Ibrahim 14:6

Ibrahim · from ayah 6

14:6

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ ؕ— وَفِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ ۟۠وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِـقَوۡمِهِ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ اَنۡجٰٮكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَـكُمۡ سُوۡۤءَ الۡعَذَابِ وَ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ‌ ؕ وَفِىۡ ذٰ لِكُمۡ بَلَاۤ ءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [recall, O Children of Israel], when Moses said to His people, "Remember the favor of Allah upon you when He saved you from the people of Pharaoh, who were afflicting you with the worst torment and were slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:6

یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس وقت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کے وه احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کیے ہیں، جبکہ اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بڑے دکھ پہنچاتے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زنده چھوڑتے تھے، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بہت بڑی آزمائش تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے، اسے یاد رکھو کہ اس نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے نجات دی، جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے، اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور ان تمام واقعات میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا زبردست امتحان تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب موسٰی ؑ نے اپنی قوم سے کہا: تم اپنے اوپر اللہ کے (اس) انعام کو یاد کرو جب اس نے تمہیں آلِ فرعون سے نجات دی جو تمہیں سخت عذاب پہنچاتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی جانب سے بڑی بھاری آزمائش تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تمہیں فرعون کی آل سے نجات دی، جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹے بری طرح ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا تھا، جب اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی، وہ تمہیں بہت بری سزا دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو تو مار ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے، اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ کے اس فضل کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں آل فرعون کے پنجہ سے نجات دی جو تمہیں نہایت برے عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور بیشک اس میں تمہارے رب کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ وقت بھی یاد کرو کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ یاد کرو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو جو اس نے فرمائے ہیں تم پر، جب کہ اس نے تم کو نجات دی فرعون والوں (کے ظلم و ستم) سے، جو کہ چکھا رہے تھے تم کو طرح طرح کے برے عذاب، اور وہ چن چن کر ذبح کر رہے تھے تمہارے بیٹوں کو، اور زندہ رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو، اور اس میں بڑی بھاری آزمائش تھی تمہارے پروردگار کی طرف سے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم والوں سے کہا کہ اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ اس نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں سخت تکلیف پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ہلاک کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو جب اس نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے وہ تمہیں مبتلا کیے ہوئے تھے بدترین عذاب میں اور وہ لوگ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں یقیناً تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ ”اللہ نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی، وہ لوگ تمہیں بڑی بڑی سزا دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی سخت آزمائش تھی

— محترمہ رفعت اعجاز

And call to mind when Moses said to his people: "Remember Allah's favour upon you when He delivered you from Pharaoh's people who afflicted you with a grievous chastisement, slaughtering your sons, while letting your women live. In it there was a terrible trial from your Lord."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when Musa said to his people, :Remember Allah‘s blessing upon you when He delivered you from Pharaoh‘s people who had been inflicting a grievous torment on you, slaughtering your sons and leaving your women alive. In that there was a great trial from your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

And when Musa said to his people, :Remember Allah‘s blessing upon you when He delivered you from Pharaoh‘s people who had been inflicting a grievous torment on you, slaughtering your sons and leaving your women alive. In that there was a great trial from your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when Musa said to his people: "Call to mind Allah's favor to you, when He delivered you from Fir`awn's people who were afflicting you with horrible torment, and were slaughtering your sons and letting your women live; and in it was a tremendous trial from your Lord."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (remind them) how Moses said unto his people: Remember Allah's favour unto you when He delivered you from Pharaoh's folk who were afflicting you with dreadful torment, and were slaying your sons and sparing your women; that was a tremendous trial from your Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [recall, O Children of Israel], when Moses said to His people, "Remember the favor of Allah upon you when He saved you from the people of Pharaoh, who were afflicting you with the worst torment and were slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.

— Saheeh International

Moses told his people, "Remember the favors that God granted you when He saved you from the people of the Pharaoh who had punished you in the worst manner by murdering your sons and keeping your women alive. It was a great trial for you from your Lord.

