Ibrahim 14:49

Ibrahim · from ayah 49

14:49

وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۟ۚوَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ يَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِيۡنَ فِى الۡاَصۡفَادِ‌ۚ‏

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you will see the criminals that Day bound together in shackles,

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 7 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:49

اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہونگے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ اس دن گناه گاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں ملے جلے ایک جگہ جکڑے ہوئے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس دن تم مجرموں کو اس حالت میں دیکھو گے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس دن تم مجرموں کو دیکھو گے کہ بیڑیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس دن آپ مجرموں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو مجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس دن آپ مجرموں کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم مجرموں کو اس دن زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ (نہایت بری طرح) جکڑے ہوئے ہوں گے (ہولناک) بیڑیوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس روز تو مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم دیکھو گے مجرموں کو اس روز کہ وہ جکڑے ہوئے ہوں گے باہم زنجیروں میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس دن آپ گنہگاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

On that Day you shall see the guilty ones secured in chains;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

On that day you will see the culprits tied up together in chains,

— Muhammad Taqi Usmani

On that day you will see the culprits tied up together in chains,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you will see the criminals that Day, Muqarranun (bound together) in fetters.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou wilt see the guilty on that day linked together in chains,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you will see the criminals that Day bound together in shackles,

— Saheeh International

you will see the guilty ones bound in chains,

— Muhammad Sarwar

And you will see the guilty on that day linked together in chains.

— Muhammad Habib Shakir

And thou wilt see the guilty on that Day bound together in fetters.

— Abdul Majid Daryabadi

And thou wilt see the sinners that day bound together in fetters;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–51

جکڑے ہوئے مفسد انسان زمین و آسمان بدلے ہوئے ہیں۔ مخلوق اللہ کے سامنے کھڑی ہے، اس دن اے نبی ﷺ تم دیکھو گے کہ کفر و فساد کرنے والے گنہگار آپس میں جکڑے بندھے ہوئے ہوں گے ہر ہر قسم کے گنہگار دوسروں سے ملے جلے ہوئے ہوں گے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22؀ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کی جوڑ کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور آیت میں ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفس کے جوڑے ملا دئے جائیں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة اِبْرٰهِیْم 57 اس آیت سے اور قرآن کے دوسرے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں زمین و آسمان بالکل نیست و نابود نہیں ہوجائیں گے بلکہ صرف موجودہ نظام طبیعی کو درہم برہم کر ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد نفخ صور اول اور نفخ صور آخر کے درمیان ایک خاص مدت میں، جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، زمین اور آسمانوں کی موجودہ ہیئت بدل دی جائے گی اور ایک دوسرا نظام طبیعت، دوسرے قوانین فطرت کے ساتھ بنادیا جائے گا۔ وہی عالم آخرت ہوگا۔ پھر نفخ صور آخر کے ساتھ ہی تمام وہ انسان جو تخلیق آدم سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے تھے، از سر نو زندہ کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ اسی کا نام قرآن کی زبان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–51

اس کے بعد کی آیات میں پھر قیامت کے ہولناک حالات و واقعات کا ذکر ہے ارشاد فرمایا (آیت) يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ اس میں موجودہ زمین بھی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد وقہار کے سامنے حاضر ہوں گے۔ زمین و آسمان کے بدل دینے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کی صفات اور شکل و صورت بدل دی جائے جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث میں ہے کہ پوری زمین ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں نہ کسی مکان کی آڑ ہوگی نہ درخت وغیرہ کی نہ کوئی پہاڑ اور ٹیلہ رہے گا نہ غار اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 49–51

تفسیر آیات 49 تا 51: وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ۔ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ۔ لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔ سَرَابِيْلُ ، سربال کی جمع ہے جس کے معنی قمیض کے بھی آتے ہیں اور لباس کے مفہوم میں بھی یہ آتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہ دوسرے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قَطِرَانٍ کے اہل لغت نے مختلف معنی لکھے ہیں لیکن تارکول کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں اسی معنی میں ہے۔ مستحقین دوزخ کے جسموں اور چہروں کی ساہی کا ذکر قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–49

