Ibrahim 14:45

Ibrahim · from ayah 45

14:45

وَّسَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ ۟وَّسَكَنۡتُمۡ فِىۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَـكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ وَضَرَبۡنَا لَـكُمُ الۡاَمۡثَالَ‏

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you lived among the dwellings of those who wronged themselves, and it had become clear to you how We dealt with them. And We presented for you [many] examples."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 7 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:45

حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کیا تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے سہتے نہ تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا اور کیا تم پر وه معاملہ کھلا نہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا کچھ کیا۔ ہم نے تو (تمہارے سمجھانے کو) بہت سی مثالیں بیان کردی تھیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں رہ چکے تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اور یہ بات کھل کر تمہارے سامنے آچکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا، اور ہم نے تمہیں مثالیں بھی دی تھیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم (اپنی باری پر) انہی لوگوں کے (چھوڑے ہوئے) محلات میں رہتے تھے (جنہوں نے اپنے اپنے دور میں) اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا حالانکہ تم پر عیاں ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا اور ہم نے تمہارے (فہم کے) لئے مثالیں بھی بیان کی تھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تم ان لوگوں کے رہنے کی جگہوں میں آباد رہے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تمہارے لیے خوب واضح ہوگیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کس طرح کیا اور ہم نے تمہارے لیے کئی مثالیں بیان کیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ تم ایسے لوگوں کی بستیوں میں آباد ہوئے تھے جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تھا اور تم پر یہ بھی واضح ہوچکا تھا کہ ان سے ہم نے کیا سلوک کیا تھا اور تمہارے لئے ان کی مثالیں بھی بیان کردی تھیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں رہے بسے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور تم پر واضح تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور تمہارے لیے ہم نے مثالیں بھی بیان کردی تھیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ تم انہی لوگوں کی جگہوں (اور بستیوں) میں رہتے بستے تھے جنہوں نے (اپنی زندگیوں میں) ظلم اٹھائے تھے خود اپنی جانوں پر، اور تمہارے سامنے اچھی طرح واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے کیا سلوک کیا ان کے ساتھ اور ہم نے بیان کردی تھی تمہارے لئے طرح طرح کی (عبرتناک) مثالیں

— مولانا اسحاق مدنی

حالانکہ تم انہیں لوگوں کے مسکنوں میں آباد تھے جو اپنے اوپر ظلم کرچکے تھے اور تمہارے اوپر روشن ہوچکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیونکر معاملہ کیا تھا اور ہم نے (بھی) تم سے مثالیں بیان کی تھیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم آباد تھے ان ہی لوگوں کے مسکنوں میں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تم پر اچھی طرح واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور ہم نے تمہارے لیے مثالیں بھی بیان کردی تھیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے، تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے، اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا تھا، اور تمہارے (سمجھانے کے) لیے مثالیں بیان کردی تھیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You said so even though you had lived in the dwellings of those who had wronged themselves (by sinning), and you were aware how We dealt with them, and We had even explained to you all this by giving examples.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And you dwelt in the dwellings of those who wronged themselves, and it became clear to you how We dealt with them, and We put forth for you the examples.

— Muhammad Taqi Usmani

And you dwelt in the dwellings of those who wronged themselves, and it became clear to you how We dealt with them, and We put forth for you the examples.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And you dwelt in the dwellings of men who wronged themselves, and it was clear to you how We dealt with them. And We put forth (many) parables for you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (have ye not) dwelt in the dwellings of those who wronged themselves (of old) and (hath it not) become plain to you how We dealt with them and made examples for you?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you lived among the dwellings of those who wronged themselves, and it had become clear to you how We dealt with them. And We presented for you [many] examples."

— Saheeh International

You lived in the dwellings of those who wronged themselves, even though it was made clear to you how We dealt with them. We also showed you examples."

— Muhammad Sarwar

And you dwell in the abodes of those who were unjust to themselves, and it is clear to you how We dealt with them and We have made (them) examples to you.

— Muhammad Habib Shakir

And ye dwell in the dwellings of those who had wronged themselves and it had become manifest unto you in what wise We had dealt with them, and We had propounded for you similitudes.

