Explained with ayahs 49–51
جکڑے ہوئے مفسد انسان
زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
سورة اِبْرٰهِیْم 58
بعض مترجمین و مفسرین نے قطیران کے معنی گندھک اور بعض نے پگھلے ہوئے تانبے کے بیان کیے ہیں، مگر درحقیقت عربی میں قَطِیران کا لفظ زفت، قِیر، رال، اور تارکول کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
اس کے بعد کی آیات میں پھر قیامت کے ہولناک حالات و واقعات کا ذکر ہے ارشاد فرمایا (آیت) يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ اس میں موجودہ زمین بھی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد وقہار کے سامنے حاضر ہوں گے۔
زمین و آسمان کے بدل دینے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کی صفات اور شکل و صورت بدل دی جائے جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث میں ہے کہ پوری زمین ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں نہ کسی مکان کی آڑ ہوگی نہ درخت وغیرہ کی نہ کوئی پہاڑ اور ٹیلہ رہے گا نہ غار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
تفسیر آیات 49 تا 51: وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ۔ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ۔ لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔
سَرَابِيْلُ ، سربال کی جمع ہے جس کے معنی قمیض کے بھی آتے ہیں اور لباس کے مفہوم میں بھی یہ آتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہ دوسرے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قَطِرَانٍ کے اہل لغت نے مختلف معنی لکھے ہیں لیکن تارکول کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں اسی معنی میں ہے۔ مستحقین دوزخ کے جسموں اور چہروں کی ساہی کا ذکر قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
50۔ 1 جو آگ سے فوراً بھڑک اٹھتی ہے۔ علاوہ ازیں آگ نے ان کے چہروں کو بھی ڈھانپا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت نمبر 49 تا 50
ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔
وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔
Read the full tafseer →7 جس میں آگ بہت جلد اور تیزی سے اثر کرتی ہے اور سخت بدبو ہوتی ہے۔ پھر جیسی جہنم کی آگ ویسی ہی وہاں کی گندھک سمجھ لیجئے۔
8 چہرہ چونکہ حواس و مشاعر کا محل اور انسان کے ظاہری اعضاء میں سب سے اشرف عضو ہے اس لیے اس کو خصوصیت سے ذکر فرمایا جیسے دوسری جگہ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ میں قلب کا ذکر کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت 48 يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ
یہ روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قبل ازیں بھی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی ‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ سورة الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے : اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ”جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا“۔ پھر سورة الانشقاق میں فرمایا گیا ہے : وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ”اور جب زمین کو کھینچا جائے گا“۔ اس طرح تمام تفصیلات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