48۔ 1 امام شوکانی فرماتے ہیں کہ آیت میں دونوں احتمال ہیں کہ یہ تبدیلی صفات کے لحاظ سے ہو یا ذات کے لحاظ سے۔ یعنی یہ آسمان و زمین اپنے صفات کے اعتبار سے بدل جائیں گے یا ویسے ہی ذاتی طور پر یہ تبدیلی آئے گی، نہ زمین رہے گی اور نہ یہ آسمان۔ زمین بھی کوئی اور ہوگی اور آسمان بھی کوئی اور حدیث میں آتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا '۔ یحشر الناس یوم القیامۃ علی الارض بیضاء عفراء کقرصہ النقی لیس فیھا علم لا حد۔ صحیح مسلم قیامت والے دن لوگ سفید بھوری زمین پر اکھٹے ہونگے جو میدہ کی روٹی کی طرح ہوگی۔ اس میں کسی کا کوئی جھنڈا (یا علامتی نشان) نہیں ہوگا۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ جب یہ آسمان و زمین بدل دئیے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–52

30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

آیت نمبر 49 تا 50 ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔ وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی ایک نوعیت کے کئی کئی مجرم اکٹھے زنجیروں میں باندھے جائیں گے کمال قال تعالیٰ (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ ) 37 ۔ الصافات :22) وقال تعالیٰ (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ) 81 ۔ التکویر :7)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت 48 يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ یہ روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قبل ازیں بھی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی ‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ سورة الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے : اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ”جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا“۔ پھر سورة الانشقاق میں فرمایا گیا ہے : وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ”اور جب زمین کو کھینچا جائے گا“۔ اس طرح تمام تفصیلات کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 مجرموں کی باپہ زنجیر پیشی :۔ مجرموں کو اللہ کے حضور قیدیوں کی صورت میں پابند سلاسل بنا کر پیش کیا جائے گا اور اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے سب مجرموں کو اکٹھا کرکے سب کو ایک ہی زنجیر کے ذریعہ منسلک کردیا جائے گا جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80۔ (اے مخاطب) (آیت) ” المجرمین “۔ یعنی کفار ومنکرین کو۔ (آیت) ” مقرنین “۔ یعنی ایک جرم کے مجرمین ایک ساتھ جکڑے ہوئے ہوں گے، کفر و انکار کی ہر نوعیت کے مجرمین کی ٹولی الگ الگ ہوگی، ضم کل لمشار کہ فی کفرہ وعملہ (روح) ولمراد ان تلک النفوس لاشقیۃ والارواح المکدرۃ الظلمانیۃ لکونھا متجانسۃ متشاکلۃ ینضم بعضھا الی بعض وتنادی ظلمۃ کل واحدۃ منھا الی الاخری (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–52

آیت نمبر 42 تا 52 ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وتری المجرمین یوئمذ مقرنین فی الاصفاد اور اس روز تم مجرموں یعنی کافروں کو طوق و زنجیر میں جکڑا ہوا دیکھو گے۔ سب باہم ایک ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے ‘ عقائد و اعمال کی مشارکت کی وجہ سے ایک ساتھ زنجیروں میں گرفتار بھی ہوں گے۔ سعید بن منصور نے حضرت عمر بن خطاب کا قول نقل کیا کہ نیک آدمی کو نیک آدمی کے ساتھ جنت میں اور بد آدمی کو بد آدمی کے ساتھ دوزخ میں ملا دیا جائے گا۔ یا یہ مراد ہے کہ شیطانوں کے ساتھ ان کو ملا دیا جائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ باطل عقائد اور نادرست اعمال جو دنیا میں ان کے تھے ‘ انہی کے ساتھ ان کا جوڑ لگا دیا جائے گا ‘ یا ہاتھوں اور پاؤں کو گردنوں سے ملا کر زنجیروں میں جکڑ دیا جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) اور قیامت کے دن تو مشرکین کو شیاطین کے ساتھ بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھے گا اور ان کے کرتے قطران کی طرح سیاہ آگ کے ہوں گے یا یہ کہ قطرین کے زرد کرتے نہایت ہی گرم ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر لپٹی ہوئی ہوگی اور سب کے سب ایک زبردست اللہ کے روبرو اس لیے پیش ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ : ”قَرَنٌ“ قاف اور راء کے فتحہ کے ساتھ، وہ رسی جس میں دو بیل یا دو آدمی اکٹھے بندھے ہوتے ہیں۔ ”مُّقَرَّنِيْنَ“ کئی آدمی جو آپس میں اکٹھے جکڑے ہوتے ہوں۔ سورة صٓ (38) میں ہے : (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ) یعنی سلیمان ؑ کے تابع کئی جن کردیے جو زنجیروں میں باہم جکڑے ہوئے تھے۔ لسان العرب میں ہے کہ ”مُّقَرَّنِيْنَ“ یا تو ”مَقْرُوْنِیْنَ“ کے معنی میں ہے، یا باب تفعیل تکثیر کے لیے ہے، یعنی کئی مجرم آپس میں زنجیروں میں بری طرح جکڑے ہوئے ہوں گے۔ فِي الْاَصْفَادِ : ”الْاَصْفَادِ“ ”صَفَدٌ“ (فاء کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے جو اس زنجیر کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–52

