تمام انسان اور جن پابند اطاعت ہیں
ارشاد ہے کہ یہ قرآن دنیا کی طرف اللہ کا کھلا پیغام ہے جسے اور آیت میں نبی ﷺ کی زبانی کہلوایا گیا ہے کہ لا نذرکم بہ ومن بلغ یعنی تاکہ میں اس قرآن سے تمہیں بھی ہوشیار کر دوں اور جسے جسے یہ پہنچے یعنی کل انسان اور تمام جنات جیسے اس سورت کے شروع میں فرمایا کہ اس کتاب کو ہم نے ہی تیری طرف نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے الخ۔ اس قرآن کریم کی غرض یہ ہے کہ لوگ ہوشیار کر دئے جائیں ڈرا دئے جائیں۔ اور اس کی دلیلیں حجتیں دیکھ سن کر پڑھ پڑھا کر تحقیق سے معلوم کرلیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور عقلمند لوگ نصیحت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
سورة اِبْرٰهِیْم 58
بعض مترجمین و مفسرین نے قطیران کے معنی گندھک اور بعض نے پگھلے ہوئے تانبے کے بیان کیے ہیں، مگر درحقیقت عربی میں قَطِیران کا لفظ زفت، قِیر، رال، اور تارکول کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ایک یاد داشت اور اطلاع
احقر ناکارہ نہ اس کا اہل تھا کہ تفسیر قرآن لکھنے کی جرأت کرے نہ کبھی اس خیال کی ہمت کرتا تھا البتہ اپنے مرشد حضرت حکیم الامت تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کو جو اس زمانہ کی بےنظیر متوسط تفسیر ہے نہ بہت مختصر کہ مضمون قرآن سمجھنا مشکل ہو نہ بہت طویل کہ پڑھنا مشکل ہو پھر خداداد علم وذکاوت اور تقوی و طہارت کی برکت سے اقوال مختلفہ میں ایک کو ترجیح دے کر لکھ دینے کا جو خاص ذوق حق تعالیٰ نے موصوف کو عطا فرمایا تھا وہ بڑی تفسیروں سے بھی حاصل ہونا مشکل تھا مگر یہ تفسیر حضرت نے اہل علم کے لئے انہی کی زبان اور علمی اصطلاحوں میں لکھی ہے عوام خصوصا اس زمانہ کے عوام جو عربی زبان اور…
Read the full tafseer →آخری تنبیہ : هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَلِيَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ یہ آخری تنبیہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس لیے لوگوں کو پہنچا دی گئی ہیں کہ لوگوں پر خدا کی حجت پوری ہوجائے، لوگ عذاب اور قیامت سے خبر دار ہوجائیں اور اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ ایک ہی خدا سے سابقہ پڑنے والا ہے، کوئی اور کام آنے والا نہیں ہے اور جو اہل عقل ہیں ان کو یاد دہانی ہوجائے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔
Read the full tafseer →52۔ 1 یہ اشارہ قرآن کی طرف ہے، یا پچھلی تفصیلات کی طرف جو (وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا) 14۔ ابراہیم :42)
بیان کی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی
Read the full tafseer →آیت نمبر 52
اس اعلان عام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ جان لیں کہ اللہ ایک ہی الٰہ اور حاکم ہے۔ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کے اوپر اسلامی نظام قائم ہے۔
لیکن اس اعلان عام سے اصل غرض وغایت مجرد نہیں ہے بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگی کا پورا نظام اس اصول پر قائم کریں اور اپنی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت اختیار کریں۔ اگر وہ اللہ کو واحد الٰہ اور حاکم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اگر کسی کو الٰہ اور خالق ومالک سمجھا جاتا ہے تو وہی حاکم اور رب بھی ہوگا۔ وہی سربراہ ، متصرف فی الامور ، ڈائریکٹر اور قانون ساز ہوگا۔ اس ایمان و اعلان پر اگر انسانی زندگی کو عملاً قائم کیا جائے تو وہ عملی نظام اس نظام کے سراسر…
Read the full tafseer →10 یعنی خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور خدا سے ڈر کر اس کی آیات میں غور کریں جس سے اس کی وحدانیت کا یقین حاصل ہو اور عقل و فکر سے کام لے کر نصیحت پر کار بند ہوں۔ تم سورة ابراہیم (علیہ السلام) ولِلّٰہ الحمد والمنۃ۔
