Ibrahim 14:51

Ibrahim · from ayah 51

14:51

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۟لِيَجۡزِىَ اللّٰهُ كُلَّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏

یہ اس لیے کہ خدا ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So that Allah will recompense every soul for what it earned. Indeed, Allah is swift in account.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 7 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:51

یہ اِس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا اللہ کوحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ اس لیے کہ خدا ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دے، بیشک اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگنے کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دے۔ یقینا اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس لیے کہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ اللہ ہر شخص کو ان (اَعمال) کابدلہ دے دے جو اس نے کما رکھے ہیں۔ بیشک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ اللہ ہر جان کو اس کا بدلہ دے جو اس نے کمایا۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے۔ بلاشبہ اللہ فوراً حساب چکا دینے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔ بیشک اللہ بڑی جلدی حساب چکا دینے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ) تاکہ اللہ پورا بدلہ دے ہر کسی کو اس کے (زندگی بھر کے) کئے (کرائے) کا، بیشک اللہ بڑا ہی جلد حساب لینے والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ اللہ ہر جہنمی شخص کو اس کے کرتوت کا بدلہ دے بیشک اللہ حساب بڑی جلدی ہی کرلینے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ اللہ بدلہ دے دے ہر جان کو جو کچھ بھی اس نے کمایا۔ یقیناً اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس لیے کہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

so that Allah may requite each person for his deeds. Allah is swift in reckoning.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that Allah repays everyone in full whatever he earned. Indeed, Allah is swift at reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani

so that Allah repays everyone in full whatever he earned. Indeed, Allah is swift at reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That Allah may requite each person according to what he has earned. Truly, Allah is swift at reckoning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That Allah may repay each soul what it hath earned. Lo! Allah is swift at reckoning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So that Allah will recompense every soul for what it earned. Indeed, Allah is swift in account.

— Saheeh International

This is how God will recompense each soul for its deeds. God's reckoning is swift.

— Muhammad Sarwar

That Allah may requite each soul (according to) what it has earned; surely Allah is swift in reckoning.

— Muhammad Habib Shakir

That Allah may requite each soul according to that which he hath earned: verily Allah is swift in reckoning.

— Abdul Majid Daryabadi

That Allah may requite each soul according to its deserts; and verily Allah is swift in calling to account.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–51

جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 50–52

سورة اِبْرٰهِیْم 58 بعض مترجمین و مفسرین نے قطیران کے معنی گندھک اور بعض نے پگھلے ہوئے تانبے کے بیان کیے ہیں، مگر درحقیقت عربی میں قَطِیران کا لفظ زفت، قِیر، رال، اور تارکول کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–51

اس کے بعد کی آیات میں پھر قیامت کے ہولناک حالات و واقعات کا ذکر ہے ارشاد فرمایا (آیت) يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ اس میں موجودہ زمین بھی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد وقہار کے سامنے حاضر ہوں گے۔ زمین و آسمان کے بدل دینے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کی صفات اور شکل و صورت بدل دی جائے جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث میں ہے کہ پوری زمین ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں نہ کسی مکان کی آڑ ہوگی نہ درخت وغیرہ کی نہ کوئی پہاڑ اور ٹیلہ رہے گا نہ غار اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 49–51

تفسیر آیات 49 تا 51: وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ۔ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ۔ لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔ سَرَابِيْلُ ، سربال کی جمع ہے جس کے معنی قمیض کے بھی آتے ہیں اور لباس کے مفہوم میں بھی یہ آتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہ دوسرے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قَطِرَانٍ کے اہل لغت نے مختلف معنی لکھے ہیں لیکن تارکول کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں اسی معنی میں ہے۔ مستحقین دوزخ کے جسموں اور چہروں کی ساہی کا ذکر قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 50–51

50۔ 1 جو آگ سے فوراً بھڑک اٹھتی ہے۔ علاوہ ازیں آگ نے ان کے چہروں کو بھی ڈھانپا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–52

