بےسود اعمال
کافر جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادتوں کے خوگر تھے پیغمبروں کی نہیں مانتے تھے جن کے اعمال ایسے تھے جیسے بنیاد کے بغیر عمارت ہو جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ سخت ضرورت کے وقت خالی ہاتھ کھڑے رہ گئے۔ پس فرمان ہے کہ ان کافروں کی یعنی ان کے اعمال کی مثال۔ قیامت کے دن جب کہ یہ پورے محتاج ہوں گے سمجھ رہے ہوں گے کہ اب ابھی ہماری بھلائیوں کا بدلہ ہمیں ملے گا لیکن کچھ نہ پائیں گے، مایوس رہ جائیں گے، حسرت سے منہ تکنے لگیں گے جیسے تیز آندھی والے دن ہوا راکھ کو اڑا کر ذرہ ذرہ ادھر ادھر بکھیر دے اسی طرح ان کے اعمال محض اکارت ہوگئے جیسے اس بکھری ہوئی اور اڑی ہوئی راکھ کا جمع کرنا محال ایسے ہی ان کے…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 25
یعنی جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ نمک حرامی، بےوفائی، خود مختاری اور نافرمانی و سرکشی کی روش اختیار کی، اور اطاعت و بندگی کا وہ طریقہ اختیار کرنے سے انکار کردیا جس کی دعوت انبیاء (علیہم السلام) لے کر آئے ہیں، ان کا پورا کارنامہ حیات اور زندگی بھر کا سارا سرمایہ عمل آخرکار ایسا لاحاصل اور بےمعنی ثابت ہوگا جیسے ایک راکھ کا ڈھیر تھا جو اکٹھا ہو ہو کر مدت دراز میں بڑا بھاری ٹیلہ سا بن گیا تھا، مگر صرف ایک ہی دن کی آندھی نے اس کو ایسا اڑا یا کہ اس کا ایک ایک درہ منتشر ہو کر رہ گیا۔ ان کی نظر فریب تہذیب، ان کا شاندار تمدن، ان کی حیرت انگیز صنعتیں، ان کی زبردست سلطنتیں، ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
خلاصہ تفسیر
(ان کافروں کو اگر اپنی نجات کے متعلق یہ زعم ہو کر ہمارے اعمال ہم کو نافع ہوں گے تو اس کا قاعدہ کلیہ تو یہ سن لو کہ) جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کی حالت باعتبار عمل کے یہ ہے (یعنی ان کے اعمال کی ایسی مثال ہے) جیسے کچھ راکھ ہو (جو اڑنے میں بہت خفیف ہوتی ہے) جس کو تیز آندھی کے دن میں تیزی کے ساتھ ہوا اڑا لے جائے (کہ اس صورت میں اس راکھ کا نام و نشان بھی نہ رہے گا اسی طرح) ان لوگوں نے جو کچھ عمل کئے تھے اس کا کوئی حصہ (یعنی اثر و نفع کے قبیل سے) ان کو حاصل نہ ہوگا (اس راکھ کی طرح ضائع و برباد ہوجائے گا) یہ بھی بڑی دور دراز کی گمراہی ہے) کہ گمان تو ہو کہ ہمارے عمل نیک…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 23 تا 18:۔ آگے کے احوال : آگے ان حالات کی تفصیل آرہی ہے جن سے ان کفار و مشرکین کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ پیرو اپنے لیڈروں پر لعنت بھیجیں گے اور لیڈر اپنے پیرو وں پر یہاں تک کہ شیطان بھی اپنے پیچھے چلنے والوں کو صاف سنا دے گا کہ کوئی مجھے ملامت نہ کرے بلکہ جس نے میری پیروی کی ہے وہ آج اپنی بدبختی پر خود اپنا سر پیٹے۔ اس کے برعکس اہل ایمان کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ جنت میں براجمان ہوں گے اور ان کے درمیان مبارک سلامت کے تبادلے ہو رہے ہوں گے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 قیامت والے دن کافروں کے عملوں کا بھی یہی حال ہوگا کہ اس کا کوئی اجر وثواب انھیں نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →14: کافر لوگ دنیا میں کچھ اچھے کام بھی کرتے ہیں۔ مثلاً غریبوں کی امداد وغیرہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ ان کے ایسے اچھے کاموں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے۔ آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ وہاں ثواب ملنے کے لیے ایمان شرط ہے۔ لہذا آخرت میں وہ اعمال ان کے کچھ کام نہیں آتے۔ اس کی مثال یہ دی گئی ہے کہ جس طرح راکھ کو آندھی اڑا لے جائے تو اس کا کوئی پتہ نشان نہیں ملتا۔ اسی طرح کافروں کے ان اعمال کو ان کا کفر کا لعدم کردے گا۔ اور ان اعمال کا کوئی فائدہ ان کو آخرت میں نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 18