Read the full tafseer →آیت 52 هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ
اس قرآن اور اس کے احکام کو لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم نے محمد رسول اللہ پر ڈالی تھی۔ آپ نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کردی ہے۔ اب یہ ذمہ داری آپ کی امت کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ پیغام تمام انسانوں تک پہنچائے۔
وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ
یعنی اس قرآن کے ذریعے سے تمام انسانوں کی تذکیر و تنذیر کا حق ادا ہوجائے۔ اس حوالے سے سورة الانعام کی آیت 19 کے یہ الفاظ بھی یاد کر لیجیے : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط ”یہ قرآن میری طرف سے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کردوں اس کے ذریعے سے تمہیں بھی اور ہر اس شخص کو جس تک…
Read the full tafseer →51 نزول قرآن کے تین مقاصد :۔ یعنی قرآن کا پیغام ایسی چیز ہے جسے تمام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے اور اس کے تین فائدے ہیں ایک یہ کہ لوگوں کو ان کے برے اعمال کے انجام سے بر وقت خبردار کیا جائے اور ڈرایا جائے۔ دوسرے یہ کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کے اعمال پر گرفت کرنے والی صرف ایک ہی ہستی ہے۔ لہذا ہر حال میں صرف اسی کی طرف رجوع کیا جائے، اس کی بندگی کی جائے اور اپنے نفع و نقصان کے وقت اسی کو پکارا جائے اور تیسرے یہ کہ اس قرآن میں مذکور آیات اور واقعات سے اہل دانش عبرت اور سبق حاصل کریں۔
Read the full tafseer →83۔ (آیت) ” اولوا الالباب “۔ پر حاشیہ صفحہ 546 نمبر 42 میں گزر چکا۔ (آیت) ” ھذابلغ للناس “۔ یہ قرآن لوگوں کے لیے ایک پیام ہے کہ وہ پیام اور پیامبر دونوں کی تصدیق کریں۔ (آیت) ” بلغ “۔ میں تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی یہ پیام معظم لوگوں کی ہدایت کے لیے بالکل کافی ہے۔ (آیت) ” ولینذروا بہ “۔ یعنی تاکہ اس کے ؔ ذریعہ اور واسطہ سے وہ عذاب الہی سے ڈرائے جائیں۔ (آیت) ” للناس “۔ میں ناس کا عموم لائق لحاظ ہے یعنی یہ پیام ہدایت ساری نوع انسانی کے لیے، کسی مخصوص قوم یا ملک کے لیے نہیں۔ (آیت) ” ولیذکر اولوالالباب “۔ آیت سے ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ انسان کو درجہ شرف وفضیلت جو کچھ بھی حاصل ہے وہ عقل اور اس کے صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…
Read the full tafseer →ھٰذا یہ یعنی قرآن یا سورت یا سورت کے اندر آیت ولا تحسبن اللہ میں جو وعظ و نصیحت درج ہے۔
بلغ للناس لوگوں کی نصیحت کیلئے کافی ہے (یعنی پوری نصیحت ہے) ۔
ولینذروا بہ ولیعملوا انما ھو الہ واحد ولیذکر اولوا الالباب اور تاکہ اس کے ذریعہ عذاب سے ڈرائے جائیں اور تاکہ اس بات کا یقین کرلیں کہ وہی ایک معبود برحق ہے اور تاکہ دانشمند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ جس عذاب قیامت سے ان کو ڈرایا جائے گا اور وہ ڈر جائیں گے تو یہ خوف ان کو غور و فکر کرنے پر آمادہ کر دے گا اور غور و تامل کے بعد وہ آیات اور نشانیاں ان کے سامنے آجائیں گی جو اللہ کی توحید کو ثابت کرنے والی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کو واحد لا شریک مان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(51) تاکہ اللہ تعالیٰ نیک وبد کو اس کی نیکی اور بدی کی جزا وسزا دے اور اللہ تعالیٰ بہت سخت حساب لینے والا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حساب و کتاب میں کوئی مشکل نہیں وہ جب حساب لینا شروع فرمائے گا بہت جلد حساب لے لے گا۔
یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو احکام پہنچانے والا ہے یا یہ کہ لوگوں کے لیے اوامرو نواہی وعدے وعید اور حلال و حرام کو بیان کرنے والا ہے اور تاکہ قرآن کریم کے ذریعے سے عذاب سے ڈرائے جائیں اور تاکہ اس بات کا یقین اور اقرار کرلیں کہ وہی ایک معبود برحق ہے نہ کوئی اس کا شریک ہے اور نہ کوئی اس کی اولاد ہے اور تاکہ اس قرآن کریم کے ذریعے سے دانشمند نصیحت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ۔۔ : اس آیت میں قرآن مجید نازل کرنے کے چار مقصد بیان ہوئے ہیں : 1 اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچ جائے۔ 2 اس کے ذریعے سے وہ آگاہ ہوجائیں اور ڈر جائیں۔ 3 لوگوں کو علم ہوجائے کہ عبادت صرف ایک اللہ کی کرنی ہے۔ 4 عقلوں والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ رازی نے فرمایا، معلوم ہوا کہ انسان میں عقل ہی اصل ہے، یہ نہ ہو تو وہ کبھی نصیحت حاصل نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
آیت نمبر 48 تا 52
قولہ تعالیٰ : یوم تبدل الارض غیر الارض یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن زمین کو تبدیل کردیا جائے گا، لہٰذا یوم ما قبل کے متعلق ہوگا۔ یعنی اذکر کے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ یوم یقوم الحساب کی صفت ہے۔ زمین کی تبدیلی کی کیفیت میں اختلاف ہے، بہت سارے لوگوں نے کہا کہ زمین کی تبدیلی اس کی صفات کی تبدیلی، اس کے ٹیلوں کی برابری، اس کے پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے، اور اس کی زمین کی لمبائی سے عبارت ہے۔ اس کو حضرت ابن مسعود ؓ نے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور ابن مبارک نے اسے شہر بن حوشب کی حدیث سے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
1:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” سرابیلھم “ سے مراد ہے ان کی قمیص۔
2:۔ امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” سرابیل “ سے مراد قمیص۔
3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ’(آیت ) ” من قطران “ سے مراد ہے اونٹ کا تارکول (جو خارش زدہ اونٹوں پر ملا جاتا ہے)
4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من قطران “ سے مراد ایک تارکول ہے جو ان کے جسموں پر ملا جاتا ہے تاکہ آگ جلدی سے بھڑک جائے۔
5:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من قطران “ سے مراد ہے پگھلا ہوا تانبا۔
6:۔…
Read the full tafseer →[هٰذَا : یہ ] [ بَلٰغٌ: پہنچانا ہے ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ وَلِيُنْذَرُوْا : اور تاکہ وہ لوگ خبردار کئے جائیں ] [ بِهٖ : اس سے ] [ وَلِيَعْلَمُوْٓا : اور تاکہ وہ لوگ جان لیں کہ ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ هُوَ : وہ ] [اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: یکتا الٰہ ہے ] [ وَّلِيَذَّكَّرَ : اور تاکہ یاد دہانی حاصل کریں ] [ اُولُوا الْاَلْبَابِ : (اوہام سے پاک) عقل والے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (ھٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ ) یہ قرآن لوگوں کو پہنچ جانے والی چیز ہے اس میں نصیحت اور موعظت ہے (وَ لِیُنْذَرُوْا بِہٖ ) تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ ڈرایا جائے وہ موت کے بعد کے لیے فکر مند ہوں کفر کو چھوڑیں اور ایمان قبول کریں۔ (وَ لِیَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) (اور تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ معبود ہے تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں) (وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ) (اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں) اللہ کی صفات خالقیت اور مالکیت کے بارے میں تدبر کریں شرکیہ عقائد سے باز رہیں امم سابقہ کی بغاوت اور پھر ان کی ہلاکت سامنے رکھیں اور اس سے عبرت حاصل کریں اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت
قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…
Read the full tafseer →47:۔ آخر میں سورت کے خلاصہ مضامین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ” ھٰذَا “ سے تمام مذکورہ وقائع اور دلائل کی طرف اشارہ ہے۔ ” وَ لِیُنْذَرُوْا “ کا معطوف علیہ مقدر ہے ای لیومنوا یعنی یہ تمام وقائع اور دلائل اس لیے زکر کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ایمان لے آئیں اور وقائع امم سابقہ سنا کر ان کو ڈرایا جائے اور وقائع اور دلائل کے بیان سے جو مسئلہ (یعنی مسئلہ توحید) سمجھانا مقصود ہے تاکہ وہ اس کو مان لیں اور ان کو یقین ہوجائے کہ تنہا اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کا کارساز اور ساری کائنات میں اکیلا وہی متصرف و مختار ہے اور وہی پکارے نے کے لائق ہے۔ اور تاکہ عقل و فہم اور ہوش و خرد والے لوگ ان (وقائع و دلائل) میں غور…
Read the full tafseer →(خلاصہ مضامین)
یہ سورة ابراہیم کی آخری آیت ہے مکی سورة ہونے کی بناء پر اس میں بھی زیادہ تر اسلام کے چار بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، پہلی بات قرآن کی صداقت وحقانیت اور اس کا وحی الہی ہونا ہے ، اس سورة میں قرآن پاک کی ضرورت اور اس پر اعتراض کرنے والوں کا خاص طور رد کیا گیا ہے ، اس کی غرض وغایت اس کے ابتدائی حصے میں ہی بیان کی گئی ہے ، (آیت) ” لتخرج الناس من الظلمت الی النور “۔ کہ آپ اس قرآن کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی ، اور بداعمالی سب اندھیرے ہیں جن کی وجہ سے انسان کی روح اور عقل تاریک ہوجاتی ہے ، اور انسان بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں اس…
Read the full tafseer →هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَلِيَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 52ۧ
بلغ
البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15]
( ب ل غ ) البلوغ
والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو ۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ترکیب : یوم انتقام کا ظرف ہے یا اذکر محذوف کا مفعول۔ والسمٰوٰت تقدیرہ غیرالسمٰوٰت۔ سرابیلہم جملہ حال ہے المجرمین سے و تغشی بھی حال ہے لیجزی ای فعلنا ذلک للجزاء اور ممکن ہے کہ یہ برزوا سے متعلق ہو۔ ولینذروابہ اے ھذا القرآن بلاغ وانذر للناس لام بلاغ سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ انزل محذوف سے ولیذکر معطوف ہے ولینذروا پر۔
تفسیر : یہ اس انتقام کے دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے یوم تبدل الارض الخ کہ اس دن یہ زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ صحیحین میں حدیث ہے کہ قیامت کو ایک سفید ستھری زمین پر لوگ جمع کئے جاویں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آسمانوں و زمین کی صفات میں تغیر وتبدل ہوگا۔ یہ زمین زیادہ وسیع کردی جائے گی۔…
Read the full tafseer →ھٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنْذَرُوْا بِہٖ وَلِیَعْلَمُـْوٓا اَنَّمَا ھُوَاِلٰـہٌ وَّاحِدٌ وَّلِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 52)
(یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ اس کے ذریعے انھیں خبردار کردیا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی ایک معبود ہے تاکہ عقلمند لوگ اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ )
آخری پیغام
یہ قرآن تمام نوع انسانی کے لیے آخری پیغام ہے جسے قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ موعظۃ من ربکم فرمایا ہے۔ انسانوں کی ہدایت اور ان کی بھلائی کے لیے اس سے بہتر کوئی نسخہ ٔ شفا نہیں۔ ان کی تمام تر خرابیوں کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اِلٰہ ماننے سے انکار…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں ان کا انجام ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ قرآن مجید سب کے لیے بالخصوص عقل مندوں کے لیے خیر خواہی ہے جو تم تک پہنچ چکی ہے۔
