Explained with ayahs 47–48
انبیاء کی مدد
اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو مقرر اور موکد کر رہا ہے کہ دنیا آخرت میں دو اس نے اپنے رسولوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ کبھی اس کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس پر کوئی اور غالب نہیں وہ سب پر غالب ہے اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں اس کا چاہا ہو کر رہتا ہے۔ وہ کافروں سے ان کے کفر کا بدلہ ضرور لے گا قیامت کے دن ان پر حسرت و مایوسی طاری ہوگی۔ اس دن زمین ہوگی لیکن اس کے سوا اور ہوگی اسی طرح آسمان بھی بدل دئے جائیں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہوگی۔ مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة اِبْرٰهِیْم 57
اس آیت سے اور قرآن کے دوسرے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں زمین و آسمان بالکل نیست و نابود نہیں ہوجائیں گے بلکہ صرف موجودہ نظام طبیعی کو درہم برہم کر ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد نفخ صور اول اور نفخ صور آخر کے درمیان ایک خاص مدت میں، جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، زمین اور آسمانوں کی موجودہ ہیئت بدل دی جائے گی اور ایک دوسرا نظام طبیعت، دوسرے قوانین فطرت کے ساتھ بنادیا جائے گا۔ وہی عالم آخرت ہوگا۔ پھر نفخ صور آخر کے ساتھ ہی تمام وہ انسان جو تخلیق آدم سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے تھے، از سر نو زندہ کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ اسی کا نام قرآن کی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
اس کے بعد کی آیات میں پھر قیامت کے ہولناک حالات و واقعات کا ذکر ہے ارشاد فرمایا (آیت) يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ اس میں موجودہ زمین بھی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد وقہار کے سامنے حاضر ہوں گے۔
زمین و آسمان کے بدل دینے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کی صفات اور شکل و صورت بدل دی جائے جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث میں ہے کہ پوری زمین ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں نہ کسی مکان کی آڑ ہوگی نہ درخت وغیرہ کی نہ کوئی پہاڑ اور ٹیلہ رہے گا نہ غار اور…
Read the full tafseer →يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔
یوم آخرت کی یاد دہانی : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ۔ وَالسَّمٰوٰتُ یعنی تُبَدَّلُ السَّمٰوٰتُ غيْرَ السَّمٰوٰتِ۔ مطلب یہ ہے کہ انہیں وہ دن یاد دلاؤ جس دن یہ زمین اور یہ آسمان دونوں دوسری زمین اور دوسرے آسمانوں سے بدل دیے جائیں گے اور یہ سارے لوگ ایک ہی خدائے قہار کے حضور پیش ہوں گے۔ لفظ " بَرَزُوا کے مفہوم کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں کہ اس کے اندر یہ مضمون بھی ہے کہ اس دن نہ کسی کے ساتھ اس کا کوئی حامی و مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع و سفارشی۔ بس ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 1 امام شوکانی فرماتے ہیں کہ آیت میں دونوں احتمال ہیں کہ یہ تبدیلی صفات کے لحاظ سے ہو یا ذات کے لحاظ سے۔ یعنی یہ آسمان و زمین اپنے صفات کے اعتبار سے بدل جائیں گے یا ویسے ہی ذاتی طور پر یہ تبدیلی آئے گی، نہ زمین رہے گی اور نہ یہ آسمان۔ زمین بھی کوئی اور ہوگی اور آسمان بھی کوئی اور حدیث میں آتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا '۔ یحشر الناس یوم القیامۃ علی الارض بیضاء عفراء کقرصہ النقی لیس فیھا علم لا حد۔ صحیح مسلم قیامت والے دن لوگ سفید بھوری زمین پر اکھٹے ہونگے جو میدہ کی روٹی کی طرح ہوگی۔ اس میں کسی کا کوئی جھنڈا (یا علامتی نشان) نہیں ہوگا۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ جب یہ آسمان و زمین بدل دئیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی
Read the full tafseer →یہ کیونکر ہوگا ، اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے ، نہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دوسری زمین کی طبیعات کیسی ہوں گی اور یہ ہوگی کہاں ، البتہ قرآن کی یہ آیات ہمارے شعور کے اندر یہ تاثر بٹھاتی ہے کہ یہ لوگ کیا ہیں اور ان کی مکاریاں کیا ہیں ، اللہ کی قدرت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ زمین و آسمان کو بدل کر رکھ دے گا۔ ان کی کامیابیاں اللہ کے مقابلے میں حقیر اور معمولی ہیں۔ وہ دیکھو دوسرے منظر میں یہ زمین و آسمان تو قدرت نے بدل کر رکھ دئیے ! !
