حضرت موسیٰ ؑ کا باقی وعظ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو تم سے پہلے کے لوگوں پر رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسے سخت عذاب آئے ؟ اور کس طرح وہ غارت کئے گئے ؟ یہ قول تو ہے امام ابن جریر ؒ کا لیکن ذرا غور طلب ہے۔ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہوچکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے۔ کہا گیا ہے کہ عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے واللہ اعلم۔ فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہوچکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 15
ان الفاظ کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف پیش آیا ہے اور مختلف لوگوں نے مختلف معنی بیان کیے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان کا قریب ترین مفہوم وہ ہے جسے ادا کرنے کے لیے ہم اردو میں کہتے ہیں کانوں پر ہاتھ رکھے، یا دانتوں میں انگلی دبائی۔ اس لیے کہ بعد کا فقرہ صاف طور پر انکار اور اچنبھے، دونوں مضامین پر مشتمل ہے اور کچھ اس میں غصے کا انداز بھی ہے۔
سورة اِبْرٰهِیْم 16
”یعنی ایسا شک جس کی وجہ سے اطمینان رخصت ہوگیا ہے۔ یہ دعوت حق کا خاصہ ہے کہ جب وہ اٹھتی ہے تو اس کی وجہ سے ایک کھلبلی ضرور مچ جاتی ہے اور انکار و مخالفت کرنے والے بھی اطمینان کے ساتھ نہ اس کا انکار کرسکتے ہیں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
خلاصہ تفسیر
(اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان)…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 17:۔ آگے خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن مسلمانوں ہی کی طرف ہے۔ ان کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ تمام رسولوں اور ان کی قوموں کی سرگزشت اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ہرچند راہ حق میں آزمائشیں بہت پیش آتی ہیں۔ یہاں تک کہ بسا اوقات اس راہ میں گھر در سب کچ چھوڑنا پڑتا ہے لیکن آخر کار کامیابی اہل ایمان ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ټ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ړ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ ۭ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ…
Read the full tafseer →9۔ 1 مفسرین نے اس کے مختلف معانی بیان کئے ہیں مثلاً انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے من ہوں میں رکھ لئے اور کہا ہمارا تو صرف ایک ہی جواب ہے کہ ہم تمہاری رسالت کے منکر ہیں، 2۔ انہوں نے اپنی انگلیوں سے اپنے مونہوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ خاموش رہو اور یہ جو پیغام لے کر آئے ہیں ان کی طرف توجہ مت کرو، 3۔ انہوں نے اپنے ہاتھ رسولوں کے مونہوں پر استہزاءً اور تعجب کے طور پر رکھ لیے جس طرح کوئی شخص ہنسی ضبط کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ 4۔ انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے رسولوں کے مونہوں پر رکھ کر کہا خاموش رہو،۔ 5۔ بطور غیظ وغضب کے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لے لیے جس طرح منافقین کی بابت دوسرے مقام پر آتا ہے عضوا علیکم…
Read the full tafseer →5: اس سے مراد وہ قومیں بھی ہوسکتی ہیں جن کی تاریخ محفوظ نہیں رہ سکی اور وہ بھی جن کا اجامعلی حال تو معلوم ہے لیکن ان کی تعداد اور ان کے تفصیلی حالات کا کسی کو پتہ نہیں۔
6: یہ ایک محاورہ ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ انہیں زبردستی بولنے اور تبلیغ کرنے سے روکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت نمبر 9 تا 11
یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی…
Read the full tafseer →7 یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا تتمہ ہے یا اسے چھوڑ کر حق تعالیٰ نے اس امت کو خطاب فرمایا ہے۔ بہرحال اس میں بتلایا کہ بیشمار قومیں پہلے گزر چکیں ان کے تفصیلی پتے اور احوال بجز خدا کے کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ چند قومیں جو عرب والوں کے یہاں زیادہ مشہور تھیں ان کے نام لے کر اور بقیہ کو والَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِ ہِمْ میں درج کر کے متنبہ فرماتے ہیں کہ ان اقوام کا جو کچھ حشر ہوا کیا وہ تم کو نہیں پہنچا۔ تعجب ہے اتنی قومیں پہلے تباہ ہو چکیں اور ان کے حال سے ابھی تک تمہیں عبرت حاصل نہ ہوئی۔ (تنبیہ) ابن عباس نے لَا یَعْلَمُہُمْ اِلَّا اللّٰہُ کو پڑھ کر فرمایا " کَذَبَ النَّسَّابُوْن " (یعنی انساب کی…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ
یہاں تمام رسولوں کو ایک جماعت فرض کر کے ان کا ذکر اکٹھے کیا جا رہا ہے کیونکہ سب نے اپنی اپنی قوم کو ایک جیسی دعوت دی اور اس دعوت کے جواب میں سب رسولوں کی قوموں کا رد عمل بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ ان سب اقوام نے اپنے رسولوں کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو ان باتوں کے متعلق بہت سے شکوک و شبہات لاحق ہیں جن کی وجہ سے ہم سخت الجھن میں پڑگئے ہیں۔
Read the full tafseer →11 پچھلی آیت پر موسیٰ (علیہ السلام) کا خطاب ختم ہوا اور اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مشرکین مکہ کو خطاب شروع ہوتا ہے۔ سابقہ مقامات پر اقوام اور انبیاء کا الگ الگ ذکر ہوتا رہا۔ یہاں بحیثیت مجموعی ذکر ہو رہا ہے اور قریش مکہ سے صرف ان اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جو ان کے آس پاس تھیں یا جن کے حالات کسی نہ کسی ذریعہ سے ان تک پہنچ سکتے تھے۔ مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود، قوم فرعون، اصحاب مدین وغیرہ وغیرہ لیکن بہت سی ایسی اقوام بھی تھیں جن کے حالات کا علم ان کی دسترس سے باہر تھا اور ان سے کہیں دور کے علاقوں میں آباد تھیں اور ان پر بھی انکار حق کی بنا پر عذاب آیا تھا۔ لہذا قرآن نے ان کا تفصیل سے ذکر نہیں کیا محض…
Read the full tafseer →13۔ بہت سی قومیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا کوئی تفصیلی علم نہ تاریخ کو ہے نہ ان کے آثار ہی کسی تفصیل کے ساتھ اثریات کی کھدائی کرنے والوں کو ہاتھ لگ سکے ہیں۔ قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد، قوم ثمود سب پر مفصل حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔
14۔ (اپنے زعم ودعوے کے مطابق) (آیت) ” بالبینت “۔ بینات میں دلائل ومعجزات دونوں آگئے۔ (آیت) ” فردوا ایدیھم فی افواھھم “۔ ان کافروں کی شدت عناد کا یہ عالم تھا کہ اپنے پیغمبروں کی بات تو کیا مانتے کوشش یہ رہتی تھی کہ انہیں بولنے تک نہ دیا جائے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کفر و انکار کے علاوہ پیغمبروں کے ساتھ سوء ادب ایک مستقل جرم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیت نمبر 7 تا 12
ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم توحید اور اطاعت کے ذریعہ میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں بیشک تم کو مزید دوں گا، اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعہ (میر) نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میں تم کو ضرور عذاب دوں گا، لاعذبنکم، (جواب محذوف پر) ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے، یقیناً میرا عذاب نہایت سکٹ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام باشندے ناشکری کریں تو بھی اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے کیا تمہارے پاس استفہام تقریری ہے تم سے پہلے لوگوں کی (یعنی) قوم نوح کی اور عاد کی اور قوم ہود اور ثمود کی…
Read the full tafseer →الم یاتکم نبؤ الذین من قبلکم قوم نوح وعاد وثمود۔ والذین من بعدھم کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی (تباہی) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں ‘ نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کی قومیں اور اصحاب الرس اور مدین والے اور ایکہ والے اور تبع کی قوم۔ یہ بھی حضرت موسیٰ کے کلام کا جزء ہے ‘ اس صورت میں بنی اسرائیل کو خطاب ہے۔ یا اللہ کا کلام ہے ‘ اس صورت میں امت محمدیہ کو خطاب ہوگا۔
یا یعلمھم الا اللہ جن (کی گنتی ‘ شمار) کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے یہ آیت تلاوت کی ‘ پھر فرمایا : نسب…
Read the full tafseer →(9) کفار مکہ کیا تم لوگوں کو قوم نوح، قوم ہود، اور قوم صالح اور حضرت شعیب ؑ کی قوم کی خبر نہیں پہنچی کہ تکذیب کرنے پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کیسے ہلاک کیا جن کی تفصیلی طور پر تعداد اور کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ان کے پیغمبر ان کے پاساوامر و نواہی اور معجزات لے کر آئے تو ان کفار نے جو احکام انبیاء کرام لے کر آئے تھے ان کو رد کردیا یا یہ کہ اپنے ہاتھ ان کے منہ کے سامنے کردیے اور کہنے لگے خاموش ہوجاؤ ورنہ ہم خاموش کردیں گے اور رسولوں سے کہنے لگے کہ جو کتاب اور توحید دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور جس کتاب اور توحید کی طرف تم بلا رہے ہو، ہم تو اس…
