نو 009 نشانیاں
جیسے ہم نے تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور تجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے کہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے۔ اسی طرح ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تھا بہت سی نشانیاں بھی دی تھیں جن کا بیان آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے۔ انہیں بھی یہی حکم تھا کہ لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دے انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں اور جہالت و ضلالت سے ہٹا کر علم و ہدایت کی طرف لے آ۔ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة اِبْرٰهِیْم 8
”ایّام“ کا لفظ عربی زبان میں اصطلاحا یادگار تاریخی واقعات کے لیے بولا جاتا ہے۔”ایام اللہ“ سے مراد تاریخ انسانی کے وہ اہم ابواب ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ زمانہ کی قوموں اور بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کے اعمال کے لحاظ سے جزا یا سزا دی ہے۔
سورة اِبْرٰهِیْم 9
یعنی ان تاریخی واقعات میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جن سے ایک آدمی توحید خداوندی کے برحق ہونے کا ثبوت بھی پاسکتا ہے اور اس حقیقت کی بھی بیشمار شہادتیں فراہم کرسکتا ہے کہ مکافات کا قانون ایک عالمگیر قانون ہے، اور وہ سراسر حق اور باطل کے علمی و اخلاقی امتیاز پر قائم ہے، اور اسکے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک دوسرا عالم، یعنی عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر و معاصی کی) تاریکیوں سے (نکال کر ایمان و اطاعت کی) روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات (نعمت اور عذاب کے) یاد دلاؤ بلاشبہ ان معاملات میں عبرتیں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے (کیونکہ نعمت کو یاد کر کے شکر کرے گا اور نقمت یعنی عتاب کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا) اور اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب (ہمارے اس ارشاد بالا کے موافق) موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 5 تا 8:۔ آگے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد سے مبعوث فرمایا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ چناچہ انہوں نے یہ کام کیا اور اللہ کی تائید و نصرت نے ان کو فرعونیوں کے پنجہ ستم سے نجات دلائی اور ساتھ ہی ان کو خدا کے اس فیصلہ سے بھی آگاہ فرما دیا کہ اگر تم نے اپنے رب کی نعمت کی قدر کی اور اس کے شکر گزار رہے تو تم پر مزید فضل ہوگا اور اگر تم نے ناشکری کی تو خدا کے سخت عذاب سے دوچار ہوگے۔ اس یاد دہانی سے مقصود ان یہود کو متنبہ کرنا تھا جو اسلام کی مخالفت کے جوش میں اپنا سارا وزن قریش کے پلڑے میں ڈال رہے…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی جس طرح اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو اپنی قوم کی طرف بھیجا اور کتاب نازل کی تاکہ آپ اپنی قوم کو کفر اور شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لائیں۔ اسی طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو معجزات و دلائل دے کر ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ تاکہ وہ انھیں کفر کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی عطا کریں۔ آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو موسیٰ ؑ کو عطا کئے گئے تھے، یا وہ نو معجزات ہیں جن کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں کیا گیا ہے۔
5۔ 2 اَ یَّام اللّٰہِ سے مراد اللہ کے وہ احسنات ہیں جو بنی اسرائیل پر کئے گئے جن کی تفصیل پہلے کئی مرتبہ گزر چکی ہے۔ یا ایام وقائع کے معنی میں ہے، یعنی وہ واقعات ان کو یاد دلا جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
4: اصل قرآنی لفظ ایام اللہ ہے جس کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن۔ لیکن محاورے میں اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے خاص خاص اور اہم واقعات دکھلائے ہیں۔ مثلاً نافرمان قوموں پر عذاب کا نازل ہونا۔ اور فرماں برداروں کو دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا ہونا۔ لہذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان خاص خاص واقعات کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو نصیحت کیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔
آیت نمبر 5 تا 8
حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔
ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔
حضور ﷺ کو…
Read the full tafseer →1 " نشانیاں دے کر یعنی معجزات دے کر جو " آیات تسعہ " کے نام سے مشہور ہیں یا آیات تورات مراد ہوں۔ اور " یاد دلا ان کو دن اللہ کے " یعنی ان دنوں کے واقعات یاد دلاؤ جب ان پر شدائد و مصائب کے پہاڑ ٹوٹے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے نجات دی اور اپنی مہربانی مبذول فرمائی کیونکہ دونوں قسم کے حالات سننے سے صابر و شاکر بندوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے کہ مصیبت کے وقت گھبرانا اور راحت کے وقت اترانا نہیں چاہیے جو لوگ پہلے کامیاب ہوئے ہیں وہ سختیوں پر صبر اور نعمائے الٰہیہ پر شکر کرنے سے ہوئے ہیں۔ (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ
یہ ”التّذکیر بایّام اللّٰہ“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آچکا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”الفوز الکبیر“ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ”التذکیر بایام اللّٰہ“ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ نے دوسری اصطلاح ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ کی…
Read the full tafseer →6 تذکیر بایام اللہ سے مراد ؟ ایام اللہ کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن اور اس سے ایسے دن مراد ہوتے ہیں جو تاریخ انسانی میں یادگار دن بن جاتے ہیں خواہ یہ خوشی کے ہوں یا مصیبت کے۔ بلکہ ایک ہی دن ایک فریق کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے اور دوسرے فریق کے لیے مصیبت کا۔ جیسے 10 محرم کو فرعون اور اس کے لشکری دریا میں غرق ہوئے۔ اب یہی دن بنی اسرائیل کے لیے تو انتہائی خوشی کا دن تھا کہ انھیں فرعونیوں کے مظالم سے نجات ملی اور وہ اسی خوشی میں 10 محرم کو ہر سال روزہ بھی رکھا کرتے تھے اور یہی دن فرعونیوں کے لیے مصیبت کا دن تھا یہی صورت 17 رمضان 2 ھ کی ہے۔ مشرکین مکہ کو غزوہ بدر میں شکست فاش ہوئی۔ یہ دن مسلمانوں کے…
Read the full tafseer →7۔ (رحمت و عذاب دونوں کے اہم معاملات جو جزو تاریخ بن چکے ہیں) (آیت) ” قومک “۔ یعنی قوم بنی اسرائیل کو۔ (آیت) ” من الظلمت الی النور “۔ یعنی معاصی سے طاعت کی طرف۔ فقہاء نے یہاں سے یہ پہلو نکالا ہے، کہ وعظ وتذکیر میں واقعات اثر انگیز کا لانا جائز ہے فی ھذادلیل علی جواز الوعظ المرقق للقلوب المقوی للیقین (ابن العربی) (آیت) ” ایم اللہ “۔ یعنی جو بڑی بڑی نعمتیں قدرت کی طرف سے مختلف قوموں کو عطا ہوتی رہیں مثلا حکومت واقتدار یا جو بڑی بڑی مصیبتیں مختلف قوموں کو قدرت کی طرف سے پیش آتی رہیں۔ مثلا وباوقحط، م، حکومی وغلامی، غرض یہ کہ ایام اللہ کے تحت میں ہر قسم کے اہم تاریخی واقعات آجاتے ہیں عن ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اے محمد اس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو کفر کی ظلمتوں سے انکے رب کے حکم سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں، اور الی النور سے الی صراط العزیز بدل ہے یعنی غالب اور قابل ستائش اللہ کے راستہ کی طرف (لائیں) (اللہ) کا جر (العزیز) سے بدل یا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے، اس کا مابعد (یعنی الذین لہ الخ) اللہ کی صفت ہے اور (اللہ) کے رفع کی صورت میں اللہ مبتداء ہوگا اور الذین لہ اس کی خبر ہوگی وہ اللہ کہ آسمانوں…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا اور ہم نے اپنی (نو) نشانیاں دے کر موسیٰ کو بھیجا۔
ان اخرج قومک من الظلمت الی النور وذکرھم بایم اللہ (ہم نے یہ پیام دے کر بھیجا) کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ اور ان کو اللہ کی نعمتوں کی یاددہانی کرو۔
