Explained with ayahs 13–17
آل لوط
کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 22
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوموں کی ملت میں شامل ہوا کرتے تھے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نبوت سے پہلے چونکہ وہ ایک طرح کی خاموش زندگی بسر کرتے تھے، کسی دین کی تبلیغ اور کسی رائج الوقت دین کی تردید نہیں کرتے تھے، اس لیے ان کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ وہ ہماری ہی ملت میں ہیں، اور نبوت کا کام شروع کردینے کے بعد ان پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ملت آبائی سے نکل گئے ہیں۔ حالانکہ وہ نبوت سے پہلے بھی کبھی مشرکین کی ملت میں شامل نہ ہوئے تھے کہ اس سے خروج کا الزام ان پر لگ سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
خلاصہ تفسیر
(اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
تفسیر آیات 13 تا 14:۔ وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ۔
رسولوں کو ان کی قوموں کی دھمکی : ہر رسول کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اس کی دعوت سے تنگ آ کر اس کی قوم نے اس کو یہ نوٹس دے دیا کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے جلا وطن کردیں گے جب نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے رسولوں کو یہ بشارت…
Read the full tafseer →13۔ 1 جیسے اور بھی کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ 171ښ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ 172۠ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ 173)۔ 37۔ الصافات :171)۔ پہلے ہوچکا ہمارا حکم اپنے ان بندوں کے حق میں جو رسول ہیں کہ بیشک وہ فتح مند اور کامیاب ہونگے اور ہمارا لشکر بھی غالب ہوگا ' (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ)۔ 58۔ المجادلہ :21)۔ اور اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
9: یعنی اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور ایمان لانے والوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہو تو مومن کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ اس کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 تا 14
اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں…
Read the full tafseer →9 یعنی اپنے توکل وغیرہ کو رہنے دو ، زیادہ بزرگی مت جتاؤ۔ بس اب دو باتوں میں سے ایک بات ہو کر رہے گی۔ یا تم (بعثت سے پہلے کی طرح) چپ چاپ ہم میں رل مل کر رہو گے اور جن کو تم نے بہکایا ہے وہ سب ہمارے پرانے دین میں واپس آئیں گے۔ ورنہ تم سب کو ملک بدر اور جلا وطن کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 13 وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ
رسولوں کی جماعت اور ان کی قوموں کے درمیان ہونے والے سوالات و جوابات کا تذکرہ جاری ہے۔ یعنی اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے رسولوں سے متعلقہ اقوام کے لوگوں نے کہا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
17 کافروں کا جواب یا دین میں واپس آؤ یا ہم تمہیں نکال دیں گے :۔ مخالفین حق جب حق کے دلائل کے سامنے عاجز آجاتے ہیں تو ان کے لیے آخری حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی اور اس کے پیروکاروں کو یہ دھمکی دے دیتے ہیں کہ یا تو ہماری بات مان لو اور ہمارے دین میں واپس آجاؤ یا پھر ہم تمہیں یہاں سے جلاوطن کردیں گے اور ان کا یہ اقدام دراصل ان کی ذہنی شکست کا اعتراف ہوتا ہے اور ایسی دھمکی ہر نبی کو دی جاتی رہی ہے چناچہ جب رسول اللہ پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی اور آپ گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو سیدہ خدیجہ انھیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے جب یہ واقعہ سنا تو کہا کہ یہ تو…
Read the full tafseer →25۔ حضرات انبیاء کی گفتگو سے بجائے اس کے کہ منکروں کے دل کچھ نرم پڑتے۔ الٹے انہوں نے یہ معاندانہ تقریر شروع کردی، (آیت) ” لتعودن “۔ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ پیغمبر بھی کبھی کفر وشرک میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں، مراد صرف یہ ہے کہ قبل بعثت حضرات انبیاء جو حکومت اور مذہب رائج سے بےتعلقی رکھتے تھے اس کی تاویل بھی اہل کفر یہی کرلیا کرتے تھے کہ یہ بہرحال ہیں ہمارے ہی مذہب پر۔ اور عود کے معنی اگر بجائے پلٹ آنے یا واپس آنے کے محض آجانے کے لئے جائیں جیسا کہ لغت عرب میں ہیں تو کوئی سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اور متعدد ائمہ تفسیر ولغت اسی طرف گئے ہیں۔ العود بمعنی الصیرورۃ وھو کثیر فی کلام العرب کثرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…