— Abdul Majid Daryabadi

"And ye dwelt in the dwellings of men who wronged their own souls; ye were clearly shown how We dealt with them; and We put forth (many) parables in your behoof!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–46

عذاب دیکھنے کے بعد ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–45

سورة اِبْرٰهِیْم 54 یعنی قیامت کا جو ہولناک نظارہ ان کے سامنے ہوگا اس کو اس طرح ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے ہوں گے گویا کہ ان کے دیدے پتھرا گئے ہیں، نہ پلک جھپکے گی، نہ نظر ہٹے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ۔ ظاہر یہ ہے کہ خطاب مشرکین عرب کو ہے جن کے لئے نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا ہے انذِرِ النَّاس یعنی ڈراؤ ان لوگوں کو اس خطاب میں ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے حالات و انقلابات تمہارے لئے بہترین واعظ ہیں تعجب ہے کہ تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ تم انھی ہلاک شدہ قوموں کے گھروں میں بستے اور چلتے پھرتے ہو اور تمہیں کچھ حالات کے مشاہدہ سے کچھ متواتر خبروں سے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیسا سخت عذاب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ۔ تاریخ کی یاد دہانی : یعنی یہ بات نہیں ہے کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا جو حشر ہوا اور خدا نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا اس سے تم بیخبر رہے ہو، انہی اقوام بائدہ و معذبہ کی بستیوں میں تم رہے بسے اور خدا نے تم کو اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان کے سبق آموز اور عبرت انگیز حالات بھی سنا دیے۔ یہ حالات محض قصے کے طور پر تمہیں نہیں سنائے گئے تھے بلکہ ان کے سنانے سے مقصود تم کو یہ بتانا تھا کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے رسول کی تکذیب کردی۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 یعنی عبرت کے لئے ہم نے تو ان کی پچھلی قوموں کے واقعات بیان کردیئے ہیں، جن کے گھروں میں تم آباد ہو اور ان کے کھنڈرات بھی تمہیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ اگر تم نے ان سے عبرت حاصل نہیں کی اور ان کے انجام سے بچنے کی فکر نہ کرو تو تمہاری مرضی۔ پھر تم بھی اسی انجام کے لئے تیار رہو

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–52

30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–45

آیت نمبر 44 تا 45 اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔ اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔ اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی تمہارے پچھلے ان ہی بستیوں میں یا ان کے آس پاس آباد ہوئے جہاں اگلے ظالم سکونت رکھتے تھے۔ اور ان ہی کی عادات واطوار اختیار کیں، حالانکہ یہ تاریخی روایات اور متواتر خبروں سے ان پر روشن ہوچکا تھا کہ ہم اگلے ظالموں کو کیسی کچھ سزا دے چکے ہیں اور ہم نے امم ماضیہ کے یہ قصے کتب سماویہ میں درج کر کے انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی ان کو آگاہ بھی کردیا تھا، مگر انھیں ذرہ بھر عبرت نہ ہوئی۔ اسی سرکشی، عناد اور عداوت حق پر اڑے رہے۔ (حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ) 54 ۔ القمر :5)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ تمہارے آس پاس کے علاقوں میں وہ قومیں آباد تھیں جو ماضی میں اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں۔ قوم عاد بھی اسی جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھی قوم ثمود کے مساکن بھی تمہیں دعوت عبرت دیتے رہے قوم مدین کا علاقہ بھی تم سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا اور قوم لوط کے شہروں کے آثار سے بھی تم لوگ خوب واقف تھے۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ ان کے حالات پوری طرح کھول کر تم لوگوں کو سنا دیے گئے تھے۔ یہ تذکیر بایام اللہ کی تفصیلات کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں حضور سے اسی سورت کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 حالانکہ ہم نے سابقہ امتوں کے انجام کی مثالیں دے دے کر تم پر یہ بات واضح کردی تھی کہ ایسا انقلاب آسکتا ہے۔ پہلے بھی آتا رہا ہے اور اب بھی آکے رہے گا اور ان کے قصے تمہارے ہاں زبان زد بھی تھے اور ان کے ہلاک کردہ علاقے تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی رہتے تھے اور انھیں کے علاقوں میں تم میں سے کچھ لوگ آج بھی آباد ہیں۔ لہذا یہ بھی عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں سے ہٹا کر دوسرے لوگوں کو آگے لے آئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

