Ibrahim 14:46

Ibrahim · from ayah 46

14:46

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ؕ— وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ ۟وَقَدۡ مَكَرُوۡا مَكۡرَهُمۡ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡؕ وَاِنۡ كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡهُ الۡجِبَالُ‏

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they had planned their plan, but with Allah is [recorded] their plan, even if their plan had been [sufficient] to do away with the mountains.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 7 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:46

انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ کو ان کی تمام چالوں کا علم ہے اور ان کی چالیں ایسی نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ لوگ اپنی ساری چالیں چل چکے تھے، اور ان کی ساری چالوں کا توڑ اللہ کے پاس تھا، چاہے ان کی چالیں ایسی کیوں نہ ہوں جن سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وہ اپنا سا داؤں (فریب) چلے اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہوں نے (دولت و اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو کر) اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں جبکہ اللہ کے پاس ان کے ہر فریب کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی مکّارانہ تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک انھوں نے تدبیر کی، اپنی تدبیر اور اللہ ہی کے پاس ان کی تدبیر ہے اور ان کی تدبیر ہرگز ایسی نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں نے (حق کے خلاف) خوب چالیں چلیں۔ حالانکہ ان کی چالوں کا توڑ اللہ کے پاس موجود تھا۔ اگرچہ ان کی چالیں ایسی خطرناک تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے اپنی ساری چالیں چلیں اور یہ چالیں ان کی خدا کے پاس ہیں اگرچہ ان کی یہ چالیں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان لوگوں نے پورے زور سے چلیں اپنی چالیں (حق اور اہل حق کے خلاف) اور اللہ ہی کے پاس تھیں ان کی چالیں اور (ان کا جواب اور توڑ، ورنہ) ان کی چالیں تو (واقعتاً) ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے اپنی بھی (بڑی بڑی) چالیں چلیں اور اللہ کے سامنے ان کی یہ چالیں تھیں اور واقعی ان کی یہ چالیں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے اپنی سی چالیں چلیں اور اللہ ہی کی قبضہ قدرت میں ہیں ان کی تمام چالیں۔ اور ان کی چالیں ایسی تو نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ ٹل جاتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انہوں نے بڑی بڑی تدبیریں کیں اور ان کی سب تدبیریں اللہ کے ہاں لکھی ہوئی ہیں، گو وہ تدبیریں ایسی غضب کی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed the unbelievers contrived their plan, but it is in Allah's power to nullify their plan, even though their plans were such that would move even mountains.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they worked out their plot and whatever they plot is before Allah, even though their plot is such as would move the mountains.

— Muhammad Taqi Usmani

And they worked out their plot and whatever they plot is before Allah, even though their plot is such as would move the mountains.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed, they planned their plot, and their plot was with Allah, though their plot was not such as to remove the mountains from their places.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily they have plotted their plot, and their plot is with Allah, though their plot were one whereby the mountains should be moved.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they had planned their plan, but with Allah is [recorded] their plan, even if their plan had been [sufficient] to do away with the mountains.

— Saheeh International

They devised evil plans which were so sinful that even the mountains could not endure them. All these were known to God.

— Muhammad Sarwar

And they have indeed planned their plan, but their plan is with Allah, though their plan was such that the mountains should pass away thereby.

— Muhammad Habib Shakir

And of a surety theys Plotted their plot, and with Allah was their plot, though their plot was such as to remove thereby mountains.

— Abdul Majid Daryabadi

Mighty indeed were the plots which they made, but their plots were (well) within the sight of Allah, even though they were such as to shake the hills!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–46

عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اِبْرٰهِیْم 55 یعنی تم یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ تمہاری پیش رو قوموں نے قوانین الہٰی کی خلاف ورزی کے نتائج سے بچنے اور انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے کیسی کیسی زبردست چالیں چلیں، اور یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ اللہ کی ایک ہی چال سے وہ کس طرح مات کھا گئے۔ مگر پھر بھی تم حق کے خلاف چالبازیاں کرنے سے باز نہ آئے اور یہی سمجھتے رہے کہ تمہاری چالیں ضرور کامیاب ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَال یعنی ان لوگوں نے دین حق مٹانے اور دعوت حق قبول کرنے والے مسلمانوں کو ستانے اور ایذاء پہونچانے کے لئے بھر پور تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی سب کھلی اور چھپی ہوئی تدبیریں سامنے موجود ہیں وہ سب سے واقف اور ان کو ناکام بنا دینے پر قادر ہیں اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی عظیم اور سخت تھیں کہ ان کے مقابلہ پر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ ساری تدبیریں گرد اور ناکام ہو کر رہ گئیں۔ جن مخالفانہ تدبیروں کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے اس میں یہ بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ۔ یعنی ان قوموں نے بھی جہاں تک چالیں چلنے کا تعلق ہے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی لیکن آج ان کی ساری چالیں خدا کے پاس دھری ہیں۔ اگرچہ یہ چالیں ان کی ایسی زبردس تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے کھسکائے جاسکتے تھے لیکن خدا نے ان کی یہ ساری چالیں بیکار کردیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 یہ جملہ حالیہ ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ جو کیا وہ کیا، درآنحالیکہ انہوں نے باطل کے اثبات اور حق کے رد کرنے کے لئے مقدور بھر حیلے اور مکر کیے اور اللہ کو ان تمام چالوں کا علم ہے یعنی اس کے پاس درج ہے جس کی وہ ان کو سزا دے گا۔ 46۔ 2 کیونکہ اگر پہاڑ ٹل گئے ہوتے تو اپنی جگہ برقرار نہ ہوتے، جب کہ سب پہاڑ اپنی اپنی جگہ ثابت اور برقرار ہیں۔ یہ ان نافیہ کی صورت میں ہے دوسرے معین ان مخففۃ من المثقلۃ کے لیے گئے ہیں یعنی یقینا ان کے مکر تو اتنے بڑے تھے کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کے مکروں کو کامیاب نہیں ہوتے دیا جیسے مشریکن کے شرک کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–52

30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 46 اللہ ان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور ان کی مکاری بھی اللہ کے دائرہ قدرت میں ہے اگرچہ ان کی تدابیر اس قدر سخت اور شدید ہوں کہ ان کے ذریعہ پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا جاسکتا ہو۔ ظاہر ہے کہ کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لئے بہت بڑی قوت کی ضرورت ہے اور اس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ یہ بہت بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی فریب اللہ کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اللہ جس طرح چاہے وہ ان کی مکاریوں کو ختم کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی سب اگلے پچھلے ظالم اپنے اپنے داؤ کھیل چکے ہیں۔ انبیاء کے مقابلہ میں حق کو دبانے اور مٹانے کی کوئی تدبیر اور سازش انہوں نے اٹھا نہیں رکھی۔ ان کی سب تدبیریں اور داؤ گھات خدا کے سامنے ہیں اور ایک ایک کر کے محفوظ ہیں وہ ہی ان کا بدلہ دینے والا ہے۔ 2 یعنی انہوں نے بہتیرے داؤ کر کے دیکھ لیے مگر خدا کی حفاظت کے آگے سب ناکام رہے کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی مکاریاں پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ٹلا دیں یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور شرائع حقہ جو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط و مستقیم ہوتے ہیں ان کی مکاریوں سے ڈگمگا جائیں ؟ حاشا وکلاّ ۔ اس تفسیر کے موافق وَاِنْ کَانَ مَکْرُہُمْ الخ میں " اِن " نافیہ ہوگا، اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ اے قریش مکہ ! جس طرح آج تم ہمارے نبی کے خلاف اپنی چالیں چل رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے والے لوگوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی تھی۔ جہاں تک ان کا بس چلا تھا انہوں نے اپنی چالیں چلی تھیں۔ قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح اور قوم لوط کے سرداروں نے اپنے رسولوں کے خلاف جو کچھ کیا اور جو کچھ کہا اس کی تفصیلات ہم تمہیں سنا چکے ہیں۔ اور قوم شعیب کے سرداروں کی مجبوری کا ذکر بھی ہم کرچکے ہیں جو تم لوگوں کی مجبوری سے ملتی جلتی تھی۔ یعنی ان کا بےچارگی سے یہ کہنا کہ اگر تمہارا قبیلہ تمہاری پشت پر نہ ہوتا تو ہم اب تک تمہیں سنگسار کرچکے ہوتے۔ چناچہ ہمارے لیے اور ہمارے نبی کے لیے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 کفار مکہ کی زبردست چال کیا تھی ؟ :۔ یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال ہوئے ہیں یعنی ان کی چالیں اس قدر یقینی اور تیر بہدف تھیں کہ ان کے خطا ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ وہ چالیں کیا تھیں ؟ اس کا ذکر قرآن کی دوسری آیات میں موجود ہے کہ یا تو اس پیغمبر کو جلا وطن کردیا جائے یا قید کردیا جائے یا قتل کردیا جائے۔ پھر اتقاق اس بات پر ہوا تھا کہ اس کے گھر کا محاصرہ کیا جائے اور یہ محاصرین ہر قبیلے کے ایک ایک فرد پر مشتمل ہوں گے۔ جو سب مل کر حملہ کرکے اس کو قتل کریں گے اور اس طرح پیغمبر اسلام اور اسلام دونوں کا مکمل طور پر قلع قمع ہوجائے گا وغیرذٰلِکَ یہ مطلب اس صورت میں ہے۔ جب (وَاِنْ كَانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

