Al-Hijr 15:1

15. Al-Hijrالحجر

The Rock · Meccan · 99 ayahs · 6 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

15:1

الٓرٰ ۫— تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ ۟الۤرٰ ۚ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡـكِتٰبِ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ

آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Alif, Lam, Ra. These are the verses of the Book and a clear Qur'an.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 1 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:1

ا ل ر یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

الرٰ، یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلے اور روشن قرآن کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

الر۔ یہ (اللہ کی) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ (برگزیدہ) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

الۤرٰ۔ یہ کامل کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ا۔ ل۔ ر یہ اللہ کی کتاب اور اس قرآن کی آیات ہیں جو اپنے احکام واضح طور پر بیان کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ الف، لام، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی آیات ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

الر۔ یہ آیتیں ہیں اس کتاب الٰہی کی اور کھول کر بیان کردینے والے عظیم الشان قرآن کی۔

— مولانا اسحاق مدنی

الف۔ لام۔ را۔ یہ کتاب (کامل) کی اور قرآن واضح کی آیتیں ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

الۗرٰ یہ (اللہ کی) کتاب اور قرآن مبین کی آیات ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

الۗرٰ۔ یہ اللہ کی کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Alif. Lam. Ra'. These are the verses of the Book, and a Clear Qur'an.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Alif, Lam, Ra. These are verses of the Book and the enlightening Qur‘an.

— Muhammad Taqi Usmani

Alif, Lam, Ra. These are verses of the Book and the enlightening Qur‘an.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Alif-Lam-Ra. These are Ayat of the Book and a plain Qur'an.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Alif. Lam. Ra. These are verses of the Scripture and a plain Reading.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Alif, Lam, Ra. These are the verses of the Book and a clear Qur'an.

— Saheeh International

Alif. Lam. Ra. These are the verses of the Book and the glorious Quran.

— Muhammad Sarwar

Alif Lam Ra. These are the verses of the Book and (of) a Quran that makes (things) clear.

— Muhammad Habib Shakir

Alif. Lam. Ra. These are the verses of the Book, and a Qur'an luminous.