Read the full tafseer →وقال الذین کفروا الرسلھم لنخرجنکم من ارضنا او لتعوذن فی ملتنا اور کافروں نے اپنے پیغمبروں سے کہا : ہم تم کو اپنی زمین (بستی ‘ شہر وغیرہ) سے ضرور نکال باہر کردیں گے یا تم کو ہمارے مذہب میں ضرور لوٹ کر آنا ہوگا۔ یعنی اپنا مذہب چھوڑ کر ہمارے مذہب میں آنا ہوگا۔ لوٹ کر آنے سے مراد ہے : اپنا مذہب چھوڑ کر کافروں کے دین میں آنا کیونکہ پیغمبر کبھی کافروں کے مذہب پر پہلے بھی نہ تھے ‘ اسلئے لوٹنے سے مراد دوبارہ کفر اختیار کرنا نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مخاطب تمام مؤمن ہوں ‘ پیغمبر بھی اور ان پر ایمان لانے والے رفقاء بھی۔ جماعت کو بطور تغلیب خطاب کیا گیا (پیغمبروں پر ایمان لانے والے پہلے کفر پر تھے ‘…
Read the full tafseer →(13) اور ان کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر داخل ہوجاؤ سو ان رسولوں پر ان کے پروردگار نے وحی نازل فرمائی کہ صبر کرو ہم ان سب کفار کو ہلاک کردیں گے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ : کفار نے اپنی کثرت اور اہل ایمان کی قلت دیکھ کر اپنے رسولوں کو یہ دھمکی دی کہ تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں یا تو ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا پھر تم اسلام چھوڑ کر واپس آجاؤ گے، جیسا کہ اس وقت ہند کے کافر مسلمانوں کو قتل یا ارتداد یا نکل جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا : ”یا تم ہماری ملت میں واپس آؤ گے“ کفار کا یہ کہنا ان کے اپنے گمان کے مطابق تھا، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ انبیاء ؑ نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے، بلکہ بات یہ تھی کہ نبوت سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 تا 14
قولہ تعالیٰ : وقال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا، لنخرجنکم میں لام قسم ہے۔ یعنی واللہ لنخرجنکم۔ او لتعودن یعنی حتی تعودوا یا الا ان تعودوا یہ طبری اور دیگر مفسرین کا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس کو اس تقدیر (حتی یا الا ان) کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ او اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے تخییر پر دلالت کرتا ہے، کفار نے رسولوں کو اپنی ملت میں واپس لوٹنے یا انہیں اپنے ملک سے نکالنے کا اختیار دیا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں اور بندوں کے لیے طریقہ کار ہے، کیا آپ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وان کا دوا لیستگزونک من الارض لیخرجوک منھا واذا لا یلمثون خلفک الا قلیلا۔ سنۃ من قد ارسلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
1:۔ امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسولوں اور ایمان والوں کو ان کی قوم نے ان کو کمزور بنا رکھا تھا اور ان کو مغلوب کر رکھا تھا اور وہ ان کو جھٹلاتے تھے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ اپنے (سابقہ) دین میں لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو منع فرمایا کہ وہ کفر کے دین میں لوٹ آئیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ ان غاصبوں اور ظالموں کے خلاف (اللہ تعالیٰ سے) مدد مانگیں اور ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کو نیست ونابود کرنے بعد وہ انہیں ان کے ملک میں ٹھہرائے گا اللہ…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [لِرُسُلِهِمْ : اپنے رسولوں سے ] [ لَنُخْرِجَنَّكُمْ : ہم لازماً نکالیں گے آپ (علیہ السلام) لوگوں کو ] [ مِّنْ اَرْضِنَآ : اپنی زمین سے ] [ اَوْ : یا (پھر)] [ لَتَعُوْدُنَّ : آپ (علیہ السلام) لوگ لازماً لوٹیں گے ] [ فِيْ مِلَّتِنَا : ہمارے مذہب میں ] [ فَاَوْحٰٓى: تو وحی کیا ] [ اِلَيْهِمْ : ان (علیہ السلام) کی طرف ] [رَبُّهُمْ : ان (علیہ السلام) کے رب نے ] [ لَنُهْلِكَنَّ : ہم لازماً ہلاک کریں گے ] [ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →سابقہ امتوں کا رسولوں کو دھمکی دینا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے کافروں کے سخت عذاب کا تذکرہ
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی امتوں کو جو حق کی دعوت دیتے اور توحید کی طرف بلاتے اور اللہ جل شانہ وحدہ لاشریک کی بلاشرکت غیر عبادت کرنے کی دعوت دیتے تھے تو یہ بات ان لوگوں کو کھلتی تھی اور ناگوار ہوتی تھی، طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اور بری طرح پیش آتے تھے ان کی انہیں باتوں میں سے یہ بھی تھا کہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے نہ تمہیں یہاں رہنے دیں گے اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارا دین قبول کیا، ہاں اگر تم لوگ ہمارے دین میں واپس ہوجاؤ تو پھر ہم تم ایک ہوجائیں گے اور اس صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا
تذکیر با یام اللہ
قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →16:۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں کے سامنے دعوت توحید پیش کی مگر انہوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی اور اسے نہ مانا اور الٹے معاندانہ سوالات کرنے لگے جب ان کے سوالات کے معقول اور متین جوابات دے دئیے گئے تو لاجواب ہو کر اور اپنی خفت مٹانے کے لیے تشدد پر اتر آئے جیسا کہ باطل پرست دنیا داروں کا دستور ہے کہ وہ ہر جائز و ناجائز حربے سے حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ متمردینِ کفار نے انبیاء (علیہم السلام) کو دھمکی دی اور کہا تم ہمارے دین میں آجاؤ اور ہماری طرح تم بھی ہمارے معبودوں کی عبادت کیا کرو اور انہیں حاجات میں پکارا کرو اور ہماری ہاں میں ہاں ملا لو اگر تم ایسا نہیں کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
(ربط آیات)
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت ، اس کے کتاب ہدایت ہونے اور اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کا ذکر کیا ، پھر منکرین قرآن کے انجام کو بیان فرمایا ، اس کے بعد (آیت) ” وما ارسلنا من رسول “۔ سے رسالت کا سلسلہ شروع ہوا ، پھر قوم موسیٰ ، نوح ، عاد ، اور ثمود کا ذکر ہوا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان اقوام کے مکالمے کا بیان آیا پھر نبیوں کے طریق کار کا تذکرہ ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدا کی ذات پر بھروسہ کیا ، راہ حق پر گامزن رہے ، اور صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا۔
منکرین نے رسولوں کی بشریت پر بھی اعتراض کیا ، جس کے جواب میں…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ 13ۙ
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : لنخرجنکم اور لتعودن مفعول ہیں قال کے اور لنہلکن اور لنسکنن یہ اوحیٰ کے معفول ہیں یتجرعہ ماء کی صفت یا ضمیر یسقی سے حال مثل الذین مبتدا کرماد خبر ہے معنی۔
تفسیر : منجملہ کفار کی اور باتوں کے ایک یہ تھی کہ انہوں نے انجام کار انبیاء (علیہم السلام) سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے مذہب میں آجاؤ (اگرچہ ابتداء ہی سے انبیاء (علیہم السلام) ان کے مذہب میں نہ تھے مگر پھر آجانا جو کہا تو اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے انہیں کے شہروں اور انہیں کے قبیلوں میں نشوونما پایا تھا ابتدا میں کفار سے مخالفت بھی ظاہر نہ کی تھی اس سے وہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے مذہب میں جانتے تھے اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْلَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاط فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْن۔ وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ ہِمْ ط ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 13۔ 14)
(اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں (علیہم السلام) سے۔ ہم تمہیں یقینا اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں لوٹنا ہوگا ہمارے دین میں۔ پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔ اور تمہیں ان کے بعد اس سرزمین میں آباد کریں گے۔ یہ انجام ہے ہر اس شخص کا جو میرے سامنے حاضری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
فہم القرآن
ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) اور مومنین کے جواب میں کفار کی دھمکیاں۔
کفار اور مشرکین کی شروع ہی سے یہ عادت رہی ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے خلاف ہرزہ سرائی اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی سر توڑ کوشش ہوتی ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں پر اس قدر جبرو ستم کیا جائے کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے نہ صرف انکار کریں بلکہ اپنی جان کے خوف سے ایمان سے دست کش ہو کر کفر میں پلٹ آئیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے کردار اور ان کی استقامت کے بارے میں کفار کو یقین ہوتا تھا کہ یہ مرجائیں گے…
Read the full tafseer →کفار کی دھمکی :
13: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ (کافروں نے اپنے رسولوں کو کہا)
