Explained with ayahs 10–12
کفار اور انبیاء میں مکالمات
رسولوں کی اور اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک ؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا ؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔ اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہوگئے ؟ موجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک لہ ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی ؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة اِبْرٰهِیْم 21
یعنی بلا شبہہ ہم ہیں تو انسان ہی مگر اللہ نے تمہارے درمیان ہم کو ہی علم حق اور بصیرت کاملہ عطا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس میں ہمارے بس کی کوئی بات نہیں۔ یہ تو اللہ کے اختیارات کا معاملہ ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو جو کچھ چاہے دے۔ ہم نہ یہ کرسکتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس آیا ہے وہ تمہارے پاس بھجوادیں اور نہ یہی کرسکتے ہیں کہ جو حقیقتیں ہم پر منکشف ہوئی ہیں ان سے آنکھیں بند کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
خلاصہ تفسیر
(اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
تفسیر آیات 11 تا 12:۔ قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا ۭ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰي مَآ اٰذَيْتُمُوْنَا ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۔
رسولوں کا جواب : یہ رسولوں کا جواب نقل ہوا ہے کہ اگر تم کو ہماری بشریت پر اعتراض ہے تو ہم کو یہ اعتراف ہے کہ بلاشبہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں۔ ہم کو مافق بشر…
Read the full tafseer →12۔ 1 کہ وہی کفار کی شرارتوں اور سفاہتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم سے معجزات طلب نہ کریں، اللہ پر توکل کریں، اس کی مشیت ہوگی تو معجزہ ظاہر فرما دے گا ورنہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
9: یعنی اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور ایمان لانے والوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہو تو مومن کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ اس کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 12
وما لنا۔۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) ” اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ “ یہ اس شخص کی بات ہے جسے اپنے موقف اور اپنے طریقہ کار پر پختہ یقین ہو اور وہ اپنے منہاج پر مطمئن ہو۔ اس کا دامن اپنے حقیقی ولی اور ناصر کے اعتماد سے بھرا ہوا ہو ، اور وہ یقین رکھتا کہ جو ذات ہدایت دیتی ہے وہ اس کی معین و مددگار ہوگی۔ اگر ایک راہ رو صحیح راہ پر جا رہا ہو تو اسے کیا پرواہ ہے کہ وہ منزل تک پہنچتا ہے یا نہیں۔ اصل فکر تو اس بات کی ہونا چاہئے کہ راہ رو جس راہ پر سفر کر رہا ہے وہ راہ دعوت ہے یا نہیں۔
جو شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ دست قدرت اس…
Read the full tafseer →7 یعنی حق تعالیٰ ہم کو جام توحید و عرفان پلا کر حقیقی کامیابی کے راستے بتاچکا، پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم اس پر توکل نہ کریں۔
8 یعنی تم خواہ کتنی ہی ایذاء پہنچاؤ، خدا کے فضل سے ہمارے توکل میں فرق نہیں پڑ سکتا۔ متوکلین کا یہ کام نہیں کہ سختیاں دیکھ کر توکل اور استقامت کی راہ سے ہٹ جائیں۔
Read the full tafseer →آیت 12 وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا
اللہ نے ہمیں اپنے تقرب کے طریقے اور اپنی طرف آنے کے راستے بتائے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس پر توکل نہ کریں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
16 مشرکوں کے ان اعتراضات و مطالبات کا جواب بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) یہی دیتے رہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ ہم بشر نہیں۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر مزید احسان کیا ہے کہ ہمیں علم حق اور بصیرت کاملہ عطا فرمائی ہے۔ اور یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے یہ احسان کرے اور اسی علم حق کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں ہمارے اپنے اختیار میں کچھ نہیں۔ نہ ہی ہم اپنی مرضی سے تمہیں کوئی معجزہ دکھانے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسا دعویٰ کیا ہے بلکہ ہم اپنے سب کاموں میں اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →23۔ (تو ایسے شفیق محسن پر تو کامل بھروسہ کرنا اور ضروری ہوگیا) (آیت) ” سبلنا “۔ یعنی ہمارے نفع دارین کے راستے۔
