Explained with ayahs 44–46
عذاب دیکھنے کے بعد
ظالم اور ناانصاف لوگ اللہ کا عذاب دیکھ کر تمنائیں کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں ذرا سی مہلت مل جائے کہ ہم فرمابرداری کرلیں اور پیغمبروں کی اطاعت بھی کرلیں۔ اور آیت میں ہے موت کو دیکھ کر کہتے ہیں آیت (رب ارجعون) اے اللہ اب واپس لوٹا دے الخ یہی مضمون آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ) 63۔ المنافقون :9) میں ہے یعنی اے مسلمانوں تمہیں تمہارے مال اولاد یاد الہٰی سے غافل نہ کردیں۔ ایسا کرنے والے لوگ ظاہری خسارے میں ہیں۔ ہمارا دیا ہوا ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
سورة اِبْرٰهِیْم 54
یعنی قیامت کا جو ہولناک نظارہ ان کے سامنے ہوگا اس کو اس طرح ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے ہوں گے گویا کہ ان کے دیدے پتھرا گئے ہیں، نہ پلک جھپکے گی، نہ نظر ہٹے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ یعنی خوف وحیرت کے سبب سر اوپر اٹھائے ہوئے بےتحاشا دوڑ رہے ہوں گے (آیت) لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۚ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ ان کی پلکیں نہ جھپکیں گی وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ ان کے دل خالی بدحواس ہوں گے۔
یہ حالات بیان کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ اپنی قوم کو اس دن کے عذاب سے ڈرائیے جس میں ظالم اور مجرم لوگ مجبور ہو کر پکاریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں کچھ اور مہلت دیدیجئے یعنی پھر دنیا میں چند روز کے لئے بھیج دیجئے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کرلیں اور آپ کے رسولوں کا اتباع کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرسکیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙنُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۭ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ۔
یعنی آج یہ تمہاری بات نہیں سنتے تو نہ سنیں انہیں اس دن سے آگاہ کردو جس دن ان پر عذاب آدھمکے گا اور یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے لوگ اس وقت فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ہم تیری دعوت بھی قبول کرلیں گے اور تیرے رسولوں کی پیروی بھی کریں گے لیکن اس وقت توبہ اور اصلاح کا وقت گزر چکا ہوگا۔ ان کو جواب دے دیا جائے گا کہ کیوں اب…
Read the full tafseer →44۔ 1 یعنی دنیا میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ کوئی حساب کتاب اور جنت دوزخ نہیں، دوبارہ کسے زندہ ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
30: یعنی جو ہولناک انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اس کی وجہ سے وہ ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور پلک جھپکانے کی جو صلاحیت دنیا میں تھی وہ ان کے پاس اس وقت واپس نہیں آئے گی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
آیت نمبر 44 تا 45
اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔
اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔
اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر…
Read the full tafseer →9 یا تو قیامت کا دن اور عذاب اخروی مراد ہے یا موت کا وقت اور اس کے سکرات و قبض روح کی شدت یا دنیاوی عذاب سے ہلاک ہونے کا دن ارادہ کیا جائے۔
10 اگر یہ کہنا دنیا میں عذاب یا موت کی شدت دیکھ کر ہو تب تو مطلب ظاہر ہے کہ ابھی چند روز کی ہم کو اور مہلت دیجئے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ اپنا رویہ درست کرلیں گے۔ یعنی حق کی دعوت کو قبول کر کے انبیاء کی پیروی اختیار کریں گے کما قال تعالیٰ (حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ 99 ۙ لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا) 23 ۔ المومنون :100-99) اور اگر ان کا یہ مقولہ قیامت کے دن ہوگا۔ تب مہلت طلب کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم کو دوبارہ…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ
کہ ہمارا اقتدار ہماری یہ شان و شوکت ہماری یہ جاگیریں یہ سب کچھ ہماری بڑی سوچی سمجھی منصوبہ بندیوں کا نتیجہ ہے انہیں کہاں سے زوال آئے گا !
