Explained with ayahs 10–12
کفار اور انبیاء میں مکالمات
رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہوگئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 17
رسولوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ ہر زمانے کے مشرکین خدا کی ہستی کو مانتے تھے اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق وہی ہے۔ اسی بنیاد پر رسولوں نے فرمایا کہ آخر تمہیں شک کس چیز پر ہے ؟ ہم جس چیز کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہیں وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ اللہ فاطر السمٰوات والارض تمہاری بندگی کا حقیقی مستحق ہے۔ پھر کیا اللہ کے بارے میں تم کو شک ہے ؟
سورة اِبْرٰهِیْم 18
مدت مقرر سے مراد افراد کی موت کا وقت بھی ہوسکتا ہے اور قیامت بھی۔ جہاں تک قوموں کا تعلق ہے ان کے اٹھنے اور گرنے کے لیے اللہ کے ہاں مدت کا تعین ان کے اوصاف کی شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ ایک اچھی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
خلاصہ تفسیر
(اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان)…
Read the full tafseer →قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۭ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۔
سوال استعجاب کی نوعیت کا : رسولوں کی طرف سے یہ سوال استعجاب کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے خدا کے باب میں شک ہے، خدا کو تو تم مانتے ہی ہو اور اسی کو آسمانوں اور زمین کا خالق بھی مانتے ہو، اسی کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں تو اس کے بارے…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔ علاوہ ازیں وہ ایمان و توحید کی دعوت بھی صرف اس لئے دے رہا ہے کہ تمہیں گناہوں سے پاک کر دے۔ اس کے باوجود تم اس خالق ارض و سماء کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور اس کی دعوت سے تمہیں انکار ہے ؟
10۔ 2 یہ وہی اشکال ہے جو کافروں کو پیش آتا رہا کہ انسان ہو کر کس طرح کوئی وحی الٰہی اور نبوت و رسالت کا مستحق ہوسکتا ہے ؟
10۔ 3 یہ دوسری رکاوٹ ہے کہ ہم ان معبودوں کی عبادت کس طرح چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کرتے رہے ہیں ؟ جب کہ تمہارا مقصد ہمیں ان کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت پر لگانا ہے۔
10۔ 4 دلائل و معجزات تو ہر نبی…
Read the full tafseer →7: مطلب یہ ہے کہ عذاب الٰہی سے تمہیں نجات مل جائے اور گناہوں کی معافی کے بعد تمہیں تمہاری عمر پوری ہونے تک زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے۔
8: اللہ تعالیٰ نے تقریبا ہر نبی کو کوئی نہ کوئی معجزہ عطا فرمایا تھا لیکن ان کافروں کا کہنا تھا کہ جس جس معجزے کی ہم فرمائش کرتے جائیں۔ وہ دکھاتے جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت نمبر 9 تا 11
یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی…
Read the full tafseer →1 یعنی خدا کی ہستی اور وحدانیت تو ایسی چیز نہیں جس میں شک و شبہ کی ذرا بھی گنجائش ہو، انسانی فطرت خدا کے وجود پر گواہ ہے۔ علویات وسفلیات کا عجیب و غریب نظام شہادت دیتا ہے کہ اس مشین کے پرزوں کو وجود کے سانچہ میں ڈھالنے والا، پھر انھیں جوڑ کر نہایت محکم و منظم طریقہ سے چلانے والا بڑا زبردست ہاتھ ہونا چاہیے جو کامل حکمت و اختیار سے عالم کی مشین کو قابو میں کئے ہوئے ہے۔ اسی لیے کٹّر سے کٹّر مشرک کو بھی کسی نہ کسی رنگ میں اس بات کے اعتراضات سے چارہ نہیں رہا کہ بڑا خدا جس نے آسمان و زمین وغیرہ کر ات پیدا کیے وہ ہی ہوسکتا ہے جو تمام چھوٹے چھوٹے دیوتاؤں سے اونچے مقام پر براجمان ہو۔ انبیاء کی تعلیم…
Read the full tafseer →آیت 10 قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
