Explained with ayahs 6–8
اولاد کا قاتل
فرمان الہٰی کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ مثلا قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بےوقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہوسکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، واللہ اعلم۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) یعنی ہم نے انہیں بھلائی…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 11
یعنی اگر ہماری نعمتوں کا حق پہچان کر ان کا صحیح استعمال کرو گے، اور ہمارے احکام کے مقابلہ میں سرکشی و استکبار نہ برتو گے، اور ہمارا احسان مان کر ہمارے مطیع فرمان بنے رہو گے۔
سورة اِبْرٰهِیْم 12
اس مضمون کی تقریر بائیبل کی کتاب استثناء میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔ اس تقریر میں حضرت موسیٰ ؑ اپنی وفات سے چند روز پہلے بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے سارے اہم واقعات یاد دلاتے ہیں۔ پھر توراۃ کے ان تمام احکام کو دہراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو بھیجے تھے۔ پھر ایک طویل خطبہ دیتے ہیں جس میں بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے رب کی فرمانبرداری کی تو…
Read the full tafseer →شکر اور ناشکری کے نتائج
(آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ لفظ تاذن، اذن اور اطلاع دینے اور اعلان کرنے کے معنی میں ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان عام فرما دیا ہے کہ اگر تم نے میری نعمتوں کا شکر ادا کیا کہ انکو میری نافرمانیوں اور ناجائز کاموں میں خرچ نہ کیا اور اپنے اعمال و افعال کو میری مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کی تو میں ان نعمتوں کو اور زیادہ کر دوں گا یہ زیادتی نعمتوں کی مقدار میں بھی ہو سکتی ہے، اور ان کی بقاء و دوام میں بھی رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو شکر ادا کرنے کی توفیق ہوگئی…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۔
وقت کے بنی اسرائیل کو یاد دہانی : " تاذن " کے معنی باخبر اور آگاہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ نے تو وہ بات کہی تھی جو اوپر گزری اور ساتھ ہی تمہارے رب نے بھی تمہیں آگاہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ نے تو وہ بات کہی تھی جو اوپر گزری اور ساتھ ہی تمہارے رب نے بھی تمہیں آگاہ کردیا تھا کہ اگر تمیرے احکام و ارشادات کی پیروی کرکے میرے شکر گزار رہے تو میں تمہاری تعداد اور اپنے افضال و عنایات میں برابر اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری اور نافرمانی کی راہ پر چل پڑے تو یاد رکھو کہ میرا…
Read the full tafseer →7۔ 1 اس نے تمہیں اپنے وعدے سے تمہیں آگاہ اور خبردار کردیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ قسم کے معنی میں ہو یعنی جب تمہارے رب نے اپنی عزت و جلال اور کبریائی کی قسم کھا کر کہا (ابن کثیر)
7۔ 2 نعمت پر شکر کرنے پر مذید انعامات سے نوازوں گا،
7۔ 3 اس کا مطلب یہ ہوا کہ کفران نعمت (ناشکری) اللہ کو ناپسند ہے، جس پر اس نے سخت عذاب کی وعید بیان فرمائی ہے، اس لئے نبی ﷺ نے بھی فرمایا کہ عورتوں کی اکثریت اپنے خاوندوں کی ناشکری کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گی (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
4: اصل قرآنی لفظ ایام اللہ ہے جس کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن۔ لیکن محاورے میں اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے خاص خاص اور اہم واقعات دکھلائے ہیں۔ مثلاً نافرمان قوموں پر عذاب کا نازل ہونا۔ اور فرماں برداروں کو دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا ہونا۔ لہذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان خاص خاص واقعات کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو نصیحت کیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔
آیت نمبر 5 تا 8
حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔
حضور ﷺ کو…
Read the full tafseer →4 موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے یعنی وہ وقت بھی یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا کہ اگر احسان مان کر زبان و دل سے میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو اور زیادہ نعمتیں ملیں گی۔ جسمانی و روحانی اور دنیاوی و اخروی ہر قسم کی۔
5 موجودہ نعمتیں سلب کرلی جائیں گی اور ناشکری کی مزید سزا الگ رہی۔ حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایک سائل آیا آپ ﷺ نے اسے ایک کھجور عنایت فرمائی۔ اس نے نہ لی یا پھینک دی۔ پھر دوسرا سائل آیا اس کو بھی ایک کھجور دی وہ بولا سُبْحَان اللّٰہِ تَمْرَۃٌ مِّنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یعنی رسول اللہ کا تبرک ہے۔ آپ ﷺ نے جاریہ کو حکم دیا کہ ام سلمہ کے پاس جو چالیس درہم رکھے…
Read the full tafseer →آیت 7 وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ
اگر تم لوگ میرے احکام مانو گے اور میری نعمتوں کا حق ادا کرو گے تو میرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے میں تم لوگوں کو اپنی مزید نعمتیں بھی عطا کروں گا۔
وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ
لیکن اگر تم کفران نعمت کرو گے میری نعمتوں کی ناقدری اور نا شکری کرو گے اور میرے احکام سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو میری سزا بھی بہت سخت ہوگی۔
Read the full tafseer →9 شکر اور اس کا فائدہ :۔ شکر یا احسان شناسی میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھ دی ہے کہ بھلائی کو بحال رکھتی ہے بلکہ مزید بھلائیوں کو بھی اپنی طرف جذب کرتی ہے اور ناشکری یا احسان فراموشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے احسان ناشناس سے پہلی نعمت بھی چھن جاتی ہے اور حالات مزید بدتر پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ نتائج اس دنیا سے گذر کر آخرت تک بھی چلتے ہیں۔ اس مضمون کی تفصیل کے لیے ہم یہاں دو احادیث درج کرتے ہیں :۔
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمانا چاہا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے…
Read the full tafseer →10۔ (میرے ذریعہ سے) گفتگو ابھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی چل رہی ہے۔
11۔ (دنیا اور آخرت دونوں میں) (آیت) ” لازیدنکم “۔ زیادتی اور افزونی کس چیز میں ہوگی ؟ خود اسی نعمت میں ہونا تو ظاہر ہی ہے باقی اگر توفیق شکر وغیرہ بھی مراد لی جائے تو عموم لفظ سے یہ سب بھی بخوبی نکل سکتا ہے۔ بائبل کے حوالوں کیلئے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” لئن شکرتم “۔ شکر کی تعریف امام رازی (رح) نے یہ کی ہے کہ معنم کی نعمت کا اعتراف کیا جائے، اس کی تعظیم کی جائے اور طبیعت کو اس طریقہ کا عادی کیا جائے، اما الشکر فھو عبارۃ عن الاعتراف بنعمۃ المنعم مع تعظیمہ وتوطین النفس علی ھذہ الطریقۃ (کبیر) بعض صوفیہ نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیت نمبر 7 تا 12
ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم توحید اور اطاعت کے ذریعہ میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں بیشک تم کو مزید دوں گا، اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعہ (میر) نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میں تم کو ضرور عذاب دوں گا، لاعذبنکم، (جواب محذوف پر) ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے، یقیناً میرا عذاب نہایت سکٹ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام باشندے ناشکری کریں تو بھی اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے کیا تمہارے پاس استفہام تقریری ہے تم سے پہلے لوگوں کی (یعنی) قوم نوح کی اور عاد کی اور قوم ہود اور ثمود کی…
Read the full tafseer →واذ تأذن ربکم لئن شکرتم لا زیدنکم ولئن کفرتم ان عذابي لشدید اور جب تمہارے رب نے اطلاع دے دی تھی کہ اگر شکر کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا اور ناشکری کرو گے تو (سمجھ لو) میرا عذاب یقیناً سخت ہے۔ یہ بھی حضرت موسیٰ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔ تَأَذَّنَ کا معنی ہے : اطلاع دے دی ‘ بتادیا اور شَکَرْتُمْ وَکَفَرتُمْ کا خطاب بنی اسرائیل کو ہے۔ شکر نعمت سے مراد ہے : ایمان لانا اور اپنے پیغمبر کے حکم پر چلنا۔ شکر ‘ زیادتی نعمت کا موجب ہے ‘ موجود نعمت کو برقرار رکھتا ہے اور غیر موجود کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کو شکر دیا گیا (شکر کرنے کی توفیق دی گئی) وہ زیادتی سے…
Read the full tafseer →(7) اور حضرت موسیٰ ؑ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ وقت بھی یاد کرو، جب تمہارے رب نے فرمایا اور کتاب میں تمہیں کو اس بات سے باخبر کردیا کہ اگر تم توفیق، عصمت، کرامت، اور نعمت پر شکر ادا کرو گے، تو اور زیادہ توفیق، عصمت نعمت اور کرامت دوں گا اور اگر میری یا میری نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو ناشکری کرنے والے پر میرا عذاب بہت سخت ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ : ”آذَنَ یُؤْذِنُ“ کا معنی اطلاع دینا، اعلان کرنا ہے۔ باب تفعل میں جانے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”صاف اعلان کردیا۔“
لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ : کیونکہ کسی کے بھی احسان کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ادا کرنے سے اس کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا تو کہنا ہی کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَیْہِ الْمِدْحَۃُ مِنَ اللّٰہِ ، مِنْ أَجْلِ ذٰلِکَ وَعَدَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ) [ مسلم، اللعان : 1499 ]”کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنی تعریف پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔“ جب اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 8 تا 9