آیت نمبر 48 تا 52 قولہ تعالیٰ : یوم تبدل الارض غیر الارض یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن زمین کو تبدیل کردیا جائے گا، لہٰذا یوم ما قبل کے متعلق ہوگا۔ یعنی اذکر کے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ یوم یقوم الحساب کی صفت ہے۔ زمین کی تبدیلی کی کیفیت میں اختلاف ہے، بہت سارے لوگوں نے کہا کہ زمین کی تبدیلی اس کی صفات کی تبدیلی، اس کے ٹیلوں کی برابری، اس کے پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے، اور اس کی زمین کی لمبائی سے عبارت ہے۔ اس کو حضرت ابن مسعود ؓ نے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور ابن مبارک نے اسے شہر بن حوشب کی حدیث سے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے آپ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 44–49

1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ سے مراد ہے کہ ان کو دنیا میں ڈرائیے پہلے اس سے کہ ان کے پاس عذاب آجائے۔ 2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ یعنی قیامت کے دن (آیت ) ” فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب “ یعنی وہ مدت کہ اس دنیا میں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ (جیسے) اللہ تعالیٰ یہ قول ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ (النخل آیت 38) (وہ قسم کیا تھی) کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی دنیا سے آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَتَرَى: اور آپ ﷺ دیکھیں گے ] [الْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کو ] [ يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [ مُّقَرَّنِيْنَ : جکڑے ہوئے ] [ فِي الْاَصْفَادِ : بیڑیوں میں ] صد [صَفْدًا : (ض) قید کرنا۔ ہتھکڑی لگانا۔ بیڑی ڈالنا۔] [صَفَدٌ: ج اَصْفَادٌ۔ ہتھکڑی۔ بیڑی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 48–49

قیامت کے دن زمین اور آسمان میں تغیر اور تبدل، سب لوگوں کی حاضری، مجرمین کی بدحالی، حساب کتاب اور جزا سزا ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی بدل جائیں گے، بدلنے کا کیا مطلب ہے ان کی ذات بدل دی جائے گی یا صفات بدل دی جائیں گی اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ تبدیلی کی دونوں صورتیں ہوسکتی ہے اور آیت کریمہ کسی ایک معنی کے لیے نص صریح نہیں ہے پھر حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمین اس طرح بدل دی جائے گی کہ کچھ بڑھا دی جائے گی کچھ کمی کردی جائے گی اس کے ٹیلے اور پہاڑ اور نشیب اور درخت اور اس میں جو بھی کچھ ہے سب ختم ہوجائے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–52

تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–51

46:۔ یہ ” تُبَدَّلُ “ پر معطوف ہے۔ اَصْفَاد، صفد کی جمع ہے یعنی گلے کا طوق اور پاؤں کا زنجیر قیامت کے دن مجرموں کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی۔ ” سَرَابِیْلُھُمْ “ سربال کی جمع ہے یعنی قمیص۔ ” قَطِرَانٍ “ ابہل یعنی درخت دیودار کا عصارہ یہ ایک آتش گیر مادہ ہے جو آگ کو تیزی سے پکڑ لیتا ہے (روح، مظہری) ۔ یعنی اس قسم کا کوئی آتش گیر مادہ ہوگا جسے جہنمیوں کے بدنوں پر لیپ دیا جائے گا تاکہ اس آتش گیر مادے کو آگ فوراً پکڑ لے اور ان کو زیادہ تکلیف اور اذیت پہنچے اس کے علاوہ اس مادے میں تیزی اور حدت ہوگی جو بدن میں جلن پیدا کرے گا اور اپنی بد بو کی وجہ سے ان کے لیے مزید تکلیف کا باعث ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–51