یہ searching question کا سا انداز ہے جس میں بات وہاں سے شروع کی جا رہی ہے جہاں تک خود فریق ثانی کو بھی اتفاق ہے۔ مذکورہ تمام اقوام کے کفار و مشرکین میں ایک عقیدہ ہمیشہ مشترک رہا ہے کہ وہ تمام لوگ نہ صرف اللہ کو مانتے تھے بلکہ اسے زمین و آسمان کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ چناچہ جس قوم کے لوگوں نے بھی اپنے رسول کی دعوت کو شکوک و شبہات کی بنا پر رد کرنا چاہا ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا گیا۔ یعنی سب سے پہلے اللہ کی ذات کا معاملہ ہمارے تمہارے درمیان واضح ہونا چاہیے کہ تمہیں اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے یا اس کے خالق ارض و…
Read the full tafseer →14 اللہ کے بارے میں شک :۔ مشرکین مکہ کے ہوں یا پہلی قوموں کے یا موجودہ دور کے سب کے سب اس بات کے قائل ضرور ہوتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین یعنی اس ساری کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اسی بات کو بنیاد قرار دے کر انبیاء مشرکوں سے یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ جب تمام اشیاء کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اختیار و تصرف بھی اللہ ہی کے پاس ہے پھر تمہارے ان معبودوں کے پاس تصرف و اختیار کہاں سے آگئے ؟ لہذا تم ان معبودوں کو چھوڑ کر توحید کی طرف آؤ اور اگر تم نے یہ راہ اختیار کرلی تو اللہ تمہارے سب گناہ معاف فرما دے گا اور اگر تم اس کی دعوت پر ایمان نہ لاؤ گے تو کچھ مدت تو…
Read the full tafseer →15۔ (کہ تم کیسی عجیب عجیب سمجھ میں نہ آنے والی باتیں کہہ رہے ہو) (آیت) ” مماتدعونناالیہ “۔ یعنی عقیدہ توحید و قانون شریعت۔ (آیت) ” فی شک “۔ کے بعد مریب کا اضافہ تاکید اور زور دینے کے لئے ہے یعنی شک ایسا نہیں جو نکل جائے بلکہ شبہات اور زیادہ بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ ھو صفۃ توکیدیۃ (روح)
16۔ پیغمبر یہ سن کر غایت حیرت واستعجاب سے بول اٹھے۔ ارے تو کیا تمہیں شک وشبہ ایسی کھلی ہوئی حقیقت کے بارے میں ہے۔
17۔ (اس دنیا میں خیر و خوبی کے ساتھ) (آیت) ” من ذنوبکم ‘ ّ ‘۔ یعنی تمہارا پچھلا کفر و انکار اور پھر جتنے گناہ اس سے پیدا ہوئے :۔
18۔ (اور بشر کسی فوق البشر روحانی مرتبہ پر کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ ) مشرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیت نمبر 7 تا 12
ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم توحید اور اطاعت کے ذریعہ میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں بیشک تم کو مزید دوں گا، اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعہ (میر) نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میں تم کو ضرور عذاب دوں گا، لاعذبنکم، (جواب محذوف پر) ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے، یقیناً میرا عذاب نہایت سکٹ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام باشندے ناشکری کریں تو بھی اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے کیا تمہارے پاس استفہام تقریری ہے تم سے پہلے لوگوں کی (یعنی) قوم نوح کی اور عاد کی اور قوم ہود اور ثمود کی…
Read the full tafseer →قالت رسلھم افی اللہ شک ان کے پیغمبروں نے کہا : کیا تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ہم تو تم کو اللہ کی توحید کی طرف بلا رہے ہیں اور اللہ کی توحید قابل شک نہیں ہے ‘ تمام محسوسات اور ذہنی موجودات اللہ کی توحید کو پکار پکار کر ظاہر کر رہی ہیں۔
فاطر السموت والارض جو آسمانوں کو اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ یہ فقرہ اللہ کی صفت یا لفظ اللہ سے بدل ہے۔
یدعوکم وہ تم کو (اپنی طرف ہم کو بھیج کر) بلا رہا ہے۔ تم کو دعوت دے رہا ہے کہ تم اس پر ایمان لاؤ۔
