Explained with ayahs 43–44
انسان اور منصب رسالت پر اختلا
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ فرماتا ہے آیت (اکان للناس عجبا) الخ، کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے۔ اور فرمایا ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے ؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 38
یہاں مشرکین مکہ کے ایک اعتراض کو نقل کیے بغیر اسکا جواب دیا جا رہا ہے۔ اعتراض وہی ہے جو پہلے بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) پر ہوچکا تھا اور نبی ﷺ کے معاصرین نے بھی آپ ﷺ پر بارہا کیا تھا کہ تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو، پھر ہم کیسے مان لیں کہ خدا نے تم کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔
سورة النَّحْل 39
یعنی علماء اہل کتاب، اور وہ دوسرے لوگ جو چاہے سکہ بند علما نہ ہوں مگر بہر حال کتب آسمانی کی تعلیمات سے واقف اور انبیاء سابقین کی سرگزشت سے آگاہ ہوں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (یہ منکر لوگ جو آپ کی رسالت ونبوت کا اس بناء پر انکار کر رہے ہیں کہ آپ بشر اور انسان ہیں اور نبی و رسول ان کے نزدیک کوئی انسان و بشر نہ ہونا چاہئے یہ ان کا جاہلانہ خیال ہے کیونکہ) ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف آدمی ہی رسول بنا کر معجزات اور کتابیں دے کر بھیجے ہیں کہ ان پر وحی بھیجا کرتے تھے (تو اے مکہ والو منکرین) اگر تم کو علم نہیں تو دوسرے اہل علم سے پوچھ دیکھو (جن کو انبیاء سابقین کے حالات کا علم ہو اور وہ تمہارے خیال میں بھی مسلمانون کی طرفداری نہ کریں اور اسی طرح آپ کو بھی رسول بنا کر) آپ پر بھی یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جو ہدایات آپ کے واسطے سے) لوگوں کے پاس بھیجی گئی ہیں وہ…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔
منتظرین عذاب کو جواب : یہ ان لوگوں کا جواب ہے جن کا ذکر اوپر آیت 33 میں گزرا ہے کہ وہ منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا اللہ کا عذاب ہی آجائے۔ پہلے پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں سب بشر ہی تھے، بس یہ امتیاز ان کو حاصل ہوتا تھا کہ ان پر ہم اپنی وحی نازل کرتے تھے۔ پھر معترضن کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر تم اس حقیقت سے بیخبر ہو تو جو پہلے کے حاملین کتاب ہیں ان سے پوچھ دیکھو وہ تمہیں بتائیں گے کہ انسانوں کے اندر منصب رسالت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
43۔ 1 اَ ھْلُ الذِّکْر سے مراد اہل کتاب ہیں جو پچھلے انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، وہ انسان ہی تھے اس لئے محمد رسول اللہ بھی اگر انسان ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ تم ان کی بشریت کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کردو۔ اگر تمہیں شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء بشر تھے یا ملائکہ ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو پھر بیشک انکار کردینا، اگر وہ بھی انسان ہی تھے تو پھر محمد رسول اللہ کی رسالت کا محض بشریت کی وجہ سے انکار کیوں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
19: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ آیت ان صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کفار کے ظلم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ البتہ اس میں جو عام الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کرے۔ اور آخر میں جو فرمایا گیا کہ ”کاش یہ لوگ جان لیتے“۔ اس سے مراد بظاہر یہ مہاجرین ہی ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اس اجر کا علم ہوجائے تو بےوطن ہونے سے انہیں جو تکلیف ہو رہی ہے وہ بالکل باقی نہ رہے۔ اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد کافر لوگ ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ کاش اس حقیقت کا علم ان کافروں کو بھی ہوجائے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔
نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔
فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔
ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں…
Read the full tafseer →7 یعنی پیغمبر کے مظلوم ساتھیوں کو جب وہ صبر و توکل کی راہ میں ثابت قدم ہوں، دارین میں غالب و منصور کرنا ہماری کوئی نئی عادت نہیں۔ پہلے بھی ہم نے انسانوں میں سے رسول بھیجے جن کا کام یہ تھا کہ خدا کے احکام اور نیکی بدی کے انجام سے لوگوں کو خبردار کردیں۔ اب اگر تمہیں معلوم نہیں تو جاننے والوں سے جو امم سابقہ اور ان کے پیغمبروں کے تاریخی واقعات کا علم رکھتے ہیں تحقیق کرلو کہ فی الواقع پہلے کچھ آدمی پیغمبری کے منصب پر بینات و زبر (معجزے اور کتابیں) دے کر بھیجے گئے یا نہیں۔ اور یہ کہ ان کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا کیا حشر ہوا۔ اہل حق صبر و توکل کی بدولت کس طرح منصور و کامیاب ہوئے۔ اور ظالم…
Read the full tafseer →آیت 43 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ
یعنی آپ پہلے نبی یا رسول نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں۔ وہ سب کے سب آدمی ہی تھے اور ان کی طرف ہم اسی طرح وحی بھیجتے تھے جس طرح آج آپ کی طرف وحی آتی ہے۔
فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ
یعنی اے اہل مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس بارے میں کچھ شک ہے تو تمہارے پڑوس مدینہ میں وہ لوگ آباد ہیں جو سلسلۂ وحی و رسالت سے خوب واقف ہیں ان سے پوچھ لو کہ اب تک جو انبیاء و رسل اس دنیا میں آئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے یا فرشتے ؟
Read the full tafseer →44 رسول اللہ کا بشر ہونا تاریخی پہلو :۔ یہ بھی مشرکوں کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو پہلے بھی کئی بار مذکور ہوچکا ہے کہ یہ نبی تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ ہماری طرح کھاتا، پیتا، چلتا، پھرتا اور عائلی زندگی گزارتا ہے آخر اس میں وہ کون سی امتیازی صفت ہے کہ ہم اسے اللہ کا رسول تسلیم کرلیں۔ اس اعتراض کے مختلف مقامات پر مختلف پہلوؤں سے جواب دیئے گئے ہیں۔ یہاں صرف تاریخی پہلو کے لحاظ سے جواب دیا جارہا ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب انسان اور مرد ہی ہوا کرتے تھے۔ سیدنا آدم، نوح (علیہ السلام) ، ابراہیم (جن کی اتباع کا مشرکین مکہ دعویٰ کرتے تھے) اسحاق (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ،…
Read the full tafseer →63۔ (نہ کسی فرشتہ، جن، یا فوق البشر، کو رسول بنا کر) مشرکین عرب دیوتا، اوتار وغیرہ کے تخیل سے تو خوب آشنا تھے، لیکن نفس رسالت، یا کسی بشر محض کا پیغمبری سے سرفراز ہوجانا ان کی سمجھ سے باہر تھا، اسی میں وہ بار بار الجھتے تھے، اور ذات مصطفوی پر اپنے نزدیک بڑا اصولی اور گہرا اعتراض یہی کرتے تھے کہ یہ کھاتے پیتے، چلتے پھرتے بشر ہو کر پیغمبر کیسے ہوگئے ؟ یہ انہی منکرین کو سنا کر آنحضرت ﷺ سے ارشاد ہورہا ہے کہ انسانوں کے لئے انسانوں کیلئے سلسلہ نبوت تو ازل سے برابر بشر ہی کے ذریعہ سے قائم ہے۔ (آیت) ” رجالا “ کے لفظ سے، یہ استدلال اور بالکل صحیح استدلال کیا گیا ہے کہ مرتبہ نبوت نبوت مردوں ہی کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی…
Read the full tafseer →وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم اور آپ سے پہلے بھی ہم نے (آدمیوں کے پاس) مردہی پیغمبر بنا کر بھیجے (ملائکہ کو نہیں بھیجا) ہم ان کے پاس (ملائکہ کے ذریعہ سے) وحی بھیجتے رہے۔
فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون پس اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل علم سے پوچھ لو۔ یعنی اگر آدمیوں کے پیغمبرہونے میں تم کو شک ہے تو جن کو کتب سابقہ کا علم ہے ‘ یہودی ہوں یا عیسائی ‘ ان سے دریافت کرلو کہ اللہ نے بنی اسرائیل کے پاس حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ وغیرہ کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا اور ان سے پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت نوح وغیرہ کو ان کی امتوں کی ہدایت کیلئے بھیجا تھا۔
آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جن لوگوں کو علم نہ…
Read the full tafseer →(43) اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے ہی جیسے آدمیوں کو رسول بنا کر بھیجا، انہیں معجزات اور پہلے لوگوں کی خبریں دیں، اور ان پر اوامرو نواہی کے دلائل کی وحی کی، اور یہ بات تورات وانجیل میں بھی موجود ہے، اللہ تعالیٰ صرف انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (109)۔
فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ”اَهْلَ الذِّكْرِ“ سے مراد اہل کتاب یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی یہ بات اگر تمہیں معلوم نہیں کہ پہلے تمام رسول مرد (انسان) ہی تھے تو یہودو نصاریٰ سے پوچھ لو جو انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں اور تم ان پر اعتماد بھی مسلمانوں کی نسبت زیادہ کرتے ہو کہ موسیٰ ، عیسیٰ ، داؤد اور سلیمان وغیرہم فرشتے تھے یا بشر ؟ پھر محمد ﷺ پر یہ اعتراض کیوں کہ یہ نبی انسان کیوں ہے، فرشتہ کیوں نہیں ؟
اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ”اگر تم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت نمبر 43 تا 44
قولہ تعالیٰ : وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم قرأۃ العامہ یوحی یعنی یا کے ساتھ اور حا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اور حفص نے حضرت عاصم (رح) سے نوحی الیھم نون عظمت اور ھا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جس وقت انہوں نے حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور کہا : اللہ تعالیٰ اس سے عظیم تر ہے کہ اس کا رسول بشر (انسان) ہو پس اس نے ہماری طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ساتھ ان کا جواب دیا : وما ارسلنا من قبلک اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی امم ماضیہ کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے مگر آدمی (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب کے لوگوں نے اس کا انکار کیا اور ان میں سے جنہوں نے انکار کیا تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند تر ہے کہ ان کا رسول ایک بشر ہو محمد ﷺ کی طرح تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم “ (یونس آیت 2) نازل فرمائی اور (مزید) فرمایا (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ یعنی پوچھ لوجاننے والوں سے اور پہلے کتابوں کے حاملین سے کیا رسول بشر تھے جو ان کے پاس آئے یا فرشتے تھے ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو تمہارے پاس بھی…
Read the full tafseer →[وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ اِلَّا : مگر ] [ رِجَالًا : کچھ مردوں کو ] [ نُّوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِمْ : جن کی طرف ] [ فَسْـــَٔـلُوْٓا : پس تم لوگ پوچھو ] [ اَهْلَ الذِّكْرِ : یاد دہانی والوں (یعنی اہل کتاب) سے ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ]
(آیت۔ 43) رِجَالًا نکرہ مخصوصہ ہے۔ اس کی پہلی خصوصیت نُوْحِیْ اِلَیْھِمْ ہے اور دوسری خصوصیت بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ہے۔
Read the full tafseer →ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں
ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ ہم نے پہلے جن کو رسول بنا کر بھیجا وہ انسان ہی تھے مشرکین مکہ کو یہ بات مستبعد معلوم ہو رہی ہے کہ ان کے پاس جو رسول آیا وہ انسان ہے حالانکہ رسول اور بشر ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے بلکہ انسانوں کی طرف انسان ہی کا مبعوث ہونا حکمت اور مصلحت کے مطابق ہے پھر فرمایا (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) مفسرین نے فرمایا ہے کہ اہل الذکر سے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مراد ہیں مشرکین مکہ تجارت کے لیے سال میں دو مرتبہ شام جایا کرتے تھے اور مدینہ منورہ میں یہودیوں پر ان کا گزر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
