوگوں کے لیے اسباق موجود ہیں جو صحیفۂ…
Read the full tafseer →69: ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ (پھر تو ہر قسم (جو مناسب و ضروری) پھلوں میں سے کھا) یعنی تو گھر بنا۔ پھر جو پھل تمہیں پسند ہو
وہ کھا جب کھاچکے تو فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ (پھر اپنے رب کے راستوں پر چل جو آسان ہیں) تو ان راستوں میں داخل ہو جن کا تجھے الہام کیا گیا ہے۔ اور شہدبنانے میں جن کی سمجھ تجھے دی گئی ہے۔ نمبر 2۔ جب تو اپنے چھتوں سے دور مقامات میں پھلوں کو کھائے۔ تو اپنے رب کے بتلائے ہوئے آسان راستوں پر چل کر اپنے گھروں کی طرف لوٹ تو ان راستوں پر چلنے سے راستہ سے نہ بھٹکنے پائے گی۔ ذُلُلاً جمع ذلول کی ہے۔
نحو : یہ سُبُلَ سے حال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان راستوں کو مطیع اور آسان…
Read the full tafseer →(69)” ثم کلی من کل الثمرات “ یہاں کل سے معنی عموم مراد نہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وائوتیت من کل شئی “…” فاسلکی سبل ربک ذللاً “ وہ راستے تیرے گویا یہ طرق کی صفت ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ شہد کی مکھی اپنے سردار کے ملنے کے بغیر آگے چھتے میں نہیں جاسکتی اور دوسرے حضرات کے نزدیک ” ذللاً “ یہ نحل کی صفت ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ اللہ کے حکم کی اطاعت میں لگی رہنا اور اپنے حکم کے زیر اثر راستوں پر چلنا۔ کہنے والوں کا قول ہے کہ مکھیوں کے سردار تمام مکھیوں کو ساتھ لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل ہوجاتے ہیں اور جہاں کہیں وہ رک جاتا ہے تو سب ٹھہر جاتی ہے۔ ” یخرج من بطونھا شراب “ اس سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
68۔ 69۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنی ایک اور عجائب قدرت کا حال بیان فرمایا کہ یہ شہد کی مکھیاں جو کچھ بھی جان رکھتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ پہاڑوں اور درختوں میں جہاں جہاں مناسب سمجھیں اپنے قیام کے لئے گھر بنا لیں یہ مکھی اپنے گھر بنانے میں نہایت ہی سمجھ رکھتی ہے اور اس مضبوطی اور حکمت کے ساتھ اپنا گھر بناتی ہے کہ کیا مجال کہ ذرا بھی سوراخ رہ جائے۔ پھر اللہ پاک نے اس کو طرح طرح کے میوے اور پھلوں سے جنگل اور باغوں میں چل پھر کر کھانے پینے کا حکم دیا اور اسے یہ بھی سمجھ دی کہ اپنے گھر کا رستہ نہ بھولے دور دراز مسافت طے کرنے پر بھی سیدھے اپنے گھر ہی کی طرف واپس آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت : ( 68-69)
اس چھوٹی سی شہد کی مکھی میں بھی غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طریقے سے راہنمائی کی اور اسے (پھولوں کا رس چوسنے کے لئے) پھلواریاں مہیاکیں ‘ پھر ان گھروں کی طرف واپس لوٹنے کے لئے وحی کی جو اس نے اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے تیار کئے تھے۔ وہ شہد کی اس مکھی کے پیٹ سے نہایت لذیذ شہد نکالتا ہے جو زمین اور پھلواری کے مطابق مختلف رنگوں کا ہوا ہے۔ شہد میں لوگوں کے لئے متعدد امراض سے شفا رکھ دی گئی ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی لا محدود عنات اور اپنے بندوں پر اس کے کامل لطف و کرم پر دلالت کرتی ہے ‘ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی سے محبت کی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