Read the full tafseer →43 اس دن سے مراد یا تو ان کی موت کا دن ہے اور اس معنی کی تائید سورة مومنون کی آیت نمبر 100 سے ہوتی ہے اور یا آخرت کا دن ہے اور اس معنی کی تائید سورة السجدہ کی آیت نمبر 12 سے ہوتی ہے۔ نیز اس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی تباہ کرنے والا عذاب مراد لیا جاسکتا ہے۔
44 قریش کا قسم کھانا کہ انھیں کبھی زوال نہیں آئے گا :۔ یعنی زبان حال سے یا قال سے گویا انھیں اس بات کا دل میں اس قدر پختہ یقین تھا جیسے کوئی قسم کھا کر وثوق سے کہتا ہے اور وہ یہ بات تھی کہ ہماری اس شان و شوکت کو کبھی زوال نہیں آسکتا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ صورت حال سامنے لائیے کہ ابتدائے اسلام میں ایک طرف تو رؤسائے قریش تھے جنہیں کعبہ…
Read the full tafseer →72۔ حشر میں جب انکشاف حقائق درجہ تام میں ہوجائے گا اور غفلت کے پردے ہر طرح چاک ہوجائیں گے، بدنصیب کافر عرض کریں گے کہ اب ہم نے خوب مزہ چکھ لیا اب ایک بار پھر ہمیں مہلت حیات عطا ہو کہ ہم دنیا میں جا کر از سرنوزندگی بسر کریں اور اب کی اپنی پوری فرماں برداری اور اطاعت شعاری کا ثبوت دیں۔ (آیت) ” الذین ظلموا “ مراد کفار ہیں۔ اے الکفار (مدارک)
73۔ (اس دنیا میں) ان کے جواب میں ارشاد ہوگا کہ دنیا میں رہنے کی تمہیں مہلت قلیل تو نہیں مدت طویل ملی تھی، پھر تم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا بلکہ تم تو الٹے قسمیں کھا کھا کر بڑے زور اور دعوی کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ یہ حشر ونشر کا قصہ سب ڈھکوسلا ہے وجود جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : مکہ کے کافر جو کچھ کرتے ہیں اس سے تم خدا کو ہرگز غافل نہ سمجھو، وہ تو ان کو عذاب سے اس دن تک کے لئے مہلت دئیے ہوئے ہیں کہ جس دن منظر کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، کہا جاتا ہے شخص بصر فلان، یعنی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جس کو وہ بند نہ کرسکا، حال یہ کہ وہ آسمان کی طرف اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (داعی کی آواز کی طرف) تیزی سے دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (ایک لمحہ کیلئے بھی) ان کی پلک نہ جھپکے گی اور ان کے قلوب ان کے خوف کی وجہ سے عقل سے خالی ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ کافر لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آویگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور…
Read the full tafseer →وانذر الناس یوم یایتھم العذاب اور (اے محمد ! ) لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس دن ان پر عذاب آجائے گا ‘ یعنی قیامت کے دن یا مرنے کے دن سے۔ مرنے کا دن بھی عذاب کا پہلا دن ہوگا۔ یا یہ مراد ہے کہ اس دن سے ڈراؤ جس روز ان کو مکمل تباہ کرنے اور جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والا عذاب دنیا میں ہی آجائے گا۔
فیقول الذین ظلموا پس ظالم یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک اور تکذیب رسول ﷺ کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ‘ کہیں گے :
ربنا اخرجنا اے ہمارے رب ! ہم کو (دنیا میں) مہلت دے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم کو دنیا میں لوٹا دے اور عذاب کو پیچھے کر دے۔
الی اجل قریب تھوڑی مدت کے لئے اور اتنی مدت ہم کو وہاں باقی رکھ کہ ہم تجھ پر ایمان لے…
Read the full tafseer →(44) آپ مکہ والوں کو قرآن کریم کے ذریعے سے اس دن سے ڈرائیے جس دن ان پر عذاب آپڑے گا اور وہ بدر کا دن ہے یا قیامت کا دن ہے تو پھر یہ مشرک کہیں گے، ہمارے پروردگار دنیا کے برابر ایک مدت اور ہم کو مہلت دے دیجیے، ہم توحید کے قائل ہوجائیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے اس سے قبل دنیا میں قسمیں نہیں کھائی تھیں کہ تمہیں دنیا سے کہیں جانا ہی نہیں اور حیات بعد الموت کچھ نہیں۔
