Explained with ayahs 13–17
آل لوط
کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
سورة اِبْرٰهِیْم 24
ملحوظ خاطر رہے کہ یہاں اس تاریخی بیان کے پیرایہ میں دراصل کفار مکہ کو ان باتوں کا جواب دیا جا رہا ہے جو وہ نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے۔ ذکر بظاہر پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات کا ہے مگر چسپاں ہو رہا ہے وہ ان حالات پر جو اس سورة کے زمانہ نزول میں آ رہے تھے۔ اس مقام پر کفار مکہ کو، بلکہ مشرکین عرب کو گویا صاف صاف متنبہ کردیا گیا کہ تمہارا مستقبل اب اس رویے پر منحصر ہے جو دعوت محمدیہ کے مقابلے میں تم اختیار کرو گے۔ اگر اسے قبول کرلو گے تو عرب کی سرزمین میں رہ سکو گے، اور اگر اسے رد کردو گے تو یہاں سے تمہارا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔ چناچہ اس بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
خلاصہ تفسیر
(اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان)…
Read the full tafseer →وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۔
رسول کی طرف سے فیصلہ حق و باطل کی دعا : کفار تکذیب کے جوش میں بار بار اپنے رسولوں سے یہ مطالبہ کرتے رہتے تھے کہ جس عذاب کی تم ہمیں بار بار دھمکی سنا رہے ہو وہ لادو تاکہ اس قضیہ کا فیصلہ ہوجائے لیکن اللہ کے رسول اپنی رافت کے سبب سے ان کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ ان کو ایمان لانے کی سعادت نصیب ہو۔ تاہم ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ بالآخر ایک مرحلہ وہ بھی آیا جب رسولوں نے بھی یہ دعا کی ہے کہ " ربنا افتح بیننا وبین قمنا بالحق وانت خیر الفاتحین : اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے "
Read the full tafseer →15۔ 1 اس کا فاعل ظالم مشرک بھی ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے بالآخر اللہ سے فیصلہ طلب کیا۔ یعنی اگر یہ رسول سچے ہیں تو یا اللہ ہم کو اپنے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر دے جیسے مشرکین مکہ نے کہا (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) 8۔ الانفال :32) ' اور جب کہ ان لوگوں نے کہا، اے اللہ ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کر دے '۔ جس طرح جنگ بدر کے موقع پر مشرکین مکہ نے اس قسم کی آرزو کی تھی جس کا ذکر اللہ نے (انفال۔ 19) میں کیا ہے یا اس کا فاعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
10: یعنی پیغمبروں سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ سے کہہ کر ایسا عذاب ہم پر بھجوا دو جس سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ یہ بات کہہ کر وہ در اصل پیغمبروں کا متکبرانہ انداز میں مذاق اڑاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت نمبر 15 تا 17
یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس…
Read the full tafseer →3 یعنی پیغمبروں نے خدا سے مدد مانگی اور فیصلہ چاہا۔ چناچہ نوح (علیہ السلام) نے کہا تھا (فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :118) لوط (علیہ السلام) نے کہا رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَہْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ شعیب (علیہ السلام) نے عرض کیا (رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ ) 7 ۔ الاعراف :89) موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی (رَبَّنَآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَهٗ زِينَةً وَّاَمْوَالًا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙرَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت 15 وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ
جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول سے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذاب استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا الاعراف : 92 ”وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں“ اور فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ الاحقاف : 25 یعنی وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف ان کے محلات و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
19 یعنی ایک طرف تو رسول اللہ اللہ سے فتح و نصرت کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مخالفین یہ مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ اس وقت اللہ رسولوں کی مدد کرتا ہے اور سرکش معاندین اور ہٹ دھرم لوگوں کا سر کچل دیتا ہے۔