30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 51 انہوں نے اپنی زندگی میں ظلم اور مکاری کو اپنا کسب بنا لیا تھا ، تو اللہ کی طرف سے ان پر قہر نازل ہوگا اور وہ ذلیل ہوں گے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ، ان کی مکاری اور گہری تدابیر کے لئے مناسب ہے کہ جلدی ان کا حساب لیا جائے کیونکہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ ان کی اس مکاری کو ظاہر نہ کرے گا اور کوئی قوت بھی ان پر غالب نہ آسکے گی چناچہ اللہ بڑی سرعت سے اب ان سے حساب بھی لے گا اور نہایت ذلت کے ساتھ انہیں عذاب بھی دے گا۔ آخر میں سورت کا خاتمہ اسی مضمون پر ہوتا ہے جس سے اس کو شروع کیا گیا تھا لیکن یہ خاتمہ ایک اعلان عام کی شکل میں ہے جو ببانگ دہل کیا جاتا ہے تا کہ تمام لوگوں تک ہر جگہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جس بات کا پیش آنا بالکل یقینی ہے، اسے دور مت سمجھو کما قال تعالیٰ (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ) 21 ۔ الانبیاء :1) یا یہ مطلب ہے کہ جس وقت حساب ہوگا پھر دیر نہ لگے گی۔ تمام اولین و آخرین ' جن و انس کے ذرہ ذرہ عمل کا حساب بہت جلد ہوجائے گا۔ کیونکہ نہ خدا پر کوئی چیز مخفی ہے نہ اس کو ایک شان دوسری شان سے مشغول کرتی ہے۔ (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ) 31 ۔ لقمان :28)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 51 لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ اس دن اللہ تعالیٰ کو اتنے زیادہ لوگوں کا حساب لیتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 50–51

50 قطران سے مراد ہر وہ جلنے والا غلیظ مادہ ہے جو بدبودار، گاڑھا اور سیاہ دھواں چھوڑتا ہوا جلتا ہے اور تادیر جلتا رہتا ہے اور بجھنے میں نہیں آتا۔ اس کی آگ کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ آگ مجرموں کے تمام جسم سے لپٹ رہی ہوگی اور چہرہ کا نام بالخصوص اس لیے لیا گیا کہ بدن کی ظاہری ساخت میں سب سے اشرف حصہ چہرہ ہی ہوتا ہے اور چہرہ کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ دوسرے جسم کی نسبت سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82۔ (تو اس کے لیے تنہا مجرموں کا فیصلہ آنافانا کر ڈالنا کیا مشکل ہے) (آیت) ” لیجزی “۔ میں ل تعلیل کا ہے یعنی یہ سب کچھ اس غرض سے ہوگا کہ ہر مجرم اپنے کیفر کردار کو پہنچ جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–52

آیت نمبر 42 تا 52 ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت تاکہ جس شخص نے جو کچھ کیا ہے ‘ اس کا بدلہ اللہ اس کو دے دے۔ نفس سے مراد ہے : مجرم شخص۔ عام آدمی بھی مراد ہوسکتا ہے ‘ فرمانبردار ہو یا نافرمان ‘ کیونکہ مجرموں کو سزا دینے کا جب اظہار کردیا گیا تو اطاعت گزاروں کو اطاعت ثواب دیا جانا معلوم ہی ہوگیا۔ اوّل صورت میں لِیَجْزِیَ کا تعلق مُقَرَّنِیْن یا تَغْشٰی وغیرہ سے ہوگا اور دوسری صورت میں اس کا تعلق بَرَزُوْا سے۔ ان اللہ سریع الحساب بیشک اللہ بہت تیز حساب لینے والا ہے۔ سیوطی نے کہا : یعنی ایک سے حساب فہمی اس کو دوسرے کی حساب فہمی سے نہیں روکتی (ایک ہی وقت میں سب کا حساب لے لے گا) سیوطی نے جلالین میں یہ بھی لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 51–52

