Ibrahim 14:11

Ibrahim · from ayah 11

14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ؕ— وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ— وَعَلَی اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۟قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ؕ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِيَكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Their messengers said to them, "We are only men like you, but Allah confers favor upon whom He wills of His servants. It has never been for us to bring you evidence except by permission of Allah. And upon Allah let the believers rely.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:11

ان کے رسولوں نے ان سے کہا "واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے۔ اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزه تمہیں ﻻ دکھائیں اور ایمان والوں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے ان کے پیغمبروں نے کہا : ہم واقعی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے خصوصی احسان فرما دیتا ہے۔ اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تمہیں کوئی معجزہ لا دکھائیں، اور مومنوں کو صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کے رسولوں نے ان سے کہا: اگرچہ ہم (نفسِ بشریت میں) تمہاری طرح انسان ہی ہیں لیکن (اس فرق پر بھی غور کرو کہ) اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے (پھر برابری کیسی؟)، اور (رہ گئی روشن دلیل کی بات) یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تمہارے پاس کوئی دلیل لے آئیں، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ کرنا چاہئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر اور لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور ہمارے لیے کبھی ممکن نہیں کہ تمہارے پاس کوئی دلیل اللہ کے اذن کے سوا لے آئیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رسولوں نے انھیں کہا : ٹھیک ہے، ہم تمہارے ہی جیسے انسان ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرما دیتا ہے اور یہ ہماری طاقت نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ لاسکیں اور ایمان لانے والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے رسولوں نے جواب دیا کہ ہم ہیں تو تمہارے ہی جیسے آدمی لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی معجزہ لا دیں مگر اللہ کے حکم سے اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے رسولوں نے ان کے جواب میں فرمایا کہ بلاشبہ ہم ہیں تو تم ہی جیسے بشر (اور انسان) لیکن (بشریت اور نبوت میں کوئی تضاد نہیں اس لئے) اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرما دیتا ہے، اور ہمارے بس میں نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی سند لے آئیں مگر اللہ ہی کے اذن سے، اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئیے ایمان والوں کو (ہر حال میں) ،

— مولانا اسحاق مدنی

ان سے ان کے پیمبروں نے کہا (بیشک) ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے۔ اور یہ ہمارے بس میں نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی معجزہ بجز حکم الہی کے لے آئیں۔ اور ایمان والوں کو تو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تمہاری ہی طرح کے انسان لیکن اللہ احسان فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ ہم لے آئیں تمہارے پاس کوئی معجزہ اللہ کے حکم کے بغیر۔ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پیغمبر نے ان سے کہا کہ ہاں ہم ! تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت دیتا ہے) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تم کو تمہاری فرمائش کے مطابق معجزہ دکھائیں اور اللہ پر ہی مومنوں کو بھروسا رکھنا چاہیے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Their Messengers told them: "Indeed we are only human beings like yourselves, but Allah bestows His favour on those of His servants whom He wills. It does not lie in our power to produce any authority except by the leave of Allah. It is in Allah that the believers should put their trust.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their prophets said to them, :We are no more than a human being like you, but Allah bestows His favour upon whom He wills from among His servants. It is not for us to bring you an authority without Allah‘s permission, and in Allah the believers must place their trust.

— Muhammad Taqi Usmani

Their prophets said to them, :We are no more than a human being like you, but Allah bestows His favour upon whom He wills from among His servants. It is not for us to bring you an authority without Allah‘s permission, and in Allah the believers must place their trust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their Messengers said to them: "We are no more than human beings like you, but Allah bestows His grace to whom He wills of His servants. It is not ours to bring you an authority (proof) except by the permission of Allah. And in Allah (alone) let the believers put their trust."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their messengers said unto them: We are but mortals like you, but Allah giveth grace unto whom He will of His slaves. It is not ours to bring you a warrant unless by the permission of Allah. In Allah let believers put their trust!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Their messengers said to them, "We are only men like you, but Allah confers favor upon whom He wills of His servants. It has never been for us to bring you evidence except by permission of Allah. And upon Allah let the believers rely.

— Saheeh International

The Messengers replied, "We are certainly mere mortals like you, but God bestows His favors on whichever of His servants He wants. We can not bring you authority without the permission of God. The faithful should trust in God alone.

— Muhammad Sarwar

Their apostles said to them: We are nothing but mortals like yourselves, but Allah bestows (His) favors on whom He pleases of His servants, and it is not for us that we should bring you an authority except by Allah's permission; and on Allah should the believers rely.