50 قطران سے مراد ہر وہ جلنے والا غلیظ مادہ ہے جو بدبودار، گاڑھا اور سیاہ دھواں چھوڑتا ہوا جلتا ہے اور تادیر جلتا رہتا ہے اور بجھنے میں نہیں آتا۔ اس کی آگ کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ آگ مجرموں کے تمام جسم سے لپٹ رہی ہوگی اور چہرہ کا نام بالخصوص اس لیے لیا گیا کہ بدن کی ظاہری ساخت میں سب سے اشرف حصہ چہرہ ہی ہوتا ہے اور چہرہ کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ دوسرے جسم کی نسبت سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →81۔ (آیت) ” قطران “ کے مشہور معنی تو گندھک کے ہیں، دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کیے گئے ہیں، بہرحال دوزخیوں کے جسم پر لباس ایسا ہوگا جو آگ کو خوب اور زیادہ تیزی کے ساتھ قبول کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…
Read the full tafseer →سرابیلھم من قطران ان کے کرتے قطران (تارکول وغیرہ) کے ہوں گے۔ ابہل کا نچوڑا ہوا عرق جو آگ پر پکا لیا جائے ‘ قطران کہلاتا ہے۔ یہ سیاہ ‘ بدبودار ہوتا ہے ‘ خارشتی اونٹوں کے بدن پر ملا جاتا ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ تیزی کی وجہ سے خارشت کو جلا دیتا ہے۔ یہ بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے۔ دوزخیوں کے بدن پر اس کو ملا جائے گا اور اس کا دوزخیوں کے جسم پر لیپ مثل کرتے کے ہوجائے گا۔
عکرمہ اور یعقوب کی روایت میں مِنْ قَطِرِاٰنٍ آیا ہے۔ قَطِر کا معنی ہے : پگھلا ہوا تانبا اور پیتل۔ آنٍ (اصل میں آنی تھا) کھولتا ‘ ابلتا ہوا۔
وتغشی وجوھھم النار اور آگ ان کے چہروں پر لپٹی ہوگی۔ ظاہری اعضاء میں چہرہ ممتاز حیثیت رکھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49۔ 50) اور قیامت کے دن تو مشرکین کو شیاطین کے ساتھ بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھے گا اور ان کے کرتے قطران کی طرح سیاہ آگ کے ہوں گے یا یہ کہ قطرین کے زرد کرتے نہایت ہی گرم ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر لپٹی ہوئی ہوگی اور سب کے سب ایک زبردست اللہ کے روبرو اس لیے پیش ہوں گے۔
Read the full tafseer →سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ : ”سَرَابِیْلُ“ ”سِرْبَالٌ“ کی جمع ہے، بمعنی قمیص۔ ”قَطِرَانٍ“ کا معنی قاموس اور لسان العرب میں ہے ابہل، صنوبر (چلغوزہ) اور اس قسم کے درختوں مثلاً چیڑ یا دیار وغیرہ سے نکلنے والی گوند، یعنی رال یا گندہ بیروزا جو تیزی سے جلتا ہے اور سخت بدبو دار ہوتا ہے، خارش زدہ اونٹوں کو ملا جاتا ہے۔ تمام مترجمین کی طرح میں نے بھی پہلے اس کا ترجمہ گندھک کیا تھا، مگر تفسیر کے وقت مختلف لغات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ”قَطِرَانٍ“ رال (بیروزا) ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ تارکول کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس کا مادہ ”قَطْرٌ“ ٹپکنے کا مفہوم رکھتا ہے، اس لیے اس میں وہ تمام مائع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
آیت نمبر 48 تا 52
قولہ تعالیٰ : یوم تبدل الارض غیر الارض یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن زمین کو تبدیل کردیا جائے گا، لہٰذا یوم ما قبل کے متعلق ہوگا۔ یعنی اذکر کے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ یوم یقوم الحساب کی صفت ہے۔ زمین کی تبدیلی کی کیفیت میں اختلاف ہے، بہت سارے لوگوں نے کہا کہ زمین کی تبدیلی اس کی صفات کی تبدیلی، اس کے ٹیلوں کی برابری، اس کے پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے، اور اس کی زمین کی لمبائی سے عبارت ہے۔ اس کو حضرت ابن مسعود ؓ نے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور ابن مبارک نے اسے شہر بن حوشب کی حدیث سے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
1:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” سرابیلھم “ سے مراد ہے ان کی قمیص۔
2:۔ امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” سرابیل “ سے مراد قمیص۔
3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ’(آیت ) ” من قطران “ سے مراد ہے اونٹ کا تارکول (جو خارش زدہ اونٹوں پر ملا جاتا ہے)