24۔ (نہ کہ کسی اور پر، یہ اپنی تدبیروں پر) توکل شریعت اسلامی میں ہرگز ترک تدبیر کے مرادف نہیں، حضرات انبیاء اور ان کے اصحاب ورفقاء تدبیر امور سے کبھی بھی غافل نہ ہوئے، بلکہ اس بات میں نہایت مستعد رہے، البتہ مؤثر ان تدبیروں ہی کو کبھی نہ سمجھے، بلکہ انجام وتاثیر میں ہمیشہ اللہ ہی کے فضل وکرم کے امیدوار رہے، (آیت) ” ولنصبرن “۔ یہ صبر بھی ایک فرد اسی توکل علی اللہ کی ہے۔ (آیت) ” علی مآاذیتمونا “۔ اس ایذاء کے تحت میں دماغی، جسمانی ہر قسم اور ہر درجہ کی اذیتیں آگئیں جو مخالفین معاندین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیت نمبر 7 تا 12
ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا کہ اگر تم توحید اور اطاعت کے ذریعہ میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں بیشک تم کو مزید دوں گا، اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعہ (میر) نعمتوں کی ناشکری کرو گے تو میں تم کو ضرور عذاب دوں گا، لاعذبنکم، (جواب محذوف پر) ان عذابی لشدید دلالت کر رہا ہے، یقیناً میرا عذاب نہایت سکٹ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام باشندے ناشکری کریں تو بھی اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور اپنی صنعت میں قابل ستائش ہے کیا تمہارے پاس استفہام تقریری ہے تم سے پہلے لوگوں کی (یعنی) قوم نوح کی اور عاد کی اور قوم ہود اور ثمود کی…
Read the full tafseer →وما لنا الا نتوکل علی اللہ وقد ھدئنا سبلنا اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں جبکہ اسی نے ہم کو ہماری راہیں دکھا دی ہیں جن کی وجہ سے ہم جانتے اور پہچانتے ہیں کہ تمام امور اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں ‘ کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں ہیں۔
ولنصبرون علی ما اذیتمونا اور ہم (اور ہمارے مؤمن ساتھی) ضرور تمہاری طرف سے ایذاء رسانیوں پر صبر کریں گے۔ یہ محذوف قسم کا جواب ہے۔ پہلے انبیاء نے اللہ پر توکل کرنے اور کافروں کی طرف سے بےنیازی کا اظہار کیا اور اس کلام سے اس کو پختہ کردیا۔
وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون اور اہل توکل کو اللہ ہی پر توکل کرنا لازم ہے۔ یعنی ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اللہ ہی پر توکل…
Read the full tafseer →(12) رسولوں نے کہا ہم کو اللہ پر بھروسہ نہ کرنے کا کون سا امر باعث ہوسکتا ہے حالانکہ اس نے ہمیں نبوت اور اسلام کی دولت سے سرفراز فرمایا اور اطاعت خداوندی پر جو تم نے ہمیں کو اذیت پہنچائی، اس پر بھی صبر کرتے ہیں اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں ہدایت دے دی تو اس کے بعد ہمارے پاس کیا عذر ہے کہ ہم اس کے بھروسے پر استقامت اختیار نہ کریں۔ رہا تمہارا ہمیں ایذا دینا تو ہم ہر حال میں اس پر صبر کریں گے اور اپنے رب پر بھروسا رکھیں گے، کیونکہ بھروسا رکھنے والوں کو اسی پر بھروسا رکھنا لازم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت نمبر 11 تا 12
قولہ تعالیٰ : قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم یعنی جس طرح تم کہتے ہو ہم صورت اور ہیئت میں تمہاری طرح ہیں۔ ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ یعنی جس پر چاہتا ہے نبوت کے ذریعے مہربانی فرماتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : توفیق، حکمت، معرفت اور ہدایت کے ذریعے احسان فرماتا ہے۔ حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : اس سے مراد تلاوت قرآن اور اس کے فہم کے ذریعے احسان فرماتا ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : یہ عمدہ قول ہے۔ طبری نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت بیان کی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا میں نے حضرت ابو ذر ؓ کو کہا : اے چچا ! مجھے وصیت کرو۔ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح پوچھا جس طرح آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
1:۔ امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ویوخرکم الی اجل مسمی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو مدت لکھی ہوئی ہے جب وہ پوری ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو (پھر) تاخیر نہیں کی جاتی۔
2:۔ امام دیلمی نے مسند الفردوس میں ابودرداء ؓ سے مرفوعا روایت کیا جب تجھ کو کوئی تکلیف دے تو ایک پیالہ پانی کا لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھے اور اپنے بستر کے اردگرد اس کو چھڑک دے۔