— Muhammad Habib Shakir

Their apostles said unto them: we are naught but human beings like but Allah bestoweth favour on you, of His bond whomsoever He willeth and it is not for us to bring you a men command of warrantv except by the Allah. On Allah then let the believers rely.

— Abdul Majid Daryabadi

Their messengers said to them: "True, we are human like yourselves, but Allah doth grant His grace to such of his servants as He pleases. It is not for us to bring you an authority except as Allah permits. And on Allah let all men of faith put their trust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–12

کفار اور انبیاء میں مکالمات رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہوگئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–12

سورة اِبْرٰهِیْم 21 یعنی بلا شبہہ ہم ہیں تو انسان ہی مگر اللہ نے تمہارے درمیان ہم کو ہی علم حق اور بصیرت کاملہ عطا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس میں ہمارے بس کی کوئی بات نہیں۔ یہ تو اللہ کے اختیارات کا معاملہ ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو جو کچھ چاہے دے۔ ہم نہ یہ کرسکتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس آیا ہے وہ تمہارے پاس بھجوادیں اور نہ یہی کرسکتے ہیں کہ جو حقیقتیں ہم پر منکشف ہوئی ہیں ان سے آنکھیں بند کرلیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–15

خلاصہ تفسیر (اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–12

تفسیر آیات 11 تا 12:۔ قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا ۭ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰي مَآ اٰذَيْتُمُوْنَا ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۔ رسولوں کا جواب : یہ رسولوں کا جواب نقل ہوا ہے کہ اگر تم کو ہماری بشریت پر اعتراض ہے تو ہم کو یہ اعتراف ہے کہ بلاشبہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں۔ ہم کو مافق بشر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 رسولوں نے پہلے اشکال کا جواب دیا کہ یقینا ہم تمہارے جیسے بشر ہیں۔ لیکن تمہارا یہ سمجھنا غلط ہے کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسانوں میں سے ہی بعض انسانوں کو وحی و رسالت کے لئے چن لیتا ہے اور تم سب میں سے یہ احسان اللہ نے ہم پر فرمایا ہے۔ 11۔ 2 ان کے حسب منشاء معجزے کے سلسلے میں رسولوں نے جواب دیا کہ معجزے کا صدور ہمارے اختیار میں نہیں، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ 11۔ 3 یہاں مومنیں سے مراد اولا خود انبیاء ہیں یعنی ہمیں سارا بھروسہ اللہ پر ہی رکھنا چاہیے جیسا کہ آگے فرمایا آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–14

9: یعنی اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور ایمان لانے والوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہو تو مومن کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ اس کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت نمبر 9 تا 11 یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی تمہارا یہ کہنا درست ہے کہ ہم نہ فرشتے ہیں نہ کوئی اور مخلوق، بلکہ نفس بشریت میں تم ہی جیسے ہیں لیکن نوع بشر کے افراد میں احوال و مدارج کے اعتبار سے کیا زمین و آسمان کا تفاوت نہیں۔ آخر اتنا تو تم بھی مشاہدہ کرتے ہو کہ حق تعالیٰ نے جسمانی، دماغی، اخلاقی اور معاشی حالات کے اعتبار سے بعض انسانوں کو بعض پر کس قدر فضیلت دی ہے۔ پھر اگر یہ کہا جائے کہ خدا نے اپنے بعض بندوں کو ان کی فطری قابلیت اور اعلیٰ ملکات کی بدولت روحانی کمال اور باطنی قرب کے اس بلند مقام پر پہنچا دیا جسے " مقام نبوت " یا " منصب رسالت " کہتے ہیں تو اس میں کیا اشکال واستبعاد ہے ؟ بہرحال دعویٰ نبوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ یہ اللہ کی مرضی کا معاملہ ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ اس نے ہمیں اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے ‘ ہماری طرف وحی بھیجی ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ ہم آپ لوگوں کو خبردار کریں اور اس کے احکام آپ تک پہنچائیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–12