Read the full tafseer →28۔ یعنی اس عملی فیصلہ کے وقت عذاب سے ہلاک ہو کر رہا۔ (آیت) ” واستفتحوا “۔ کا فاعل کون ہے ؟ یعنی فیصلہ کس نے چاہا ؟ اکثر کی رائے ہے کہ یہ فیصلہ کا مطالبہ کرنے والے کافر تھے اے استنصروا یعنی الامم (معالم، عن ابن عباس ؓ ومقاتل) الضمیر للکفار (روح۔ عن ابن زید) ضمیر بجائے کفار کے حضرات انبیاء کی طرف بھی جاسکتی ہے۔ والضمیر للانبیاء (علیہ السلام) (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…
Read the full tafseer →واستفتحوا اور انہوں نے (یعنی انبیاء نے اللہ سے دشمنوں پر) فتح پانے کی دعا کی۔ یہی مضمون آیت رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَّا بالْحَقِّ میں بھی آیا ہے۔ اِسْتَفْتَحُوْا کا عطف اوحی پر ہے اور ضمیر انبیاء کی طرف لوٹ رہی ہے (اسی کے موافق ہم نے ترجمہ کیا ہے) ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے یہی قول نقل کیا ہے اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ یعنی جب انبیاء قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے فتح پانے اور کافروں پر عذاب نازل ہونے کی درخواست کی۔ حضرت نوح نے کہا : رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا اور حضرت موسیٰ نے کہا : رَبَّنَآ اَطْمِسْ عَلٰیٓ…
Read the full tafseer →(15) اور ہر ایک قوم اپنے نبی کے خلاف مدد چاہنے لگی اور جتنے متکبر، سرکش اور حق وہدایت سے گمراہ لوگ تھے، وہ سب کے سب مدد چاہنے کے وقت بےمراد ہوئے۔
Read the full tafseer →وَاسْتَفْتَحُوْا۔۔ : فتح کا معنی قرآن مجید میں ”فتح و نصرت“ بھی آیا ہے اور ”فیصلہ“ بھی۔ ”َاسْتَفْتَحُوْا“ کا معنی انھوں نے فتح و نصرت مانگی، یا انھوں نے فیصلہ مانگا اور اس کا فاعل پیغمبر بھی ہوسکتے ہیں اور کفار بھی۔ اگر معنی فتح و نصرت ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبروں نے بیشمار آزمائشیں آنے پر اپنے رب سے فتح و نصرت کی دعا کی جو قبول ہوئی، فرمایا : (حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ) [ البقرۃ : 214 ] ”یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے کہہ اٹھے، اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو بیشک ! اللہ کی مدد قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت نمبر 15 تا 17
قولہ تعالیٰ : واستفتحوا یعنی انہوں نے مدد کی التجا کی، یعنی رسولوں کو اپنی قوم کے خالق فتح کی التجا اور ان کی ہلاکت کی دعا کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر کا نقطہ نظر ہے۔ سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے اور اس سے حدیث طیبہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مہاجرین کی کامیابی و کامرانی کے لیے فتح کی التجا کرتے تھے یعنی مدد طلب کرتے تھے۔
ابن زید نے کہا : مختلف امتوں نے دعا کے ذریعے فتح کی التجا کی جس طرح قریش نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من
عندک الایۃ (الانفال : 32) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” انہوں نے میری تکذیب کی ہے پس میرے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
1:۔ امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسولوں اور ایمان والوں کو ان کی قوم نے ان کو کمزور بنا رکھا تھا اور ان کو مغلوب کر رکھا تھا اور وہ ان کو جھٹلاتے تھے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ اپنے (سابقہ) دین میں لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو منع فرمایا کہ وہ کفر کے دین میں لوٹ آئیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ ان غاصبوں اور ظالموں کے خلاف (اللہ تعالیٰ سے) مدد مانگیں اور ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کو نیست ونابود کرنے بعد وہ انہیں ان کے ملک میں ٹھہرائے گا اللہ…
Read the full tafseer →[وَاسْتَفْتَحُوْا : اور انھوں (علیہ السلام) نے فتح مانگی ] [ وَخَابَ : اور نامراد ہوا ] [ كُلُّ جبارٍ عَنِيْدٍ : ہر ایک زبردست، ہٹ دھرم ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَاسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ) (الآیات الثلاث) اس میں حضرات مفسرین نے دو وجوہ لکھی ہیں اول یہ کہ واسْتَفْتَحُوْا کی ضمیر مرفوع مستتر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی اور فیصلہ چاہا، یہ معنی لینا بھی سیاق کلام کے موافق ہے اور اس کی نظیر حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی دعا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی جب ان کی قوم نے ان سے یوں کہا تھا کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ اس پر ان حضرات نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا
تذکیر با یام اللہ
قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →19:۔ اس کا فاعل رسل (علیہم السلام) ہیں یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے ” رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ “ یا اس کا فاعل مشرکین ہیں۔ مشرکین نے بھی اپنے دین کو حق سمجھ کر پیغمبروں سے کہا تھ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ تاکہ ہمارے تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجائے یا انہوں نے اللہ تعالیی سے دعا مانگی ہو کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہمیں ہلاک کردے۔ ” قال الرسول انھم کذبونی فافتح بینی و بینھم فتحًا وقالت الامم ان کان ھؤلاء صادقین فعذبنا وعن ابن عباس ایضا نظیرہ ائتنا بِعَذَابِ اللہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
(ربط آیات)
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت ، اس کے کتاب ہدایت ہونے اور اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کا ذکر کیا ، پھر منکرین قرآن کے انجام کو بیان فرمایا ، اس کے بعد (آیت) ” وما ارسلنا من رسول “۔ سے رسالت کا سلسلہ شروع ہوا ، پھر قوم موسیٰ ، نوح ، عاد ، اور ثمود کا ذکر ہوا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان اقوام کے مکالمے کا بیان آیا پھر نبیوں کے طریق کار کا تذکرہ ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدا کی ذات پر بھروسہ کیا ، راہ حق پر گامزن رہے ، اور صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا۔
منکرین نے رسولوں کی بشریت پر بھی اعتراض کیا ، جس کے جواب میں…
Read the full tafseer →وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ 15ۙ
اسْتِفْتَاحُ :
طلب الفتح أو الفتاح . قال : إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جاءَكُمُ الْفَتْحُ [ الأنفال/ 19] ، أي : إن طلبتم الظّفر أو طلبتم الفتاح۔ أي : الحکم أو طلبتم مبدأ الخیرات۔ فقد جاء کم ذلک بمجیء النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم . وقوله : وَكانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا [ البقرة/ 89]
الاستفتاح
کے معنی غلبہ یا فیصلہ طلب کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جاءَكُمُ الْفَتْحُ [ الأنفال/ 19] ( کافرو) اگر تم محمدؤ ﷺ پر فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی ۔ یعنی اگر تم کامیابی یا فیصلہ طلب کرتے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : لنخرجنکم اور لتعودن مفعول ہیں قال کے اور لنہلکن اور لنسکنن یہ اوحیٰ کے معفول ہیں یتجرعہ ماء کی صفت یا ضمیر یسقی سے حال مثل الذین مبتدا کرماد خبر ہے معنی۔
تفسیر : منجملہ کفار کی اور باتوں کے ایک یہ تھی کہ انہوں نے انجام کار انبیاء (علیہم السلام) سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے مذہب میں آجاؤ (اگرچہ ابتداء ہی سے انبیاء (علیہم السلام) ان کے مذہب میں نہ تھے مگر پھر آجانا جو کہا تو اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے انہیں کے شہروں اور انہیں کے قبیلوں میں نشوونما پایا تھا ابتدا میں کفار سے مخالفت بھی ظاہر نہ کی تھی اس سے وہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے مذہب میں جانتے تھے اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ مِّنْ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنْ مَّـآئٍ صَدِیْدٍ ۔ یَّتَجَرَّعُہٗ وَلاَ یَکَادُ یُسِیْغُہٗ وَیَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ط وَمِنْ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 15۔ 16۔ 17)
(اور انھوں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش منکر حق نامراد ہوگیا۔ ( اس نامرادی) کے بعد جہنم ہے۔ اور پلایا جائے گا اسے خون اور پیپ کا پانی۔ وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ بھرے گا اور حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا۔ اور ہر طرف سے اس پر موت بڑھ رہی ہوگی اور وہ مرنے والا نہ بنے گا۔ اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کے لیے موجود ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
فہم القرآن
ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) اور مومنین کے جواب میں کفار کی دھمکیاں۔
کفار اور مشرکین کی شروع ہی سے یہ عادت رہی ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے خلاف ہرزہ سرائی اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی سر توڑ کوشش ہوتی ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں پر اس قدر جبرو ستم کیا جائے کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے نہ صرف انکار کریں بلکہ اپنی جان کے خوف سے ایمان سے دست کش ہو کر کفر میں پلٹ آئیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے کردار اور ان کی استقامت کے بارے میں کفار کو یقین ہوتا تھا کہ یہ مرجائیں گے…