یہ منظر کہ سخت طوفانی ہوا کے دن راکھ اڑرہی ہے ، پیش آتا رہتا ہے اور ہر کسی کے ذہن میں ہے۔ یہاں اس منظر سے قرآن کریم یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ کوئی چیز کسی طرح مجسم طور پر ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا مالک اس کے یوں ضائع ہونے کو کسی طرح نہیں روک سکتا اور نہ ایسی ضائع شدہ چیز سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے اس طوفانی منظر میں اس مفہوم کو مجسم کر کے پیش کیا جاتا ہے اور یہ منظر انسانی شعور کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے ، ضیاع اعمال کی تعبیر اگر مجرد ذہنی اور فلسفیانہ انداز میں کی گئی ہوتی تو اس کا اس قد اثر ہرگز نہ ہوتا۔ اس سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے کہ یہ اعمال پوری طرح اکارت گئے۔
یہ…
Read the full tafseer →8 بعض کفار کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ آخر ہم نے دنیا میں بہت سے اچھے کام صدقہ خیرات کی مد میں کیے ہماری خوش اخلاقی لوگوں میں مشہور ہوئی، بہتیرے آدمیوں کی مصیبت میں کام آئے اور کسی نہ کسی عنوان سے خدا کی پوجا بھی کی، کیا یہ سب کیا کرایا اور دیا لیا اس وقت کام نہ آئے گا ؟ اس کا جواب اس تمثیل میں دیا۔ یعنی جسے خدا کی صحیح معرفت نہیں۔ محض فرضی اور وہمی خدا کو پوجتا ہے اس کے تمام اعمال محض بےروح اور بےوزن ہیں۔ وہ محشر میں اسی طرح اڑ جائیں گے جس طرح آندھی کے وقت جب زور کی ہوا چلے تو راکھ کے ذرات اڑ جاتے ہیں، اس وقت کفار نیک عمل سے بالکل خالی ہاتھ ہوں گے حالانکہ وہ یہی موقع ہوگا جہاں نیک عمل کی سب سے…
Read the full tafseer →آیت 18 مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ
اللہ کے ہاں کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان لازمی اور بنیادی شرط ہے۔ چناچہ جو لوگ اپنے رب کا کفر کرتے ہیں ان کے نیک اعمال کو یہاں راکھ کے ایسے ڈھیر سے تشبیہہ دی گئی ہے جس پر تیز آندھی چلی اور اس کا ایک ایک ذرہ منتشر ہوگیا۔ یعنی بظاہر تو وہ ڈھیر نظر آتا تھا مگر اللہ کے ہاں اس کی کچھ بھی حیثیت باقی نہ رہی۔ یہ بہت اہم مضمون ہے اور قرآن کریم میں مختلف مثالوں کے ساتھ اسے تین بار دہرایا گیا ہے۔ سورة النور کی آیت 39 میں کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہہ دی گئی ہے اور سورة…
Read the full tafseer →21 کافروں کے اچھے اعمال کی مثال راکھ کا ڈھیر :۔ شریعت کا ایک کلیہ ہے کہ اعمال کی جزا و سزا کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے، یہ رسول اللہ کا مشہور و معروف فرمان اور متواتر حدیث ہے یعنی عمل کرتے وقت انسان جیسی نیت کرتا ہے ویسا ہی اسے بدلہ ملے گا۔ ایک مومن سارے کام اس نیت سے کرتا ہے کہ یہی اعمال آخرت میں اس کے کام آئیں گے اور اس کی نجات کا ذریعہ بنیں گے لہذا اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ مگر ایک شخص جو کہ بھلا کام اس نیت سے کرتا ہے جس سے اسے کوئی ذاتی یا قومی مفاد یا اپنی شہرت مطلوب ہوتی ہے تو اسے دنیا میں ہی اس کے اس طرح کے بھلے کاموں کا بدلہ دے دیا جاتا ہے۔ اس کے نیک اعمال خواہ بہت زیادہ ہوں،…
