Explained with ayahs 43–44
انسان اور منصب رسالت پر اختلا
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ فرماتا ہے آیت (اکان للناس عجبا) الخ، کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے۔ اور فرمایا ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے ؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
سورة النَّحْل 40
تشریح و توضیح صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی، اور اپنی رہنمائی میں ایک پوری مسلم سوسائٹی کی تشکیل کر کے بھی، اور ”ذکر الہٰی“ کے منشاء کے مطابق اس کے نظام کو چلا کر بھی۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے وہ حکمت بیان کردی ہے جس کا تقاضا یہ تھا کہ لازما ایک انسان ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا جائے۔ ”ذکر“ فرشتوں کے ذریعہ سے بھی بھیجا جاسکتا تھا۔ براہ راست چھاپ کر ایک ایک انسان تک بھی پہنچایا جاسکتا تھا۔ مگر محض ذکر بھیج دینے سے وہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا تھا جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت اور ربوبیت اس کی تنزیل کی متقاضی تھی۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ اس ”ذکر“ کو ایک…
Read the full tafseer →قرآں فہمی کے لئے حدیث رسول کریم ﷺ ضروری ہے حدیث کا انکار درحقیقت قرآن کا انکار ہے
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ للنَّاسِ اس آیت میں ذکر سے مراد باتفاق قرآن کریم ہے اور رسول کریم ﷺ کو اس آیت میں مامور فرمایا ہے کہ آپ قرآن کی نازل شدہ آیات کا بیان اور وضاحت لوگوں کے سامنے کردیں اس میں اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف اور احکام کا صحیح سمجھنا رسول کریم ﷺ کے بیان پر موقوف ہے اگر ہر انسان صرف عربی زبان اور عربی ادب سے واقف ہو کر قرآن کے احکام کو حسب منشاء خداوندی سمجھنے پر قادر ہوتا تو رسول کریم ﷺ کو بیان و توضیح کی خدمت سپرد کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے۔
علامہ…
Read the full tafseer →بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ۭ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۔
بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ، یعنی یہ رسول جو آتے رہے ہیں دلائل اور صحیفوں کے ساتھ ہی آتے رہے ہیں، عذاب الٰہی لے کر نہیں آتے رہے ہیں جس کا مطالبہ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ۔۔ الایۃ یعنی جس طرح ہم نے پچھلے رسولوں کو دلائل اور صحیفوں کے ساتھ بھیجا اسی طرح تم پر بھی اپنی یاد دہانی (کتاب) اتاری تاکہ تم لوگوں پر اس چیز کو اچھی طرح واضح کردو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے اور وہ اختلاف رفع ہو جس میں وہ اپنے دین سے متعلق مبتلا ہوگئے تھے۔ اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
43۔ 1 اَ ھْلُ الذِّکْر سے مراد اہل کتاب ہیں جو پچھلے انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، وہ انسان ہی تھے اس لئے محمد رسول اللہ بھی اگر انسان ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ تم ان کی بشریت کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کردو۔ اگر تمہیں شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء بشر تھے یا ملائکہ ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو پھر بیشک انکار کردینا، اگر وہ بھی انسان ہی تھے تو پھر محمد رسول اللہ کی رسالت کا محض بشریت کی وجہ سے انکار کیوں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
19: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ آیت ان صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کفار کے ظلم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ البتہ اس میں جو عام الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کرے۔ اور آخر میں جو فرمایا گیا کہ ”کاش یہ لوگ جان لیتے“۔ اس سے مراد بظاہر یہ مہاجرین ہی ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اس اجر کا علم ہوجائے تو بےوطن ہونے سے انہیں جو تکلیف ہو رہی ہے وہ بالکل باقی نہ رہے۔ اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد کافر لوگ ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ کاش اس حقیقت کا علم ان کافروں کو بھی ہوجائے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔
نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔
فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔
ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں…
Read the full tafseer →8 یعنی معجزات اور وہ علوم جو اوراق میں لکھے جاتے ہیں۔
9 " یادداشت " سے مراد ہے قرآن کریم جو اگلی امتوں کے ضروری احوال و شرائع کا محافظ، انبیائے سابقین کے علوم کا جامع، اور ہمیشہ کے لیے خدائی احکام اور فلاح دارین کے طریقوں کو یاد دلانے والا اور خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح پہلے رسول بھیجے گئے، کتابیں اتاری گئیں، آج تم کو (اے محمد ﷺ ہم نے ایسی کتاب دے کر بھیجا جو تمام کتب سابقہ کا خلاصہ اور انبیائے سابقین کے علوم کی مکمل یادداشت ہے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اس کتاب کے مضامین خوب کھول کر بیان فرمائیں اور اس کی مشکلات کی شرح اور مجملات کی تفصیل کردیں۔…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ
یہاں قرآن کے لیے پھر لفظ ”الذکر“ استعمال ہوا ہے ‘ یعنی یہ قرآن ایک طرح کی یاد دہانی ہے۔ یہ آیت منکرین سنت و حدیث کے خلاف ایک واضح دلیل فراہم کرتی ہے۔ اس کی رو سے قرآن کی ”تبیین“ رسول کا فرض منصبی ہے۔ قرآن کے اسرار و رموز کو سمجھانا اس میں اگر کوئی نکتہ مجمل ہے تو اس کی تفصیل بیان کرنا ‘ اگر کوئی حکم مبہم ہے تو اس کی وضاحت کرنا رسول اللہ کا فرض منصبی تھا۔ یہ فرض اس آیت کی رو سے خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو تفویض کیا ہے ‘ مگر منکرین سنت آج آپ کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کی رائے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
44۔ الف اہل الذکر کون ہیں :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کا لفظ نہیں بلکہ ذکر کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس سے پہلی آیت میں بھی اہل کتاب کا لفظ استعمال نہیں فرمایا بلکہ اہل الذکر کا استعمال فرمایا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ذکر اور کتاب یا قرآن دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس فرق کی وضاحت کے لیے سورة الحجر کا حاشیہ نمبر 5 ملاحظہ فرمائیے۔ مختصراً یہ کہ ذکر میں اللہ کی کتاب کے علاوہ وہ بصیرت بھی شامل ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کو کتاب کے بیان کے سلسلہ میں عطا کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اہل الذکر سے مراد دینی علوم کے ماہر ہیں اور ذکر سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہے یعنی کتاب اللہ کے علاوہ…
Read the full tafseer →64۔ خطاب مشرکین عرب سے ہے۔ اور ان سے ارشاد یہ ہورہا ہے کہ جنہیں تم بھی اہل علم سمجھتے ہو، یعنی اہل کتاب یہود ونصاری، ذرا انہی سے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ گچھ کرکے اپنا اطمینان کرلو، مسئلہ رسالت میں، اور بشر ہی کے رسول ہونے میں تو وہ بھی مسلمانوں ہی کے ہم زبان ہیں۔ (آیت) ” اھل الذکر “۔ کے معنی اہل کتاب کے، صحابہ تابعین، ائمہ لغت و اکابر مفسرین سب سے منقول ہیں۔ اے اھل الکتاب من الیھود والنصاری (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ والحسن والسدی) واھل الذکر اھل الکتاب وقیل للکتب الذکر لانہ موعظۃ وتنبیہ للغافلین (کشاف) الذکر الکتاب فیہ تفصیل الدین ووضع الملل (قاموس) وکل کتاب من الانبیاء ذکر (تاج) الذکر الکتب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی…
Read the full tafseer →بالبنیت والزبر (ہم نے مردوں کو پیغمبر بنا کر بھیجا) کھلے معجزات اور کتابوں کے ساتھ۔
وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم اور ہم نے آپ پر بھی ایک نصیحت نامہ (یعنی قرآن مجید) اتارا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کر اس کا اظہار کردیں جو (آپ کے ذریعہ سے) ان کے پاس بھیجا گیا ہے۔ مَا نُزِّلَ سے مراد ہے : ثواب کا وعدہ ‘ عذاب کی وعید ‘ احکام اور مجمل قوانین۔ بیان ( جس کا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے) قولی بھی تھا ‘ عملی بھی اور تقریری بھی ‘ اس کو تو بیان صریح کہا جاتا ہے۔ بیان کی دوسری قسم غیر صریحی ہے ‘ جیسے رسول اللہ ﷺ نے قیاس کرنے کا حکم دیا ہے (پس مقیس علیہ میں تو صریحی بیان ہوتا ہے اور مقیس…
