Explained with ayahs 6–8
اولاد کا قاتل
فرمان الہٰی کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ مثلا قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بےوقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہوسکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، واللہ اعلم۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) یعنی ہم نے انہیں بھلائی…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 13
اس جگہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کے معاملہ کی طرف یہ مختصر اشارہ کرنے سے مقصود اہل مکہ کو یہ بتانا ہے کہ اللہ جب کسی قوم پر احسان کرتا ہے اور جواب میں وہ قوم نمک حرامی اور سرکشی دکھاتی ہے تو پھر ایسی قوم کو وہ عبرتناک انجام دیکھنا پڑتا ہے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے بنی اسرائیل دیکھ رہے ہیں۔ اب کیا تم بھی خدا کی نعمت اور اس کے احسان کا جواب کفران نعمت سے دے کر یہی انجام دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جس نعمت کی قدر کرنے کا یہاں قریش سے مطالبہ فرما رہا ہے وہ خصوصیت کے ساتھ اس کی یہ نعمت ہے کہ اس نے محمد عربی ﷺ کو ان کے درمیان پیدا کیا اور آپ ﷺ…
Read the full tafseer →(آیت) وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ
یعنی موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اگر تم سب اور جتنے آدمی زمین پر آباد ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگو تو یاد رکھو کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں وہ تو سب کی حمد وثناء اور شکر و ناشکری سے بےنیاز اور بالا تر ہے اور وہ اپنی ذات میں حمید یعنی مستحق حمد ہے اس کی حمد تم نہ کرو تو اللہ کے سارے فرشتے اور کائنات کا ذرہ ذرہ کررہا ہے۔
شکر کا فائدہ جو کچھ ہے وہ تمہارے ہی لئے ہے اس لئے شکر گذاری کی تاکید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ اپنے فائدہ کے لئے…
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ۔
شکر گزاروں پر عنایتوں میں اضافہ : یعنی ساتھ ہی موسیٰ نے یہ تنبیہ بھی کردی تھی کہ خدا کی شکر گزاری کا یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ اس کا محتاج ہے یا اس سے اس کی شان اور عظمت میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز سے بےنیاز اور ہر حال میں ستودہ صفات ہے۔ یہ شکر گزاری خود بندوں ہی کے لیے موجب خیر و برکت ہے اس لیے کہ اس سے، جیسا کہ اوپر والی آیت میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ بندوں پر اپنی نعمتوں اور برکتوں میں اضافہ فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →8۔ 1 مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی شکر گزاری کرے گا تو اس میں اسی کا فائدہ ہے۔ ناشکری کرے گا تو اللہ کا اس میں کیا نقصان ہے ؟ وہ تو بےنیاز ہے سارا جہان ناشکرگزار ہوجائے تو اس کا کیا بگڑے گا جس طرح حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یا عبادی ! لو ان اولکم وآخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی اتقی قلب رجل واحد منکم مازاد ذلک فی ملکی شیئا، یا عبادی ! لو ان اولکم وآخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی افجر قلب رجل واحد منکم ما نقصٓ ذلک فی ملکی شیئا یا عبادی لو ان اولکم وآخرکم وانسکم وجنکم قاموا فی صٓعید واحد فسالونی فاعطیت کل انسان مسالتہ مانقصٓ ذلک من ملکی شیئا الا کما ینقض المخیط اذا ادخل فی البحر۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
4: اصل قرآنی لفظ ایام اللہ ہے جس کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن۔ لیکن محاورے میں اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے خاص خاص اور اہم واقعات دکھلائے ہیں۔ مثلاً نافرمان قوموں پر عذاب کا نازل ہونا۔ اور فرماں برداروں کو دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا ہونا۔ لہذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان خاص خاص واقعات کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو نصیحت کیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔
آیت نمبر 5 تا 8
حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔
حضور ﷺ کو…
Read the full tafseer →6 یعنی کفران نعمت کا ضرر تم ہی کو پہنچے گا۔ خدا کا کچھ نہیں بگڑتا اسے تمہارے شکریوں کی کیا حاجت ہے۔ کوئی شکر ادا کرے یا نہ کرے، بہرحال اس کے حمید و محمود ہونے میں کچھ کمی نہیں آتی۔ صحیح مسلم میں حدیث قدسی ہے جس میں حق تعالیٰ نے فرمایا " اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے، جن و انس سب کے سب ایک اعلیٰ درجہ کے متقی شخص کے نمونہ پر ہوجائیں تو اس سے میرے ملک میں کچھ بڑھ نہیں جاتا۔ اور اگر سب اگلے پچھلے جن و انس مل کے بفرض محال ایک بدترین انسان جیسے ہوجائیں (العیاذ باللہ) تو اس سے میرے ملک میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوتی "۔