لیغفرلکم من ذنوبکم تاکہ تمہارے گناہ معاف کر دے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم کو مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔
بعض علماء کے نزدیک مِنْ…
Read the full tafseer →(10) ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں شک وشبہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے وہی تمہیں توبہ کی طرف بلاتا ہے تاکہ توبہ اور توحید کے ذریعے تمہارے زمانہ کفر کے گناہ معاف کر دے اور تمہاری عمر کی معین مدت تک تمہیں بغیر عذاب کی زندگی دے، وہ بولے تم پیغمبر نہیں بلکہ ہمارے جیسے ایک عام آدمی ہو، تم تو یہ چاہتے ہو کہ ہمارے آباء اجداد جن بتوں کی عبادت کرتے تھے ہمیں ان سے روک دو تو کوئی کتاب اور صاف معجزہ دکھاؤ۔
Read the full tafseer →قَالَتْ رُسُلُهُمْ ۭ۔۔ : رسولوں نے یہاں کوئی منطقی و فلسفی بحث نہیں چھیڑی، بلکہ ان کی فطرت کو جھنجوڑا کہ ہر شخص سمجھتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز حتیٰ کہ سوئی یا کوئی کھلونا بھی بنانے والے کے بغیر نہیں بنتا۔ رازی نے اس کی ایک مثال دی کہ دو بچوں میں سے ایک بچہ دوسرے کو پیچھے سے سر پر ایک چپت لگا کر چھپ جائے تو وہ کبھی یہ نہیں مانے گا کہ یہ چپت خود بخود لگ گئی ہے، بلکہ اسے یقین ہوگا کہ یہ کسی نے ماری ہے۔ تو کسی بھی کام کے خودبخود ہوجانے کو تو ایک بچے کی فطرت بھی تسلیم نہیں کرتی، تو عاقل و بالغ ہو کر تمہیں اس اللہ کے متعلق شک ہے جس نے اتنے عظیم آسمان و زمین بنائے، جن کے مقابلے میں تمہارا بنانا کچھ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 10
قولہ تعالیٰ : قالت رسلھم افی اللہ شک یہ استفہام بمعنی انکار ہے، کیا اللہ تعالیٰ کی توحید میں کوئی شک نہیں، یہ حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کی توحید نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت ہے یعنی اللہ کی اطاعت میں کوئی شک نہیں۔ اور اس میں ایک تیسرا احتمال بھی ہے، یعنی کیا اللہ کی قدرت میں شک ہے ؟ کیونکہ وہ اس بات پر متفق تھے جبکہ اس کے علاوہ دیگر سورتوں میں ان کا اختلاف ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فاطر السموت والارض بھی ولایت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیدا کرنے والا، بنانے والا اور عدم کے بعد ان کو وجود بخشنے والا ہے، اس ارشاد سے مقصود اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
1:۔ امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ویوخرکم الی اجل مسمی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو مدت لکھی ہوئی ہے جب وہ پوری ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو (پھر) تاخیر نہیں کی جاتی۔
2:۔ امام دیلمی نے مسند الفردوس میں ابودرداء ؓ سے مرفوعا روایت کیا جب تجھ کو کوئی تکلیف دے تو ایک پیالہ پانی کا لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھے اور اپنے بستر کے اردگرد اس کو چھڑک دے۔
3:۔ مستغفری نے دعوات میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تجھ کو پسو تکلیف دے تو ایک پیالہ میں پانی لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھ کا اگر تم…
Read the full tafseer →[قَالَتْ : کہا ] [ رُسُلُهُمْ : ان کے رسولوں نے ] [ اَ : کیا ] [ فِي اللّٰهِ : اللہ (کے بارے) میں ] [ شَكٌّ: شک ہے ] [ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : جو زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والا ہے ] [يَدْعُوْكُمْ : وہ بلاتا ہے تم لوگوں کو ] [ لِيَغْفِرَ : تاکہ وہ بخش دے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ : تمہارے گناہوں میں سے (کچھ) کو ] [ وَيُؤَخِّرَكُمْ : اور تاکہ وہ پیچھے کرے (یعنی مہلت دے) تم لوگوں کو ] [اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ مدت تک ] [قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ان انتم : آپ (علیہ السلام) لوگ نہیں ہیں ] [ اِلَّا : مگر ] [بَشَرٌ: ایک بشر ] [مِّثْلُنَا : ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سابقہ امتوں کا عناد ‘ رسولوں کو تبلیغ سے روکنا اور جاہلانہ سوال جواب کرنا :
