Explained with ayahs 13–17
آل لوط
کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو۔ وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا۔ اپنے نبی کو سلامتی کے ساتھ مکہ سے لے گیا مدینے والوں کو آپ کا انصار و مددگار بنادیا وہ آپ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالاخر آپ نے مکہ بھی فتح کرلیا اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
سورة اِبْرٰهِیْم 24
ملحوظ خاطر رہے کہ یہاں اس تاریخی بیان کے پیرایہ میں دراصل کفار مکہ کو ان باتوں کا جواب دیا جا رہا ہے جو وہ نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے۔ ذکر بظاہر پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات کا ہے مگر چسپاں ہو رہا ہے وہ ان حالات پر جو اس سورة کے زمانہ نزول میں آ رہے تھے۔ اس مقام پر کفار مکہ کو، بلکہ مشرکین عرب کو گویا صاف صاف متنبہ کردیا گیا کہ تمہارا مستقبل اب اس رویے پر منحصر ہے جو دعوت محمدیہ کے مقابلے میں تم اختیار کرو گے۔ اگر اسے قبول کرلو گے تو عرب کی سرزمین میں رہ سکو گے، اور اگر اسے رد کردو گے تو یہاں سے تمہارا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔ چناچہ اس بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
خلاصہ تفسیر
(جس جبار عنید کا اوپر ذکر ہوا ہے علاوہ دنیوی عذاب کے) اس کے آگے دوزخ (کا عذاب آنے والا) ہے اور اس کو (دوزخ میں) ایسا پانی پینے کو دیا جاوے گا جو کہ پیپ لہو (کہ مشابہ) ہوگا جس کو (غایت تشنگی کی وجہ سے) گھونٹ گھونٹ کر کے پیوے گا اور (غایت حرارت و کراہت کی وجہ سے) گلے سے آسانی کے ساتھ اتارنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور ہر (چہار) طرف سے اس پر (سامان) موت کی آمد ہوگی اور وہ کسی طرح مرے گا نہیں (بلکہ یوں ہی سسکتا رہے گا) اور (پھر یہ بھی نہیں کہ یہی عذاب مذکور ایک حالت پر رہے بلکہ) اس (شخص) کو اور (زیادہ) سخت عذاب کا سامنا (برابر) ہوا (کرے) گا (جس سے عادت پڑنے کا احتمال ہی نہیں ہوسکتا کقولہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
تفسیر آیات 16 تا 17: سرکشوں کے لیے آگے کا عذاب : یعنی ایسے سرکشوں اور جباروں کے لیے اسی عذاب دنیا پر بس نہیں ہے بلکہ ان کے لیے آگے جہنم بھی تیار کھڑی ہے جہاں ان کو پیپ لہو پینے کو ملے گا لیکن پیاس کا یہ عالم ہوگا کہ وہ اس کے گھونٹ بھریں گے اور اس کو حلق سے اتارنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کو اتار نہ پائیں گے۔ ان پر موت ہر جانب سے پلی پڑ رہی ہوگی لیکن ان کو موت نصیب نہیں ہوگی کہ اس عذاب سے چھٹکارا ملے اور اسی پر بس نہیں، آگے ان کے لیے مزید سخت تر عذاب موجود ہوگا۔
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی انواع و اقسام کے عذاب چکھ چکھ کر وہ موت کی آرزو کرے گا۔ لیکن، موت وہاں کہاں ؟ وہاں تو اسی طرح دائمی عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →11: یہ ترجمہ امام رازی ؒ کی بیان فرمائی ہوئی ایک تفسیر پر مبنی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں محسوس یہ ہوگا کہ وہ اس پانی کو حق سے اتار نہیں سکیں گے۔ لیکن گھونٹ گھونٹ کر کے بڑی مشکل سے اور بڑی دیر میں وہ حلق سے اترے گا۔
12: ہر طرف سے موت آنے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جو مختلف صورتیں سامنے آئیں گی۔ وہ ایسی ہوں گی جو دنیا میں جان لیوا اور موت کا سبب ہوتی ہیں مگر وہاں ان کی وجہ سے انہیں موت نہیں آئے گی۔