ایَّام اللہ سے حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابی بن کعب ‘ مجاہد اور قتادہ کے نزدیک اللہ کی نعمتیں مراد ہیں اور مقاتل کے نزدیک وہ واقعات مراد ہیں جو گزشتہ امتوں (عاد ‘ ثمود اور قوم نوح) کو پیش آئے۔ محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایام العرب کا عالم ہے ‘ یعنی عرب کی لڑائیوں سے واقف ہے۔ اس تقریر پر کلام کا مطلب اس طرح ہوگا کہ اپنی قوم کو وہ واقعات بتاؤ جو…
Read the full tafseer →(5) حضرت موسیٰ ؑ کو نومعجزات یعنی یدبیضا، عصا، طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم، سنین، نقص من الثمرات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو کفر سے ایمان کی طرف بلائیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات یعنی اللہ کا عذاب اور اللہ کی رحمت یا دلائیں بیشک ان مذکورہ باتوں میں اطاعت پر قائم رہنے والے اور نعمت پر شکر کرنے والے کے لیے عبرتیں ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے شروع سورت میں ہمارے نبی ﷺ کی طرف نازل کردہ کتاب کا ذکر فرمایا اور اس کا مقصد بتایا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں۔ اب پہلے انبیاء کی اپنی اقوام کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانے کی کوششوں اور ان کی اقوام کے سلوک کا ذکر فرمایا۔ سب سے پہلے موسیٰ ؑ کا، پھر دوسری اقوام اور ان کے رسولوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو کچھ آیات کونیہ عطا فرمائیں، یعنی کائنات کے معمول کے خلاف معجزے، جن کے مقابلے سے دشمن عاجز تھا۔ جن میں سے چند کا تعلق فرعون اور اس کی قوم سے تھا، مثلاً عصائے موسیٰ ، ید بیضاء (طٰہٰ : 17 تا 22) ، قحط…
Read the full tafseer →آیت نمبر 5
قولہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا آیات سے مراد حجت وبراہین ہیں یعنی ہم نے موسیٰ کو اپنی سچائی پر دلالت کرنے والے معجزات کے ساتھ بھیجا ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ (نشانیاں) نو آیات ہیں۔ ان اخرج قومک من الظلمت الی النور اس کی مثال سورت کے آغاز میں ہمارے نبی ﷺ کے بارے میں اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ : لتخرج الناس من الظلمت الی النور ایک قول کے مطابق أن بمعنی أی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وانطلق الملا منھم ان امشوا (ص :6) یعنی ای امشوا۔
قولہ تعالیٰ : وذکرھم باتیم اللہ یعنی انہیں ایسی بات کہو جس کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ کے ایام یاد آئیں۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور حضرت قیادہ نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد وعطاء وعبید بن عمیر رحمہم اللہ تینوں حضرات سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا “ سے مراد ہے نونشانیاں (یعنی بنی اسرائیل پر عذاب کی شکل میں آئیں تھیں) طوفان، ٹڈی، چیچڑی، مینڈک، خون، لاٹھی آپ کے ہاتھ (کا چمکنا) قحط سالی، پھلوں میں نقصان۔
2:۔ امام ابن جریر و اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اخرج قومک من الظلمت الی النور “ سے مراد ہے (اپنی قوم کو نکالئے) گمراہی سے ہدایت کی طرف۔
3:۔ امام نسائی، عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں، ابن جریر ابن منذر، ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن کعب ؓ…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور ہم بھیج چکے ہیں ] [ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [ بِاٰيٰتِنَآ : اپنی نشانیوں کے ساتھ ] [ ان : کہ ] [اَخْرِجْ : آپ (علیہ السلام) نکالیں ] [ قَوْمَكَ : اپنی قوم کو ] [ مِنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے ] [ اِلَى النُّوْرِ : روشنی کی طرف ] [ وَذَكِّرْهُمْ : اور آپ (علیہ السلام) نصیحت کریں ان کو ] [بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ : اللہ کے دنوں کے ساتھ ] [ ان : بیشک ] [فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِكُلِ صَبَّارٍ : ہر ایک بہت ثابت قدم کے لئے ] [ شَكُوْرٍ : بہت شکر گزار کے لئے ]
نوٹ۔ 1: مسند احمد کی مرفوع حدیث میں اَیَّامِ اللّٰہِ کی تفسیر خدا کی…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مبعوث ہونا اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا :
ان دو آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے زمانہ اقتدار میں جب اپنے والدین اور بھائیوں کو اور ان کی ازواج واولاد کو بلا لیا تھا تو یہ لوگ مصر میں مستقل طور پر بس گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے چونکہ یہ لوگ مصری قوم یعنی قبطیوں کے نہ ہم وطن تھے نہ ہم مذہب تھے اس لیے انہوں نے ان کو اجنبی ہونے کی پاداش میں بہت بری طرح رگڑا۔ چار سو سال کی بدترین غلامی میں جکڑے رہے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو بنی اسرائیل ہی میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ذکر موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... فان اللہ لغنی حمید۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت کو ذکر کیا اب آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے کچھ واقعات ذکر کرکے بتلاتے ہیں کہ اور انبیاء کی بعثت سے بھی یہی مقصود تھا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں اور ان کو آخرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں اور اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ انسان ظلمت سے نکل کر نور میں آجائے اور اس کو خدا کا راستہ نظر آنے لگے اور جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی زبان عبرانی میں کتاب دی اسی طرح ہم نے…
Read the full tafseer →6:۔ یہ تخصیص بعد تعمیم ہے اور یہ بھی ابتداء سورت ہی سے متعلق ہے یعنی دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو وقائع امم ماضیہ اور اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے اور کہا اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ دے گا۔ اور اگر ناشکری کرو گے تو عذاب دے گا۔ اسی طرح آپ بھی اپنی قوم کو وقائع امم ماضیہ یاد دلا کر ڈرائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی صداقت اور اس سے نزول کی حکمت بیان فرمائی ، اس کتاب کے نزول کی غرض وغایت یہ ہے کہ اس کتاب کے ذریعے پیغمبر خدا لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ، کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی ، بداخلاقی ، اور بداعمالی اندھیرے ہیں ، اس کے مقابلے میں توحید ، اخلاق ، نیکی اور اطاعت بمنزلہ روشنی کے ہیں ، پھر اللہ نے قرآن کے پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ان کے لیے عذاب کی وعید سنائی ، فرمایا یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور دین میں کجی تلاش کرتے ہیں ، بیہودہ اعتراضات کرتے ہیں لہذا گمراہی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ
ظلم) تاریکی)
الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ 5 لا وَذَکِّرْ ہُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 5)
(اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا (اور انھیں حکم دیا) کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو اور ان کو خدا کے یادگار ایام یاد دلائو۔ بیشک ان کے اندر ثابت قدم رہنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت سے استدلال
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قومی زبان میں خطاب فرماتے اور ان کی دعوت کا مقصد لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشنی کی طرف بلانا تھا۔
پیغمبرانہ جدوجہد کے اعتبار سے اور قوم کے مزاج کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سرور دوعالم ﷺ کے درمیاں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ ” اے اہل مکہ ! ہم نے تم پر حق کی شہادت قائم کرنے کے لیے تم ہی میں سے ایسا رسول بھیجا ہے جیسا ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔ فرعون نے اپنے رسول کی بات کا انکار کیا تب ہم نے اسے سختی کے ساتھ پکڑا۔ (المزمل : 15۔ 16)
اس روحانی اور دعوتی تعلق اور مماثلت…
Read the full tafseer →موسیٰ ( علیہ السلام) کا واقعہ :