— Muhammad Sarwar

And when Musa said to his people: Call to mind Allah's favor to you when He delivered you from Firon's people, who subjected you to severe torment, and slew your sons and spared your women; and in this there was a great trial from your Lord.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time Musa said unto his people: remember the favour of Allah upon you when He delivered you from the house of Fir'awn who were imposing upon you evil torment, slaughtering your sons and letting your women live, and therein was from your Lord a trial terrible.

— Abdul Majid Daryabadi

Remember! Moses said to his people: "Call to mind the favour of Allah to you when He delivered you from the people of Pharaoh: they set you hard tasks and punishments, slaughtered your sons, and let your women-folk live: therein was a tremendous trial from your Lord."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–8

اولاد کا قاتل فرمان الہٰی کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ مثلا قوم فرعون سے انہیں نجات دلوانا جو انہیں بےوقعت کر کے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے یہاں تک کہ تمام نرینہ اولاد قتل کر ڈالتے تھے صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ یہ نعمت اتنی بڑی ہے کہ تم اس کی شکر گزاری کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ مطلب بھی اس جملے کا ہوسکتا ہے کہ فرعونی ایذاء دراصل تمہاری ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں، واللہ اعلم۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ01608) 7۔ الاعراف :168) یعنی ہم نے انہیں بھلائی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة اِبْرٰهِیْم 8 ”ایّام“ کا لفظ عربی زبان میں اصطلاحا یادگار تاریخی واقعات کے لیے بولا جاتا ہے۔”ایام اللہ“ سے مراد تاریخ انسانی کے وہ اہم ابواب ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ زمانہ کی قوموں اور بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کے اعمال کے لحاظ سے جزا یا سزا دی ہے۔ سورة اِبْرٰهِیْم 9 یعنی ان تاریخی واقعات میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جن سے ایک آدمی توحید خداوندی کے برحق ہونے کا ثبوت بھی پاسکتا ہے اور اس حقیقت کی بھی بیشمار شہادتیں فراہم کرسکتا ہے کہ مکافات کا قانون ایک عالمگیر قانون ہے، اور وہ سراسر حق اور باطل کے علمی و اخلاقی امتیاز پر قائم ہے، اور اسکے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک دوسرا عالم، یعنی عالم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر و معاصی کی) تاریکیوں سے (نکال کر ایمان و اطاعت کی) روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات (نعمت اور عذاب کے) یاد دلاؤ بلاشبہ ان معاملات میں عبرتیں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے (کیونکہ نعمت کو یاد کر کے شکر کرے گا اور نقمت یعنی عتاب کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا) اور اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب (ہمارے اس ارشاد بالا کے موافق) موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ۔ " اٰل " سے مراد اتباع اور پیرو : " ال فرعون " ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ لفظ " اٰل " سے مراد اتباع اور پیرو بھی ہوتے ہیں۔ یہ حضرت موسیٰ کی اس تقریر کا حوالہ ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اس وقت فرمائی ہے جب ان کو اور ان کی قوم کو فرعونیوں کے چنگل سے نجات مل چکی ہے۔ اس تقریر سے حضرت موسیٰ کا مقصود اپنی قوم کو یہ یاد دلانا تھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی جس طرح یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی اسی طرح اس سے نجات اللہ کا بہت بڑا احسان تھا، اسی لئے بعض مترجمین نے بَلَاَء کا ترجمہ آزمائش اور بعض نے احسان کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–8