13: یعنی ہر عذاب کے بعد ایک دوسرا سخت عذاب آنے والا ہوگا، تاکہ ایک ہی قسم کا عذاب سہہ سہہ کر انسان اس کا عادی نہ ہوجائے والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت نمبر 15 تا 17
یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس…
Read the full tafseer →6 یعنی خوشی سے کہاں پی سکیں گے۔ حدیث میں ہے کہ فرشتے لوہے کے گرز سر پر مار کر زبردستی منہ میں ڈالیں گے۔ جس وقت منہ کے قریب کریں گے شدت حرارت سے دماغ تک کی کھال اتر کر نیچے لٹک پڑے گی، منہ میں پہنچ کر گلے میں پھنسے گا، بڑی مصیبت اور تکلیف کے ساتھ ایک ایک گھونٹ کر کے حلق سے نیچے اتاریں گے۔ پیٹ میں پہنچنا ہوگا کہ آنتیں کٹ کر باہر آجائیں گی۔ ( وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ ) 47 ۔ محمد :15) (وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَاۗءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ ) 18 ۔ الکہف :29) (اعاذنا اللہ منہما وسائر المومنین)
7 یعنی اس کا پینا کیا ہوگا ہر طرف سے موت کا سامنا کرنا…
Read the full tafseer →وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ
شدید تکلیف میں موت انسان کو راحت پہنچا دیتی ہے۔ بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ تکلیف کی شدت میں ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے ہیں اور موت ان کے لیے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔ لیکن جہنم ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کو موت نہیں آئے گی۔ سورة طٰہٰ میں اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی ”نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جی پائے گا“۔ اہل جہنم شدید خواہش کریں گے کہ موت آجائے اور ان کا قصہ تمام ہوجائے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔
وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ
یعنی اس سختی میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا عذاب…
Read the full tafseer →20 یہ سزا تو دنیا میں ملے گی اور آخرت میں انھیں جہنم میں آتش دوزخ کے علاوہ کئی طرح کی اضافی سزاؤں سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے سخت قسم کی پیاس محسوس کریں گے تو پانی کے لیے فریاد کریں گے مگر پانی کے بجائے انھیں رستے ہوئے زخموں کا دھو ون پینے کو دیا جائے گا اور اس کے پینے پر مجبور کیا جائے گا وہ بھی پیاس کی شدت کی وجہ سے اسے پینے پر مجبور ہوں گے۔ لیکن اس کی بدبو، اس کی رنگت اور قوام سے کراہت کی وجہ سے حلق سے بمشکل ہی نیچے اترے گا لہذا وہ گھونٹ گھونٹ کرکے پئیں گے۔ وہ موت کی آرزو کریں گے کہ ایسی تکلیف دہ زندگی سے تو موت ہی اچھی ہے لیکن اخروی زندگی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
29۔ (شدت حرارت یا غایب کراہت سے) (آیت) ” من ورآۂ جھنم “۔ وراء لغات اضداد میں سے ہے۔ اور اس کے معنی جس طرح ” پیچھے “ کے ہیں۔” آگے “ کے بھی آتے ہیں۔ ائمہ لغت سے یوں ہی منقول ہے۔ قال ابوعبیدہ وابن السکیت الوراء من الاضداد یقع علی الخلف والقدام (کبیر) اے من بین یدیہ (کشاف) یقال لمن خلفہ ویقال لمن قدامہ (راغب)