Read the full tafseer →31۔ (اور اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہ جائے) (آیت) ” مثل الذین کفروا “۔ مثال کافروں کے ان اعمال کی جو بہ ظاہر اعمال حسنہ ہیں، ان کی بےاثری ولا حاصلی کے لحاظ سے دی جارہی ہے۔
32۔ محرومی اور بدنصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ممکن ہے کہ اپنے جن اعمال پر انسان کو بھروسہ اور ناز ہو، عین وقت پر وہی بالکل ہیچ اور ناکارہ نکلیں۔ (آیت) ” لایقدرون مماکسبوا علی شیء “۔ یعنی نفع اور اثر کے قسم سے انہیں کچھ بھی نہ حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…
Read the full tafseer →مثل الذین کفروا بربھم جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ‘ کیا ان کی تعجب آفرین حالت ایسی ہے ؟
مِثَلُ سے مراد ہے : ایسی صفت جس میں ندرت ہو۔
اعمالھم کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف (یعنی) ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے کچھ راکھ جس کو تیز آندھی کے دن ہوا تیزی کے ساتھ اڑا لے جائے۔ عصوف ہوا کا تیز چلنا (عاصف تیز چلنے والی ہوا) دن کو عاصف بطور مبالغہ قرار دیا گیا ‘ جیسے نہارہ صائم اور لیلہ نائم کہا جاتا ہے (آدمی دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات کو سوتا ہے۔ دن کو روزہ دار اور رات کو سونے والا ‘ بطور مجاز کہا جاتا ہے) اعمال سے مراد ہیں : کافروں کی وہ خود تراشیدہ نیکیاں جن کے ثواب کے وہ امیدوار تھے ‘ جیسے…
Read the full tafseer →(18) جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کے اعمال کی مثال یہ ہے جیسے کچھ راکھ ہو جس کو تیز آندھی کے دن تیز ہوا اڑا کرلے جائے، ان لوگوں نے حالت کفر میں جو اچھے کام کیے تھے، اس کا کچھ بھی ثواب نہیں پائیں گے، جیسا کہ جب راکھ کو ہوا اڑا کرلے جائے، اس کا ایک ذرہ بھی نہیں پاسکتے، یہ کفر اور غیر اللہ کے لیے اعمال کرنا یہ حق اور ہدایت سے دور دراز کی گمراہی ہے۔
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ۔۔ : کفار دنیا میں جو بھی اچھے کام کرتے ہیں، مثلاً کمزوروں کی مدد اور صدقہ وغیرہ، وہ آخرت میں ان کے کسی کام نہیں آئیں گے، کیونکہ ان کا بدلا انھیں دنیا ہی میں دیا جا چکا ہوگا۔ (دیکھیے الاحقاف : 20) ”عَاصِفٍ“ ”عَصَفَ یَعْصِفُ“ سے ہے، بمعنی توڑنا۔ ”کَعَصْفٍ مَّأْکُوْلٍ“ کا معنی ہے ریزہ شدہ بھس، یعنی تیز و تند ہوا جو ہر چیز کو توڑتی جائے۔ اس آیت میں قیامت کے دن کفار کے اعمال کے بےکار ہونے کی مثال دی ہے کہ ایک تند و تیز ہوا والے دن میں کسی راکھ پر بہت سخت ہوا چلے تو اس ہوا میں راکھ کا ایک ذرہ بھی ہاتھ میں آنا مشکل ہے، اسی طرح کفار کے اعمال صالحہ اس دن بےکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 18 تا 20
قولہ تعالیٰ : مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرما، مثل کے رفع میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ سیوبیہ کے نزدیک یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے جب کہ خبر مضمر ہوگی۔ تقدیر عبارت یہ ہے وفیما یتلی علیکم او یقص مثل الذین کفروا بربھم پھر نئے سرے سے کلام فرمایا اور فرمایا : اعمالھم کرماد یعنی راکھ کے ڈھیر کی طرح۔ اشتدت بہ الریح زجاج نے کہا : تقدیر عبارت ہوگی مثل الذین کفروا فیما یتلی علیکم أعمالھم کرماد یہی فراء کے نزدیک بھی ہے۔ اس صورت میں مثل مدغی ہوگا اصل کلام یہ ہوگا : والذین کفروا بربھم أعمالھم کرماد انھیں سے مضاف کے حذف کی صورت بھی مروی ہے یعنی مثل أعمال الذین کفروا بربھم کرماد پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