(51) تاکہ اللہ تعالیٰ نیک وبد کو اس کی نیکی اور بدی کی جزا وسزا دے اور اللہ تعالیٰ بہت سخت حساب لینے والا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حساب و کتاب میں کوئی مشکل نہیں وہ جب حساب لینا شروع فرمائے گا بہت جلد حساب لے لے گا۔ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو احکام پہنچانے والا ہے یا یہ کہ لوگوں کے لیے اوامرو نواہی وعدے وعید اور حلال و حرام کو بیان کرنے والا ہے اور تاکہ قرآن کریم کے ذریعے سے عذاب سے ڈرائے جائیں اور تاکہ اس بات کا یقین اور اقرار کرلیں کہ وہی ایک معبود برحق ہے نہ کوئی اس کا شریک ہے اور نہ کوئی اس کی اولاد ہے اور تاکہ اس قرآن کریم کے ذریعے سے دانشمند نصیحت حاصل کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ : یعنی قیامت کے دن کا یہ سارا سلسلہ اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی کمائی کی جزا دے، نیکوں کو نیک اور بدوں کو بد جزا دے۔ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک تو یہ کہ یوم حساب بہت جلد آنے والا ہے، فرمایا : (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ) [ الأنبیاء : 1 ] ”لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا۔“ اور فرمایا : (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ) [ النحل : 1 ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، آنکھ جھپکنے میں سب کچھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–52

آیت نمبر 48 تا 52 قولہ تعالیٰ : یوم تبدل الارض غیر الارض یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن زمین کو تبدیل کردیا جائے گا، لہٰذا یوم ما قبل کے متعلق ہوگا۔ یعنی اذکر کے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ یوم یقوم الحساب کی صفت ہے۔ زمین کی تبدیلی کی کیفیت میں اختلاف ہے، بہت سارے لوگوں نے کہا کہ زمین کی تبدیلی اس کی صفات کی تبدیلی، اس کے ٹیلوں کی برابری، اس کے پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے، اور اس کی زمین کی لمبائی سے عبارت ہے۔ اس کو حضرت ابن مسعود ؓ نے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور ابن مبارک نے اسے شہر بن حوشب کی حدیث سے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے آپ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–52

1:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” سرابیلھم “ سے مراد ہے ان کی قمیص۔ 2:۔ امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” سرابیل “ سے مراد قمیص۔ 3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ’(آیت ) ” من قطران “ سے مراد ہے اونٹ کا تارکول (جو خارش زدہ اونٹوں پر ملا جاتا ہے) 4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من قطران “ سے مراد ایک تارکول ہے جو ان کے جسموں پر ملا جاتا ہے تاکہ آگ جلدی سے بھڑک جائے۔ 5:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من قطران “ سے مراد ہے پگھلا ہوا تانبا۔ 6:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِيَجْزِيَ : تاکہ جزا دے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ كُلَّ نَفْسٍ : ہر ایک جان کو ] [ مَا : وہ جو ] [كَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [ ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [سَرِيْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے کا تیز ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ ) یعنی اللہ تعالیٰ مجرمین کے ساتھ مذکورہ معاملہ فرمائے گا تاکہ ہر جان کو اس کے کیے کا بدلہ دیدے۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے) ایک ساتھ جلدی سب کا حساب لے سکتا ہے ایک کا حساب لے اور اس میں مشغول ہوجائے اور دوسرا یہ سمجھ کر کہ ابھی تو میرے حساب میں دیر ہے آرام پالے ایسا نہیں ہوگا۔ (ذکرہ صاحب الروح صفحہ 357 ج 13)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–52

تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–51

46:۔ یہ ” تُبَدَّلُ “ پر معطوف ہے۔ اَصْفَاد، صفد کی جمع ہے یعنی گلے کا طوق اور پاؤں کا زنجیر قیامت کے دن مجرموں کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی۔ ” سَرَابِیْلُھُمْ “ سربال کی جمع ہے یعنی قمیص۔ ” قَطِرَانٍ “ ابہل یعنی درخت دیودار کا عصارہ یہ ایک آتش گیر مادہ ہے جو آگ کو تیزی سے پکڑ لیتا ہے (روح، مظہری) ۔ یعنی اس قسم کا کوئی آتش گیر مادہ ہوگا جسے جہنمیوں کے بدنوں پر لیپ دیا جائے گا تاکہ اس آتش گیر مادے کو آگ فوراً پکڑ لے اور ان کو زیادہ تکلیف اور اذیت پہنچے اس کے علاوہ اس مادے میں تیزی اور حدت ہوگی جو بدن میں جلن پیدا کرے گا اور اپنی بد بو کی وجہ سے ان کے لیے مزید تکلیف کا باعث ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–51

