Explained with ayahs 13–17
آل لوط
کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 23
یعنی گھبراؤ نہیں، یہ کہتے ہیں کہ تم اس ملک میں نہیں رہ سکتے، مگر ہم کہتے ہیں کہ اب یہ اس سرزمین میں نہ رہنے پائیں گے۔ اب تو جو تمہیں مانے گا وہی یہاں رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
خلاصہ تفسیر
(اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
تفسیر آیات 13 تا 14:۔ وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ۔
رسولوں کو ان کی قوموں کی دھمکی : ہر رسول کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اس کی دعوت سے تنگ آ کر اس کی قوم نے اس کو یہ نوٹس دے دیا کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے جلا وطن کردیں گے جب نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے رسولوں کو یہ بشارت…
Read the full tafseer →14۔ 1 یہ مضمون بھی اللہ نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے مثلاً ، (ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصٓلحون)۔ الانبیا۔ ہم نے لکھ دیا زبور میں، نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے ' چناچہ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی مدد فرمائی، آپ کو با دل نخواستہ مکہ سے نکلنا پڑا لیکن چند سالوں بعد ہی آپ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کو نکلنے پر مجبور کرنے والے ظالم مشرکین سر جھکائے، کھڑے آپ کے اشارہ ابرو کے منتظر تھے لیکن آپ نے خلق عظیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے (لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ) 12۔ یوسف :92) کہہ کر سب کو معاف فرما دیا۔ صٓلوات اللہ وسلامہ علیہ
14۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
9: یعنی اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور ایمان لانے والوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہو تو مومن کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ اس کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 تا 14
اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں…
Read the full tafseer →1 یعنی یہ تم کو کیا نکالیں گے ہم ہی ان ظالموں کو تباہ کر کے ہمیشہ کے لیے یہاں سے نکال دیں گے کہ پھر کبھی واپس نہ آسکیں۔ اور ان کی جگہ تم کو اور تمہارے مخلص وفاداروں کو زمین میں آباد کریں گے۔ دیکھ لو کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے مکہ سے نکالنا چاہا، وہ ہی نکلنا آخر اس کا سبب بن گیا کہ وہاں اسلام اور مسلمانوں کا دائمی تسلط ہو اور کافر کا نشان باقی نہ رہے۔
2 یعنی مذکورہ بالا کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں یہ خیال کر کے کہ وہ ہماری تمام حرکتوں کو برابر دیکھ رہا ہے اور ایک دن حساب دینے کے لیے اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے جہاں اس کے بےپناہ عذاب سے کوئی بچانے والا نہ…
Read the full tafseer →آیت 14 وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ
یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی طرف وحی بھیجی کہ اب تمام کافروں کو ہلاک کردیا جائے گا اور اس کے بعد رسول اور ان کے ساتھ بچ جانے والے تمام اہل ایمان کو پھر سے زمین میں آباد کرنے کا سامان کیا جائے گا۔
ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ
جو لوگ عذاب کی وعیدوں سے ڈرتے ہیں اور روز محشر اللہ کی عدالت میں کھڑے ہونے کے تصور سے لرز جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
17 کافروں کا جواب یا دین میں واپس آؤ یا ہم تمہیں نکال دیں گے :۔ مخالفین حق جب حق کے دلائل کے سامنے عاجز آجاتے ہیں تو ان کے لیے آخری حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی اور اس کے پیروکاروں کو یہ دھمکی دے دیتے ہیں کہ یا تو ہماری بات مان لو اور ہمارے دین میں واپس آجاؤ یا پھر ہم تمہیں یہاں سے جلاوطن کردیں گے اور ان کا یہ اقدام دراصل ان کی ذہنی شکست کا اعتراف ہوتا ہے اور ایسی دھمکی ہر نبی کو دی جاتی رہی ہے چناچہ جب رسول اللہ پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی اور آپ گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو سیدہ خدیجہ انھیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے جب یہ واقعہ سنا تو کہا کہ یہ تو…