قراءت : ابو عمرو نے اوپر والی آیت میں سُبُلنَا کو سُبْلنا اور لرُسْلھمپڑھا ہے۔ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ ( ضرور ہم تمہیں نکال دیں گے اپنی سرزمین سے) اپنے علاقہ سے اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا (یا تم ضرور لوٹ جائوگے ہمارے مذہب میں) یعنی دو میں سے ایک بات ضرور کرنا پڑے گی نمبر 1۔ تمہارا نکالنا نمبر 2۔ تمہارا مذہب میں واپس لوٹنا۔ کفار نے اس پر حلف اٹھایا۔ العود کا معنی ہونا ہے اور یہ کلام عرب میں بہت ہے۔ نمبر 2۔ اس سے ہر رسول کو خطاب کیا اور ان کے اوپر ایمان لانے والوں کو اس خطاب میں شامل…
Read the full tafseer →13۔” وقال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا او لتعودن فی ملتنا “ یا لوٹ جائو ہمارے دین کی طرف۔” فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظالمین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 14۔ یہ سلسلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس وعظ کا چلا آتا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا پہلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود بنی اسرائیل کو طرح طرح کی نصیحت وعظ کے طور پر کی پھر اس وعظ میں سب سے اول صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب (علیہ السلام) تک کے انبیاء نے اپنی امتوں کو جو جو نصیحتیں کی تھیں ان سب کا ذکر کیا اور ان سب نصیحتوں کو سن کر ان پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنے اپنے رسولوں کو جو جوابات دئیے ہیں ان جوابوں کا یہ ذکر ہے کہ یا انہوں نے یہ کہا کہ ہم اور تم ایک سے انسان ہیں پھر ہم تم کو اللہ کا رسول کیوں کر جان لیویں یا یہ کہا کہ تم نصیحت سے باز نہ آؤگے اور اپنے آپ…
Read the full tafseer →جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے انبیاء ورسل کی اپنی قوم کے سامنے دعوت، اس پر دوام اور عدم ملال کا ذکر فرمایا، تو ان کی قوم کے ساتھ ان کا متہائے حال بھی بیان فرمایا، چناچہ فرمایا : (وقال الذین کفرو الرسلھم ) ” اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے رسولوں سے کہا “ ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : (لنخرجنکم من ارضنآ اولتعودن فی ملتنا) ” ہم تمہیں اپنے وطن سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ “ یہ انبیاء کی دعوت کو ٹھکرانے کا سب سے زیادہ بلیغ طریقہ ہے اور اس کے بعد ان پر کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ انہوں نے ہدایت ہی سے ردگردانی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے رسولوں کو ان کے وطن سے نکال دینے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
27۔ " یا تم واپس لوٹ آؤ ہمارے مذہب میں " کا مطلب ؟۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرات انبیائے کرام اس سے پہلے ان لوگوں کے دین و مذہب پر تھے۔ والعیاذ باللہ۔ وہ تو شرک اور کفر و شرک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ پاک وصاف رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلان حق سے قبل چونکہ یہ حضرات ایک طرح کے سکوت اور خاموشی کی زندگی گزارتے ہیں، تو اس سے اہل باطل کو خود یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ حضرات اس سے پہلے ان ہی کے دین پر تھے، اس لیے ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہمارے دین میں واپس آجاؤورنہ حضرات انبیائے کرام کفر و شرک کی نجاستوں سے ہمیشہ پاک اور ہر طرح سے معصوم ہوتے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے نبوت و رسالت کے شرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 2 ۔ ان کا یہ کہنا ان کے اپنے زعم کے مطابق ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہا انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے۔ بلکہ انہوں نے نبوت سے قبل انبیاء کے ان کے بتوں کی تردید سے خاموش رہنے کی بنا پر بطور خود یہ سمجھ لیا تھا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دین میں داخل ہوجائو۔ (دیکھئے اعراف آیات 88) ۔ یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (رازی) ۔
Read the full tafseer →(14:13) لتعودن۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بالام تاکیدونون ثقیلہ ۔ تم کو ضرور بالضرور لوٹ آنا ہوگا (ہمارے مذہب میں) عود (باب نصر) سے جس کے معنی کسی شے سے پلٹنے کے بعد (خواہ پلٹنا بذات خود ہو یا بذریعہ قول یا بذریعہ عزم و ارادہ ) اس کی طرف پھرنے اور لوٹنے کے ہیں۔
اوحی۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے وحی بھیجی۔ اس نے حکم دیا۔ اس نے اشارہ دیا۔ ایحاء (افعال) سے۔
لنھلکن الظالمین۔ لنھلکن۔ مضارع جمع متکلم۔ بالام تاکیدونون ثقیلہ ۔ ہم ضرور تباہ کردیں گے ہلاک کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 17