74۔ یہ خطاب زمانہ مابعد کی نسلوں سے ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم تو بعد کو آئے پھر نہ اپنے پیش رو کفار معاندین ومنکرین آخرت کے عبرتناک انجام اور تباہی و بربادی سے کوئی عبرت ونصیحت تم نے حاصل کی اور نہ کتب سابقہ کی ہدایتوں فہمایشوں سے تم ذرا بھی بیدار ہوئے، تمہارے لئے تو انکار کے نہیں، منع انکار کے اتنے زبردست اسباب اکٹھے تھے، پھر بھی تم اپنی شامت سے راستہ وہی ہلاکت وبد انجامی ہی کا اختیار کئے رہے، (آیت) ” وسکنتم۔۔۔ انفسھم “۔ یعنی تم روئے زمین کے انہی خطوں، قطعوں، علاقوں میں تو آباد ہو جہاں تم سے پیشتر اور منکرین ومعاندین رہ چکے تھے۔ (آیت) ” تبین۔۔۔ بھم “۔ یعنی تمہیں تاریخ سے، روایات و حکایات سے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–52

آیت نمبر 42 تا 52 ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسھم اور جن لوگوں نے (کفر و معصیت کر کے) اپنے آپ پر خود ظلم کیا تھا (جیسے قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود وغیرہ) کیا ان کے گھروں میں ان کی جگہ پر تم نہیں رہے تھے۔ وتبین لکم کیف فعلنا بھم وضربنا لکم الامثال اور (کیا ان کے آثار قدیمہ کا مشاہدہ کر کے اور ان کی تباہیوں اور بربادیوں کی خبریں سن کر) تم پر ظاہر (نہ) ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا اور (کیا) تمہاری عبرت کیلئے ہم نے (ان کے احوال کی) مثالیں (نہیں) بیان کردی تھیں ؟ یعنی کیا ہم نے پیغمبروں کی معرفت اور ان کی زبانی نہیں بیان کردیا تھا کہ تم کفر و استحقاق عذاب میں گزشتہ اقوام کی طرح ہو۔ یا یہ مطلب کہ گزشتہ اقوام کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(45) حالانکہ تم پہلے لوگوں کی جگہ میں رہتے تھے جنہوں نے کفر وتکذیب سے اپنی جانوں کا نقصان کیا پھر بھی تم نے ان کی ہلاکت سے نصیحت نہیں حاصل کی اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ اور ہم نے تم سے قرآن کریم میں ہر ایک طریقہ سے وعدے وعید، رحمت و عذاب کی مثالیں بیان کیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ۔۔ : یعنی تم لوگ اسی عرب، یمن، عراق اور مصر وغیرہ میں رہ رہے ہو جہاں تم سے پہلے عاد، ثمود، قوم نوح و ابراہیم، قوم لوط اور قوم فرعون رہتے تھے اور ان کے گناہوں کی سزا میں ہم نے ان پر جو عذاب نازل کیے وہ سب تمہیں اچھی طرح معلوم ہوچکے، گو تم زبان سے اقرار نہیں کرتے۔ ہم نے تو تمہیں اپنی کتابوں میں اور اپنے پیغمبروں کی زبانی مثالیں دے دے کر بھی سمجھایا، مثلاً مکھی کی مثال (حج : 73) ، عنکبوت یعنی مکڑی کی مثال۔ (عنکبوت : 41) ، کتے کی مثال (اعراف : 176) اور سراب کی مثال (نور : 39) وغیرہ۔ اس کے علاوہ پہلے کفار کے انجام بطور مثال بھی مراد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 45 تا 46 قولہ تعالیٰ : وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسھم وتبین لکم کیف فعلنا بھم وضربنا لکم الامثال یعنی قوم ثمود اور اس جیسی دیگر قوموں کے شہروں میں تم نے ان کے گھروں سے کیوں عبرت حاصل نہیں کی، حالانکہ تم پر واضح ہوچکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ہم نے تمہارے لیے قرآن میں طرح طرح کی مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔ ابو عبد الرحمن سلمی نے ونبین لکم نون اور جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں صبغہ مستقبل کا ہے جب کہ معنی ماضی کا اور دوسری وجہ یہ ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کیف فعلنا بھم کے مناسب و مطابق ہوجائے جب کہ جماعت کی قراءت وتبین ہے اور یہ معنی اس میں اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 44–49