3:۔ مستغفری نے دعوات میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تجھ کو پسو تکلیف دے تو ایک پیالہ میں پانی لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھ کا اگر تم…
Read the full tafseer →[وَمَا لَنَآ : اور ہمیں کیا ہے ] [ اَلَّا نَتَوَكَّلَ : کہ ہم بھروسہ نہ کریں ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ قَدْ هَدٰىنَا : اس نے ہدایت دی ہے ہم کو ] [ سُبُلَنَا : ہماری راہوں کی ] [وَلَنَصْبِرَنَّ : اور ہم لازماً ثابت قدم رہیں گے ] [ عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [ اٰذَيْتموْنَا : تم لوگ اذیت دیتے ہو ہم کو ] [ وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ] [الْمُتَوَكِّلُوْنَ : بھروسہ کرنے والے ]
نوٹ۔ 1: مذکورہ آیات میں رسولوں اور ان کی قوموں کے لئے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ سب قومیں اور ان کے رسول ایک ہی وقت میں ایک ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سابقہ امتوں کا عناد ‘ رسولوں کو تبلیغ سے روکنا اور جاہلانہ سوال جواب کرنا :
قریش مکہ کفر و شرک سے باز نہیں آتے تھے جب اس کے سامنے حق بات پیش کی جاتی تھی تو الٹے الٹے جواب دیتے تھے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ تم سے پہلے جو قومیں گزری ہیں مثلاً نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد جو بہت سی اقوام آئیں جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کیا ان کے احوال تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ کچھ اجمالاً اور کچھ تفصیلاً ان لوگوں کے حالات تمہیں معلوم ہیں قرآن مجید میں بھی ان کے احوال بتائے ہیں اور تم اپنے اسفار میں ہلاک شدہ قوموں کے نشانات دیکھ چکے ہو کچھ نہ کچھ یہود اور نصاریٰ سے بھی سنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا
تذکیر با یام اللہ
قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →15:۔ اللہ کے پیغمبروں نے منکرین کے جواب میں مزید فرمایا کہ تمہاری عداوت و ضد کے مقابلہ میں ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہم اللہ پر کیوں بھروسہ نہ کریں اور اس کے سوا اوروں کو کیوں پکاریں حالانکہ اسی نے ہم سب کو ہدایت کی توفیق دی اور صراط مستقیم (توحید) کی طرف ہماری اہنمائی فرمائی۔ اور ضد وعناد سے بےجا معجزات طلب کر کے تم ہمیں جو ایذا دے رہے ہو اس پر ہم اللہ کی توفیق سے صبر کریں گے۔ اور تمہارے ان ہتھکنڈوں سے ہمارے پائے ثبات میں تزلزل نہیں آئے گا اور ہم توحید کی تبلیغ و اشاعت کا کام ہرگز ترک نہیں کریں گے ” وَ عَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(ربط آیات)
رسالت کا بیان (آیت) ” ولقد ارسلنا سے شروع ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ اپنی قوم کو تاریخی واقعات اور اللہ کے انعامات یاد دلائیں پھر اسی ضمن میں فرمایا کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ کے احسانات کا شکریہ ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں مزید عطا کرے گا اور اگر ناقدری اور ناشکری کرو گے تو اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہے ، آپ نے قوم کو یہ بات بھی سمجھائی کہ اگر سارے روئے زمین والے مل کر بھی خدا تعالیٰ کا انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ کی سلطنت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی اور حمید ہے ، پھر آپ نے قوم کو یہ بھی یاد دلایا کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمہارے پاس پہلی قوم کی…
Read the full tafseer →وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا ۭ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰي مَآ اٰذَيْتُمُوْنَا ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ 12ۧ
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ط وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاتِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْن۔ وَمَاَ لَنَآ اَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنَا سُبُلَنَاط وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ۔ (سورۃ ابراھیم : 11۔ 12)