30۔ یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ دوزخی کے لئے بس یہی ایک عذاب ہوگا۔ سلسلۂ عذاب تو بےنہایت ہے۔ برابر اس میں اضافہ و ترقی ہی ہوتی جائے گی، (آیت) وما ھو بمیت “۔ اور وہ کسی طرح مر نہ چکے گا، بلکہ اسی طرح سسکتا رہے گا۔ عذاب دوزخ کی شدت اور ہولناکی کا جو منظر حق تعالیٰ نے خود کھینچ دیا ہے کسی شارح یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…
Read the full tafseer →یتجرعہ وہ گھونٹ گھونٹ کر کے اس کو پئے گا۔ یعنی تکلف کے ساتھ تھوڑا تھوڑا پئے گا (بدبو ‘ بدمزگی اور ناگواری کی وجہ سے پینے کے طریقے سے نہ پی سکے گا) ۔
ولا یکاد ویسیغہ اور آسانی کے ساتھ اس کو نگل نہ سکے گا۔ بلکہ وہ صدید اس کے حق کا پھندا بن جائے گا ‘ آسانی سے اندر نہ اترے گا اور یونہی کافر طول عذاب میں مبتلا رہے گا۔ سَوغ (مصدر) کا معنی ہے : آسانی کے ساتھ کسی پینے کی چیز کا حلق سے اتر جانا اور طبیعت کا اس کو (خوش گواری کے ساتھ) قبول کرلینا۔ قاموس میں ہے : سَاغ الشَّرابَ سَوْغًا آسانی کے ساتھ پینے کی چیز کو حلق میں اتار لیا۔
ویاتیہ الموت من کل مکان اور موت (یعنی تکلیفیں اور قسم قسم کے عذاب) ہر طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(16۔ 17) اور مرنے کے بعد ان سرکشوں کے سامنے دوزخ ہے اور وہاں جو ان کے کھالوں سے لہو اور پیپ نکلے گا وہ انکو پینے کے لیے دیا جائے گا جس کو وہ گھونٹ گونٹ پئیں گے اور وہ گلے سے آسانی کے ساتھ نہیں اترے گا اور ہر ایک بال کی جڑ سے موت کے غم و تکلیف کی آدمد ہوگی، یا یہ کہ ہر ایک گوشہ سے اس کو آگ پکڑے گی اور وہ اس عذاب سے کسی طرح مرے گا نہیں بلکہ اس لہو، پیپ وغیرہ کے عذاب کے بعد اس سے زیادہ سخت ترین عذاب کا سامنا ہوگا۔
Read the full tafseer →يَّتَجَرَّعُهٗ : یہ باب تفعل سے ہے، جس میں تکلف کا معنی ہوتا ہے، یعنی مشکل سے ایک ایک گھونٹ کرکے اسے پیے گا اور وہ اتنا کڑوا، بدذائقہ، بدبو دار اور گرم ہوگا کہ قریب نہیں کہ گلے سے اتار سکے، مگر پیاس کا عذاب اسے پینے پر مجبور کرے گا اور اندر جا کر وہ ان کی انتڑیاں کاٹ دے گا۔ دیکھیے سورة محمد (15)۔
وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ۔۔ : اور ہر جگہ سے اسے موت آتی دکھائی دے گی، کیونکہ جہنم کی ایک ایک چیز موت کے لیے کافی ہے، مگر وہ کسی صورت مرنے والا نہیں، کیونکہ وہاں موت ہوگی ہی نہیں۔ ”بِمَيِّتٍ“ کی باء سے نفی کی تاکید ہوئی، اس لیے ترجمہ میں ”کسی صورت“ کا اضافہ ہوگیا۔ دیکھیے سورة فاطر (36)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت نمبر 15 تا 17
قولہ تعالیٰ : واستفتحوا یعنی انہوں نے مدد کی التجا کی، یعنی رسولوں کو اپنی قوم کے خالق فتح کی التجا اور ان کی ہلاکت کی دعا کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر کا نقطہ نظر ہے۔ سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے اور اس سے حدیث طیبہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مہاجرین کی کامیابی و کامرانی کے لیے فتح کی التجا کرتے تھے یعنی مدد طلب کرتے تھے۔
ابن زید نے کہا : مختلف امتوں نے دعا کے ذریعے فتح کی التجا کی جس طرح قریش نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من
عندک الایۃ (الانفال : 32) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” انہوں نے میری تکذیب کی ہے پس میرے درمیان…
Read the full tafseer →1:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” ویاتیہ الموت من کل مکان “ سے مراد ہے کئی قسم کے عذاب عذاب کی ہر قسم سے اس کی واقع ہوسکتی تھی لیکن وہ نہیں مرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر فیصلہ نہیں فرمائیں گے کہ وہ لوگ مرجائیں۔