آیت نمبر 48
ترجمہ : ان کو یہ احساس ہوجائے گا کہ وہ تو اللہ کے سامنے کھلے اور ننگے کھڑے ہیں۔ کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہے وہ اپنے گھروں میں نہیں ہیں ! وہ تو قبروں میں…
Read the full tafseer →5 قیامت کو یہ زمین و آسمان بہئیات موجودہ باقی نہ رہیں گے، یا تو ان کی ذوات ہی بدل دی جائیں گی یا صرف صفات میں تغیر ہوگا اور بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ شاید متعدد مرتبہ تبدیل و تغیر کی نوبت آئے گی۔ واللہ اعلم۔ سامنے کھڑے ہونے کا مطلب (وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَال الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَاب اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ) 14 ۔ ابراہیم :21) کے تحت میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت 48 يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ
یہ روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قبل ازیں بھی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی ‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ سورة الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے : اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ”جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا“۔ پھر سورة الانشقاق میں فرمایا گیا ہے : وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ”اور جب زمین کو کھینچا جائے گا“۔ اس طرح تمام تفصیلات کو…
Read the full tafseer →48 اللہ کی عدالت میں لوگوں کی پیشی اور حساب :۔ نفخہ صور اول کے وقت موجودہ نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا جیسا کہ سورة تکویر اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد نفخہ صور ثانی تک کیا کیا تغیرات واقع ہوں گے اور یہ درمیانی عرصہ کتنا ہوگا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ نفخہ صور ثانی پر ایک نیا نظام کائنات وجود میں لایا جائے گا جس میں یا تو موجودہ زمین و آسمان کی ذوات ہی تبدیل کردی جائیں گی یا ان کی ہیئت میں خاصا تغیر و تبدل واقع ہوگا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے۔ اسی نفخہ ثانی کے وقت آدم سے لے کر قیامت تک پیدا شدہ سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →78۔ یعنی قیامت کے دن جب یہ آسمان و زمین بدلے ہوئے ہوں گے اور جس آسمان و زمین سے ہم واقف ہیں ان کے بجائے دوسرے ہی موجود ہوں گے۔ وھی ھذہ علی غیر الصفۃ المالوفۃ کماجاء فی الصحیحین (ابن کثیر) مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ تبدیلی ذات وصفات دونوں کے لحاظ سے صحیح ہوسکتی ہے اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض تبدیلیوں کے وقت اہل حشر زمین پر نہ ہوں گے بلکہ پل صراط پر ہوں گے۔ والتبدیل قدیکون فی الذات وقد یکون فی الصفات والایۃ الکریمۃ لیست بنص فی احد الوجھین (روح)
79۔ یعنی اس خدائے قدوس کے حضور میں جو سب پر برتر، سب پر غالب ہے، کوئی اس پر حاکم و متصرف نہیں، اور وہ عدد، ذات، صفات ہر لحاظ سے واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…
Read the full tafseer →یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت جس روز دوسری زمین بدل دی جائے گی ‘ اس زمین کے علاوہ اور آسمان بھی۔ یَوْمَ تُبَدَّلُ ‘ یَوْمَ یَأتیھم سے بدل ہے ‘ یا انتقام کا مفعول فیہ ہے ‘ یا اُذْکُرُوا محذوف کا مفعول بہ ہے اور السَّمٰوٰت کا عطف الْاَرْض پر ہے۔
تبدیل دو طرح کی ہوتی ہے : (1) تبدیل ذاتی یعنی ایک شئ کی بجائے دوسری چیز لے آئی جائے ‘ جیسے میں نے درہم کو دینار سے بدل لیا یا بدل دیا ‘ درہم دے کر دینار لے لیا۔ اللہ نے فرمایا ہے : بَدَّلْنَاھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا ہم ان کو ان کی کھالوں کی جگہ دوسری کھالیں دے دیں گے۔ (2) تبدیل وصفی (یعنی نفس شئ تو باقی رکھی جائے ‘ اس کی حالت شکل وغیرہ بدل دی جائے)…
Read the full tafseer →(48) جس دن دوسری زمین بدل دی جائے گی یعنی اس موجودہ حالت کے علاوہ اس کی دوسری حالت ہوجائے گی اور اس میں کمی و زیادتی کردی جائے گی اور اس کے پہاڑوں اور گھاٹیوں کو برابر کردیا جائے گا اور آسمان اللہ تعالیٰ کے دائیں ہاتھ سے لپٹے ہوئے ہوں گے اور سب کے سب ایک اللہ کے روبرو پیش ہوں گے جو تمام مخلوق کو موت دینے میں زبردست ہے۔