4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من قطران “ سے مراد ایک تارکول ہے جو ان کے جسموں پر ملا جاتا ہے تاکہ آگ جلدی سے بھڑک جائے۔
5:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من قطران “ سے مراد ہے پگھلا ہوا تانبا۔
6:۔…
Read the full tafseer →[سَرَابِيْلُهُمْ : ان کے کرتے ] [ مِّنْ قَطِرَان : تار کول میں سے ہوں گے ] [ وَّتَغْشٰى: اور ڈھانگ لے گی ] [ وُجوهَهُمُ : ان کے چہروں کو ] [ النَارُ : آگ ]
س رب ل
[سِرْبَالًا : (رباعی) قمیص یا کرتا پہنانا۔] [سِرْبَالْ : ج سَرَابِیْلُ ۔ اسم ذات بھی ہے۔ قمیص یا کرتا خواہ کسی چیز سے بنا ہوا ہو۔ زیر مطالعہ آیت۔ 50 ۔]
ق ط ر
[قَطْرًا : (ن) (1) کسی کو پہلو پر گرا دینا۔ (2) پانی کا جاری ہونا بہنا۔ (کثیر المعانی لفظ ہے) ۔] [قُطْرٌ: ج اَقْطَارٌ۔ کسی چیز کا پہلو۔ کنارہ۔ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانَفُذُوْا (اگر تمہیں طاقت ہے کہ تم لوگ نکل جائو آسمانوں…
Read the full tafseer →پھر مجرمین کی بدحالی کا تذکرہ فرمایا کہ اے مخاطب تو اس دن مجرمین کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ باہم آپس میں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہونگے یعنی اپنے عقائد کفریہ کے اعتبار سے مختلف قسموں میں بٹے ہوئے ہونگے ایک ایک قسم کے لوگوں کو ملا کر بیڑیوں میں جکڑ دیا جائے گا دنیا میں کفر میں شریک تھے اور ایک دوسرے کے مددگار تھے اب وہاں سزا میں ساتھی ہونگے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں والمراد قرن بعضھم مع بعض وضم کل لمشار کہ فی کفرہ و عملہ ان کی مزید بدحالی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ ) قطران عرب میں ایک درخت ہوتا تھا جس کا سیال مادہ نکال کر اور پکا کر کھجلی والے اونٹوں کے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت
قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
46:۔ یہ ” تُبَدَّلُ “ پر معطوف ہے۔ اَصْفَاد، صفد کی جمع ہے یعنی گلے کا طوق اور پاؤں کا زنجیر قیامت کے دن مجرموں کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی۔ ” سَرَابِیْلُھُمْ “ سربال کی جمع ہے یعنی قمیص۔ ” قَطِرَانٍ “ ابہل یعنی درخت دیودار کا عصارہ یہ ایک آتش گیر مادہ ہے جو آگ کو تیزی سے پکڑ لیتا ہے (روح، مظہری) ۔ یعنی اس قسم کا کوئی آتش گیر مادہ ہوگا جسے جہنمیوں کے بدنوں پر لیپ دیا جائے گا تاکہ اس آتش گیر مادے کو آگ فوراً پکڑ لے اور ان کو زیادہ تکلیف اور اذیت پہنچے اس کے علاوہ اس مادے میں تیزی اور حدت ہوگی جو بدن میں جلن پیدا کرے گا اور اپنی بد بو کی وجہ سے ان کے لیے مزید تکلیف کا باعث ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں کافروں کی مکاری اور چالبازی کا ذکر تھا کہ حق کے مقابلے میں وہ کس قسم کی تدبیریں اختیار کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں مشرکوں اور کافروں کی بری حالت کا ذکر کیا کہ کس طرح وہ قیامت والے دن ذلیل و خوار ہوں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیرکاروں کو تسلی دی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کفار کو مہلت ملتی رہتی ہے ، وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس سے دھوکہ نہیں چاہیے اور نہ بددل ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا ذکر کیا ہے جو ان بدبختوں کو آخرت میں پیش آنے والے ہیں ۔
(اللہ تعالیٰ کا وعدہ)
ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ 50ۙ
سربل
السِّرْبَالُ : القمیص من أيّ جنس کان، قال : سَرابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرانٍ [إبراهيم/ 50] ، سَرابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ [ النحل/ 81] ، أي : تقي بعضکم من بأس بعض .