کافروں کے اعمال بےکار ہونے کی مثال :
1:۔ امام ابن جریر اور ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل الذین کفروا بربہم اعمالہم کرماد “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ (اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی) عبادت کی ان کے اعمال قیامت کے دن اس ریت کی طرح ہوں گے جیسے سخت آندھی کے دن تیز ہوا اڑا کرلے جائے گے وہ اپنے اعمال سے کچھ بھی نہ اٹھا سکیں گے جس طرح ریت سے کچھ بھی نفع نہیں اٹھایا جاسکتا جب تیز آندھی کا دن ہوتا ہے۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کافروں کے اعمال کی مثال اس راکھ کی طرح ہیں کہ جس پر تیز ہوا چلے جس کی وجہ سے کچھ…
Read the full tafseer →[مَثَلُ الَّذِينَ : ان کی مثال جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کا (یہ ہے کہ)] [ اَعْمَالُهُمْ : ان کے اعمال ] [ كَرَمَادِۨ : راکھ کی مانند ہیں ] [اشْـتَدَّتْ : شدّت اختیار کی ] [بِهِ : جن پر ] [ الرِّيْحُ : ہوا نے ] [ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ : ایک تیز آندھی والے دن میں ] [لَا يَقْدِرُوْنَ : وہ قدرت نہیں رکھیں گے ] [ مِمَا : اس میں سے جو ] [ كَسَبُوْا : انھوں نے کمایا ] [ عَلٰي شَيْءٍ : کسی چیز پر ] [ ذٰلِكَ : یہ ] [ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ : ہی دور والی گمراہی ہے ]
ر م د
[رَمْدًا : (ض) آگ کا بجھ کر ٹھنڈا ہوجانا۔ راکھ ہوجانا۔] [رَمَادٌ: اسم ذات ہے۔ راکھ۔ زیر مطالعہ…
Read the full tafseer →کافروں کے اعمال باطل ہیں، قیامت کے دن دنیا والے سرداروں اور ان کے ماننے والوں کا سوال جواب
ان آیات میں اول تو کافروں کے ان اعمال کا باطل ہونا بیان فرمایا جنہیں دنیا میں نیکی سمجھ کر کرتے ہیں مثلاً صلہ رحمی کردی مہمانوں کو کھانا کھلا دیا مجبور و پریشان حال آدمیوں کی مدد کردی وغیرہ ذالک ارشاد فرمایا ان کے یہ اعمال آخرت میں بےحیثیت ہونگے ان کا آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملے گا ان کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی راکھ پڑی ہوئی ہو جسے خوب تیز آندھی اڑا کرلے جائے اول تو راکھ یوں ہی بےحیثیت ہے پھر کسی جگہ اس کا ڈھیر بنا ہوا ہو پھر اسے آندھی نے اڑا کر ادھر ادھر منتشر کردیا، نظروں کے سامنے جو اس کا ذرا سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
مثال اعمال کفار
قال اللہ تعالیٰ : مثل الذین کفروا بربھم اعمالہم کرماد۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
(ربط) اوپر کافروں کے انواع کا ذکر تھا اب ان کے اعمال کے ضائع ہونے کی ایک مثال بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح آندھی والے دن تیز آندھی سے راکھ اڑ جاتی ہے اور اس کا کچھ نام و نشان باقی نہیں رہتا اسی طرح کافروں کے اچھے اعمال جیسے صدقات جو انہوں نے بحالت کفر دئیے وہ قیامت کے دن کفر کی تیز آندھیوں سے سب اڑ جائیں گے اور کسی عمل کا نام و نشان نہ رہے گا اس وقت ان کی حسرت کی حالت ناگفتہ بہ ہوگی چناچہ فرماتے ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال صالحہ خیرات و صدقات مثل اس راکھ کے ہیں جس…
