Explained with ayahs 47–48
انبیاء کی مدد
اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو مقرر اور موکد کر رہا ہے کہ دنیا آخرت میں دو اس نے اپنے رسولوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے وہ کبھی اس کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اس پر کوئی اور غالب نہیں وہ سب پر غالب ہے اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں اس کا چاہا ہو کر رہتا ہے۔ وہ کافروں سے ان کے کفر کا بدلہ ضرور لے گا قیامت کے دن ان پر حسرت و مایوسی طاری ہوگی۔ اس دن زمین ہوگی لیکن اس کے سوا اور ہوگی اسی طرح آسمان بھی بدل دئے جائیں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ایسی سفید صاف زمین پر حشر کئے جائیں گے جیسے میدے کی سفید ٹکیا ہو جس پر کوئی نشان اور اونچ نہ ہوگی۔ مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 56
اس جملے میں کلام کا رخ بظاہر نبی ﷺ کی طرف ہے، مگر دراصل سنانا آپ کے مخالفین کو مقصود ہے۔ انہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ نے پہلے بھی اپنے رسولوں سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے اور ان کے مخالفیں کو نیچا دکھایا۔ اور اب جو وعدہ اپنے رسول محمد ﷺ سے کر رہا ہے اسے پورا کرے گا اور ان لوگوں کو تہس نہس کر دے گا جو اس کے مخالفت کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →اس کے بعد امت محمدیہ کو سنانے کے لئے رسول کریم ﷺ کو باہر مخاطب کو یہ تنبیہ کی گئی (آیت) فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے جو وعدے فتح ونصرت اور کامیابی کے کئی ہیں وہ ان کے خلاف کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست اور انتقام لینے والا ہے وہ ضرور اپنے پیغمبروں کے دشمنوں سے انتقام لے گا اور پیغمبروں سے جو وعدے کئے ان کو پورا کرے گا۔
Read the full tafseer →فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ۔ یہ خطاب بھی پیغمبر ﷺ سے ہے اور اس میں بھی جو تسکین اور طمانیت کا پہلو ہے وہ تو آنحضرت ﷺ کے لیے ہے اور جو عتاب اور غضب کا پہلو ہے اس کا رخ کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نہ گمان کرو کہ خدا نے اپنے رسولوں کے لیے فتح و نصرت کا جو وعدہ فرمایا ہے کسی حال میں اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ وہ عزیز و غالب ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور انتقام لینے والا ہے اس وجہ سے شریروں اور حق و عدل کے دشمنوں کو ضرور کیفر کردار کو پہنچائے گا۔
Read the full tafseer →47۔ 1 یعنی اللہ نے اپنے رسولوں سے دنیا اور آخرت میں مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے، وہ یقینا ایسا ہے، اس سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔
47۔ 2 یعنی اپنے دوستوں کے لئے اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی
Read the full tafseer →آیت نمبر 47
یہ لوگ جو تدابیر کرتے ہیں یہ اللہ کے مقابلے میں موثر نہیں ہیں اور اللہ اپنے رسولوں اور اپنی تحریکات کی جب مدد کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ “ وہ تو زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے ”۔
اس سے کوئی ظالم بچ کر نہیں نکل سکتا اور کوئی مکار اس کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتا۔ یہاں ظلم اور سرکشی اور عظیم مکاری کے بالمقابل لفظ انتقام لایا گیا ہے جو نہایت موزوں ہے کیونکہ ظالم اور مکار سے انتقام لینا مناسب ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف جب انتقام کی نسبت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ظلم و سرکشی کی مناسب جزاء و سزا اور اس میں بھی عادلانہ طریق کار۔ اور یہ عادلانہ جزاء و سزا تب واقعہ ہوگی۔
Read the full tafseer →3 یعنی وہ وعدہ جو اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا اور کَتَبَ اللّٰہُ لَاَ غْلَبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ وغیرہ آیات میں کیا گیا ہے۔