( س ر ب ل ) السربال
۔ کرتہ ۔ قمیص خواہ کسی چیز سے بنی ہوئی ہو جیسے فرمایا : سَرابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرانٍ [إبراهيم/ 50] ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے ۔ سَرابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ [ النحل/ 81] اور تمہارے ( آرام کے ) واسطے کرتے بنائے جو تم گرمی سے بچائیں اور کرتے یعنی زر ہیں جو تم کو ( اسلحہ ) جنگ ( کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ترکیب : یوم انتقام کا ظرف ہے یا اذکر محذوف کا مفعول۔ والسمٰوٰت تقدیرہ غیرالسمٰوٰت۔ سرابیلہم جملہ حال ہے المجرمین سے و تغشی بھی حال ہے لیجزی ای فعلنا ذلک للجزاء اور ممکن ہے کہ یہ برزوا سے متعلق ہو۔ ولینذروابہ اے ھذا القرآن بلاغ وانذر للناس لام بلاغ سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ انزل محذوف سے ولیذکر معطوف ہے ولینذروا پر۔
تفسیر : یہ اس انتقام کے دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے یوم تبدل الارض الخ کہ اس دن یہ زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ صحیحین میں حدیث ہے کہ قیامت کو ایک سفید ستھری زمین پر لوگ جمع کئے جاویں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آسمانوں و زمین کی صفات میں تغیر وتبدل ہوگا۔ یہ زمین زیادہ وسیع کردی جائے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۔ سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّار۔ لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ ط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
(سورۃ ابراھیم : 49۔ 50۔ 51)
(اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے، زنجیروں میں جکڑے ہوئے ان کے لباس تارکول کے ہوں گے۔ اور ان کے چہرے کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے ہر جان کو اس کی کمائی کا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکانے والا ہے۔ )
اندازہ فرمایئے کہ پروردگار تو حاکمیت کے جلال میں ہوگا اور پیش ہونے والے انسان مجرموں کی صورت زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو دنیا میں تباہ و برباد کیا اور آخرت میں بھی انہیں شدید ترین عذاب دے گا۔
جب قیامت برپا ہوگی تو ایک دفعہ ہر چیز کو نیست ونابود کردیا جائے گا، پھر محشر کا میدان لگے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ لیکن مخلوق کو زندہ کرنے سے پہلے زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے اس کے بعد لوگوں کو صرف رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ آج دنیا میں حق کے منکر، فاسق اور ظالم لوگ اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے دندناتے پھرتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن انہیں بھاری زنجیروں میں جکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے تار کول کے…
Read the full tafseer →50: سَرَابِیْلُھُمْ (ان کے کرتے) ان کے قمیص مِّنْ قَطِرَانٍ (گندھک سے) ابہل کے درخت کا نچوڑا ہوا دودھ جس کو پکا کر خارشی اونٹوں کے جسم پر مالش کی جاتی ہے۔ یہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ خارش پر لگائیں تو اس کو اپنی تیزی اور حرارت کی وجہ سے جلا دیتا ہے اسمیں آگ جلد اثر کرتی ہے۔ اس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے۔ بدبو تیز۔ اس سے جہنم والوں کی کھالوں پر مالش کی جائے گی۔ یہاں تک یہ مالش قمیص کی طرح ہوجائے گی۔ تاکہ ان کے جسم پر گندھک کا چمٹنا اور جلن جمع ہوجائے اور ان کے چمڑوں کو جلد آگ لگے اور ان کا رنگ و حشت ناک اور جسم بدبودار ہوجائے۔ دونوں گندھکوں میں آسمان و زمین کا فرق ہے اور ہر وہ جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر…
Read the full tafseer →50۔” سرابیلھم “ ان کی قمیصیں ،” سرابیلھم “ کا واحد سربال ہے۔ ’ ’ من قطران ‘ ‘ وہ جو اونٹوں پر ملا جاتا ہے۔ عکرمہ اور یعقوب کی روایت میں ” من قطر ان “ پڑھا ہے۔ قطر کہتے ہیں پگھلے ہوئے تانبے کو ، یہاں اس کی گرمی کی انتہا مراد ہے۔” یطوفون بینھما و بین حمیم ان “۔۔۔۔” وتغشی و جو ھھم النار “ ان کو آگ لپیٹ لے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