75۔ (لیکن حق پھر بھی غالب رہا، اور ان کی ساری چالیں خود انہی پر الٹ گئیں) (آیت) ” وقد مکروا مکرھم “۔ دین حق کو مٹادینے کے لئے وہ کبھی کبھی زبردست چالیں چلتے رہے (آیت) ” وعنداللہ مکرھم “۔ اللہ سے یہ چالیں کچھ مخفی تو رہ نہیں سکتی تھیں، سب اس کے علم میں تھیں، (آیت) ” لتزول منہ الجمال “۔ پہاڑوں کے ٹل جانے “ کا استعارہ عربی اسلوب بیان میں کسی شے کی انتہائی قوت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ ولیس المقصود من ھذا الکلام الاخبار عن وقوعہ بلالتعظیم والتھویل (کبیر) اے وان کان مکرھم فی غایۃ الشدۃ والمھانۃ وعبرعن ذلک بکونہ معدی لازالۃ الجبال عن مقارھا لکونہ مثل فی ذلک (روح) والذی یظھران زوال الجبال مجاز ضرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–52

آیت نمبر 42 تا 52 ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقد مکروا مکرھم اور انہوں نے اپنی سازشیں کیں۔ یعنی کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو جلاوطن کرنے یا قید کردینے یا قتل کر ڈالنے کی سازش کی۔ اہل تفسیر کے نزدیک مَکَرُوْا کی ضمیر فاعلی اور ضمیر ھُمْ دونوں کفار مکہ کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ یعنی کفار مکہ نے اپنی سی ہر تدبیر کر ڈالی اور حق کو مٹانے اور باطل کو اٹھانے کی ہر کوشش جو کرسکتے تھے ‘ کرلی۔ اس تفسیر پر اس کلام کا سابق کلام سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ میرے نزدیک اس جملے کا عطف سَکَنْتُمْ پر ہے ‘ مَکَرُوْا کی ضمیر تو کفار مکہ کی طرف راجع ہے اور ھُمْضمیر الَّذِیْنَ کی طرف لوٹ رہی ہے اور الَّذِیْنَ سے مراد اقوام گزشتہ ہیں ‘ یعنی کفار مکہ نے بھی گزشتہ امتوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(46) اور ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلانے میں بہت بڑی بڑی تدبیریں کی تھیں اور ان کی ان تدبیروں کی سزا اللہ تعالیٰ کے سامنے تھی اور ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ۔۔ : یعنی ان پہلے کفار اور موجودہ کفار نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کے خلاف اپنی زیادہ سے زیادہ اور خطرناک سے خطرناک جو بھی خفیہ تدبیر اور سازش وہ کرسکتے تھے کی۔ ”عِنْدَ اللہِ مَکْرُھُم“ سے یہی مراد ہے اور اللہ کو ان کی ہر سازش کا علم تھا۔ اس آیت کے تحت تفسیروں میں نمرود کا قصہ بھی ذکر کردیا گیا ہے جو صحت کے ساتھ ثابت نہیں۔ (رازی) وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ : یہ ”اِنْ“ نافیہ (یعنی نہیں کے معنی میں) ہے، اس کے بعد لام پر کسرہ ہے، اسے لام جحد کہتے ہیں جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے اور اس کے بعد فعل مضارع ”أَنْ“ کے ساتھ منصوب ہوتا ہے جو لام جحد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 46–47