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں کافروں کی مکاری اور چالبازی کا ذکر تھا کہ حق کے مقابلے میں وہ کس قسم کی تدبیریں اختیار کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں مشرکوں اور کافروں کی بری حالت کا ذکر کیا کہ کس طرح وہ قیامت والے دن ذلیل و خوار ہوں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیرکاروں کو تسلی دی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کفار کو مہلت ملتی رہتی ہے ، وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس سے دھوکہ نہیں چاہیے اور نہ بددل ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا ذکر کیا ہے جو ان بدبختوں کو آخرت میں پیش آنے والے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ) ارشاد ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ 51۝ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–52

ترکیب : یوم انتقام کا ظرف ہے یا اذکر محذوف کا مفعول۔ والسمٰوٰت تقدیرہ غیرالسمٰوٰت۔ سرابیلہم جملہ حال ہے المجرمین سے و تغشی بھی حال ہے لیجزی ای فعلنا ذلک للجزاء اور ممکن ہے کہ یہ برزوا سے متعلق ہو۔ ولینذروابہ اے ھذا القرآن بلاغ وانذر للناس لام بلاغ سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ انزل محذوف سے ولیذکر معطوف ہے ولینذروا پر۔ تفسیر : یہ اس انتقام کے دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے یوم تبدل الارض الخ کہ اس دن یہ زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ صحیحین میں حدیث ہے کہ قیامت کو ایک سفید ستھری زمین پر لوگ جمع کئے جاویں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آسمانوں و زمین کی صفات میں تغیر وتبدل ہوگا۔ یہ زمین زیادہ وسیع کردی جائے گی۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–51

وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۔ سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّار۔ لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ ط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 49۔ 50۔ 51) (اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے، زنجیروں میں جکڑے ہوئے ان کے لباس تارکول کے ہوں گے۔ اور ان کے چہرے کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے ہر جان کو اس کی کمائی کا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکانے والا ہے۔ ) اندازہ فرمایئے کہ پروردگار تو حاکمیت کے جلال میں ہوگا اور پیش ہونے والے انسان مجرموں کی صورت زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–51

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو دنیا میں تباہ و برباد کیا اور آخرت میں بھی انہیں شدید ترین عذاب دے گا۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ایک دفعہ ہر چیز کو نیست ونابود کردیا جائے گا، پھر محشر کا میدان لگے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ لیکن مخلوق کو زندہ کرنے سے پہلے زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے اس کے بعد لوگوں کو صرف رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ آج دنیا میں حق کے منکر، فاسق اور ظالم لوگ اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے دندناتے پھرتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن انہیں بھاری زنجیروں میں جکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے تار کول کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت جزائے اعمال کیلئے ہے : 51: لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ (تاکہ اللہ تعالیٰ ہر نفس کو وہ بدلہ دے جو اس نے کمایا) تاکہ مجرمین سے وہ سلوک کیا جائے جو انہوں نے کیا اور ہر نفس کو وہ عزت ملے جو اس نے کمائی۔ نمبر 2۔ ہر نفس کو اللہ تعالیٰ بدلہ دے خواہ وہ نفس مجرم ہو یا مطیع کیونکہ جب وہ مجرمین کو ان کے جرائم کی سزا دے گا۔ تو اس سے خود معلوم ہوگیا کہ وہ مومنین کو ان کی طاعات پر ضرور صلہ دیگا۔ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والے ہیں) تمام بندوں کا حساب پلک جھپک سے پہلے لے لے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

51۔” لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت “ اس سے مراد خیر اور شر ہے ، ” ان اللہ سریع الحساب “۔۔۔۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–51

