Explained with ayahs 19–20
حیات ثانیہ
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ قیامت کے دن کی دوبارہ پیدائش پر میں قادر ہوں۔ جب میں نے آسمان زمین کی پیدائش کردی تو انسان کی پیدائش مجھ پر کیا مشکل ہے۔ آسمان کی اونچائی کشادگی بڑائی پھر اس میں ٹھیرے ہوئے اور چلتے پھرتے ستارے۔ اور یہ زمین پہاڑوں اور جنگلوں درختوں اور حیوانوں والی سب اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے جو ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا وہ کیا مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک قادر ہے۔ سورة یاسین میں فرمایا کہ کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ جھگڑا لو بن بیٹھا۔ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگا ان بوسیدہ ہڈیوں…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 26
یہ دلیل ہے اس دعوے کی جو اوپر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اس بات کو سن کر تمہیں تعجب کیوں ہوتا ہے ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ زمین و آسمان کا عظیم الشان کارخانہ تخلیق حق پر قائم ہوا ہے نہ کہ باطل پر ؟ یہاں جو چیز حقیقت اور واقعیت پر مبنی نہ ہو، بلکہ ایک بےاصل قیاس و گمان پر جس کی بنا رکھ دی گئی ہو، اسے کوئی پائیداری نصیب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے قرار ثبات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے اعتماد پر کام کرنے والا کبھی اپنے اعتماد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جو شخص پانی پر نقش بنائے اور ریت پر قصر تعمیر کرے وہ اگر یہ امید رکھتا ہے کہ اس کا نقش باقی رہے گا اور اس کا قصر کھڑا رہے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
خلاصہ تفسیر
(ان کافروں کو اگر اپنی نجات کے متعلق یہ زعم ہو کر ہمارے اعمال ہم کو نافع ہوں گے تو اس کا قاعدہ کلیہ تو یہ سن لو کہ) جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کی حالت باعتبار عمل کے یہ ہے (یعنی ان کے اعمال کی ایسی مثال ہے) جیسے کچھ راکھ ہو (جو اڑنے میں بہت خفیف ہوتی ہے) جس کو تیز آندھی کے دن میں تیزی کے ساتھ ہوا اڑا لے جائے (کہ اس صورت میں اس راکھ کا نام و نشان بھی نہ رہے گا اسی طرح) ان لوگوں نے جو کچھ عمل کئے تھے اس کا کوئی حصہ (یعنی اثر و نفع کے قبیل سے) ان کو حاصل نہ ہوگا (اس راکھ کی طرح ضائع و برباد ہوجائے گا) یہ بھی بڑی دور دراز کی گمراہی ہے) کہ گمان تو ہو کہ ہمارے عمل نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
تفسیر آیات 19 تا 20:۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ۔ وَّمَا ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ۔
قریش کو دھمکی : یہ واضح الفاظ میں قریش کو دھمکی ہے کہ تم نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ اللہ نے اس کو غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تمہارا وجود اس غایت و مقصد کے بالکل خلاف ہو کر رہ گیا ہے تو آخر وہ تم کو کس کام کے لیے اس زمین کی پشت پر لادے رکھے گا جب کہ اس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ چاہے تو ابھی چشم زدن میں تم سب کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق لا کھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ 1 قیامت والے دن کافروں کے عملوں کا بھی یہی حال ہوگا کہ اس کا کوئی اجر وثواب انھیں نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
