ہر قوم کی اپنی زبان میں رسول
یہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی انتہائی درجے کی مہربانی ہے کہ ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا تاکہ سمجھنے سمجھانے کی آسانی رہے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی رسول کو اللہ تعالیٰ نے اس کی امت کی زبان میں ہی بھیجا ہے۔ حق ان پر کھل تو جاتا ہی ہے پھر ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے، اس کے چاہنے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہ غالب ہے، اس کا ہر کام حکمت سے ہے، گمراہ وہی ہوتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں اور ہدایت پر وہی آتے ہیں جو اس کے مستحق ہوں۔ چونکہ ہر نبی صرف اپنی اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا رہا اس لئے اسے اس کی قومی زبان میں ہی کتاب اللہ ملتی تھی اور اس کی…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 5
اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی جس قوم میں بھیجا ہے اس پر اسی قوم کی زبان میں اپنا کلام نازل کیا تاکہ وہ قوم اسے اچھی طرح سمجھے، اور اسے یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ مل سکے کہ آپ کی بھیجی ہوئی تعلیم تو ہماری سمجھ ہی میں نہ آتی تھی پھر ہم اس پر ایمان کیسے لاتے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض معجزہ دکھانے کی خاطر کبھی یہ نہیں کیا کہ رسول تو بھیجے عرب میں اور وہ کلام سنائے چینی یا جاپانی زبان میں۔ اس طرح کے کرشمے دکھانے اور لوگوں کی عجائب پسندی کو آسودہ کرنے کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تعلیم و تلقین اور تفہیم و تبیین کی اہمیت زیادہ رہی ہے جس کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں جو بعض کفار کو یہ شبہ ہے کہ یہ عربی کیوں ہے جس سے احتمال ہوتا ہے کہ خود پیغمبر ﷺ نے تصنیف کرلیا ہوگا عجمی زبان میں کیوں نہیں تاکہ یہ احتمال ہی نہ ہوتا اور قرآن دوسری کتب سماویہ سے عجمی ہونے میں متوافق بھی ہوتا تو یہ شبہ محض لغو ہے کیونکہ) ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) انہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ (ان کی زبان میں) ان سے (احکام الہیہ کو) بیان کریں (کہ اصل مقصود واضح بیان ہے تو سب کتابوں کا ایک زبان میں ہونا کوئی مقصد نہیں) پھر (بیان کرنے کے بعد) جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گمراہ کرتے ہیں (کہ وہ ان احکام کو قبول نہیں کرتا)…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۭ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا اظہار فرمایا ہے جو اس صحیفہ ہدایت کو عربی میں اور رسول کو خود ان کی قوم کے اندر سے مبعوث فرما کر اس نے ان کے اوپر کیا ہے اور مقصود اس سے ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ انہیں اللہ کی اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے کہ اس نے انہی کے اندر کے ایک فرد کے زریعہ سے انہی کی زبان میں اپنا صحیفہ اتارا تاکہ وہ اللہ کی ہدایت کو لوگوں پر اچھی طرح واضح کردے۔
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی :…
Read the full tafseer →4۔ 1 پھر جب اللہ تعالیٰ نے اہل دنیا پر یہ احسان فرمایا کہ ان کی ہدایت کے لئے کتابیں نازل کیں اور رسول بھیجے، تو اس احسان کی تکمیل اس طرح فرمائی کہ ہر رسول کو قومی زبان میں بھیجا تاکہ کسی کو ہدایت کا راستہ سمجھنے میں دقت نہ ہو۔
4۔ 2 لیکن اس بیان و تشریح کے باوجود ہدایت اسے ملے گی جسے اللہ چاہے گا۔