آیت نمبر 47 قولہ تعالیٰ : فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ اللہ تعالیٰ کا اسم جلالت اور مخلف تحسبن کے مفعول ہیں۔ اور رسلہ، وعدہ کا مفعول ہے اسمیں ایسا ہونے کی وسعت ہے اور اس کا معنی وعدہ رسلہ ہے۔ شاعر نے کہا : تری الثور فیھا مدخل الظلل رأسہ وسائرہ بادإلی الشمس أجمع اس میں مدخل الظلل رأسہ کا معنی ہے، مدخلا لرأسہ فی ظل کتابہ۔ قتبی نے کہا : یہ اس مقدم میں سے ہے جس کا مؤخر اس کی وضاحت کرتا ہے اور اس مؤخر میں سے ہے جس کا مقدم اس کی وضاحت کرتا ہے۔ لہٰذا مخلف وعدہ رسلہ اور مخلف رسلہ وعدہ دونوں برابر ہیں۔ ان اللہ عزیز ذوانتقام یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے المنتقم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 44–49

1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ سے مراد ہے کہ ان کو دنیا میں ڈرائیے پہلے اس سے کہ ان کے پاس عذاب آجائے۔ 2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ یعنی قیامت کے دن (آیت ) ” فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب “ یعنی وہ مدت کہ اس دنیا میں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ (جیسے) اللہ تعالیٰ یہ قول ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ (النخل آیت 38) (وہ قسم کیا تھی) کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی دنیا سے آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَدْ مَكَرُوْا : اور وہ چالیں چل چکے ] [ مَكْرَهُمْ : اپنی چالبازی کی ] [وَعِنْدَ اللّٰهِ : اور اللہ کے پاس (محفوظ) ہے ] [ مَكْرُهُمْ : ان کی چالبازی ] [وَان : اور اگرچہ ] [كَان : تھی ] [مَكْرُهُمْ : ان کی چالبازی (ایسی)] [ لِتَزُوْلَ : کہ ٹل جائیں ] [مِنْهُ : اس سے ] [ الْجبالُ : پہاڑ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ ) (الآیۃ) جو لوگ منکرین اور معاندین تھے جب انبیاء کرام (علیہ السلام) انہیں ایمان کی دعوت دیتے تھے تو نہ صرف یہ کہ جھٹلاتے تھے بلکہ ان کی دعوت کو دبانے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کرتے تھے راہ حق سے لوگوں کو روکتے تھے اور اس سلسلہ میں جان اور مال خرچ کرتے تھے ان کی یہ تدبیریں ایسی تھیں جن کی وجہ سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل سکتے تھے اللہ تعالیٰ کو ان کی تدبیروں کا پورا پورا علم تھا ان کی تدبیریں نیست و نابود ہوئیں اور مکذبین و معاندین ہلاک اور برباد ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–52

تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ مشرکین نے اسلام کو مٹانے اور کفر و شرک کو فروگ دینے کے لیے اپنی پوری قوت سے بڑے عظیم پروگرام بنائے ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ان پروگراموں اور ان خفیہ تدبیروں سے اسلام کو دنیا سے نیست و نابود کردیں گے ” قد مکروا فی ابطال الحق و تقریر الباطل مکرھم العظیم الذی استفرغوا فی عملہ المجھود الخ “ (ابو السعود ج 5 ص 363) ” وَ عِنْدَ اللہِ مَکْرُھُمْ “ لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کی تمام خفیہ تدبیروں اور سازشوں کا پورا پورا علم ہے اس لیے ان کی کوئی تدبیر کامیاب نہ ہوسکی اور ” وَ اِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ الخ “ اِنْ مخففہ من المثقلہ ہے۔ ای انہ کان الخ۔ حالانکہ مشرکین کے اپنے اندازے کے مطابق ان کی سکیمیں اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–46

(ربط آیات) پہلے قرآن کریم کی حقانیت اور قیامت کا ذکر ہوا ، پھر رسالت اور توحید کا بیان آیا ، اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ وعرب پر ہونے والی خاص نعمتوں کا تذکرہ کیا اور اس ضمن میں شرک اور ان کی بدعقیدگی کا ذکر کیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر کیا جن میں توحید کی ترغیب اور شرک سے بیزاری کا سبق ملتا ہے ، ادھر انعامات الہی کے حصول پر اس کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے اور کفر وشرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں ، لہذا اس سے بچنا چاہئے ، پھر اللہ نے قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا اور پھر اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ 46؁ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–46

ترکیب : غافلاً تحسبن کا مفعول ثانی تشخص جملہ یوم کی صفت مہطعین حال ہے ابصار سے لان المراد صاحب الابصار۔ مقنعین بھی حال ہے ن کو اضافت سے ساقط کردیا لایرتد حال ہے ضمیر مقنعین سے وافئدتہم جملہ حال ہے یوم مفعول ثانی ہے انذر کا۔ ای انذرھم عذاب یوم الخ تبین کا فاعل حالھم محذوف کیف موضع نصب میں ہے فعلنا کی وجہ سے۔ تفسیر : مکہ کے کفار کو جو وہ دعائِ ابراہیم (علیہ السلام) کی وجہ سے امن میں رہ کر مغرور تھے یہ سناتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لینا کہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے بیخبر ہے ان کو سزا نہ دے گا سزا تو ابھی دیتا مگر اپنی مصلحت سے اس دن کے لئے چھوڑ رکھا ہے کہ جس میں قبروں سے نکل کر موقف کی طرف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ وَعِنْدَاللّٰہِ مَکْرُھُمْ ط وَاِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَالُ ۔ (سورۃ ابراھیم : 46) (اور انھوں نے اپنی ساری چالیں چلیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی چالوں کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی چالیں ایسی تھیں کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے۔ ) حق و باطل کی کشمکش میں اہل باطل نے کبھی ایسانھیں ہوا کہ اپنے ترکش کا کوئی تیر چلانے سے روک لیا ہو اور اپنی کوئی ایسی تدبیر جس سے اسلامی قوت کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہو اسے بروئے کار لانے سے احتراز کیا ہو۔ ان کے دارالندوہ میں مشورے بہت سی زندگیوں کی تجربات کا نچوڑ اور بہت سے عقلمندوں کی کمال عقل کا ظہور ہوتے تھے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–47