15: اس آیت کریمہ میں آخرت کی زندگی کا ضروری ہونا بھی بیان فرمایا گیا ہے اور اس پر کافروں کو جو شبہ ہوتا ہے۔ اس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق ایک برحق مقصد کے لیے کی گئی ہے۔ اور وہ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرماں برداروں کو انعام دیا جائے اور نافرمانوں اور ظالموں کو سزا ملے اگر آخرت کی زندگی نہ ہوتی تو نیک اور بد سب برابر ہوجاتے۔ لہذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں ہر انسان کو اس کے مناسب بدلہ دیا جاسکے۔ رہا کافروں کا یہ اعتراض کہ مر کر مٹی میں مل جانے کے بعد انسان کس طرح دوبارہ زندہ ہوں گے۔ تو اس کا جواب اگلے جملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت نمبر 19 تا 20
ایمان اور کفر کے موضوع سے اور رسولوں اور جاہلیتوں کے مقابلے کے مضمون سے اب بات زمین و آسمان کے مناظر کی طرف آجاتی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق اس انداز میں روئے سخن کا پھرجانا ایک طبیعی امر ہے اور انسانی شعور میں بھی یہ تبدیلی یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اسلامی نظام حیات اور قرآنی اسلوب ایک ایمانی اور خدائی اسلوب ہے اس لیے کہ فطرت انسانی اور روح کائنات کے درمیان ایک خاص زبان کے ذریعہ پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت ، خلوت کائنات کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے ، انسان جونہی اس کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ اس سے اثرات اور پیغامات وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔
وہ لوگ جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
9 یعنی شاید کفار کو یہ خیال گزرے کہ جب مٹی میں مل کر مٹی ہوگئے پھر دوبارہ زندگی کہاں۔ قیامت اور عذاب وثواب وغیرہ سب کہانیاں ہیں، ان کو بتلایا کہ جس خدا نے آسمان و زمین کامل قدرت و حکمت سے پیدا کیے اسے تمہارا از سر نو دوبارہ پیدا کرنا، یا کسی دوسری مخلوق کو تمہاری جگہ لے آنا کیا مشکل ہے ؟ اگر آسمان و زمین کے محکم نظام کو دیکھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے اور قائم رکھنے والا کوئی صانع حکیم ہے جیسا کہ لفظ " بالحق " میں تنبیہ فرمائی تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اشرف المخلوقات (انسان) کو محض بےنتیجہ پیدا کیا ہوگا اور اس کی تخلیق و ایجاد سے کوئی عظیم الشان مقصد متعلق نہ ہوگا یقینا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ
اس کی قدرت قوت تخلیق اور تخلیقی مہارت ختم تو نہیں ہوگئی وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے ختم کر دے اور جب چاہے کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
22 یعنی زمین و آسمان اور اس کائنات کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کی بنیاد ٹھوس حقائق پر ہے۔ اسی طرح اگر اعمال صالحہ کی بنیاد کسی ٹھوس حقیقت پر ہو تو اس کا ثمرہ دائمی اور پائیدار ہوگا اور وہ آخرت میں بھی اپنا ثمرہ دے گا۔ مگر جس تعمیر کی بنیاد کسی ٹھوس جگہ کی بجائے ریت یا راکھ پر رکھ دی جائے تو تیز آندھی اسے گرا کر زمین بوس کردے گی۔ اس کی عمر اتنی ہی ہوتی ہے کہ کوئی تیز آندھی کا جھکڑ آجائے یا نیچے سے پانی بہہ جائے اور یہ جھکڑ یا حادثہ کافر کی موت ہے اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے نیک اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں۔
23 ان آیات میں مسلسل کافروں سے ہی خطاب چل رہا ہے جو محض حق کا انکار ہی…
Read the full tafseer →33۔ یعنی یونہی اور بےمقصد نہیں، بلکہ یہ سارا کارخانہ کائنات ایک غرض صحیح اور مقصد متعین کے ساتھ مخصوص منافع ومصالح کو لئے ہوئے برپا کیا گیا ہے۔ بہت سی مشرک قوموں کا عقیدہ یہ رہا کہ کائنات کو وجود خالق کی محض شوقیہ تفریخ کا نتیجہ ہے۔ یہ اس کا رد ہورہا ہے۔ (آیت) ” الم تر “۔ یعنی اسے مخاطب تو نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا۔