16 مشرکوں کے ان اعتراضات و مطالبات کا جواب بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) یہی دیتے رہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ ہم بشر نہیں۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر مزید احسان کیا ہے کہ ہمیں علم حق اور بصیرت کاملہ عطا فرمائی ہے۔ اور یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے یہ احسان کرے اور اسی علم حق کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں ہمارے اپنے اختیار میں کچھ نہیں۔ نہ ہی ہم اپنی مرضی سے تمہیں کوئی معجزہ دکھانے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسا دعویٰ کیا ہے بلکہ ہم اپنے سب کاموں میں اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ اور بندوں پر اس کا عظیم ترین ممکن احسان یہی منصب رسالت سے سرفرازی ہے) منکروں کے استدلال کا ایک مقدمہ (صغری) توتمامتر صحیح تھا، یعنی پیغمبر بھی محض بشر ہی ہوتے ہیں لیکن جب اس پر مقدمہ اول (کبری) ان پر لگا کر کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہوسکتا، نتیجہ یہ نکالنا چاہتے تھے کہ ” اس لئے “ تم رسول ہو ہی نہیں سکتے “ تو ان کا استدلال تمامتر فاسد ہوجاتا تھا۔ اس لئے کہ ان کا یہ مفروضہ کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا، خود تمامتر باطل تھا، حضرات انبیاء کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ ” ہم کب اپنی بشریت کے منکر ہیں، یقیناً ہم بشر ہی ہیں لیکن بشریت ہی کے سب سے اعلی، اشرف اکمل و افضل مرتبہ کا نام نبوت و رسالت ہے اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–12

آیت نمبر 7 تا 12 ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم توحید اور اطاعت کے ذریعہ میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں بیشک تم کو مزید دوں گا، اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعہ (میر) نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میں تم کو ضرور عذاب دوں گا، لاعذبنکم، (جواب محذوف پر) ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے، یقیناً میرا عذاب نہایت سکٹ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام باشندے ناشکری کریں تو بھی اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے کیا تمہارے پاس استفہام تقریری ہے تم سے پہلے لوگوں کی (یعنی) قوم نوح کی اور عاد کی اور قوم ہود اور ثمود کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم ولکن اللہ یمن علی من یشاء من عبادہ کافروں سے ان کے پیغمبروں نے کہا : بیشک ہم تمہاری ہی طرح آدمی ہیں ‘ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فضل کرتا ہے۔ یعنی نبوت اور دوسری نعمتیں عنایت کرتا ہے۔ انبیاء نے عام نوع بشری سے اپنا اشتراک تسلیم کرتے ہوئے اختصاص نبوت کو اللہ کا فضل و انعام بیان کیا۔ وما کان لنا ان ناتیکم بسلطن الا باذن اللہ اور ہمارے لئے ممکن نہیں کہ اللہ کی مشیّت کے بغیر ہم تمہارے سامنے کوئی دلیل لاسکیں۔ یعنی اپنے اختیار اور قابو سے معجزات پیش کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں کہ ہم تمہاری درخواست پوری کریں۔ اس کا مدار تو اللہ کی مشیّت پر ہے ‘ وہی ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) ان کے رسولوں نے کہا کہ واقعی ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہی طرح پیدا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے نبوت اور اسلام کی دولت عطا فرمادے۔ اور یہ بات ہمارے بس کی نہیں کہ ہم تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق کوئی کتاب اور معجزہ دکھا سکیں، بغیر اللہ کے حکم کے، ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے تو ان لوگوں نے رسولوں سے کہا، سو تم بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو تاکہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا اس کو دیکھ لو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ۔۔ : معلوم ہوا دلیل دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے آتا ہے۔ (موضح) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی، یعنی اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ اس کے لائق افراد کا انتخاب وہ خود کرتا ہے، فرمایا : (وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِھٖ مَنْ يَّشَاۗءُ) [ آل عمران : 179 ] ”اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔“ نبوت کسی کو محنت اور ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے، جن میں قادیانی دجال بھی شامل ہے۔ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ۔۔ : یعنی معجزات ہمارے اختیار میں نہیں، وہ اللہ کے حکم کے بغیر ظاہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–12

آیت نمبر 11 تا 12 قولہ تعالیٰ : قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم یعنی جس طرح تم کہتے ہو ہم صورت اور ہیئت میں تمہاری طرح ہیں۔ ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ یعنی جس پر چاہتا ہے نبوت کے ذریعے مہربانی فرماتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : توفیق، حکمت، معرفت اور ہدایت کے ذریعے احسان فرماتا ہے۔ حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : اس سے مراد تلاوت قرآن اور اس کے فہم کے ذریعے احسان فرماتا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ عمدہ قول ہے۔ طبری نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت بیان کی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا میں نے حضرت ابو ذر ؓ کو کہا : اے چچا ! مجھے وصیت کرو۔ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح پوچھا جس طرح آپ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–12