Read the full tafseer →آیت 8 وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ
وہ بےنیاز ہے اس کو کسی کی احتیاج یا پروا نہیں۔ وہ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔
Read the full tafseer →10 اللہ کی بےنیازی :۔ یعنی اللہ کی ناشکری کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا نہ ہی اس کی خدائی میں کچھ فرق آتا ہے نہ وہ کسی کے شکر کا محتاج ہے وہ ان سب باتوں سے بےنیاز ہے اس لیے کہ وہ اپنی ذات میں ہی قابل ستائش ہے اس کے کارنامے ہی ایسے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اس کے گن گا رہی ہے چناچہ صحیح مسلم میں ایک قدسی حدیث ان الفاظ میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس سب کے سب اعلیٰ درجے کے متقی بن جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہوجاتا۔ اور اگر سب کے سب اگلے پچھلے جن و انس ایک بدترین شخص جیسے ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ برابر بھی کمی…
Read the full tafseer →12۔ (نہ اسے کسی کی ناشکری سے مطلق ضرر پہنچ سکتا ہے اور نہ اس کے استکمال بالغیر کا گزر ہے۔ ضمنا ان مشرک قوموں کی تردید بھی آگئی جن کے دیوتا خود اپنے بچاریوں کے چڑھاوے وغیرہ کے محتاج رہتے ہیں۔ من نہ گردم پاک از تسبیح شاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیت نمبر 7 تا 12
ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم توحید اور اطاعت کے ذریعہ میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں بیشک تم کو مزید دوں گا، اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعہ (میر) نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میں تم کو ضرور عذاب دوں گا، لاعذبنکم، (جواب محذوف پر) ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے، یقیناً میرا عذاب نہایت سکٹ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام باشندے ناشکری کریں تو بھی اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے کیا تمہارے پاس استفہام تقریری ہے تم سے پہلے لوگوں کی (یعنی) قوم نوح کی اور عاد کی اور قوم ہود اور ثمود کی…
Read the full tafseer →وقال موسیٰ ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا فان اللہ لغني حمید اور موسیٰ نے کہا :
(اے بنی اسرائیل ! ) اگر تم اور تمام زمین کے باشندے اللہ کی ناشکری کریں تو اللہ (تم سب کے شکریہ سے) بےنیاز ہے ‘ فی نفسہٖ وہ مستحق حمد اور محمود ہے۔ اس کی حمد ابدی ازلی ہے ‘ خود اس کی ذات سے پیدا ہو رہی ہے۔ فرشتے بھی اس کی حمد کرتے ہیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اس کی حمد میں مشغول ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : اگر تم ناشکری کرو گے تو اپنے آپ کو خود نقصان پہنچاؤ گے ‘ اپنی ذات کو مستحق عذاب اور ثواب سے محروم بناؤ گے۔ اللہ بےنیاز اور مستحق حمد ہے۔
Read the full tafseer →(8) اور موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اگر تم اور تمام دنیا بھر کی سب انسان ناشکری کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان سے بےنیاز ہے اور وہ موحدین کے لیے اپنی حد ذات میں قابل تعریف صفات والے ہیں۔
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا۔۔ : یعنی اگر تم اور زمین و آسمان کے تمام لوگ ناشکری کرو تو اس ناشکری کا نقصان خود تمھی کو پہنچے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا، اسے نہ تمہارے شکر کی ضرورت ہے اور نہ تمہاری ناشکری کی پروا۔ اس کی ذات ہر تعریف کی حامل ہے، چاہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ ابوذر غفاری ؓ حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ ، کَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ ، مَا زَادَ ذٰلِکَ فِيْ مُلْکِيْ شَیْءًا، یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 8 تا 9
قولہ تعالیٰ : وقال موسیٰ ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا، فان اللہ لغنی حمید یعنی تمہاری اس کاروائی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان نہیں، بلکہ وہ غنی ہے، الحمید بمعنی المحمود ہے۔
الم یاتکم نبوا الذین من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود، النبا کا معنی خبر ہے اس کی جمع الانباء ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
ألم یاتیک والأنباء تتمی
ایک قول کے مطابق : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے جب کہ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ کے ارشادات میں سے ہے، یعنی اے محمد ! ﷺ یاد کرو جب آپ کے رب نے یوں فرمایا۔ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ابتدا اور حضرت نوح، حضرت عاد اور حضرت ثمود (علیہم السلام) کی قوم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