قریش مکہ کفر و شرک سے باز نہیں آتے تھے جب اس کے سامنے حق بات پیش کی جاتی تھی تو الٹے الٹے جواب دیتے تھے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ تم سے پہلے جو قومیں گزری ہیں مثلاً نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد جو بہت سی اقوام آئیں جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کیا ان کے احوال تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ کچھ اجمالاً اور کچھ تفصیلاً ان لوگوں کے حالات تمہیں معلوم ہیں قرآن مجید میں بھی ان کے احوال بتائے ہیں اور تم اپنے اسفار میں ہلاک شدہ قوموں کے نشانات دیکھ چکے ہو کچھ نہ کچھ یہود اور نصاریٰ سے بھی سنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا
تذکیر با یام اللہ
قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →11:۔ یہ پیغمبروں کا جواب ہے اور استفہام انکاری ہے، ” فِیْ اللہِ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق ہے اس کی توحید میں تو شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں کیونکہ مسئلہ توحید اس قدر واضح ہے کہ کائنات کا ذر ذرہ اس پر شاہد ہے ” استفہام معناہ الانکار ای لاشک فی اللہ ای فی توحیدہ قالہ قتادۃ “ (قرطبی ج 9 ص 346) ۔
12:۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی شان رحمت دیکھو کہ وہ ہمارے ذریعے تم کو سچے دین کی دعوت دیتا ہے تاکہ تم اسے قبول کرلو اور تمہارے گناہ معاف ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ ” ثم انہ بعد ان اشیر الی ادلیل الدال علی تحقق ما ھم فی شک منہ نبہ علی عظم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(ربط آیات)
رسالت کا بیان (آیت) ” ولقد ارسلنا سے شروع ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ اپنی قوم کو تاریخی واقعات اور اللہ کے انعامات یاد دلائیں پھر اسی ضمن میں فرمایا کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ کے احسانات کا شکریہ ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں مزید عطا کرے گا اور اگر ناقدری اور ناشکری کرو گے تو اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہے ، آپ نے قوم کو یہ بات بھی سمجھائی کہ اگر سارے روئے زمین والے مل کر بھی خدا تعالیٰ کا انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ کی سلطنت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی اور حمید ہے ، پھر آپ نے قوم کو یہ بھی یاد دلایا کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمہارے پاس پہلی قوم کی…
Read the full tafseer →قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۭ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ 10
فطر
أصل الفَطْرِ : الشّقُّ طولا، وفِطْرَةُ اللہ : هي ما رکز فيه من قوّته علی معرفة الإيمان، وهو المشار إليه بقوله : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [ الزخرف/ 87] ، وقال : الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1]
(ط ر ) الفطر
( ن ض ) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…
Read the full tafseer →قَالَتْ رُسُلُہُمْ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یَدْعُوْکُمْ لِیَغْفِرَلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرَ کُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ط قَالُوْ ٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ بَشَرٌمِّثْلُنَاط تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُاٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 10)
(ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے۔ وہ بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک وقت معین تک مہلت دے دے۔ وہ کہنے لگے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو، تم چاہتے ہو کہ تم ہمیں روک دو ۔ ان کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے بار، بار سمجھانے کے باوجود لوگوں کا بلا دلیل اور بلا جواز توحید و رسالت کے بارے میں شک کرنا اور اس کا جواب۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) کا طریقہ، توحید کا عقیدہ اور اس کے دلائل اتنے ٹھوس، واضح اور شفاف تھے اور ہیں کہ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ انہیں سمجھنا چاہے تو اسے کوئی دقّت پیش نہیں آتی۔ اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کے شواہد اس قدر کھلے اور عام ہیں کہ ایک ان پڑھ سے ان پڑھ انسان بھی اس کا ادر اک کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) ایک مرتبہ نہیں، زندگی بھر اللہ کی توحید کے دلائل دیتے رہے۔ مگر نہ ماننے والے یہ کہہ کر انکار کرتے تھے کہ…
Read the full tafseer →10: قَالَتْ رُسُلُھُمْ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ (ان کے پیغمبروں نے کہا کیا تم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے) ہمزہ انکاری کو ظرف پر داخل کیا۔ کیونکہ کلام شک میں نہیں بلکہ مشکوک فیہ میں ہے اللہ تعالیٰ کے متعلق اشتباہ ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ جبکہ اس کے وجود و ظہور کے دلائل واضح ہیں۔ یہ ان کے قول انا لفی شک کا جواب ہے۔ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَدْ عُوْکُمْ (وہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں دعوت دیتا ہے) ایمان کی طرف لِیَغْفِرَ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ (تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے) جبکہ تم ایمان لائو۔
نکتہ : کفار کے خطابات میں من ذنوبکم ؔ لایا گیا جیسا اس ارشاد میں : واتقوہ…
Read the full tafseer →10۔” قالت رسلھم افی اللہ شک “ یہ استفہام بمعنی نفی کے ہے جس کا ہم اعتقاد کرتے ہیں اس کے بارے میں شک میں ہیں ۔ ” فاطر السموات الارض “ ان دونوں کو پید ا کرنے والا ہے۔” یدعو کم لیغفرلکم من دنوبکم “ اس سے مراد تمہارے گناہ۔ ” من صلۃ “ ہے ” ویوخرکم الی اجل مسمی “ جس مدت میں اللہ نے ان کو زمین میں چھوڑے رکھا۔ اس مدت میں وہ عذاب دینے سے جلدی نہیں کرتا ۔” قالوا “ رسول ان سے کہنے لگے ” ان انتم الا بشر مثلنا “ صورت میں اور جسم میں ہماری طرح ہو فرشتے تو ہو نہیں۔” تریدون “ اس قول و دعوت سے تمہارا مقصد یہ تھا ۔” ان تصدونا ۔۔۔۔ تا ۔۔ بسلطان مبین “ ان کے دعوے میں یہ واضح دلیل وحجت ہے۔
Read the full tafseer →10۔ جب کفار نے رسولوں کو جھٹلا دیا اور یہ کہا کہ ہم کو تو شک ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو یا نہیں اس پر رسولوں نے یہ جواب دیا کہ تم خدا کی ذات میں کس بات کا شک کرتے ہو کیا اس کے موجود ہونے میں شک ہے یا اس کے ایک ہونے میں شک ہے بہر حال تمہارا شک محض غلط ہے کیا آنکھوں سے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ایسے وقت میں کہ کوئی مثال اس کی نہ تھی بغیر نمونہ اور بےدیکھے بھالے کسی شئی کا پیدا کرنا کیا اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ خدا موجود ہے اور ایسا ہے کہ مثل نہیں رکھتا اپنا نظیر آپ ہی ہے۔ کسی کو اس کی ذات یا صفات میں شراکت نہیں ہے۔ اور پھر تم لوگوں پر یہ اور احسان اس کا ہے کہ…