Read the full tafseer →27۔ ابھی ابھی فتح ونصرت کا وعدہ حضرات انبیاء سے تھا کہ تمہارے مخالفین تمہارے سامنے نیست ونابود کئے جائیں گے اور سرفرازی وسربلندی تو تم کو نصیب ہوگی، معا بعد اس وعدہ کا دائرہ وسیع کرکے اسے ہر مومن کے لئے عام کردیا جاتا ہے۔ اور مومن کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ موقف حشر کی حاضری اور اللہ کی وعیدوں کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…
Read the full tafseer →ولنسکننکم الارض من بعدھم اور (کافروں کے گھروں اور) ان کی زمین میں ان کے بعد تم کو (یعنی پیغمبروں کو اور مؤمنوں کو) ضرور بسائیں گے۔ ان کے بعد سے مراد ہے : ان کو ہلاک کرنے کے بعد۔
ذلک لمن خاف مقامي وخاف وعید (میری) یہ (رحمت و عنایت) اس شخص کیلئے ہوگی جو (قیامت کے دن) میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھتا ہو اور میرے عذاب کی وعید سے (یا میرے موعودہ عذاب سے جو کافروں کیلئے مقرر ہے) خوف کرتا ہو۔
مَقَامِی سے مراد ہے : اللہ کے سامنے قیامت کے دن کھڑا ہونا۔ لفظ مقام کا اس معنی میں استعمال آیت وَلِمَنْ خافَ مَقَام ربّہ جنتان میں بھی ہوا ہے۔ یا مقام سے مراد ہے : قیام ‘ یعنی اعمال کی نگہداشت۔ مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(14) اور ان کی ہلاکت کے بعد تمہیں ان کی سرزمین اور ان کے شہروں میں آباد رکھیں گے اور یہ وعدہ سکونت ہر اس شخص کے لیے ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے ڈرے۔
Read the full tafseer →وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے انھیں حوصلہ دیا کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کریں گے اور اس سرزمین پر تمہیں آباد کریں گے۔ انبیاء کے پیروکاروں کا آخر کار کفار کے علاقوں پر قابض ہونا بھی درحقیقت انبیاء ہی کا غلبہ ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل موسیٰ ؑ کی وفات کے ایک مدت بعد شام اور مصر وغیرہ پر قابض ہوئے، فرمایا : (ۙكَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) [ الشعراء : 59 ] ”ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔“ اور مسلمان اگرچہ نبی ﷺ کی زندگی ہی میں جزیرۂ عرب پر قابض ہوگئے تھے، جیسا کہ یہود کے متعلق فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 تا 14
قولہ تعالیٰ : وقال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا، لنخرجنکم میں لام قسم ہے۔ یعنی واللہ لنخرجنکم۔ او لتعودن یعنی حتی تعودوا یا الا ان تعودوا یہ طبری اور دیگر مفسرین کا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس کو اس تقدیر (حتی یا الا ان) کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ او اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے تخییر پر دلالت کرتا ہے، کفار نے رسولوں کو اپنی ملت میں واپس لوٹنے یا انہیں اپنے ملک سے نکالنے کا اختیار دیا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں اور بندوں کے لیے طریقہ کار ہے، کیا آپ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وان کا دوا لیستگزونک من الارض لیخرجوک منھا واذا لا یلمثون خلفک الا قلیلا۔ سنۃ من قد ارسلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
1:۔ امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسولوں اور ایمان والوں کو ان کی قوم نے ان کو کمزور بنا رکھا تھا اور ان کو مغلوب کر رکھا تھا اور وہ ان کو جھٹلاتے تھے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ اپنے (سابقہ) دین میں لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو منع فرمایا کہ وہ کفر کے دین میں لوٹ آئیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ ان غاصبوں اور ظالموں کے خلاف (اللہ تعالیٰ سے) مدد مانگیں اور ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کو نیست ونابود کرنے بعد وہ انہیں ان کے ملک میں ٹھہرائے گا اللہ…
Read the full tafseer →[وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ : اور ہم لازماً سکونت دیں گے آپ (علیہ السلام) لوگوں کو ] [ الْاَرْضَ : اس زمین میں ] [مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ لِمَنْ : اس کے لئے ہے جو ] [خَافَ : ڈرا ] [مَقَامِيْ : میرے سامنے کھڑا ہونے سے ] [وَخَافَ : اور ڈرا ] [وَعِيْدِ : میری وارننگ سے ]
Read the full tafseer →فسق و فجور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد کا انتظار قرآن کی شرط کے خلاف ہے