2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویاتیہ الموت من کل مکان وما ھو بمیت “ اس کی سانس اٹک جائے اس کے گلے میں اور اس سے نہیں نکلے گی کہ وہ مرجائے اور وہ نہیں لوٹے گی اپنی جگہ کی طرف اس کے پیٹ میں سے کہ وہ اس کی وجہ سے راحت کو پائے اور زندگی اسے نفع دے۔
3:۔ امام ابن منذر اور امام ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →[يَّتَجَرَّعُهٗ : وہ مشکل سے گھونٹ گھونٹ پیئے گا اس کو ] [وَلَا يَكَادُ : اور لگے گا نہیں کہ ] [ يُسِيْغُهٗ : وہ گلے سے اتارے گا اس کو ] [وَيَاْتِيْهِ : اور آئے گی اس کے پاس ] [ الْمَوْتُ : موت ] [مِنْ كُلِ مَكَان : ہر جگہ سے ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [مَا هُوَ : وہ نہیں ہوگا ] [ بِمَيِّتٍ : مردہ ] [وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ : اور اس کے پیچھے ] [ عَذَابٌ غَلِيْظٌ: ایک غلیظ عذاب ہے ]
ج ر ع
[جَرْعًا : (ف) پانی یکبارگی پی جانا۔] [تَجَرُّعًا : (تفعل) بتکلف گھونٹ گھونٹ پینا، زیر مطالعہ آیت 17 ۔]
س و غ
[سَوْغًا : (ن) آسانی سے گلے سے اترنا۔ خوشگوار ہونا۔] [سَائعٌ: فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ خوشگوار ہونے…
Read the full tafseer →مزید فرمایا (وَ مِنْ وَّرَآءِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ) اور اس کے آگے سخت عذاب ہے جتنا بھی عذاب ہوگا آگے بڑھتا ہی رہے گا ختم نہ ہوگا اور ہلکا نہ ہوگا عذاب کی شدت میں اضافہ کردیا جائے گا جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا (اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ) (جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے لیے بمقابلہ ان کے فساد کرنے کے عذاب بڑھا دیں گے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا
تذکیر با یام اللہ
قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
20:۔ یہ وقائع اخرویہ میں سے ہے یعنی دنیا میں ہلاکت اور ذلت و رسوائی کے علاوہ آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جہاں انہیں نہایت ہی غلیظ اور متعفن پانی پینے کو دیا جائے جسے گلے سے نیچے اتارنا بھی مشکل ہوگا۔ ” وَ یَاتِیْہِ الْمَوْتُ “ موت سے اسباب موت یعنی گوناگوں عذاب مراد ہیں یعنی جہنم میں ہر طرف سے عذاب ہی عذاب ہوگا اور ہر عذاب ایسا شدید اور المناک ہوگا کہ انسان کی موت واقع ہوجائے مگر کفار جہنم میں اس عذاب سے مریں گے نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ ہمیشہ عذاب الیم کا مزہ چکھتے رہیں۔ ” ای اسباب الموت من کل جہۃ وھذا تفظیع لما یصیبہ من الالام ای لوکان ثمۃ الموت لکان کل واحد منھا مھلکا “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
(ربط آیات)
اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت ، اس کے کتاب ہدایت ہونے اور اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کا ذکر کیا ، پھر منکرین قرآن کے انجام کو بیان فرمایا ، اس کے بعد (آیت) ” وما ارسلنا من رسول “۔ سے رسالت کا سلسلہ شروع ہوا ، پھر قوم موسیٰ ، نوح ، عاد ، اور ثمود کا ذکر ہوا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان اقوام کے مکالمے کا بیان آیا پھر نبیوں کے طریق کار کا تذکرہ ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدا کی ذات پر بھروسہ کیا ، راہ حق پر گامزن رہے ، اور صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا۔