شہد شفا ہے
قول باری ہے (یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ فی شفا للناس۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے) اس میں شہد کی طہارت کا بیان ہے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ شہد میں مردہ مکھیاں اور ان کے انڈے بچے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی طہارت کا حکم لگا دیا نیز یہ بتادیا کہ اس میں لوگوں کے لئے شفا کا سامان ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر ایسا جانور جس کے اندرخون نہ ہو اگر وہ پاک چیز میں مرجائے تو اس سے وہ چیز خراب اور ناپاک نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
130۔ شہد کی مکھی میں درس عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تم گھر بنا " یعنی وحی کا لفظ یہاں پر اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی القاء اور الہام کے معنی میں۔ نہ کہ اصلاحی معنوں میں۔ کہ وہ حضرات انبیاء ورسل کے ساتھ خاص ہے۔ اور نبوت و رسالت کی یہ معروف اور اصلاحی وحی حضرات انبیاء ورسل ہی کیلئے مختص ہے۔ اور ان کے سوا کسی اور کو نہیں ہوسکتی۔ بہرکیف یہ امر بھی قدرت کے عجائبات میں سے ایک ہے کہ اس نے شہد کی مکھی کے اس چھوٹے سے وجود کے اندر یہ بات ڈال دی اور اس کو یہ امر القاء کردیا کہ وہ پہاڑوں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی چھتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
شہد کی مکھی کی کاریگری
تشریح : ایک سائنسی عجوبہ دودھ کا ذکر ہوچکا اب یہ ایک اور بہترین سائنسی معجزے کا ذکر قرآن میں کیا جا رہا ہے۔ جو واقعی انسان کے لیے معاشرت، معیشت، محنت، کار کردگی، ، خلوص، محبت، نظم و ضبط، کاریگری اور اللہ کی قربت کا ایک بہترین نمونہ اور بہترین ذریعہ ہے اللہ نے عالم حیوانی میں شہد کی مکھی کو کس قدر اہمیت دی ہے جس کے نام پر ایک سورت کا نام رکھ دیا۔ کیوں نہ ہو ! یہ ہے ہی اس قابل کہ اس کو غوروفکر کا درجہ دیا جائے۔ یہ انسان کو صرف شہد ہی مہیا نہیں کرتی بلکہ بہت سے سبق سکھاتی ہے اور اللہ پر ایمان کو پختہ کرتی ہے۔ سب سے پہلے ہم اس کے خاندان کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ سوشل کیڑا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
ذرا جانوروں ہی کی تخلیق پر غور کرلو کہ ان کے معدے گوبر اور خون سے بھرے ہوتے ہیں مگر انہیں مادوں میں سے ایک حصے کو دودھ بنا دیتا ہے ان کے اندر ایسا نظام بنا دیا ہے کہ خون اور فضلات میں سے صاف ستھرا اور خوشگوار دودھ الگ ہو ، پینے والوں کے لیے ایک بہترین نعمت کی صورت میں نکلتا ہے یعنی ایسی عجیب شئے کہ بہترین غذا بھی ہے اور دوا بھی کہ قدرت نے ہر حیوان کی پہلی غذا یہی مقرر کردی ہے اس لیے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ دودھ پیو دعا کرو ” اللھم بارک لنا فیہ وزدنامنہ “۔ کہ اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت دے اور یہ نعمت اور زیادہ عطا فرما ،
(اچھا اور لذیذ کھانا)
اور اس آیہ مبارکہ سے…
Read the full tafseer →ف 6 شہد کی مکھیاں ایک عجیب و غریب طریقہ سے اپنا کام کرتی ہیں۔ پہلے چھتا بناتی ہیں پھر سب مل کر ایک بڑی مکھی کو اپنا سردار مقرر کرتی ہیں جسے ” یعسوب “ کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماتحت چھتا میں شہد بھرنا شروع کرتی ہیں۔ اسی کی طرف یہاں اشارہ ہے۔ (ابن کثیر)