(ان کے رسولوں نے کہا کہ ہم ہیں تو تمہارے ہی جیسے آدمی، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ ہماری یہ طاقت نہیں کہ ہم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے کا اعلان اور عقیدہ۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے اور اپنے ماننے والوں کو بھی یہی تعلیم دیتے تھی کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں اپنے رب پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ اس عقیدہ اور تعلیم کا یہ اثر تھا کہ ان پر ایمان لانے والے حضرات بےپناہ مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود ظلم کرنے والوں کو کہتے کہ تم جو چاہو کرگزرو۔ ہمارا ایمان اور اعتماد ہے کہ ہمارا رب ہماری ضرور مدد فرمائے گا۔ ہم کیوں نہ اپنے رب پر توکل کریں جب کہ اس نے کفرو شرک اور بدعت ورسومات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی…
Read the full tafseer →12: وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ (اور ہم اللہ تعالیٰ پر آخر بھروسہ کیوں نہ کریں) اللہ تعالیٰ پر توکل نہ کرنے میں ہمارے پاس کیا عذر ہے۔ اس نے تو ہمارے ساتھ وہ سلوک کر رکھا ہے جو ہم پر توکل کو لازم کرتا ہے۔ وَقَدْ ھَدٰنَا سُبُلَنَا (جبکہ اسی نے ہمیں اپنے راستوں کی راہ سجھا دی ہے) اس نے اپنے راستہ کیطرف راہنمائی کی توفیق عنایت فرمائی وہ راستہ جس پر اس کے دین میں چلنا لازم ہے۔ ابو تراب نے کہا توکل کی حقیقت بدن کو عبودیت میں ڈالنا اور دل کا تعلق ربوبیت سے قائم کرنا اور عطاء کے وقت شکریہ اور بلاء کے وقت صبر کرنا ہے۔ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا ( اور ہم ضرور ان ایذائوں…
Read the full tafseer →تفسیر 12۔” وما لنا ان لا نتو کل علی اللہ “ اور یہ پچانتے ہیں کہ کوئی چیزر اس کی قضاء قدرت کے ان کو نہیں پہنچتی ۔ ” وقد ھدانا سبلنا “ ہمارے لیے واضح کر دے ، ہدایت کے راستے کو اور نجات کا راستہ دکھلا دے۔” والنصبرن “ لام برائے قسم کے لیے ہے۔ اصل میں اس طرح تھا۔ ” واللہ لنصبرن “۔۔۔۔ ” علی ما آذیتمونا وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 12۔ یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے جو انہوں نے رسولوں سے اعتراض کے طور پر یہ کہا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہو کوئی فضیلت ہم پر نہیں رکھتے ہو اس کا رسولوں نے یہ جواب دیا کہ بیشک ہم تمہاری طرح انسان ہیں اور انسانیت کا جو تقاضا ہے تمہاری طرح وہ ہم میں بھی ہے مگر اللہ پاک جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور اسے پیغمبر بناتا ہے اور جس رسول کو جیسا چاہتا معجزہ عطا کرتا ہے جیسے وہ کر دکھاتا ہے اگر تم چاہو کہ تمہاری خواہش کے موافق کوئی معجزہ دکھایا جائے تو یہ کسی رسول سے بھی اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک خدا کا حکم نہ ہو اور ایمان لا نے والے کا بھروسا تو خدا پر ہونا چاہیے ایسے لوگوں کو یہ بات واجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11-12: (قالت لھم رسلھم) ان کے رسولوں نے ان کے مطالبے اور اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (ان نحن الا بشر مثلکم) ” ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ “ یعنی یہ صحیح اور حقیقت ہے کہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں (ولکن) مگر تمہارا یہ اعتراض اس حق کو باطل نہیں کرسکتا جسے ہم لے کر آئے ہیں، کیونکہ (اللہ یمن علی یشآء من عبادہ) ” اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، احسان فرماتا ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی وحی اور رسالت سے نواز دیا، تو یہ اس کا فضل و احسان ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو روک سکے اور اس کو اس کی نوازشوں سے منع کرسکے۔ تم اس چیز میں غور کرو جو تمہارے پاس لے کر آئے…
Read the full tafseer →26۔ حضرات انبیائے کرام کی طرف سے صبروبرداشت کا اعلان :
سومنکرین و مکذبین کے جواب میں حضرات انبیائے کرام نے کہا کہ ہم صبروبرداشت ہی سے کام لیتے رہیں گے تمہاری ایذاء رسانیوں پر۔ پس نہ ہم تمہاری ان بےہودگیوں اور ایذاء رسانیوں کا کوئی جواب دیں گے اور نہ ہی جادہ حق واستقامت کو ترک کریں گے۔ سو یہ حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ کے صدق و اخلاص اور ان کے استقلال واستقامت اور للہیت کے اعلی مدارج و درجات کا ایک واضح نمونہ ہے کہ معاندین و منکرین کی طرف سے ایسے معاندانہ اور اذیت رساں سلوک کے جواب میں بھی نہ کسی انتقام کا کوئی ذکر اور نہ کسی اشتعال اور جذباتیت کا کوئی پہلو ہے۔ بلکہ صبر و برداشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ،
(شکر کی حقیقت)