قولہ تعالیٰ : وقال موسیٰ ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا، فان اللہ لغنی حمید یعنی تمہاری اس کاروائی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان نہیں، بلکہ وہ غنی ہے، الحمید بمعنی المحمود ہے۔
الم یاتکم نبوا الذین من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود، النبا کا معنی خبر ہے اس کی جمع الانباء ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
ألم یاتیک والأنباء تتمی
ایک قول کے مطابق : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے جب کہ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ کے ارشادات میں سے ہے، یعنی اے محمد ! ﷺ یاد کرو جب آپ کے رب نے یوں فرمایا۔ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ابتدا اور حضرت نوح، حضرت عاد اور حضرت ثمود (علیہم السلام) کی قوم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
1:۔ امام ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے (آیت ) ” واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خبر دی کہ اگر وہ شکر کریں گے تو نعمتوں کا تو اللہ تعالیٰ ان پر فضل کو زیادہ کردیں گے اور ان کے لئے رزق کو بھی وسیع فرما دیں گے اور جہاں والوں پر ان کو غالب فرمائیں گے۔
2:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ ہو عطاء کریں جو ان سے سوال کرے اور زیادہ دیں جو ان کا شکر ادا کرے اور اللہ تعالیٰ انعام فرمانے والے ہیں (اور) شکر کرنے والوں سے محبت…
Read the full tafseer →[وَاِذْ : اور جب ] [تَاَذَّنَ : جتا دیا ] [ رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [شَكَرْتم : تم لوگ شکر کرو گے ] [ لَاَزِيْدَنَّكُمْ : تو میں لازماً زیادہ کروں گا تم کو (ہر لحاظ سے)] [ وَلَىِٕنْ : اور البتہ اگر ] [كَفَرْتم : تم لوگ ناشکری کرو گے ] [ ان : تو بیشک ] [عَذَابِيْ : میرا عذاب ] [لَشَدِيْدٌ: یقینا شدید ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اللہ تعالیٰ کا اعلان کہ شکر پر مزید نعمتیں دوں گا اور ناشکری سخت عذاب کا سبب ہے :
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیت (وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ ) بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانے کے بعدیہ بھی فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ نعمتوں کی شکر گزاری پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید انعامات ملیں گے اور جیسا کہ شکر نعمتوں کے زیادہ ہونے کا سبب ہے اسی طرح سے ناشکری اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوجانے کا سبب ہے۔ لہٰذا زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ذکر موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... فان اللہ لغنی حمید۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت کو ذکر کیا اب آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے کچھ واقعات ذکر کرکے بتلاتے ہیں کہ اور انبیاء کی بعثت سے بھی یہی مقصود تھا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں اور ان کو آخرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں اور اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ انسان ظلمت سے نکل کر نور میں آجائے اور اس کو خدا کا راستہ نظر آنے لگے اور جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی زبان عبرانی میں کتاب دی اسی طرح ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
7:۔ یہ اصل میں تھا واذکر بیان موسیٰ اذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ الخ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے وقائع بیان کیے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے آپ بھی اسی طرح بیان فرمائی۔ ” وَ اِذْ تَاَذَّنَ “ یہ ” نِعْمَۃَ اللہِ الخ “ پر معطوف ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ ” وَ قَالَ مُوْسیٰ “ یہ سب وقائع ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یاد دلائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(ربط آیات)
اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا پہلے فرمایا کہ ہر نبی اور رسول اپنی قوم کی زبان میں مبعوث ہوتا ہے اور اسی زبان میں قوم کو خطاب کرتا ہے تاکہ کسی کا کوئی اشتباہ باقی نہ رہے ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بطور خاص ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنا کر بھیجا اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کرکے کہا کہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤں اور وہ تاریخی واقعات یاد دلاؤں جو باعث عبرت ونصیحت ہیں ، اللہ نے صبر اور شکر کرنے والوں کا ذکر کیا ، پھر بنی اسرائیل پر کیے گئے…
Read the full tafseer →وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ
شكر
الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي :
ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب :
شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة .
وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم .
وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه .
وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ،
( ش ک ر )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وَاِذْتَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۔ وَقَالَ مُوْسٰیٓ اِنْ تَکْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالافَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
(سورۃ ابراھیم : 7۔ 8)
( اور یاد کرو جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا تھا کہ اگر تم شکرگزار رہے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہوگا۔ اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سارے لوگ جو روئے زمین پر ہیں ناشکری کروگے تو خدا کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ )
ان آیات کی تشریح میں صاحب تفیہم القرآن نے جو نوٹ لکھا ہے اسے یہاں ہم افادہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان اطہر سے بنی اسرائیل کو آزادی کی نعمت یاد کروانے کے بعد سب لوگوں کو شکر گزار ہونے کی ہدایت۔
مذکورہ بالا آیت سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو اس لیے بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو ان کے ماضی کے ایام اور اللہ تعالیٰ کے انعام یاد کروا کر انہیں کفر و شرک اور بدعت ورسومات کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ یہ کوشش ہر اس شخص کے لیے مفید اور کارگر ثابت ہوگی جو مشکلات پر صبر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بنی…
Read the full tafseer →7: وَاِذْتَاَذَّنَ رَبُّکُمْ (جب تمہارے رب نے اطلاع دے دی) اعلان کردیا تأذن اور اٰذن توعّد واوعد کی طرح ہے۔ تفعل میں جو معنی میں اضافہ ہے وہ افعل میں نہیں ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا واذاٰذن ربکم ایذانًابلیغًا تنتفی عندہ الشکوک والشبہ جب تمہارے رب نے کامل اعلان کیا جس سے شکوک و شہبات رفو ہوگئے اور وہ انہی میں سے ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ارشادات فرمائے۔
نحو : نعمۃ اللّٰہ علیکم پر عطف کی وجہ سے یہ منصوب ہے گویا اسطرح فرمایا واذ قال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللّٰہ علیکم واذکروا حین تاذن ربکممطلب یہ ہے جب تمہارے رب نے اطلاع دیتے ہوئے فرمایا لَئِنْ شَکَرْتُمْ (اگر تم شکر کرو گے) اے بنی…
Read the full tafseer →تفسیر 7۔” واذ تاذن ربکم “ تاذن بمعنی اعلم کے ہے ، اطلاع دے دی بتلا دیا ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اذن و تاذن “ ان دونوں کا معنی ایک ہی ہے جیسے ” اوعد ، توعد “ ہے ۔ ” لئن شکرتم “ میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے بایں معنی ان پر ایمان لائو گے اور اطاعت کرو گے ۔” لا زیدنکم “ تمہیں نعمت میں اور زیادہ دیں گے۔ ( شکر کہتے ہیں کہ موجود چیز پر اور جو چیز ضائع ہوجائے اس پر صبر کرے) یا شکر موجودہ نعمت کو برقرار رکھتا ہے اور غیر موجود کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ بعض نے کہا کہ اگر تم نیکی کرنے میں میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہارے ثواب میں زیادتی کروں گا ۔” ولئن کفرتم “ میری نعمتوں کا انکار کیا اور ان پر شکر ادا…