Read the full tafseer →2: کفار ن کہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ قرآن عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ہے، اگر یہ کسی ایسی زبان میں ہوتا جو آنحضرت ﷺ نہیں جانتے تو اسکا معجزہ ہونا بالکل واضح ہوجاتا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی مادری زبان میں اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اپنی قوم کو اس کی اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ کے احکام سمجھا سکے، کسی اور زبان میں قرآن نازل کیا جاتا تو تم یہ اعتراض کرتے کہ اسے ہم کیسے سمجھیں ؟ چنانچہ یہی بات سورة حم السجدہ (41۔ 44) میں فرمائی گئی ہے۔
3: یعنی جو کوئی حق کا طلب گار بن کر اس کو پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دیتے ہیں اور جو شخص جد اور عناد کے ساتھ پڑ تھا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اب پہلے سورة کا حصہ اول۔
درس نمبر 114 تشریح آیات
1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27
آیت نمبر 1 تا 4
الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و…
Read the full tafseer →7 یعنی جس طرح آپ کو ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لیے یہ عظیم الشان کتاب عطا فرمائی، پہلے بھی ہر زمانہ میں سامان ہدایت بہم پہنچاتے رہے ہیں۔ چونکہ طبعی ترتیب کے موافق ہر پیغمبر کے اولین مخاطب اسی قوم کے لوگ ہوتے ہیں جن سے وہ پیغمبر اٹھایا جاتا ہے اس لیے اسی کی قومی زبان میں وحی بھیجی جاتی رہی۔ کہ احکام الٰہیہ کے سمجھنے سمجھانے میں پوری سہولت رہے۔ نبی کریم ﷺ کی امت دعوت میں گو تمام جن و انس شامل ہیں، تاہم جس قوم میں سے آپ اٹھائے گئے اس کی زبان عربی تھی اور ترتیب طبعی کے موافق شیوع ہدایت کی یہ ہی صورت مقدر تھی کہ آپ کے اولین مخاطب اور مقدم ترین شاگرد ایسی سہولت اور خوبی سے قرآنی تعلیمات و حقائق کو…
Read the full tafseer →آیت 4 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ
یعنی ہر قوم کی طرف مبعوث رسول پر وحی اس قوم کی اپنی ہی زبان میں آتی تھی تاکہ بات کے سمجھنے اور سمجھانے میں کسی قسم کا ابہام نہ رہ جائے ‘ اور ابلاغ کا حق ادا ہوجائے۔ جیسے حضرت موسیٰ کو تورات دی گئی تو عبرانی زبان میں دی گئی جو آپ کی قوم کی زبان تھی۔
فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ
اس کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ گمراہ کرتا ہے اسے جو چاہتا ہے گمراہ ہونا اور ہدایت دیتا ہے اس کو جو چاہتا ہے ہدایت حاصل کرنا۔
Read the full tafseer →4 قرآن کا بیان کیا چیز ہے ؟ یعنی رسول کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی قوم کو ہم زبان ہونے کے باوجود قرآن کا بیان بتائے یا سکھائے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ بیان محض قرآن کے الفاظ کو دہرا دینے کا نام نہیں بلکہ بیان میں قرآن کے الفاظ کا صحیح صحیح مفہوم بتانا، اس کی شرح و تفسیر، اس کی حکمت عملی اور طریق امتثال بتانا سب کچھ شامل ہے قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نازل کرنے والے اور جس پر نازل کیا گیا ہے دونوں کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ زید (متکلم) بکر (مخاطب) سے کہتا ہے کہ پانی لاؤ، تو بکر زید کے حکم کی تعمیل صرف اس صورت میں کرسکے…
Read the full tafseer →4۔ تو گویا اصل مقصود پیغمبر کی زبان اور اس کی امت کی زبان کے توافق سے یہ ہے کہ احکام وتعلیمات کی خوب تبیین وتشریح ہوجائے جس سے امت کو عمل میں کوئی دشواری نہ رہ جائے۔ (آیت) ” بلسان قومہ “۔ یعنی اس قوم کی زبان جو اس پیغمبر کی مخاطب اول وبراہ راست ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ اور تمام پیغمبروں سے ممتاز، دوہری حیثیت رکھتے تھے ایک حیثیت تو آپ ﷺ کے رہبر عالم ہونے کی تھی جس کی توضیح قرآن مجید کی ایک آیت میں نہیں متعدد آیتوں میں ہے۔ للناس۔ کافۃ للناس وغیرہ الفاظ کے ذریعہ سے۔ دوسری حیثیت پیغمبر عرب ہونے کی تھی اور یہاں اسی کا ذکر ہے۔