1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ سے مراد ہے کہ ان کو دنیا میں ڈرائیے پہلے اس سے کہ ان کے پاس عذاب آجائے۔ 2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ یعنی قیامت کے دن (آیت ) ” فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب “ یعنی وہ مدت کہ اس دنیا میں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ (جیسے) اللہ تعالیٰ یہ قول ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ (النخل آیت 38) (وہ قسم کیا تھی) کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی دنیا سے آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّسَكَنْتم : اور تم لوگوں نے سکونت اختیار کی ] [ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِينَ : ان کے ٹھکانوں میں جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْٓا : ظلم کیا ] [ انفُسَهُمْ : اپنی جانوں پر ] [وَتَبَيَّنَ : اور واضح ہوا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ كَيْفَ : (کہ) کیسا ] [فَعَلْنَا : ہم نے کیا ] [ بِهِمْ : ان کے ساتھ ] [وَضَرَبْنَا : اور ہم نے بیان کیں ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [ الْاَمْثَالَ : تمام مثالیں (یعنی لوک کہانیاں)] نوٹ۔ 1: آیت۔ 45 میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ دوسری قوموں کی مثالیں ہم نے بیان کیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فاعل حقیقی ہے۔ لیکن اسباب و علل کی اس دنیا میں اس کا ظہور اس طرح تھا کہ دوسری قوموں کے حالات و…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–45

قیامت کے دن کا ایک منظر، عذاب آنے پر ظالموں کا درخواست کرنا کہ مہلت دیدی جائے قرآن مجید نازل ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ سناتے تھے توحید کی دعوت دیتے تھے لیکن مشرکین مکہ عناد و تکذیب سے باز نہ آتے تھے اور اپنے احوال اور اموال میں مست تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری طور پر عذاب نہ آنے کی وجہ سے یوں کہتے تھے کہ اگر ہم اللہ کے نزدیک مجرم ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ ان کی اس جاہلانہ بات سے دوسرے لوگوں کے متاثر ہونے کا بھی احتمال تھی اللہ جل شانہٗ نے فرما دیا کہ آپ یہ خیال نہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے غافل ہے اسے سب خبر ہے ان کے حال اور انکار و تکذیب کا علم ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–52

تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ جن ظالموں نے ضد وعناد سے توحید کا انکار کیا اور ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا جن کو عذاب سے ہلاک و برباد کیا ان کی بتاہی کے بعد ان کے شہروں اور علاقوں میں تم آباد ہوئے اور تم نے ان کی تباہی کے آثار سے معلوم کرلیا کہ ہم نے ان مکذبین کا کیا حشر کیا اور پھر ہم نے مثالیں دے دے کر مسئلہ توحید کو اچھی طرح سمجھا دیا مگر اس کے باوجود تم نے انکار کیا اور مسئلہ توحید کو ماننے کا جو موقع ہم نے فراہم کیا تھا اس سے تم نے فائدہ نہ اٹھایا اس لیے اب اگر تمہیں دوبارہ مہلت دی گئی تب بھی تم نہیں مانو گے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے معاندین کے قصص و واقعات بیان کر کے تم کو تنبیہ کی کہ دیکھو اگر نہیں مانو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–46

(ربط آیات) پہلے قرآن کریم کی حقانیت اور قیامت کا ذکر ہوا ، پھر رسالت اور توحید کا بیان آیا ، اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ وعرب پر ہونے والی خاص نعمتوں کا تذکرہ کیا اور اس ضمن میں شرک اور ان کی بدعقیدگی کا ذکر کیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر کیا جن میں توحید کی ترغیب اور شرک سے بیزاری کا سبق ملتا ہے ، ادھر انعامات الہی کے حصول پر اس کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے اور کفر وشرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں ، لہذا اس سے بچنا چاہئے ، پھر اللہ نے قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا اور پھر اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ 45 سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–46

