Ibrahim 14:16

Ibrahim · from ayah 16

14:16

مِّنْ وَّرَآىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍ ۟ۙمِّنۡ وَّرَآئِهٖ جَهَـنَّمُ وَيُسۡقٰى مِنۡ مَّآءٍ صَدِيۡدٍۙ‏

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Before him is Hell, and he will be given a drink of purulent water.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:16

پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے سامنے دوزخ ہے جہاں وه پیﭗ کا پانی پلایا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے آگے جہنم ہے اور (وہاں) اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جہنم اس کے پیچھے لگی اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس (بربادی) کے پیچھے (پھر) جہنم ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے پیچھے جہنم ہے اور اسے اس پانی سے پلایا جائے گا جو پیپ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کے بعد (اس کے لئے) جہنم ہوگی اور پینے کو اسے پیپ کا پانی دیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کے آگے جہنم ہے اور اس کو پیپ لیہو پینے کو ملے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس (دنیوی عذاب) کے آگے اس کے لئے جہنم ہے جہاں سے پیپ لہو (کا پانی) پینے کو دیا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اس کے آگے دوزخ ہے اور اسے پیپ لہو پانی پلایا جائے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کے پیچھے جہنم ہے اور اس کو پلایا جائے گا پیپ والا پانی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Hell is before him and he shall be made to drink of the oozing pus,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Hell is pursuing him, and he shall be made to drink pus-fluid,

— Muhammad Taqi Usmani

The Hell is pursuing him, and he shall be made to drink pus-fluid,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In front of him is Hell, and he will be made to drink boiling, festering water.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hell is before him, and he is made to drink a festering water,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Before him is Hell, and he will be given a drink of purulent water.

— Saheeh International

Thereafter they will face hell fire wherein they will drink boiling water.

— Muhammad Sarwar

Hell is before him and he shall be given to drink of festering water:

— Muhammad Habib Shakir

Behind him is Hell, and he shall be made to drink of fetid water.

— Abdul Majid Daryabadi

In front of such a one is Hell, and he is given, for drink, boiling fetid water.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–17

آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–17

سورة اِبْرٰهِیْم 24 ملحوظ خاطر رہے کہ یہاں اس تاریخی بیان کے پیرایہ میں دراصل کفار مکہ کو ان باتوں کا جواب دیا جا رہا ہے جو وہ نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے۔ ذکر بظاہر پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات کا ہے مگر چسپاں ہو رہا ہے وہ ان حالات پر جو اس سورة کے زمانہ نزول میں آ رہے تھے۔ اس مقام پر کفار مکہ کو، بلکہ مشرکین عرب کو گویا صاف صاف متنبہ کردیا گیا کہ تمہارا مستقبل اب اس رویے پر منحصر ہے جو دعوت محمدیہ کے مقابلے میں تم اختیار کرو گے۔ اگر اسے قبول کرلو گے تو عرب کی سرزمین میں رہ سکو گے، اور اگر اسے رد کردو گے تو یہاں سے تمہارا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔ چناچہ اس بات کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–17

خلاصہ تفسیر (جس جبار عنید کا اوپر ذکر ہوا ہے علاوہ دنیوی عذاب کے) اس کے آگے دوزخ (کا عذاب آنے والا) ہے اور اس کو (دوزخ میں) ایسا پانی پینے کو دیا جاوے گا جو کہ پیپ لہو (کہ مشابہ) ہوگا جس کو (غایت تشنگی کی وجہ سے) گھونٹ گھونٹ کر کے پیوے گا اور (غایت حرارت و کراہت کی وجہ سے) گلے سے آسانی کے ساتھ اتارنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور ہر (چہار) طرف سے اس پر (سامان) موت کی آمد ہوگی اور وہ کسی طرح مرے گا نہیں (بلکہ یوں ہی سسکتا رہے گا) اور (پھر یہ بھی نہیں کہ یہی عذاب مذکور ایک حالت پر رہے بلکہ) اس (شخص) کو اور (زیادہ) سخت عذاب کا سامنا (برابر) ہوا (کرے) گا (جس سے عادت پڑنے کا احتمال ہی نہیں ہوسکتا کقولہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–17