Read the full tafseer →لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعداد اور تمام حالات سے واقف ہے اور ان کے نسب کو بھی صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ : یعنی غصے کے مارے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے، جیسا کہ دوسری آیت میں منافقین کے متعلق فرمایا : (وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ) [ آل عمران : 119 ] ”اور (یہ منافقین) جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیوں کی پوریں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔“ یا ہنسی اور تعجب کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ لیے، یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہو۔ پہلے معنی کو اکثر مفسرین نے ترجیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 8 تا 9
قولہ تعالیٰ : وقال موسیٰ ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا، فان اللہ لغنی حمید یعنی تمہاری اس کاروائی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان نہیں، بلکہ وہ غنی ہے، الحمید بمعنی المحمود ہے۔
الم یاتکم نبوا الذین من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود، النبا کا معنی خبر ہے اس کی جمع الانباء ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
ألم یاتیک والأنباء تتمی
ایک قول کے مطابق : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے جب کہ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ کے ارشادات میں سے ہے، یعنی اے محمد ! ﷺ یاد کرو جب آپ کے رب نے یوں فرمایا۔ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ابتدا اور حضرت نوح، حضرت عاد اور حضرت ثمود (علیہم السلام) کی قوم کی…
Read the full tafseer →1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ اس (آیت ) ” وعاد وثمود والذین من بعدھم لایعلمہم الا اللہ، کو پڑھتے تھے تو فرماتے کہ نسب بیان کرنے والوں نے جھوٹ بولا۔
2:۔ امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے عروبن میمون (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
3:۔ امام ابن الضریس نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی علی بن ابی طالب ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ نسب بیان کرنے والا ہوں علی ؓ نے فرمایا تو لوگوں کا نسب بیان نہیں کرسکتا اس نے کہا کیوں نہیں ؟ علی ؓ نے اس سے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وعاد وثمود واصحب الرس وقرونا بین…
Read the full tafseer →[اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں پہنچی تم لوگوں کو ] [ نَبَؤُا الَّذِينَ : ان لوگوں کی خبر جو ] [مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے تھے ] [ قَوْمِ نُوْحٍ : (جیسے) قوم نوح (علیہ السلام) ] [ وَّعَادٍ : اور عاد ] [ وَّثَمُوْدَ : اور ثمود ] [وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جو ] [ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ہوئے ] [لَا يَعْلَمُهُمْ : نہیں جانتا ان کو (کوئی)] [اِلَّا : مگر ] [اللّٰهُ : اللہ ] [جَاۗءَتْهُمْ : آئے ان کے پاس ] [رُسُلُهُمْ : ان کے رسول ] [بِالْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] [فَرَدُّوْٓا : تو انھوں نے لوٹائے ] [اَيْدِيَهُمْ : اپنے ہاتھ ] [ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ : اپنے مونہوں میں ] [ وَقَالُوْٓا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سابقہ امتوں کا عناد ‘ رسولوں کو تبلیغ سے روکنا اور جاہلانہ سوال جواب کرنا :
قریش مکہ کفر و شرک سے باز نہیں آتے تھے جب اس کے سامنے حق بات پیش کی جاتی تھی تو الٹے الٹے جواب دیتے تھے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ تم سے پہلے جو قومیں گزری ہیں مثلاً نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد جو بہت سی اقوام آئیں جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کیا ان کے احوال تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ کچھ اجمالاً اور کچھ تفصیلاً ان لوگوں کے حالات تمہیں معلوم ہیں قرآن مجید میں بھی ان کے احوال بتائے ہیں اور تم اپنے اسفار میں ہلاک شدہ قوموں کے نشانات دیکھ چکے ہو کچھ نہ کچھ یہود اور نصاریٰ سے بھی سنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا
تذکیر با یام اللہ
قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →8:۔ یہ واقعہ اولیٰ ہے جو تخویف دنیوی پر مشتمل ہے یہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کے واقعات ہیں۔ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے مگر ان قوموں نے ان کا انکار کیا، پیغام توحید کو ٹھکرایا پیغمبروں پر بےجا اعتراضات کیے اور انہیں مختلف قسم کے طعنوں سے مطعون کیا۔ آخر یہ قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئیں۔ اقوام ماضیہ کے واقعات بیان کرنے سے مقصد موجودہ مشرکین کو عبرت دلانا ہے تاکہ وہ مومن و کافر کے دنیوی اناجم سے عبرت حاصل کر کے راہ راست پر آجائیں۔ ” و المقصود منہ انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) یذکرھم بامر القرون الماضیۃ والامم الخالیۃ والمقصود منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا پہلے فرمایا کہ ہر نبی اور رسول اپنی قوم کی زبان میں مبعوث ہوتا ہے اور اسی زبان میں قوم کو خطاب کرتا ہے تاکہ کسی کا کوئی اشتباہ باقی نہ رہے ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بطور خاص ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنا کر بھیجا اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کرکے کہا کہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤں اور وہ تاریخی واقعات یاد دلاؤں جو باعث عبرت ونصیحت ہیں ، اللہ نے صبر اور شکر کرنے والوں کا ذکر کیا ، پھر بنی اسرائیل پر کیے گئے…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ټ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ړ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ ۭ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…
Read the full tafseer →اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ 5 ط وَالَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِہِمْ ط لاَ یَعْلَمُہُمْ اِلاَّ اللّٰہُ طجَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْ ٓا اَیْدِیَہُمْ فِیْ ٓ اَفْوَاہِہِمْ وَقَالُـْوٓا اِنَّا کَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ وَاِنَّا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَیْہِ مُرِیْب۔
(سورۃ ابراھیم : 9)
(کیا تمہیں ان لوگوں کی اطلاع نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں۔ یعنی قوم نوح اور عاد اور ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد گزرے، خدا کے سوا جنھیں کوئی نہیں جانتا۔ ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے۔ پس انھوں نے…
Read the full tafseer →ہم اس کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا ہیں۔ چہروں پر ہاتھ رکھنے کا مقصد انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت سے نفرت کا اظہار کرنا تھا۔ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے منفی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بیان ہوا ہے کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے اور سمجھاتے کہ اے میری قوم اگر تم شرک و خرافات کو چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سابقہ گناہ معاف کرے گا۔ لیکن قوم نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اپنے چہروں کو کپڑوں سے ڈھانپ لیا۔ ( نوح : 7)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ ساری کائنات مل کر بھی اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
3۔…
Read the full tafseer →9: اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّ ثَمُوْدَ (کیا تمہارے پاس خبر نہیں آئی ان کی جو تم سے پہلے قومیں ہوئیں جیسے قوم نوح، عاد وثمود) نمبر 1۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ جو اپنی قوم سے کیا۔ نمبر 2۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ والے لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ وَالَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِھِمْ لَایَعْلَمُھُمْ اِلَّا اللّٰہُ (اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں) یہ جملہ ابتدائیہ ہے اور خبر جملہ معترضہ ہے یا الذین من بعدھم کا عطف قوم نوح پر ہے اور لا یعلمھم الا اللّٰہیہ جملہ معترضہ ہے۔ مطلب اس طرح ہے وہ کثرت ِتعداد میں اتنے ہیں کہ ان کی…
Read the full tafseer →9۔” الم یاتکم نباء الذین “ یہ خب رہے الذین کی ۔” من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود والذین من بعدھم لا یعلمھم الا اللہ “ بعد قوم سے مرادنوح عاد ، ثمود ہیں ۔ بعد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کے پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا نسب بیان کرنے والے جھوٹے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور عدنان کے درمیان تیس قرن ہوئے ہیں جن سے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی وقف نہیں ۔ مالک بن انس ؓ کو یہ امرپسندیدہ نہ تھا کہ کوئی شخص مسلسل اپنے اسلاف کا سلسلہ پشت در پشت حضرت آدم (علیہ السلام) تک جوڑتا چلا جائے اور اسی طرح نبی کریم ﷺ کے متعلق بھی یہی رائے ہے۔ ” جاء تھم…