Read the full tafseer →اس بارے میں انہوں نے یقیناً جھوٹ کہا تھا اور ظلم کیا تھا۔ اسی لئے (قالت رسلھم) ” ان کے رسولوں نے (ان سے) کہا : (افی اللہ شک) ” کیا اللہ کے بارے میں بھی شک ہے ؟ “ (فاطر السموت والارض) ” جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ “ یعنی جس کے وجود پر تمام اشیاء کے وجود کا دار و مدار ہے۔ تو اس کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں جو معلوم ہو، حتیٰ کہ امور محسوسہ بھی اس کی تائید نہیں کریت۔ اس لئے انبیاء ومرسلین نے ان کو اس طرح خطاب فرمایا ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ (یدعوکم) ” وہ تمہیں بلاتا ہے “ یعنی وہ تمہیں تمہارے فائدے کے امور اور تمہارے مصالح کی طرف بلاتا ہے (لیغفرلکم من ذنوبکم ویوخرکم…
Read the full tafseer →21۔ حق کو قبول کرنے کا فائدہ خود اس کے قبول کرنے والوں کے لئے :
یعنی یہ دعوت سراسر تمہارے ہی بھلے اور فائدے کے لیے ہے۔ تو آخراس میں حیرت واستعجاب کی کون سی بات ہے ؟ جبکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کی گواہی دے رہا ہے۔ اور یہ بتارہا ہے کہ اس کائنات اور اس کی ہر شئی کا مخدوم ومطاع یہ حضرت انسان عبث وبے کار نہیں ہوسکتا۔ جو اس انسان کو اپنے انجام اور مقصد زندگی سے آگاہ و باخبر کرنا، تاکہ یہ فرصت عمر کے ضیاع سے قبل اس سے استفادہ کرکے اپنے انجام اور حقیقی کامیابی کے لیے تیاری کرسکے۔ سو یہ تو وہ کرم واحسان ہے اس رب رحمن کا جس کا کوئی مول نہیں ہوسکتا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ،
(شکر کی حقیقت)
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ کہ وہ موجود بھی ہے یا نہیں اور اگر موجود ہے تو آیا تنہا ہے یا کئی ایک ہیں ؟ یا کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی شک و شبہ ہے۔ بہر صورت یہاں استفہام انکار ہی ہے۔ (قرطبی) ۔
5 ۔ یعنی دنیا میں موت کے وقت تک تمہیں عذاب سے محفوط رکھے۔ (قرطبی) ۔
6 ۔ یعنی ظاہری ہیت و صورت کھانے پینے اور دیگر لوازمات بشریہ کے اعتبار سے تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے پاس اس کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ (وحیدی) ۔
Read the full tafseer →(14:10) افی اللہ شک۔ ایء انتم فی شک مریب من اللہ تعالی۔ تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارہ میں شک کرتے ہو۔ (منکرین نے کہا تھا کہ ( انا کفرنا بما ارسلتم بہ وانا لفی شک مما تدعوننا الیہ مریب۔ جو حکم تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس سے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اس کی صداقت کے متعلق ہم سخت تذبذب وشک میں ہیں۔
اس کے جواب میں ان کے نبیوں نے کہا کہ :۔
کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارہ میں شک کرتے ہو ! کیونکہ یہ پیغام ہمارا نہیں اس ذات تعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس میں شک کرنا اس ذات کے متعلق شک کرنے کے مترادف ہے۔ یہ پیغام برحق ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تمہیں بلارہا ہے کہ اس کے مطابق تم…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12
فاطر پیدا کرنے والا۔ لیغفر تاکہ وہ مغفرت کر دے ذنوب واحد (ذنب) گناہ یوخر وہ تاخیر کرتا ہے۔ مہلت دیتا ہے اجل مسمی مقرر مدت بشر انسان مثلنا ہم جیسے قاتونا پس تم لاؤ ہمارے پاس سلطان دلیل۔ معجزہ یمن وہ احسان کرتا ہے نتوکل ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ ھدانا اس نے ہمیں راستہ دکھایا سبل واحد (سبیل) راستے نصبرن ہم ضرور صبر کریں گے اذیتمونا تم نے ہمیں تکلیفیں پہنچائیں ۔
تشریح :- آیت نمبر 10 تا 12