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں کافروں کی مکاری اور چالبازی کا ذکر تھا کہ حق کے مقابلے میں وہ کس قسم کی تدبیریں اختیار کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں مشرکوں اور کافروں کی بری حالت کا ذکر کیا کہ کس طرح وہ قیامت والے دن ذلیل و خوار ہوں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیرکاروں کو تسلی دی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کفار کو مہلت ملتی رہتی ہے ، وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس سے دھوکہ نہیں چاہیے اور نہ بددل ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا ذکر کیا ہے جو ان بدبختوں کو آخرت میں پیش آنے والے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ) ارشاد ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 49؀ۚ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–52

ترکیب : یوم انتقام کا ظرف ہے یا اذکر محذوف کا مفعول۔ والسمٰوٰت تقدیرہ غیرالسمٰوٰت۔ سرابیلہم جملہ حال ہے المجرمین سے و تغشی بھی حال ہے لیجزی ای فعلنا ذلک للجزاء اور ممکن ہے کہ یہ برزوا سے متعلق ہو۔ ولینذروابہ اے ھذا القرآن بلاغ وانذر للناس لام بلاغ سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ انزل محذوف سے ولیذکر معطوف ہے ولینذروا پر۔ تفسیر : یہ اس انتقام کے دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے یوم تبدل الارض الخ کہ اس دن یہ زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ صحیحین میں حدیث ہے کہ قیامت کو ایک سفید ستھری زمین پر لوگ جمع کئے جاویں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آسمانوں و زمین کی صفات میں تغیر وتبدل ہوگا۔ یہ زمین زیادہ وسیع کردی جائے گی۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–51

وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۔ سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّار۔ لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ ط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 49۔ 50۔ 51) (اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے، زنجیروں میں جکڑے ہوئے ان کے لباس تارکول کے ہوں گے۔ اور ان کے چہرے کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے ہر جان کو اس کی کمائی کا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکانے والا ہے۔ ) اندازہ فرمایئے کہ پروردگار تو حاکمیت کے جلال میں ہوگا اور پیش ہونے والے انسان مجرموں کی صورت زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–51

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو دنیا میں تباہ و برباد کیا اور آخرت میں بھی انہیں شدید ترین عذاب دے گا۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ایک دفعہ ہر چیز کو نیست ونابود کردیا جائے گا، پھر محشر کا میدان لگے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ لیکن مخلوق کو زندہ کرنے سے پہلے زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے اس کے بعد لوگوں کو صرف رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ آج دنیا میں حق کے منکر، فاسق اور ظالم لوگ اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے دندناتے پھرتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن انہیں بھاری زنجیروں میں جکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے تار کول کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ (تم اے مخاطب مجرموں کو دیکھو گے) مجرمین سے کفار مراد ہیں۔ یَوْمَئِذٍ (اس دن) قیامت کے دن مُّقَرَّنِیْنَ ( اس حال میں کہ وہ جکڑے ہوئے ہونگے) ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر ملائے جائیں گے نمبر 2۔ شیاطین کے ساتھ باندھے جائیں گے۔ نمبر 3۔ ان کے ہاتھوں کو ٹانگوں کے ساتھ زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا۔ فِی الْاَصْفَادِ (زنجیروں میں) یہ مقرنینؔ کے متعلق ہے ان کو زنجیروں میں باندھا جائے گا۔ نمبر 2۔ اس سے متعلق نہیں۔ مطلب اس طرح ہوگا ان کو زنجیروں میں باندھ کر ملایا جائے گا الاصفادؔ۔ نمبر 1۔ بیڑیاں نمبر 2۔ طوق۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 49۔” و تری المجرمین یومئذ مقرنین “ بعض کو بعض کے ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔” فی الافصاد “ بیڑیاں ، ہتھکڑیاں اور طوق ، اصفاد جمع ہے صفد کی ۔ جس چیز کو مضبوطی کے ساتھ باندھا جائے اس کو صفاد سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ عرب کا قول ہے کہ ” صفدت الرجل فھو مصفود “ جس کو زنجیروں میں مضبوطی کے ساتھ باندھا گیا ہو ۔ بعض نے کہا کہ ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ باندھا جائے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے ” احشروا لذلنی ظلموا وازواجھم “ یعنی ان کو شیطان کے ساتھ ملا دیاجائے گا ۔ بعض نے کہا کہ ان کے ہاتھوں اور پائوں کو گردنوں سے ملا کر زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا ۔ بعض نے کہا کہ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–51