1:۔ امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ویوخرکم الی اجل مسمی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو مدت لکھی ہوئی ہے جب وہ پوری ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو (پھر) تاخیر نہیں کی جاتی۔ 2:۔ امام دیلمی نے مسند الفردوس میں ابودرداء ؓ سے مرفوعا روایت کیا جب تجھ کو کوئی تکلیف دے تو ایک پیالہ پانی کا لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھے اور اپنے بستر کے اردگرد اس کو چھڑک دے۔ 3:۔ مستغفری نے دعوات میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تجھ کو پسو تکلیف دے تو ایک پیالہ میں پانی لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھ کا اگر تم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَتْ : کہا ] [لَهُمْ : ان کو ] [رُسُلُهُمْ : ان کے رسولوں نے ] [ ان نَحْنُ : ہم نہیں ] [ اِلَّا : مگر ] [بَشَرٌ: ایک بشر ] [مِّثْلُكُمْ : تمہارے جیسے ] [وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَمُنُّ : احسان کرتا ہے ] [ عَلٰي مَنْ : اس پر جس پر ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ مِنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں میں سے ] [ وَمَا كَان : اور (ممکن) نہیں ہے ] [لَنَآ : ہمارے لئے ] [ ان : کہ ] [نَاتِيَكُمْ : ہم لائیں تمہارے پاس ] [ بِسُلْطٰنٍ : کوئی دلیل ] [ اِلَّا : مگر ] [بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت سے ] [وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہے کہ بھروسہ کریں ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–12

سابقہ امتوں کا عناد ‘ رسولوں کو تبلیغ سے روکنا اور جاہلانہ سوال جواب کرنا : قریش مکہ کفر و شرک سے باز نہیں آتے تھے جب اس کے سامنے حق بات پیش کی جاتی تھی تو الٹے الٹے جواب دیتے تھے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ تم سے پہلے جو قومیں گزری ہیں مثلاً نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد جو بہت سی اقوام آئیں جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کیا ان کے احوال تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ کچھ اجمالاً اور کچھ تفصیلاً ان لوگوں کے حالات تمہیں معلوم ہیں قرآن مجید میں بھی ان کے احوال بتائے ہیں اور تم اپنے اسفار میں ہلاک شدہ قوموں کے نشانات دیکھ چکے ہو کچھ نہ کچھ یہود اور نصاریٰ سے بھی سنا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–17

بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا تذکیر با یام اللہ قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔ (ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں کے مذکورہ بالا طعن کے جواب میں فرمایا اس میں شک نہیں کہ ہم بشر ہیں اور بشریت اور لوازم بشریت میں تمہاری مانند ہیں مگر بشریت رسالت و نبوت کے منافی نہیں ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس بشر کو چاہے رسالت و نبوت کے شرف سے سرفراز فرما دے۔ رسالت و نبوت محض ایک وہبی عطیہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرما دیا ہے۔ باقی رہا معجزہ دکھانے کا مطالبہ تو یہ ہم پورا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ معجزہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر ہم کوئی معجزہ نہیں لاسکتے۔ ” والمعنی انا الاتیان بالایۃ التی قد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–12

(ربط آیات) رسالت کا بیان (آیت) ” ولقد ارسلنا سے شروع ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ اپنی قوم کو تاریخی واقعات اور اللہ کے انعامات یاد دلائیں پھر اسی ضمن میں فرمایا کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ کے احسانات کا شکریہ ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں مزید عطا کرے گا اور اگر ناقدری اور ناشکری کرو گے تو اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہے ، آپ نے قوم کو یہ بات بھی سمجھائی کہ اگر سارے روئے زمین والے مل کر بھی خدا تعالیٰ کا انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ کی سلطنت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی اور حمید ہے ، پھر آپ نے قوم کو یہ بھی یاد دلایا کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمہارے پاس پہلی قوم کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 11 ؀ منن والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164] والثاني : أن يكون ذلک بالقول، وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–12

اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ط وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاتِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْن۔ وَمَاَ لَنَآ اَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنَا سُبُلَنَاط وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ۔ (سورۃ ابراھیم : 11۔ 12) (ان کے رسولوں نے کہا کہ ہم ہیں تو تمہارے ہی جیسے آدمی، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ ہماری یہ طاقت نہیں کہ ہم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی بشریت کا جواب، انبیاء ( علیہ السلام) کی زبان اطہر سے۔ مشرکین کی عجب حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کامل صفات کے ساتھ ماننے کی بجائے دوسروں کو اس کی صفات میں بلادلیل شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔ تمام پیغمبر اس شرک سے لوگوں کو منع کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ لیکن جب بھی اپنے اپنے دور میں پیغمبروں نے لوگوں کو توحید خالص کی دعوت دی تو لوگوں نے اس پر ایمان لانے کی بجائے پیغمبروں کی دعوت کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔ قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق ہر پیغمبر نے اس بات کا یہی جواب دیا کہ ” اس میں کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انبیائے ( علیہ السلام) کا ارشاد : 1 1: قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ (ان کو ان کے رسولوں نے کہا ہم تو تم جیسے انسان ہیں) ان کی اس بات کو تسلیم کیا کہ ہم تم جیسے انسان ہیں اور کوئی جنس و قسم نہیں۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ (لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے ان پر (نبوت والا) احسان کرتا ہے) ایمان اور نبوت والا احسان جیسا کہ اس نے ہم پر کیا۔ وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (اور ہمارے لئے ممکن نہیں کہ تمہارے پاس کوئی نشان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر لے آئیں) یہ کفار کے قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 11۔” قالت لھم رسلھم۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ علی من یشاء من عبادہ “ نبوت اور حکمت کے ساتھ ۔ ” وما کان اللہ ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ فلیتوکل المومنون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–12

11۔ 12۔ یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے جو انہوں نے رسولوں سے اعتراض کے طور پر یہ کہا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہو کوئی فضیلت ہم پر نہیں رکھتے ہو اس کا رسولوں نے یہ جواب دیا کہ بیشک ہم تمہاری طرح انسان ہیں اور انسانیت کا جو تقاضا ہے تمہاری طرح وہ ہم میں بھی ہے مگر اللہ پاک جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور اسے پیغمبر بناتا ہے اور جس رسول کو جیسا چاہتا معجزہ عطا کرتا ہے جیسے وہ کر دکھاتا ہے اگر تم چاہو کہ تمہاری خواہش کے موافق کوئی معجزہ دکھایا جائے تو یہ کسی رسول سے بھی اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک خدا کا حکم نہ ہو اور ایمان لا نے والے کا بھروسا تو خدا پر ہونا چاہیے ایسے لوگوں کو یہ بات واجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–12

11-12: (قالت لھم رسلھم) ان کے رسولوں نے ان کے مطالبے اور اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (ان نحن الا بشر مثلکم) ” ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ “ یعنی یہ صحیح اور حقیقت ہے کہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں (ولکن) مگر تمہارا یہ اعتراض اس حق کو باطل نہیں کرسکتا جسے ہم لے کر آئے ہیں، کیونکہ (اللہ یمن علی یشآء من عبادہ) ” اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، احسان فرماتا ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی وحی اور رسالت سے نواز دیا، تو یہ اس کا فضل و احسان ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو روک سکے اور اس کو اس کی نوازشوں سے منع کرسکے۔ تم اس چیز میں غور کرو جو تمہارے پاس لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23۔ حضرات انبیاء ورسل کا اعلان کہ ہم تم ہی جیسے بشر ہیں : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے رسولوں نے ان لوگوں کے اس اعتراض کے جواب میں کہا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ان سے کہا کہ ہم یقینا اور قطعاتم ہی لوگوں جیسے بشر اور انسان ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا انعام واحسان فرماتا ہے۔ اور اپنے احسان اور فضل وکرم سے نوازکروہ جسے چاہتا ہے بڑی شان عطا فرما دیتا ہے۔ سو اسی بناء پر اس نے محض اپنے فضل وکرم سے ہمیں نبوت و رسالت کے شرف سے نواز کر باقی تمام مخلوق پر فوقیت و فضیلت عطاء فرمادی ہے۔ اور ہم جو کچھ تم سے کہہ رہے ہیں وہ اسی وحدہ لاشریک کے حکم وارشاد کے مطابق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–23