منکرین نے رسولوں کی بشریت پر بھی اعتراض کیا ، جس کے جواب میں…
Read the full tafseer →يَّتَجَرَّعُهٗ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٗ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ 17
جرع
جَرِعَ الماء يَجْرَعُ ، وقیل : جَرَعَ «7» ، وتَجَرَّعَهُ : إذا تكلّف جرعه . قال عزّ وجلّ : يَتَجَرَّعُهُ وَلا يَكادُ يُسِيغُهُ [إبراهيم/ 17] ، والجُرْعَة : قدر ما يتجرّع، وأفلت بجُرَيْعَة الذّقن «1» ، بقدر جرعة من النفس . ونوق مَجَارِيع : لم يبق في ضروعها من اللبن إلا جرع، والجَرَعُ والجَرْعَاء : رمل لا ينبت شيئا كأنّه يتجرع البذر .
( ج ر ع) جرع
( ف) جرعا الماء گھونٹ گھونٹ کرکے پانی پینا اور بقول بعض جرع ( س) آتا ہے ۔ تجرعہ ( تفعل ) تکلف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : لنخرجنکم اور لتعودن مفعول ہیں قال کے اور لنہلکن اور لنسکنن یہ اوحیٰ کے معفول ہیں یتجرعہ ماء کی صفت یا ضمیر یسقی سے حال مثل الذین مبتدا کرماد خبر ہے معنی۔
تفسیر : منجملہ کفار کی اور باتوں کے ایک یہ تھی کہ انہوں نے انجام کار انبیاء (علیہم السلام) سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے مذہب میں آجاؤ (اگرچہ ابتداء ہی سے انبیاء (علیہم السلام) ان کے مذہب میں نہ تھے مگر پھر آجانا جو کہا تو اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے انہیں کے شہروں اور انہیں کے قبیلوں میں نشوونما پایا تھا ابتدا میں کفار سے مخالفت بھی ظاہر نہ کی تھی اس سے وہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے مذہب میں جانتے تھے اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ مِّنْ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنْ مَّـآئٍ صَدِیْدٍ ۔ یَّتَجَرَّعُہٗ وَلاَ یَکَادُ یُسِیْغُہٗ وَیَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ط وَمِنْ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 15۔ 16۔ 17)
(اور انھوں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش منکر حق نامراد ہوگیا۔ ( اس نامرادی) کے بعد جہنم ہے۔ اور پلایا جائے گا اسے خون اور پیپ کا پانی۔ وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ بھرے گا اور حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا۔ اور ہر طرف سے اس پر موت بڑھ رہی ہوگی اور وہ مرنے والا نہ بنے گا۔ اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کے لیے موجود ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی مخالفت کرنے والے دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
کفار کے مظالم جب اپنی انتہا کو پہنچے تو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان سے نجات اور اپنی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مخالفوں کو دنیا میں برباد کیا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم ہوگی۔ جس میں انہیں پینے کے لیے انہی کے زخموں سے نکلنے والا گنداخون اور بدبو دار پیپ دی جائے گی۔ جہنم کی تپش اور بھوک پیاس کی شدت کی وجہ سے جہنمی انتہائی کرب اور مجبوری کی حالت میں پیپ والے ابلتے ہوئے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے۔ مگر وہ…