Read the full tafseer →وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙنُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۭ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ 44 ۙ۔۔ : یعنی لوگوں کو اس دن سے ڈرایے۔ لوگوں سے مراد تمام لوگ ہیں، کیونکہ ڈرانے کی ضرورت تو نیک و بد ہر شخص کو ہے۔ اگرچہ اہل ایمان کی جزا کا بھی وہی دن ہے مگر یہاں مقام ڈرانے کا ہے، اس لیے اسی کا ذکر فرمایا، یا ”النَّاسَ“ سے خصوصاً کفار مراد ہیں۔ عذاب کا دن ظالموں کے لیے دنیا میں کسی وقت اور کسی صورت میں ہوسکتا ہے، موت کا وقت بھی مراد ہے اور قیامت کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 44
قولہ تعالیٰ : وانذر الناس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اہل مکہ مراد ہیں۔ یوم یاتیھم العذاب وہ قیامت کا دن ہوگا، یعنی انہیں اس دن سے ڈرائیے۔ انہیں صرف عذاب کے دن کے ساتھ مخصوص فرمایا حالانکہ وہ ثواب کا دن بھی ہوگا کیونکہ کلام گناہگار اور نافرمان کے لیے دھمکی اور تہدید کے طور پر ہے۔ فیقول الذین ظلموا یعنی اس دن کہیں گے ربنا اخرنا یعنی ہمیں مہلت دے۔ انی اجل قریب جب آخرت میں حق ظاہر ہوگا تو وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا میں لوٹنے کا سوال کریں گے۔ نجب دعوتک یعنی تیری دعوت اسلام پر لبیک کہیں گے۔ ونتبع الرسل اور ہم رسولوں کی پیروی کریں گے، تو انہیں جواب دیا جائے گا اولم تکونوا اقسمتم من قبل، من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ سے مراد ہے کہ ان کو دنیا میں ڈرائیے پہلے اس سے کہ ان کے پاس عذاب آجائے۔
2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ یعنی قیامت کے دن (آیت ) ” فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب “ یعنی وہ مدت کہ اس دنیا میں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ (جیسے) اللہ تعالیٰ یہ قول ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ (النخل آیت 38) (وہ قسم کیا تھی) کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی دنیا سے آخرت کی…
Read the full tafseer →[وَانذِرِ : اور آپ ﷺ خبردار کریں ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [يَوْمَ : ایسے دن سے جب ] [ يَاْتِيْهِمُ : پہنچے گا ان کو ] [الْعَذَابُ : عذاب ] [ فَيَقُوْلُ : پھر کہیں گے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [اَخِّرْنَآ : تو مہلت دے ہم کو ] [اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ : ایک قریبی مدت تک ] [نُّجب : تو ہم قبول کریں گے ] [دَعْوَتَكَ : تیری دعوت کو ] [ وَنَتَّبِعِ : اور ہم پیروی کریں گے ] [ الرُّسُلَ : رسولوں کی ] [اَوَ : تو کیا ] [لَمْ تَكُوْنُوْٓا : تم لوگ نہیں تھے ] [ اَقْسَمْتم : (کہ) تم لوگوں نے قسم کھائی ] [مِّنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [مَا لَكُمْ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
قیامت کے دن کا ایک منظر، عذاب آنے پر ظالموں کا درخواست کرنا کہ مہلت دیدی جائے
قرآن مجید نازل ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ سناتے تھے توحید کی دعوت دیتے تھے لیکن مشرکین مکہ عناد و تکذیب سے باز نہ آتے تھے اور اپنے احوال اور اموال میں مست تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری طور پر عذاب نہ آنے کی وجہ سے یوں کہتے تھے کہ اگر ہم اللہ کے نزدیک مجرم ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ ان کی اس جاہلانہ بات سے دوسرے لوگوں کے متاثر ہونے کا بھی احتمال تھی اللہ جل شانہٗ نے فرما دیا کہ آپ یہ خیال نہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے غافل ہے اسے سب خبر ہے ان کے حال اور انکار و تکذیب کا علم ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت
قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ…
