Ibrahim 14:3

Ibrahim · from ayah 3

14:3

١لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَةِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَیَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ؕ— اُولٰٓىِٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ ۟اۨلَّذِيۡنَ يَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا‌ ؕ اُولٰۤئِكَ فِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The ones who prefer the worldly life over the Hereafter and avert [people] from the way of Allah, seeking to make it (seem) deviant. Those are in extreme error.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:3

جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیٹرھا ہو جائے یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کو پسند رکھتے ہیں اور اللہ کی راه سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ لوگ جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے پر آنے سے روکتے ہیں، اور اس میں ٹیڑھ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں، وہ دور کی گمراہی میں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ) وہ لوگ ہیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتے ہیں اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس (دینِ حق) میں کجی تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ دور کی گمراہی میں (پڑ چکے) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں (اپنی خواہشوں کے مطابق) ٹیڑھ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ گمراہی میں دور تک نکل گئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے لیے جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے لیے جو کہ پسند کرتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں، اور جو (خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو بھی) روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، اور وہ اس میں کجی تلاش کرتے ہیں، (اپنی اھواء و اغراض کے مطابق) یہ لوگ پڑے ہیں (راہ حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں،

— مولانا اسحاق مدنی

جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے رہتے ہیں یہ لوگ بڑی دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں اور وہ روکتے ہیں اللہ کے رستے سے اور اس کے اندر کجی تلاش کرتے ہیں۔ یقیناً یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہوچکے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں خرابی چاہتے ہیں یہ لوگ پرلے درجہ کی گمراہی میں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

to those who have chosen the life of the world in preference to the Hereafter, who hinder people from the Way of Allah, and seek to make it crooked. They have gone far astray.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

to those who prefer the worldly life to the Hereafter and prevent (people) from the way of Allah, and seek to make it crooked. Those have gone too far in straying.

— Muhammad Taqi Usmani

to those who prefer the worldly life to the Hereafter and prevent (people) from the way of Allah, and seek to make it crooked. Those have gone too far in straying.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who prefer the life of this world to the Hereafter, and hinder (men) from the path of Allah and seek crookedness therein - they are far astray.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who love the life of the world more than the Hereafter, and debar (men) from the way of Allah and would have it crooked: such are far astray.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The ones who prefer the worldly life over the Hereafter and avert [people] from the way of Allah, seeking to make it (seem) deviant. Those are in extreme error.

— Saheeh International

It is they who have given preference to the worldly life over the life to come. They create obstacles in the way that leads to God and try to make it seem crooked. They are in manifest error.

— Muhammad Sarwar

(To) those who love this world's life more than the hereafter, and turn away from Allah's path and desire to make it crooked; these are in a great error.

— Muhammad Habib Shakir

Those who prefer the life of the world to the Hereafter, and hinder people from the way of Allah, and seek crookedness therein; these are in error far-off.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who love the life of this world more than the Hereafter, who hinder (men) from the Path of Allah and seek therein something crooked: they are astray by a long distance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

حوف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے اے نبی ﷺ یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ ، رسول تمام رسولوں سے افضل وبالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لاسکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں اللہ اپنے غلام پر اپنی روشن اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اِبْرٰهِیْم 3 یا بالفاظ دیگر جنہیں ساری فکر بس دنیا کی ہے، آخرت کی پروا نہیں ہے۔ جو دنیا کے فائدوں اور لذتوں اور آسائشوں کی خاطر آخرت کا نقصان تو مول لے سکتے ہیں، مگر آخرت کی کامیابیوں اور خوشحالیوں کے لیے دنیا کا کوئی نقصان، کوئی تکلیف اور کوئی خطرہ، بلکہ کسی لذت سے محرومی تک برداشت نہیں کرسکتے۔ جنہوں نے دنیا اور آخرت دونوں کا موازنہ کر کے ٹھنڈے دل سے دنیا کو پسند کرلیا ہے اور آخرت کے بارے میں فیصلہ کرچکے ہیں کہ جہاں جہاں اس کا مفاد دنیا کے مفاد سے ٹکرائے گا وہاں اسے قربان کرتے چلے جائیں گے۔ سورة اِبْرٰهِیْم 4 یعنی وہ اللہ کی مرضی کے تابع ہو کر نہیں رہنا چاہتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ اس آیت میں منکریں قرآن کافروں کے تین حال بتلائے گئے ہیں ایک یہ کہ وہ دنیا کی زندگی کو بہ نسبت آخرت کے زیادہ پسند کرتے ہیں اور ترجیح دیتے ہیں اسی لئے دنیا کے نفع یا آرام کی خاطر آخرت کا نقصان کرنا گوارا کرلیتے ہیں اس میں ان کے مرض کی تشخیص کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود اس سے منکر کیوں ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کو دنیا کی موجودہ زندگی کی محبت نے آخرت کے معاملات سے اندھا کر رکھا ہے اس لئے ان کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