4 نہ مجرم اس سے چھوٹ کر بھاگ سکتا ہے نہ وہ خود ایسے مجرموں کو سزا دیے بدون چھوڑ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 47 فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ
یہاں پر رسول کے بجائے رسل جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی تمام رسولوں کے ساتھ اللہ کا یہ مستقل وعدہ رہا کہ تمہاری مدد کی جائے گی اور آخری کامیابی تمہاری ہی ہوگی۔ جیسا کہ سورة المجادلہ کی آیت 21 میں فرمایا گیا : كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ یعنی اللہ نے طے کیا ہوا ہے ‘ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے۔ درمیان میں کچھ اونچ نیچ ہوگی ‘ تکلیفیں بھی آئیں گی ‘ آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا ‘ مگر فتح ہمیشہ حزب اللہ ہی کی ہوگی۔ آزمائشوں کے ان مراحل کے بارے میں سورة البقرۃ میں فرمایا…
Read the full tafseer →47 اس آیت میں بظاہر خطاب رسول اللہ کو ہے مگر اصل مقصود مخالفین کو اس بات پر مطلع کرنا ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے پہلے بھی جتنے وعدے کیے تھے سب پورے کردیئے تھے اور وقت آنے پر رسولوں کی مدد کی اور ان کے مخالفین کو تباہ و برباد کیا تھا اور آپ سے جو وعدہ کیا جارہا ہے وہ بھی اللہ پورا کرکے رہے گا کیونکہ وہ سب پر غالب اور منکرین حق سے انتقام لینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →76۔ (اور اس تاخیر عذاب سے شبہ میں پڑ کر اے مخا طب ! )
77۔ اس کی قوت بھی کامل، جزاوسزا پر قدرت بھی اسے پوری حاصل، پھر وعدہ خلافی کی اس کے ہاں گنجایش وامکان ہی کیا !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…
Read the full tafseer →فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ پس آپ یہ خیال بھی نہ کرنا کہ اللہ نے جو وعدہ اپنے پیغمبروں سے (ان کی نصرت اور دشمنوں کو ہلاک کرنے کا) کیا ہے ‘ وہ اس کے خلاف کرنے والا ہے۔ اللہ نے اپنے پیغمبروں کی نصرت کا وعدہ ایک اور آیت میں کیا ہے ‘ فرمایا ہے : اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا اور پیغمبروں کو غالب کرنے اور دشمنوں کو ہلاکت کرنے کے متعلق فرمایا ہے : لَنُھْلِکَنَّ الظَّالِمِیْنَ وَلَنُسْکِنَتَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِھِمْ ۔ وَعْدِہٖ کو رُسُلَہٗ سے پہلے ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ وعدہ خلافی کرتا ہی نہیں ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَاد اور وہ کسی سے وعدہ خلافی نہیں کرتا تو…
Read the full tafseer →(47) اللہ تعالیٰ نے جو رسولوں کی نجات اور ان کے دشمنوں کی ہلاکت کا ان سے وعدہ فرمایا ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ کو وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا، بیشک اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت میں بڑا زبردست ہے اور اپنے دشمنوں سے دنیا وآخرت میں پورا بدلہ لینے والا ہے۔
Read the full tafseer →فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ۔۔ : اللہ کے وعدے سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ کے رسولوں اور اہل ایمان کی نصرت و عزت ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) [ المؤمن : 51 ] ”بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔“ مزید دیکھیے سورة مجادلہ (21) اور سورة ابراہیم (13، 14) کی تفسیر۔ اس سے مقصود ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا اور دوسری طرف آپ کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء ؑ سے جو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت نمبر 47
قولہ تعالیٰ : فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ اللہ تعالیٰ کا اسم جلالت اور مخلف تحسبن کے مفعول ہیں۔ اور رسلہ، وعدہ کا مفعول ہے اسمیں ایسا ہونے کی وسعت ہے اور اس کا معنی وعدہ رسلہ ہے۔ شاعر نے کہا :
تری الثور فیھا مدخل الظلل رأسہ وسائرہ بادإلی الشمس أجمع