Read the full tafseer →17: یََّتَجَرَّعُہٗ (وہ گھونٹ گھونٹ پیے گا) وہ تکلف کے ساتھ گھونٹ گھونٹ پیے گا۔ وَلَا یَکَادُ یُسِیْغُہٗ (وہ ان کو نگل نہ سکے گا) اور نہ نگلنے کے قریب ہوگا۔ پھر نگلنا کی سے۔ جیسا اس ارشاد میں لم یکد یراھا ] النور : 40[ یعنی وہ رؤیت کے قریب بھی نہیں ہوسکتا دیکھنا تو درکناروَیَاْ تِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ ( اور اس کو ہر طرف سے موت آئے گی) یعنی اسباب موت ہر طرف سے ظاہر ہونگے نمبر 2۔ اس کے جسم کے ہر لوں لوں پر۔ اس میں اس کو پہنچنے والے دکھوں کی شدت کو ذکر کیا گیا۔ یعنی کہ اگر کوئی سختی ہے تو وہ ہر سختی ایک مستقل ہلاکت گاہ ہوگی۔ وَّ مَا ھُوَ بِمَیِّتٍ (اور وہ مردہ نہ ہوگا) کیونکہ اگر…
Read the full tafseer →17۔” یتجرعۃ “ اس کو گھونٹ گھونٹ کر پئے گا ۔ ایک ہی مرتبہ نہیں پئے گا بلکہ گھونٹ گھونٹ کر کے اس کی کڑواہٹ اور اس کا بہت زیادہ گرم ہونے کی وجہ سے ۔” ولا یکاد یسیغہ “ یکاد صلۃ ہے۔ آسانی کے ساتھ اس کو نہیں پی سکے گا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لم یکدا یراھا “ وہ نہیں دیکھے گا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کو آسانی کے ساتھ نگل نہیں سکے گا ۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ وہ اپنے پیٹ میں درد محسوس کرے گا ۔ ( اس کو ہضم نہیں کرسکتا ) ۔ حضرت ابو امامہ (رح) سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں اس فرمان کے بارے میں ” ویسقی من ماء صدید یتجرعہ “ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ دوزخی جب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15۔ 17۔ رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور بعض مفسروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کفار نے بھی چاہا کہ یہ رسول سچے ہوں تو ان لوگوں پر عذاب آجاوے غرض کہ دونوں معنے یہاں ممکن ہیں پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور خدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لئے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو یہ لوگ ہلاک ہوئے اور ساری ملکیت پر ان ہی مومنوں کا قبضہ ہوا اور آخرت میں جہنم بھی ان کے واسطے تیار ہے وہاں پانی کی جگہ پینے کی پیپ کا ملا ہوا…
Read the full tafseer →(یتجرعہ) ” اور اس کو گلے سے نہیں اتار سکے گا “ کیونکہ جب وہ اسے اپنے منہ کے قریب لے کر جائے گا تو وہ چہرے کو بھون کر رکھ دے گا اور جب یہ پانی پیٹ میں جائے گا تو جہاں سے گزرے گا انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ (ویاتیہ الموت من کل مکان وما ھو بمیت) ” اور اسے ہر جگہ سے موت آئے گی جب کہ وہ مرے گا نہیں “ یعنی اس کو ہر قسم کا سخت عذاب دیا جائے گا اور اپنی شدت کے اعتبار سے عذاب کی ہر نوع موت کی مانند ہوگی مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوگا کہ اسے موت نہ آئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت : فاطر : 35؍36، 37) ” انہیں موت نہیں آئے گی کہ مرجائیں نہ ان پر عذاب ہی کو ہلکا کیا جائے گا ہم ہر بڑے کافر کو اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
33۔ منکرین کے عذاب کے بعض ہولناک پہلوؤں کا ذکر وبیان :