تفسیر آیت 2 تا 3:۔ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَافِي السَّمٰوٰتِ وَمَافِي الْاَرْضِ ۭ وَوَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِۨ۔ الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ۔ دنیوی مفادات ہدایت کے لیے حجاب : یعنی اس خدا کے استہ کی طرف جو تنہا آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ آج اپنے مزعومہ شریکوں کے اعتماد پر اس صحیفہ ہدایت کا انکار کر رہے ہیں وہ اپنے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں لوگوں کو بدظن کرنے کے لئے میں میکھ نکالتے اور انھیں مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی اغراض و خواہشات کے مطابق اس میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ 3۔ 2 اس لئے کہ ان میں مزکورہ متعدد خرابیاں جمع ہوگئی ہیں۔ مثلاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینا، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنا اور اسلام میں کجی تلاش کرنا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ اسلام میں کوئی نہ کوئی عیب تلاش کرتے رہتے ہیں، تاکہ انہیں اعتراض کا موقع ملے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ قرآن وسنت میں کوئی بات ان کے خیالات اور خواہشات کے مطابق مل جائے تو اس کو اپنے باطل نظریات کی تائید میں پیش کریں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

اب پہلے سورة کا حصہ اول۔ درس نمبر 114 تشریح آیات 1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27 آیت نمبر 1 تا 4 الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہ کافروں کا حال بیان فرمایا کہ ان کا اوڑھنا بچھونا یہ ہی دنیا ہے آخرت کے مقابلہ میں اسی کو پسند کرتے ہیں اور ترجیح دیتے ہیں۔ شب و روز اسی کی محبت میں غرق رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کی محبت میں پھنسا کر خدا کی خوشنودی کے راستہ سے روک دیں۔ اسی لیے یہ فکر رہتی ہے کہ خدا کے دین میں کوئی عیب نکالیں اور سیدھے راستہ کو ٹیڑھا ثابت کریں۔ فی الحقیقت یہ لوگ راستہ سے بھٹک کر بہت ہی دور جا پڑے ہیں جن کے واپس آنے کی توقع نہیں۔ خدا کی سخت مار پڑے گی تب آنکھیں کھلیں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ یہ آیت ہم سب کو دعوت دیتی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنی ترجیحات کا تجزیہ کرے کہ اس کی مہلت زندگی کے اوقات کار کی تقسیم کیا ہے ؟ اس کی بہترین صلاحیتیں کہاں کھپ رہی ہیں ؟ اور اس نے اپنی زندگی کا بنیادی نصب العین کس رخ پر متعین کر رکھا ہے ؟ پھر اپنی مشغولیات میں سے دنیا اور آخرت کے حصے الگ الگ کر کے دیکھے کہ دنیوی زندگی مَتاع الغُرُوْر کو سمیٹنے کی اس بھاگ دوڑ میں سے اصل اور حقیقی زندگی خَیْرٌ وَّاَبْقٰی کے لیے اس کے دامن میں کیا کچھ بچتا ہے ؟ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 قرآن کی رو سے کافر کون کون ہیں ؟ یعنی جن کی تمام تر کوششیں دنیوی مفادات اور ان کے حصول میں لگی ہوئی ہیں آخرت کی انھیں کچھ فکر نہیں۔ وہ دنیا کے لئے آخرت کی کامیابیوں اور خوشحالیوں کو تو قربان کرنے پر تیار ہیں لیکن آخرت کی فلاح و نجات حاصل کرنے کی خاطر اس دنیا کا کوئی نقصان برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ پھر ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ دوسروں کو بھی انھیں دنیوی مفادات کی ترغیب دے کر اللہ کی راہ کی طرف نہ آنے دیں یا راہ حق کی طرف چلنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے اور انھیں اپنے ظلم اور زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہیں یا اسی قرآن میں سے گمراہی کی راہیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے کافروں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اصل حقیقت سے بہت ہی دور) (آیت) ” الذین۔۔۔ الاخرۃ “۔ گمراہی، بےدینی، کفر کی اصلی بنیاد بھی آخرت پر اسی دنیا کو ترجیح دینا ہے۔ محبت دنیا مطلق صورت میں ممنوع نہیں (جیسا کہ بعض اہل غلو نے ٹھیرا لیا ہے) بلکہ وہ تو ایک امر طبعی و جبلی ہے۔ البتہ آجل پر عاجل کو ترجیح دینا ” آج “ کے پیچھے ” کل “ کو بھلا دینا، یہ جرم اور جرم عظیم ہے۔ (آیت) ” یبغونھا عوجا “۔ یعنی اس میں شبہ نکال نکال کر دوسروں کو بھی گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اے محمد اس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو کفر کی ظلمتوں سے انکے رب کے حکم سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں، اور الی النور سے الی صراط العزیز بدل ہے یعنی غالب اور قابل ستائش اللہ کے راستہ کی طرف (لائیں) (اللہ) کا جر (العزیز) سے بدل یا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے، اس کا مابعد (یعنی الذین لہ الخ) اللہ کی صفت ہے اور (اللہ) کے رفع کی صورت میں اللہ مبتداء ہوگا اور الذین لہ اس کی خبر ہوگی وہ اللہ کہ آسمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین یستحبون الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ ویصدون عن سبیل اللہ جو دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں۔ استحباب پسند کرنا ‘ اختیار کرنا ‘ کسی چیز کو اپنا محبوب قرار دے لینا۔ دنیوی زندگی سے مراد ہے : دنیا کی لذتیں۔ اللہ کے راستہ پر چلنے سے روکنے کے مطلب ہے : اللہ کے پیغمبر کے اتباع سے روکنا۔ ویبغونھا عوجا اور اللہ کے راستہ میں کجی کو ڈھونڈتے ہیں ‘ یعنی عیب چینی اور ۔۔ خوردہ گیری کیلئے دین میں کجی ڈھونڈتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ حق سے مڑ کر اور اپنا رخ موڑ کر اللہ کی راہ کے طلبگار ہوتے ہیں حالانکہ ایسا ممکن نہیں (کہ حق سے منہ موڑ کر اللہ کا راستہ مل جائے) ایک مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(3) اور لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں اور اس میں خمیدگی کے متلاشی رہتے ہیں یہ کفار حق اور ہدایت سے دور اور کھلی گمراہی میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ : ”يَسْتَحِبُّوْنَ“ سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی اللہ تعالیٰ کو تو آخرت کے مقابلے میں دنیا کو محبوب رکھنا ہی پسند نہیں جبکہ یہ کفار آخرت کے مقابلے میں دنیا کو بہت زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دنیا کی چیزوں سے محبت اس وقت بربادی کا باعث ہے جب وہ اللہ کی محبت کے مقابلے میں غالب ہو، ورنہ دنیا سے فائدہ مومن کے لیے بھی جائز ہے، بلکہ اللہ کی محبت کے تحت اور اس کے احکام کے تحت اپنے بیوی بچوں، دوستوں اور مال وغیرہ سے محبت فطری چیز ہے اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے اجر ملتا ہے۔ اس کے برعکس رہبانیت اس فطرت سے جنگ ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