Read the full tafseer →فیصلہ مانگے تو فیصلہ نافذ کردیا جائے گا :
15: وَاسْتَفْتَحُوْا (اور انہوں نے دشمن پر فتح کی دعا کی) اللہ تعالیٰ سے اپنے دشمنوں کے خلاف مدد مانگی۔ اس کا عطف اوحی الیہم پر ہے۔ وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ (اور ناکام ہوا ہر ظالم سرکش) ہر متکبرو مغرور نامراد ہوا۔ عنیدؔ حق سے پہلو تہی اختیار کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی مدد کی گئی اور وہ کامیاب ہوئے اور انہوں نے کامرانی حاصل کی اور ہر سرکش و مغرور رسوا ہوا اور وہ ان کے قوم والے لوگ تھے۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ ہے کہ ضمیرکفار کی طرف راجع ہے۔ اب مطلب اس طرح ہے کہ کفار نے رسل کے خلاف فیصلہ طلب کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ…
Read the full tafseer →15۔” واستفتحوا “ اس کا مطلب ہے کہ ان سے مدد مطلب کرو ، ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ اس کی ضمیر ما قبل امتوں کی طرف راجع ہے کیونکہ وہ امتیں کہا کرتی تھیں کہ اگر یہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) صادق ہیں تو پھر ہم پر عذاب نازل فرما۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجازۃ من السماء “ اے اللہ ! اگر یہ ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کردے۔
مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ ” استفتحوا “ کی ضمیر رسل کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب رسولوں نے دیکھا کہ ان کی قوم ایمان نہیں لاتی تو وہ اللہ سے مدد مانگنے لگتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15۔ 17۔ رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور بعض مفسروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کفار نے بھی چاہا کہ یہ رسول سچے ہوں تو ان لوگوں پر عذاب آجاوے غرض کہ دونوں معنے یہاں ممکن ہیں پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور خدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لئے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو یہ لوگ ہلاک ہوئے اور ساری ملکیت پر ان ہی مومنوں کا قبضہ ہوا اور آخرت میں جہنم بھی ان کے واسطے تیار ہے وہاں پانی کی جگہ پینے کی پیپ کا ملا ہوا…
Read the full tafseer →(واستفتحوا) ” اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا “ یعنی کفار نے۔ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے، اس کے اولیاء اور اس کے اعداء کے درمیان تفریق و امتیاز کے مطالبے میں جلدی مچائی، پس انہوں نے جو فیصلہ طلب کیا تھا، وہ ان کے پاس آگیا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو نہایت حلم والا ہے۔ وہ اپنے نافرمانوں کو سزادینے میں جلدی نہیں کرتا۔ (وخاب کل جبار عنید) ” اور نامراد ہوا ہر سرکش ضدی “ یعنی جو اللہ تعالیٰ ، حق اور اللہ کے بندوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتا ہے، زمین میں تکبر کرتا ہے اور انبیاء ورسل کے خلاف عنادرکھتا ہے اور ان کی مخالفت کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں خائب و خاسر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →30۔ خوف وخشیت خداوندی اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد :
سوخوف وخشیت خداوندی اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد ہے۔ پس یہ وعدہ کسی فرد، قوم یا علاقہ اور رنگ ونسل اور کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ سب کے لیے عام ہے۔ اور اس کے استحقاق کی اساس و بنیاد وخوف وخشیت خداوندی ہے کہ یہی وہ سب سے اہم اور بنیادی عنصر ہے جس سے انسانی زندگی اور سنورتی ہے۔ اللہم فخذ نا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ بہر کیف اس ارشاد ربانی سے یہ حقیقت واضح اور آشکارا ہوجاتی ہے کہ خوف وخشیت خداوندی اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد ہے۔ وباللہ التوفیق۔ اور رسولوں کو دی گئی اس بشارت میں چونکہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یا فیصلہ چاہا ” استفتحوا “ کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں اور قرا ان کی مختلف آیات میں ان معنوں میں یہ استعمال ہوا ہے۔ مدد مانگنے کے معنی میں ہو تو اس سے مراد پیغمبر ﷺ ہیں اور فیصلہ چاہنے کے معنی ہیں ہو تو اس سے مراد کفار ہوں گے۔ (رازی) ۔
4 ۔ یعنی پیغمبروں کا اللہ تعالیٰ کو پکارنا تھا کہ مدد آئی اور ان کے تمام دشمن تباہ و برباد ہوگئے۔ نہ وہ رہے اور نہ ان کا گھمنڈ۔ یہ تو ان کا دنیا میں حشر ہوا۔ (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(14:15) استفتحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے فیصلہ مانگا۔ انہوں نے فتح چاہی ۔