34۔ (تم سے بہتر طور پر اس مقصد کو پورا کرنے والی) ضمنایہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ عالم فناپذیر اور قائم بالغیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…
Read the full tafseer →الم تر ان اللہ خلق السموات والارض بالحق کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ حق سے مراد ہے : حکمت کاملہ اور وہ طریقہ جو کائنات کی تخلیق کیلئے مناسب تھا۔ اس جہان بالا و پست کی یہی پر حکمت تخلیق حق و باطل میں امتیاز کا راستہ بتاتی اور صانع حکیم کی واحد ہستی کو ثابت کرتی ہے۔
ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید اگر وہ چاہے تو تم کو (دنیا سے) لے جائے (تم کو معدوم کر دے) اور نئی مخلوق پیدا کر دے جو تم سے زیادہ فرمانبردار ہو۔ جس نے یہ آسمان و زمین حکمت سے پیدا کئے ‘ ایسا بڑا قادر اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم کو دنیا سے معدوم کر دے اور تمہاری جگہ کوئی نئی مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 20) اے محمد ﷺ کیا آپ کو یہ معلوم نہیں (یہاں مخاطب اپنے نبی کو کیا ہے مگر مقصود آپ کی قوم ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اظہار حق اور باطل یا یہ کہ زوال وفناء کے لیے پیدا کیا ہے مکہ والو اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہلاک کردے یا موت دے دے اور ایک دوسری مخلوق پیدا کر دے جو تم سے بہتر ہو اور اللہ تعالیٰ کی تم سے زیادہ فرمانبردار ہو اور یہ کرنا اللہ کے لئے بالکل مشکل نہیں، اور بڑے درجے اور اچھے درجے کے لوگ سب اللہ کے حکم سے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے تو چھوٹے درجے کے لوگ بڑے درجے کے کافروں سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے دین کی راہ دکھلاتا تو ہم تمہیں کو بھی اس کے دین کا راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ۔۔ :”اَلَمْ تَرَ“ کا معنی ”اَلَمْ تَعْلَمْ“ ہے، یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، یعنی اس صحیح اندازے کے مطابق جس کے مطابق اسے ہونا چاہیے تھا اور جو اپنے خالق کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کسی چیز میں کوئی نہ نقص نکال سکتا ہے نہ کوئی ایسی صورت پیش کرسکتا ہے جو اس سے بہتر ہو۔ ہاں وہ خود اس سے بھی بہتر بنانے پر پوری طرح قادر ہے۔
وَّمَا ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ : اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ایسے کروڑوں عالم دم بھر میں مٹا کر نئے پیدا کر دے۔ ”وَيَاْتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 18 تا 20
قولہ تعالیٰ : مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرما، مثل کے رفع میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ سیوبیہ کے نزدیک یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے جب کہ خبر مضمر ہوگی۔ تقدیر عبارت یہ ہے وفیما یتلی علیکم او یقص مثل الذین کفروا بربھم پھر نئے سرے سے کلام فرمایا اور فرمایا : اعمالھم کرماد یعنی راکھ کے ڈھیر کی طرح۔ اشتدت بہ الریح زجاج نے کہا : تقدیر عبارت ہوگی مثل الذین کفروا فیما یتلی علیکم أعمالھم کرماد یہی فراء کے نزدیک بھی ہے۔ اس صورت میں مثل مدغی ہوگا اصل کلام یہ ہوگا : والذین کفروا بربھم أعمالھم کرماد انھیں سے مضاف کے حذف کی صورت بھی مروی ہے یعنی مثل أعمال الذین کفروا بربھم کرماد پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
کافروں کے اعمال بےکار ہونے کی مثال :