Read the full tafseer →يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ : اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز زمین و آسمان کی موجودہ شکل و صورت بدل جائے گی۔ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (تَکُوْنُ الْأَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خُبْزَۃً وَاحِدَۃً یَتَکَفَّؤُھَا الْجَبَّارُ بِیَدِہِ کَمَ 5 ا یَکْفَؤُ أَحَدُکُمْ خُبْزَتَہُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ) [ بخاري، الرقاق، باب یقبض اللہ الأرض یوم القیامۃ : 6520۔ مسلم : 2792 ] ”قیامت کے دن زمین ایک روٹی بن جائے گی، جبار (اللہ تعالیٰ) اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں اپنی روٹی الٹ پلٹ کرتا ہے، اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
آیت نمبر 48 تا 52
قولہ تعالیٰ : یوم تبدل الارض غیر الارض یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن زمین کو تبدیل کردیا جائے گا، لہٰذا یوم ما قبل کے متعلق ہوگا۔ یعنی اذکر کے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ یوم یقوم الحساب کی صفت ہے۔ زمین کی تبدیلی کی کیفیت میں اختلاف ہے، بہت سارے لوگوں نے کہا کہ زمین کی تبدیلی اس کی صفات کی تبدیلی، اس کے ٹیلوں کی برابری، اس کے پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے، اور اس کی زمین کی لمبائی سے عبارت ہے۔ اس کو حضرت ابن مسعود ؓ نے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور ابن مبارک نے اسے شہر بن حوشب کی حدیث سے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ سے مراد ہے کہ ان کو دنیا میں ڈرائیے پہلے اس سے کہ ان کے پاس عذاب آجائے۔
2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ یعنی قیامت کے دن (آیت ) ” فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب “ یعنی وہ مدت کہ اس دنیا میں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ (جیسے) اللہ تعالیٰ یہ قول ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ (النخل آیت 38) (وہ قسم کیا تھی) کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی دنیا سے آخرت کی…
Read the full tafseer →[يَوْمَ : جس دن ] [ تُبَدَّلُ : تبدیل کی جائے گی ] [ الْاَرْضُ : یہ زمین ] [ غَيْرَ الْاَرْضِ : اس زمین کے علاوہ سے ] [وَالسَّمٰوٰتُ : اور سارے آسمان (بھی)] [ وَبَرَزُوْا : اور وہ لوگ سامنے آئیں گے ] [ للّٰهِ : اللہ کے ] [ الْوَاحِدِ : جو یکتا ہے ] [ الْقَهَارِ : پوری طرح غالب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
قیامت کے دن زمین اور آسمان میں تغیر اور تبدل، سب لوگوں کی حاضری، مجرمین کی بدحالی، حساب کتاب اور جزا سزا
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی بدل جائیں گے، بدلنے کا کیا مطلب ہے ان کی ذات بدل دی جائے گی یا صفات بدل دی جائیں گی اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ تبدیلی کی دونوں صورتیں ہوسکتی ہے اور آیت کریمہ کسی ایک معنی کے لیے نص صریح نہیں ہے پھر حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمین اس طرح بدل دی جائے گی کہ کچھ بڑھا دی جائے گی کچھ کمی کردی جائے گی اس کے ٹیلے اور پہاڑ اور نشیب اور درخت اور اس میں جو بھی کچھ ہے سب ختم ہوجائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت
قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…
Read the full tafseer →45:۔ ظرف مُخْلِفَ کے متعلق ہے (روح) یعنی جس دن زمین و آسمان بدل جائیں گے اور ساری مخلوق ایک صاف میدان میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوگی۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ زمین و آسمان کے بدل جانے سے مراد یہ ہے کہ سمندر خشک ہوجائیں گے، پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کردیا جائے گا اور آسمان کے تمام ستارے غائب ہوجائیں گے۔ ” عن ابن عباس ؓ تذھب اٰکامھا و جبالھا و اودی تھا و شجرھا و ما فیھا و تمد مد الادیم العکاظ و تصیر مستویۃ لا تری فیھا عوجا ولا امتا و تبدل السموات بذھاب شمسھا و قمرھا و نحوھا “ (روح ج 13 ص 254) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں کافروں کی مکاری اور چالبازی کا ذکر تھا کہ حق کے مقابلے میں وہ کس قسم کی تدبیریں اختیار کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں مشرکوں اور کافروں کی بری حالت کا ذکر کیا کہ کس طرح وہ قیامت والے دن ذلیل و خوار ہوں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیرکاروں کو تسلی دی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کفار کو مہلت ملتی رہتی ہے ، وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس سے دھوکہ نہیں چاہیے اور نہ بددل ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا ذکر کیا ہے جو ان بدبختوں کو آخرت میں پیش آنے والے ہیں ۔