ترکیب : غافلاً تحسبن کا مفعول ثانی تشخص جملہ یوم کی صفت مہطعین حال ہے ابصار سے لان المراد صاحب الابصار۔ مقنعین بھی حال ہے ن کو اضافت سے ساقط کردیا لایرتد حال ہے ضمیر مقنعین سے وافئدتہم جملہ حال ہے یوم مفعول ثانی ہے انذر کا۔ ای انذرھم عذاب یوم الخ تبین کا فاعل حالھم محذوف کیف موضع نصب میں ہے فعلنا کی وجہ سے۔ تفسیر : مکہ کے کفار کو جو وہ دعائِ ابراہیم (علیہ السلام) کی وجہ سے امن میں رہ کر مغرور تھے یہ سناتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لینا کہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے بیخبر ہے ان کو سزا نہ دے گا سزا تو ابھی دیتا مگر اپنی مصلحت سے اس دن کے لئے چھوڑ رکھا ہے کہ جس میں قبروں سے نکل کر موقف کی طرف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَّسَکَنْتُمْ فِی مَسٰکِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُـْوٓا اَنْفُسَھُمْ وَتَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنَا بِہِمْ وَضَرَبْنَا لَکُمُ الْاَمْثَالَ ۔ (سورۃ ابراھیم : 45) (اور تم ان لوگوں کی (متروکہ) بستیوں میں آباد رہے ہو جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے اور یہ بات تم پر خوب واضح ہوچکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا برتائو کیا تھا، اور ہم نے بھی بیان کی تھیں تمہارے لیے طرح طرح کی مثالیں۔ ) تاریخ کی یاددہانی کفار کی آہ و بکاہ اور زندگی میں مہلت دینے کی درخواست پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم تو اس طرح درخواست پیش کررہے ہو جیسے تم اچانک پکڑے گئے ہو، حالانکہ ہر آنے والے رسول ( علیہ السلام) نے تمہیں قیامت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–47

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکرین کو خطاب جاری ہے۔ منکرین آخرت کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے ساتھ پہلی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کیا یہ لوگ ان کے انجام پر غور نہیں کرتے کہ جن کی بستیوں اور علاقہ میں یہ لوگ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ جس وجہ سے انہیں ذلت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے کس طرح انہیں آناً فاناً اور شدّت کے ساتھ پکڑا تھا۔ ہم نے کھول کھول کر ان کے حالات اور واقعات لوگوں کے سامنے بیان کردیے ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ مکرو فریب اور سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیرغالب رہی۔ حالانکہ ان کی سازشیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

45: وَّ سَکَنْتُمْ فِیْ مَسٰکِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ ( اور تم نے رہائش اختیار کی ان لوگوں کے مساکن میں جنہوں نے (کفر) کر کے اپنے اوپر ظلم کیا) کہا جاتا ہے سکن الدار، سکن فیھا اور یہی معنی یہاں ہیں۔ ظلموا انفسہم سے کفر کرنا مراد ہے کیونکہ السکنٰی سکون سے ہے اور وہ ٹھہرنے کو کہتے ہیں۔ اور اصل اس کو فی ؔ کے ساتھ متعدی بنایا گیا جیسا قرفی الدار واقام فیھا لیکن جب اس سے خاص سکون مراد لیا تو اس میں تصرف کردیا پس کہتے ہیں سکن الدار جیسا کہا جاتا ہے تَبَوَّاَھَا۔ ٹھکانہ بنایا سکونت اختیار کی۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ سکنوا سکون سے ہو۔ انہوں نے قرار لیا اور ان میں مطمئن ہوگئے خوش دلی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 45۔” وسکنتم “ دنیا میں رہائش اختیار کی ۔ ” فی مساکن الذین ظلموا وانفسھم “ کفر اور نافرمانی کی وجہ سے اس سے مراد قوم نوح ، عاد ثمود ، وغیرہ ہے۔ ” وتبین لکم کیف فعلنا بھم “ یعنی تم جان چکے ہو ان قوموں کے احوال اور سزائیں ۔” وضربنا لکم الامثال “ کیا ہم نے تمہارے لیے قرآن میں مثالیں بیان نہیں کیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–45

44۔ 46۔ اس آیت میں حضرت ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ تم لوگوں کو یہ ڈر سنا دو کہ قیامت میں جب عذاب ہوگا اس وقت یہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے اور راہ حق پر نہیں آئے یہ کہیں گے کہ اے خدا اک ذرا ہمیں مہلت دے دے تو ہم تیرے حکم کو قبول کرلیں اور رسول پر ایمان لے آئیں۔ اس کے جواب میں اللہ پاک ان سے کہے گا کہ کیا تم نے دنیا میں قسم کھا کر یہ بات نہیں کہی تھی کہ آخرت کوئی چیز نہیں ہے مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا کیسا ہمیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کوئی جزا و سزا نہیں ہے اور کیا تم ایسی سرزمین میں نہیں رہتے تھے جہاں تم سے پہلے منکرین حشر گزر چکے تھے اور انہیں باتوں پر ان کا انجام کیا ہوا کس طرح ان پر عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 44–45