49۔ 51۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ جب قیامت کے دن یہ آسمان و زمین نہ ہوں گے اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے کی جاوے گی تو جن لوگوں نے دنیا میں فساد مچا رکھا تھا خود بھی راہ حق سے علیحدہ رہے اور اوروں کو بھی علیحدہ رکھا تھا یہ مجرم طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے آویں گے ان کا کرتہ گندھک کے تیل کا ہوگا جس میں ذرا سی آگ لگنے سے بھڑک اٹھے گی اور بجھائے نہ بجھے گی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے قطران کی یہ تفسیر کی ہے کہ ان کے کرتے پگھلے ہوئے تانبے کے ہوں گے خدا ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا جس کا عمل اچھا ہوگا تو اپنی رحمت میں شامل کرے گا اگر عمل برے ہوں گے تو ویسا بدلہ دے گا اور خدا حساب…
Read the full tafseer →(سرابیلھم) ” ان کے کرتے “ یعنی ان کے کپڑے (من قطران) ” گندھک کے ہوں گے “ یعنی وہ انتہائی شدید شغلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کے بدبو ہوں گے۔ (وتغشی وجوھھم) ” اور ان کے چہروں کو لپیٹ لے گی۔ “ جو ان کے بدن میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہوں گے۔ (النار) ” آگ “ یعنی آگ ان کے چہرے کو گھیر لے گی اور ہر جانب سے اس کو جلا ڈالے گی اور چہرے کے علاوہ جسم کے دیگر حصے تو بدرجہ اولیٰ اس آگ میں جلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →100۔ دوزخیوں کے لباس تارکول کے۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لباس تارکول کے ہوں گے جس سے دوزخ کی آگ ان کو لپک پکڑے گی، اور یہ تارکول دراصل ان کے اپنے اسی کفر و شرک اور دوسرے جرائم کی ظاہری اور حسی شکل میں ہوگی، جسے انہوں نے دنیا کی زندگی میں اپنائے رکھا تھا، کہ یہ دنیا دراصل عالم مجاہدہ ہے، اور آخرت عالم مشاہدہ، آج اس دنیا میں نیک وبدجو بھی اعمال کئے جارہے ہیں ان کی اپنی خاص شکلیں اور اثرات ہیں، آج تو بتقاضاء وابتلا واختبار مخفی ومستور ہیں، لیکن کل قیامت کے اس یوم عظیم میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا دن ہوگا، اس میں یہ سب اپنی اصل شکل میں ظاہر ہو کر سب کے سامنے آجائینگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام
تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ بعض مفسرین (رح) نے قطر ان کے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے بھی کئے ہیں مگر اکثر مفسرین (رح) نے اس سے مراد وہ سایہ بد بودار روغن لیا ہے جو اونٹوں کی خارش دور کرنے کے لئے ان کے جسموں پر ملا جاتا ہے اور کھال کو جلا ڈالتا ہے اور وہ گندھک اور اس قسم کی بعض دوسری چیزوں سے مرکب ہوتا ہے اور یہ اختلاف قطرآن کی قرأت کی وجہ سے ہے۔ حضرت ابو مالک اشعری (رح) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : نوحہ یعنی ماتم بین کرنے والے عورت اگر مرنے سے پہلے تو بہ نہ کرے تو قیامت کے روز اس حال میں اٹھائی جائے کہ اس کے جسم پر قطران کا کرتا ہوگا۔ (صحیح بخاری مسلم وغیرہ) ۔
Read the full tafseer →(14:50) سرابیل۔ کرتے ۔ پیراہن۔ قمیصیں۔ سربال کی جمع۔
قطران۔ رال۔ تارکول۔ گندھگ۔
تغشی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ڈھانکے لیتی ہے۔ وہ ڈھانک لے گی۔ غشی وغشایۃ (باب سمع) بمعنی ڈھانکنا۔ چھپانا۔
تغشی وجوہہم النار۔ آگ ان کے چہروں کو چھپائے ہوئے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 52
تبدیل بدل دے گا۔ برزوا وہ ظاہر ہئے، سامنے ہوئے۔ القھار زبردست۔ مقرنین ملا کر جکڑے ہوئے۔ الاصفاد زنجیریں۔ سرائیل کرتے۔ قطران گندھک ، سیاہ تیل۔ تغشی ڈھانپ لے گی۔ وجوہ (وجہ) چہرے۔ لیجزی تاکہ بدل دے۔ کل نفس ہر شخص، ہر جان۔ کسبت کمایا۔ سریع جلد۔ بلغ پہنچانا۔ اولوا والا۔ الالباب (لب) ، عقلیں ۔
تشریح :- آیت نمبر 48 تا 52
سورة ابراہیم کو ان آیات پر ختم کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کتاب ہدایت ہے جو انسانوں کے ضمیر کو ہلاک کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ وہ آخری پیغام الٰہی ہے جو دنیا بھر کے غافلوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ارشاد ہوتا ہے کہ دوزخیوں کا کرتہ گندھک کے تیل کا ہوگا۔ جس میں ذرا سی آگ لگنے سے بھڑک اٹھے گی اور بجھائے نہ بجھے گی اور ان کے چہرے پر رال کا لیپ کردیا جائے گا۔ خدا ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، جس کا عمل اچھا ہوگا تو اپنی رحت میں شامل کرے گا۔ اگر عمل برے ہوں تو ویسا بدلہ دے گا اور خدا حساب کتاب لینے میں کچھ دیر نہ لگائے گا۔ جھٹ پٹ فارغ ہوجائے گا۔ قطران کے معنی گندھن کے تیل کے لکھے ہیں جو نہایت گرم کھولتی ہوئی چیز ہے کہ دوزخ کی آگ کا اثر اور تیزی بڑھانے کے لیے یہ چیزیں لباس کی طرح دوزخیوں کے جسم پر ملی جاویں گی۔ شرک کے کلمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں شرک کا اعتقاد ہوتا ہے۔ اس واسطے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