1:۔ امام ابن جریر اور ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل الذین کفروا بربہم اعمالہم کرماد “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ (اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی) عبادت کی ان کے اعمال قیامت کے دن اس ریت کی طرح ہوں گے جیسے سخت آندھی کے دن تیز ہوا اڑا کرلے جائے گے وہ اپنے اعمال سے کچھ بھی نہ اٹھا سکیں گے جس طرح ریت سے کچھ بھی نفع نہیں اٹھایا جاسکتا جب تیز آندھی کا دن ہوتا ہے۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کافروں کے اعمال کی مثال اس راکھ کی طرح ہیں کہ جس پر تیز ہوا چلے جس کی وجہ سے کچھ…
Read the full tafseer →[اَ : کیا ] [ لَمْ تَر : تو نے غور نہیں کیا ] [َ ان : کہ ] [اللّٰهَ : اللہ نے ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [بِالْحَقِّ : حق (یعنی مقصد) کے ساتھ ] [ان : اگر ] [ يَّشَاْ : وہ چاہے ] [ يُذْهِبْكُمْ : تو وہ لے جائے تم لوگوں کو ] [وَيَاْتِ : اور لے آئے ] [بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ : کوئی نئی مخلوق ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
نیز فرمایا (اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ) (اگر وہ چاہے تو تمہیں معدوم کردے اور نئی مخلوق پیدا فرما دے) (وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ) (اور یہ اللہ پر ذرا بھی مشکل نہیں ہے)
اس کے بعد میدان حشر کا ایک منظر بیان فرمایا اور وہ یہ کہ قیامت کے دن چھوٹے بڑے سب قبروں سے نکل کر ظاہر ہونگے اس وقت جب عذاب سامنے آئے گا اور کفر و شرک کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور پہچانیں گے اس وقت چھوٹے لوگ جو دنیا میں کمزور تھے اپنے بڑوں سرداروں چودھریوں اور لیڈروں کے پیچھے چلتے تھے اور ان کی بات ماننے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
مثال اعمال کفار
قال اللہ تعالیٰ : مثل الذین کفروا بربھم اعمالہم کرماد۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
(ربط) اوپر کافروں کے انواع کا ذکر تھا اب ان کے اعمال کے ضائع ہونے کی ایک مثال بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح آندھی والے دن تیز آندھی سے راکھ اڑ جاتی ہے اور اس کا کچھ نام و نشان باقی نہیں رہتا اسی طرح کافروں کے اچھے اعمال جیسے صدقات جو انہوں نے بحالت کفر دئیے وہ قیامت کے دن کفر کی تیز آندھیوں سے سب اڑ جائیں گے اور کسی عمل کا نام و نشان نہ رہے گا اس وقت ان کی حسرت کی حالت ناگفتہ بہ ہوگی چناچہ فرماتے ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال صالحہ خیرات و صدقات مثل اس راکھ کے ہیں جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
22:۔ دوسری عقلی دلیل برائے توحید۔ ” بِالْحَقِّ “ میں باء بمعنی لام ہے اور مجرور مضاف محذوف ہے اور حق سے توحید مراد ہے۔ ” ای لاظہار الحق “ یا باء اپنے اصل پر ہے اور ملابست کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو ایسی حکمت بالغہ سے پیدا فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید پر کھلی دلیل اور واضح برہان کا کام دے رہی ہے۔
23:۔ تیسری بار وقائع کا ذکر۔ یہ تخویف دنیوی ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں ہلاک کردے اور تمہاری جگہ اور مخلوق پیدا کرلے اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام کام یکساں ہیں اس کی قدرت لا محدود کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے کہ کافر لوگ اللہ کے نبیوں کو دہمکی دیتے تھے کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ہم ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے اور ان کے بعد اس زمین میں تمہیں آباد کریں گے فرمایا یہ سعادت اس شخص کو حاصل ہوگی جو محاسبہ اعمال کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے اور اس کی وعید سے خوف کھاتا ہے ، پھر فرمایا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا ان کی قوموں نے اللہ سے فیصلہ طلب کیا جس کے نتیجے میں ہر منکر اور ضدی آدمی ہلاک ہوا ، ایسے لوگوں کو جہنم میں پیپ ملا پانی پینے کو ملیگا جسے وہ گھونٹ گھونٹ کرکے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ 19ۙ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