آیت نمبر 2 تا 3 قولہ تعالیٰ : اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض یعنی ملکیت، بندگی، ایجاد اور تخلیق کے اعتبار سے آسمان و زمین کی سب چیزیں اللہ کی ہیں۔ نافع، ابن عامر اور دیگر قراء نے لفظ اللہ کو مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے۔ الذی اس کی خبر ہوگی۔ جب کہ یہ بھی کہا گیا ہے الذی اس کی صفت ہے اور خبر مضمر ہوگی، یعنی اللہ الذی لہ ما فی السموت والارض قادر علی کل شی اور باقیوں نے العزیز الحمید کی صفت کی بنیاد پر مجرور پڑھا ہے تو اس صورت میں صفت موصوف سے مقدم ہوگی، جیسے آپ مررت بالظریف زید کہتے ہیں (یعنی زید موصوف اور ظریف صفت ہے) یہ بھی قول ہے کہ صفت نہیں بلکہ الحمید سے بدل ہے، کیونکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ امام عبد ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” التخرج الناس من الظلمت الی النور “ سے مراد ہے گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ 2:۔ امام ابن بن حمید، ابویعلی، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حاکم نے (اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو آسمانوں پر اور (سب) انبیاء (علیہم السلام) پر فضلیت عطاء فرمائی ان سے پوچھا گیا آسمان والوں پر ان کی فضیلت کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں کے لئے فرمایا (آیت ) ” ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جھنم “ (الانبیاء آیت 29) اور محمد ﷺ کے لئے فرمایا (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ يَسْتَحِبُّوْنَ : ترجیح دیتے ہیں ] [ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کو ] [عَلَي الْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [ وَيَصُدُّوْنَ : اور وہ لوگ روکتے ہیں ] [عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ سے ] [ وَيَبْغُوْنَھَا : اور تلاش کرتے ہیں اس میں ] [ عِوَجًا : کجی کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : یہ لوگ ] [ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : دور والی گمراہی میں ہیں ] (آیت۔ 3) یَبْخُوْنَھَا کی ضمیر مفعولی سَبِیْلِ کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں کی صفات : پھر کافروں کی تین صفات بیان فرمائیں اور وہ یہ ہیں کہ (الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ ) (اور یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا والی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں اسے ترجیح دیتے ہیں) ان کا یہ دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو نظر انداز کرنا ان کے کفر پر جمے رہنے کا باعث بنا ہوا ہے ‘ ان کی دوسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (یعنی وہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں) نہ خود ایمان لاتے ہیں نہ دوسروں کو ایمان لانے دیتے ہیں۔ تیسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا) (کہ اللہ کی راہ میں کجی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

آغاز سورت بہ بیان مقصد بعثت قال اللہ تعالیٰ الرٰ کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور ... الیٰ ... وھو العزیز الحکیم گزشتہ سورت کی طرح اس سورت کا آغاز بھی قرآن کریم کی عظمت سے کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بتلا دیا گیا کہ قرآن کے نازل کرنے اور نبی کریم (علیہ السلام) کی بعثت سے مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کتاب کے ذریعے سے لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالیں اور جو لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ان کو آخرت کا راستہ بتلائیں دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور ” ظلمات “ یعنی اندھیروں سے کفر اور شرک اور معصیت کے انواع و اقسام مراد ہیں چناچہ فرماتے ہیں الرٰ اس کے معنی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ یہ ان منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے جو امم سابقہ کے انجام بد سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور دین اسلام اور مسئلہ توحید میں طرح طرح کے شبہات نکال کر لوگوں کو اس سے بد راہ کرتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والے مولوی اور پیر بھی اس وعید شدید میں داخل ہیں۔ جو اپنی خواہشات فاسدہ اور اغراض خبیثہ کی خاطر شریعت کے احکام کی من مانی تعبیریں کرتے ہیں۔ علامہ قرطبی نے اس آیت کے تحت آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث نقل کی ہے ” ان اخوف ما اخاف علی امتی الائمۃ المضلین “ یعنی مجھے اپنی امت کے لیے سب سے بڑا خطرہ گمراہ کرنے والے پیشواؤں کا ہے۔ اور ” یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا “ کی تفسیر میں لکھتے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

(نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة ابراہیم ہے ، سورة کے چھٹے رکوع میں خانہ کعبہ کی تعمیر پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور ملت ابراہیمیہ کا ذکر ہے اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام رکھا گیا ہے ، سابقہ سورة کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ، اس کی باون آیات اور سات رکوع ہیں ، یہ سورة 831 الفاظ اور 3434 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) جس طرح اس سورة کا سابقہ سورة سے زمانہ نزول ملتا ہے اسی طرح ان دونوں سورتوں کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں ، اس سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد ، توحید ، تردید شرک ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ، وصداقت کا ذکر ہے نبوت و رسالت کے متعلق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ ۝ استحباب وحقیقة الاستحباب : أن يتحرّى الإنسان في الشیء أن يحبّه، واقتضی تعدیته ب ( علی) معنی الإيثار، وعلی هذا قوله تعالی: وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْناهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمى عَلَى الْهُدى [ فصلت/ 17] میں ایسا معنی تلاش کرنے کے ہیں جس کی بناء پر اس سے محبت کی جائے مگر یہ ان علی ( صلہ ) کی وجہ سے اس میں ایثار اور ترجیح کے معنی پیدا ہوگئے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْناهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمى عَلَى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : کتاب موصوف انزلناہ الخ صفت مجموعہ خبر ہے مبتدا مخدوف ھذا یا الرا کی باذن ربہم موضع نصب میں ہے ای ماذو قالھم الی صراط بدل ہے الی النور سے باعادۃ حرف الجر اللہ مجرور ہے الحمید سے بدل ہو کر تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے اخیر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مناجات کا بھی اس خوبی کے ساتھ ذکر ہے کہ جس سے قدیم زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اپنے رب کے ساتھ عجز و نیاز اور سچا توکل ان لوگوں کے دلوں پر کہ جن پر بت پرستی یا الحاد کا دھبہ نہیں لگا ‘ عجب اثر پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس سورة کا نام سورة ابراہیم ہے۔ اس سورة میں بھی بیشتر اصول مذہب کا ثبوت ہے ایک نئے ڈھنگ سے آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًاطاُولٰئِکَ فِی ضَلٰلٍمبَعِیْدٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 3) (جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ ) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بنیادی گمراہیوں اور خرابیوں کا ذکر فرمایا ہے جو آنکھیں رکھنے اور عقل اور شعور سے بہرہ ور ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشنی میں سفر کرنا پسند نہیں کرتے انھیں تاریکی کے دھکے اور اندھیروں کی کھائیاں گوارا ہیں۔ یہ چند…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا انکار اور لوگوں کے صراط مستقیم سے انحراف کی بڑی وجہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینا ہے۔ جو لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی عیش و عشرت کو ترجیح دیتے ہیں وہی لوگ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بننے کے ساتھ اس میں کج روی تلاش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گمراہی میں بہت دور نکل جاتے ہیں۔ ان کا صراط مستقیم کی طرف پلٹنا نہایت ہی مشکل ہے۔ قرآن مجید انسان کو دنیا سے لاتعلقی کا حکم نہیں دیتا اس کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر انسان آخرت کو مقدم رکھنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے اس کے مقابلے میں آخرت اور اس کی نعمتیں مستقل اور ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ آخرت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3: اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ (وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں) ترجیح دیتے اور چنائو کرتے ہیں الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ (دنیا کی زندگی کو آخرت پر) وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں) اللہ تعالیٰ کے دین سے وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا (اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کجی ڈھونڈتے ہیں) اللہ تعالیٰ کے راستہ کیلئے ٹیٹرھ اور کجی تلاش کرتے ہیں۔ و یبغونھا کی اصل یبغون لھا ہے۔ جارؔ کو حذف کردیا اور ضٗمیر کو فعل کے ساتھ ملا دیا۔ نحو :ؔ یہ مبتدا ہے الذین سے اور خبر اولئک فی ضلال بعید ہے۔ اُولٰٓئِکَ فِی ضَلٰلٍ 0 بَعِیْدٍ (وہ لوگ دور کی گمراہی میں ہیں) حق سے۔ آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 3۔” الذین یستحبون “ اس سے مراد جو کچھ وہ اختیار کرتے ہیں ۔ ” الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ و یصدون عن سبیل اللہ “ یعنی وہ لوگوں کو اللہ کے دین قبول کرنے سے روکتے ہیں ۔” ویبغونھا عوجا ً “ وہ تلاش کرتے ہیں کجی کو اور حق سے منہ موڑ کر اللہ کے راستے کے طلب گار ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ ھا ضمیر لوٹ رہی ہے دنیا کی طرف ، معنی اس کا یہ ہوگا کہ راہ حق سے منہ موڑ کر دنیا کے طلب گار ہوتے ہیں بمعنی حرام مال چاہتے ہیں ۔ ” اولئک فی ضلال بعید “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ الٓر۔ انہیں حروف مقطعات میں سے ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا کہ اس کے معنے سوائے خدا کے اور کسی کو معلوم نہیں ہیں۔ قرآن کا یہ طرز بیان ہے کہ بعد حروف مقطعات کے قرآن پاک کی عظمت بیان کی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں بھی فرمایا کہ یہ قرآن مجید اور آسمانی کتابوں سے اشرف ہے اور اشرف الانبیاء محمد ﷺ پر اس کو ہم نے اتارا ہے اور جس طرح پہلی کتابیں خاص خاص قوم اور علیحدہ علیحدہ امت کی ہدایت کو بھیجی گئیں اسی طرح یہ کتاب کل انسان کیا عرب کیا عجم ہر ایک بستی ہر ایک گاؤں ہر ملک کے رہنے والوں کی ہدایت کو اتاری گئی ہے تاکہ لوگوں کو کفر اور گمراہی سے نکال کر خدا کی توحید اور ایمان کے سیدھے رستہ کی طرف لاوے پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” وہ لوگ جو دنیا کی زندگیکو پسند کرتے ہیں آخرت پر “ پس وہ دنیا پر راضی اور مطمئن ہو کر آخرت سے غافل ہوگئے۔ (ویصدون) ” اور (لوگوں کو) روکتے ہیں “ (عن سبیل اللہ) ” اللہ کے راستے سے “ وہ راستہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اور اسے اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولوں کی زبان پر خوب بیان کردیا ہے مگر یہ لوگ اپنے آقا و مولا کے مقابلے میں عداوت و محاربت کا اظہار کرتے ہیں (ویبغونھا) ” اور تلاش کرتے ہیں اس میں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں (عوجاً ) ” کجی “ یعنی وہ اس راستے کو خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے خلاف نفرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