Read the full tafseer →(44) اور آپ پر بھی یہ قرآن حکیم جبریل امین ؑ کے ذریعے اتارا گیا ہے تاکہ لوگوں کے لیے قرآن حکیم میں جو احکام بیان کیے گئے، آپ ان کو ان کے سامنے بیان کردیں اور تاکہ وہ احکام قرآنیہ میں غور کیا کریں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ : ”وَالزُّبُرِ“ ”اَلزَّبُوْرُ“ کی جمع ہے، بمعنی ”مَزْبُوْرٌ“ یعنی مکتوب۔ ”بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ“ یہ جار مجرور گزشتہ آیت کے دو افعال میں سے کسی ایک کے متعلق ہوسکتا ہے، یا تو ”وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا“ میں ”اَرْسَلْنَا“ کے متعلق، یعنی ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد واضح دلائل اور کتابیں دے کر، یا ”فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ“ میں ”فَسْئَلُوا“ کے متعلق، یعنی اگر تم نہیں جانتے تو ذکر والوں سے واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ پوچھ لو۔ (طنطاوی)
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ۔۔ : ”الذِّكْرَ“ کی تفسیر کے لیے اسی سورة حجر کی آیت (9) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
قولہ تعالیٰ : وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم قرأۃ العامہ یوحی یعنی یا کے ساتھ اور حا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اور حفص نے حضرت عاصم (رح) سے نوحی الیھم نون عظمت اور ھا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جس وقت انہوں نے حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور کہا : اللہ تعالیٰ اس سے عظیم تر ہے کہ اس کا رسول بشر (انسان) ہو پس اس نے ہماری طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ساتھ ان کا جواب دیا : وما ارسلنا من قبلک اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی امم ماضیہ کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے مگر آدمی (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب کے لوگوں نے اس کا انکار کیا اور ان میں سے جنہوں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند تر ہے کہ ان کا رسول ایک بشر ہو محمد ﷺ کی طرح تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم “ (یونس آیت 2) نازل فرمائی اور (مزید) فرمایا (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ یعنی پوچھ لوجاننے والوں سے اور پہلے کتابوں کے حاملین سے کیا رسول بشر تھے جو ان کے پاس آئے یا فرشتے تھے ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو تمہارے پاس بھی…
Read the full tafseer →[بِالْبَيِّنٰتِ : (جن کو بھیجا) واضح (نشانیوں کے) ساتھ ] [ وَالزُّبُرِ ۭ: اور صحیفوں کے ساتھ ] [ وَانزَلْنَآ : اور ہم نے اتارا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ الذِّكْرَ : اس یاد دہانی (یعنی وحئی غیر متلو) کو ] [ لِتُبَيِّنَ : تاکہ آپ ﷺ واضح کریں ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ مَا : اس کو جو ] [ نُزِّلَ : نازل کیا گیا ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف (یعنی ان کے واسطے)] [ وَلَعَلَهُمْ : اور شاید وہ لوگ ] [ يَتَفَكَّرُوْنَ : غور و فکر کریں ]
(آیت۔ 44) وَمَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ میں۔ اِلَیْھِمْ دراصل لَھُمْ کے معنی میں ہے۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 44 کے دوسرے جز میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مامور فرمایا ہے…
Read the full tafseer →(بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ) جار مجرور کس سے متعلق ہے اس کے بارے میں مفسرین نے کئی باتیں لکھیں ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ (وَمَآ اَرْسَلْنَا) سے متعلق ہے یعنی وما ارسلنا الا رجالا بالبینات والزبر اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں انزلنا مقدر ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں ارسلنا مقدر ہے یعنی اَرْسَلْنَاک بالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ کہ ہم نے آپ کو کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ اور ان مضامین کے ساتھ بھیجا جو کتب سابقہ میں بیان کیے گئے ہم نے ترجمہ اسی کے مطابق کیا ہے اس صورت میں (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ ) ارسلنا مقدر پر معطوف ہوگا۔