Read the full tafseer →21:۔ یہ مشرکین کے نیک اعمال کی مثال ہے ان کی نیکیاں رائیگاں اور محض باطل ہیں آخرت میں کچھ بھی کام نہ آئیں گی کیونکہ شرک تمام اعمال کو باطل کردیتا ہے۔ جیسا کہ راکھ پڑی ہو اور اوپر سے ہوا کا تیز و تند طوفان آجائے تو وہ تمام راکھ کو اڑا لے جائیگا اور کچھ بھی باقی نہیں چھوڑے گا۔ طوفان شرک کے سامنے مشرکین کے اعمال صالحہ کا یہی حال ہے۔ ” اراد بالاعمال الاعمال التی عملوھا فی الدنیا واشرکوا فیھا غیر اللہ فانھا لا تنفعھم لانھا صارت کالرماد الذی ذرتہ الریح و صار ھباء لا ینتفع بہ الخ “ (خازن ج 4 ص 38) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے کہ کافر لوگ اللہ کے نبیوں کو دہمکی دیتے تھے کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ہم ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے اور ان کے بعد اس زمین میں تمہیں آباد کریں گے فرمایا یہ سعادت اس شخص کو حاصل ہوگی جو محاسبہ اعمال کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے اور اس کی وعید سے خوف کھاتا ہے ، پھر فرمایا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا ان کی قوموں نے اللہ سے فیصلہ طلب کیا جس کے نتیجے میں ہر منکر اور ضدی آدمی ہلاک ہوا ، ایسے لوگوں کو جہنم میں پیپ ملا پانی پینے کو ملیگا جسے وہ گھونٹ گھونٹ کرکے…
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ 18
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل…
Read the full tafseer →1 ؎ العصف شدۃ ایریح وصف بہ زمانہھا مبالغۃ کیوم حار ویوم بارو وخلاصۃ المثل ھو ان الکفر کالریح العاصفۃ واعمالھم کالرما وفکما ان للریح الماصف لا تبقی الرما وفکذا الاکفر لا یبقی الاعمال۔ 12
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادِ نِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ ط لاَ یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْ ئٍ ط ذٰلِکَ ہُوَالضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ۔ (سورۃ ابراھیم : 18)
(ان لوگوں کے اعمال کی تمثیل جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ایسے ہے جیسے راکھ کا ڈھیر ہو جسے سخت آندھی کے دن تند ہوا اڑا کے لے جائے، وہ نہ حاصل کرسکیں گے ان اعمال سے جو انھوں نے کمائے، کچھ بھی۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ )
مشرکین کے اعمال کی تمثیل
اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں خیر و شر کے دونوں جذبے ودیعت کیے ہیں۔ ماحول اور والدین جس جذبے کو جلا دینے کا سامان کرتے ہیں وہی جذبہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہوگا۔ مشرک اور کافر دنیا میں جو نیک عمل کرتے رہے کفر و شرک کی وجہ سے ان کی حیثیت راکھ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔
کفر کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور اس کی ذات اور صفات کا انکار کرنا۔ یہ ایسا گناہ اور جرم ہے کہ اگر اس کا مرتکب شخص کوئی اور گناہ نہ بھی کرے تو کفر و شرک سے بڑا گناہ اور گمراہی کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا انکار کرنے والے کچھ لوگ انسانی اقدار کے اعتبار سے شریف النفس اور دنیا میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے عظیم کار نامے سرانجام دیتے ہیں۔ خلق خدا ان…
Read the full tafseer →کفار کے اعمال کی مثال :