5: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَامُوْسٰی بِاٰ یٰتِنَآ (اور تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات کے ساتھ بھیجا) آیت سے وہ نونشانیاں مراد ہیں۔ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ (تم اپنی قوم کو نکالو) اَنْ اَخْرِجْ میں اَنْ دراصل بِأَنْ ہے یعنی تم نکالو کیونکہ ارسال میں قول کا معنی موجود ہے گویا اس طرح فرمایا ارسلناہ وقلنا لہ اخرج قومک (ہم نے ان کو بھیجا اور ان کو کہا کہ اپنی قوم کو نکالو) مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْر وَذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ (اندھیروں سے روشنی کی طرف اور ان کو ایام اللہ کے ذریعہ نصیحت کرو) ان کو پہلی اقوام کے واقعات سے ڈرائو جیسے قوم نوح، عاد، ثمود…
Read the full tafseer →5۔” ولقد ارسلنا موسیٰ بایاتنا ان اخرج بایاتنا ان اخرج قومک من الظلمت الی النور “ دعوت کے ذریعے وہ کفر کو ایمان کی طرف لے آئے ۔ ” وذکر ھم بایام اللہ “ ابن عباس ؓ وا بی بن کعب ؓ مجاہد و قتادہ نے اس کا معنی ” بنعم اللہ “ کیا ہے ( اللہ کی نعمتیں) مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ اس سے مراد ما قبل امتوں کے واقعات ہیں ۔ جیسا کہ محاورات میں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایام العرب کا عالم ہے یعنی عرب کی لڑائیوں سے واقف ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنی قوم کو وہ واقعات بتلائو جو اللہ نے گزشتہ ایام میں ظاہر کیے خوا ہ وہ نعمت کی صورت میں ہوں یا مصیبت یا مشکل کی صورت میں ہوں ۔ ان کو وہ ایام یاد دلاء کیونکہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 6۔ خاص کر حضرت موسیٰ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اور انبیاء کے مبہم ذکر کے بعد اس لئے فرمایا کہ قریش اس بات کو سمجھیں کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت مان لی اور نبی وقت کے کہنے کے موافق چلے تو انجام ان کا یہ ہوا کہ ایک مدت تک ان میں حکومت اور بادشاہت اور دین کی سرداری قائم رہی اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسمعیل میں ان نبی آخر الزمان کو بھیجا ہے اگر تم بھی نبی وقت کی اطاعت کرو گے تو تم کو بھی وہی حکومت اللہ دیوے گا اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے چناچہ جس طرح اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہی طہور میں آیا کہ قریش میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کو حکومت اور خلافت ملی اور ان کے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی بڑی بڑی نشانیوں کے ساتھ موسیٰ کو مبعوث فرمایا جو آپ کی رسالت کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی تھیں اور ان کو بھی وہی حکم دیا جو اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو دیا ہے بلکہ یہ وہی حکم ہے جو تمام انبیاء ومرسلین نے اپنی قوم کو دیا تھا (ان اخرج قومک من الظلمت الی النور) ” یہ کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف “ یعنی جہالت، کفر اور اس کی فروعات کی تاریکیوں سے نکال کر علم، ایمان اور اس کی توابع کی روشنی کی طرف (وذکرھم بایتم اللہ) ” اور یاد دلا ان کو اللہ کے دن “ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور اس کے احسانات اور جھٹلانے والی قوموں (کفار) کے…
Read the full tafseer →13۔ ایام اللہ کی تذکیر و یاددہانی کا حکم وارشاد :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یاددہانی کراؤلوگوں کو اللہ کے (عہدساز) دنوں کی تاکہ اس سے یہ لوگ سبق سیکھیں اور عبرت پکڑیں۔ اور " تذکیربایام اللہ " کا یہ کام حسب ضرورت وموقع ہمیشہ کرنے کا ہے نہ کہ کسی خاص وقت اور خاص طریقہ کی تعیین کے ساتھ۔ کہ کسی خاص طریقہ اور دن کی تعیین جب شریعت کی طرف سے نہیں کی گئی تواز خود ایسا کرنا بدعت اور احداث فی الدین ہوگا جو کہ نصوص صریحہ کے مطابق باطل و مردود ہے۔ پس اہل بدعت کے تحریف پسندوں کا اس سے اپنے یہاں کی مروجہ بدعات کے لیے دلیل کشید کرنا ان کی تحریفانہ ذہنیت کی عکاس اور آئینہ دار ایک نرالی منطق ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں اور اس کے بعد ارشاد ہے کہ ۔
(کتاب کی عظمت)