منکرین حدیث کی تردید
(وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
پانچواں شبہ
قال اللہ تعالیٰ : وما ارسلنا من قبلک الا رجالا .... الیٰ .... ولعلہم یتفکرون۔
(ربط) اس آیت میں کافروں کے اس شبہ کا جواب دیتے ہیں جو وہ کہا کرتے تھے کہ پیغمبر بشر نہیں ہوتا بلکہ فرشتہ ہونا چاہئے۔ یہ لوگ رسالت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے اس لیے ایسا کہتے تھے حق تعالیٰ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جتنے پیغمبر ہم نے پہلے بھیجے وہ سب بشر تھے اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو اہل علم سے دریافت کرلو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی ہدایت کے لیے فرشتے نازل نہیں کئے، بلکہ انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا اور ان کی صداقت کے لیے ان کو معجزات عطا کیے چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں بھیجا ہم نے رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
35:۔ ترغیب الی القرآن ہے یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپ مسئلہ توحید ان کو کھول کر بتائیں اور ان کو خوب سمجھائیں۔ ” اَ فَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوْا الخ “ ازالہ شبہ اور ترغیب کے بعد معاندین کو تخویف دنیوی سنائی۔ یعنی جو لوگ اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر وقت نئے نئے پروگرام اور منصوبے بناتے رہتے ہیں وہ ہمارے عذاب سے بےخوف اور مطمئن نہ ہوجائیں۔ انہیں ڈرنا چاہئے کہ مبادا انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے۔ اچانک کسی طرف سے ان پر کوئی آسمانی آفت ٹوٹ پڑے، کسی سفر ہی میں عذاب الٰہی انہیں گھیر لے یا مال مویشی اور زراعت کی تباہی سے انہیں نقصان اٹھانا پڑے۔ ” فَاِنَّ رَبَّکُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(ربط آیات)
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس باطل عقیدے کا رد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے یعنی وہ ہمیں زبردستی شرک سے روک دیتا اور اگر نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی پسند کا کام کر رہے ہیں ، پھر اللہ نے ہر امت میں رسول بھیجنے کا ذکر کیا جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور طاغوت کی پرستش سے اجتناب کریں ، اس کے بعد اللہ نے نافرمانوں کے انجام کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو لو کہ جھٹلانے والوں کا کتنا عبرتناک انجام ہوا ۔
پھر گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بیان فرمایا اور آپ کو…
Read the full tafseer →بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ۭ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ 44
بينات
يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] ، وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] ، ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] ، قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ، قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ، وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وما ارسلنا من قبلک الخ ان آیتوں میں پھر اسی بات کی طرف رجوع ہے کہ جس کی وجہ سے مشرکین عرب مسلمانوں اور نبی (علیہ السلام) کو تکلیفیں دیتے تھے جن پر صبر اور برداشت اور توکل کا ان کو پچھلی آیت میں حکم دیا گیا تھا۔
اور وہ بات یہ تھی کہ عرب کے لوگ حضرت ﷺ کا وعظ سن کر جس میں حرام اور ناپاک اور مکروہ افعال کی مذمت اور بت پرستی کی قباحت اور مکارم اخلاق کی تاکید تھی یہ کہتے تھے کہ اگر خدا کو ہمیں سمجھانا ہی مقصود تھا تو ہمارے پاس آسمان سے فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا ؟ چناچہ یہ شبہ ان کا مع الجواب قرآن مجید میں اور مقامات پر بھی ذکر ہوا ہے۔ اب اس شبہ کا اس آیت میں یوں جواب دیتا ہے کہ چند در چند اسرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْ ٓ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ط وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 43۔ 44)
(اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ سے پہلے ( رسول بناکر) مگر مردوں کو، ہم ان کی طرف وحی بھیجتے ہیں، پس تم پوچھو اہل علم سے، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (پہلے رسولوں کو بھی ہم نے) روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا۔ اور اسی طرح ہم نے آپ ﷺ پر یہ ذکر نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو ان کی طرف نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدۂ توحید اور آخرت کے انکار کے ساتھ اہل مکہ اس بات کے بھی منکر تھے کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا۔
قرآن مجید نے توحید اور عقیدہ آخرت کے دلائل دینے کے ساتھ اس بات کے شرعی، عقلی، نقلی اور تاریخی حوالہ جات کے ساتھ درجنوں دلائل دیے ہیں کہ رسول آخر الزماں ﷺ عبد، بشر اور آدمی ہیں۔ آپ سے پہلے جتنے رسول مبعوث کیے گئے۔ وہ عبد، بشر اور آدمی تھے۔ یہاں مختصر جواب یہ دیا گیا ہے کہ دلائل اور حقائق دینے کے باوجود رسالت مآب ﷺ کے منکروں کو کھلی دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی تسلی کے لیے اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے جو رسول آئے وہ جنس کے اعتبار سے آدمی تھے یا کوئی اور ؟ حقیقت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →تمام انبیاء ( علیہ السلام) انسان تھے :
44: بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ (دلائل اور کتابوں کے ساتھ) واضح معجزات اور کتابوں کے ساتھ۔ : باء یہ رجالاً سے متعلق ہے اور اس کی صفت ہے۔ ای رجالا ملتبسین بالبینات ایسے مرد جو دلائل واضحہ کے ساتھ ملتبس تھے۔ نمبر 2۔ نوحی سے متعلق ہے نوحی الیھم بالبینات ہم ان کی طرف واضح دلائل کے ساتھ وحی کرتے رہے۔ نمبر 3۔ لاتعلمون سے متعلق ہے۔ اگر تم دلائل و کتابوں کو نہیں جانتے۔ اور فاسألوا اہل الذکر یہ تمام صورتوں میں جملہ معترضہ ہے۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ (اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت اتاری) الذکر سے قرآن مراد ہے۔ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ (تاکہ…
Read the full tafseer →(44)” بالبینات والزبر “ اس کا تعلق ما قبل آیت ” وما ارسلنا “ کے ساتھ ہے۔ پھر اس صورت میں عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تم سے پہلے واضح نشانیاں اور کتابیں نہیں بھیجیں اور جن کی طرف بھیجی گئیں وہ کیا مرد نہیں تھے ؟ اور ہم نے اس سے پہلے بھی فرشتے نہیں بھیجے اور بعض نے کہا کہ اس کی تاویل یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد جن کی طرف ہم وحی کرتے ہیں۔ ہم نے ان کو بھیجا ہے واضح دلائل اور کتابیں دے کر۔ ” وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم “ اس ذکر سے مراد وحی ہے اور نبی کریم ﷺ وحی کو بیان کرنے والے ہیں اور اسی کتاب کی وضاحت سنت سے معلوم ہوتی ہے۔ ” ولعلھم یتفکرون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 44۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ پاک نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو اہل عرب نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کا رسول آدمی ہو فرشتے کو کیوں نہیں ہمارے پاس رسول بنا کر بھیجا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی 1 ؎۔ اور فرمایا کہ یہ تو اللہ کی ہمیشہ سے عادت ہے کہ جتنے رسول اس نے بھیجے ہیں وہ سب آدمی تھے کوئی فرشتہ نہ تھا پھر اس کے بعد مشرکوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی تھے یا فرشتے اگر وہ کہیں کہ فرشتے تھے تو محمد ﷺ کی نسبت تمہارا اعتراض بجا ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ نہیں وہ رسول بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت : (43-44)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وما ارسلنا من قبلک الا رجالا) ” نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو “ یعنی آپ ﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں۔ پس آپ سے پہلے ہم نے فرشتوں کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ کامل ترین انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور اسی طرح عورتوں میں سے بھی کسی عورت کو رسول نہیں بنایا۔ (نوحی الیھم) ” وحی کرتے تھے ہم ان کی طرف “ ہم ان رسولوں کی طرف شریعت اور احکام وحی کرتے تھے جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔
(فسئلوا اھل الذکر) ” پس پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے “ یعنی اہل کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →88۔ پیغمبر کا کام حق کو کھول کر بیان کردینا اور بس : اور پیغمبر کا وہ بیان ہی حدیث کہلاتا ہے۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ حدیث رسول قرآن کی سب سے پہلی اور سب سے اہم تفسیر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام۔ کی تعلیم وتبین کے بغیر قرآن پاک کو از خود نہیں سمجھا جاسکتا۔ اور پیغمبر نے اس کتاب حکیم کی جو تعلیم وتبیین فرمائی وہی حدیث رسول ہے۔ خواہ وہ قول وعمل سے ہو یا تقریر واثبات سے کہ یہ سب ہی حدیث کی مختلف قسمیں ہیں۔ جیسا کہ حضرات اہل علم کے یہاں مشہور و معروف ہے۔ سو حدیث رسول قرآن حکیم کی سب سے پہلی۔ سب سے بڑی اور سب سے اہم اور یقینی تفسیر ہے اس لئے حدیث رسول قطعی طور پر حجت ہے۔ پس جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
رسول آئے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے
تشریح : یہاں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ جو کفار ہمیشہ کہتے آئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کو ہی کیوں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا فرشتے کو کیوں نہ بھیجا گیا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” پیغمبر، رسول اور نبی ہمیشہ انسان ہی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پچھلے لوگوں ( اہل کتاب) کسی سے بھی پوچھ لو یہی جواب ملے گا کہ ہمیشہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول بنائے گئے، اس میں مصلحت یہی ہے کہ انسان ہی انسان کو علم اور عمل کے ذریعے اللہ کا وہ پیغام اچھی طرح سمجھا سکتا ہے کوئی دوسری مخلوق یہ کام نہیں کرسکتی۔
یہاں سنت رسول، سیرت مبارکہ، احادیث رسول اور شریعت کی اہمیت بھی واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔
(ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ)
ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ،…
Read the full tafseer →ف 9 اس آیت میں ” الذکر “ یعنی قرآن کے نازل کرنے کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت اپنے قول و عمل سے اس کی توضیح و تشریح فرمائیں کیونکہ آنحضرت کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کے مجملات کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ مثلاً نماز، زکوۃ اور دیگر احکام اسی بنا پر آنحضرت نے فرمایا : الا انی اوتیت القرآن و مثلہ معہ کہ خبردار ! مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز یعنی سنت دی گئی ہے۔ پس قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کیلئے سنت سے بےنیازی اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ (از وحیدی)
Read the full tafseer →(16:44) بینت۔ بمعنی معجزات و شواہد صدق پیغمبر ۔ واضح دلائل۔
الزبر۔ الکتاب۔ کتابیں۔ اس کا واحد زبور ہے۔
بالبیت والزبر۔ اس کے متعلقات کے متعلق متعدد اقوال ہیں۔ لیکن آیت کے سیاق وسباق سے اس کا تعلق ارسلنا ہی سے ہے کہ جو انبیاء بھیجے گئے ان کی تائیدو تصدیق روشن دلائل اور معجزات سے بھی کی گئی۔ اور احکام شرعیہ جن کی انہوں نے تبلغ کی۔ وہ اس کتاب الہٰیہ میں بیان کئے گئے جو ان کو دی گئی۔ ای ارسلنا ہم بالبینت والزبر۔
الذکر۔ یہاں اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ نصیحت نامہ۔
لتبین۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ تبین۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تاکہ تو بیان کرے (کھول کھول کر)
یتفکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب (تاکہ ) وہ غوروخوض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50
نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ پاک نے پہلے رسولوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو معجزے اور کتابیں دے کر بھیجا تھا اور آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم تہماری طرف بھی کتاب اتارتے ہیں تم اسے کھول کر انہیں سمجاؤ شاید یہ لوگ کچھ فکر کریں اور گمراہی سے نکل کر راہ حق کی طرف آنے کی کوشش کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