44-45: اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجئے اور انہیں برے اعمال سے ڈرائیے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انہیں شدائد میں آپکڑے گا۔ (فیقول الذین ظلموا) ” تب ظالم لوگ کہیں گے “ یعنی جنہوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہو کر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہوگا۔ (ربنا اخرنا الی اجل قریب) ” اے ہمارے رب ! مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک “ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہوچکی ہے (نجب دعوتک) ” کہ ہم قبول کرلیں تیری دعوت کو “ اور اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 44–45

88۔ لوگوں کے انذار کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کرتے رہوتم لوگوں کو اس دن سے جس دن کو پہنچ کررہے گا ان پر وہ عذاب جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے اور جس جیسا دوسرا کوئی عذاب نہیں ہوگا، اس سے ان لوگوں کو خبردار کرتے رہو، تاکہ یہ اس سے بچنے کی فکروکوشش کریں، قبل اس سے کہ عمررواں کی یہ فرصت محدود ومعدود تمام ہوجائے، اور اس کا موقع ہاتھ سے نکل جائے، کہ پھر اس کے ملنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ۔ اور جن لوگوں نے اس دن اور اس میں آنے والے اس عذاب سے بےفکر و لاپرواہ ہوکر زندگی گزاری ہوگی، تو وہ ایسے ہولناک خسارے میں پڑجائیں گے، جس کی تلافی کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، سو وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 44–52

قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–52

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یعنی ان کے گناہوں کی سزا میں ہم نے ان پر جو عذاب نازل کئے وہ سب تم کو معلوم ہوچکے تھے گو تم زبان سے اقرار نہیں کرتے تھے۔ (کذافی الکبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:25) سکنتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم بستے رہے۔ تم آباد رہے۔ مساکن۔ مسکن کی جمع اس ظرف مکان ۔ ٹھہرنے اور رہنے کا مقام۔ تبین۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ واضح ہوگیا۔ وہ ظاہر ہوگیا۔ وہ کھل گیا۔ (یعنی ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی روایات بھی تم پہنچی ہوں گی اور ان کے آثار سے تم نے مشاہدہ بھی کرلیا ہوگا) ۔ وضربنا لکم الامثال۔ اور ہم نے تم کو مثالیں بیان کیں۔ یعنی کتب سماویہ میں ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا۔ کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم بھی یہی نیتجہ پائو گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–47

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47 لاتحسبن تم ہرگز گمان نہ کرنا۔ غافل بیخبر ۔ یعمل عمل کرتا ہے۔ یوخر وہ مہلت دیتا ہے۔ تشخص کھلی رہے گی، پتھرا جائے گی۔ الابصار آنکھیں۔ مھطعین دوڑتے ہوئے۔ مقنعی اوپر اٹھائے ہوئے۔ رء وس (راس) ۔ سر لایرتد نہ پلٹے گی۔ طرف آنکھیں۔ ھواء اڑا اڑا ہونا۔ انذر ڈرا۔ اخرنا ہمیں مہلت دے دے۔ نجب ہم جواب دیں گے۔ نتبع ہم پیروی کریں گے۔ پیچھے چلیں گے اقسمتم تم نے قسم کھائی۔ زوال زوال، اترنا۔ سکنتم تم آباد ہوئے۔ مسکن گھر۔ تبین واضح ہے۔ کھل گیا۔ کیف فعلنا ہم نے کیا کیا۔ ضربنا ہم نے بیان کردیا۔ مکروا انہوں نے چال چلی۔ لتزول تاکہ ٹل جائے۔ ہل جئاے الجبال (جبل) ۔ پہاڑ مختلف خلاف کرنے والا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–46