تفسیر آیات 16 تا 17: سرکشوں کے لیے آگے کا عذاب : یعنی ایسے سرکشوں اور جباروں کے لیے اسی عذاب دنیا پر بس نہیں ہے بلکہ ان کے لیے آگے جہنم بھی تیار کھڑی ہے جہاں ان کو پیپ لہو پینے کو ملے گا لیکن پیاس کا یہ عالم ہوگا کہ وہ اس کے گھونٹ بھریں گے اور اس کو حلق سے اتارنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کو اتار نہ پائیں گے۔ ان پر موت ہر جانب سے پلی پڑ رہی ہوگی لیکن ان کو موت نصیب نہیں ہوگی کہ اس عذاب سے چھٹکارا ملے اور اسی پر بس نہیں، آگے ان کے لیے مزید سخت تر عذاب موجود ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 صَدِیْد، پیپ اور خون جو جہنمیوں کے گوشت اور ان کی کھالوں سے بہا ہوگا۔ بعض احادیث میں اسے (جہنمیوں کے جسم سے نچوڑا ہوا) اور بعض احادیث میں ہے یہ صدید اتنا گرم اور کھولتا ہوا ہوگا کہ ان کے منہ کے قریب پہنچتے ہی ان کے چہرے کی کھال جھلس کر گرپڑے گی اور اس کا ایک گھونٹ پیتے ہی ان کے پیٹ کی آنتیں پاخانے کے راستے باہر نکل پڑیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–16

10: یعنی پیغمبروں سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ سے کہہ کر ایسا عذاب ہم پر بھجوا دو جس سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ یہ بات کہہ کر وہ در اصل پیغمبروں کا متکبرانہ انداز میں مذاق اڑاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت نمبر 15 تا 17 یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی پیغمبروں کا خدا کو پکارنا تھا کہ مدد آئی اور ہر ایک سرکش اور ضدی نامراد ہو کر رہ گیا۔ جو کچھ خیالات پکا رکھے تھے، ایک ہی پکڑ میں کافور ہوگئے نہ وہ رہے نہ ان کی توقعات رہیں۔ ایک لمحہ میں سب کا خاتمہ ہوا۔ 5 یعنی یہ تو یہاں کا عذاب تھا اس کے بعد آگے دوزخ کا بھیانک منظر ہے جہاں شدت کی تشنگی کے وقت ان کو پیپ یا پیپ جیسا پانی پلایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

آیت 15 وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ جو لوگ کفر و شرک پر ڈٹے رہتے وہ اس بات پر بھی اپنے رسول سے اصرار کرتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ پھر جب اللہ کی طرف سے وہ آخری فیصلہ عذاب استیصال کی صورت میں آتا تو اس کے نتیجے میں سرکش اور ہٹ دھرم قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ ایسے منکرین حق کی تباہی و بربادی کا نقشہ قرآن حکیم میں اس طرح کھینچا گیا ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا الاعراف : 92 ”وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں“ اور فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ الاحقاف : 25 یعنی وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے دیار و امصار میں صرف ان کے محلات و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

19 یعنی ایک طرف تو رسول اللہ اللہ سے فتح و نصرت کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مخالفین یہ مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ اس وقت اللہ رسولوں کی مدد کرتا ہے اور سرکش معاندین اور ہٹ دھرم لوگوں کا سر کچل دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

29۔ (شدت حرارت یا غایب کراہت سے) (آیت) ” من ورآۂ جھنم “۔ وراء لغات اضداد میں سے ہے۔ اور اس کے معنی جس طرح ” پیچھے “ کے ہیں۔” آگے “ کے بھی آتے ہیں۔ ائمہ لغت سے یوں ہی منقول ہے۔ قال ابوعبیدہ وابن السکیت الوراء من الاضداد یقع علی الخلف والقدام (کبیر) اے من بین یدیہ (کشاف) یقال لمن خلفہ ویقال لمن قدامہ (راغب) 30۔ یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ دوزخی کے لئے بس یہی ایک عذاب ہوگا۔ سلسلۂ عذاب تو بےنہایت ہے۔ برابر اس میں اضافہ و ترقی ہی ہوتی جائے گی، (آیت) وما ھو بمیت “۔ اور وہ کسی طرح مر نہ چکے گا، بلکہ اسی طرح سسکتا رہے گا۔ عذاب دوزخ کی شدت اور ہولناکی کا جو منظر حق تعالیٰ نے خود کھینچ دیا ہے کسی شارح یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–21