8۔ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللہ : سو یہ ہے اصل بیماری کہ دنیا اور اتنی جو کہ آخرت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، نہ بری ہے نہ ممنوع۔ بلکہ اس کو اگر آخرت کی کمائی کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ محمودومطلوب ہے۔ سو دنیا اور اس کے مفادات کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیکر آخرت کو بھول جانا اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دنیا ہی کے لیے جینا اور اسی کے لیے مرنا خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑا نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز اس ارشاد سے کافروں کی محرومی اور انکار کے اصل سبب سے بھی پردہ اٹھادیا گیا کہ ان لوگوں کے نزدیک اصل چیز چونکہ دنیا ہی دنیا ہے اور یہ آخرت کی خاطر اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

قرآن کا مقصد، کفر کی سزا اور ہدایت کا طریقہ تشریح : یہاں پہلی آیت میں اللہ کے دو صفاتی نام دیے گئے ہیں ” اَلْعَزِیْزُ الْحَمِیْدُ “ یعنی سب پر غالب، تعریف کے قابل۔ وہ اتنا زبردست ہے کہ اس نے یہ اتنی بڑی دنیا بنائی۔ کیونکہ آسمان و زمین اس نے بنائے ہیں اس لیے یہاں کی ہر چیز اس کے قبضے میں اور علم میں ہے انسانوں کو اس نے پیدا کیا تو ان میں کچھ برے ہیں کچھ اچھے ہیں تو بروں کو نیکی کی راہ دکھانے کے لیے انہی میں سے انہی کی زبان بولنے والا ایک ہدایت دینے والا مقرر کردیا پھر اس کو اپنے بہترین احکامات قرآن کی صورت میں دیئے۔ اور پھر نبی اکرم ﷺ کو بھی ان کی ڈیوٹی سمجھا دی کہ تمام بگڑے ہوئے انسانوں کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں اور اس کے بعد ارشاد ہے کہ ۔ (کتاب کی عظمت) یہ عظیم الشان کتاب ہم نے کی طرف فرمائی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کی اجازت سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں ، سب سے پہلے تو کتاب کی عظمت کا اظہار ہے کہ یہ اللہ جل جلالہ کا ذاتی کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام کہ بادشاہوں کا کلام ، کلام کا بادشاہ ہوا کرتا ہے کے مصداق بہت ہی عظیم الشان ہے پھر ظاہرا کمال یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے کوئی بڑے سے بڑا ادیب ایک جملے کے مقابلے میں جملہ لانے کی جرات نہیں کرسکتا انسانی زندگی کے ہر پہلو پہ راہنمائی اور اس کا معیار یہ کہ ساری انسانیت کے لیے بیک وقت قابل عمل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی اللہ کی راہ جو بالکل سیدھی اور بےعیب ہے۔ کافر اس میں عیب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ٹیڑھی بتاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس کے اختیار کرنے سے باز رکھ سکیں۔ (از ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 2–3

(14:2) اللہ ۔۔ العزیز الحمید۔ کا عطف بیان ہے۔ کیونکہ یہ العزیز الحمید کی وضاحت کرتا ہے یعنی وہ العزیز الحمید۔ یعنی اللہ تعالیٰ اقدس ہے۔ ویل۔ اسم مرفوع۔ ہلاکت۔ عذاب۔ خرابی۔ بربادی۔ دوزخ کی ایک وادی۔ کلمہ ٔ زجرو وعید کلمہ حسرت و ندامت ہے۔ ویل من عذاب شدید۔ عذاب شدید سے خرابی۔ عذاب شدید کے باعث خرابی (یہ عذاب دنیوی بھی ہوسکتا ہے اور عذاب اخروی بھی) ۔ یستحبونمضارع جمع مذکر غائب۔ استحباب (استفعال) مصدر وہ محبوب رکھتے ہیں وہ پسند کرتے ہیں۔ وہ ترجیح دیتے ہیں یصدون۔ صد یصد صدا۔ لازم ومتعدی دونوں میں مستعمل ہے۔ وہ روکتے ہیں وہ باز رہتے ہیں۔ اعراض کرتے ہیں۔ آیۃ ہذا میں دونوں معنی مراد ہیں۔ یبغونھا۔ (وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 لتخرج تاکہ تو نکالے الظلمت (الظلمۃ) ۔ اندھیرے اذن اجازت۔ توفیق صراط راستہ الحمید اللہ کی صفت۔ تمام تعریفوں کا مستحق ویل بربادی۔ تباہی یستحبون وہ پسند کرتے ہیں یصدون وہ روکتے ہیں یبغون وہ تلاش کرتے ہیں عوج کجی۔ ٹیڑھا پن ضلل گمراہی بعید دور لسان زبان لیبین تاکہ وہ کھول دے۔ واضح کر دے یضل وہ گمراہ کرتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت ساری دنیا کفر و شرک ، ظلم و ستم، قتل و غارت گری، رسم و رواج، بت پرستی، عقیدوں کی خرابی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی کسی شخص، قوم یا قبیلے کو سکون اور چین حاصل نہ تھی۔ نبی کریم ﷺ پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