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں ارشاد فرمایا تھا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے اس قرآن مجید کو آپ پر اس لیے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں کو کفر و شرک کے اندھیروں اور ہر قسم کی جہالت سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی روشنی میں لاکھڑا کریں۔ کیونکہ یہی آپ کے رب کا بتلایا ہوا سیدھا راستہ ہے جو لوگ اس راستہ کی طرف نہیں آئیں گے ان کے لیے شدید ترین عذاب ہوگا۔ یہی پیغام موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دیا اور…
Read the full tafseer →52: ھٰذَا (یہ) جس کا بیان ولا تحسبن سے سریع الحساب تک ہوا۔ بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ (پوری بات ہے لوگوں کیلئے) وعظ و نصیحت کیلئے کافی ہے۔ وَلِیُنْذَرُوْا بِہٖ (اور تاکہ اس کے ذریعہ ڈرا یا جائے) اس پوری بات کے ذریعہ۔
نحو : اس کا عطف محذوف پر ہے ای لینصحوا ولینذروا۔ وَلِیَعْلَمُوْا اَنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّ احِدٌ (تاکہ وہ جان لیں کہ بیشک وہی ایک معبود ہے) کیونکہ جب وہ ڈریں گے اس چیز سے جس سے ان کو انذار کیا گیا ہے تو خوف ان کو غور و فکر کی طرف لے جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ توحید تک پہنچ جائیں گے کیونکہ خشیت تمام بھلائیوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔ وَّ لِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ( اور تاکہ عقل والے نصیحت…
Read the full tafseer →52۔” ھذا “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” بلاغ “ اس سے تبلیغ و نصیحت ہے۔ ” للناس ولینذروا “ تمہیں ڈرائیں ۔ ” بہ ولیعلموا انما ھو الہ واحد “ تا کہ ان آیا ت سے اللہ کی وحدانیت پر استدلال کرے۔” ولیذکر اولو الالباب “ تا کہ اس سے عقل والے نصیحت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →52۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو خبر دی کہ یہ قرآن جو تم پر نازل کیا گیا ہے یہ ایک نصیحت ہے تاکہ لوگ خدا سے ڈریں اور جو نصیحت اس میں ہے اس سے معلوم کرلیں کہ سوائے اس ایک خدا کے دوسرا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے اس لئے کہ جو لوگ صاحب فہم ہیں عقل رکھتے ہیں ان کو اس میں غوروفکر کرنا چاہیے اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ شداد بن اوس ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کے بعد کا کچھ عقبیٰ کا سامان کر لیوے اور عقل سے عاجز وہ شخص ہے جو عقبیٰ سے غافل رہ کر عقبیٰ کی بہبودی کی تمنا دل میں رکھے 1 ؎…
Read the full tafseer →جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کو پوری طرح کھول کھول کر اس قرآن میں بیان کردیا تو پھر اس کی مدح میں فرمایا (ھذا بلغ للناس) ” یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو “ یعنی یہ ان کے لئے کافی ہے، وہ اسے زاد راہ بنا کر بلند ترین مقامات پر اور افضل ترین کرامات تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ یہ تمام علوم اور اصول و فروع پر مشتمل ہے جس کے بندے محتاج ہیں (ولینذروابہ) ” اور تاکہ انہیں اس ڈرایا جائے “ کیونکہ اس میں برے اعمال اور اس عذاب سے ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بد اعمال لوگوں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔
(ولیعلموآ انما ھو اللہ واحد) ” اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود صرف وہی ایک ہے “ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →102۔ قرآن حکیم کا اولین مقصد انذار :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا جائے، یعنی تاکہ ان کو خبردار کیا جائے ان کے مآل اور انجام سے، تاکہ اس طرح وہ اس کی روشنی میں اپنے انجام کی فکر کرسکیں، اور برے انجام سے بچ سکیں، اور حیات دنیا کی اس محدود و مختصر فرصت کو ضائع نہ ہونے دیں وباللہ التوفیق لما یحب ویرضی، سو اس کتاب حکیم کے ذریعے لوگوں کو ان کے مال وانجام سے خبردار کرنا قدرت وہ عظیم الشان احسان ہے جس جیسا دوسرا کوئی احسان ہوسکتا ہی نہیں، کہ اس علم وآگہی کے بغیر انسان اپنے مقصد حیات سے بیخبر طرح طرح کے اندھیروں میں محو ومستغرق اور خسارہ در خسارہ کا شکار رہتا ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام
تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 8 ۔ یعنی حساب کا دن جلد آنے والا ہے اس لئے اس کی فکر کرو۔
Read the full tafseer →(14: 52) ھذا ۔ ھذا القران ۔ یہ قرآن۔
بلغ۔ بلغ یبلغ بلغا۔ (باب نصر) مصدر۔ البلغ۔ کے معنی مقصد اور منتہیٰ کے آخری حد تک پہنچنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ۔ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچنے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہا تک پہنچنے کے معنی میں قرآن مجید میں ہے۔ حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ۔ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔
بلغ۔ کے معنی کافی ہونے کے بھی آتا ہے۔ مثلاً ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین۔ (21:106) عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) پوری پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 52
تبدیل بدل دے گا۔ برزوا وہ ظاہر ہئے، سامنے ہوئے۔ القھار زبردست۔ مقرنین ملا کر جکڑے ہوئے۔ الاصفاد زنجیریں۔ سرائیل کرتے۔ قطران گندھک ، سیاہ تیل۔ تغشی ڈھانپ لے گی۔ وجوہ (وجہ) چہرے۔ لیجزی تاکہ بدل دے۔ کل نفس ہر شخص، ہر جان۔ کسبت کمایا۔ سریع جلد۔ بلغ پہنچانا۔ اولوا والا۔ الالباب (لب) ، عقلیں ۔
تشریح :- آیت نمبر 48 تا 52
سورة ابراہیم کو ان آیات پر ختم کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کتاب ہدایت ہے جو انسانوں کے ضمیر کو ہلاک کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ وہ آخری پیغام الٰہی ہے جو دنیا بھر کے غافلوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے…
Read the full tafseer →توحید کا بیان
اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو خبر دی کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا گیا ہے ایک نصیحت ہے تاکہ لوگ خدا سے ڈریں اور جو نصیحت اس میں ہے اس سے معلوم کرلیں کہ سوائے اس ایک خدا کے دوسرا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ صاحب فہم ہیں عقل رکھتے ہٰں ان کو اس میں غور و فکر کرنا چاہیے اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ ترمذی ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : عقلمند وہ شخص ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کے بعد کا کچھ عقبی کا سامان کرلیوے اور عقل سے عاجز وہ شخص ہے جو عقبی سے غافل رہ کر عقبی کی بہبیودی کی تمنا دل میں رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
[25] یعنی موجودہ زمین و آسمان کی ہیئت بدل دی جائے گی، پھر تمام انسان ازسرنو زندہ کئے جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔ قرآن کے ارشادات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا اور یہیں لوگوں کا حساب کتاب لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
خلف وعید اور مسئلہ ندا :