49۔ 51۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ جب قیامت کے دن یہ آسمان و زمین نہ ہوں گے اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے کی جاوے گی تو جن لوگوں نے دنیا میں فساد مچا رکھا تھا خود بھی راہ حق سے علیحدہ رہے اور اوروں کو بھی علیحدہ رکھا تھا یہ مجرم طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے آویں گے ان کا کرتہ گندھک کے تیل کا ہوگا جس میں ذرا سی آگ لگنے سے بھڑک اٹھے گی اور بجھائے نہ بجھے گی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے قطران کی یہ تفسیر کی ہے کہ ان کے کرتے پگھلے ہوئے تانبے کے ہوں گے خدا ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا جس کا عمل اچھا ہوگا تو اپنی رحمت میں شامل کرے گا اگر عمل برے ہوں گے تو ویسا بدلہ دے گا اور خدا حساب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وتری المجرمین) ” اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو “ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے (یومیذ) ” اس روز “ (مقربین فی الاصفاد) ” باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں “ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہئیت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

99۔ یوم حساب کی تذکیر ویاد ہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو اس ہولناک دن کو جس روز تبدیل کردیا جائے گا، آسمانوں اور زمین کو اور سب لوگ نکل کھڑے ہوں کے اس اللہ کے سامنے جو کہ یکتا اور سب پر غالب ہے سو روز اس طرح ایک اور جہان کو نئے قوانین اور نوامیس کے تحت وجود میں لایا جائے گا، جس کے آسمان و زمین دائمی ہوں گے اور جہاں کی نعمتیں بھی ابدی ہوں گی اور وہاں کے عذاب بھی دائمی، تاکہ ہر کوئی زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پاس کے، نیکی کا بدلہ جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں جعلنا اللہ من اھلیا اور برائی کا بدلہ دوزخ کے ہولناک عذابوں کی صورت میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–52

قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–52

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 6 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز زمین و آسمان کی موجودہ شکل و صورت بدل جائے گی۔ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ جس روز زمین کو دوسری زمین سے بدلا جائے گا انسان کہاں ہوں گے ؟ فرمایا ” تاریکی میں پل صراط سے درے ہوں گے۔ “ (مسلم) ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے روز زمین روٹی ہوگی جیسے جبار (اللہ تعالیٰ ) اپنے ہاتھ سے پلٹے گا۔ (بخاری مسلم) ۔ حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے “ قیامت کے کے روز لوگ چاندی کی طرف سفید صاف زمین پر جمع کئے جائیں گے۔ (بخاری مسلم) اب رہایہ سوال کہ آیا یہ تبدیل زمین و آسمان کی ذات میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:49) مقرنین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ مقرن واحد۔ تقرین (تفعیل) مصدر۔ اقترات کے معنی ازرواج کی طرح دو یا دو سے زیادہ چیزوں سے کسی معنی میں مجتمع ہونے کے ہیں۔ قرن اس رسی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ دو یا دو سے زیادہ اونٹوں کو باندھا جائے جیسے قرنت البعیر من البعیر ۔ میں نے اونٹ کو دوسرے اونٹ کے ساتھ ایک رسی سے باندھ دیا۔ قرنتہ (تفعیل) میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں۔ وہ آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری یا دوسرے اوصاف میں کسی کا ہم پلہ ہوا سے اس کا قرن کہتے ہیں۔ اسی سے قرین بمعنی ساتھ، ہم نشین ہے۔ مقرنین۔ باہم کس کر مضبوطی سے باندھے گئے۔ جکڑے ہوئے۔ اصفاد۔ زنجیریں ۔ بیڑیاں۔ صفد اور صفاد کی جمع۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–52

لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 52 تبدیل بدل دے گا۔ برزوا وہ ظاہر ہئے، سامنے ہوئے۔ القھار زبردست۔ مقرنین ملا کر جکڑے ہوئے۔ الاصفاد زنجیریں۔ سرائیل کرتے۔ قطران گندھک ، سیاہ تیل۔ تغشی ڈھانپ لے گی۔ وجوہ (وجہ) چہرے۔ لیجزی تاکہ بدل دے۔ کل نفس ہر شخص، ہر جان۔ کسبت کمایا۔ سریع جلد۔ بلغ پہنچانا۔ اولوا والا۔ الالباب (لب) ، عقلیں ۔ تشریح :- آیت نمبر 48 تا 52 سورة ابراہیم کو ان آیات پر ختم کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کتاب ہدایت ہے جو انسانوں کے ضمیر کو ہلاک کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ وہ آخری پیغام الٰہی ہے جو دنیا بھر کے غافلوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

جنوں کا ذکر۔ عذاب دوزخ کا ذکر اس آیت میں ارشاد ہے کہ جب قیامت کے دن یہ آسمان و زمین نہ ہوں گے اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑی کی جاوے گی تو جن لوگوں نے دنیا میں فساد مچا رکھا تھا خود بھی راہ حق سے علیحدہ رہے اور اوروں کو بھی علیحدہ رکھا تھا۔ یہ مجرم طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے اپنے شیطان سمیت آویں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–52

[25] یعنی موجودہ زمین و آسمان کی ہیئت بدل دی جائے گی، پھر تمام انسان ازسرنو زندہ کئے جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔ قرآن کے ارشادات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا اور یہیں لوگوں کا حساب کتاب لیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–52

خلف وعید اور مسئلہ ندا : (ف 1) اس سے قبل یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ حرکات سے غافل نہیں ہے ۔ وہ ضرور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو اپنے گناہوں سے معمور کردیا ہے اور جو یہاں عقوبت الہی سے بچ گئے ہیں ، یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا قانون مکافات ناقص ہے ، اور جب وہ یہاں سزا سے بچ گئے ہیں تو قیامت میں بھی اللہ کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے جو کہلوانا ہے ، ضرور اس کو پورا کرے گا ، ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، جب مجرم پابجولاں اس کے سامنے انصاف کے لئے حاضر کئے جائیں گے ، اس وقت ان سب کو ان کی بداعمالیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

49 ۔ اور اے مخاطب تو اس دن مجرموں کو باہم زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھے گا ۔ یعنی ایک زنجیر میں بہت سے منکر بندھے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

ف 5۔ یعنی آسمان بھی دوسرے بدل دیے جائیں گے ان آسمانوں کے علاوہ کیونکہ پہلی مرتبہ نفخ صور سے سب زمین و آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیں گے پھر دوسری مرتبہ ازسرنو زمین و آسمان بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مجرم اس روز زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور ان کو تمہارے سامنے لایا جائے گا 53 ؎ مجرم اس روز جکڑے ہوئے ہوں گے اور یہ منظر بہت ہی بھیانک ہوگا جس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ حقیقت کیا ہوگی ؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ بلاشبہ قرآن کریم میں ان زنجیروں اور ان کے طول و عرض کا بیان موجود ہے لیکن بہرحال جو کچھ ہے وہ استعارہ کے سوا کچھ نہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–52

In the verses which appear onwards from here (48-51), the text re-turns to the awe-inspiring happenings of the day of Qiyamah. It is said: يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْ‌ضُ غَيْرَ‌ الْأَرْ‌ضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَ‌زُوا لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ‌ The day on which this earth will be turned into some other earth, and the skies as well. And they all shall appear before Allah, the One, the All-Dominant. The statement that the earth and the sky will be turned into some other earth and sky may also mean that their distinctive characteristics and appearances will be changed. There are other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–52

57. It is obvious from this verse and some hints in the Quran that on the occasion of Resurrection, the Earth and the Heavens will not be totally destroyed but at the blowing of the First Trumpet, the existing physical system shall be disarranged. After this, between the blowing of the First and the Last Trumpet (Allah alone knows how long this interval will last), the present form and aspect of the earth and the heavens shall be transformed and a new physical system with new physical laws will come into existence. That will be the world of the Hereafter. When the Last Trumpet will be blown,…

Read the full tafseer →