5۔ (چنانچہ وہ احکام کو قبول کرلیتا ہے۔ ) (آیت) ” فیضل اللہ “۔ یعنی جسے حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اے محمد اس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو کفر کی ظلمتوں سے انکے رب کے حکم سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں، اور الی النور سے الی صراط العزیز بدل ہے یعنی غالب اور قابل ستائش اللہ کے راستہ کی طرف (لائیں) (اللہ) کا جر (العزیز) سے بدل یا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے، اس کا مابعد (یعنی الذین لہ الخ) اللہ کی صفت ہے اور (اللہ) کے رفع کی صورت میں اللہ مبتداء ہوگا اور الذین لہ اس کی خبر ہوگی وہ اللہ کہ آسمانوں…
Read the full tafseer →وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ اور ہم نے ہر پیغمبر کو اسی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا۔
قَوْمِہٖ سے مراد ہے : وہ قوم جس میں پیغمبر پیدا ہوا اور مبعوث ہوا۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ لسان قوم سے مراد ہے : قوم کی بولی۔ اگر قوم عربی ہوئی تو پیغمبر کی زبان بھی عربی ہوئی اور عربی میں ہی اس کو پیام دے کر بھیجا گیا اور اگر قوم کی زبان عجمی ہوئی تو پیغمبر کو بھی عجمی زبان میں پیام دے کر بھیجا گیا۔ اسی طرح سریانی کو سریانی زبان میں (اور ہندی کو ہندی زبان میں۔ مترجم) پیام دیا گیا۔
لیبین لھم تاکہ (پیغمبر کی امت کو جو احکام دئیے گئے تھے) وہ قوم…
Read the full tafseer →(4) اور ہم نے تمام پیغمبروں کو ان ہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ ان ہی کی زبان میں ان سے احکام الہی کو بیان کردیں یا یہ کہ ایسی زبان میں جس کے سیکھنے پر وہ قادر ہوں پھر جو گمراہی کا مستحق ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کردیتے ہیں اور جو ہدایت کا اہل ہوتا ہے اسے اپنے دین کی ہدایت دیتے ہیں اور وہی اپنے ملک اور سلطنت میں جو ایمان نہ لائے، اسے سزادینے میں غالب ہے اور اپنے حکم اور فیصلہ میں اور گمراہ کرنے اور ہدایت عطا کرنے میں حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →لِيُبَيِّنَ لَهُمْ : تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کرے اور وہ اچھی طرح سمجھ سکیں اور ان پر حجت قائم ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے گئے وہ اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے، وہ پیغمبر اس قوم کا ایک فرد ہوتا تھا اور وہ انھی کی زبان بولتا تھا، آپ ﷺ کی بعثت گو عام ہے اور قیامت تک کے تمام جن و انس کے لیے ہے، لیکن آپ کی قوم، جس میں آپ ﷺ پیدا ہوئے اور جو آپ ﷺ کی اولین مخاطب تھی، عربی زبان بولتی تھی، اس لیے طبعی ترتیب کے مطابق آپ نے ان کو اللہ کا پیغام عربی زبان میں پہنچایا، مقصد یہ تھا کہ پہلے یہ قوم اس پیغام کو سمجھے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانے اور سمجھانے کا ذریعہ بنے۔ اگر قرآن تمام…
Read the full tafseer →آیت نمبر 4
قولہ تعالیٰ : وما ارسلنا من رسول یعنی اے محمد ﷺ ! آپ سے پہلے ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا۔ الا بلسان قومہ مگر اس قوم کی زبان کے ساتھ، تاکہ وہ ان کے سامنے ان کے دین کے معاملات کو کھول کر بیان کریں۔ اور لسان کا قوم کی طرف مضاف ہونے کے باوجود واحد ہونا اس وجہ سے ہے کہ اس سے مراد لغت ہے۔ اور یہ اسم جنس ہے قلیل و کثیر پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس آیت میں عجم و عرب کے لیے کوئی حجت نہیں، کیونکہ ہر وہ آدمی جس کے سامنے نبی کے لائے ہوئے پیغام کو ایسے ترجمے کے ساتھ پیش کیا جائے جو اس کو سمجھ آتا ہو تو اس سے حجت لازم ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وما ارسلنک الا کآفۃ للناس بشیرا و نذیرا (سبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ امام عبد ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” التخرج الناس من الظلمت الی النور “ سے مراد ہے گمراہی سے ہدایت کی طرف۔