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکرین کو خطاب جاری ہے۔ منکرین آخرت کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے ساتھ پہلی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کیا یہ لوگ ان کے انجام پر غور نہیں کرتے کہ جن کی بستیوں اور علاقہ میں یہ لوگ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ جس وجہ سے انہیں ذلت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے کس طرح انہیں آناً فاناً اور شدّت کے ساتھ پکڑا تھا۔ ہم نے کھول کھول کر ان کے حالات اور واقعات لوگوں کے سامنے بیان کردیے ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ مکرو فریب اور سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیرغالب رہی۔ حالانکہ ان کی سازشیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کے بڑے منصوبے : 46: وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ ( اور انہوں نے اپنی سازشیں کیں) یعنی ایسی بڑی سازشیں جس میں انہوں نے اپنی امکانی قوت صرف کردی۔ اور اس سے مراد کفر کی بقاء کے تمام منصوبہ جات ہیں۔ اور اسلام کو باطل کرنے کے ذرائع ہیں۔ وَعِنْدَ اللّٰہِ مَکْرُھُمْ ( اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا فریب درج ہے) یہ فاعل اول کی طرف مضاف ہے مطلب یہ ہے ان کا مکر اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھا ہوا ہے۔ وہ ان کو اس کا بدلہ دیں گے جو اس سے بہت بڑا ہوگا۔ نمبر 2۔ یا مفعول کی طرف ای عند اللّٰہ مکرھم الذی یمکرھم بہ اور اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے وہ تدبیر جو ان کے متعلق اختیار کریگا۔ اور اس تدبیر سے وہ عذاب مراد ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46۔” وقد مکروا مکرھم و عند اللہ مکرھم “ ان کے فریب کا بدلہ ۔” وان کان مکرھم “ ابن مسعود ؓ نے ” وان کاد مکرھم “ دال کے ساتھ پڑھا ہے اور عام قراء نے اس کو نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ ان کا مکرایسا تھا کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جاتا ۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ان کے مکر پہاڑوں کو ان کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان سے مکر و فریب آپ ﷺ کی نبوت اور شریعت الٰہی کو زائل نہیں کرسکتے جو پہاڑوں کی مانند پائیدار ہیں ۔ ابن جریج اور کسائی رحمہما اللہ نے ” لتزول “ لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے لام کو فرع پڑھا ہے ۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ بیشک ان کا مکر بلا شبہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–47

47۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے رسول برحق کو خطاب کر کے مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا ہے کہ تمہاری مدد کروں گا اور کفار پر تمہیں غلبہ دوں گا دین حق کو پھیلا دوں گا تو وہ اس کو پورا نہیں کرے گا کیونکہ خدا کسی سے جھوٹا وعدہ نہیں کرتا ہے پھر وہ اپنے رسول سے کیوں کر جھوٹا وعدہ کرے گا غرض کہ اللہ نے مسلمانوں کی یہ تسکین و تسلی کی ہے کہ تم اطمینان رکھو جو تم سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کروں گا اور ان کافروں کے ساتھ بھی نہایت انصاف سے فیصلہ کردوں گا کیوں کہ خدا سب پر غالب ہے اس سے بڑھ کر کوئی بدلہ لینے والا نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وقد مکروا) ” اور چال چلی “ یعنی انبیاء ومرسلین کو جھٹلانے والوں نے (مکرھم) ” اپنی چال “ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انہوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ (وعنداللہ مکرھم) ” اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا حاطہ کئے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انہی کے خلاف گئیں۔ (فاطر : 53؍34) ” اور بری چالوں کا وبال انہی لوگوں پر پڑتا ہے جو چالیں چلتے ہیں “۔ (آیت) ” اگرچہ ان کی چال ایسی تھی کہ ٹل جائیں اس سے پہاڑ “ یعنی انبیاء ورسل اور وحی کو جھٹلانے والوں کی چالیں اور سازشیں اتنی بڑی ہیں کہ ان کے سبب سے بڑے بڑے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94۔ حق اور اہل حق کے خلاف منکرین کی چالوں کا ذکر وبیان : س سو ارشاد فرمایا گیا کہ ماضی کے ان لوگوں نے پورے زور سے چلیں اپنی چالیں، یعنی حق اور اہل حق کے خلاف تاکہ اس طرح وہ حق کے نور کو مٹا دیں، لیکن ان کے لئے یہ کہاں اور کیسے ممکن ہوسکتا تھا، جب کہ حق کا محافظ ونگہبان اللہ تعالیٰ خود ہے، یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (الصف : 8) سو اس طرح وہ لوگ حق کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے کہ سورج کسی کے مونہوں کی پھونکوں سے بھلا تھوڑا ہی بجھ سکتا ہے لیکن اپنے اس طرز عمل اور اپنے خبث باطن کی بناء پر انہوں نے اپنے آپ کو دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ضرور ڈال دیا، اور وہ منکر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–52

قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–52

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ یعنی اپنی کتابوں میں اور اپنے پیغمبروں کی زبان پر۔ 3 ۔ یعنی حق کو دبانے اور باطل کو سربلند کرنے کے لئے انہوں نے کوئی سازش اور تدبیر اٹھا نہ رکھی۔ اس آیت کے تحت تفسیروں میں نمرود کا قصہ بھی ذکر کردیا گیا ہے جو صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ (رازی) ۔ 4 ۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ کے دائوں کے سامنے اس کا کوئی اثر نہ ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وان کان مکرھم میں “ ان “ نفی کے معنی میں ہو۔ یعنی ان کا مکر اتنا مضبوط نہ تھا کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جاتے۔ اس صورت میں ” الجبال “ سے مراد آنحضرت ﷺ کا دین اور شریعت کے دلائل ہیں۔ (رازی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:46) مکروا مکرہم۔ انہوں نے اپنی چالیں چلیں۔ اس میں ہم ضمیر فاعل کا مرجع یا تو الذین ظلموا انفسہم ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور جن کے مساکن میں تم آباد رہے۔ یا اس کا مرجع کفار قریش ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف گھنبیر چالیں چلیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او او یقتلوک او یخرجوک۔ (8:30) اور یاد کرو جب خفیہ تدبیریں کر رہے تھے آپ کے بارہ میں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا تاکہ آپ کو قید کردیں۔ یا آپ کو شہید کردیں یا آپ کو جلا وطن کردیں لیکن صورت اول زیادہ صحیح ہے۔ وعند اللہ مکرہم۔ اللہ تعالیٰ سے ان کی یہ چالیں مخفی نہ تھیں سب کی سب اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–47

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47 لاتحسبن تم ہرگز گمان نہ کرنا۔ غافل بیخبر ۔ یعمل عمل کرتا ہے۔ یوخر وہ مہلت دیتا ہے۔ تشخص کھلی رہے گی، پتھرا جائے گی۔ الابصار آنکھیں۔ مھطعین دوڑتے ہوئے۔ مقنعی اوپر اٹھائے ہوئے۔ رء وس (راس) ۔ سر لایرتد نہ پلٹے گی۔ طرف آنکھیں۔ ھواء اڑا اڑا ہونا۔ انذر ڈرا۔ اخرنا ہمیں مہلت دے دے۔ نجب ہم جواب دیں گے۔ نتبع ہم پیروی کریں گے۔ پیچھے چلیں گے اقسمتم تم نے قسم کھائی۔ زوال زوال، اترنا۔ سکنتم تم آباد ہوئے۔ مسکن گھر۔ تبین واضح ہے۔ کھل گیا۔ کیف فعلنا ہم نے کیا کیا۔ ضربنا ہم نے بیان کردیا۔ مکروا انہوں نے چال چلی۔ لتزول تاکہ ٹل جائے۔ ہل جئاے الجبال (جبل) ۔ پہاڑ مختلف خلاف کرنے والا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–46

رسول اللہ ﷺ کے احکام پہار کی مثال ہیں اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے محبوب ﷺ کفار قریش کو ڈراؤ اس دن سے کہ جس دن ان پر عذاب آوے گا اس روز کافر کہیں گے : اے پروردگار ! ہمٰں تھوری سی مہلت دے۔ ہم تیرے حکم کو قبول کریں گے اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں گے۔ جواب میں فرشتے کہیں گے کہ : تم وہی لوگ ہو کہ دنیا میں مبالغہ کی وجہ سے قسم کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہمیں کبھی کچھ زوال نہ ہوگا یعنی آخرت کے منکر تھے اور تماشا یہ ہے کہ تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے تھے کہ جو تم سے پہلے منکرین حشر، تکذیب انبیاء کرکے ہلاک ہوچکے تھے۔ یہ تم کو خوب معلوم تھا کہ ہمارا عذاب ان پر نازل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–46