اس میں مدخل الظلل رأسہ کا معنی ہے، مدخلا لرأسہ فی ظل کتابہ۔ قتبی نے کہا : یہ اس مقدم میں سے ہے جس کا مؤخر اس کی وضاحت کرتا ہے اور اس مؤخر میں سے ہے جس کا مقدم اس کی وضاحت کرتا ہے۔ لہٰذا مخلف وعدہ رسلہ اور مخلف رسلہ وعدہ دونوں برابر ہیں۔ ان اللہ عزیز ذوانتقام یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے المنتقم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ سے مراد ہے کہ ان کو دنیا میں ڈرائیے پہلے اس سے کہ ان کے پاس عذاب آجائے۔
2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ یعنی قیامت کے دن (آیت ) ” فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب “ یعنی وہ مدت کہ اس دنیا میں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ (جیسے) اللہ تعالیٰ یہ قول ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ (النخل آیت 38) (وہ قسم کیا تھی) کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی دنیا سے آخرت کی…
Read the full tafseer →[فَلَا تَحْسَبَنَّ : پس آپ ﷺ ہرگز گمان مت کریں ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] [ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ : اپنے وعدہ کے خلاف کرنے والا ] [ رُسُلَهٗ : اپنے رسولوں سے ] [ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [عَزِيْزٌ: بالا دست ہے ] [ذُو انتِقَامٍ : انتقام والا ہے ]
Read the full tafseer →(فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ ) (سو اے مخاطب تو اللہ کے بارے میں یہ خیال نہ کر کہ وہ وعدہ خلافی کرنے والا ہے) اللہ تعالیٰ نے جو اپنے نبیوں سے نصرت اور مدد کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا فرمائے گا۔ کما فی سورة الغافر (اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (ہم اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کی دنیاوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس میں بھی جس میں گواہی دینے کے لیے کھڑے ہونگے) (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ) (بلاشبہ اللہ غلبہ والا ہے بدلہ لینے والا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت
قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…
Read the full tafseer →ف 44:۔ یہ تخویف اخروی ہے یہاں سے لے کر ” اِنَّ اللہَ سَرِیْعُ الحِسَابِ “ تک قیامت کے ہولناک مناظر اور آخرت کے مختلف انواع عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے پیغمبروں سے وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں ان کی مدد کرے گا اور آخرت میں ان کو مراتب عالیہ عطا فرمائے گا اور ان کے دشمنوں سے ان کا انتقام لے گا اور دنیا و آخرت میں ان کو ذلیل و سوا کرے گا۔ اس لیے کوئی شخص یہ گمان بھی نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں سے کیے گئے وعدے کے خلاف کرے گا۔ ” اِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ ذُوْانْتِقَامٍ “ یہ ما قبل کے لیے علت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اور دشمنانِ اسلام سے انتقام لینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں کافروں کی مکاری اور چالبازی کا ذکر تھا کہ حق کے مقابلے میں وہ کس قسم کی تدبیریں اختیار کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں مشرکوں اور کافروں کی بری حالت کا ذکر کیا کہ کس طرح وہ قیامت والے دن ذلیل و خوار ہوں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیرکاروں کو تسلی دی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کفار کو مہلت ملتی رہتی ہے ، وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس سے دھوکہ نہیں چاہیے اور نہ بددل ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا ذکر کیا ہے جو ان بدبختوں کو آخرت میں پیش آنے والے ہیں ۔
(اللہ تعالیٰ کا وعدہ)
ارشاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ 47ۭ
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214]
( ح س ب ) الحساب
اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ترکیب : یوم انتقام کا ظرف ہے یا اذکر محذوف کا مفعول۔ والسمٰوٰت تقدیرہ غیرالسمٰوٰت۔ سرابیلہم جملہ حال ہے المجرمین سے و تغشی بھی حال ہے لیجزی ای فعلنا ذلک للجزاء اور ممکن ہے کہ یہ برزوا سے متعلق ہو۔ ولینذروابہ اے ھذا القرآن بلاغ وانذر للناس لام بلاغ سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ انزل محذوف سے ولیذکر معطوف ہے ولینذروا پر۔
تفسیر : یہ اس انتقام کے دن کی کیفیت بیان فرماتا ہے یوم تبدل الارض الخ کہ اس دن یہ زمین و آسمان بدل جاویں گے۔ صحیحین میں حدیث ہے کہ قیامت کو ایک سفید ستھری زمین پر لوگ جمع کئے جاویں گے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آسمانوں و زمین کی صفات میں تغیر وتبدل ہوگا۔ یہ زمین زیادہ وسیع کردی جائے گی۔…
Read the full tafseer →فَلاَ تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مَخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔
(سورۃ ابراھیم : 47)
(آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ خیال نہ کیجئے کہ وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ بڑا زبردست ہے، بدلہ لینے والا ہے۔ )
بارِدگر تسلی
آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لیے ایک تو سابقہ آیت میں یہ فرمایا گیا کہ آپ ان ظالموں کی تدبیروں اور سازشوں سے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ ان لوگوں نے ہر دور میں ایسی ہی چالیں چلیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت آئی تو ان کی ساری تدبیریں اکارت ہو کے رہ گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے منکرین کو خطاب جاری ہے۔
منکرین آخرت کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے ساتھ پہلی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کیا یہ لوگ ان کے انجام پر غور نہیں کرتے کہ جن کی بستیوں اور علاقہ میں یہ لوگ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ جس وجہ سے انہیں ذلت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے کس طرح انہیں آناً فاناً اور شدّت کے ساتھ پکڑا تھا۔ ہم نے کھول کھول کر ان کے حالات اور واقعات لوگوں کے سامنے بیان کردیے ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ مکرو فریب اور سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیرغالب رہی۔ حالانکہ ان کی سازشیں اور…
Read the full tafseer →اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہوگا :
47: فَـلَا تَحْسَبَنَّ اللّّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ (تم ہرگز نہ گمان کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کیا جانے والا وعدہ پورا نہ کریں گے) اس سے مراد یہ قول انا لننصررسلنا ] غافر : 51 [ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی ] المجادلہ : 21[ مُخْلِفَؔ یہ لتحسبنّ کا دوسرا مفعول ہے مخلفؔ کی اضافت وعدہ کی طرف کی اور یہ اس کا دوسرا مفعول ہے اور پہلا مفعول رسلہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے مخلف رسلہ وعدہ یہاں مفعول ثانی کو اول پر مقدم کیا تاکہ یہ بتلا دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ وعدے کی بالکل خلاف ورزی نہیں فرماتے جیسا کہ اس ارشاد میں ان اللّٰہ لایخلف المیعاد ] آل عمران : 9[ پھر…
Read the full tafseer →47۔” فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ “ اپنی دوستوں کی مدد یعنی انبیاء و رسولوں کی مدد اور دشمنوں کو ہلاک کرنے کا جو وعدہ کیا ہ ے۔ اس میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیری عبارت یوں ہوگی ” فلا تحسبن اللہ مخلف رسلہ وعدہ “۔۔۔۔ ” ان اللہ عزیز ذوانتقام “ ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
47۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق کو خطاب کر کے مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا ہے کہ تمہاری مدد کروں گا اور کفار پر تمہیں غلبہ دوں گا دین حق کو پھیلا دوں گا تو وہ اس کو پورا نہیں کرے گا کیونکہ خدا کسی سے جھوٹا وعدہ نہیں کرتا ہے پھر وہ اپنے رسول سے کیوں کر جھوٹا وعدہ کرے گا غرض کہ اللہ نے مسلمانوں کی یہ تسکین و تسلی کی ہے کہ تم اطمینان رکھو جو تم سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کروں گا اور ان کافروں کے ساتھ بھی نہایت انصاف سے فیصلہ کردوں گا کیوں کہ خدا سب پر غالب ہے اس سے بڑھ کر کوئی بدلہ لینے والا نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بےیارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کررکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے۔۔۔ خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →97۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت و امداد قطعی طور پر حق اور صدق :
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی نصرت وامید کا جو وعدہ فرما رکھا ہے وہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے،۔ پس تم کبھی یہ گمان بھی نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کرنے والا ہے، یعنی دنیا میں ان کی نصرت و امداد کے وعدوں، اور آخرت میں انہیں درجات عالیہ سے نوازنے کے وعدوں کے، نیز ان کے اعداء کے دنیا میں ذلیل وخوار ہونے کے اور آخرت میں واصل بجہنم ہونے کے وعدوں کے، سو اس کے سب ہی وعدے بہرحال پورے ہوں گے، کسی بھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی، بیچ میں جو ابتلاء و آزمائش کے دورآتے ہیں وہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام
تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ اس سے مقصود ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے اور دوسری طرف آپو کے مخالفین کو متنبہ کرنا۔ کہ جس طرح پہلے انبیاء ( علیہ السلام) سے جو ہم نے وعدے کئے وہ سب پورے کئے۔ اسی طرح اپنے آخری رسول محمد ﷺ سے تائید و نصرت کو جو وعدہ کر رہ ہیں اسے بھی یقینا پورا کریں گے اور ان لوگوں کو تباہ و برباد کرینگے جو آپ ﷺ کی مخالفت پر کمربستہ ہیں۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(14:47) لا تحسبن۔ فعل نہی بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ واحد مذکر حاضر۔ تو ہرگز خیال نہ کر۔ تو ہرگز گمان نہ کر۔ (یہ خطاب حضرت محمد ﷺ سے ہے) ۔
لا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ میں اللہ مفعول اول ہے لا تحسبن کا اور مخلف مفعول ثانی ہے۔ جبکہ رسلہ مخلفکا مفعول اوّل ہے اور وعدہ اس کا مفعول ثانی۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے مخلف رسلہ وعدہ تو ہرگز خیال نہ کر کہ (اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا ہے) ۔ یعنی جو وعدے اس نے کئے ہیں وہ ضرور پورے کرے گا۔
وعدے۔ مثلاً انا لننصر رسلنا۔ (58:21) اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب آکر رہیں گے۔
عزیز۔ غالب۔ زبردست۔ قوی۔ گرامی قدر۔ دشوار۔ عزۃ سے فعیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47
لاتحسبن تم ہرگز گمان نہ کرنا۔ غافل بیخبر ۔ یعمل عمل کرتا ہے۔ یوخر وہ مہلت دیتا ہے۔ تشخص کھلی رہے گی، پتھرا جائے گی۔ الابصار آنکھیں۔ مھطعین دوڑتے ہوئے۔ مقنعی اوپر اٹھائے ہوئے۔ رء وس (راس) ۔ سر لایرتد نہ پلٹے گی۔ طرف آنکھیں۔ ھواء اڑا اڑا ہونا۔ انذر ڈرا۔ اخرنا ہمیں مہلت دے دے۔ نجب ہم جواب دیں گے۔ نتبع ہم پیروی کریں گے۔ پیچھے چلیں گے اقسمتم تم نے قسم کھائی۔ زوال زوال، اترنا۔ سکنتم تم آباد ہوئے۔ مسکن گھر۔ تبین واضح ہے۔ کھل گیا۔ کیف فعلنا ہم نے کیا کیا۔ ضربنا ہم نے بیان کردیا۔ مکروا انہوں نے چال چلی۔ لتزول تاکہ ٹل جائے۔ ہل جئاے الجبال (جبل) ۔ پہاڑ مختلف خلاف کرنے والا۔…
Read the full tafseer →اللہ کا وعدہ : اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ تم لوگ خیال نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ جو وعدہ اپنے رسولوں سے کرے گا اس کو وفا نہ فرمائے گا، نہیں بلکہ ضرور اس وعدہ کو پورا کرے گا۔ جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ اہل ایمان کی نصرت کا وعدہ ہوا ہے وہ ضرور وفا کرنے والا ہے اور اللہ عاجز نہیں بلکہ غالب ہے۔ اور اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے والا ہے۔