الرا۔ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ ہم نے اس کو تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ لوگوں کو کفر و نفاق اور شرک و بدعت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اخلاص اور سنت و توحید کی روشنی میں لے جاؤ۔ مگر یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہماری توفیق نہ ہو اور ہم کسی پر آسان نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ خدا کی راہ پر چلو اور وہ خدا ایسا ہے کہ ہر شے پر غالب ہے اور زمین اور آسمانوں میں اس کی حمد و ثنا ہوتی ہے۔ وہ اللہ ایسا شہنشاہ بادشاہ احکم الحاکمین ہے کہ تمام آسمانوں اور زمین کے اختیارات رکھتا ہے اور کل موجودات آسمانی اور مخلوقات ارضی اس کے محکوم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

روشن کتاب : (ف 1) یعنی قرآن حمید نورروشن کی دعوت ہے ، اجالے کی جانب بلاوا ہے ، ظلمت و تاریکی سے بیزاری ہے اس میں وہم وتخ میں کو داخل نہیں ، لا یعنی رسوم و خرافات کا وجود نہیں ، جو بات ہے علم ویقین کی جچی تلی ، حشو وزوائد کا شائبہ نہیں ۔ سراسر ضروریات وحقائق کا مرقع ہے ۔ حضور ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ آپ اس مستقل ہدایت کو ہاتھ میں لے کر سارے عرب میں اجالا کردیں ، لوگوں کو تعصب وجہالت کی تاریکیوں سے نکالیں ، اور علم وعرفان کی روشنی میں لائیں ، ان کو خرافات وظنون کی وادیوں سے نکالیں ، اور سلوک و احسان کے مرغزاروں میں لا بسائیں ، یہ نسخہ تاریکی جہالت اور تعصب دور کرنے کا مجرب نسخہ ہے ، دنیا کی تمام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

3 ۔ کافر وہ ہیں جو آخرت کے مقابلہ میں دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکتے اور خدا کی راہ میں کجی اور عیب کے متلاشی رہتے ہیں یہ لوگ ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ کافروں کی تین باتیں فرمائیں آخرت پر چونکہ ایمان نہیں اس لئے اس کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ پر چلنے سے لوگوں کو بہکاتے ہیں اور دھمکیاں دیکر روکتے ہیں اور اس راہ کی عیب جوئی میں لگے رہتے ہیں یعنی نہ خود اسلام قبول کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

خرابی ہے ان کیلئے جنہوں نے آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پسند کی اور کھائی میں جاگرے 3 ؎ دنیا کیا ہے ؟ چار دن کی چاندی پھر اندھیری رات ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت نہ ختم ہونے والی زندگی کا نام ہے جب موت کو موت آجائے گی اور پھر اس کے بعد کسی کو مرنا نہیں ہوگا۔ اگر دنیا کی زندگی کی فراوانیاں ‘ کامرانیاں اور کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن آخرت کئے ہو کوئی توشہ موجود نہ ہوا تو یہ کامیابیاں ‘ کامرانیاں اور سرفرازیاں کیا ہوئیں ؟ کچھ بھی نہیں کیونکہ ان میں سے کسی چیز کو یہاں ثبات نہ تھا بلکہ ہرچیز کیلئے فنا ہی فنا تھی نہ زندگی رہی اور نہ ہی زندگی کی کامرانیاں ‘ کامیابیاں اور سرفرازیاں رہیں اور جہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that, in verse 3, it was said: الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَ‌ةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ To those who prefer the worldly life to the Hereafter and pre-vent (people) from the way of Allah, and seek crookedness in it. Those are far away in straying. This verse identifies the three states in which the deniers of the Qur'an are found among disbelievers. These are their distinct traits of character. Firstly, they prefer their life in the present world to the life they are to have in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3. Those who reject the truth are the people whose interests are entirely bound with the life of this world, and who do not care at all for the interests of the life of the Hereafter: who are prepared to undergo any punishment in the next world for the sake of the interests, pleasures and comforts of this world: who, on the other hand, cannot bear the sacrifice of even the smallest pleasure in this world, nor are ready to bear any loss or encounter danger or trouble in this world for the sake of the joys of the next world. In short, such are the people who have coolly considered and weighed…

Read the full tafseer →