2:۔ امام ابن بن حمید، ابویعلی، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حاکم نے (اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو آسمانوں پر اور (سب) انبیاء (علیہم السلام) پر فضلیت عطاء فرمائی ان سے پوچھا گیا آسمان والوں پر ان کی فضیلت کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں کے لئے فرمایا (آیت ) ” ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جھنم “ (الانبیاء آیت 29) اور محمد ﷺ کے لئے فرمایا (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ رَّسُوْلٍ : کوئی بھی رسول ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِلِسَان قَوْمِهٖ : اپنی قوم کی زبان (بولنے) والا ] [ لِيُبَيِّنَ : تاکہ وہ خوب واضح کر دے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [ فَيُضِلُّ : پھر گمراہ کرتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيَهْدِيْ : اور وہ ہدایت دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَهُوَ : اور وہ ہی ] [ الْعَزِيْزُ : بالا دست ہے ] [ الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی قوموں کی زبان بولنے والے تھے :
اس آیت میں ایک بہت اہم بات بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب اپنی اپنی قوموں کی زبان میں ان سے بات کرتے تھے اور اپنی قوم کی زبان میں انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچاتے اور بیان فرماتے تھے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے ان کی بیوی حوا بھی تشریف لائیں اور ان دونوں سے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی بھاری تعداد میں مرد اور عورت پیدا فرمائے۔ (وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآءً ) حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت بڑھتی رہی پھیلتی رہی قبیلے بنتے چلے گئے مختلف زبانیں پیدا ہوتی چلی گئیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آغاز سورت بہ بیان مقصد بعثت
قال اللہ تعالیٰ الرٰ کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور ... الیٰ ... وھو العزیز الحکیم
گزشتہ سورت کی طرح اس سورت کا آغاز بھی قرآن کریم کی عظمت سے کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بتلا دیا گیا کہ قرآن کے نازل کرنے اور نبی کریم (علیہ السلام) کی بعثت سے مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کتاب کے ذریعے سے لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالیں اور جو لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ان کو آخرت کا راستہ بتلائیں دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور ” ظلمات “ یعنی اندھیروں سے کفر اور شرک اور معصیت کے انواع و اقسام مراد ہیں چناچہ فرماتے ہیں الرٰ اس کے معنی اللہ…
Read the full tafseer →5:۔ یہ ابتداء سورت یعنی ” کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ “ سے متعلق ہے یعنی آپ سے پہلے بھی ہم قوموں میں ان کے ہم زبان رسول بھیجتے رہے تاکہ وہ مسئلہ توحید خوب واضح کر کے ان کو سمجھا سکیں اور ان سے پہلی سرکش قوموں کی تباہی کا حال ان کو سنائی تاکہ وہ اس نصیحت کو سیکھیں۔ ” فَیضِلُّ اللہُ الخ “ اللہ کے پیغمبر بیان کرتے ہیں لیکن ہدایت صرف وہی لوگ پاتے ہیں جن کے دلوں میں انابت ہو ضدی اور معاند لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی صداقت اور اس سے نزول کی حکمت بیان فرمائی ، اس کتاب کے نزول کی غرض وغایت یہ ہے کہ اس کتاب کے ذریعے پیغمبر خدا لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ، کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی ، بداخلاقی ، اور بداعمالی اندھیرے ہیں ، اس کے مقابلے میں توحید ، اخلاق ، نیکی اور اطاعت بمنزلہ روشنی کے ہیں ، پھر اللہ نے قرآن کے پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ان کے لیے عذاب کی وعید سنائی ، فرمایا یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور دین میں کجی تلاش کرتے ہیں ، بیہودہ اعتراضات کرتے ہیں لہذا گمراہی…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۭ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ
لسن
اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ
[ الروم/ 22] فاختلاف الْأَلْسِنَةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : کتاب موصوف انزلناہ الخ صفت مجموعہ خبر ہے مبتدا مخدوف ھذا یا الرا کی باذن ربہم موضع نصب میں ہے ای ماذو قالھم الی صراط بدل ہے الی النور سے باعادۃ حرف الجر اللہ مجرور ہے الحمید سے بدل ہو کر
تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے اخیر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مناجات کا بھی اس خوبی کے ساتھ ذکر ہے کہ جس سے قدیم زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اپنے رب کے ساتھ عجز و نیاز اور سچا توکل ان لوگوں کے دلوں پر کہ جن پر بت پرستی یا الحاد کا دھبہ نہیں لگا ‘ عجب اثر پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس سورة کا نام سورة ابراہیم ہے۔
اس سورة میں بھی بیشتر اصول مذہب کا ثبوت ہے ایک نئے ڈھنگ سے آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ طفَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (سورۃ ابراھیم : 4)
(ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان پر اچھی طرح واضح کر دے پس اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی سب پر غالب ہے اور حکیم۔ )
اللہ تعالیٰ کا احسان
ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے پیغمبر اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائیں اور گمراہیوں سے ہدایت کے راستے پر نکالیں اس کے لیے ایک طریقہ تو یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو گمراہی اور تاریکیوں سے نکالنے کے لیے جو آسانیاں عنایت فرمائی ہیں۔ ان میں ایک آسانی یہ ہے کہ جتنے پیغمبر مبعوث فرمائے وہ اپنی قومی زبان میں ہی وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے تاکہ لوگوں کو ان کی بات سمجھنے میں آسانی رہے۔
اللہ تعالیٰ کی عنایات اور کرم فرمائیوں میں یہ بھی ایک عنایت اور کرم فرمائی ہے کہ اس نے جتنے پیغمبر مبعوث فرمائے وہ سب کے سب انسان تھے جو انسان ہونے کے ساتھ اپنی اپنی قوم کے فرد ہوا کرتے تھے۔ انہیں حکم تھا کہ وہ لوگوں کو انہی کی زبان میں اپنے رب کا پیغام پہنچائیں۔ لوگوں کی زبان میں بات کرنے کا معنی یہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کسی…
Read the full tafseer →ہر رسول اپنی قومی زبان میں اللہ کا پیغام لایا :
4: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ (ہم نے ہر پیغمبر کو اسکی قوم کی زبان میں پیغمبر بنایا) وہ انہی کی لغت میں گفتگو کرنے والا ہوتا ہے۔ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ (تاکہ وہ ان کے سامنے کھول کر بیان کرے) اس کو جس کو دیکر بھیجا گیا ہو اور جنکے لئے بھیجا گیا ہو، تاکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی حجت نہ رہے اور نہ پیغمبر کو کہہ سکیں کہ جس وحی سے ہمیں مخاطب کیا گیا وہ تو ہمیں سمجھ نہیں آتی۔
سوال : ہمارے رسول ﷺ تو تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہیقل یٰایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعًا ] الاعراف : 158[…
Read the full tafseer →4۔” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم “ ان کی لغت کے مطابق تا کہ اس سے بات کو سمجھ لیں ۔ اگر سوال کیا جائے کہ یہ کیسے ہو ہوسکتا ہے حالانکہ آپ ﷺ پوری مخلوق کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ عرب میں ان کی زبان کے مطابق آپ ﷺ کو بھیجا گیا تھا۔ دوسرے لوگ عرب کے تابع ہیں ، پھر انبیاء (علیہم السلام) نے اپنے اطراف لوگوں کو مختلف زبانوں میں ترجمہ سکھلا کر بھیجا تا کہ ان کو ان کی زبانوں میں تبلیغ کرے۔