(ف 1) اس سے قبل یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ حرکات سے غافل نہیں ہے ۔ وہ ضرور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو اپنے گناہوں سے معمور کردیا ہے اور جو یہاں عقوبت الہی سے بچ گئے ہیں ، یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا قانون مکافات ناقص ہے ، اور جب وہ یہاں سزا سے بچ گئے ہیں تو قیامت میں بھی اللہ کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے جو کہلوانا ہے ، ضرور اس کو پورا کرے گا ، ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، جب مجرم پابجولاں اس کے سامنے انصاف کے لئے حاضر کئے جائیں گے ، اس وقت ان سب کو ان کی بداعمالیوں…
Read the full tafseer →52 ۔ یہ قرآن کریم لوگوں کے لئے احکم پہنچانا ہے اور اس کی تبلیغ اس لئے ضروری ہے تا کہ لوگ اس کی وجہ سے ڈرائے جائیں اور چونک جائیں اور تا کہ یہ جان جائیں کہ معبود برحق وہی ایک اللہ تعالیٰ ہے اور تا کہ وہ لوگ نصیحت قبول کریں اور غور و فکر سے کام لیں جو اہل عقل و خرد ہیں ۔ یعنی یہ قرآن کریم ایک تبلیغ کی چیز ہے اور پہنچانے والی بات ہے اور لوگوں کو اس کی خبر دینی ہے تا کہ لوگ رسول کی تصدیق کریں اور اس کے ذریعہ سے ڈرائیں اور خدا کا وحدہٗ لا شریک ہونا معلوم کرلیں اور سمجھدار لوگ نصیحت قبول کریں۔ لم تفسیر سورة ابراہیم
Read the full tafseer →ف 1۔ بلاغ میں تصدیق رسالت اور لینذروا بہ میں تصدیق معاد اور لیعلموا میں عبادات بدنیہ ومالیہ جن کا ذکر یقیموا الصلوة میں تھا آگئیں، اور یہی حاصل ہے تمام سورت کا۔
Read the full tafseer →یہ لوگوں کیلئے پیام ہے تاکہ وہ ڈرائے جائیں اور جان لیں کہ اللہ ایک ہے
56 ؎ زیر نظر آیت میں بیان کردیا کہ یہ سب احوال قیامت کا بیان کرنا لوگوں کو تنبیہ کرنے کیلئے ہے تاکہ وہ اب بھی سمجھ لیں کہ قابل عبادت وطاعت صرف اور صرف ایک ہی ذات ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ہے تاکہ جن لوگوں میں کچھ بھی عقل و دانش ہے وہ شرک سے باز آجائیں۔ امام فخر الدین رازی (رح) تفسیر کبیر میں رقم طراز ہیں کہ انسان میں دو قوتیں ہیں۔ قوت نظری اور قوت عملی اور انہی کی تکمیل میں انسان کی ترقی اور کمال کا راز پنہاں ہے اور پھر ظاہر ہے کہ قوت نظری کا کام حقائق و موجودات کو جاننا ہے اور اس کا کمال یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ وارفع حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
In the verses which appear onwards from here (48-51), the text re-turns to the awe-inspiring happenings of the day of Qiyamah. It is said:
يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
The day on which this earth will be turned into some other earth, and the skies as well. And they all shall appear before Allah, the One, the All-Dominant.
The statement that the earth and the sky will be turned into some other earth and sky may also mean that their distinctive characteristics and appearances will be changed. There are other…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
57. It is obvious from this verse and some hints in the Quran that on the occasion of Resurrection, the Earth and the Heavens will not be totally destroyed but at the blowing of the First Trumpet, the existing physical system shall be disarranged. After this, between the blowing of the First and the Last Trumpet (Allah alone knows how long this interval will last), the present form and aspect of the earth and the heavens shall be transformed and a new physical system with new physical laws will come into existence. That will be the world of the Hereafter. When the Last Trumpet will be blown,…
Read the full tafseer →