وہاں پر پینے کے لیے پیپ اور کچ لہوکا پانی دیا جائے گا جس کو کوئی پی نہ سکے گا۔ مگر ان کو اسے (مجبورا) گھونٹ گھونٹ کرکے پینا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ وہ کوئی پینے کی چیز نہ ہوگی بلکہ وہ نہایت گندی اور بدبودار شئی ہوگی۔ اور ان کو اگر وہاں پانی بھی پینے کو ملے گا تو وہ بھی ایسا گرم اور اس قدر سخت ہولناک اور کھولتا ہوا ہوگا کہ سامنے آتے ہی چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وان یستغیثوا یغاثوابمآء کالمہل یشوی الوجوہ بئس الشراب وسآءت مرتفقا) (الکہف : 29) اور جب اس کو یہ لوگ پی لیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یعنی اسے آرام و سکون سے نہیں پئے گا جیسے پانی یا شربت پیا جاتا ہے بلکہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا کیونکہ وہ انتہائی کڑوا اور بدمزہ ہوگا۔ حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ اس آیت کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : وہ (پیپ کا پانی) اس کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے ناک بھوں چڑھائے گا جب وہ اس کے قریب دے گا اور جب وہ اسے پئے گا تو اس کی آنتیں کٹ کر پیچھے سے نکل پڑیں گی۔ (ترمذی۔ نسائی) ۔
7 ۔ یا ہر عضو سے موت کا سماں محسوس ہوگا۔ (ابن کثیر) ۔
8 ۔ کیونکہ وہاں موت ہوگی ہی نہیں، جو اگر آجائے تو راحت مل جائے۔ (وحیدی) ۔
9 ۔ یعنی ایک عذاب ختم نہ ہوگا کہ اس سے بھی سخت دوسرا عذاب پہلے سے تیار…
Read the full tafseer →(14:17) یتجرعہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ماء صدید ہے۔ تجرع مصدر ( باب تفعل) وہ اس پانی کو گھونٹ گھونٹ کر پئے گا۔ باب تفعّل کی خصوصیات میں تکلف ہے۔ یعنی پیاس کی شدت کے باعث وہ پینے پر مجبور بھی ہوگا لیکن اس بدبودار کھولتی ہوئی پیپ کو پئے تو کیونکر۔ حلق سے اترے تو کیسے۔ ایک آدھ گھونٹ اور وہ بھی بڑی مشکل سے۔ جرع مصدر ۔ (باب نصروسمع) جرعۃ گھونٹ۔
لا یکاد یسیغہ۔ یکاد۔ مضارع واحد مذکر غائب کود مصدر ۔ قریب ہے۔ لا یکاد قریب نہ تھا۔ کاد یکاد اگرچہ افعال تامہ ہیں۔ لیکن استعمال میں ان کے بعد کوئی دوسرا فعل ضرور ہوتا ہے جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 17
ارض زمین، سر زمین۔ لتعودن البتہ تمہیں ضرور لوٹنا ہوگا ۔ ملت مذہب، قوم، دین۔ اوحی اس نے وحی کی نھلکن ہم ضرور ہلاک کردیں گے۔ نسکنن ہم ضرور جما دیں گے۔ مقامی میرا مقام۔ وعید تنبیہ، غفلت سے جگانے والی استفتحوا انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔ مانگا۔ خاب ذلیل و خوار ہوا۔ جبار بہت جبر کرنے والا۔ عنید ضدی ۔ وراء پیچھے۔ یسقی پلایا جائے گا۔ ماء صدید پیپ کا پانی، گندہ پانی یتجرع گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ لایکاد قریب نہ ہوگا۔ یسیغ حلق سے اتارے گا۔ میت مرنے والا۔ غلیظ سخت۔
تشریح : آیت نمبر 13 تا 17
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرام نے جب بھی کفر و شرک، بدعات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
کافروں کا دوزخ جانا اور اس کی کیفیت : رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور انبیاء اور ان کی امت سب مل کر یہ حکم چاہتے تھے کہ ہم میں سے جو کوئی باطل پر ہو اس پر عذاب نازل فرما۔ حق تعالیٰ نے فیصلہ کردیا انبیاء اور مومنوں نے نجات پائی۔ پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور کدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ کے مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لیے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے۔ وہاں پانی کی جگہ پینے کو پیپ کا ملا ہوا جوش کھاتا ہوا پانی ملے گا۔ مارے بدبو اور کڑواہٹ کے حق سے نیچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[8] یعنی پیغمبروں نے۔