Read the full tafseer →9۔ یہاں مفسروں نے دو معنے بیان کئے ہیں بعضے یہ کہتے ہیں کہ اوپر کی نصیحت کے سلسلہ میں یہ خطاب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف کیا ہے کہ کیا تم لوگوں کو نہیں معلوم ہے کہ تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود گزری ہیں جن کے پاس رسول معجزے اور نشانیاں لے کر آئے اور ان لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور کہنے لگے کہ تم جو کچھ خدا کی طرف سے لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں ہمیں تو یقین نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور جو تم ہمیں نصیحت کرتے ہو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور بعضے مفسروں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت علیحدہ ہے اوپر کی آیتوں سے اس کو…
Read the full tafseer →جھٹلانے والی قوموں کے پاس جب ان کے رسول آئے اور انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ان قوموں پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں ان کو جو سزا دے دی یہ عذاب لوگوں نے دیکھا اور سنا، پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس عذاب سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، قوم نوح، عاد اور ثمود “ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت بسط و تفصیل سے ان کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔ (آیت) ” اور جو ان کے بعد ہوئے، جن کو صرف اللہ جانتا ہے “ انکی کثرت اور ان کی تاریخ مٹ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا (جآء تھم رسلھم بالبینت) ” ان کے پاس ان…
Read the full tafseer →18۔ عالم غیب اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے :
سوان قوموں اور انکے رسولوں کا علم اللہ ہی کو ہے کہ عالم الغیب وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ نفی اور اثبات کے حصر پر مبنی اس ارشاد خداوندی (لایعلمہم الا اللہ) سے اہل بدعت کے علم غیب کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مگر برا ہوبدعت پرستی اور اس کی نحوست کا کہ اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند بغیر کسی سند ودلیل کے اور اس قرآنی ارشاد کے بالکل برعکس اس کے جواب میں یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تمام انبیاء اور ان کی امتوں کا تفصیلی علم دیا۔ یعنی آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا اس کے بالکل برعکس اور ارشاد خداوندی کا کھلا معارضہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ،
(شکر کی حقیقت)
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ وہی ان کی تعداد اور تمام حالات سے واقف ہے اور ان کے نسب کو بھی صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (قرطبی) ۔
3 ۔ یعنی غصے کے مارے اپنے ہاتھ کاتنے لگے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : عضوا علیکم ولا نابل من الغیظ۔ (آل عمران) ۔ یا ہنسی اور تعجب کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ تھے۔ یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہو۔ مگر پہلے اسناد اور محاورہ کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہیں۔ (از قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(14:9) بنؤا۔ بنأ۔ خبر۔ اطلاع۔
قوم نوح۔ یہ والذین من قبلکم کا بدل یا عطف بیان ہے۔ ان لوگوں ان قوموں کی خبر جو تم سے قبل گذر چکی ہیں۔ یعنی قوم نوح ۔۔ اسی طرح عاد کا عطف قوم نوح پر ہے اور ثمود اور والذین من بعدہم کا عطف بھی قوم نوح پر ہے اور لا یعلہم الا اللہ جملہ معترضہ ہے (کیا تم کو اپنے سے پہلے قوموں کی خبر نہیں ملی یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم۔ عاد اور ثمود کی قوم اور وہ قومیں جو ان کے بعد آئیں جن کے صحیح حالات اور تعداد کا علم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) ۔
فردوا ایدیہم فی افواہہم۔ رد یرد۔ (باب نصر) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ انہوں نے لوٹا دیا۔ انہوں نے الٹا دیا۔ انہوں نے پھیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9
شکرتم تم نے شکر کیا۔ ازیدن میں ضرور بڑھاؤں گا۔ انتم تم۔ غنی بےنیاز۔ حمید تمام خوبیوں کا مستحق۔ لم یات نہیں آئی۔ نبو خبر، اطلاع۔ لایعلم نہیں جانتا ردوا انہوں نے پلٹائے۔ ایدیھم ان کے ہاتھ ۔ افواہ منہ (فوہ) ۔ کفرنا ہم نے کفر کیا، انکار کیا۔ تدعون تم بلاتے ہو۔ مریب کھٹکنے والا، تردد کرنے والا۔
تشریح آیت نمبر 7 تا 9