یہ عظیم الشان کتاب ہم نے کی طرف فرمائی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کی اجازت سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں ، سب سے پہلے تو کتاب کی عظمت کا اظہار ہے کہ یہ اللہ جل جلالہ کا ذاتی کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام کہ بادشاہوں کا کلام ، کلام کا بادشاہ ہوا کرتا ہے کے مصداق بہت ہی عظیم الشان ہے پھر ظاہرا کمال یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے کوئی بڑے سے بڑا ادیب ایک جملے کے مقابلے میں جملہ لانے کی جرات نہیں کرسکتا انسانی زندگی کے ہر پہلو پہ راہنمائی اور اس کا معیار یہ کہ ساری انسانیت کے لیے بیک وقت قابل عمل…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ وہ نو معجزات مراد ہیں جو موسیٰ ( علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے یعنی طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون ی عصا، یدِ بیضا، قحط اور پیداوار کی کمی یا ان سے آیات توراۃ مراد ہیں۔ دیکھئے اعراف آیت 331 ۔ (روح) ۔
7 ۔ یا اللہ کی قدرت کے وہ واقعات جو تاریخ میں گزر چکے ہیں۔ ” ایام “ کا لفط عموماً انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن ترجمہ میں دئیے ہوئے معنی یہاں انسب ہیں۔ (روح) ۔
8 ۔ یعنی اس تذکیر میں یا ان واقعات میں۔ (روح) ۔
9 ۔ کیونکہ وہی ان نشانیوں سے صحیح طور پر عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ بےصبرے اور ناشکرے لوگ کسی نشانی سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(14:5) ان اخرج میں ان اے کے معنی میں ہے اس لئے کہ ارسلنا میں قلنا کے معنی بھی شامل ہیں۔ لقد ارسلنا موسیٰ بایتنا وقلنا لہ اخرج ۔۔
ذکرہم۔ امر واحد مذکر حاضر ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو یاد دلا۔ تو ان کو سمجھا۔ تو ان کو نصیحت کر۔
ایام اللہ۔ اللہ کے دن۔ یعنی اللہ کی وہ نصیحتیں جو مختلف قوموں کو عطا ہوئیں مثلاً حکومت اقتدار وغیرہ۔ یا وہ مصیبتیں جو قوموں کو ان کے اعمال کی پاداش میں یا ان کی آزمائش کے لئے ان پر نازل ہوئیں۔ مثلاً وباء قحط۔ محکومی غلامی وغیرہ۔ جو اپنی اہمیت کی وجہ سے جزو تاریخ بن چکی ہیں۔ تاریخ کے اہم واقعات۔ ایّام کی اضافت اللہ کی جانب ان واقعات کی اہمیت پر دلالت کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6
اخرج نکال۔ ذکر یاد دلا۔ ایام اللہ اللہ کے دن (تاریخی واقعات) صبار بہت صبر کرنے والا۔ شکور بہت شکر کرنے والا۔ انجی اس نے نجات دی چھٹکارا دیا۔ ال فرعون قوم فرعون۔ یسومون وہ پہنچناتے ہیں۔ سوء العذاب بدترین تکلیفیں۔ یذبحون وہ ذبح کرتے ہیں۔ یستحیون وہ زندہ کھتے ہیں۔ نسآء (امراۃ) عورتیں۔ لڑکیاں۔ بلآء آزمائش
تشریح : آیت نمبر 5 تا 6
سورة ابراہیم کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر سچائی کی روشنی میں لے آئیں۔ ان آیات میں فرمایا جا رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ
ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ ا السلام کو اپنی قدرت کی دلیلوں کے ساتھ اور معجزات دے کر حکم دیا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ۔ یعنی جہالت سے نکال کر علم کی ترغیب دو اور ان کو یہ بات یاد دلاؤ کہ دیکھو اگر تم میری رسالت کی تصدیق نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ نے جو عذاب اگلے کفار پر نازل کیا تھا وہی تم پر بھی نازل کرے گا اگر تم کفر کروگے۔ اور ہمارا یہ بیان جو ہماری قدرتوں کے واسطے آئینہ کا کام دیتا ہے، ہر صابر اور شاکر کے حق میں مفید ہے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے قوم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو دیکھو تم پر کیا کیا انعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
[2] یعنی وہ تاریخی ایام جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم و ستم سے نجات بخشی۔
[3] صبر کے معنی ہیں مشکلات و مصائب کے معاملے میں جمے رہنا اور شکر کے معنی ہیں اللہ کی بخشی ہوئی قوتوں کی قدر کرنا اور انھیں ٹھیک ٹھیک کام میں لانا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ کی آزمائشوں سے صبر اور پامردی کے ساتھ گزرنے والے اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کر کے ان کی قدر کرنے والے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) پیغمبر وقت قوم کی زبان اور قوم کی نفسیات سے خوب واقف اور آگاہ ہوتا ہے ، تاکہ قول بیلغ سے ان کے دلوں میں جگہ حاصل کرسکے اس کا الہام قوم کے محاوارت وادب کے ماتحت ہوتا ہے ، تاکہ انحام محبت ہو سکے قوم یہ نہ کہے اور عذر نہ کرسکے کہ رسول کی زبان ہمارے لئے ناقابل فہم تھی ۔