4: اصل قرآنی لفظ ایام اللہ ہے جس کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن۔ لیکن محاورے میں اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے خاص خاص اور اہم واقعات دکھلائے ہیں۔ مثلاً نافرمان قوموں پر عذاب کا نازل ہونا۔ اور فرماں برداروں کو دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا ہونا۔ لہذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان خاص خاص واقعات کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو نصیحت کیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کریں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔ آیت نمبر 5 تا 8 حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔ ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ حضور ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 مثلاً تم کو غلام بنا رکھا تھا اور سخت بیگاریں لیتے تھے۔ 3 کہ تم کو غلامی کی ذلت سے نکالا اور دولت آزادی سے مالا مال کیا۔ " بلاء " کے اصل معنی آزمائش کے ہیں۔ تکلیف و راحت دونوں حالتوں میں بندے کے صبر و شکر کی آزمائش ہے (وَنَبْلُوْكُمْ بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ) 21 ۔ الانبیاء :35) (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :168) چونکہ فرعونیوں سے نجات دینا بڑی نعمت تھی تو یہاں آزمائش انعام سے ہوئی جیسے مترجم محقق نے بطور حاصل معنی لفظ " مدد " سے تعبیر کیا۔ اس قسم کی آیت سورة بقرہ اور اعراف میں گزر چکی ہے وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 5 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یہ ”التّذکیر بایّام اللّٰہ“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آچکا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”الفوز الکبیر“ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ”التذکیر بایام اللّٰہ“ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ نے دوسری اصطلاح ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یہ واقعات سورة بقرہ، سورة اعراف اور سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ آیت تقریباانہی الفاظ کے ساتھ پارۂ اول سورة بقرہ رکوع 6 میں آچکی ہے۔ اور وہیں مفصل حاشیے بھی گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اے محمد اس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو کفر کی ظلمتوں سے انکے رب کے حکم سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں، اور الی النور سے الی صراط العزیز بدل ہے یعنی غالب اور قابل ستائش اللہ کے راستہ کی طرف (لائیں) (اللہ) کا جر (العزیز) سے بدل یا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے، اس کا مابعد (یعنی الذین لہ الخ) اللہ کی صفت ہے اور (اللہ) کے رفع کی صورت میں اللہ مبتداء ہوگا اور الذین لہ اس کی خبر ہوگی وہ اللہ کہ آسمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذ قال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ انجکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب ویذبحون انباء کم ویستحیون نساء کم اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی جبکہ اللہ نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی۔ وہ تم کو بری تکلیفیں دیتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ نعمت سے مراد انعام (بمعنی مصدری) نہیں ہے بلکہ عطیۂ الٰہی مراد ہے۔ عذاب سے مراد قتل اولاد نہیں بلکہ بنی اسرائیل کو غلام بنانا اور سخت ترین کام لینا مراد ہے ‘ کیونکہ وَیُذَبِّحُوْنَ کا عطف یَسُوْمُوْنَ پر ہے اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے (معطوف ‘ معطوف علیہ سے غیر ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) اور حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر کیا گیا انعام یاد کرو جب کہ اس نے تمہیں فرعون اور اس کی قبطی قوم سے نجات دی جو تمہیں سخت ترین عذاب دیا کرتے تھے اور تمہارے چھوٹے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو خدمت لینے کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے اور بچوں کے ذبح ہونے اور عورتوں سے خدمت لینے میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا بڑا امتحان تھا یا یہ کہ اس مصیبت سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں نجات دی اور یہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی نعمت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا۔۔ : یہاں موسیٰ ؑ چند نعمتیں گنوا رہے ہیں۔ ”يَسُوْمُوْنَكُمْ“ کے بعد ”وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ“ میں واؤ عطف سے معلوم ہوا کہ وہ لڑکوں کو ذبح کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے کے علاوہ اور بھی کئی بدترین عذاب دیتے تھے، مثلاً بیگار لینا، ذلیل کرنا اور مار پیٹ وغیرہ۔ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ : ”بَلَاۗءٌ“ کا لفظ مصیبت پر بھی آتا ہے اور نعمت پر بھی، فرمایا : (وَنَبْلُوْكُمْ بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً) [ الأنبیاء : 35 ] ”اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے۔“ آل فرعون کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 6 تا 7 واذ قال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذا انجکم من ال فرعون یسومونکم سوٓء العذاب ویذبحون ابنآء کم ویستحیون نسآء کم، وفی ذلکم بلآء من ربکم عظیم کی تفسیر سورة بقرہ میں مکمل طور گزر چکی ہے۔ والحمدللہ۔ قولہ تعالیٰ : واذ تاذن ربکم ایک قول کے مطابق : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ارشاد ہے۔ اور ایک قول کے مطابق : یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یعنی اے محمد ! ﷺ یاد کرو جب آپ کے رب نے یہ ارشاد فرمایا ہے : تاذن اور اذن بمعنی اعلم ہے جس طرح أوعد اور توعد۔ یہ معنی حضرت حسن بصری وغیرہ سے مروی ہے اسی سے الأذان ہے، کیونکہ یہ اعلام ہے۔ شاعر نے کہا : فلم نشعر بغوء القبح حتی سمعنا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد وعطاء وعبید بن عمیر رحمہم اللہ تینوں حضرات سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا “ سے مراد ہے نونشانیاں (یعنی بنی اسرائیل پر عذاب کی شکل میں آئیں تھیں) طوفان، ٹڈی، چیچڑی، مینڈک، خون، لاٹھی آپ کے ہاتھ (کا چمکنا) قحط سالی، پھلوں میں نقصان۔ 2:۔ امام ابن جریر و اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اخرج قومک من الظلمت الی النور “ سے مراد ہے (اپنی قوم کو نکالئے) گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ 3:۔ امام نسائی، عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں، ابن جریر ابن منذر، ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن کعب ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذْ : اور جب ] [ قَالَ : کہا ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) نے ] [لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے ] [اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِذْ : جب ] [ انجٰىكُمْ : اس نے نجات دی تم کو ] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیرو کاروں سے ] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ لوگ تکلیف دیتے تھے تم کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ : عذاب کی برائی سے ] [وَيُذَبِحُوْنَ : اور وہ ذبح کیا کرتے تھے ] [اَبْنَاۗءَكُمْ : تمہارے بیٹوں کو ] [ وَيَسْتَحْيُوْنَ : اور زندہ رکھتے تھے ] [ نِسَاۗءَكُمْ : تمہاری عورتوں کو ] [ وَفِيْ ذٰلِكُمْ : اور اس میں ] [بَلَاۗءٌ مِّنْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالو اور انہیں پرانے زمانے یاد دلاؤ تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ نے جو تم پر انعام فرمایا اسے یاد کرو انعامات تو ان پر بہت تھے لیکن ان کے حالات کے اعتبار سے جو ان پر سب سے بڑا انعام تھا وہ یاد دلایا کہ دیکھو اللہ نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی فرعون اور اس کے متعلقین اور اس کے سپاہی بنی اسرائیل پر بری طرح مسلط تھے وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے یعنی ذبح نہ کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–8