Read the full tafseer →41:۔ عذاب سے دنیوی عذاب مراد ہے بقرینہ ” اَخِّرْنَا اِلٰی اَجَلٍ الخ “ ان معاندین کو اس دن سے ڈرائیے جو تمام اقوام معاندہ پر آیا ہے جب ان پر اللہ کا عذاب آجاتا تو وہ گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگتے ہمارے پروردگار ! ہمیں تھوڑی سی مہلت ہی دیدے اب ہم تیری توحید کو مانیں گے اور تیرے پیغمبروں کا اتباع کریں گے ” اَوَلَمْ تَکُوْنُوْا الخ “ ان کو جواب دیا جاتا کیا تم قسمیں کھا کھا کر نہیں کہا کرتے تھے کہ ہم پر عذاب آئے گا ہی نہیں زوال سے مراد عذاب ہے یا زوال سے مراد موت ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم بیک وقت تمام نہ مریں گے بلکہ باری باری مریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
(ربط آیات)
پہلے قرآن کریم کی حقانیت اور قیامت کا ذکر ہوا ، پھر رسالت اور توحید کا بیان آیا ، اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ وعرب پر ہونے والی خاص نعمتوں کا تذکرہ کیا اور اس ضمن میں شرک اور ان کی بدعقیدگی کا ذکر کیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر کیا جن میں توحید کی ترغیب اور شرک سے بیزاری کا سبق ملتا ہے ، ادھر انعامات الہی کے حصول پر اس کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے اور کفر وشرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں ، لہذا اس سے بچنا چاہئے ، پھر اللہ نے قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا اور پھر اس…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙنُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۭ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ 44ۙ
نذر
وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14]
والنَّذِيرُ :
المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذر
الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ترکیب : غافلاً تحسبن کا مفعول ثانی تشخص جملہ یوم کی صفت مہطعین حال ہے ابصار سے لان المراد صاحب الابصار۔ مقنعین بھی حال ہے ن کو اضافت سے ساقط کردیا لایرتد حال ہے ضمیر مقنعین سے وافئدتہم جملہ حال ہے یوم مفعول ثانی ہے انذر کا۔ ای انذرھم عذاب یوم الخ تبین کا فاعل حالھم محذوف کیف موضع نصب میں ہے فعلنا کی وجہ سے۔
تفسیر : مکہ کے کفار کو جو وہ دعائِ ابراہیم (علیہ السلام) کی وجہ سے امن میں رہ کر مغرور تھے یہ سناتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لینا کہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے بیخبر ہے ان کو سزا نہ دے گا سزا تو ابھی دیتا مگر اپنی مصلحت سے اس دن کے لئے چھوڑ رکھا ہے کہ جس میں قبروں سے نکل کر موقف کی طرف…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرِالنَّاسَ یَوْمَ یَاتِیْہِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ لا نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ط اَوَلَمْ تَکُوْنُـْوٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَالَکُمْ مِّنْ زَوَالٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 44)
(اور خبردار کیجئے لوگوں کو اس دن سے جس دن ان پر عذاب آدھمکے گا تو یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت قبول کرلیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے… کیا تم اس سے پہلے قسمیں نہیں اٹھایا کرتے تھے کہ تمہیں یہاں سے کہیں جانا نہیں۔ )
آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آج یہ کفار…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کی ہو لناکیاں بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ قیامت کا انکار کرنے والوں کو ڈرائیں اور اس کی حقیقت بتلائیں۔
دنیا پرستی میں مبتلا ہونے والے لوگ آخرت کو اس قدربھول جاتے ہیں کہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا اور انسان کو محض کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر دنیا کھیل تماشا ہوتی تو ہم یہ تماشا اپنے پاس کرتے۔ (الانبیاء : 16۔ 17)
یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے انسان جو کچھ بوئے گا مرنے کے بعد وہی کچھ اپنے سامنے پائے گا۔ اس حقیقت کے باوجود دنیا پرست لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے لیے اتنے بوسیدہ دلائل…