18: مَثَلُ الَّذِیْنَ (حالت ان لوگوں کی) یہ مبتدا ہے اور اسکی خبر محذوف ہے یعنی اس وحی میں جو تم پر پڑھی جارہی ہے۔ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ (جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کیساتھ) مثلؔ کا لفظ استعارۃً اس حالت کیلئے استعمال ہوا جس میں غرابت ہو۔ اَعْمَالُھُمْ
کَرَمَادِ (ان کے اعمال راکھ کی طرح ہونگے) ۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے گویا سوال مقدر کا جواب ہے کہ ان کی حالت کیسی ہوگی ؟ تو جواب دیا۔ ان کے اعمال راکھ کے ڈھیر کی طرح ہونگے۔ اڑشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ (جس پر تیز ہوا چلی ہو) قراءت : مدنی نے الریاح پڑھا ہے۔ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ ( آندھی کے دن میں) عصف کو دن کے ساتھ خاص کیا۔…
Read the full tafseer →18۔” مثل کفروا برھم اعمالھم “ جن لوگوں نے اعمال کے ساتھ اپنے رب سے کفر کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ’ ’ ویوم القیامۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھم مسودۃ “ ان لوگوں کے چہروں کو دیکھو جنہوں نے اللہ کے ساتھ جھوٹ بالا ، وہ کالے ہیں۔
” کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف “ دن کو عصوف کہا گیا اس کا معنی ہے ہوا کا تیز چلنا ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ دن گرم ہے یا دن ٹھنڈا ہے۔ وہ ہوا ٹھنڈی یا گرم ہوتی ہے نہ کہ دن ۔ بعض نے کہا کہ عبارت اسی طرح تھی ۔” یوم عاصف ایریح “ ریح کو حذف کردیا گیا ۔ اس سے اللہ رب العزت نے کفار کے اعمال کی مثال بیان کی ہے کہ کافروں نے دنیا کے اندر جو نیک اعمال کیے وہ ان کو کچھ نفع…
Read the full tafseer →18۔ اس آیت میں کفار کے اعمال کی مثال بیان کی گئی ہے کہ کفار جو نیکی کرتے تھے اس کا ثواب بھی ان کو کچھ نہ ملے گا برے عمل کی سزا جو کچھ ہوگی وہ تو ہوگی مگر ان کے نیک عمل جیسے صدقہ دینا صلہ رحمی کرنی محتاجوں کی حاجت برلانی باپ ماں کے ساتھ بھلائی کرنی ان کی بھی ایسی مثال قیامت کے دن ہوجاوے گی جیسے آندھی میں کوئی راکھ اڑنے سے بچا نہیں سکتا اسی طرح سے قیامت کے دن کافروں کو نیک عملوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا کیوں کہ یہ لوگ اکیلے خدا پر ایمان نہیں لائے تھے بتوں کو خدا کا شریک کرتے تھے اس لئے ان کی یہ سب نیکیاں بھی برباد جاوے گی اور ان کا اپنی نیکیوں کی بابت یہ خیال کہ ہم کو اس کا اجر ملے گا بہت بڑی…
Read the full tafseer →18-20: اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کے اعمال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔۔۔ اور ان اعمال سے یا تو وہ اعمال مراد ہیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر کئے ہیں۔ یہ اعمال بےفائدہ جانے، اپنے بطلان اور اپنے اضمحلال میں راکھ کی مانند ہیں جو سب سے گھٹیا اور سب سے ہلکی چیز ہے۔ سخت آندھی والے دن جب سخت ہواچلتی ہے، تو اس راکھ میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا، اس راکھ کے اڑجانے اور مضمحل ہونے سے روکنے کی قدرت کوئی نہیں رکھتا۔ اسی طرح کفار کے اعمال ہیں (لایقدرون مما کسبواعلی شء) ” جو وہ کام کرتے رہے ان پر وہ کچھ دسترس نہ رکھیں گے۔ “ یعنی وہ اپنے اعمال میں سے ذرہ بھر عمل کے اجر کے حصول پر بھی قادر نہ ہوں گے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
33۔ منکرین کے عذاب کے بعض ہولناک پہلوؤں کا ذکر وبیان :