Read the full tafseer →7۔ اس سے پہلے کی آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے زبانی ان کی قوم بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے فرعون کے ظلم سے تمہیں اور تمہارے بال بچوں کو بچایا جس کا شکر تم کسی طرح ادا نہیں کرسکتے پھر کہا کہ خدا نے یہ حکم موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت دے رکھا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ نعمت ملے گی اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ معتبر سند سے انس ؓ کی ایک حدیث بخاری نے اپنی تاریخ میں نقل کی ہے کہ منجملہ ان پانچ چیزوں کے جن کے سبب سے دوسری پانچ چیزیں انسان کو مل جاتی ہیں ایک شکر بھی ہے کہ شکر کی عادت سے نعمت کی زیادہ ہوجاتی 1 ؎ ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں پر شکر کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : (واذ تاذن ربکم) ” جب تمہارے رب نے آگاہ کیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا اور وعدہ کیا (لئن شکر تم لازیدنکم) ” اگر تم شکر کرو گے، تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا “ یعنی اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا (ولئن کفرتم ان عذا بی لشدید) ” اور اگر تم نے کفر کیا، تو میرا عذاب نہایت سخت ہے ‘ عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کو زائل کر دے جو انہیں عطا کی تھیں۔ شکر سے مراد، دل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا، ان نعمتوں پر دل سے اس کی حمد و ثنا کرنا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے اور ان امور کے برعکس رویہ…
Read the full tafseer →15۔ شکر نعمت اور اس کی صورتیں :
سو شکر نعمت ایک اہم مطلوب ہے جس میں سب سے پہلا درجہ اقرار نعمت کا ہے۔ اس طرح کہ دل میں بھی اس کا احساس و یقین ہو اور زبان وبیان سے بھی اس کا اقرار واظہار کہ یہ نعمت اللہ ہی کی عطاء فرمودہ اور صرف اسی کی بخشی ہوئی ہے۔ اور پھر اس نعمت کو صرف وخرچ بھی اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کے لیے اور اس کی ہدایت وتعلیم کے مطابق کرے۔ یہ سب شکرنعمت میں داخل ہے۔ سو شکر نعمت بذات خود ایک عظیم الشان نعمت ہے کہ اس سے نعمتوں میں برکت نصیب ہوتی ہے اور ان کی حفاظت ہوتی اور ان کو بقاء ملتی اور دوام نصیب ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑی نعمت ایمان و ہدایت کی نعمت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ،
(شکر کی حقیقت)
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 10 ۔ کہ تم کو غلامی کی ذلت سے نکالا اور آزادی کی نعمت سے مالا مال کیا۔ یا ” اس میں تمہارے مالک کی طرف سے تمہاری سخت آزمائش تھی۔ “ کہ ایسی مصیبت پر صبر کرتے ہو یا نہیں۔ لفظ ” بلاء “ کے اس موقع پر ” احسان “ اور آزمائش دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(14:7) تاذن۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب تفعل) (تاذن) اس نے سنا دیا۔ اس نے خبر کردی۔ اس نے اعلان کردیا۔ اس نے بتادیا۔ (ملاحظہ ہو 7:167) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9
شکرتم تم نے شکر کیا۔ ازیدن میں ضرور بڑھاؤں گا۔ انتم تم۔ غنی بےنیاز۔ حمید تمام خوبیوں کا مستحق۔ لم یات نہیں آئی۔ نبو خبر، اطلاع۔ لایعلم نہیں جانتا ردوا انہوں نے پلٹائے۔ ایدیھم ان کے ہاتھ ۔ افواہ منہ (فوہ) ۔ کفرنا ہم نے کفر کیا، انکار کیا۔ تدعون تم بلاتے ہو۔ مریب کھٹکنے والا، تردد کرنے والا۔
تشریح آیت نمبر 7 تا 9
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر انسان ان کو شمار کرنا چاہے تو کر نہیں سکتا۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ ان آیات میں اگرچہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے لیکن درحقیقت کفار مکہ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تمہیں اطلاع کی تھی کہ اگر تم شکر کرو گے تو تمہاری نعمت کو ضرور بالضرور بڑھائیں گے، اور اگر ناشکری کروگے تو یاد رکھو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
[2] یعنی وہ تاریخی ایام جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم و ستم سے نجات بخشی۔