Read the full tafseer →(ف 1) سرکشوں اور معاندوں کے لئے سزا کا ذکر ہے ، جن کا سر کسی دوسرے کے سامنے تو جھکے ، مگر اللہ کے آستانہ جلال پر نہ جھکے ، جو محض عناد ودشمنی کے لئے حق وصداقت کی مخالفت کریں ، جو سچائی کی آواز کو سنیں ، دلائل وبراہین ان کے سامنے موجود ہوں ، اور دل میں حرارت ایمان پیدا نہ ہو ، ایسے لوگوں کے لئے جہنم جگہ ہے ، جو اللہ کی جانب سے مقام عتاب ہے ، یہاں دنیا میں یہ لوگ کام ودہن کی لذتوں کے لئے زندہ رہے ، آخرت میں انہیں چیزوں کے لئے بےقرار ہوں گے ، اور یہ چیزیں انہیں میسر نہ ہو نگی ، اس لئے انہیں محسوس ہوگا ، کہ ہم نے دنیا میں اگر صرف خواہشات نفس کو جائز وناجائز طریق سے پورا کیا ہے ، تو کوئی بڑا کام…
Read the full tafseer →17 ۔ وہ سرکش اس کو بہ تکلیف گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا اور اس کو سہولت اور آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا اور ہر طرف سے اس پر موت آرہی ہوگی اور اس کی حالت یہ ہوگی کہ وہ مرے گا نہیں اور اس عذاب کے آگے اور بھی سخت عذاب ہے۔ یعنی یہ پانی گرم بھی ہوگا اور کراہت بھی آئے گی لیکن پیاس کے مارے گھونٹ گھونٹ ک کے اسی کو پئے گا شش جہات اس کو موت آتی معلوم ہوگی اور ہر چہار طرف سے موت کے اسباب نمایاں ہوں گے لیکن موت کسی طرح بھی نہ آئے گی بلکہ اسی طرح مبتلا رہے گا اور اس کے پیچھے اور بھی مختلف انواع و اقسام کے عذاب ہوں گے جو غلظت اور سختی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوگا ۔
Read the full tafseer →ف 4۔ بلکہ یوں ہی سسکتا رہے گا۔
Read the full tafseer →وہ گھونٹ گھونٹ پئیں گے ‘ موت کا سماں ہوگا لیکن موت اب کہاں آئے گی ؟
18 ؎ غذا کھانے کیلئے ہر انسان دنیا میں مجبور ہے خواہ وہ کوئی ہو اس کے پیش نظر یہ بیان فرمایا گیا ہے دوزخ کے حالات عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان پر ایمان و اعتقاد رکھا جاتا ہے اور رکھا جانا چاہئے مطلب یہ ہے کہ پیاس کی شدت کے باعث وہ پینے پر مجبور بھی ہوگا لیکن اس بدبودار ‘ بد ذائقہ اور کھولتی ہوئی پیپ کو پئے تو کیونکر ؟ حلق سے نیچے اترے تو کیسے ؟ اگر آپ برا نہ مانیں تو اس وقت ہمارے لئے یہ بات سمجھنا اتنا مشکل نہیں رہا بلکہ ہم کو اس کا عادی بنا دیا گیا ہے جس چیز کو ” چائے “ اور ” کافی “ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
24. In order to grasp the real significance of these historical events, it should be kept in view that these are being related here as answers to those objections which the disbelievers of Makkah raised before the Prophet (peace be upon him). As the conditions there at the time of the revelation of this Surah were exactly like those of the peoples of the former Prophets, they have been cited here to warn the Quraish along with the other mushriks of Arabia of the consequences, as if to say: The former disbelievers challenged their Messengers and were destroyed and the believers were…
Read the full tafseer →