ظالمین کو ہلاک کرنے کے بعد اہل ایمان کو ان کی سرزمین میں بسانے کا وعدہ جو فرمایا اس کے بعد ارشاد فرمایا (ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ ) اس میں یہ بتایا ہے کہ ظالموں کے ہلاک کرنے اور ان کی جگہ اہل ایمان کو بسانے کا جو وعدہ فرمایا ہے یہ وعدہ ان لوگوں سے ہے جنہیں حساب کتاب کا ڈر ہے وہ یقین کرتے ہیں کہ قیامت کا دن آئے گا اور وہاں حاضر ہونا پڑے گا اور نیکی بدی کا حساب ہوگا اور یہ وعدہ ان لوگوں سے ہے جو اللہ کی وعیدوں سے ڈرتے رہے جو اس نے اپنے نبیوں اور کتابوں کے واسطہ سے بیان فرمائیں، اور ڈرنا جبھی ہوگا جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا
تذکیر با یام اللہ
قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →18:۔ ظالموں کو ہلاک کر کے ان کی جگہوں میں ان لوگوں کو آباد کیا جائے گا جو قیامت کے حساب اور عذاب سے ڈر کر مسئلہ توحید کو مان لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
(ربط آیات)
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت ، اس کے کتاب ہدایت ہونے اور اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کا ذکر کیا ، پھر منکرین قرآن کے انجام کو بیان فرمایا ، اس کے بعد (آیت) ” وما ارسلنا من رسول “۔ سے رسالت کا سلسلہ شروع ہوا ، پھر قوم موسیٰ ، نوح ، عاد ، اور ثمود کا ذکر ہوا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان اقوام کے مکالمے کا بیان آیا پھر نبیوں کے طریق کار کا تذکرہ ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدا کی ذات پر بھروسہ کیا ، راہ حق پر گامزن رہے ، اور صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا۔
منکرین نے رسولوں کی بشریت پر بھی اعتراض کیا ، جس کے جواب میں…
Read the full tafseer →وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ 14
سكن
السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ،
( س ک ن ) السکون ( ن )
حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : لنخرجنکم اور لتعودن مفعول ہیں قال کے اور لنہلکن اور لنسکنن یہ اوحیٰ کے معفول ہیں یتجرعہ ماء کی صفت یا ضمیر یسقی سے حال مثل الذین مبتدا کرماد خبر ہے معنی۔
تفسیر : منجملہ کفار کی اور باتوں کے ایک یہ تھی کہ انہوں نے انجام کار انبیاء (علیہم السلام) سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے مذہب میں آجاؤ (اگرچہ ابتداء ہی سے انبیاء (علیہم السلام) ان کے مذہب میں نہ تھے مگر پھر آجانا جو کہا تو اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے انہیں کے شہروں اور انہیں کے قبیلوں میں نشوونما پایا تھا ابتدا میں کفار سے مخالفت بھی ظاہر نہ کی تھی اس سے وہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے مذہب میں جانتے تھے اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْلَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاط فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْن۔ وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ ہِمْ ط ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 13۔ 14)
(اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں (علیہم السلام) سے۔ ہم تمہیں یقینا اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں لوٹنا ہوگا ہمارے دین میں۔ پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔ اور تمہیں ان کے بعد اس سرزمین میں آباد کریں گے۔ یہ انجام ہے ہر اس شخص کا جو میرے سامنے حاضری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
فہم القرآن
ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) اور مومنین کے جواب میں کفار کی دھمکیاں۔
کفار اور مشرکین کی شروع ہی سے یہ عادت رہی ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے خلاف ہرزہ سرائی اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی سر توڑ کوشش ہوتی ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں پر اس قدر جبرو ستم کیا جائے کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے نہ صرف انکار کریں بلکہ اپنی جان کے خوف سے ایمان سے دست کش ہو کر کفر میں پلٹ آئیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے کردار اور ان کی استقامت کے بارے میں کفار کو یقین ہوتا تھا کہ یہ مرجائیں گے…