وہاں پر پینے کے لیے پیپ اور کچ لہوکا پانی دیا جائے گا جس کو کوئی پی نہ سکے گا۔ مگر ان کو اسے (مجبورا) گھونٹ گھونٹ کرکے پینا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ وہ کوئی پینے کی چیز نہ ہوگی بلکہ وہ نہایت گندی اور بدبودار شئی ہوگی۔ اور ان کو اگر وہاں پانی بھی پینے کو ملے گا تو وہ بھی ایسا گرم اور اس قدر سخت ہولناک اور کھولتا ہوا ہوگا کہ سامنے آتے ہی چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وان یستغیثوا یغاثوابمآء کالمہل یشوی الوجوہ بئس الشراب وسآءت مرتفقا) (الکہف : 29) اور جب اس کو یہ لوگ پی لیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ تو جس طرح اس راکھ کو کوئی ذرہ ہاتھ میں آنا مشکل ہے اسی طرح کافروں کے نیک اعمال۔ خیرات وغیرہ۔ بیکا رہیں۔11 ۔ کیونکہ نہ ان کا خدا پر ایمان تھا اور نہ انہوں نے اپنے اعمال سے آخرت چاہی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(14:18) کرماد۔ ک تشبیہ کے لئے رماد ۔ راکھ۔ خاکستر۔ اسم ہے اس کی جمع ارمدۃ۔
اشتدت بہ الریح۔ اشتدت۔ ماضی۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ سخت ہوگئی۔
اشتداد (افتعال) سے مصدر۔ اشتدت بہ الریح۔ جس کو ہوا تیزی سے اڑا لے گئی۔
عاصف۔ تیزو تند ہوا۔ سخت جھونکا۔ عصف جس کے معنی تیزوتند ہوا چلنے اور آندھی آنے کے ہیں۔ المفردات میں ہے ریح عاصف تند ہوا جو ہر چیز کو توڑ کر بھس کی طرح بنا دے۔
عصف کے معنی بھس ہیں جیسے کعصف ما کول۔ (105:5) جیسے کھایا ہوا بھس ہو۔
یوم عاصف آندھی کا دن۔ عاصف بمعنی معصوف ہے۔ عاصف کی جمع عواصف ہے۔
لا یقدرون مما کسبوا علی شیئ۔ ای لا یقدرون علی شیء مما کسبوا۔ یعنی جو کچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 21
رماد راکھ۔ اشتدت تیز چلی۔ الریح ہوا۔ عاصف تیز آندھی۔ لایقتدرون وہ طاقت وقدرت نہیں رکھتے ہیں۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ یشآء وہ چاہتا ہے۔ یذھب وہ لے جائے۔ وہ جاتا ہے۔ خلق جدید نئی مخلوق ۔ برزوا وہ ظاہر ہوئے۔ وہ حاضر ہوں گے۔ الضعفوا (ضعیف) ، کمزور ۔ استکبروا انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی۔ تبع پیچھے ۔ تابع داری کرنا ۔ مغنون بچانے والے ، ہلکا کرنے والے۔ ھدنا اس نے ہمیں راستہ سمجھایا، بتایا ۔ اجزعنا کیا ہم گھبرائیں ، چلائیں محیص چھٹکارا پانے کی جگہ ۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 21
قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کی بھلائی کے لئے جو کام بھی…
Read the full tafseer →کافروں کے نیک عمل کام نہیں آئیں گے۔ اس آیت میں کفار کے اعمال کی مثال بیان کی گئی ہے کہ کفار جو نیکی کرتے تھے اس کا ثواب بھی ان کو کچھ نہ ملے گا۔ برے عمل کی سزا جو کچھ جو ہوگی وہ تو ہوگی مگر ان کے نیک عمل جیسے صدقہ دینا، صلہ رحمی کرنا، محتاجوں کی حالت برلانا، وغیرہ ان کی بھی ایسی مثال قیامت کے دن ہوجاوے گی جیسے آندھی میں کوئی راکھ کو اڑنے سے بچا نہیں سکتا۔ اسی طرح قیامت کے دن کافروں کو نیک عملوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ لوگ اکیلے خدا پر ایمان نہیں لائے تھے، بتوں کو خدا کا شریک کرتے تھے۔ اس لیے ان کی یہ سب نیکیاں بھی برباد ہوجاویں گی اور ان کا یہ خیال کہ اس کا اجر ملے گا بہت بڑی گمراہی…
Read the full tafseer →[9] کیونکہ ان کے اعمال روح ایمان سے یکسر خالی ہوں گے اور بغیر ایمان کے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عمل قابل قبول نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
شیرازہ اعمال :