[3] صبر کے معنی ہیں مشکلات و مصائب کے معاملے میں جمے رہنا اور شکر کے معنی ہیں اللہ کی بخشی ہوئی قوتوں کی قدر کرنا اور انھیں ٹھیک ٹھیک کام میں لانا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ کی آزمائشوں سے صبر اور پامردی کے ساتھ گزرنے والے اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کر کے ان کی قدر کرنے والے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(ف 1) داستان استقلال :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کا قصہ قرآن میں بار بار آیا ہے ، اس لئے کہ یہ واقعہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کا واقعہ نہیں ، بلکہ حریت وآزادی کی داستان ہے استقلال قومی کا نمونہ ہے ، غلامی کے مضر اثرات کا مرقع ہے ، قوموں کے عروج وزوال کی بحث ہے ، اس میں یہ مذکور ہے کہ جب قوم میں فرعون پیدا ہوتے ہیں ، اللہ کی غیرت جوش میں آتی ہیں ، اور موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر انقلاب پسند حضرات پیدا ہوتے ہیں ، اور کس طرح صدیوں کی غلام قومیں بیدار ہوجاتی ہیں ، اور آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوتی ہیں ۔
بنی اسرائیل چار سو سال سے غلام تھے قبطی ان پر طرح طرح کے ستم ڈھا…
Read the full tafseer →7 ۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تم کو آگاہ کردیا تھا اور تم کو مطلع فرما دیا تھا کہ اگر تم نے میری نعمتوں پر اور میرے احسانات پر شکر بجا لانے کا شیوہ اختیار کیا اور شکر ادا کرتے رہے تو تم کو اپنی نعمتیں اور زیادہ دوں گا اور نعمتوں میں اضافہ کر دوں گا اور اگر تم نا شکری کرو گے اور نا سپاسی کا طریقہ اختیار کرو گے تو یقین جانو کہ میرا عذاب بہت سخت ہے ۔ یعنی میرے ذریعہ سے حضرت حق تعالیٰ کا یہ اعلان تم تک پہنچ چکا کہ نعمت پر شکر اور زیادہ نعمت کا باعث ہے اور کفران نعمت سلب نعمت اور عذاب الٰہی کا سبب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 2۔ شکر میں ایمان اور ناشکری میں کفر بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →اس اعلان الٰہی کا ذکر جس میں شکر کرنے والوں کو زیادہ دینے کا ارشاد فرمایا گیا
7 ؎ ” ناذن “ اور ” اذن “ ایک ہی معنی رکھتے ہیں یعنی اعلم جس کا مطلب خبردار کرنے یا آگاہ کرنا ہے اور اس کو اعلان کرنا بھی کہتے ہیں۔ شکر کیا ہے ؟ لغت میں شکر کے اصل معنی یہ تحریر ہیں کہ ” جانور میں تھوڑے سے چارہ ملنے پر بھی ترو تازگی پوری ہو اور دودھ زیادہ دے “۔ اس سے انسانوں کے محاورہ میں یہ معنی پیدا ہوئے کہ کوئی کسی کا تھوڑا سا کام بھی کر دے تو دوسا اس کی پوری قدر کرے پھر یہ قدر شناسی تین طریقہ سے ہو سکتی ہے۔ دل سے ‘ زبان سے اور ہاتھ پائوں سے یعنی دل میں اس کی قدر شناسی کا جذبہ ہو ‘ زبان سے اس کے کاموں کا اقرار ہو…
Read the full tafseer →The Outcome of Gratitude and Ingratitude
In the third verse (7), it was said: وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (And when your Lord declared, "If you express gratitude, I shall certainly give you more, and if you are ungrateful, then My punishment is severe." ). The word: تَأَذَّنَ (ta'adhdhana) is used in the sense of making known or announcing. The sense of the verse is that Allah Ta’ ala has announced it for all to hear: 'If you are thankful for My blessings and do not waste them in acts of disobedience to Me and…
Read the full tafseer →11. That is, if you are grateful, you will appreciate Our favors and make right use of them, and will not rebel against Our commandments, but will surrender and submit to Us to show your gratitude to Us.
12. Deuteronomy (Bible) contains a long and detailed discourse to this effect. According to it, Prophet Moses (peace be upon him), on the eve of his death, reminded the Israelites of all important events from their history, and reiterated all the divine commandments of the Torah which Allah had sent to them through him. Then he told them in a long speech that if they obeyed their Lord, they…
Read the full tafseer →