ترکیب : ان اللّٰہ جملہ قائم مقام دونوں مفعولوں کے الم تر سے۔ من عذاب اللّٰہ موضع نصب میں ہے حال ہو کر کیونکہ اصل میں شیء کی صفت ہے تقدیرہ من شیء من عذاب اللہ من زائدۃ ای شیئا کائنًا من عذاب اللہ الا ان استثناء منقطع ہے لان دعائہ لم یکن سلطاناً ای حجۃ مصرخی جمہور بفتح الیاء پڑھتے ہیں اور یہ جمع مصرخ کی اول ی جمع کا دوم ی متکلم میں ادغام ہوگیا وادخل برزوا پر معطوف۔
تفسیر : کفار کے غرور آمیز کلمات کے جواب میں پہلے تو خود ان کا برباد ہونا اور جہنم میں جانا اور ان کے بعد انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے گروہ کا ان کی زمین اور ملک پر قابض اور متصرف ہونا بیان فرمایا تھا۔ اب ان مخالفین کے دل پر اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ وَّمَاذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 19۔ 20)
(کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہلاک کردے اور ایک نئی مخلوق لابسائے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ )
قریش کو وارننگ
اس آیت کریمہ میں قریش مکہ کو غور و فکر کی دعوت بھی دی گئی ہے اور ساتھ ساتھ وارننگ بھی۔ غور و فکر کے قابل بات یہ ہے کہ یہ دنیا نہ تو خودبخود وجود میں آئی ہے اور نہ اس کی تخلیق بےمقصد ہے، نہ کسی کھلنڈرے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو ان کے اعمال کی حیثیت اور انجام بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت وسطوت کا اظہار کرتا ہے۔
عربی زبان میں ” تَرٰی “ کا معنی صرف ” دیکھنا “ نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ غور کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اکثر اہل علم نے ” اَلَمْ تَرَ “ کا معنی ” اَلَمْ تَعْلَمْ “ یعنی کیا ہے۔ کہ کیا آپ نہیں جانتے یا تو نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے حق کے ساتھ پیدا کرنے کے دو مفہوم ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بلاوجہ اور بےمقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ زمین و آسمان اور ان میں بیشمار مخلوق کو پیدا فرما کر انہیں وسیع ترین نظام کے ساتھ مربوط…
Read the full tafseer →قدرتِ الٰہی :
19: اَلَمْ تَرَ (کیا تم نہیں جانتے) اس میں ہر ایک کو خطاب ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ قراءت : خالق کو مضاف پڑھا حمزہ، علی رحمہما اللہ نے بِالْحَقِّ (حق کیساتھ) حکمت کے ساتھ اور بڑے مقصد کیلئے اور اس کو بےکار نہیں بنایا اِنْ یَّشَاْ یُذْ ھِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ (اگر وہ چاہتا تو تم کو معدوم کر دے اور نئی مخلوق پیدا کردے) یعنی اس کو لوگوں کے معدوم کرنے کی قدرت ہے اور ان کی جگہ انہی جیسی نئی مخلوق پیدا کرنے کی طاقت ہے یا ان کی شکل کے خلاف دوسری شکل میں تاکہ یہ چیز موجود کو معدوم اور معدوم کو ایجاد کی…
Read the full tafseer →تفسیر 19۔” الم تر ان اللہ خلق السموات والارض “ حمزہ اور کسائی نے ” خالق السموات والارض “ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة نور میں ہے ” خالق کل دابۃ “ ان صورتوں میں یہ مضاف ہوگا اور دوسرے قراء نے خلق ماضی پڑھا ہے اور آگے جملہ منصوب پڑھا ہے۔ ” بالحق “ ان دونوں کو پیدا کیا ہے حق کے لیے یعنی امر عظیم کے لیے پیدا کیا ، بےفائدہ نہیں بنایا ۔” ان یشاء یذھبکم ویات بخلق جدید “ تمہارے علاوہ کسی اور کو وہ لے آئے جو تم سے زیادہ فرمانبردار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 20۔ اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکوں کو قائل کرنے کے لئے اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا اور بظاہر اگرچہ حضرت ﷺ کو مخاطب کیا ہے مگر اس خطاب سے ساری امت مقصود ہے اس لئے فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا آسمان و زمین کا پیدا کرنا ساری مخلوق کے پیدا کرنے سے مشکل ہے کیونکہ اس میں عجیب عجیب حکمتیں ہیں بہرحال وہ اگر چاہے تو ساری دنیا کو نیست و نابود کر دے اور اس کی جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کر دے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کی تعظیم اور عبادت میں جو لوگ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان کے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ان اللہ خلق السموت والارض بالحق) ” بیشک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ “ یعنی تاکہ مخلوق اس کی عبادت کرے اور اس کی معرفت حاصل کرے، اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے اوامرونواہی جاری کرے اور مخلوق ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دنوں میں ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر استدلال کرے اور ان کو معلوم ہوجائے کہ وہ ہستی جس نے اتنے بڑے اور وسیع آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ تمام مخلوق کو نئے سرے سے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے تاکہ ان کی نیکی اور بدی پر ان کو جزاوسزا دے اور اس کی قدرت ومشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
36۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کا مطلب ؟ اور اہل بدعت کی ایک تحریف کی ترید :
یعنی کیا تم غور نہیں کرتے، اور سبق نہیں لیتے، یعنی دیکھنے سے یہاں پر ظاہری آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں، بلکہ دل کی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے جو کہ عبارت ہے غور و فکر سے، یعنی تم سوچو اور غور کرو کہ آسمان و زمین کی یہ حکمت بھری کائنات جس ذات اقدس واعلی نے پیدا فرمائی ہے، وہ کیسی عظمت والی ذات ہے، اور اس عظیم مخلوق میں جابجاپھیلے بکھرے ان عجائب وغرائب اور دلائل قدرت کو دیکھو، اور ان میں غور و فکر سے کام لو، جو کہ اپنے خالق ومالک کی عظمت اور وحدانیت کی گواہی دے رہے ہیں، کیا یہ سب کچھ عبث وبے کار ہوسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یعنی اس صحیح اندازے کے مطابق جس کے مطابق اسے ہونا چاہیے تھا اور جو اپنے خالق کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(14:18) کرماد۔ ک تشبیہ کے لئے رماد ۔ راکھ۔ خاکستر۔ اسم ہے اس کی جمع ارمدۃ۔
اشتدت بہ الریح۔ اشتدت۔ ماضی۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ سخت ہوگئی۔
اشتداد (افتعال) سے مصدر۔ اشتدت بہ الریح۔ جس کو ہوا تیزی سے اڑا لے گئی۔
عاصف۔ تیزو تند ہوا۔ سخت جھونکا۔ عصف جس کے معنی تیزوتند ہوا چلنے اور آندھی آنے کے ہیں۔ المفردات میں ہے ریح عاصف تند ہوا جو ہر چیز کو توڑ کر بھس کی طرح بنا دے۔
عصف کے معنی بھس ہیں جیسے کعصف ما کول۔ (105:5) جیسے کھایا ہوا بھس ہو۔
یوم عاصف آندھی کا دن۔ عاصف بمعنی معصوف ہے۔ عاصف کی جمع عواصف ہے۔
لا یقدرون مما کسبوا علی شیئ۔ ای لا یقدرون علی شیء مما کسبوا۔ یعنی جو کچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 21
رماد راکھ۔ اشتدت تیز چلی۔ الریح ہوا۔ عاصف تیز آندھی۔ لایقتدرون وہ طاقت وقدرت نہیں رکھتے ہیں۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ یشآء وہ چاہتا ہے۔ یذھب وہ لے جائے۔ وہ جاتا ہے۔ خلق جدید نئی مخلوق ۔ برزوا وہ ظاہر ہوئے۔ وہ حاضر ہوں گے۔ الضعفوا (ضعیف) ، کمزور ۔ استکبروا انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی۔ تبع پیچھے ۔ تابع داری کرنا ۔ مغنون بچانے والے ، ہلکا کرنے والے۔ ھدنا اس نے ہمیں راستہ سمجھایا، بتایا ۔ اجزعنا کیا ہم گھبرائیں ، چلائیں محیص چھٹکارا پانے کی جگہ ۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 21
قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کی بھلائی کے لئے جو کام بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اللہ کی قدرت کا نمونہ۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور آسمان و زمین کا پیدا کرنا ساری مخلوق کے پیدا کرنے سے مشکل ہے۔ کیونکہ اس میں عجیب عجیب حکمتیں ہیں۔ بہرحال وہ اگر چاہے تو دنیا کو نیست و نابود کردے اور اس کی جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
[10] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
شیرازہ اعمال :
(ف 2) اعمال کے لئے ایک شیرازہ کی ضرورت ہے ، اور جب تک یہ شیرازہ موجود نہ ہو ، اعمال میں غرض وترتیب پیدا نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ، کیا اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ شیرازہ ایمان صحیح ہے ، ایک دیوانہ ہے اس کے افعال کو کیوں آپ قابل اعتنا نہیں سمجھتے ، اور اس کی تمام حرکتیں کیوں عبث قرار پائی ہیں ۔ اس لئے کہ اس کے اعمال میں شیرازہ عقل موجود نہیں ، اسی طرح وہ شخص جو خیر وعمل صالح کے مفہوم سے آگاہ نہیں جو انسانیت کے صحیح پروگرام سے واقف نہیں کیونکہ صالح قرار دیا جاسکتا ہے ، جبکہ اس کے اعمال میں شیرازہ ایمان موجود نہیں قرآن حکیم نے اس حقیقت کو نہایت عمدہ مثال…
Read the full tafseer →19 ۔ اے مخاطب ! کیا تونے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک بنایا اور ایسا بنایا جیسا ان کے بنانے کا حق تھا اگر وہ چاہے تو تم کو لے جائے اور بالکل معدوم کر دے اور تمہاری جگہ کسی نئی مخلوق کو لا موجود کر دے ۔ یعنی حکمت بالغہ کے ماتحت اور ہر قسم کی مصالح کی رعایت رکھتے ہوئے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا وہ اس پر بھی قادر ہے کہ تم کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ کوئی اور نئی مخلوق پیدا کر دے جیسا کہ عام انقلاب میں اسکا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی مشتمل برمنافع ومصالح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ایک فعل عبث کے طور پر نہیں بنایا بلکہ خاص مقصد کے تحت بنایا
20 ؎ اوپر کچھ لوگوں کے اعمال کا ذکر کیا گیا تھا کہ انہوں نے اعمال تو کئے اور تھے بھی وہ اچھے اعمال لیکن انہوں نے بغیر آخرت پر ایمان لانے کے محض دنیاوی زندگی کی خوبیاں ‘ کامیابیاں ‘ کامرانیاں حاصل کرنے کیلئے کئے اس لئے دنیا میں بھی ان کا صلہ ان کو دے دیا گیا۔ اس کے بعد اب ذکر کیا جا رہا ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے کتنے بڑے آسمانوں اور زمین کو بچھایا ہے لیکن صرف اتفاقیہ ایسا نہیں کیا یا ایسا ہوگیا بلکہ اتنا بڑا کام بھی کسی خاص مقصد کے تحت کیا گیا اگرچہ وہ مقصد سارے انسانوں کی سمجھ میں نہ آئے۔ اس لئے یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →26. This is the proof of the preceding statement that the works of the disbelievers are worthless like ashes. The question implies: Why are you skeptical of this? Do you not see that the grand system of the earth and the heavens is based on the survival of truth and not on the survival of falsehood. Everything bears witness to the fact that anything which is not based on truth and reality but rests on unreal speculation and guess work cannot continue to live long. Therefore anyone who builds his works on the latter will most surely fail in his designs. For it is obvious that such a person…
Read the full tafseer →