1:۔ امام ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے (آیت ) ” واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خبر دی کہ اگر وہ شکر کریں گے تو نعمتوں کا تو اللہ تعالیٰ ان پر فضل کو زیادہ کردیں گے اور ان کے لئے رزق کو بھی وسیع فرما دیں گے اور جہاں والوں پر ان کو غالب فرمائیں گے۔
2:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ ہو عطاء کریں جو ان سے سوال کرے اور زیادہ دیں جو ان کا شکر ادا کرے اور اللہ تعالیٰ انعام فرمانے والے ہیں (اور) شکر کرنے والوں سے محبت…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہا ] [مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) ] [ ان : اگر ] [تَكْفُرُوْٓا : تم لوگ ناشکری کرو گے ] [انتم : تم لوگ ] [وَمَنْ : اور وہ (بھی) جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہیں ] [ جَمِيْعًا : سب کے سب ] [فَان : تو بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [لَغَنِيٌّ: یقینا بےنیاز ہے ] [ حَمِيْدٌ: حمد کیا ہوا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اللہ تعالیٰ کا اعلان کہ شکر پر مزید نعمتیں دوں گا اور ناشکری سخت عذاب کا سبب ہے :
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیت (وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ ) بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانے کے بعدیہ بھی فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ نعمتوں کی شکر گزاری پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید انعامات ملیں گے اور جیسا کہ شکر نعمتوں کے زیادہ ہونے کا سبب ہے اسی طرح سے ناشکری اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوجانے کا سبب ہے۔ لہٰذا زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ذکر موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... فان اللہ لغنی حمید۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت کو ذکر کیا اب آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے کچھ واقعات ذکر کرکے بتلاتے ہیں کہ اور انبیاء کی بعثت سے بھی یہی مقصود تھا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں اور ان کو آخرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں اور اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ انسان ظلمت سے نکل کر نور میں آجائے اور اس کو خدا کا راستہ نظر آنے لگے اور جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی زبان عبرانی میں کتاب دی اسی طرح ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
7:۔ یہ اصل میں تھا واذکر بیان موسیٰ اذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ الخ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے وقائع بیان کیے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے آپ بھی اسی طرح بیان فرمائی۔ ” وَ اِذْ تَاَذَّنَ “ یہ ” نِعْمَۃَ اللہِ الخ “ پر معطوف ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ ” وَ قَالَ مُوْسیٰ “ یہ سب وقائع ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یاد دلائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا پہلے فرمایا کہ ہر نبی اور رسول اپنی قوم کی زبان میں مبعوث ہوتا ہے اور اسی زبان میں قوم کو خطاب کرتا ہے تاکہ کسی کا کوئی اشتباہ باقی نہ رہے ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بطور خاص ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنا کر بھیجا اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کرکے کہا کہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤں اور وہ تاریخی واقعات یاد دلاؤں جو باعث عبرت ونصیحت ہیں ، اللہ نے صبر اور شکر کرنے والوں کا ذکر کیا ، پھر بنی اسرائیل پر کیے گئے…
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وَاِذْتَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۔ وَقَالَ مُوْسٰیٓ اِنْ تَکْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالافَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
(سورۃ ابراھیم : 7۔ 8)
( اور یاد کرو جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا تھا کہ اگر تم شکرگزار رہے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہوگا۔ اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سارے لوگ جو روئے زمین پر ہیں ناشکری کروگے تو خدا کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ )
ان آیات کی تشریح میں صاحب تفیہم القرآن نے جو نوٹ لکھا ہے اسے یہاں ہم افادہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک بار پھر سمجھانا۔
انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت کا مرکزی نقطہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دینا تھا۔ کیونکہ توحید کو سمجھنے اور اس کے تقاضے پورے کیے بغیر ا 9 نسان کی پائیدار بنیادوں پر اصلاح نہیں ہوسکتی۔ توحید کا یہ تقاضا ہے کہ انسان مشکلات پر صبر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے۔ شکرکا الٹ اللہ تعالیٰ کی ناقدری اور اس کے ساتھ کفر کرنا ہے۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بتلایا اور سمجھایا کہ اگر تم اور جو بھی زمین پر انسان موجود ہیں اور ہوں گے وہ سب کے سب اللہ…
Read the full tafseer →ارشادِ موسیٰ d:
8: وَقَالَ مُوْسٰٓی اِنْ تَکْفُرُوْا اَنْتُمْ (اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم ناشکری کرو گے) اے بنی اسرائیل وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیعًا (اور وہ جو تمام زمین میں ہیں) تمام لوگ فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ (پس بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز ہیں) تمہارے شکریے سے حَمِیْدٌ (تعریفوں والے ہیں) خواہ تعریف کرنے والے اسکی تعریف نہ کریں تم نے اپنے نفوس کو خیر سے محروم کر کے نقصان پہنچایا ہے۔ جو اسکی طرف سے بہر صورت پہنچتی ہے۔
Read the full tafseer →8۔” وقال موسیٰ ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ لغنی حمید “ اللہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے۔ حمید وہ اپنے افعال میں قابل ستائش ہے ، اس لیے کہ وہ فضل و عادل والا ہے۔
Read the full tafseer →8۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اللہ کی نعمتیں یاد دلادیں اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور فرمانبرداری کی نصیحت کریں اس حکم الٰہی کے موافق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو وعظ کے طور پر طرح طرح کی نصیحتیں جو کی ہیں ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ان نصیحتوں کا ذکر ہے یہ ایک عادت الٰہی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شکر گزاری کی جزا میں اور نعمت پر نعمت دیتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا آخر کو وبال میں گرفتار ہوجاتا ہے فرعون اور اس کا لشکر اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →(وقال موسیٰ ان تکفروآ انتم ومن فی الارض جمیعاً ) ” موسیٰ نے کہا، اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے کفر کریں “ تو تم اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے (فان اللہ لغنی حمید) ” بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے سب خوبیوں والا۔ “ پس نیکیاں اس کی بادشاہی میں اضافہ کرسکتی ہیں نہ گناہ اس کی بادشاہی میں کوئی کمی واقع کرسکتے ہیں، وہ غنا میں کامل ہے اور وہ اپنی ذات، اپنے اسماء وصفات اور افعال میں قابل حمد و ستائش ہے اس کی ہر صفت، صفت حمد و کمال ہے۔ اس کا ہر نام اچھا نام ہے اور اس کا ہر فعل، فعل جمیل ہے۔
Read the full tafseer →17۔ اللہ بڑا ہی بےنیاز اور تعریفوں والا ہے :
پس اس کو نہ کسی کی کسی طرح کی تعریف و توصیف کی ضرورت ہے نہ مدح وثناء کی۔ سبحا نہ وتعالیٰ ۔ بلکہ اس حمید مطلق۔ جل وعلا۔ کی مدح سرائی خود انسان کے اپنے ہی بھلے کے لیے ہے اور یہ اس غنی مطلق کا حق بھی ہے جو اس کے بندوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ دل وجان سے اس وہاب مطلق کی یاد دلشاد سے سرشار اور اس کی حمد ثناء میں مشغول ورطب اللسان رہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جس کے احسانات میں ان کے جسم وجاں کارواں رواں ڈوبا ہوا ہے۔ کہ اس میں اپنے خالق ومالک کے حق کی ادائیگی کے علاوہ خود بندوں کا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ،
(شکر کی حقیقت)
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یعنی ناشکری کا نقصان خود تمہی کو پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اسے نہ تمہارے شکر کی ضرورت اور نہ تمہاری ناشکری کی پروا۔ وہ بہرحال ستودہ صفات ہے چاہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ ایک حدیث قد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس سب کے سب ایک اعلیٰ درجہ کے متقی شخص کے نمونہ پر ہوجائیں تو اس میری بادشاہی میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس سب کے سب ایک بدترین انسان جیسے ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر کمی نہیں ہوگی۔ اسے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس سب کے سب ایک میدان میں…
Read the full tafseer →(14:8) تکفروا۔ تم ناشکری کرو۔ مضارع مجزوم۔ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تکفرون تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9