Read the full tafseer →14: وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِھِمْ (اور ضرور ہم تمہیں آباد کریں گے اس زمین میں ان کے بعد) ظالموں کی سرزمین اور ملک میں۔ حدیث میں فرمایا : من اذی جارہ ورثہ اللہ جارہٗ جس نے اپنے پڑوسی کو دکھ دیا اللہ اس کے گھر کا اسکو وارث بنا دیتے ہیں ( یہ مقولہ ہے حدیث نہیں ہے) ذٰلِکَ (یہ) ہلاک کرنا اور ٹھہرانا یہ بات برحق ہے۔ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ (اس کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا) میرے موقف سے اور وہ موقف حساب ہے۔ نمبر 2۔ مقام کا لفظ زائد ہے یعنی جو شخص مجھ سے ڈرا نمبر 3۔ اس سے ڈرا کہ اللہ تعالیٰ میری نگہداشت کرنے والے ہیں۔ جیسا اس قول میں افمن ہو قائم علٰی کل نفس بما کسبت ] الرعد…
Read the full tafseer →14۔” ولنسکننکم الارض من بعدھم “ ان کی ہلاکت کے بعد ” ذلک لمن خاف مقامی “ جو میرے سامنے قیامت کے دن کھڑے ہونے سے ڈرتا ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ولمن خاف مقام ربہ جنتان “ بندے کی اضافت اپنی طرف کی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ” ندمت علی ضربک “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ” علی ضربی ایاک “ ۔۔۔” وخاف وعید “ اور میری سزا سے ڈرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 14۔ یہ سلسلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس وعظ کا چلا آتا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا پہلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود بنی اسرائیل کو طرح طرح کی نصیحت وعظ کے طور پر کی پھر اس وعظ میں سب سے اول صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب (علیہ السلام) تک کے انبیاء نے اپنی امتوں کو جو جو نصیحتیں کی تھیں ان سب کا ذکر کیا اور ان سب نصیحتوں کو سن کر ان پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنے اپنے رسولوں کو جو جوابات دئیے ہیں ان جوابوں کا یہ ذکر ہے کہ یا انہوں نے یہ کہا کہ ہم اور تم ایک سے انسان ہیں پھر ہم تم کو اللہ کا رسول کیوں کر جان لیویں یا یہ کہا کہ تم نصیحت سے باز نہ آؤگے اور اپنے آپ…
Read the full tafseer →(ولنسکننکم الارض من بعدھم ذلک ) ” اور ان کے بعد ہم تم کو زمین میں آباد کریں گے، یہ “ یعنی یہ اچھا انجام جس سے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل اور ان کے پیروکاروں کو بہرہ ور کیا، اس شخص کی جزا ہے (لمن خاف مقامی) ” جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے “ یعنی جو دنیا میں، مرے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کا اس شخص کی مانند خوف کھاتا ہو جسے علم ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ (وخاف وعید) ” اور میرے عذاب سے خوف کرے۔ “ یعنی میری وعید سے ڈرتا ہو جو میں نے اپنے نافرمانوں کو سنائی ہے، پس یہ ڈر اس بات کا موجب ہے کہ وہ ان امور سے رک جائے جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ان کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
27۔ " یا تم واپس لوٹ آؤ ہمارے مذہب میں " کا مطلب ؟۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرات انبیائے کرام اس سے پہلے ان لوگوں کے دین و مذہب پر تھے۔ والعیاذ باللہ۔ وہ تو شرک اور کفر و شرک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ پاک وصاف رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلان حق سے قبل چونکہ یہ حضرات ایک طرح کے سکوت اور خاموشی کی زندگی گزارتے ہیں، تو اس سے اہل باطل کو خود یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ حضرات اس سے پہلے ان ہی کے دین پر تھے، اس لیے ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہمارے دین میں واپس آجاؤورنہ حضرات انبیائے کرام کفر و شرک کی نجاستوں سے ہمیشہ پاک اور ہر طرح سے معصوم ہوتے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے نبوت و رسالت کے شرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 2 ۔ ان کا یہ کہنا ان کے اپنے زعم کے مطابق ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہا انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے۔ بلکہ انہوں نے نبوت سے قبل انبیاء کے ان کے بتوں کی تردید سے خاموش رہنے کی بنا پر بطور خود یہ سمجھ لیا تھا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دین میں داخل ہوجائو۔ (دیکھئے اعراف آیات 88) ۔ یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (رازی) ۔