7 چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات شہد کی مکھیاں رس چوسنے کے لئے بہت دور نکل جاتی ہیں اور پھر بےتکلف اپنے چھتا میں واپس آجاتی ہیں نہ راستہ بھولتی ہیں اور نہ کوئی مکھی اپنے چھتے کے علاوہ دوسرے چھتے میں داخل ہوتی ہے۔ (ابن کثیر)
8 یعنی کوئی شہد سفید ہوتا ہے کوئی سرخ اور کوئی زرد اور یہ اختلاف محض ضائع حکیم کی قدرت کا مظہر ہے۔ (روح)
9 شہد ایک مفید اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(16:28) النحل۔ اسم جنس ۔ شہد کی مکھی۔ مکھیاں۔
اتخذی۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ اتخاد (افتعال) سے اخذ مادہ۔
یعرشون۔ مضارع جمع مذکر غائب باب ضرب ونصر۔ انگور کی بیلوں کے لئے بانس وغیرہ کی ٹٹیاں بناتے ہیں یا ایسی ٹیٹوں پر وہ جو بیلیں چڑھاتے ہیں۔
العرش۔ اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 7:137 ۔
کلی۔ امر واحد مؤنث حاضر ۔ تو کھا۔ اکل یا کل (باب نصر) اکل مصدر۔
اسلکی۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ تو چل سلوک مصدر۔ (باب نصر) ۔
سبل۔ سبیل کی جمع۔ راستے ۔ راہیں۔
ذللا۔ ذلول کی جمع ہے۔ بمعنی نرم۔ مطیع۔ مسخر ۔ آسان۔ ذل سے یہ فاسلکی کی ضمیرکا حال ہے۔
فاسلکی سبل ربک ذللا ط۔ پھر بڑی تابعداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 70
اوحی وحی کی ، الہام کیا۔ النخل شہد کی مکھی۔ اتخذی تو بنالے۔ بیوت گھر۔ یعرشون وہ لوگ اونچا اٹھاتے ہیں۔ کلی (مونث) تو کھالے اسلکی تو چل۔ سبل (سبیل) راستے۔ ذلیل آسان کئے ہوئے، ہموار۔ شفاء شفا ہے، صحت ہے۔ یتوفی وہ موت دیتا ہے۔ یرد لوٹایا جاتا ہے۔ ارذل العمر نکمی عمر، بےفائدہ زندگی ۔ لکی لایعلم تاکہ وہ نہ جانے۔
تشریح آیت نمبر 68 تا 70
گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ انسان اگر اس کائنات کی ایک ایک چیز پر غور کرے گا تو اس کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کائنات خود بخود نہیں چل رہی ہے بلکہ اس کو چلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
شہد کی مکھی کا بیان
اللہ پاک نے اس آیت میں ایک اور عجائب قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ یہ شہد کی مکھیاں جو کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ پہاڑوں اور درختوں میں جہاں جہاں مناسب سمجھیں اپنے قیام کے لئے گھر بنا لیں۔ یہ مکھی اپنے گھر بنانے میں نہایت سمجھ رکھتی ہے۔ پھر اللہ پاک نے اس کو طرح طرح کے میوے اور پھلوں سے جنگل اور باغوں میں چل پھر کر کھانے پینے کا حکم دیا اور اسے یہ بھی سمجھ دی کہ اپنے گھر کا رستہ نہ بھولے۔ اور اس کے پیٹ میں سے رنگ برنگ کا شہد نکلتا ہے۔ سبحان اللہ ! کیا اس کی حکمت ہے کہ ایسی بےحقیقت مکھی سے اتنا بڑا کام لیا۔ پھر فرمایا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
[38] شہد کی مکھی کی یہ صنعت گری جدوجہد، نظم و ضبط اور سرگرمی کا ایک پورا سلسلہ ہے جو عرصے تک جاری رہتا ہے اس لئے اس کے کاموں کو سبل سے تعبیر کیا یعنی عمل کی راہوں سے۔ یعنی اس کے لئے جو راہ عمل ٹھہرا دی گئی ہے اس پر ٹھیک ٹھیک چلتی رہتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ذرا بھی ادھر ادھر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
شہد کی مکھی اور یورپ !