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر انسان ان کو شمار کرنا چاہے تو کر نہیں سکتا۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ ان آیات میں اگرچہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے لیکن درحقیقت کفار مکہ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اگلی امتوں کی مٹی کر اب ہونے کی خبریں نہیں پہنچیں یعنی قوم نوح کی، قبیلہ عاد کی، اور قبیلہ ثمود کی جن کے پاس رسول معجزے اور نشانیاں لے کر آئے اور ان لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا، منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور کہنے لگے کہ تم جو کچھ خدا کی طرف سے لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہمیں تو یقین نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو، اور جو تم ہمیں نصیحت کرتے ہو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
[4] یہاں سے اب مشرکین مکہ سے خطاب شروع ہوتا ہے۔
[5] یعنی غصے میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے یا تعجب سے دانتوں میں انگلیاں رکھ لیں۔
[6] یعنی جس پیغام کے ساتھ تم اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کے مدعی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(ف 1) ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو زندگی کا پیغام دیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ جب تک تم شاکر رہو گے ، اللہ کے حکموں کو مانتے رہو گے ، اسی کی اطاعت کا دم بھرتے رہو گے ، اور اس کے سوا ہر معبود کا انکار کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں سرفرازی عنایت کرے گا ، غنی رکھے گا ، نعمتیں زیادہ سے زیادہ دے گا ، اور اگر انکار کرو گے ، تو یاد رکھو ناشکری سے قوموں کو عذاب شدید دیا جاتا ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی سمجھا دیا کہ تمہاری عبادت اور اطاعت سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس کی اطاعت سے دنیا تمہاری اطاعت کرے گی ، اور اگر تم اور تمہارے ساتھی انکار کردیں ، تو یاد رکھو ، اللہ ہے…
Read the full tafseer →9 ۔ اے مکہ کے منکرو ! کیا تم کو ان لوگوں کے واقعات جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں نہیں پہنچے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد جو حضرت صالح کی قوم تھی اور وہ لوگ جو ان لوگوں کے بعد ہوئے جن کی تفصیل اور مفصل حالت سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ان گزشتہ لوگوں کے حالات یہ ہیں کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے مگر انہوں نے بجائے سننے اور ماننے کے اپنے ہاتھ ان کے منہ میں دے دیئے اور ان کو بولنے نہ دیا اور کہنے لگے جو احکام تم دیکر بھیجے گئے ہو ہم ان کے منکر ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے اور ہم ان باتوں کے متعلق ایک بڑے تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔
گزشتہ لوگوں میں چند کے نام لئے جن کے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں۔
4۔ مقصود اس سے توحید و رسالت دونوں کا انکار ہے۔
Read the full tafseer →کیا تمہارے پاس گزشتہ قوموں کے تذکرے نہیں آئے ؟ پھر جو کچھ وہاں ہوا یہاں بھی ہو گا
9 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا پچھلی قوموں کے ایام و وقائع تم تک نہیں پہنچے ؟ یعنی تم نہیں سن چکے ہو ؟ پھر تین قوموں کا نام لیا گیا جن کے حالات سے نہ تو بنی اسرائیل بیخبر تھے ‘ نہ مصر کے باشندے بیخبر ہو سکتے تھے یہاں ان کی نشو ونما ہوئی تھی بقیہ قوموں کا حال چونکہ اس درجہ مشہور نہ تھا اس لئے صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا۔
” والذین من بعدھم لا یعلمھم الا للہ “۔
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بہت سی قومیں تھیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے تم ان کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ رہی وہ قومیں جن کا نام اس جگہ لیا گیا تو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →14. The speech of Prophet Moses (peace be upon him) ended with(Ayat 8). From here begins a direct address to the disbelievers of Makkah.
15. There has been a great deal of difference of opinion in regard to the meaning of the Arabic words of the text and different commentators have assigned different meanings to them. But we arc of the opinion that these express merely the intolerance and perplexity and a bit of anger that was being shown by the disbelievers towards the message and this is confirmed by the subsequent sentence.
16. They had a“grave doubt”about the message because it had taken…
Read the full tafseer →