[25] یعنی موجودہ زمین و آسمان کی ہیئت بدل دی جائے گی، پھر تمام انسان ازسرنو زندہ کئے جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔ قرآن کے ارشادات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا اور یہیں لوگوں کا حساب کتاب لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
خلف وعید اور مسئلہ ندا :
(ف 1) اس سے قبل یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ حرکات سے غافل نہیں ہے ۔ وہ ضرور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو اپنے گناہوں سے معمور کردیا ہے اور جو یہاں عقوبت الہی سے بچ گئے ہیں ، یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا قانون مکافات ناقص ہے ، اور جب وہ یہاں سزا سے بچ گئے ہیں تو قیامت میں بھی اللہ کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے جو کہلوانا ہے ، ضرور اس کو پورا کرے گا ، ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، جب مجرم پابجولاں اس کے سامنے انصاف کے لئے حاضر کئے جائیں گے ، اس وقت ان سب کو ان کی بداعمالیوں…
Read the full tafseer →50 ۔ اور ان مجرموں کے کرتے ایک بدبو دار تیل کے ہوں گے اور آگ نے ان کے چہروں کو ڈھانک رکھا ہوگا اور ان کے چہروں کو آگ لپٹی ہوئی ہوگی ۔ قطر ان چیڑکا تیل ہو یا گندھک ہو بہر حال کوئی ایسی چیز ہے جس کو آگ بہت جلد پکڑتی ہے تا کہ مجرم کو آگ فوراً ہی لپیٹ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 6۔ قطران درخت چیڑ کا روغن ہوتا ہے یعنی سارے بدن کو چیڑ کا تیل لپٹا ہوگا کہ اس میں آگ جلدی اور تیزی کے ساتھ لگے۔
Read the full tafseer →ان کے لباس گندھک کے ہوں گے ‘ آگ ان کو جھلس رہی ہو گی
54 ؎ اور ان کو جو لباس پہنایا جائے گا اس کو ” قطران “ کا باس کہا گیا ہے اور ” قطران “ تار کول یا گندھک کا دوسرا نام ہے جس کی اصل حقیقت کو بھی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دو تارکول یا گندھک کیسا ہوگا ؟ نیز ” قطران “ پگھلے ہوئے تانبے کو بھی کہا جاتا ہے مختصر اس کا ماحاصل جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ ان کے جسموں پر لباس ایسا ہوگا جو آگ کو خوب بھڑکا دے گا اور زیادہ تیزی کے ساتھ آگ کو قبول کرے گا۔
قبل ازیں ہم کتنی ہی بار یہ عرض کرچکے ہیں کہ آخر میں جزاء و سزا تمام تر تمثیلی ہوگی اور اس تمثیل کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
In the verses which appear onwards from here (48-51), the text re-turns to the awe-inspiring happenings of the day of Qiyamah. It is said:
يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
The day on which this earth will be turned into some other earth, and the skies as well. And they all shall appear before Allah, the One, the All-Dominant.
The statement that the earth and the sky will be turned into some other earth and sky may also mean that their distinctive characteristics and appearances will be changed. There are other…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
57. It is obvious from this verse and some hints in the Quran that on the occasion of Resurrection, the Earth and the Heavens will not be totally destroyed but at the blowing of the First Trumpet, the existing physical system shall be disarranged. After this, between the blowing of the First and the Last Trumpet (Allah alone knows how long this interval will last), the present form and aspect of the earth and the heavens shall be transformed and a new physical system with new physical laws will come into existence. That will be the world of the Hereafter. When the Last Trumpet will be blown,…
Read the full tafseer →