[25] یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ نبی ﷺ کی حیثیت حامل وحی یا '' خط رساں '' ہی کی نہیں بلکہ شارح کی بھی ہے تاکہ آپ اپنے قول و عمل سے قرآنی تعلیمات کی تشریح و توضیح بھی کرتے رہیں۔ اس سے خود بخود یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت قرآن کی مستند سرکاری تشریح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
(ف 1) مکہ والوں کا خیال تھا کہ انبیاء کو فوق البشر ہونا چاہئے انسان اس قابل نہیں کہ نبوت کے خلعت کو زیب تن کرسکیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بار بار اس اعتراض کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ انبیاء ہمیشہ بشر اور انسان ہوتے ہیں چناچہ اس آیت کا مقصد بھی یہی ہے ، کہ تاریخ رشد وہدایت میں پیغمبر انسانی لباس میں آتے ہیں ، اہل کتاب سے پوچھو ، دلائل وبراہین کی روشنی میں غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس حقیقت میں کس قدر صداقت ہے ،
(آیت) ” لتبین للناس “۔ سے معلوم ہوا کہ تفصیلات کو دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے ، اور تفصیلات کا پہنچانا حضور ﷺ کے ذمے ہے ، قرآن احکام الہی کو بیان کرتا ہے اور اسوہ…
Read the full tafseer →44 ۔ اور اے پیغمبر ہم ہی نے آپ کی جانب یہ قرآن کریم نازل فرمایا ہے تاکہ جو احکام لوگوں کے لئے نازل کئے گئے ہیں ان کو آپ واضح طور پر صاف صاف لوگوں کے روبرو بیان کردیں اور تا کہ وہ لوگ غور و فکر سے کام لیں اور نصیحت پکڑیں ۔ یعنی جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو دلائل واضحہ اور صحیفے اور کتابیں وغیرہ دیکر بھیجا تھا اسی طرح تم کو بھی یہ قرآن دیکر بھیجا ہے تا کہ آپ وہ تمام احکام جو بنی نوع انسان کے لئے نازل کئے ہیں وہ لوگوں کے سامنے صاف طور پر بیان کردیں اور تاکہ وہ ان احکام میں غور کریں اور ان کو غور و فکر کا موقعہ ملے۔
Read the full tafseer →ف 5۔ غرض یہ کہ جب آپ کی رسالت بھی سنت قدیمہ کے موافق ہے تو پھر انکار کی کیا وجہ اور دعوی تنافی کی کیا دلیل۔
Read the full tafseer →دوسرے نبیوں کو بھی کتابیں دی گئیں اور آپ ﷺ کو ” الذکر “ دیا گیا :
51۔ ایک مسلمانوں کے لئے یہ بھی ضرروی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے صحیفہ وحی پر ایمان لائے ہر چند کہ یہ عقیدہ گزشتہ عقیدہ رسالت کا لازمی نتیجہ ہے یعنی رسول کو رسول مان لینا اس کی تعلیمات اور وحی کو مان لینے کے مرادف ہے تاہم یہ تصریح اس لئے کی گئی تاکہ پوری طرح صاف اور واضھ ہوجائے کہ رسول کو رسول مان لینے کے بعد اس کے صحیفہ وحی کو مان کر اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ کتاب الہی پر ایمان لانے سے مقصود ان تمام صداقتوں اور حکموں کو بجان ودل قبول کرنا ہے جو اس میں مذکور ہیں یہ گویا پوری شریعت مطہرہ کو قبول کرلینے کا مختصر ترین طریقہ…
Read the full tafseer →Hadith is Necessary to Understand Qur'an : The Rejection of Hadith is Really the Rejection of the Qur'an
The word: اَلذِّکر (adh-dhikr) in verse 44: وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ : "And We sent down the Message (adh-dhikr: The Qur’ an) so that you explain to the people," means, by consensus, the Holy Qur’ an - and, in this verse, the Holy Prophet has been given the assignment of explaining the meaning of verses revealed to him before people. Herein lies an open proof that the correct understanding of the realities, insights and injunctions of the Holy Qur'an depends…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
40. In this connection, it is worthwhile to note that this duty of making plain and explaining the teachings of the Book was to be performed by Prophet not only by word of mouth but also practically. It was required that he should organize, under his own guidance, a Muslim community and establish it in accordance with the principles of the Book. This duty of the Prophet (peace be upon him) has been stated here especially to show the wisdom of sending a man as a Messenger, for, otherwise the Book could have been sent through the angels or could have been printed and sent directly to each man.…
Read the full tafseer →