آیت نمبر 13 تا 21 ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من ورآۂ جھنم اس کے پیچھے (یعنی اس کے مرنے کے بعد اس کیلئے) جہنم ہے۔ مقاتل نے یہی ترجمہ کیا ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ اس کے سامنے جہنم ہے۔ دنیا میں گویا وہ جہنم کے کنارے پر کھڑا ہوا ہے۔ جہنم اس کی گھات میں ہے۔ آخرت میں اس کو جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابو عبیدہ نے کہا : وراء کا ترجمہ ہے : آڑ۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے ‘ آگے اور پیچھے دونوں اس کے معنی ہیں۔ ویسقے من مآء صدید اور اس کو پانی یعنی کچ لہو پلایا جائے گا۔ صَدِیْد وہ پانی جو دوزخیوں کے جوف اور کھالوں سے بہے گا اور پیپ و خون اس میں آمیختہ ہوگا۔ محمد بن کعب نے کہا : جو پانی زناکاروں کے اعضاء نہانی سے بہے گا ‘ وہ کافروں کو پلایا جائے گا۔ برقول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) اور مرنے کے بعد ان سرکشوں کے سامنے دوزخ ہے اور وہاں جو ان کے کھالوں سے لہو اور پیپ نکلے گا وہ انکو پینے کے لیے دیا جائے گا جس کو وہ گھونٹ گونٹ پئیں گے اور وہ گلے سے آسانی کے ساتھ نہیں اترے گا اور ہر ایک بال کی جڑ سے موت کے غم و تکلیف کی آدمد ہوگی، یا یہ کہ ہر ایک گوشہ سے اس کو آگ پکڑے گی اور وہ اس عذاب سے کسی طرح مرے گا نہیں بلکہ اس لہو، پیپ وغیرہ کے عذاب کے بعد اس سے زیادہ سخت ترین عذاب کا سامنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّاۗءٍ صَدِيْدٍ : ”وَرَآءٌ“ کے متعدد معانی آئے ہیں : 1 پیچھے یا بعد، جیسے فرمایا : (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ) [ ھود : 71 ] ”اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بشارت دی۔“ 2 غیر یعنی سوا، جیسے فرمایا : (فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ) [ المؤمنون : 7 ] ”پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔“ 3 آگے، جیسا کہ سورة کہف (79) میں ”وَكَانَ وَرَاۗءَهُمْ مَّلِكٌ“ کا معنی ”ان کے آگے ایک بادشاہ تھا“ کیا گیا ہے۔ یہاں مراد بعد بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی ناکامی کے بعد اس کے لیے جہنم ہے اور آگے بھی کہ آئندہ جہنم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–17

آیت نمبر 15 تا 17 قولہ تعالیٰ : واستفتحوا یعنی انہوں نے مدد کی التجا کی، یعنی رسولوں کو اپنی قوم کے خالق فتح کی التجا اور ان کی ہلاکت کی دعا کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر کا نقطہ نظر ہے۔ سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے اور اس سے حدیث طیبہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مہاجرین کی کامیابی و کامرانی کے لیے فتح کی التجا کرتے تھے یعنی مدد طلب کرتے تھے۔ ابن زید نے کہا : مختلف امتوں نے دعا کے ذریعے فتح کی التجا کی جس طرح قریش نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک الایۃ (الانفال : 32) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” انہوں نے میری تکذیب کی ہے پس میرے درمیان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–16

1:۔ امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسولوں اور ایمان والوں کو ان کی قوم نے ان کو کمزور بنا رکھا تھا اور ان کو مغلوب کر رکھا تھا اور وہ ان کو جھٹلاتے تھے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ اپنے (سابقہ) دین میں لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو منع فرمایا کہ وہ کفر کے دین میں لوٹ آئیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ ان غاصبوں اور ظالموں کے خلاف (اللہ تعالیٰ سے) مدد مانگیں اور ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کو نیست ونابود کرنے بعد وہ انہیں ان کے ملک میں ٹھہرائے گا اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ : اس کے پیچھے ] [ جَهَنَّمُ : دوزخ ہے ] [ وَيُسْقٰى: اور اس کو پلایا جائے گا ] [ مِنْ مَاۗءٍ صَدِيْدٍ : پیپ والے پانی میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ماء صدید کیا ہے حضرت ابوامامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یُسْقٰی مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ ) کے بارے میں فرمایا کہ ماء صدید (پیپ کا پانی) جب دوزخی کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے نفرت کرے گا پھر اور قریب کیا جائے گا تو چہرہ کو بھون ڈالے گا اور اس کے سر کی کھال گرپڑے گی پھر جب اسے پئے گا تو انتڑیاں کاٹ ڈالے گا اور پاخانے کے مقام سے باہر نکل جائے گا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ذیل کی آیات تلاوت فرمائیں اور اول سورة محمد کی آیت (وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) دوسری سورة کہف کی آیت یعنی (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْاِ بمَآءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–17

بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا تذکیر با یام اللہ قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔ (ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

20:۔ یہ وقائع اخرویہ میں سے ہے یعنی دنیا میں ہلاکت اور ذلت و رسوائی کے علاوہ آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جہاں انہیں نہایت ہی غلیظ اور متعفن پانی پینے کو دیا جائے جسے گلے سے نیچے اتارنا بھی مشکل ہوگا۔ ” وَ یَاتِیْہِ الْمَوْتُ “ موت سے اسباب موت یعنی گوناگوں عذاب مراد ہیں یعنی جہنم میں ہر طرف سے عذاب ہی عذاب ہوگا اور ہر عذاب ایسا شدید اور المناک ہوگا کہ انسان کی موت واقع ہوجائے مگر کفار جہنم میں اس عذاب سے مریں گے نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ ہمیشہ عذاب الیم کا مزہ چکھتے رہیں۔ ” ای اسباب الموت من کل جہۃ وھذا تفظیع لما یصیبہ من الالام ای لوکان ثمۃ الموت لکان کل واحد منھا مھلکا “…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–17

(ربط آیات) اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت ، اس کے کتاب ہدایت ہونے اور اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کا ذکر کیا ، پھر منکرین قرآن کے انجام کو بیان فرمایا ، اس کے بعد (آیت) ” وما ارسلنا من رسول “۔ سے رسالت کا سلسلہ شروع ہوا ، پھر قوم موسیٰ ، نوح ، عاد ، اور ثمود کا ذکر ہوا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان اقوام کے مکالمے کا بیان آیا پھر نبیوں کے طریق کار کا تذکرہ ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدا کی ذات پر بھروسہ کیا ، راہ حق پر گامزن رہے ، اور صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا۔ منکرین نے رسولوں کی بشریت پر بھی اعتراض کیا ، جس کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّاۗءٍ صَدِيْدٍ 16۝ۙ وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم . ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–17

ترکیب : لنخرجنکم اور لتعودن مفعول ہیں قال کے اور لنہلکن اور لنسکنن یہ اوحیٰ کے معفول ہیں یتجرعہ ماء کی صفت یا ضمیر یسقی سے حال مثل الذین مبتدا کرماد خبر ہے معنی۔ تفسیر : منجملہ کفار کی اور باتوں کے ایک یہ تھی کہ انہوں نے انجام کار انبیاء (علیہم السلام) سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے مذہب میں آجاؤ (اگرچہ ابتداء ہی سے انبیاء (علیہم السلام) ان کے مذہب میں نہ تھے مگر پھر آجانا جو کہا تو اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے انہیں کے شہروں اور انہیں کے قبیلوں میں نشوونما پایا تھا ابتدا میں کفار سے مخالفت بھی ظاہر نہ کی تھی اس سے وہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے مذہب میں جانتے تھے اس لئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–17

وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ مِّنْ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنْ مَّـآئٍ صَدِیْدٍ ۔ یَّتَجَرَّعُہٗ وَلاَ یَکَادُ یُسِیْغُہٗ وَیَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ط وَمِنْ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 15۔ 16۔ 17) (اور انھوں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش منکر حق نامراد ہوگیا۔ ( اس نامرادی) کے بعد جہنم ہے۔ اور پلایا جائے گا اسے خون اور پیپ کا پانی۔ وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ بھرے گا اور حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا۔ اور ہر طرف سے اس پر موت بڑھ رہی ہوگی اور وہ مرنے والا نہ بنے گا۔ اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کے لیے موجود ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی مخالفت کرنے والے دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ کفار کے مظالم جب اپنی انتہا کو پہنچے تو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان سے نجات اور اپنی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مخالفوں کو دنیا میں برباد کیا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم ہوگی۔ جس میں انہیں پینے کے لیے انہی کے زخموں سے نکلنے والا گنداخون اور بدبو دار پیپ دی جائے گی۔ جہنم کی تپش اور بھوک پیاس کی شدت کی وجہ سے جہنمی انتہائی کرب اور مجبوری کی حالت میں پیپ والے ابلتے ہوئے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے۔ مگر وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہمیشہ کا عذاب : 16: مِّنْ وَّ رَآ ئِہٖ (اس کے پیچھے) یعنی سامنے جَھَنَّمُ (جہنم ہے) نمبر 1۔ یہ اسکی حالت دنیا میں ہے کہ وہ جہنم کا منتظر ہے گویا کہ جہنم اس کے سامنے ہے اور یہ کافر اس کے گڑھے کے کنارے کھڑا ہے۔ نمبر 2۔ اسکی حالت کی یہ کیفیت آخرت میں ہوگی جب کہ وہ اٹھایا جائے گا اور موقف میں کھڑا کیا جائے گا۔ وَیُسْقٰی (اور اس کو پلا یا جائے گا) اسکا عطف محذوف پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ من ورائہ جہنم یلقی فیھا مایلقی اس کے پیچھے جہنم ہے اس میں وہ پائے گا جو وہ پائے گا مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ (اس کو کچ لہو پلایا جائے گا) صدیدؔ اہل نار کے چمڑوں سے بہنے والا خون وپیپ۔ صدید یہ ماء کا عطف بیان ہے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 16۔” من ورائہ جھنم “ ان کے آگے جہنم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وکان وراء ھم ملک ‘ ‘ یعنی ” امامھم “ ( ان کے آگے) ابو عبیدہ کا قول ہے کہ یہ اضداد میں سے ہے۔ اخفش کا قول ہے کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ یہ کام تمہارے پیچھے آ رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کام بعد میں تمہارے پاس ہوگا اور میں فلاح کے پیچھے کھڑا ہوں ۔ یعنی اس کی آڑ میں ہوں اور مقاتل (رح) کا قول ہے اس کے پیچھے جہنم ہے اس کے بعد ” ویسفی من ماء صدید “ یعنی وہ پانی جو دوزخیوں کے پیٹ اور کھالوں سے بہے گا وہ پیپ اور خون ہوگا ۔ محمد بن کعب کا قول ہے وہ پانی جو زنا کاروں کے اعضاء نہانی سے بہے گا وہ کافروں کو پلایا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–17

15۔ 17۔ رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور بعض مفسروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کفار نے بھی چاہا کہ یہ رسول سچے ہوں تو ان لوگوں پر عذاب آجاوے غرض کہ دونوں معنے یہاں ممکن ہیں پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور خدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لئے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو یہ لوگ ہلاک ہوئے اور ساری ملکیت پر ان ہی مومنوں کا قبضہ ہوا اور آخرت میں جہنم بھی ان کے واسطے تیار ہے وہاں پانی کی جگہ پینے کی پیپ کا ملا ہوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(من ورآبہ جھنم ) ” اس کے پیچھے دوزخ ہے “ یعنی جہنم اس معاند حق، جابر شخص کی گھات میں ہے وہ ضرور اس جہنم میں وارد ہوگا، تب اسے سخب عذاب کا مزاچکھایا جائے گا۔ (ویسقی من مآء ضدید) ” اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا “ جو اپنے رنگ، ذائقے اور بدبو میں خون اور پیپ جیسا ہوگا اور وہ انتہائی گرم ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

32۔ اور اس کے آگے ان کے لئے جہنم : یعنی صرف یہی نہیں کہ دنیاوی عذاب ہوا اور بس جان چھوٹ گئی۔ نہیں بلکہ دنیا کے اس چھوٹے عذاب کے بعد اصل اور بڑا عذاب آخرت کا وہ عذاب ہے جس میں انہوں نے ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اپنے کفر وعناد کی پاداش میں۔ والعیاذ باللہ۔ اور وہ اتنا بڑا اور اس قدر ہولناک عذاب ہوگا کہ اس کے سامنے دنیا کا یہ عذاب نہ ہونے کے برابر ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اکبر) نیز فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اشق) نیز فرمایا گیا (والعذاب الاخرۃ اخزی) ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو کفار و منکرین کے لئے حقیقی عذاب جو کہ کفر انکار کا اصل اور پھر پوربدلہ ہوگا وہ دائمی اور ایسا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–23