رسول اللہ ﷺ کے احکام پہار کی مثال ہیں اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے محبوب ﷺ کفار قریش کو ڈراؤ اس دن سے کہ جس دن ان پر عذاب آوے گا اس روز کافر کہیں گے : اے پروردگار ! ہمٰں تھوری سی مہلت دے۔ ہم تیرے حکم کو قبول کریں گے اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں گے۔ جواب میں فرشتے کہیں گے کہ : تم وہی لوگ ہو کہ دنیا میں مبالغہ کی وجہ سے قسم کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہمیں کبھی کچھ زوال نہ ہوگا یعنی آخرت کے منکر تھے اور تماشا یہ ہے کہ تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے تھے کہ جو تم سے پہلے منکرین حشر، تکذیب انبیاء کرکے ہلاک ہوچکے تھے۔ یہ تم کو خوب معلوم تھا کہ ہمارا عذاب ان پر نازل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–46

اخلاص کی پکار : (ف 1) دعاء کا بقیہ حصہ یہ ہے ، کہ اللہ اپنا نیاز مند بنائیو ، رکوع و سجود کی توفیق دیجؤ، مجھے اور میرے والدین کو اپنے آغوش رحمت میں جگہ دیجؤ، مخلص دل سے نکلی ہوئی یہ دعا قبول ہوئی ، آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کی وہی شان ہے زائرین کا ہر وقت تانتا لگا ہوا ہے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بالخصوص ہر سال زیارت کعبہ کے لئے جاتے ہیں ، ” حوللیہ من کل فج عمیق “۔ روزی کی ہر چیز فراوانی کے ساتھ موجود ہے ، غور فرمائیے ایک غیر معروف شخص ایک لق ودق صحرا میں ایک معبد تعمیر کرتا ہے ، اخلاص اور قوت روحانی کا یہ اثر ہے کہ دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

45 ۔ حالانکہ تم ان ہی لوگوں کے رہنے کی جگہ میں آباد تھے جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر و شرک اور قیامت کے انکار سے انہوں نے اپنے کو نقصان پہنچایا تھا اور تم کو یہ بھی معلوم ہوچکا تھا اور تم پر یہ ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان ظالموں کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا اور ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تھا انہی لوگوں کی جائے سکونت میں یا اس کے آس پاس آباد تھے جہاں وہ سابقہ ظالم اور کافر و مشرک رہا کرتے تھے اور جو کچھ ان سابقہ ظالموں کے ساتھ معاملہ کیا گیا تھا وہ بھی تم کو ظاہر ہوچکا تھا اور اگلے لوگوں کا مزید حال تم کو آسمانی کتابوں سے اور پیغمبروں کی زبانی معلوم ہوچکا تھا اور مثالوں اور قصوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–47

ف 4۔ یعنی کتب سماویہ میں ہم نے بھی ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا کہ اگر تم ایساکرو گے تو تم بھی ایسے ہی مغضوب و مستحق عذاب ہوگے پس واقعات کا اولا اخبار سے سننا پھر ہمارا ان کو بیان کرنا پھر مماثلت پر تنبیہ کرنا یہ سب اسباب مقتضی اس کو تھے کہ قیامت کا انکار نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم نے گزشتہ بستیوں کے مساکن میں وقت گزارا لیکن ذرا خیال نہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ 49 ؎ واضح رہے کہ یہ خطاب مشرکین عرب سے ہے جن کیلئے نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ ” انذر الناس “ ” ان لوگوں کو ڈرائو “ اس خطاب میں ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے حالات و انقلابات تمہارے لئے بہترین واعظ ہیں تعجب ہے کہ تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ تم ان ہلاک شدہ قوموں کے گھروں میں بستے اور چلتے پھرتے ہو اور تمہیں کچھ حالات کے مشاہدہ سے ‘ کچھ متواتر خبروں سے بھی معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیسا سخت عذاب نازل کیا اور ہم نے تم کو راہ راست پر لانے کیلئے کتنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 45: وَسَكَنتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَ‌بْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ And you dwelt in the dwelling of those who wronged themselves, and it became clear to you how We dealt with them and We put forth for you the examples, as obvious, the address is to the Mushriks of Arabia. These were the people the Holy Prophet was asked to warn: وَأَنذِرِ‌ النَّاسَ (And warn the people - 44). In this address, they have been asked to take their guard against what could happen to them as a result of their heedlessness. They could…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–45

54. This graphic picture depicts the horrible plight of the wrongdoers on the Day of Reckoning. When they will realize the situation, they will be so taken aback that they will have their looks fixed straight in front of them without seeing anything.

Read the full tafseer →