Read the full tafseer →44: وَاَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْ تِیْہِمُ الْعَذَابُ ( اور تم لوگوں کو اس دن سے ڈرائو جس دن ان پر عذاب آئے گا) قیامت کا دن مراد ہے فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (پس ظالم کہہ اٹھیں گے) ظالم سے کفار مراد ہیں۔ رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ (اے ہمارے رب تو ہمیں قریب مدت تک مؤخر کر دے ہم تیری دعوت کو قبول کریں گے۔ اور تیرے رسولوں کی اتباع کریں گے) یعنی ہمیں دنیا کی طرف واپس کر دے۔ ہمیں ایک مدت کی مہلت دے اور ایک زمانہ کی ایک قریبی حدتک تاکہ جو زیادتیاں ہم کرچکے اس کا تدارک کرلیں۔ اور تیری دعوت کو قبول کر کے رسولوں کی اتباع کرلیں اس پر…
Read the full tafseer →44۔” وانذر الناس “ ان کو ڈرایئے ” یوم “ اس دن سے ” یاتیھم العذاب ‘ ‘ قیامت سے ” فیقول الذین ظلموا “ اس سے مراد شرک ہے۔” ربنا اخرنا “ ہمیں مہلت عطا کر ۔ ” الی اجل قریب “ ان کے سوال کی تردید کر رہے ہیں کہ وہ کہیں گے ہم کو دنیا کی طرف واپس لوٹا دے ہم تیری طرف رجوع کرلیں گے۔ ’ ’ نجب دعوتک ونتبع الرسل “ وہ جواب دیں گے تا کہ ہم تیری دعوت کو قبول کریں اور رسولوں کی اتباع کریں۔ ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ کہ کیا تم نے دنیا میں قسمیں کھا کر نہیں کہا تھا کہ ہم ہمیشہ یہاں رہیں گے۔” مالکم من زوال “ یعنی تم کو دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ” واقسموا باللہ جھد ایمانھم لا یبعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44۔ 46۔ اس آیت میں حضرت ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ تم لوگوں کو یہ ڈر سنا دو کہ قیامت میں جب عذاب ہوگا اس وقت یہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے اور راہ حق پر نہیں آئے یہ کہیں گے کہ اے خدا اک ذرا ہمیں مہلت دے دے تو ہم تیرے حکم کو قبول کرلیں اور رسول پر ایمان لے آئیں۔ اس کے جواب میں اللہ پاک ان سے کہے گا کہ کیا تم نے دنیا میں قسم کھا کر یہ بات نہیں کہی تھی کہ آخرت کوئی چیز نہیں ہے مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا کیسا ہمیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کوئی جزا و سزا نہیں ہے اور کیا تم ایسی سرزمین میں نہیں رہتے تھے جہاں تم سے پہلے منکرین حشر گزر چکے تھے اور انہیں باتوں پر ان کا انجام کیا ہوا کس طرح ان پر عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44-45: اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجئے اور انہیں برے اعمال سے ڈرائیے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انہیں شدائد میں آپکڑے گا۔ (فیقول الذین ظلموا) ” تب ظالم لوگ کہیں گے “ یعنی جنہوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہو کر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہوگا۔ (ربنا اخرنا الی اجل قریب) ” اے ہمارے رب ! مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک “ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہوچکی ہے (نجب دعوتک) ” کہ ہم قبول کرلیں تیری دعوت کو “ اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
88۔ لوگوں کے انذار کا حکم وارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کرتے رہوتم لوگوں کو اس دن سے جس دن کو پہنچ کررہے گا ان پر وہ عذاب جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے اور جس جیسا دوسرا کوئی عذاب نہیں ہوگا، اس سے ان لوگوں کو خبردار کرتے رہو، تاکہ یہ اس سے بچنے کی فکروکوشش کریں، قبل اس سے کہ عمررواں کی یہ فرصت محدود ومعدود تمام ہوجائے، اور اس کا موقع ہاتھ سے نکل جائے، کہ پھر اس کے ملنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ۔ اور جن لوگوں نے اس دن اور اس میں آنے والے اس عذاب سے بےفکر و لاپرواہ ہوکر زندگی گزاری ہوگی، تو وہ ایسے ہولناک خسارے میں پڑجائیں گے، جس کی تلافی کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، سو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
قیامت کا منظر اور مجرموں کا انجام