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 13–21

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔ (نبی کی ولایت) حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:16) من ورائہ جہنم۔ وراء لگات اضداد میں سے ہے اس کے معنی جس طرح ” پیچھے “ کے ہیں ” آگے “ کے بھی آتے ہیں۔ یہاں بمعنی من بین یدیہ (اس کے آگے ہے) یعی ان کی اس دنیاوی نامرادی و ناکامی کے آگے آخرت میں جہنم ہوگا۔ صدید۔ پیپ۔ کچ لہو۔ جو اہل دوزخ کے جسموں میں سے بہیگی۔ یہ ماء کا عطف بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–17

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 17 ارض زمین، سر زمین۔ لتعودن البتہ تمہیں ضرور لوٹنا ہوگا ۔ ملت مذہب، قوم، دین۔ اوحی اس نے وحی کی نھلکن ہم ضرور ہلاک کردیں گے۔ نسکنن ہم ضرور جما دیں گے۔ مقامی میرا مقام۔ وعید تنبیہ، غفلت سے جگانے والی استفتحوا انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔ مانگا۔ خاب ذلیل و خوار ہوا۔ جبار بہت جبر کرنے والا۔ عنید ضدی ۔ وراء پیچھے۔ یسقی پلایا جائے گا۔ ماء صدید پیپ کا پانی، گندہ پانی یتجرع گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ لایکاد قریب نہ ہوگا۔ یسیغ حلق سے اتارے گا۔ میت مرنے والا۔ غلیظ سخت۔ تشریح : آیت نمبر 13 تا 17 قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرام نے جب بھی کفر و شرک، بدعات اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–17

کافروں کا دوزخ جانا اور اس کی کیفیت : رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور انبیاء اور ان کی امت سب مل کر یہ حکم چاہتے تھے کہ ہم میں سے جو کوئی باطل پر ہو اس پر عذاب نازل فرما۔ حق تعالیٰ نے فیصلہ کردیا انبیاء اور مومنوں نے نجات پائی۔ پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور کدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ کے مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لیے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے۔ وہاں پانی کی جگہ پینے کو پیپ کا ملا ہوا جوش کھاتا ہوا پانی ملے گا۔ مارے بدبو اور کڑواہٹ کے حق سے نیچے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–16

ایمان افروز استفہام : (ف 1) ” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔ ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

16 ۔ پھر اب اس کے آگے دوزخ ہے اور اس کو دوزخ میں ایسا پانی پلایا جائے گا جو کچلہو ہوگا ۔ یعنی دنیوی عذاب کے بعد اخروی عذاب ہے اور وہ جہنم ہے جہاں پیاس اور تشنگی کے وقت ایسا پانی پلایا جائے گا جو پیپ ملے ہوئے خون کا ہمرنگ ہوگا جس کو کچلہو کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ یوں ترجمہ کیا جائے کہ اس دنیوی عذاب کے پیچھے جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

ف 3۔ یعنی ہلاک ہوگئے اور جو ان کی مراد تھی کہ اپنے کو اہل حق سمجھ کر فتح وظفر چاہتے تھے وہ حاصل نہ ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار کیلئے دوزخ میں ان کی مہمانی اور ضیافت کا سامان کیا ہوگا ؟ 17 ؎ کفار و معاندین کی مہمانی کا ذکر بھی زیر نظر آیت میں کردیا گیا کہ ان کی ضیافت کس اشیاء سے کی جائے گی ؟ ان کے متعلق ارشاد ہوا کہ جہنم میں ان کو خون اور پیپ پیش کیا جائے گا اور اس سے اصل مراد ان کی تضحیک اور رسوائی ہے جو بطور مثال بیان کی گئی ہے اور ” ماہ صدید “ کھولتے ہوئے پانی کو بھی کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ان کو ذلت و رسوائی سے دوچار کرنے کے بعد انہیں فراموش نہیں کردیا جائے گا بلکہ ہمارے انبیاء اور رسول کی جو انہوں نے توہین کی تھی ان کے سامنے جو گستاخیاں کی تھیں اور قول حق سے انکار کیا تھا اس کے بدلے میں انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–25

In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُ‌وا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–17

24. In order to grasp the real significance of these historical events, it should be kept in view that these are being related here as answers to those objections which the disbelievers of Makkah raised before the Prophet (peace be upon him). As the conditions there at the time of the revelation of this Surah were exactly like those of the peoples of the former Prophets, they have been cited here to warn the Quraish along with the other mushriks of Arabia of the consequences, as if to say: The former disbelievers challenged their Messengers and were destroyed and the believers were…

Read the full tafseer →