” فیضل اللہ من یشاء و یھدی من یشاء وھو العزیز الحکیم “۔
Read the full tafseer →4۔ مشرکین حضرت ﷺ پر اعتراض جو کرتے تھے کہ یہ قرآن خود ان کا بنایا ہوا ہے خدا کی طرف سے نہیں آیا اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو ہم یقین کرتے یہ تو انہیں کی زبان میں ہے خود انہوں نے بنا لیا ہے اسی کے جواب میں یہ آیت اتری کہ یہ بہت بڑا خدا کا احسان ہے کہ جتنی قوم میں رسول اس نے بھیجے سب انہیں میں سے اور جتنی کتابیں اتاریں انہیں کی زبان میں، نہیں تو پھر لوگوں کو جو دقتیں پیش آتیں اس کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ اپنی زبان ہونے پر تو یہ کفرو انکار ہے دوسری زبان ہوتی تو یہ عذر ہوتا کہ سمجھنے سے عاجز ہیں۔ اسی واسطے ہمیشہ یہی دستور رکھا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں کتاب بھیجی تاکہ آسانی سے وہ خدا…
Read the full tafseer →یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ” اس نے ہر ایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے ان امور کو واضح کرے جن کے وہ محتاج ہیں “ اور وہ ان کی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں کتاب لے کر آیا ہوتا تو وہ اس زبان کو سیکھنے کے محتاج ہوتے جس میں رسول کلام کرتا ہے تب کہیں جا کر رسول کی باتیں ان کی سمجھ میں آتیں پس جب رسول ان تمام امور کو بیان کردیتا ہے جن کا انہیں حکم دیا گیا اور جن سے ان کو روکا گیا ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجاتی ہے تو ان میں سے جو لوگ ہدایت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ انکو گمراہ کردیتا ہے اور جن کو اپنی رحمت کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
8۔ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللہ :
سو یہ ہے اصل بیماری کہ دنیا اور اتنی جو کہ آخرت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، نہ بری ہے نہ ممنوع۔ بلکہ اس کو اگر آخرت کی کمائی کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ محمودومطلوب ہے۔ سو دنیا اور اس کے مفادات کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیکر آخرت کو بھول جانا اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دنیا ہی کے لیے جینا اور اسی کے لیے مرنا خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑا نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز اس ارشاد سے کافروں کی محرومی اور انکار کے اصل سبب سے بھی پردہ اٹھادیا گیا کہ ان لوگوں کے نزدیک اصل چیز چونکہ دنیا ہی دنیا ہے اور یہ آخرت کی خاطر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قرآن کا مقصد، کفر کی سزا اور ہدایت کا طریقہ
تشریح : یہاں پہلی آیت میں اللہ کے دو صفاتی نام دیے گئے ہیں ” اَلْعَزِیْزُ الْحَمِیْدُ “ یعنی سب پر غالب، تعریف کے قابل۔ وہ اتنا زبردست ہے کہ اس نے یہ اتنی بڑی دنیا بنائی۔ کیونکہ آسمان و زمین اس نے بنائے ہیں اس لیے یہاں کی ہر چیز اس کے قبضے میں اور علم میں ہے انسانوں کو اس نے پیدا کیا تو ان میں کچھ برے ہیں کچھ اچھے ہیں تو بروں کو نیکی کی راہ دکھانے کے لیے انہی میں سے انہی کی زبان بولنے والا ایک ہدایت دینے والا مقرر کردیا پھر اس کو اپنے بہترین احکامات قرآن کی صورت میں دیئے۔ اور پھر نبی اکرم ﷺ کو بھی ان کی ڈیوٹی سمجھا دی کہ تمام بگڑے ہوئے انسانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں اور اس کے بعد ارشاد ہے کہ ۔
(کتاب کی عظمت)