پانچواں شبہ
قال اللہ تعالیٰ : وما ارسلنا من قبلک الا رجالا .... الیٰ .... ولعلہم یتفکرون۔
(ربط) اس آیت میں کافروں کے اس شبہ کا جواب دیتے ہیں جو وہ کہا کرتے تھے کہ پیغمبر بشر نہیں ہوتا بلکہ فرشتہ ہونا چاہئے۔ یہ لوگ رسالت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے اس لیے ایسا کہتے تھے حق تعالیٰ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جتنے پیغمبر ہم نے پہلے بھیجے وہ سب بشر تھے اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو اہل علم سے دریافت کرلو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی ہدایت کے لیے فرشتے نازل نہیں کئے، بلکہ انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا اور ان کی صداقت کے لیے ان کو معجزات عطا کیے چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں بھیجا ہم نے رسول بنا کر…
Read the full tafseer →34:۔ یہ ایک شبہ یا سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا ہم دعوی توحید کو اس لیے نہیں مانتے کہ اس دعویٰ کو لانے والا انسان اور بشر ہے۔ نبوت و رسالت تو بہت بڑا اعزاز ہے جو بشر کو نہیں مل سکتا اس لیے اگر فرشتہ آتا تو ہم اس کی بات مان لیتے۔ فرمایا اس سے پہلے ہم نے جتنے بھی پیغمبر کتابیں اور صحیفے دے کر بھیجے ہیں وہ سب کے سب انسان اور بشر تھے۔ اہل کتاب کے علماء سے پوچھ کر تسلی کرلو وہ بھی تمہیں بتا دیں گے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بشر تھے۔ قال الزجاج فاسئلوا اھل الکتب الذین یعرفون معانی کتب اللہ تعالیٰ فانہم یعرفون ان الانبیاء (علیہم السلام) کلھم بشر (کبیر ج 5 ص 460) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(ربط آیات)
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس باطل عقیدے کا رد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے یعنی وہ ہمیں زبردستی شرک سے روک دیتا اور اگر نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی پسند کا کام کر رہے ہیں ، پھر اللہ نے ہر امت میں رسول بھیجنے کا ذکر کیا جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور طاغوت کی پرستش سے اجتناب کریں ، اس کے بعد اللہ نے نافرمانوں کے انجام کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو لو کہ جھٹلانے والوں کا کتنا عبرتناک انجام ہوا ۔
پھر گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بیان فرمایا اور آپ کو…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 43ۙ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وما ارسلنا من قبلک الخ ان آیتوں میں پھر اسی بات کی طرف رجوع ہے کہ جس کی وجہ سے مشرکین عرب مسلمانوں اور نبی (علیہ السلام) کو تکلیفیں دیتے تھے جن پر صبر اور برداشت اور توکل کا ان کو پچھلی آیت میں حکم دیا گیا تھا۔
اور وہ بات یہ تھی کہ عرب کے لوگ حضرت ﷺ کا وعظ سن کر جس میں حرام اور ناپاک اور مکروہ افعال کی مذمت اور بت پرستی کی قباحت اور مکارم اخلاق کی تاکید تھی یہ کہتے تھے کہ اگر خدا کو ہمیں سمجھانا ہی مقصود تھا تو ہمارے پاس آسمان سے فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا ؟ چناچہ یہ شبہ ان کا مع الجواب قرآن مجید میں اور مقامات پر بھی ذکر ہوا ہے۔ اب اس شبہ کا اس آیت میں یوں جواب دیتا ہے کہ چند در چند اسرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْ ٓ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ط وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 43۔ 44)
(اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ سے پہلے ( رسول بناکر) مگر مردوں کو، ہم ان کی طرف وحی بھیجتے ہیں، پس تم پوچھو اہل علم سے، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (پہلے رسولوں کو بھی ہم نے) روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا۔ اور اسی طرح ہم نے آپ ﷺ پر یہ ذکر نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو ان کی طرف نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدۂ توحید اور آخرت کے انکار کے ساتھ اہل مکہ اس بات کے بھی منکر تھے کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا۔
قرآن مجید نے توحید اور عقیدہ آخرت کے دلائل دینے کے ساتھ اس بات کے شرعی، عقلی، نقلی اور تاریخی حوالہ جات کے ساتھ درجنوں دلائل دیے ہیں کہ رسول آخر الزماں ﷺ عبد، بشر اور آدمی ہیں۔ آپ سے پہلے جتنے رسول مبعوث کیے گئے۔ وہ عبد، بشر اور آدمی تھے۔ یہاں مختصر جواب یہ دیا گیا ہے کہ دلائل اور حقائق دینے کے باوجود رسالت مآب ﷺ کے منکروں کو کھلی دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی تسلی کے لیے اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے جو رسول آئے وہ جنس کے اعتبار سے آدمی تھے یا کوئی اور ؟ حقیقت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →43: جب قریش نے کہا اللہ تعالیٰ اس سے عظیم ترشان والے ہیں کہ کسی بشر کو وہ رسول بنا کر بھیجیں تو یہ آیت اتری وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ ِالَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ (اور آپ سے پہلے بھی ہم نے مرد ہی پیغمبر بنا کر بھیجے ہم ان کی طرف وحی بھیجتے رہے) فرشتوں کے ذریعہ۔
قراءت : نوحی حفص نے پڑھا۔ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ (تم اہل علم سے پوچھ لو) یعنی اہل کتاب تاکہ وہ تمہیں بتلا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی طرف انسانوں کو ہی بھیجا ہے۔ یہاں کتابؔ کو ذکر فرمایا کیونکہ کتاب ہی نصیحت اور غافلین کیلئے تنبیہ کا ذریعہ ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (اگر تم نہیں جانتے)
Read the full tafseer →(43)” وما ارسلنا من قبلک الا رجالاً نوحی الیھم “ یہ مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور وہ کہنے لگے کہ اللہ بہت بڑا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی آدمی اللہ کا پیغمبر نہیں ہوسکتا، اللہ نے ہماری ہدایت کے لیے کسی فرشتے کو کیوں نہیں بھیجا ؟ ” فاسئلوا اھل الذکر “ اس سے مراد اہل کتاب کے مومن مراد ہیں۔” ان کنتم لا تعلمون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 44۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ پاک نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو اہل عرب نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کا رسول آدمی ہو فرشتے کو کیوں نہیں ہمارے پاس رسول بنا کر بھیجا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی 1 ؎۔ اور فرمایا کہ یہ تو اللہ کی ہمیشہ سے عادت ہے کہ جتنے رسول اس نے بھیجے ہیں وہ سب آدمی تھے کوئی فرشتہ نہ تھا پھر اس کے بعد مشرکوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی تھے یا فرشتے اگر وہ کہیں کہ فرشتے تھے تو محمد ﷺ کی نسبت تمہارا اعتراض بجا ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ نہیں وہ رسول بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت : (43-44)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وما ارسلنا من قبلک الا رجالا) ” نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو “ یعنی آپ ﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں۔ پس آپ سے پہلے ہم نے فرشتوں کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ کامل ترین انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور اسی طرح عورتوں میں سے بھی کسی عورت کو رسول نہیں بنایا۔ (نوحی الیھم) ” وحی کرتے تھے ہم ان کی طرف “ ہم ان رسولوں کی طرف شریعت اور احکام وحی کرتے تھے جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔
(فسئلوا اھل الذکر) ” پس پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے “ یعنی اہل کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →86۔ سب پیغمبر بشر اور مرد ہی ہوئے ہیں : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آپ سے پہلے (اے پیغمبر ﷺ کسی کو بھی رسول بناکر نہیں بھیجا سوائے مردوں کے۔ کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان ہی کا رسول بن کر آنا عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ پس ان مشرکین کا آپ ﷺ کی بشریت کاملہ کی بناء پر آپ رسالت حقہ پر اعتراض کرنا سراسر ان کی جہالت و حماقت ہے۔ والعیاذ باللہ۔ معلوم ہوا کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے بشر ہی رسول بن کر آئے ہیں۔ نہ کوئی فرشتہ آیا نہ جن۔ اور نہ ہی کبھی کسی عورت کو اس منصب پر سرفراز فرمایا گیا ہے کہ وہ فطرۃ مرد کے مقابلے میں کمزورمخلوق ہے۔ پس اہل بدعت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
رسول آئے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے
تشریح : یہاں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ جو کفار ہمیشہ کہتے آئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کو ہی کیوں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا فرشتے کو کیوں نہ بھیجا گیا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” پیغمبر، رسول اور نبی ہمیشہ انسان ہی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پچھلے لوگوں ( اہل کتاب) کسی سے بھی پوچھ لو یہی جواب ملے گا کہ ہمیشہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول بنائے گئے، اس میں مصلحت یہی ہے کہ انسان ہی انسان کو علم اور عمل کے ذریعے اللہ کا وہ پیغام اچھی طرح سمجھا سکتا ہے کوئی دوسری مخلوق یہ کام نہیں کرسکتی۔
یہاں سنت رسول، سیرت مبارکہ، احادیث رسول اور شریعت کی اہمیت بھی واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔
(ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ)
ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 8 یعنی وہ تمہیں بتائیں گے کہ دنیا میں جتنے پیغمبر آئے سب کے سب بشر تھے۔ فرشتے یا کسی دوسری مخلوق سے نہ تھے۔ (شوکانی) بعض مقلد حضرات اس آیت سے تقلید کے جائز ہونے پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں اور ” اہل الذکر “ سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو بھی عام مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے علما سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کریں نہ کہ کسی خاص و عام کے مسئلے دریافت کریں۔ (مختصراً از وحیدی)
Read the full tafseer →(15:43) اہل الذکر۔ ای اھل الکتاب۔
قبلک میں ضمیر واحد مذکر کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50
نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے…
Read the full tafseer →قریش مکہ کا اعتراض اور اس کا جواب
شان نزول : کفار مکہ کہا کرتے تھے کہ خدا کو یہ لائق نہیں کہ بشر کو پیغمبر کرکے بھیجے۔ اگر اسے بھیجنا تھا تو فرشتوں کو بھیجتا تاکہ فرشتے خلق اللہ کو پیغمبر کی رسالت کا اقرار کراتے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی فرمایا کہ یہ تو اللہ کی ہمیشہ سے عادت ہے کہ جتنے رسول اس نے بھیجے ہیں وہ سب آدمی تھے کوئی فرشتہ نہ تھا۔ پھر اس کے بعد مشرکوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی تھے یا فرشتے۔ اگر وہ کہیں کہ فرشتے تھے تو محمد ﷺ کی نسبت تمہارا اعتراض بجا ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ نہیں وہ رسول بھی بشر تھے تو تمہارا انکار آنحضرت ﷺ کی رسالت کے…
Read the full tafseer →[24] خطاب مشرکین مکہ سے ہے اور ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ جنہیں تم بھی اہل علم سمجھتے ہو ان سے پوچھ لو کہ رسول انسان ہی ہوتے تھے یا کچھ اور۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