عرب چونکہ حضور ﷺ کے مخاطب اول تھے منشاء الہی یہ تھا کہ اس مرکز ضلالت وگمراہی کو اولا درست کیا جائے ، وہاں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کی جائے تاکہ دوسروں کے لئے چراغ راہ بنیں ، اس لئے حضور ﷺ کو جو قرآن دیا گیا ، وہ عربی زبان میں ہے تاکہ یہ لوگ آسانی سے اپنی گمراہیوں کا مطالعہ کرسکیں ، اور دوسروں کے لئے نمونہ ہوں ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →5 ۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو کفر و معاصی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و فرمانبرداری کی روشنی کی طرف لے آ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے انقلابی واقعات جو کے پیش آتے رہے ہیں وہ واقعات ان کو یاد دلا ، کیونکہ ان واقعات میں ہر صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یاد دلا ان کو دن اللہ کے یعنی اللہ کے سا کے جو ہر قوم پر گزرے۔ 12
خلاصہ ۔ یہ ہے کہ ان کو مصیبت اور راحت کے وہ واقعات بھی یاد دلائو جو بنی اسرائیل پر گزرتے رہے ہیں ۔ بعض حضرات نے ایام اللہ کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں مراد لی ہیں ۔ بعض…
Read the full tafseer →ف 7۔ کیونکہ نعمت کو یاد کرکے شکر کے گا اور نقمت کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا اور یاد دلانے کا یہ ایک فائدہ ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی نشانیاں دے کر بھیجا گیا ‘ ان نشانیوں سے قوم نے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا
5 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کی مختلف نشانیوں کا قرآن کریم میں کہا گیا ہے جن کا بیان سورة الاعراف کی آیت 31 تا 135 میں گزر چکا وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ان نشانیوں کو بطور شعبدہ بازی نہیں بھیجا گیا تھا بلکہ مختلف عذاب تھے جو قوم موسیٰ کو وقفہ وقفہ کے بعد دیئے گئے اور ان کو ان چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کر کے اس بڑے دن کے عذاب سے ڈرایا گیا تاکہ وہ باز ائیں اور اپنی اصلاح کر کے اپنی دنیا کو بھی سنوارنے کی کوشش کریں اور آخرت کو بھی برباد ہونے سے بچا لیں لیکن اس طرح کی آزمائشیں ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
. Please see footnote on the first verse of this Surah.
. The 'Days of Allah' here refers to the events of the past when Allah had graced some people with His favours and subjected some others to His punishment.
ommentary
The first verse cited above (5) mentions that Allah Ta’ ala sent Sayyidna Musa (علیہ السلام) with His آیَات 'Ayat' (verses or signs) to bring his people out from the darkness of disbelief and disobedience into the light of faith and obedience.
The word: آیَات (Ayat ) could mean the verses of the Torah for its very purpose was to spread the light of truth. آیَات 'Ayat' is at…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
8. The Arabic word ayyam technically means memorable historical events. Therefore Ayyam-u-Allah (divine history) implies all those eventful chapters of human history which mention the rewards and punishments that were meted out to the great personalities and nations according to their deeds in the past ages.
9. Those historical events are signs in this sense that their proper and intelligent study provides proofs of the fact that there is only one God: and that the law of retribution is universal and is based absolutely on the differentiation between the knowledge and moral practice of the…
Read the full tafseer →