49۔ 51۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ جب قیامت کے دن یہ آسمان و زمین نہ ہوں گے اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے کی جاوے گی تو جن لوگوں نے دنیا میں فساد مچا رکھا تھا خود بھی راہ حق سے علیحدہ رہے اور اوروں کو بھی علیحدہ رکھا تھا یہ مجرم طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے آویں گے ان کا کرتہ گندھک کے تیل کا ہوگا جس میں ذرا سی آگ لگنے سے بھڑک اٹھے گی اور بجھائے نہ بجھے گی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے قطران کی یہ تفسیر کی ہے کہ ان کے کرتے پگھلے ہوئے تانبے کے ہوں گے خدا ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا جس کا عمل اچھا ہوگا تو اپنی رحمت میں شامل کرے گا اگر عمل برے ہوں گے تو ویسا بدلہ دے گا اور خدا حساب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں ہے بلکہ یہ ان کے اعمال کی جزا ہے جن کا انہوں نے اکتساب کر کے آگے بھیجے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لیجزی اللہ کل نفس ماکسبت) ” تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کا نہایت عدل و انصاف کے ساتھ بدلہ دے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی ظلم نہ ہو (ان اللہ سریع الحساب) ” بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے “ جیسا کہ فرمایا : (اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون) ”(الانبیاء :1/21) ” لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں ڈوبے اور منہ موڑے ہوئے ہیں۔ “ اس میں اس معنی کا احتمال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

101۔ قیام قیامت تقاضاء عدل وانصاف : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ ہر کسی کو اس کی زندگی بھر کی کمائی کا صلہ وبدلہ ملے، تاکہ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں، کہ پورا بدلہ انسان کو اپنے کیے کرائے کا آخرت کے اس لامحدود جہاں ہی میں مل سکے گا کہ دنیا میں اتنی گنجائش ہی نہیں، یہاں اگرچہ انسان کو اپنے نیک و بدعمل کا بدلہ کبھی کبھی اور کچھ نہ کچھ مختلف شکلوں میں ملتا رہتا ہے لیکن وہ نہایت محدود اور ضمنی نوعیت کا ہوتا ہے، اصل اور پورا بدلہ انسان کو بہرحال وہیں ملے گا، نیکی کا بھی اور برائی کا بھی۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ من کل سوء وشرء ایک تو اس لیے کہ دنیا میں اتنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–52

قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–52

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:51) لیجزی۔ تاکہ وہ بدلہ دے۔ (جزا دے) لام تعلیل یجزی واحد مذکر غائب۔ جزی یجزی (باب ضرب) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–52

لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 52 تبدیل بدل دے گا۔ برزوا وہ ظاہر ہئے، سامنے ہوئے۔ القھار زبردست۔ مقرنین ملا کر جکڑے ہوئے۔ الاصفاد زنجیریں۔ سرائیل کرتے۔ قطران گندھک ، سیاہ تیل۔ تغشی ڈھانپ لے گی۔ وجوہ (وجہ) چہرے۔ لیجزی تاکہ بدل دے۔ کل نفس ہر شخص، ہر جان۔ کسبت کمایا۔ سریع جلد۔ بلغ پہنچانا۔ اولوا والا۔ الالباب (لب) ، عقلیں ۔ تشریح :- آیت نمبر 48 تا 52 سورة ابراہیم کو ان آیات پر ختم کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کتاب ہدایت ہے جو انسانوں کے ضمیر کو ہلاک کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ وہ آخری پیغام الٰہی ہے جو دنیا بھر کے غافلوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–51

ارشاد ہوتا ہے کہ دوزخیوں کا کرتہ گندھک کے تیل کا ہوگا۔ جس میں ذرا سی آگ لگنے سے بھڑک اٹھے گی اور بجھائے نہ بجھے گی اور ان کے چہرے پر رال کا لیپ کردیا جائے گا۔ خدا ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، جس کا عمل اچھا ہوگا تو اپنی رحت میں شامل کرے گا۔ اگر عمل برے ہوں تو ویسا بدلہ دے گا اور خدا حساب کتاب لینے میں کچھ دیر نہ لگائے گا۔ جھٹ پٹ فارغ ہوجائے گا۔ قطران کے معنی گندھن کے تیل کے لکھے ہیں جو نہایت گرم کھولتی ہوئی چیز ہے کہ دوزخ کی آگ کا اثر اور تیزی بڑھانے کے لیے یہ چیزیں لباس کی طرح دوزخیوں کے جسم پر ملی جاویں گی۔ شرک کے کلمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں شرک کا اعتقاد ہوتا ہے۔ اس واسطے یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–52