اس سے پہلی آیات میں قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کی زندگی جو کہ ہر عقل اور سمجھ رکھنے والے انسان کے لئے غور و فکر اور سوچنے کا مقام رکھتی ہے جنہوں نے ہزاروں ترقیات کے باوجود ایک بنیادی…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے کہ جب کفار نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تو انہوں نے اس طرح فرمایا کہ تم خدا کی ذات میں کس بات کا شک کرتے ہو۔ کیا اس کے موجود ہونے میں شک ہے یا اس سکے ایک ہونے ٰمیں شک ہے، بہرحال تمہارا شک محض غلط ہے۔ کیا آنکھوں سے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ایسے وقت میں کہ کوئی مثال اس کی نہ تھی۔ بغیر نمونہ اور بغیر دیکھے بھالے کسی شے کا پیدا کرنا کیا اس بات کی نشانی نہٰں ہے کہ خدا موجود ہے۔ اور ایسا ہے کہ مثل نہیں رکھتا اپنا نظیر آپ ہی ہے۔ کسی کو اس کی ذات یا صفات میں شراکت نہیں ہے، اور پھر تم لوگوں پر یہ احسان اس کا ہے کہ رسولوں کو بھیج کر تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
[4] یہاں سے اب مشرکین مکہ سے خطاب شروع ہوتا ہے۔
[5] یعنی غصے میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے یا تعجب سے دانتوں میں انگلیاں رکھ لیں۔
[6] یعنی جس پیغام کے ساتھ تم اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کے مدعی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ایمان افروز استفہام :
(ف 1)
” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔
ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔
قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل…
Read the full tafseer →10 ۔ ان کے پیغمبروں نے اس انکار اور گستاخی کے جواب میں کہا کیا تم لوگوں کو اس اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو اس لئے دعوت دیتا ہے تا کہ تمہارے گزشتہ گناہ معاف کر دے اور ایک مقررہ وقت تک تم کو اطمینان اور خیر خوبی سے زندگی بسر کرنے کا موقعہ دے قوم کے لوگ کہنے لگے تم کو خدا کافر ستادہ کس طرح سمجھ لیا جائے تم کچھ نہیں مگر ہم جیسے ایک بشر اور آدمی ہو تم یہ چاہتے ہو اور تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دو جن کو ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے چونکہ تم نبوت کے مدعی ہو۔
لہٰذا ان دلائل وبراہین کو چھوڑ کر جو تم لائے ہو تو کوئی صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 5۔ یعنی اس کا ان چیزوں کا پیدا کرنا خود دلیل اس کی ہستی اور وحدانیت کی ہے پھر اس دلیل کے ہوتے ہوئے شک کرنا بڑے تعجب کی بات ہے۔
6۔ مطلب یہ کہ توحید علاوہ اس کے کہ فی نفسہ حق ہے تمہارے لیے دونوں جہان میں نافع بھی ہے۔
Read the full tafseer →رسولوں نے اپنی امتوں کو کہا کہ تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے ؟
10 ؎ قوموں کے استعجاب پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تعجب ! رسولوں نے اپنی اپنی قوموں سے فرمایا کہ اگر تم کسی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ کو نہ سمجھ سکتے تو تم معذور تھے لیکن اتنی بڑی کھلی اور روشن حقیقت کا انکار سخت نادانی ہے کیا اللہ تعالیٰ کی توحید میں تمہیں شک ہے جو سب کا کا خالق ہے اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اور تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کر کے تم کو ایک وقت اچھے اعمال کرنے کی مہلت بھی دے تاکہ تم اچھے اعمال کر کے اپنی آخرت کو سنوار سکو لیکن انہوں نے اپنے انبیاء و رسول کو جو جواب دیا وہ وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →17. The Messengers posed this question to those who rejected the message in order to bring home to them the absurdity of their stand with regard to God. For though, the mushriks of every age believed in the existence of God and acknowledged that He was the Creator of the heavens and the earth, they did not accept the message, its logical result, that He alone was entitled to their worship. That is why the Messengers asked them: Do you have any doubt about the existence of Allah?
18. In the case of individuals, the appointed term may be either the time of one’s death or the doomsday. As…
Read the full tafseer →