استفتاح (استفعال) سے جس کے معنی غلبہ یا فیصلہ طلب کرنے کے ہیں۔ فتح کے معنی غلبہ کی مثال نصر من اللہ وفتح قریب۔ (61:13) (تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح عنقریب (ہوگی) اور کی مثال قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانہم (33:29) کہہ دیجئے (اے محمد ﷺ ) کہ فیصلہ کے روز (یعنی روز قیامت ) کافروں کو ان کا ایمان لانا ذرا بھی نفع نہ دے گا۔ یا۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق (7:89) اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے۔
استفتحوا کا فاعل کون ہے۔ ضمیر کا مرجع انبیاء بھی ہوسکتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 17
ارض زمین، سر زمین۔ لتعودن البتہ تمہیں ضرور لوٹنا ہوگا ۔ ملت مذہب، قوم، دین۔ اوحی اس نے وحی کی نھلکن ہم ضرور ہلاک کردیں گے۔ نسکنن ہم ضرور جما دیں گے۔ مقامی میرا مقام۔ وعید تنبیہ، غفلت سے جگانے والی استفتحوا انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔ مانگا۔ خاب ذلیل و خوار ہوا۔ جبار بہت جبر کرنے والا۔ عنید ضدی ۔ وراء پیچھے۔ یسقی پلایا جائے گا۔ ماء صدید پیپ کا پانی، گندہ پانی یتجرع گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ لایکاد قریب نہ ہوگا۔ یسیغ حلق سے اتارے گا۔ میت مرنے والا۔ غلیظ سخت۔
تشریح : آیت نمبر 13 تا 17
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرام نے جب بھی کفر و شرک، بدعات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
کافروں کا دوزخ جانا اور اس کی کیفیت : رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور انبیاء اور ان کی امت سب مل کر یہ حکم چاہتے تھے کہ ہم میں سے جو کوئی باطل پر ہو اس پر عذاب نازل فرما۔ حق تعالیٰ نے فیصلہ کردیا انبیاء اور مومنوں نے نجات پائی۔ پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور کدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ کے مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لیے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے۔ وہاں پانی کی جگہ پینے کو پیپ کا ملا ہوا جوش کھاتا ہوا پانی ملے گا۔ مارے بدبو اور کڑواہٹ کے حق سے نیچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[8] یعنی پیغمبروں نے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
ایمان افروز استفہام :
(ف 1)
” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔
ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔
قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل…
Read the full tafseer →15 ۔ اور فریقین فیصلہ طلب کرنے لگے اور ہر سرکش اور معاند ہلاک و نامراد ہوا ۔ یعنی ادھر تو کفار نے مطالبہ کیا کہ جو وعدے کرتا ہے ان کو لے آ ۔ ادھر انبیاء کی خواہش ہوئی کہ ان کی سرکشی حد سے تجاوز کرگئی اب تو آخری فیصلہ ہوجانا چاہئے۔ چناچہ عذاب میں مبتلا کئے گئے اور نتیجہ یہ ہوا ہوسکتا ہے کہ صرف کفار نے ہی فیصلہ کا مطالبہ کیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 3۔ یعنی ہلاک ہوگئے اور جو ان کی مراد تھی کہ اپنے کو اہل حق سمجھ کر فتح وظفر چاہتے تھے وہ حاصل نہ ہوئی۔
Read the full tafseer →انبیاء کرام (علیہ السلام) نے فتح طلب کی اور سرکشوں کو نامراد کیا گیا
16 ؎ واستفتحوا کا فاعل کون ہے یعنی یہ فیصلہ کس نے چاہا ؟ اکثر کی رائے تو یہی ہے کہ یہ فیصلہ کا مطالبہ کرنے والے کافر تھے اسے استضروا یعنی الامم (معالم عن ابن عباس ؓ الضمیر للکفار (روح المعانی ‘ ابن زید) اور ضمیر بجائے کفار کے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی طرف بھی کی جاسکتی ہے۔ والضمیر الانبیاء علیھم السلام (بیضاوی) ہم نے ترجمہ میں انبیاء (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے جو اس لئے تحریر کرنا پڑتا کہ قارئین سمجھ لیں کہ یہاں ضمائر کی وجہ سے مضمون میں رد و بدل ہو سکتا ہے وہاں گنجائش ہوتی ہے کہ بات اس طرح کی جائے جس طرح مضمون صاف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
24. In order to grasp the real significance of these historical events, it should be kept in view that these are being related here as answers to those objections which the disbelievers of Makkah raised before the Prophet (peace be upon him). As the conditions there at the time of the revelation of this Surah were exactly like those of the peoples of the former Prophets, they have been cited here to warn the Quraish along with the other mushriks of Arabia of the consequences, as if to say: The former disbelievers challenged their Messengers and were destroyed and the believers were…
Read the full tafseer →