[25] یعنی موجودہ زمین و آسمان کی ہیئت بدل دی جائے گی، پھر تمام انسان ازسرنو زندہ کئے جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔ قرآن کے ارشادات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا اور یہیں لوگوں کا حساب کتاب لیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–52

خلف وعید اور مسئلہ ندا : (ف 1) اس سے قبل یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ حرکات سے غافل نہیں ہے ۔ وہ ضرور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو اپنے گناہوں سے معمور کردیا ہے اور جو یہاں عقوبت الہی سے بچ گئے ہیں ، یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا قانون مکافات ناقص ہے ، اور جب وہ یہاں سزا سے بچ گئے ہیں تو قیامت میں بھی اللہ کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے جو کہلوانا ہے ، ضرور اس کو پورا کرے گا ، ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، جب مجرم پابجولاں اس کے سامنے انصاف کے لئے حاضر کئے جائیں گے ، اس وقت ان سب کو ان کی بداعمالیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

51 ۔ یہ عذاب اس لئے کیا جائے گا تا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی کمائی اور اس کے کئے کی جزا اور بدلا دے یقینا اللہ تعالیٰ حساب لینے میں جلدی کرتا ہے۔ جلدی یہی کہ حساب لینے میں کچھ دیر نہیں یا یہ مطلب ہے کہ حساب سب کا سب جلد ہوجائے گا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–51

ف 6۔ قطران درخت چیڑ کا روغن ہوتا ہے یعنی سارے بدن کو چیڑ کا تیل لپٹا ہوگا کہ اس میں آگ جلدی اور تیزی کے ساتھ لگے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اپنے کئے کا بدلہ ہر ایک پائے گا اور اللہ کو حساب لیتے کوئی دیر نہیں لگتی 55 ؎ جس طرح ان لوگوں کو الگ الگ کر کے صرف تین گروہوں میں تقسیم کردینے سے ان کی پوزیشن واضح ہوجائے گی یعنی کچھ دائیں والے ہوں گے اور کچھ بائیں والے اور ایک گروہ کو سامنے رکھا جائے گا تو صرف اس بات سے ان کا فیصلہ ہوجائے گا کہ سامنے والے اللہ تعالیٰ کے انعامات میں ہوں گے اور دائیں والے ان سے کم درجہ میں ہوں گے لیکن بہرحال کامیاب وہ بھی قرار دیئے گئے ہوں گے لیکن بائیں والے کو دیکھتے ہی ہر آنکھ فیصلہ کرے گی کہ یہ لوگ ہیں جو جہنمی ہیں اور دوسری جگہ صرف اعمال نامہ کے ہاتھ میں دیئے جانے سے سب کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کامیاب ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–52

In the verses which appear onwards from here (48-51), the text re-turns to the awe-inspiring happenings of the day of Qiyamah. It is said: يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْ‌ضُ غَيْرَ‌ الْأَرْ‌ضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَ‌زُوا لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ‌ The day on which this earth will be turned into some other earth, and the skies as well. And they all shall appear before Allah, the One, the All-Dominant. The statement that the earth and the sky will be turned into some other earth and sky may also mean that their distinctive characteristics and appearances will be changed. There are other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–52

57. It is obvious from this verse and some hints in the Quran that on the occasion of Resurrection, the Earth and the Heavens will not be totally destroyed but at the blowing of the First Trumpet, the existing physical system shall be disarranged. After this, between the blowing of the First and the Last Trumpet (Allah alone knows how long this interval will last), the present form and aspect of the earth and the heavens shall be transformed and a new physical system with new physical laws will come into existence. That will be the world of the Hereafter. When the Last Trumpet will be blown,…

Read the full tafseer →