ذکر موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... فان اللہ لغنی حمید۔ (ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت کو ذکر کیا اب آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے کچھ واقعات ذکر کرکے بتلاتے ہیں کہ اور انبیاء کی بعثت سے بھی یہی مقصود تھا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں اور ان کو آخرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں اور اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ انسان ظلمت سے نکل کر نور میں آجائے اور اس کو خدا کا راستہ نظر آنے لگے اور جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی زبان عبرانی میں کتاب دی اسی طرح ہم نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

7:۔ یہ اصل میں تھا واذکر بیان موسیٰ اذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ الخ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے وقائع بیان کیے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے آپ بھی اسی طرح بیان فرمائی۔ ” وَ اِذْ تَاَذَّنَ “ یہ ” نِعْمَۃَ اللہِ الخ “ پر معطوف ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ ” وَ قَالَ مُوْسیٰ “ یہ سب وقائع ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یاد دلائے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–6

(ربط آیات) سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی صداقت اور اس سے نزول کی حکمت بیان فرمائی ، اس کتاب کے نزول کی غرض وغایت یہ ہے کہ اس کتاب کے ذریعے پیغمبر خدا لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ، کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی ، بداخلاقی ، اور بداعمالی اندھیرے ہیں ، اس کے مقابلے میں توحید ، اخلاق ، نیکی اور اطاعت بمنزلہ روشنی کے ہیں ، پھر اللہ نے قرآن کے پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ان کے لیے عذاب کی وعید سنائی ، فرمایا یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور دین میں کجی تلاش کرتے ہیں ، بیہودہ اعتراضات کرتے ہیں لہذا گمراہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ۝ۧ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–12

اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ اَنْجٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَ کُمْ طوَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآ ئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 6) (اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں نہایت برا عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور بیشک اس میں تمہارے رب کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : آزادی حاصل کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو خطاب۔ بنی اسرائیل اس قدر متلون مزاج اور احسان فراموش تھے کہ جب فرعون کی غرقابی کے بعد بیت المقدس کی طرف جارہے تھے تو راستے میں انہوں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو بتوں کے سامنے اعتکاف کرتے تھے۔ نبی اسرائیل کے ذہن میں شرک اس قدر سمایا ہوا تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی اس قوم کے معبودوں کی طرح معبود بنا دیجئے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ڈانٹا کہ تم کیسے جاہل لوگ ہو۔ یہ لوگ تو برباد ہونے والے ہیں اور جو کچھ یہ کرتے ہیں یہ سب کا سب باطل ہے۔ کیا اللہ کے سوا میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6: وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوْانِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ اَنْجٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْئَ الْعَذَابِ (اور جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیے جب اس نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔ وہ تمہیں سخت عذاب دیتا تھا) اذؔ ظرف ہے نعمت کیلئے جو کہ بمعنی انعام ہے۔ یعنی اس کا انعام تم پر اس وقت میں ہوا۔ نمبر 2۔ نعمۃ اللہ سے بدل الا شتمال ہے ای اذکروا وقت انجائکم (اپنے نجات دیئے جانے کے وقت کو یاد کرو) وَیُذَبِّحُوْنَ اَبْنَائَ کُمْ (اور وہ ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو) نکتہ : البقرۃ الاٰیۃ : 49 میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔” واذ قال موسیٰ لقومہ اذ کروا نعمتہ اللہ علیکم اذانجاکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب وبذبحون ابناء کم “ فراء کا قول ہے کہ یہاں وائو کو ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آل فرعون کو مختلف قسم کے عذاب دیئے گئے ذبح کے علاوہ ۔ اور اگر یہاں سے وائو کو حذف کردیں تو اس صورت میں ” یذبحون “ اور ” یقتلون “ کی تفسیر ہوگی کہ ان کو عذاب دیا گیا ۔ قتل کی صورت میں اور بچوں کو ذبح کرنے کی صورت میں ۔ ” ویستحیون نساء کم “ عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔” وفی ذلک بلاء من ربکم عظیم “۔ (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–6

5۔ 6۔ خاص کر حضرت موسیٰ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اور انبیاء کے مبہم ذکر کے بعد اس لئے فرمایا کہ قریش اس بات کو سمجھیں کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت مان لی اور نبی وقت کے کہنے کے موافق چلے تو انجام ان کا یہ ہوا کہ ایک مدت تک ان میں حکومت اور بادشاہت اور دین کی سرداری قائم رہی اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسمعیل میں ان نبی آخر الزمان کو بھیجا ہے اگر تم بھی نبی وقت کی اطاعت کرو گے تو تم کو بھی وہی حکومت اللہ دیوے گا اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے چناچہ جس طرح اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہی طہور میں آیا کہ قریش میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کو حکومت اور خلافت ملی اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

ایام الٰہی سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت، بےپایاں احسان اور اپنے کامل عدل و حکمت پر استدلال کیا ہے۔ اس لئے موسیٰ نے اپنے رب کے حکم کی میل لی اور ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” اللہ نے تم پر جو انعامات کئے ہیں ان کو یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ (اذا انجکم من ال فرعون یسومونکم) ” جب اس نے تمہیں فرعونیوں سے بچایا، وہ چکھاتے تھے تمہیں “ یعنی تمہیں عذاب دیتے تھے (سوء العذاب) ” برے عذاب “ یعنی سخت ترین عذاب، پھر اس عاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ویذبحون ابنآء کم و یستحیون نسآء کم) ” اور وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو اللہ کی نعمتوں کی تذکیر و یاددہانی : سو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ یاد کرو اللہ تعالیٰ کے ان انعامات اور احسانات کو جو اس نے تم پر فرمائے۔ خاص کر اس کے اس احسان کو کہ اس نے تم کو فرعون اور اس کے مظالم سے نجات بخشی۔ تاکہ اس طرح تم اس کا شکر ادا کرسکو۔ اسی لیے یہودا اس کے شکرئیے میں دسویں محرم کا روزہ رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کو جب یہ بات یہود مدینہ سے پوچھنے پر معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اصل حقدار تو تم سے زیادہ ہم ہیں۔ اس لیے شکرانے کا یہ روزہ ہم بھی رکھیں گے " نحن احق بموسی منکم " البتہ اس بات کی پیش نظر کہ اس سے یہود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–23