یہ عظیم الشان کتاب ہم نے کی طرف فرمائی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کی اجازت سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں ، سب سے پہلے تو کتاب کی عظمت کا اظہار ہے کہ یہ اللہ جل جلالہ کا ذاتی کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام کہ بادشاہوں کا کلام ، کلام کا بادشاہ ہوا کرتا ہے کے مصداق بہت ہی عظیم الشان ہے پھر ظاہرا کمال یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے کوئی بڑے سے بڑا ادیب ایک جملے کے مقابلے میں جملہ لانے کی جرات نہیں کرسکتا انسانی زندگی کے ہر پہلو پہ راہنمائی اور اس کا معیار یہ کہ ساری انسانیت کے لیے بیک وقت قابل عمل…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ اور وہ چھی طرح سمجھ سکیں اور ان پر حجت قائم ہوسکے۔ آنحضرت ﷺ سے قبل جتنے پیغمبر بھیجئے گئے وہ ایک ایک قوم کی طرف بھیجئے گئے اور ہر قوم کی طرف اسی قوم کا ایک فرد بھیجا گئے اور ہر قوم کی طرف اسی قوم کا ایک فرد بھیجا گیا جو اسی کی زبان بولتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت گو عام تھی اور قیامت تک کے تمام انسانوں بلکہ تما جن و انس کے لئے تھی لیکن چونکہ آپ ﷺ کی قوم جس میں آپ ﷺ پیدا ہوئے اور جو آپ ﷺ کی اولین مخاطب تھی عربی زبان بولتی تھی اس لئے طبعی ترتیب کے مطابق آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام سب سے پہلے عربی زبان میں ان کو پہنچایا۔ مقصد یہ تھا کہ پہلے یہ قوم اس پیغام کو سمجھے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچائے اور…
Read the full tafseer →(14:4) بلسان قومہ۔ اس کی قوم کی زبان کے ساتھ۔ یعنی جس کی زبان وہی ہو جو اس کی قوم کی زبان ہے۔ لسان کے لفظی معنی زبان کے ہیں اور مجازا کلام اور لغت کے لئے بھی بولتے ہیں۔ رجل لسن۔ وہ شخص جو اپنی بات وضاحت سے بیان کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4
لتخرج تاکہ تو نکالے الظلمت (الظلمۃ) ۔ اندھیرے اذن اجازت۔ توفیق صراط راستہ الحمید اللہ کی صفت۔ تمام تعریفوں کا مستحق ویل بربادی۔ تباہی یستحبون وہ پسند کرتے ہیں یصدون وہ روکتے ہیں یبغون وہ تلاش کرتے ہیں عوج کجی۔ ٹیڑھا پن ضلل گمراہی بعید دور لسان زبان لیبین تاکہ وہ کھول دے۔ واضح کر دے یضل وہ گمراہ کرتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 4
نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت ساری دنیا کفر و شرک ، ظلم و ستم، قتل و غارت گری، رسم و رواج، بت پرستی، عقیدوں کی خرابی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی کسی شخص، قوم یا قبیلے کو سکون اور چین حاصل نہ تھی۔ نبی کریم ﷺ پر…
Read the full tafseer →شان نزول : مشرکین آنحضرت ﷺ پر اعتراض جو کرتے تھے کہ یہ قرآن خود ان کا بنایا ہوا ہے خدا کی طرف سے نہیں آیا اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو ہم یقین کرتے۔ یہ تو انہی کی زبان میں خود انہوں نے بنا لیا ہے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ بہت بڑا خدا کا احسان ہے کہ جتنی قوموں میں رسول بھیجے سب انہیں میں سے، اور جتنی کتابیں اتاریں انہیں کی زبان میں۔ تو پھر لوگوں کو جو دقتیں پیش آتیں اس کا کچھ ٹھکانا۔ نہیں اپنی زبان ہونے پر تو یہ کفر و انکار ہے دوسری زبان ہوتی تو یہ عذر ہوتا کہ سمجھنے سے عاجز ہیں۔ اسی واسطے ہمیشہ یہی دستور رکھا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں کتاب بھیجی،…
Read the full tafseer →[1] کیونکہ اللہ بالادست ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم و دانا بھی ہے اس لئے وہ اپنی بالادستی کو اندھا دھند استعمال نہیں کرتا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے جسے چاہے ہدایت دے دے اور جسے چاہے خواہ مخواہ بھٹکا دے۔ اس نے ہر شخص کے اندر ہدایت حاصل کرنے کی صلاحیتیں ودیعت کی ہیں۔ جو شخص ان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ ہدایت کا مستحق ہوتا ہے اور جو شخص ان کی قدر نہیں کرتا وہ گمراہی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) پیغمبر وقت قوم کی زبان اور قوم کی نفسیات سے خوب واقف اور آگاہ ہوتا ہے ، تاکہ قول بیلغ سے ان کے دلوں میں جگہ حاصل کرسکے اس کا الہام قوم کے محاوارت وادب کے ماتحت ہوتا ہے ، تاکہ انحام محبت ہو سکے قوم یہ نہ کہے اور عذر نہ کرسکے کہ رسول کی زبان ہمارے لئے ناقابل فہم تھی ۔