Read the full tafseer →(14:14) لنسکننکم۔ مضارع جمع متکلم۔ بالام تاکید ونون ثقیلہ تاکید۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اسکان مصدر باب افعال ۔ ہم تم کو یقینا آباد کردیں گے۔ یا ۔ آباد رکھیں گے۔
وعید۔ اصل میں وعیدی تھا۔ میرا وعدۂ عذاب۔ میری طرف سے ڈراوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 17
ارض زمین، سر زمین۔ لتعودن البتہ تمہیں ضرور لوٹنا ہوگا ۔ ملت مذہب، قوم، دین۔ اوحی اس نے وحی کی نھلکن ہم ضرور ہلاک کردیں گے۔ نسکنن ہم ضرور جما دیں گے۔ مقامی میرا مقام۔ وعید تنبیہ، غفلت سے جگانے والی استفتحوا انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔ مانگا۔ خاب ذلیل و خوار ہوا۔ جبار بہت جبر کرنے والا۔ عنید ضدی ۔ وراء پیچھے۔ یسقی پلایا جائے گا۔ ماء صدید پیپ کا پانی، گندہ پانی یتجرع گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ لایکاد قریب نہ ہوگا۔ یسیغ حلق سے اتارے گا۔ میت مرنے والا۔ غلیظ سخت۔
تشریح : آیت نمبر 13 تا 17
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرام نے جب بھی کفر و شرک، بدعات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
کفار کو ہلاک کرکے مومنوں کو آباد کرنے کا ذکر
ارشاد ہوتا ہے کہ کفار نے اپنے رسولوں سے یوں کہا کہ : اگر تم ہم کو تنگ کروگے اور تم نصیحت کرنے سے باز نہ آؤگے اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے جاؤگے تو ہم تم کو اپنی بستی سے نکال دیویں گے یا زبردستی ہمارا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی طرف وحی بھیجی کہ تم گھبراؤ نہیں ہم ظالموں کو ضرور بالضرور ہلاک کردیں گے اور ان کی زمین پر تمہیں مسلط کردیں گے۔ یہ امر یقینی اور یہ وعدہ سچ ہے اور جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور اس کے عذاب کو حق جان کر دل میں لرزتے ہیں اور حساب قیامت کا اندیشہ رکھتے ہیں، ان کے واسطے بھی یہی وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[7] اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء بھی کبھی کفرو شرک میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نبوت سے پہلے پیغمبر رائج مذہب اور حکومت سے بےتعلقی رکھتے تھے اور ایک طرح کی خاموش زندگی بسر کرتے تھے اس لئے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بہرحال ہیں ہمارے ہی مذہب پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ایمان افروز استفہام :
(ف 1)
” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔
ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔
قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل…
Read the full tafseer →14 ۔ اور ان ظالموں کو ہلاک کرنے کے بعد تم کو اس سر زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو میرے روبرو کھڑا ہونے سے ڈرا اور خائف ہوا اور میرے وعدہ ٔ عذاب اور میری وعید سے خوف زدہ رہا ۔ یعنی کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد تم کو آباد کرنے کا وعدہ کچھ تمہارے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ وعدہ ہر اس شخص کے ساتھ ہے جو جواب دہی سے بھی ڈرتا ہے اور میری وعید سے بھی ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ مراد یہ کہ جو مسلمان ہو جس کی علامت خوف موقف اور خوف وعید ہے سب کے لیے یہ وعدہ عذاب سے نجات دینے کا عام ہے۔
Read the full tafseer →اللہ نے اپنے رسولوں کو آگاہ کردیا کہ عنقریب کامیابی تمہارے قدم چومے گی
15 ؎ عنقریب ہم تمہارے مخالفین کو ہلاک کردیں گے اور ان کی جگہ ان لوگوں کو لاکھڑا کریں گے جو تمہارے دین کو ماننے والے ہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لا چکے ہیں اور یہ وعدہ ہر اس شخص کیلئے ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعد سے خائف ہے گویا رمایا کہ یہ کامرانی کا مژدہ ان تمام لوگوں کیلئے ہے جن کے دل روز محشر میرے روبرو حاضر ہونے سے ہر لحاظ خائف و ترساں رہتے ہیں اور یہ تصور ان کو میری نافرمانی سے روکتا ہے اور میری اطاعت و فرمانبرداری پر انہیں ثابت قدم رکھتا ہے یہی کامیاب و کامران ہوں گے اور انہی کے دشمنوں کیلئے ناکامی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →23. This was to reassure the Prophets that they should not worry at all about the threat that the disbelievers would banish them from their country, as if to say: We will uproot them from their land, and establish you and your followers firmly in their place.
Read the full tafseer →