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں اور اس کے بعد ارشاد ہے کہ ۔ (کتاب کی عظمت) یہ عظیم الشان کتاب ہم نے کی طرف فرمائی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کی اجازت سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں ، سب سے پہلے تو کتاب کی عظمت کا اظہار ہے کہ یہ اللہ جل جلالہ کا ذاتی کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام کہ بادشاہوں کا کلام ، کلام کا بادشاہ ہوا کرتا ہے کے مصداق بہت ہی عظیم الشان ہے پھر ظاہرا کمال یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے کوئی بڑے سے بڑا ادیب ایک جملے کے مقابلے میں جملہ لانے کی جرات نہیں کرسکتا انسانی زندگی کے ہر پہلو پہ راہنمائی اور اس کا معیار یہ کہ ساری انسانیت کے لیے بیک وقت قابل عمل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 10 ۔ کہ تم کو غلامی کی ذلت سے نکالا اور آزادی کی نعمت سے مالا مال کیا۔ یا ” اس میں تمہارے مالک کی طرف سے تمہاری سخت آزمائش تھی۔ “ کہ ایسی مصیبت پر صبر کرتے ہو یا نہیں۔ لفظ ” بلاء “ کے اس موقع پر ” احسان “ اور آزمائش دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (روح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:6) یسومونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تم کو تکلیف دیتے تھے۔ سام یسوم سوما۔ السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانے کے ہیں۔ پس اس کا مفہوم دواجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا۔ کبھی صرف جانا کے معنی میں آتا ہے جیسے سامت الابل۔ اونٹ چراگاہ میں چرنے کے لئے چلے گئے۔ یا سمت الابل فی المرعی۔ میں نے چراگاہ میں چرنے کے لئے اونٹ بھیجے۔ اور انہی معنوں میں قرآن پاک میں آیا ہے۔ منہ شجر فیہ تسیمون۔ (16:10) اور اس سے درخت بھی (شاداب) ہوتے ہیں جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔ اور کبھی صرف طلب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے آیہ ہذا میں۔ یعنی تم کو تکلیف پہنچانے کی نت نئی راہوں کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6 اخرج نکال۔ ذکر یاد دلا۔ ایام اللہ اللہ کے دن (تاریخی واقعات) صبار بہت صبر کرنے والا۔ شکور بہت شکر کرنے والا۔ انجی اس نے نجات دی چھٹکارا دیا۔ ال فرعون قوم فرعون۔ یسومون وہ پہنچناتے ہیں۔ سوء العذاب بدترین تکلیفیں۔ یذبحون وہ ذبح کرتے ہیں۔ یستحیون وہ زندہ کھتے ہیں۔ نسآء (امراۃ) عورتیں۔ لڑکیاں۔ بلآء آزمائش تشریح : آیت نمبر 5 تا 6 سورة ابراہیم کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر سچائی کی روشنی میں لے آئیں۔ ان آیات میں فرمایا جا رہا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ ا السلام کو اپنی قدرت کی دلیلوں کے ساتھ اور معجزات دے کر حکم دیا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ۔ یعنی جہالت سے نکال کر علم کی ترغیب دو اور ان کو یہ بات یاد دلاؤ کہ دیکھو اگر تم میری رسالت کی تصدیق نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ نے جو عذاب اگلے کفار پر نازل کیا تھا وہی تم پر بھی نازل کرے گا اگر تم کفر کروگے۔ اور ہمارا یہ بیان جو ہماری قدرتوں کے واسطے آئینہ کا کام دیتا ہے، ہر صابر اور شاکر کے حق میں مفید ہے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے قوم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو دیکھو تم پر کیا کیا انعام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–8