اخلاص کی پکار : (ف 1) دعاء کا بقیہ حصہ یہ ہے ، کہ اللہ اپنا نیاز مند بنائیو ، رکوع و سجود کی توفیق دیجؤ، مجھے اور میرے والدین کو اپنے آغوش رحمت میں جگہ دیجؤ، مخلص دل سے نکلی ہوئی یہ دعا قبول ہوئی ، آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کی وہی شان ہے زائرین کا ہر وقت تانتا لگا ہوا ہے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بالخصوص ہر سال زیارت کعبہ کے لئے جاتے ہیں ، ” حوللیہ من کل فج عمیق “۔ روزی کی ہر چیز فراوانی کے ساتھ موجود ہے ، غور فرمائیے ایک غیر معروف شخص ایک لق ودق صحرا میں ایک معبد تعمیر کرتا ہے ، اخلاص اور قوت روحانی کا یہ اثر ہے کہ دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

46 ۔ اور ان سابقہ لوگوں نے دین حق کو مٹانے میں بڑی بڑی تدبیریں کیں اور بڑی بڑ ی چالیں چلی تھیں ان سب کی تدبیریں اور چالیں اللہ تعالیٰ کے سامنے تھیں اور ان سب چالوں کا بدلہ اللہ کے ہاں موجود ہے اور ان کی تدبیریں اور چالیں اس لائق نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں ۔ یعنی وہ لوگ بڑی چال باز اور بڑے دائوں پیچ کرنے والے تھے اور ان کے مکرو فریب سب خدا کے سامنے تھے یا ان سب فریب کاریوں کا بدلہ اور جزا اللہ تعالیٰ کے پاس تھی باوجود اس کے بھی وہ دین حق اور پیغمبروں کو جو پہاڑوں کی طرح مستقل تھے اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے لوگوں نے کئی تدبیریں ٹھہرائی تھیں حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–47

ف 4۔ یعنی کتب سماویہ میں ہم نے بھی ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا کہ اگر تم ایساکرو گے تو تم بھی ایسے ہی مغضوب و مستحق عذاب ہوگے پس واقعات کا اولا اخبار سے سننا پھر ہمارا ان کو بیان کرنا پھر مماثلت پر تنبیہ کرنا یہ سب اسباب مقتضی اس کو تھے کہ قیامت کا انکار نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے کیا کچھ تدبیریں نہ کیں لیکن اللہ کے پاس ان کی تدبیروں کا جواب موجود تھا 50 ؎ فرمایا ان لوگوں نے دین حق مٹانے اور دعوت حق قبول کرنے والے مسلمانوں کو ستانے اور ایذا دینے کیلئے بھرپور تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی سب کھلی اور پوشیدہ تدبیریں سب کے سامنے موجود ہیں وہ سب کو جاننے والا اور ان کو ناکام بنا دینے پر قادر ہے اگرچہ ان کی مخفی تدبیریں ایسی سخت اور عظیم تھیں کہ ان کے مقابلہ پر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ ساری تدبیریں گرد راہ بن کر رہ گئیں اور ان کی داستانیں ان کے بعد آنے والوں نے سنیں۔ جن مخالف اور مخفی تدبیروں کا اس جگہ ذکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Said in verse 46 was: وَقَدْ مَكَرُ‌وا مَكْرَ‌هُمْ وَعِندَ اللَّـهِ مَكْرُ‌هُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُ‌هُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ And they worked out their plot and whatever they plot is be-fore Allah, even though their plot is such as would move the mountains. Which can be explained further by saying that those people tried to demolish the true faith and put in action their deadliest plans to bring harm to Muslims who had embraced the call of truth. But, all plans made by them, open or concealed, lie exposed before Allah Ta’ ala who is fully aware of them, and comprehensively capable of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55. That is, you have seen that the former people who violated the divine law, and who opposed the message, devised very effective and cunning schemes to avert the consequences of their iniquity, but Allah defeated them with His single counter device. You did not give up your crafty schemes against the message of truth in the vain hope that your strong measures would succeed where the schemes of your predecessors had failed.

Read the full tafseer →