ارض زمین، سر زمین۔ لتعودن البتہ تمہیں ضرور لوٹنا ہوگا ۔ ملت مذہب، قوم، دین۔ اوحی اس نے وحی کی نھلکن ہم ضرور ہلاک کردیں گے۔ نسکنن ہم ضرور جما دیں گے۔ مقامی میرا مقام۔ وعید تنبیہ، غفلت سے جگانے والی استفتحوا انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔ مانگا۔ خاب ذلیل و خوار ہوا۔ جبار بہت جبر کرنے والا۔ عنید ضدی ۔ وراء پیچھے۔ یسقی پلایا جائے گا۔ ماء صدید پیپ کا پانی، گندہ پانی یتجرع گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ لایکاد قریب نہ ہوگا۔ یسیغ حلق سے اتارے گا۔ میت مرنے والا۔ غلیظ سخت۔
تشریح : آیت نمبر 13 تا 17
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرام نے جب بھی کفر و شرک، بدعات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
کفار کو ہلاک کرکے مومنوں کو آباد کرنے کا ذکر
ارشاد ہوتا ہے کہ کفار نے اپنے رسولوں سے یوں کہا کہ : اگر تم ہم کو تنگ کروگے اور تم نصیحت کرنے سے باز نہ آؤگے اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے جاؤگے تو ہم تم کو اپنی بستی سے نکال دیویں گے یا زبردستی ہمارا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی طرف وحی بھیجی کہ تم گھبراؤ نہیں ہم ظالموں کو ضرور بالضرور ہلاک کردیں گے اور ان کی زمین پر تمہیں مسلط کردیں گے۔ یہ امر یقینی اور یہ وعدہ سچ ہے اور جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور اس کے عذاب کو حق جان کر دل میں لرزتے ہیں اور حساب قیامت کا اندیشہ رکھتے ہیں، ان کے واسطے بھی یہی وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[7] اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء بھی کبھی کفرو شرک میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نبوت سے پہلے پیغمبر رائج مذہب اور حکومت سے بےتعلقی رکھتے تھے اور ایک طرح کی خاموش زندگی بسر کرتے تھے اس لئے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بہرحال ہیں ہمارے ہی مذہب پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ایمان افروز استفہام :
(ف 1)
” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔
ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔
قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل…
Read the full tafseer →13 ۔ ان تمام باتوں کو سن کر ان منکروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سر زمین اور اپنے علاقہ سے نکال باہر کریں گے اور تم کو جلا وطن کردیں گے یا تم ہماری ملت اور ہمارے مسلک میں چلے آئو اور ہمارے مذہب میں لوٹ آئو پس ان رسولوں کے پروردگار نے ان رسولوں پر اسی وقت وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو یقیناہلاک کردیں گے۔
شاید وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ یہ پیغمبر اس دعویٰ پیغمبری سے پہلے ہمارے ہی دین میں تھے اس لئے واپس آنے کا مطالبہ کیا کہ جس طرح پہلے خاموش تھے ویسے ہی ہو جائو اور ہوسکتا ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے ان کو یہ دھمکی دی ہو اور انبیاء کو ان کے ساتھ شامل کرلیا ہو۔
بہر حال ! حضرت حق تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 1۔ جس کا اتنا بڑا فضل ہو اس پر تو ضرور بھروسہ کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →کافروں نے اپنے رسولوں کو کہا کہ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال باہر کردیں گے
14 ؎ یہ وہی بات ہے جس کو ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس “ زور آور ہمیشہ جو کام کرتا ہے وہ زور ہی کے بل بوتے پر کرتا ہے دلیل اور حجت کی اس کو کھبی ضرورت نہیں پیش آتی کیونکہ اس کے ہاں میں ہاں ملانے والے بہت ہوتے ہیں اور اس بات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں “ طاقت ان کے پاس ہے اور وہ طاقت ہی کے بل بوتے پر سب کچھ کرنے کے عادی ہیں فرمایا کفار نے بڑے اطمینان کے ساتھ رسولوں کو کہا کہ دیکھو تم جو بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو ان سے باز آجائو ورنہ ہم تم کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →22. It will be wrong to conclude from this demand of theirs that the Prophets professed the religion of their people before their appointment to the divine office. This only meant that their people thought so because before their appointment they led a quiet life and did not propagate a new religion nor refuted the religion in vogue at that time. That is why their people were under the wrong impression that the Prophets also professed the religion of their forefathers, and, therefore, accused them of apostasy. The fact, however, is that they had never followed the religion of their mushrik…
Read the full tafseer →