[2] یعنی وہ تاریخی ایام جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم و ستم سے نجات بخشی۔ [3] صبر کے معنی ہیں مشکلات و مصائب کے معاملے میں جمے رہنا اور شکر کے معنی ہیں اللہ کی بخشی ہوئی قوتوں کی قدر کرنا اور انھیں ٹھیک ٹھیک کام میں لانا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ کی آزمائشوں سے صبر اور پامردی کے ساتھ گزرنے والے اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کر کے ان کی قدر کرنے والے ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–7

(ف 1) داستان استقلال : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کا قصہ قرآن میں بار بار آیا ہے ، اس لئے کہ یہ واقعہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کا واقعہ نہیں ، بلکہ حریت وآزادی کی داستان ہے استقلال قومی کا نمونہ ہے ، غلامی کے مضر اثرات کا مرقع ہے ، قوموں کے عروج وزوال کی بحث ہے ، اس میں یہ مذکور ہے کہ جب قوم میں فرعون پیدا ہوتے ہیں ، اللہ کی غیرت جوش میں آتی ہیں ، اور موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر انقلاب پسند حضرات پیدا ہوتے ہیں ، اور کس طرح صدیوں کی غلام قومیں بیدار ہوجاتی ہیں ، اور آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوتی ہیں ۔ بنی اسرائیل چار سو سال سے غلام تھے قبطی ان پر طرح طرح کے ستم ڈھا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6 ۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ کے وہ احسان یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں جب کہ اس نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بد ترین عذاب کرنے کی جستجو میں رہتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور قتل کردیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان واقعات میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش اور بڑا امتحان تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی حکومت میں جو مظالم ان پر ہوئے تھے وہ ان کو یاد دلا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبردار ی کی طرف توجہ دلائی لڑکیوں کو عورتوں فرمایا چونکہ لڑکیاں بڑی ہو کر عورتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی مصیبت میں بلا تھی اور نجات میں نعمت تھی اور بلا اور نعمت دونوں بندہ کے لیے امتحان ہیں پس اس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایام اللہ یعنی نعمت ونقمت دونوں کی تذکیر فرمادی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو فرعون کے ظلم و ستم سے بچانے کی نعمت کو یاد کرنے کی ہدایت کی 6 ؎ بنی اسرائیل مصر میں عرصہ تک مظلومی و مقہوری کی زندگی بسر کرچکے تھے اس لئے طبیعتوں میں مایوسی اور بےہمتی سرایت کرگئی تھی مستقبل میں ان کی فتح و اقبال کی بشارتیں ان کو سنائی جاتیں لیکن وہ اپنے دلوں میں عزم و ثبات کے ولولے نہیں پاتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ” ایام اللہ “ کے تذکرے ان کو سنائے اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کے اس انعام خاص کا ذکر کیا جس انعام نے ان کو مصر سے غلامی کی زندگی سے نکال کر آزادی کی زندگی گزارنے کی طرف راہنمائی کی۔ فرمایا اس نعمت کو دیکھو کہ اللہ نے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

. Please see footnote on the first verse of this Surah. . The 'Days of Allah' here refers to the events of the past when Allah had graced some people with His favours and subjected some others to His punishment. ommentary The first verse cited above (5) mentions that Allah Ta’ ala sent Sayyidna Musa (علیہ السلام) with His آیَات 'Ayat' (verses or signs) to bring his people out from the darkness of disbelief and disobedience into the light of faith and obedience. The word: آیَات (Ayat ) could mean the verses of the Torah for its very purpose was to spread the light of truth. آیَات 'Ayat' is at…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

8. The Arabic word ayyam technically means memorable historical events. Therefore Ayyam-u-Allah (divine history) implies all those eventful chapters of human history which mention the rewards and punishments that were meted out to the great personalities and nations according to their deeds in the past ages. 9. Those historical events are signs in this sense that their proper and intelligent study provides proofs of the fact that there is only one God: and that the law of retribution is universal and is based absolutely on the differentiation between the knowledge and moral practice of the…

Read the full tafseer →