(ف 1) مکہ والوں کا خیال تھا کہ انبیاء کو فوق البشر ہونا چاہئے انسان اس قابل نہیں کہ نبوت کے خلعت کو زیب تن کرسکیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بار بار اس اعتراض کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ انبیاء ہمیشہ بشر اور انسان ہوتے ہیں چناچہ اس آیت کا مقصد بھی یہی ہے ، کہ تاریخ رشد وہدایت میں پیغمبر انسانی لباس میں آتے ہیں ، اہل کتاب سے پوچھو ، دلائل وبراہین کی روشنی میں غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس حقیقت میں کس قدر صداقت ہے ،
(آیت) ” لتبین للناس “۔ سے معلوم ہوا کہ تفصیلات کو دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے ، اور تفصیلات کا پہنچانا حضور ﷺ کے ذمے ہے ، قرآن احکام الہی کو بیان کرتا ہے اور اسوہ…
Read the full tafseer →43 ۔ اور اے پیغمبر ہم نے کسی رسول کو آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہ مرد ہی ہوا کرتے تھے ہم ان رسولوں کی جانب وحی کیا کرتے تھے اور ان رسولوں کو دلائل واضحہ اور کتب سماوی اور صحف آسمانی کے ساتھ کے بھیجا تھا ، سو اگر تم لوگ نہیں جانتے تو یاد زرکھنے والوں سے دریافت کرلو۔ یعنی آپ سے پہلے جس قدر رسول ہم نے بھیجے ہیں وہ سب انسان اور مرد ہوا کرتے تھے جن پر ہم اپنی وحی بھیجا کرتے تھے خواہ فرشتوں کی معرفت یا براہ راست اور بھیجا بھی کرتے تھے تو دلائل واضحہ اور کتب سماوی ۔ اور اوراق آسمانی دیکر بھیجا کرتے تھے اگر تم اس بات سے واقف نہیں ہو تو اہل ذکر یعنی یاد رکھنے والوں سے پوچھ دیکھو خواہ وہ اہل کتاب…
Read the full tafseer →ف 4۔ مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔
Read the full tafseer →ہر آنے والا رسول مرد تھا کسی فرشتہ کو رسول بنا کر کسی قوم کی طرف نہیں بھیجا گیا :
50۔ منکرین رسالت کے کتنے ہی گروہ تھے ، بعض نے تو فی نفسہ نبوت کا انکار کیا اور بعض نے بشر کے رسول ہونے سے انکار کیا اس جگہ انہیں لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے بشر کے رسول ہونے سے انکار کیا تھا ان سے کہا جارہا ہے کہ تم نے یہ عقیدہ کہاں سے اخذ کیا کہ ” اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بڑی بلند ہے کہ وہ کسی بشر کو اپنا رسول بنا کر بھیجے اگر اسے کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو اس کے پاس فرشتوں کی کیا کمی تھی کسی فرشتہ ہی کو رسول بنا کر بھیج دیتا ۔ “ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارا تو شروع ہی سے یہ دستور ہے کہ جب ہم…
Read the full tafseer →Commentary
According to Ruh al-Ma’ ani, it was after the revelation of the first verse cited above that the Mushrikin of Makkah sent their emissaries to the Jews of Madinah to find out if it was true that all earlier prophets had always been from the genus of men.
Though, included under the Qur'anic expression: أَهْلَ الذِّكْرِ (Ahludh-Dhikr) were the people of the Book and believers all together, but it was obvious that the Mushrikin (disbelievers) were to be satisfied only by the statement of non-Muslims - because they themselves were not satisfied with what the Holy Prophet ﷺ was telling…
Read the full tafseer →38. This is the answer to the objection of the mushriks of Makkah (which has not been cited here) that they could not believe that Muhammad (peace be upon him) was a Prophet of God because he was a human being like them. They have been told that the same objection had been raised against all the Prophets who came before him.
39.“Those who possess knowledge”are the scholars of the people of the Books and others, who, though not scholars in the strict sense had sufficient knowledge of the teachings of the revealed Books and were acquainted with the stories of the former Prophets.
Read the full tafseer →