(ف 2) اعمال کے لئے ایک شیرازہ کی ضرورت ہے ، اور جب تک یہ شیرازہ موجود نہ ہو ، اعمال میں غرض وترتیب پیدا نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ، کیا اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ شیرازہ ایمان صحیح ہے ، ایک دیوانہ ہے اس کے افعال کو کیوں آپ قابل اعتنا نہیں سمجھتے ، اور اس کی تمام حرکتیں کیوں عبث قرار پائی ہیں ۔ اس لئے کہ اس کے اعمال میں شیرازہ عقل موجود نہیں ، اسی طرح وہ شخص جو خیر وعمل صالح کے مفہوم سے آگاہ نہیں جو انسانیت کے صحیح پروگرام سے واقف نہیں کیونکہ صالح قرار دیا جاسکتا ہے ، جبکہ اس کے اعمال میں شیرازہ ایمان موجود نہیں قرآن حکیم نے اس حقیقت کو نہایت عمدہ مثال…
Read the full tafseer →18 ۔ جن لوگوں نے اپنے رب کی توحید کا انکار کیا اور اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے رہے ان کے اعمال کی حالت ایسی ہے جیسے راکھ کہ اس راکھ کو سخت آندھی کے دن تیز ہوا اڑا کرلے جائے اسی طرح ان لوگوں نے جو اعمال خیر کئے ہوں گے ان میں سے کسی عمل پر بھی ان کو کوئی دسترس نہیں ہوگی اور ان اعمال کے کسی حصہ کا ان کو نفع حاصل نہ ہوگا یہی وہ گمراہی ہے جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ یعنی اگر کسی کافر نے کچھ اعمال خیر کئے ہوں۔
جیسا کہ بعض آدمی اخلاق اور سخاوت کے اعتبار سے اچھے ہوتے ہیں لیکن اعتقاد کی خرابی اور کفر کے باعث ان اعمال کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا جس طرح تیز آندھی کے دن راکھ اڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے وہ…
Read the full tafseer →ف 5۔ اس صورت میں اس راکھ کا جو اڑنے میں بہت خفیف ہوتی ہے نام ونشان بھی نہ رہے گا۔
6۔ اس لیے کہ گمان تو ہو کہ ہمارے عمل نیک اور نافع ہیں اور پھر ظاہر ہوں بد اور مضر۔
Read the full tafseer →رب العزت کے انکاریوں کے اعمال کی مثال راکھ کے ڈھیر کے ساتھ
19 ؎ کفار کے وہ اعمال جو اعمال حسنہ سمجھتے جاسکتے ہیں ان کا ذکر ہے کہ ان کے کفر و شرک کے باعث ان کی مثال کیسی ہے ؟ فرمایا ان کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کا ایک ڈھیر ہو اور تیز و تند آندھی چلے اور اس کو اڑا کرلے جائے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے ان اعمال کی کوئی قدر و منزلت نہیں اور انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انہیں ان کے اعمال پر قیامت کے روز کوئی اجر نہ ملے ‘ انہوں نے جو یہ کام کئے تھے تو ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ انہیں اچھا کہیں ‘ ان کی رحم دلی اور سخاوت کا چرچا ہو اور لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں تاکہ ان کو النکشا جیتنے میں آسانی ہو اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →25. That is, those who were perfidious, faithless, and disobedient to the divine message, and refused to adopt that way to which the Messengers invited, will find in the end that all the deeds and earnings of their lives were as worthless as a heap of ashes. Just as each and every particle of a high mound of ashes formed during a long course of years is scattered by the wind on a stormy day, likewise all their grand works will prove on the stormy doomsday to be no more than a mound of ashes. Their dazzling culture, their grand civilization, their wonderful kingdoms and states, their…
Read the full tafseer →