Read the full tafseer →[24] اس آیت میں خطاب بظاہر رسول اللہ سے ہے مگر دراصل سنانا آپ کے مخالفین کو مقصود ہے کہ جس طرح اللہ نے پچھلے رسولوں سے اپنے وعدے پورے کئے تھے اور ان کے دشمنوں کا قلع قمع کیا تھا اسی طرح اللہ اپنے رسول سے جو وعدہ کر رہا ہے اسے پورا کر کے رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
خلف وعید اور مسئلہ ندا :
(ف 1) اس سے قبل یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ حرکات سے غافل نہیں ہے ۔ وہ ضرور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو اپنے گناہوں سے معمور کردیا ہے اور جو یہاں عقوبت الہی سے بچ گئے ہیں ، یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا قانون مکافات ناقص ہے ، اور جب وہ یہاں سزا سے بچ گئے ہیں تو قیامت میں بھی اللہ کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے جو کہلوانا ہے ، ضرور اس کو پورا کرے گا ، ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، جب مجرم پابجولاں اس کے سامنے انصاف کے لئے حاضر کئے جائیں گے ، اس وقت ان سب کو ان کی بداعمالیوں…
Read the full tafseer →47 ۔ اے مخاطب ! اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ خیال نہ کیجئو کہ اس نے جو وعدہ اپنے رسولوں سے کیا وہ اس کے خلاف کرنے والا ہے یقینا اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور پورا بدلہ لینے والا ہے۔
یعنی کوئی یہ رائے قائم نہ کرے اور یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا ہے وعدہ کافروں کے مقابلہ میں نصرت اور فتح یا قیامت میں عذاب وغیرہ کا ہو اس کی خلاف ورزی ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردست اور زور آور اور پورا بدلہ لینے والا کمزور نہیں ہے اور بدلہ لے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ف 4۔ یعنی کتب سماویہ میں ہم نے بھی ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا کہ اگر تم ایساکرو گے تو تم بھی ایسے ہی مغضوب و مستحق عذاب ہوگے پس واقعات کا اولا اخبار سے سننا پھر ہمارا ان کو بیان کرنا پھر مماثلت پر تنبیہ کرنا یہ سب اسباب مقتضی اس کو تھے کہ قیامت کا انکار نہ کرتے۔
Read the full tafseer →اللہ نے کبھی اپنے رسولوں سے کیا ہوا وعدہ خلاف نہیں کیا وہ نہایت ہی طاقتور ہے
51 ؎ فرمایا کوئی یہ نہ سمھے اور نہ ہی ایسا گمان کرے کہ اللہ نے کوئی وعدہ اپنے کسی رسول سے کر کے ان کے خلاف کیا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی ایسا واقعہ جس میں اللہ نے اپنے وعدہ کا خلاف کیا ہو۔ تلاش کرتے جائو اور جہاں تک چاہتے ہو مطالعہ کرو تم کہیں ثابت نہیں کرسکو گے یعنی کوئی ایک واقعہ بھی تم کو ایسا نہیں مل سکے گا۔ ہاں ! اگر لوگوں نے کوئی ایسی صورت بیان کردی ہو تو وہ دوسری بات ہے لیکن اس کی تحقیق کر کے دیکھو تو تم کو کبھی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ ناکام ہی رہو گے اور یہ بات اس لئے بیان کی جا رہی ہے کہ اب بھی وہ وعدے…
Read the full tafseer →After that, it was to let this be heard by the Muslim community, the Holy Prophet ﷺ or everyone thus addressed - was given a note of caution by saying:
فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّـهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ
So, do not think that Allah will do against His promise [ of sup-port, victory and success ] to His messengers. Surely, Allah is Mighty, the Lord of Retribution – 47
and that He would definitely retaliate against the enemies of His messengers and fulfill the promises made to them.
Read the full tafseer →56. Though this has been addressed to the Prophet (peace be upon him), it is really meant for his opponents. They are being warned that they should not delude themselves because of the delay in their punishment. They should note it well that Allah fulfilled the promises He made to the former Messengers and defeated their opponents. Likewise He will surely fulfill the promises He had made to Muhammad (peace be upon him).
Read the full tafseer →