شکرتم تم نے شکر کیا۔ ازیدن میں ضرور بڑھاؤں گا۔ انتم تم۔ غنی بےنیاز۔ حمید تمام خوبیوں کا مستحق۔ لم یات نہیں آئی۔ نبو خبر، اطلاع۔ لایعلم نہیں جانتا ردوا انہوں نے پلٹائے۔ ایدیھم ان کے ہاتھ ۔ افواہ منہ (فوہ) ۔ کفرنا ہم نے کفر کیا، انکار کیا۔ تدعون تم بلاتے ہو۔ مریب کھٹکنے والا، تردد کرنے والا۔
تشریح آیت نمبر 7 تا 9
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر انسان ان کو شمار کرنا چاہے تو کر نہیں سکتا۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ ان آیات میں اگرچہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے لیکن درحقیقت کفار مکہ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم یہ بھی خوب سمجھ لو کہ تمہارے کفر سے اللہ تعالیٰ کا کچھ حرج نہٰں۔ اگر تم اور زمین کی سب مخلوقات یعنی سب آدمی اور جنات کافر ہوجائیں تو اللہ کو کیا پروا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تم سب کی عبادت اور شکر سے بےنیاز ہے۔ اگر تم اس کی حمد نہ کروگے تو کیا ہے، ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ اس کی نعمت کا شکر کر رہا ہے اور ہر شرئے اس کی تسبیح میں مشغول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
[2] یعنی وہ تاریخی ایام جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم و ستم سے نجات بخشی۔
[3] صبر کے معنی ہیں مشکلات و مصائب کے معاملے میں جمے رہنا اور شکر کے معنی ہیں اللہ کی بخشی ہوئی قوتوں کی قدر کرنا اور انھیں ٹھیک ٹھیک کام میں لانا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ کی آزمائشوں سے صبر اور پامردی کے ساتھ گزرنے والے اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کر کے ان کی قدر کرنے والے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(ف 1) ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو زندگی کا پیغام دیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ جب تک تم شاکر رہو گے ، اللہ کے حکموں کو مانتے رہو گے ، اسی کی اطاعت کا دم بھرتے رہو گے ، اور اس کے سوا ہر معبود کا انکار کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں سرفرازی عنایت کرے گا ، غنی رکھے گا ، نعمتیں زیادہ سے زیادہ دے گا ، اور اگر انکار کرو گے ، تو یاد رکھو ناشکری سے قوموں کو عذاب شدید دیا جاتا ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی سمجھا دیا کہ تمہاری عبادت اور اطاعت سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس کی اطاعت سے دنیا تمہاری اطاعت کرے گی ، اور اگر تم اور تمہارے ساتھی انکار کردیں ، تو یاد رکھو ، اللہ ہے…
Read the full tafseer →8 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے یہ بھی کہا کہ اگر تم اور تمام روئے زمین پر رہنے اور بسنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگیں اور نا شکری کا شیوہ اختیار کرلیں تو اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بےاحتیاج بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ یعنی نا سپاسی کی وجہ سے تم اور دنیا بھر کے لوگ اپنا ہی نقصان کرو گے اللہ تعالیٰ کا کوئی ضرر نہیں ہوگا نا شکری سے نعمت سلب ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 2۔ شکر میں ایمان اور ناشکری میں کفر بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ اگر تم کفران نعمت کرو تو اللہ بےنیاز ہے
8 ؎ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں کہ اسے کسی کی ناشکری سے ضرر پہنچے یا اس کی قدر دانی سے اس کو کوئی فائدہ ہو یہ نفع و نقصان بھی انسان کا اپنا ہے اس سے مشرک قوموں کی تردید بھی ہوگئی جن کے بزرگ خود اپنے ماننے والوں کے چڑھاوں کے محتاج رہتے ہیں۔
ع من نہ گردم پاک از تسبیح شاں
اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے معاملہ کی طرف یہ مختصر اشارہ کرنے سے مقصود اہل مکہ کو یہ بتانا ہے ۔
ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ وہ اللہ کہ آسمان و
اللہ جب کسی قوم پر احبان کرتا ہے اور جواب میں وہ قوم نمک حرامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →13. It should be noted that a reference to Prophet Moses (peace be upon him) and his people has been made here to warn the people of Makkah of the consequences of their ingratitude towards this favor of Allah that He has raised Prophet Muhammad (peace be upon him) from among them. This was a timely warning, for at that time they were showing ingratitude by rejecting that message. They were, therefore, warned to learn a lesson from the miserable condition of the Israelites, which was the result of their ingratitude to and rebellion against Allah’s favors.
As the Quraish themselves could see…
Read the full tafseer →