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یعنی اگر تم ہم سے دشمنی کرنے پر تلے ہوئے ہو تو ہمارا بھروسا اللہ تعالیٰ پر ہے۔ تمہارے مقابلے میں وہی ہماری حفاظت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →(14:12) سبلنا۔ مضاف ۔ مضاف الیہ۔ ہمارے راستے ۔ ہماری راہیں۔ سبیل کی جمع۔
ھدانا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہدایۃ سے ۔ ہدانا سبلنا۔ اس نے ہم کو حق کے راستے بتا دئیے۔
لنصبرت۔ مضارع جمع متکلم لام تاکید ونون ثقیلہ ۔ ہم ضرور ہی صبر کریں گے۔
اذیتمونا۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ تم نے ہم کو ایذا دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
کفار کے اعتراض کا جواب
کفار نے جو رسولوں پر اعتراض کیا تھا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہو کوئی فضیلت ہم پر نہیں رکھتے ہو۔ اس کا جواب رسولوں نے یہ دیا کہ بیشک ہم تمہاری طرح انسان ہیں لیکن اتنی بات ہے کہ انہیں آدمیوں میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے نبوت کی نعمت دیتا ہے، اور رسالت کی دولت اپنے بندوں میں سے وہ جس پر مہربان ہوتا ہے دینی نعمتوں سے مالا مال کردیتا ہے۔ اور ہماری یہ قدرت نہیں کہ بغیر حکم خدا کے کوئی معجزہ دکھا سکیں ہم بےمرضی خدا کے اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کرسکتے۔ اور ایمان والوں کو اللہ پر بھروسہ چاہیے اور ہمیں کیا عذر ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں۔ حالانکہ اس نے ہم کو ہدایت کی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
[4] یہاں سے اب مشرکین مکہ سے خطاب شروع ہوتا ہے۔
[5] یعنی غصے میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے یا تعجب سے دانتوں میں انگلیاں رکھ لیں۔
[6] یعنی جس پیغام کے ساتھ تم اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کے مدعی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ایمان افروز استفہام :
(ف 1)
” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔
ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔
قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل…
Read the full tafseer →12 ۔ اور ہم کو کیا عذم ہوسکتا ہے اور کونسا امر مانع ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے ہمارے سب طریقے ہم کو بتا دیئے ہیں اور یقینا ہم ان تمام تکالیف پر جو تم ہم کو پہنچا ئو گے اور جو تکلیفیں تام ہم کو دشمنی اور عناد سے دو گے ہم ضرور ان پر صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ کرنا چاہئے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل و احسان فرمایا ہم کو نبوت عطا فرمائی ہم کو دین و دنیا کے لئے کامیابی اور منافع کے راستے اس نے دیکھائے اور مکمل دین ہم کو سمجھادیا ہے اب ہم اس پر بھروسہ نہ کریں۔
یہ کیسے ممکن ہے اور یہ بھی ہم تمہارے مخالفانہ رویے سے سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 1۔ جس کا اتنا بڑا فضل ہو اس پر تو ضرور بھروسہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →ہمارے لئے کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے ہم کو راہ دکھائی
13 ؎ جب سارے مومنوں کا حق یہ ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانیں تو پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) جو براہ راست وحی الٰہی کے مخاطب ہیں کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے اللہ پر مکمل بھروسہ نہ رکھیں جب کہ اللہ نے ہدایت کی راہ ان پر کھول دی جو ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر بند تھی اس لئے انہوں نے اپنے مخالفین و معاندین کو مطلع کردیا کہ ” ہم تمہاری ایذا رسانیوں پر ضرور صبر کریں گے۔ “ تم جی بھر کر ہمیں اذیت پہنچنا ‘ مقدور بھر ہم پر ظلم و ستم کرو ہم بڑی استقامت سے ان تمام مصائب کو برداشت کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
20. That is, if you still insist that you are a Prophet, bring a tangible proof of your appointment so as to convince us that you have really been sent by God and your message is from Him.
21. That is, "No doubt we are human beings like you but it is Allah's will that He has chosen us from among you and blessed us with the knowledge of the Truth and keen discernment. And this is Allah's will and He has full powers to bestow anything on anyone He wills. We are not in a position to ask Him to send that blessing to you or to anyone else:nor can we deny the realities which have been shown to us."
Read the full tafseer →