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–12

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ، (شکر کی حقیقت) شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ یعنی سند دیکھے سے ایمان نہیں آتا اللہ کے دئیے سے آتا ہے۔ (موضح) ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی (اللہ کی دین) ہے کسی آدمی کی ریاضت اور محنت سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ بعض فلاسفہ اور ان سے متاثر لوگوں کا خیال ہے، یا ” احسان کرنے “ کے یہ معنی ہیں کہ وہ تلاوتِ قرآں اور اس کے فہم کے جسے چاہے تو فیق دیتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ساعت اپنے بندوں پر احسان کرتا رہتا ہے۔ اور سب سے بڑا احسان اس کا یہ ہے کہ بندے کے دل میں اپنا ذکر الہام کردے۔ (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–12

کفار کے اعتراض کا جواب کفار نے جو رسولوں پر اعتراض کیا تھا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہو کوئی فضیلت ہم پر نہیں رکھتے ہو۔ اس کا جواب رسولوں نے یہ دیا کہ بیشک ہم تمہاری طرح انسان ہیں لیکن اتنی بات ہے کہ انہیں آدمیوں میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے نبوت کی نعمت دیتا ہے، اور رسالت کی دولت اپنے بندوں میں سے وہ جس پر مہربان ہوتا ہے دینی نعمتوں سے مالا مال کردیتا ہے۔ اور ہماری یہ قدرت نہیں کہ بغیر حکم خدا کے کوئی معجزہ دکھا سکیں ہم بےمرضی خدا کے اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کرسکتے۔ اور ایمان والوں کو اللہ پر بھروسہ چاہیے اور ہمیں کیا عذر ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں۔ حالانکہ اس نے ہم کو ہدایت کی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–12

[4] یہاں سے اب مشرکین مکہ سے خطاب شروع ہوتا ہے۔ [5] یعنی غصے میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے یا تعجب سے دانتوں میں انگلیاں رکھ لیں۔ [6] یعنی جس پیغام کے ساتھ تم اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کے مدعی ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–16

ایمان افروز استفہام : (ف 1) ” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔ ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 1 ۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو جواب دیا ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بیشک ہم بھی تم جیسے بشر ہیں لیکن نبوت اور بشریت میں کوئی منافات نہیں بلکہ نبوت اللہ تعالیٰ کا ایک افضل و احسان ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے اور نبوت عطا کردیتا ہے اور یہ بات ہمارے قبضے اور اختیار میں نہیں کہ ہم بغیر اذن الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ تمہارے سامنے پیش کرسکیں اور سب ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ یعنی نبوت بشریت کے منافی نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے ہم کو بنی اور داعی الی اللہ بنادیا۔ رہامعجزہ تو وہ ہمارے بس میں نہیں اس کے حکم اور اس کی اجازت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

ف 5۔ یعنی اس کا ان چیزوں کا پیدا کرنا خود دلیل اس کی ہستی اور وحدانیت کی ہے پھر اس دلیل کے ہوتے ہوئے شک کرنا بڑے تعجب کی بات ہے۔ 6۔ مطلب یہ کہ توحید علاوہ اس کے کہ فی نفسہ حق ہے تمہارے لیے دونوں جہان میں نافع بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے لوگوں کا انبیاء (علیہ السلام) کو جواب کہ تم کیا ہو ہمارے جیسے انسان ہی تو ہو 11 ؎ ساری قوموں کے لوگ اپنے اپنے رسولوں کو یہی جواب دیتے آئے ہیں کہ دیکھو تم کون ہو ایسی نصای کرنے والے ؟ تم تو ہماری طرح بشر ہو ہم تمہارے کنے پر اپنے آبائو اجداد کا مسلک چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اپنے آبائو اجداد کا مسلک چھوڑ کر تمہارا نیا دین اختیار کرلیں۔ نہیں نہیں ہم تو ایسا نہیں کرسکتے۔ ہاں ! اگر تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل نہ لے آئو ‘ رہی یہ بات کہ روشن دلیل کیا ہے ؟ تو اس کی تفصیل ذرا لمبی ہے کیونکہ بات ایک نہیں بلکہ مختلف دلیلیں طلب کی گئی تھیں۔ جن میں ایک یہ ہے کہ تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–25

In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُ‌وا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

20. That is, if you still insist that you are a Prophet, bring a tangible proof of your appointment so as to convince us that you have really been sent by God and your message is from Him. 21. That is, "No doubt we are human beings like you but it is Allah's will that He has chosen us from among you and blessed us with the knowledge of the Truth and keen discernment. And this is Allah's will and He has full powers to bestow anything on anyone He wills. We are not in a position to ask Him to send that blessing to you or to anyone else:nor can we deny the realities which have been shown to us."

Read the full tafseer →