(اللہ تعالیٰ کا وعدہ)
ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48
بدل
الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59]
( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال
کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ترکیب : یوم انتقام کا ظرف ہے یا اذکر محذوف کا مفعول۔ والسمٰوٰت تقدیرہ غیرالسمٰوٰت۔ سرابیلہم جملہ حال ہے المجرمین سے و تغشی بھی حال ہے لیجزی ای فعلنا ذلک للجزاء اور ممکن ہے کہ یہ برزوا سے متعلق ہو۔ ولینذروابہ اے ھذا القرآن بلاغ وانذر للناس لام بلاغ سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ انزل محذوف سے ولیذکر معطوف ہے ولینذروا پر۔
تفسیر : یہ اس انتقام کے دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے یوم تبدل الارض الخ کہ اس دن یہ زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ صحیحین میں حدیث ہے کہ قیامت کو ایک سفید ستھری زمین پر لوگ جمع کئے جاویں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آسمانوں و زمین کی صفات میں تغیر وتبدل ہوگا۔ یہ زمین زیادہ وسیع کردی جائے گی۔…
Read the full tafseer →یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِالْقَھَّار۔
(سورۃ ابراھیم : 48)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (دو سرے آسمان سے بدل دیے جائیں گے) اور سب لوگ حاضر ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو ایک ہے اور سب کو سنبھالنے والا ہے۔ )
جس طرح ایک ہمدرد و غمگسار باپ اپنے بگڑے ہوئے بیٹے کو راہ راست پر لانے کے لیے کبھی پیرایہ بیان بدلتا ہے اور کبھی لہجہ تبدیل کرتا ہے، کبھی الفاظ کو شہد میں ڈبو کے نکالتا ہے اور کبھی اسے خون جگر کی آب دیتا ہے۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح بگڑا ہوا بچہ یا نوجوان بات کو سمجھنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو دنیا میں تباہ و برباد کیا اور آخرت میں بھی انہیں شدید ترین عذاب دے گا۔
جب قیامت برپا ہوگی تو ایک دفعہ ہر چیز کو نیست ونابود کردیا جائے گا، پھر محشر کا میدان لگے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ لیکن مخلوق کو زندہ کرنے سے پہلے زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے اس کے بعد لوگوں کو صرف رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ آج دنیا میں حق کے منکر، فاسق اور ظالم لوگ اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے دندناتے پھرتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن انہیں بھاری زنجیروں میں جکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے تار کول کے…
Read the full tafseer →احوالِ قیامت :
48: یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ (جس دن زمین کو زمین سے اور آسمانوں کو تبدیل کردیا جائے گا) نمبر 1۔ انتقام کا ظرف ہونے کی وجہ سے یوم منصوب ہے نمبر 2۔ اذکر کو مضمر مان کر منصوب ہے مطلب یہ ہے کہ جس دن یہ زمین جس کو تم پہچانتے ہو کسی اور زمین سے تبدیل کردی جائے گی غیر ھٰذہ المعروفۃ اس معروفہ زمین کے علاوہ سے اور آسمانوں کو اور آسمانوں سے بدل دیا جائے گا۔ ماقبل کی دلالت کی وجہ سے غیر السموات کو حذف کردیا گیا التبدیلکا معنی تغیر۔ یہ تبدل ذوات میں ہوتا ہے جیسا کہتے ہیں بدلت الدراھم دنا نیر میں نے دراھم کو دنا نیر میں بدل لیا۔ نمبر 2۔ اوصاف میں تبدیلی جیسا…
Read the full tafseer →یوم تبدل الارض کی تفسیر
حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک سفید زمین پر جمع کیا جائے گا جس کا رنگ خاکستری ہوگا اور چھنے ہوئے آٹے کی ٹکیہ کی طرح ہوگی جس کی کوئی نشانی نہیں ہ گی۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہوگی جو اللہ اپنے ہاتھ سے اہل جنت کی مہمانی کے لیے تیار کرے گا جیسے تم لوگ سفر کے لیے روٹی تیار کرتے ہو ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے اس آیت کے متعلق نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا یہ زمین بدل کر ایسی زمین کردی جائے گی جو چاند ی کی طرح ہوگی نہ کبھی…