تشریح : یہ ایک سچی اور پکی حقیقت ہے اور بہت بڑا راز ہے جو قرآن پاک کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے اور قرآن پاک حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ کوئی شخص یہ کہہ کر بری نہ کیا جائے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہ چلا کہ توحید کیا ہے آخرت کیا ہے ؟ کیونکہ توحید کی تعلیم اور آخرت کی خبر ہر زمانے میں شروع دنیا سے ہی رسولوں کے ذریعہ دی جاتی رہی ہے۔ ہر زمانے کی عقل و فہم کے مطابق لوگوں کو تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ آخری زمانہ میں جب کہ لوگوں کی عقل و فہم نسبتاً مضبوط اور معقول ہوچکی تھی تو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کو ہادی اور رہبر انسانیت بنا کر بھیجا گیا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں آخر ان کا وقت بھی تو بسر ہو رہا ہے پھر اطاعت کرنے یا اطاعت کی توفیق طلب کرنے کی کیا ضرورت بلکہ یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ظلم میں مبتلا ہیں اللہ جل جلالہ ان کے حال سے بھی خوب واقف ہے ، انہیں صرف چند روزہ زندگی کی مہلت نصیب ہے جو اطاعت کے لیے بخشی گئی مگر وہ نافرمانی پہ ضائع کر رہے ہیں انہیں تب خبر ہوگی جب قیامت کا دن آجائے گا جو اتنا ہیبت ناک ہوگا کہ کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی ، پلکیں تک جھپکنے سے رک جائیں گی اور سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے حساب کتاب کی طرف جبکہ حیرت اور خوف سے آنکھ تک نہ جھپک سکیں گے…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یعنی ہماری دولت اور حکومت ہمیشہ رہنے والی ہے یا مرنے کے بعد دوسری زندگی نہیں ہے اور دنیا سے مرنے کے عبد مجازاۃ نہیں ہوگی۔ (رازی) ۔
Read the full tafseer →(14:44) انذر۔ امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ (اے محمد ﷺ ) تو ڈرا۔ انذار (افعال) سے مصدر۔
یوم۔ مفعول ثانی۔ الناس۔ مفعول اوّل انذر کا۔ تو ڈرا لوگوں کو اس دن سے۔
اخرنا۔ امر واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ تو ہم کو مہلت دے۔ تاخیر (تفعیل) سے۔
اجل قریب۔ مدت قلیل اجل مدت مقررہ۔
نجب۔ اجاب یجیب اجابۃ سے مضارع مجزوم جمع متکلم۔ ہم قبول کرلیں گے۔ جواب دعا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔
نتبع۔ مضارع مجزوم جمع متکلم۔ اتباع (افتعال) سے ہم اتباع کریں گے۔ ہم پیروی کریں گے۔ جواب دعا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔
اولم تکونوا اقسمتم من قبل۔ کیا تم اس سے پہلے قسمیں نہیں اٹھایا کرتے تھے۔ من قبل۔ قبل۔ بعد کی ضد ہے۔ بغیر اضافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47
لاتحسبن تم ہرگز گمان نہ کرنا۔ غافل بیخبر ۔ یعمل عمل کرتا ہے۔ یوخر وہ مہلت دیتا ہے۔ تشخص کھلی رہے گی، پتھرا جائے گی۔ الابصار آنکھیں۔ مھطعین دوڑتے ہوئے۔ مقنعی اوپر اٹھائے ہوئے۔ رء وس (راس) ۔ سر لایرتد نہ پلٹے گی۔ طرف آنکھیں۔ ھواء اڑا اڑا ہونا۔ انذر ڈرا۔ اخرنا ہمیں مہلت دے دے۔ نجب ہم جواب دیں گے۔ نتبع ہم پیروی کریں گے۔ پیچھے چلیں گے اقسمتم تم نے قسم کھائی۔ زوال زوال، اترنا۔ سکنتم تم آباد ہوئے۔ مسکن گھر۔ تبین واضح ہے۔ کھل گیا۔ کیف فعلنا ہم نے کیا کیا۔ ضربنا ہم نے بیان کردیا۔ مکروا انہوں نے چال چلی۔ لتزول تاکہ ٹل جائے۔ ہل جئاے الجبال (جبل) ۔ پہاڑ مختلف خلاف کرنے والا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
رسول اللہ ﷺ کے احکام پہار کی مثال ہیں
اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے محبوب ﷺ کفار قریش کو ڈراؤ اس دن سے کہ جس دن ان پر عذاب آوے گا اس روز کافر کہیں گے : اے پروردگار ! ہمٰں تھوری سی مہلت دے۔ ہم تیرے حکم کو قبول کریں گے اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں گے۔ جواب میں فرشتے کہیں گے کہ : تم وہی لوگ ہو کہ دنیا میں مبالغہ کی وجہ سے قسم کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہمیں کبھی کچھ زوال نہ ہوگا یعنی آخرت کے منکر تھے اور تماشا یہ ہے کہ تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے تھے کہ جو تم سے پہلے منکرین حشر، تکذیب انبیاء کرکے ہلاک ہوچکے تھے۔ یہ تم کو خوب معلوم تھا کہ ہمارا عذاب ان پر نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