(ف 1) عجائب مخلوقات میں سے شہد کی مکھی بھی ہے جو پتے پتے پر بیٹھتی ہے اور پھول پھول سے رس حاصل کرتی ہے اور بڑی محنت سے شہد مہیا کرتی ہے ، اللہ نے اسے شہد اکٹھا کرنے کا عجب سلیقہ عطا کیا ہے ، تم اگر اس کی فراست اور کوشش کو دیکھو تو حیران رہ جاؤ کہ کس طریق سے وہ شجر سے استفادہ کرتی ہے اس کا چھتہ اور اس کے مسدس خانے حیرت انگیز صنعت کاری ہے ۔
قرآن حکیم نے سب سے پہلے شہد کی مکھی کے عجائبات کی جانب توجہ دلائی ہے مسلمان اس سے غافل رہے ، حالانکہ قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اس کے مطالعہ میں غور وفکر کا وافر سامان موجود ہے مگر یورپ نے شہد کی مکھی پر سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں عجیب…
Read the full tafseer →69 ۔ پھر ہر قسم کا پھلوں کو چوستی اور کھاتی پھر اور ان پھلوں سے جو تیرے لئے پسندیدہ ہوں غذا حاصل کر اور اپنے چھتے کی طرف واپس آنے کے لئے اپنے رب کے راستوں پر مطلع و منقادبن کر چلی آ اور آسان اور سہل راستے اختیار کر ان مکھیوں کے پیٹوں میں سے پینے کی چیز نکلتی ہے یعنی شہد جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اس سے مرض اچھے ہوتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے ۔ اس چیز میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے انعامات کی بڑی دلیل ہے جو غور و فکر کرتے ہیں ۔ یعنی مکھیوں کو شہدجمع کرنے کا طریقہ سکھایا اور چھتہ بنایا بتایا جس کا ہر خانہ ایک مسدس اور متساوی الاضلاع ہوتا ہے اور اس میں کوئی فرجہ نہیں ہوتا۔
شہد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
ف 3۔ نشہ کی چیز اس میں دو قول ہیں اول یہ کہ نزول آیت کے وقت مسکرات حرام نہ تھے کیونکہ آیت مکی ہے اس لیے امتنان فرمایا لیکن چونکہ حرام ہونے والے تھے اس لیے اس کو حسن وغیرہ کے ساتھ موصوف نہ کیا جیسا رزق کو کیا ہے دوسرا قول یہ کہ گونزول آیت کے وقت مسکرات حرام بھی ہوگئے ہوں اس احتمال پر کہ شاید یہ آیت مدنی ہو لیکن یہاں امتنان حسی مقصود نہیں تاکہ حلت پر موقوف ہو بلکہ امتنان معنوی یونی استدلال علی التوحید ہے۔
Read the full tafseer →شہد کی مکھی سے کہا جا رہا ہے پھولوں سے رس چوس کر اپنے کارخانہ میں شکر پیدا کر :
79۔ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرو کس طرح یہ معاملہ کے دقائق واضح کردیتے ہیں ؟ چونکہ شہد کی مکھی کی یہ صنعت گری جدوجہد ‘ نظم وانضباط اور سرگرمی اور باقاعدگی کا ایک پورا سلسلہ ہے جو ایک عرصہ تک جاری رہتا ہے اور یکے بعد دیگرے بہت سی منزلوں سے گزر کر مکمل ہوتا ہے اس لئے اس کے کاموں کو (سبل) سے تعبیر کیا یعنی عمل کی راہوں سے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” فاسلکی سبل ربک “۔ اور پھر چونکہ اس بات پر توجہ دلانا مقصود تھا کہ جو راہ عمل ٹھہرا دی گئی ہے اس پر ٹھیک ٹھیک چلتی رہتی ہے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ ذرا بھی ادھر ادھر…
Read the full tafseer →The second instruction appears in: ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ (Then, eat from all the fruits) where the bee is being commanded to suck juices from fruits and flowers as it desires and likes. No doubt, what is said here is: مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ (from all the fruits). But, obviously, the word: کُلّ (kull) used here does not mean the fruits and flowers of the whole world. Instead of that, it means those within easy reach, and which serve the desired purpose. This word: کُلّ (kull) has also appeared in relation to the event concerning the queen of Saba' where it was said: وَأُوتِيَتْ…
Read the full tafseer →57.“Follow the ways of your Lord”means work in accordance with the methods which have been taught to thee by Allah’s wahi for the smooth running of hive life. It is Allah’s wahi (instinctive inspiration) that has taught the bees how to build their wonderful factory with separate combs to rear brood, combs to turn nectar into honey, combs to store food, in short, separate combs to fulfill every aspect of hive life. It is wahi that has taught the bees how to organize themselves into a cooperative society for collective effort to run the factory with the queen and thousands of workers to perform…
Read the full tafseer →