Read the full tafseer →48۔ بعضے مفسروں نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان کی کچھ حالت بدل جاوے گی مثلاً زمین کے پہاڑ ٹیلے سب برابر کئے جا کر ایک چورس میدان کردیا جاوے گا اور آسمان کے چاند سورج تارے نکال دئیے جاویں گے یا اصل میں زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ خود صاحب وحی ﷺ نے اس اختلاف کو رفع فرمایا ہے۔ چناچہ مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ کی جو حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس آیت کو پڑھ کر پوچھا کہ جب زمین بدل جاوے گی تو اس وقت سب آدمی کہاں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس آیت کو پڑھ کر پوچھا کہ جب زمین بدل…
Read the full tafseer →(آیت) ” جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ “ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنادیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہوگی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کرکے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہوجائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہوجائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔
(وبرزو اللہ) ” اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
99۔ یوم حساب کی تذکیر ویاد ہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو اس ہولناک دن کو جس روز تبدیل کردیا جائے گا، آسمانوں اور زمین کو اور سب لوگ نکل کھڑے ہوں کے اس اللہ کے سامنے جو کہ یکتا اور سب پر غالب ہے سو روز اس طرح ایک اور جہان کو نئے قوانین اور نوامیس کے تحت وجود میں لایا جائے گا، جس کے آسمان و زمین دائمی ہوں گے اور جہاں کی نعمتیں بھی ابدی ہوں گی اور وہاں کے عذاب بھی دائمی، تاکہ ہر کوئی زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پاس کے، نیکی کا بدلہ جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں جعلنا اللہ من اھلیا اور برائی کا بدلہ دوزخ کے ہولناک عذابوں کی صورت میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام
تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ف 6 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز زمین و آسمان کی موجودہ شکل و صورت بدل جائے گی۔ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ جس روز زمین کو دوسری زمین سے بدلا جائے گا انسان کہاں ہوں گے ؟ فرمایا ” تاریکی میں پل صراط سے درے ہوں گے۔ “ (مسلم) ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے روز زمین روٹی ہوگی جیسے جبار (اللہ تعالیٰ ) اپنے ہاتھ سے پلٹے گا۔ (بخاری مسلم) ۔ حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے “ قیامت کے کے روز لوگ چاندی کی طرف سفید صاف زمین پر جمع کئے جائیں گے۔ (بخاری مسلم) اب رہایہ سوال کہ آیا یہ تبدیل زمین و آسمان کی ذات میں…
Read the full tafseer →(14:48) یوم۔ یا انتقام کا ظرف زمان ہے یعنی وہ انتقام اس روز ملے گا جس روز کہ زمین بدل کر دوسری زمین کردی جائے گی۔ یا یہ اذکر (محذوف کا مفعول ہے۔ یاد کرو اس دن کو۔
تبدل ۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ تبدیل (تفعیل) مصدر۔ وہ بدل دی جائے گی۔
غیر الارض۔ ایک دوسری زمین کی صورت میں۔
السموت۔ ای وتبدل السموت غیر السموت اور آسمان بدل کر دوسرے آسمان کر دئیے جائیں گے۔
وبرزوا۔ وہ کھلم کھلا خدا کے سامنے پیش ہوں گے (ملاحظہ ہو 14:21) ۔
القھار۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ایسا زبردست غالب جس کے مقابلہ میں سب ذلیل ہوں۔ قھر۔ مصدر۔ جس کا معنی کسی پر غلبہ پا کر اسے ذلیل کرنے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 52
تبدیل بدل دے گا۔ برزوا وہ ظاہر ہئے، سامنے ہوئے۔ القھار زبردست۔ مقرنین ملا کر جکڑے ہوئے۔ الاصفاد زنجیریں۔ سرائیل کرتے۔ قطران گندھک ، سیاہ تیل۔ تغشی ڈھانپ لے گی۔ وجوہ (وجہ) چہرے۔ لیجزی تاکہ بدل دے۔ کل نفس ہر شخص، ہر جان۔ کسبت کمایا۔ سریع جلد۔ بلغ پہنچانا۔ اولوا والا۔ الالباب (لب) ، عقلیں ۔
تشریح :- آیت نمبر 48 تا 52
سورة ابراہیم کو ان آیات پر ختم کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی کتاب ہدایت ہے جو انسانوں کے ضمیر کو ہلاک کر رکھ دینے والی ہے۔ یہ وہ آخری پیغام الٰہی ہے جو دنیا بھر کے غافلوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے…
Read the full tafseer →زمین و آسمان کی حالت دوسری ہوگی
اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان کی کچھ حالت بدل جاوے گی مثلا زمین کے پہاڑ ٹیلے، نہریں، درخت سب برابر کرکے ایک چورس میدان کردیا جاوے گا اور آسمان کے چاند سورج تارے نکال دیے جاویں گے یا یہ کہ زمین و اسمان کی ذات ہی بدل دی جائے گی۔ اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہوگی سفید و صفا، جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو نہ گناہ کیا گیا ہو اور آسمانوں سونے کا ہوگا تو یہ مشرک لوگ شرک کی جواب دہی کے لیے اس اللہ کے روبرو کھڑے ہوں گے جو اکیلا اور وحدہ لا شریک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