[23] یعنی روساء مکہ کے کاموں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
اخلاص کی پکار :
(ف 1)
دعاء کا بقیہ حصہ یہ ہے ، کہ اللہ اپنا نیاز مند بنائیو ، رکوع و سجود کی توفیق دیجؤ، مجھے اور میرے والدین کو اپنے آغوش رحمت میں جگہ دیجؤ،
مخلص دل سے نکلی ہوئی یہ دعا قبول ہوئی ، آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کی وہی شان ہے زائرین کا ہر وقت تانتا لگا ہوا ہے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بالخصوص ہر سال زیارت کعبہ کے لئے جاتے ہیں ، ” حوللیہ من کل فج عمیق “۔ روزی کی ہر چیز فراوانی کے ساتھ موجود ہے ، غور فرمائیے ایک غیر معروف شخص ایک لق ودق صحرا میں ایک معبد تعمیر کرتا ہے ، اخلاص اور قوت روحانی کا یہ اثر ہے کہ دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں ،…
Read the full tafseer →44 ۔ اور اے پیغمبر آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرایئے جس دن ان پر عذاب آجائے گا تب یہ ظالم لوگ یوں کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو تھوڑی سی مدت تک کے لئے اور مہلت دے دے تو اب کی دفعہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں گے اور تیرا سب کہنا مان لیں گے اور پیروی کریں گے۔
جواب دیا جائے گا کیا تم اس سے پہلے دنیا میں جب تم کو مہلت ملی ہوئی تھی قسمیں کھاکھا کر یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ تم کو دنیا سے کہیں جانا ہی نہیں ہے۔ یعنی مرتے وقت یا قیامت میں کہیں گے ۔ مرتے وقت کا مطلب یہ ہوگا کہ اور زندہ رکھ تو سب کام چھوڑ کر ایمان لے آئوں گا اور نیک اعمال کروں گا اور قیامت میں کہنے کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم کو پھر دنیا میں بھیج دے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی قیامت کے منکر تھے اور اس پر قسم کھاتے تھے۔
Read the full tafseer →مجرم عذاب کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے اے اللہ ! ذرا ڈھیل ‘ کہ ہم دعوت کو مان لیں
47 ؎ ان کے حالات کی کیفیات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنی قوم کو اس دن کے عذاب سے ڈرایئے جس میں ظالم اور مجرم لوگ مجبور ہو کر پکاریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کچھ اور مہلت دے دیجئے یعنی دنیا میں دوبارہ چند روز کیلئے بھیج دیجئے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کرلیں اور آپ کے رسولوں کا اتباع کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرسکیں اور یہ مضمون قرآن کریم میں کی ایک بار دہرایا گیا ہے کہ مجرم موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل جہنم ہونے تک بلکہ اس کے بعد بھی بار بار یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
In the second verse (43), it has been said that the postponement of sudden punishment against these unjust people is not any better for them because, ultimately, they will be seized in the great punishment of the Qiyamah and the 'Akhirah which will overtake them all of a sudden. The details of this punishment in the life to come and the horrendous happenings to be experienced there keep appearing right upto the end of the verse:
لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ
A day when the eyes shall remain upraised (in terror).
مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ
They shall be rushing with their heads…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
54. This graphic picture depicts the horrible plight of the wrongdoers on the Day of Reckoning. When they will realize the situation, they will be so taken aback that they will have their looks fixed straight in front of them without seeing anything.
Read the full tafseer →