عرب چونکہ حضور ﷺ کے مخاطب اول تھے منشاء الہی یہ تھا کہ اس مرکز ضلالت وگمراہی کو اولا درست کیا جائے ، وہاں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کی جائے تاکہ دوسروں کے لئے چراغ راہ بنیں ، اس لئے حضور ﷺ کو جو قرآن دیا گیا ، وہ عربی زبان میں ہے تاکہ یہ لوگ آسانی سے اپنی گمراہیوں کا مطالعہ کرسکیں ، اور دوسروں کے لئے نمونہ ہوں ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →4 ۔ اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اسی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا تا کہ وہ اپنی قوم کے سامنے احکام الٰہیہ کو صاف صاف بیان کرے پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا اور راہ دکھاتا ہے اور وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کہتے تھے کہ اور بولی میں قرآن اترتا یہ تو اس شخص کی بولی ہے۔ شاید آپ کہلاتا ہو اس کا جواب یہ ہے۔ 12
خلاصہ۔ یہ کہ غیر بولی کہ تم کیا سمجھتے اور بیان کا مقصد ہی فوت ہوجاتا اصل مقصد تو تبیین ہے اور وہ اسی بولی میں ہوسکتی ہے جو قوم کی بھی بولی ہو اور پیغمبر کی بھی ہوتا کہ تم سمجھ…
Read the full tafseer →ف 6۔ اوپر حضور ﷺ کی رسالت کا ذکر تھا آگے اس کی تائید کے لیے دوسرے رسل کا ذکر ہے جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ رسالت کوئی انوکھی چیز نہیں کہ اس کا انکار کیا جائے پہلے بھی رسول ہوتے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →ہر نبی و رسول پیغام حق لے کر آیا لوگوں پر مطلب واضح کیا لیکن لوگوں نے ایک نہ مانی
4 ؎ فرمایا ہم نے کوئی نبی و رسول نہیں بھیجا مگر اس کی زبان وہی تھی جو اس کی قوم کی تھی اور اس نے اس زبان میں اپنا پیغام سنایا جس زبان میں وہ اپنی قوم سے گفتگو کرتا تھا ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ کوئی بھی بول بولنے والا ہو اپنی بول کی رموز ‘ استعارات ‘ محاورات ‘ ضرب الامثال اور تسبیحات سے اچھی طرح واقف ہوتا تھا اور ہر زبان و بولی میں انسان زبان سے حروف کچھ نکلتا ہے اور اس کا مفہوم کچھ ہوتا ہے اور وہ اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ کے لوگ یعنی قوم کے افراد بھی اس سے اچھی طرف وقف ہوتے ہیں اور وہ بات کو…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the first sentence of this verse is the particular blessing and convenience granted by Allah Ta’ ala that whenever He has sent a messenger to a people, He has sent him speaking their language, in order that he would convey Divine injunctions to them in their language and usage whereby understanding these becomes easy on them. If the language of the messenger had been different from that of his addressees, it is evident that his people would have to undergo the burden of having to translate the injunctions before they could understand them and, still, the understanding…
Read the full tafseer →5. This implies two things: First, Allah sent down His message in the language of the people from among whom a Prophet was raised so that they might not have any excuse left that they could not understand the language of the message. Secondly, this ruled out the presumption that a Messenger was ever given the message in a different language merely for the sake of a miracle. For Allah considered it more important to make the people understand the message and guide them rightly than to satisfy their curiosity. Obviously the purpose could best be served only if the message was sent down to them…
Read the full tafseer →