[25] یعنی موجودہ زمین و آسمان کی ہیئت بدل دی جائے گی، پھر تمام انسان ازسرنو زندہ کئے جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔ قرآن کے ارشادات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا اور یہیں لوگوں کا حساب کتاب لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
خلف وعید اور مسئلہ ندا :
(ف 1) اس سے قبل یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ حرکات سے غافل نہیں ہے ۔ وہ ضرور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو اپنے گناہوں سے معمور کردیا ہے اور جو یہاں عقوبت الہی سے بچ گئے ہیں ، یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا قانون مکافات ناقص ہے ، اور جب وہ یہاں سزا سے بچ گئے ہیں تو قیامت میں بھی اللہ کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے جو کہلوانا ہے ، ضرور اس کو پورا کرے گا ، ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، جب مجرم پابجولاں اس کے سامنے انصاف کے لئے حاضر کئے جائیں گے ، اس وقت ان سب کو ان کی بداعمالیوں…
Read the full tafseer →48 ۔ جس دن اس زمین کے علاوہ دوسری زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دیا جائیگا اور سب لوگ اللہ تعالیٰ اکیلے زبردست کے روبرو نکل کھڑے ہوں گے۔ یعنی پہلے نفحہ صور میں سب زمین و آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور پھر دوبارہ بنیں گے اور سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں سے اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے وہی دن انتقام کا ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ف 5۔ یعنی آسمان بھی دوسرے بدل دیے جائیں گے ان آسمانوں کے علاوہ کیونکہ پہلی مرتبہ نفخ صور سے سب زمین و آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیں گے پھر دوسری مرتبہ ازسرنو زمین و آسمان بنیں گے۔
Read the full tafseer →اس دن کا خیال رکھو جب یہ زمین و آسمان اس زمین و آسمان سے بدل جائیں گے
52 ؎ یہ بیان قامت کے روز کا ہے کہ اس روز زمین و آسمان بدلے ہوئے ہوں گے اور جن آسمان و زمین سے ہم واقف ہیں ان کی بجائے کوئی دوسرے ہی موجود ہوں گے لیکن ان موجود ہونے والے زمین و آسمان کے متعلق ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ کیا ہوں گے اور کیسے ہوں گے ؟ ہاں ! وہ یقینا ایسے آسمان و زمین نہ ہوں گے جیسے ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ رات کو ستارے جگمگا رہے ہیں چاند اپنی رو پہلی اور خنک کرنوں سے دلوں کو تازگی اور روح کو نشاط بخش رہا ہے ۔ لیکن ان کی ہقیقت کو اللہ ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ آیا ان کی ظاہری شکل و صورت ہی بدلی ہوئی ہوگی یا پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
In the verses which appear onwards from here (48-51), the text re-turns to the awe-inspiring happenings of the day of Qiyamah. It is said:
يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
The day on which this earth will be turned into some other earth, and the skies as well. And they all shall appear before Allah, the One, the All-Dominant.
The statement that the earth and the sky will be turned into some other earth and sky may also mean that their distinctive characteristics and appearances will be changed. There are other…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
57. It is obvious from this verse and some hints in the Quran that on the occasion of Resurrection, the Earth and the Heavens will not be totally destroyed but at the blowing of the First Trumpet, the existing physical system shall be disarranged. After this, between the blowing of the First and the Last Trumpet (Allah alone knows how long this interval will last), the present form and aspect of the earth and the heavens shall be transformed and a new physical system with new physical laws will come into existence. That will be the world of the Hereafter. When the Last Trumpet will be blown,…
Read the full tafseer →