— Abdul Majid Daryabadi

A. L. R. These are the Ayats of Revelation,- of a Qur'an that makes things clear.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سورتوں کے اول جو حروف مقطعہ آئے ہیں ان کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ آیت میں قرآن کی آیتوں کے واضح اور ہر شخص کی سمجھ میں آنے کے قابل ہونے کا بیان فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الْحِجْر 1 یہ اس سورة کی مختصر تعارفی تمہید ہے جس کے بعد فورا ہی اصل موضوع پر خطبہ شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن کے لیے ”مبین“ کا لفظ صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیات اس قرآن کی ہیں جو اپنا مُدّعا صاف صاف ظاہر کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک کامل کتاب کی اور قرآن واضح کی (یعنی اس کی دونوں صفتیں ہیں کامل کتاب ہونا بھی اور قرآن واضح ہونا بھی ان کلمات سے قرآن کا کلام حق ہونا واضح کرنے کے بعد ان لوگوں کو حسرت اور عذاب کا بیان ہے جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے یا اس کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے فرمایا رُبَمَا يَوَدُّ یعنی جب قیامت نے حشر ونشر کے میدان میں کافروں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا تو) کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ (یعنی ہم دنیا میں) مسلمان ہوتے (بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت و مصیبت دیکھیں گے تو ہر مرتبہ اپنے اسلام نہ لانے پر حسرت تازہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن اپنی صداقت کی خود دلیل ہے : الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ۔ حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ ہمارے ندیک " الرا، اس سورة کا قرآنی نام ہے اور " تلک " کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ لفظ " الکتاب " پر بھی ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں بحث کرچکے ہیں۔ اس سے مراد وہ خدائی کتاب ہے جس کے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اور جس کی پچھلے نبیوں نے خبر دی تھی۔ قرآن کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلام جو ان کو سنایا جا رہا ہے یہ کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی آیات پر مشتمل ہے۔ یہ اپنی صداقت کی دلیل خود اپنے اندر رکھتا ہے،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 کتاب اور قرآن مبین سے مراد قرآن کریم ہی ہے، جو نبی ﷺ پر نازل ہوا۔ جس طرح (ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ) 5۔ المائدہ :15) میں نور اور کتاب دونوں سے مراد قرآن کریم کی تکریم اور شان کے لئے ہے۔ یعنی قرآن کامل اور نہایت عظمت وشان والا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اس آیت میں قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ صرف کھانے پینے اور دنیا میں مزے اڑانے کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لینا اور اسی کے لیے اس طرح لمبی لمبی خیالی امیدیں باندھتے رہنا جیسے زندگی بس یہی۔ یہ کافروں کا کام ہے مسلمان دنیا میں رہتا ضرور ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے مگر اس دنیا کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بناتا۔ بلکہ اسے آخرت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے جس کا بہترین راستہ شریعت کے احکام کی پابندی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی یہ اس جامع اور عظیم الشان کتاب کی آیتیں ہیں جس کے مقابلہ میں کوئی دوسری کتاب " کتاب " کہلانے کی مستحق نہیں۔ 12 اور اس قرآن کی آیتیں ہیں جس کے اصول نہایت صاف، دلائل روشن، احکام معقول، وجوہ اعجاز واضح اور بیانات شگفتہ اور فیصلہ کن ہیں، لہذا آگے جو کچھ بیان کیا جانے والا ہے مخاطبین کو پوری توجہ سے سننا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آ الۗرٰ حروف مقطعات کا یہ سلسلہ سورة یونس سے شروع ہوا تھا۔ پانچ سورتوں کے آغاز میں الۗرٰ کے حروف ہیں اور ایک سورة الرعد میں ا آمآرٰ۔ یہ اس سلسلہ کی چھٹی اور آخری سورت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 قرآن کیا کچھ واضح کرنے والا ہے ؟ اس کا ایک مطلب اوپر ترجمہ میں مذکور ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن انسان کو تمام تر کیفیات سے آگاہ کرنے والا ہے۔ اس کی پیدائش سے پہلے کے حالات سے بھی، پیدائش سے موت تک کی کیفیات سے بھی اور مرنے کے بعد بھی جو صورت احوال واقع ہونے والی ہے اسے کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ دونوں صفتیں ایک ہی موصوف کی بیان ہوئی ہیں یعنی وہ کتاب کامل بھی ہے اور قرآن واضح بھی۔ (آیت) ” قران “۔ میں تنوین تعظیم کی ہے۔ وتنکیرہ للتفخیم (بیضاوی) والتنکیر للتفخیم (مدارک) وتنکیر القران للتفخیم (کشاف) (آیت) ” ا آر “۔ انا اللہ اری کا مخفف سمجھا گیا ہے حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ا ل ر تلک ایت الکتب وقراٰن مبین ا ل ر : یہ آیتیں ہیں کامل کتاب اور واضح قرآن کی۔ تِلْکَ سے سورت کی آیات کی طرف اشارہ ہے۔ الْکِتَاب سے مراد سورت ہے یا قرآن۔ قراٰنٍ کی تنوین اظہار عظمت کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی کتاب کی آیات ہیں جو کامل کتاب بھی ہے اور عربی قرآن بھی ہے ‘ حلال کو حرام سے جدا کرنے والا اور ہدایت و گمراہی کو کھول کر بیان کردینے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1) میں ایسا اللہ ہوں کہ تمام چیزوں سے باخبر ہوں یا یہ کہ ایک قسم ہے، یہ سورت ایک مکمل کتاب کی آیتیں ہیں اور میں قرآن کریم کی قسم کھاتا ہوں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو بیان کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ :”الْكِتٰبِ“ الف لام کی و جہ سے ”کامل کتاب“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ”الْكِتٰبِ“ اور ”قُرْاٰنٍ“ دونوں مبالغہ کے لیے مصدر ہیں (جن کا معنی ہے لکھنا اور پڑھنا) جو اسم مفعول کے معنی میں ہیں، یعنی یہ اس کلام کی آیات ہیں جو بیشمار بار لکھا ہوا اور بیحد و حساب پڑھا ہوا ہے، فرمایا : (ۙاِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77 ۝ ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ) [ الواقعۃ : 77، 78 ] ”بلاشبہ یہ یقیناً ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے، جو ایک ایسی کتاب میں ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔“ لوح محفوظ میں لکھے جانے اور جبریل ؑ اور نبی کریم ﷺ سے لے کر قیامت تک نہ اس کے لکھنے والوں کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 1 الٓرٰ اس کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ اور الکتب کے بارے میں کہا گیا ہے : بیشک یہ اسم جنس ہے اور کتب سابقہ تورات اور انجیل کو شامل ہے، پھر ان دونوں کو کتاب مبین کے ساتھ ملا دیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الکتاب سے مراد قرآن کریم ہے، اس کیلئے دو اسم جمع کئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الر “ اور الٓم “ شروع کرنے والے (کلمات ہیں) کہ ان کے ذریعہ اس کی کلام کو شروع کیا جاتا ہے ” (آیت ) ” تلک ایت الکتب “ یعنی تورات وانجیل۔ 2ـ:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” الٓر تلک ایت “ یعنی وہ کتابیں جو قرآن سے پہلے تھیں کہ قرآن مبین اور قرآن جو بیان کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ورشد اور خیر کو۔ قولہ تعالیٰ : ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ابو مالک اور ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباسؓ اور مرۃ اور ابن مسعود ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الۗر۔۔] [ تِلْكَ : یہ ] [ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ : اس کتاب کی آیتیں ہیں ] [ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ : اور واضح قرآن کی ] ترکیب : (آیت۔ 1) ۔ اٰیٰتُ مضاف ہے۔ اَلْکِتٰبِ اس کا پہلا مضاف الیہ ہے۔ اور قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ اس کا دوسرا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے حالت جرّ میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حقانیت قرآن کریم الر۔ تلک ایت الکتب و قران مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت کی طرف اس سورت کا آغاز بھی قرآن کریم کی حقانیت سے فرمایا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہے الرا اللہ اعلم بمرادہ یہ آیتیں جن کی محمد رسول اللہ ﷺ تلاوت کرتے ہیں ایک عظیم الشان اور کامل کتاب کی آیتیں ہیں جس کے مقابلہ میں دوسری کتاب۔ کتاب کہلانے کے مستحق نہیں اور اس قرآن کی آیتیں ہیں جو روشن ہے یعنی جس کے اصول اور احکام صاف اور روشن ہیں عقل اور نقل سے ثابت ہیں اور اس کا اعجاز واضح ہے یا وہ قرآن حق اور باطل کو بیان کرنے والا ہے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ اس کتاب کو توجہ سے سنیں اور اس پر ایمان لائیں ایسا نہ ہو کہ پہلی امتوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ یہ اصل مقصد کے لیے توطئہ و تمہید ہے اور اس میں ترغیب دلائی گئی ہے کہ اس سورت میں جو بیان ہوگا وہ معمولی باتیں نہیں ہوں گی، وہ بہت ضوری اور اہم ہوں گی اس لیے ان کو غور سے سننا۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا جس سورت کی ابتداء میں ” تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتَابِ “ وارد ہو وہاں الکتاب بمعنی المکتوب سے وہ سورت مراد ہوگی یا قرآن اور اگر یہ الفاظ کسی سورت کے درمیان آجائیں تو اس سے بقرینہ مقام تورات و انجیل یا دیگر کتب سماویہ یا قرآن مراد ہوگا۔ قاعدہ تو یہی ہے لیکن سورة حجر کی ابتداء میں الکتاب کے ساتھ لفظ قرآن بھی آیا ہے اس لیے الکتاب سے تورات و انجیل مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کے بعض بیانات پہلی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

(نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة الحجر ہے ، حجر ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور شام کے درمیان تبوک کے قریب واقع ہے ، ہزاروں سال پہلے ثمود جیسی متمدن قوم اس وادی میں آباد تھی یہاں پر ان کے سترہ سو بڑے بڑے شہر اور قصبات تھے ، اس سورة کا نام اسی وادی کے نام سے الحجر موسوم ہے ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہوئے ، یہ سورة مبارکہ مکی دور میں نازل ہوئی ، اس کی 99 آیات اور چھ رکوع ہیں ، یہ سورة 654 الفاظ اور 2770 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) سابقہ مکی سورتوں کی مانند اس سورة مبارکہ میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد قرآن پاک کی حقانیت ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ ۝ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ قرآن کی سب باتیں عقل سلیم کے نزدیک واضح اور کھلی ہیں کوئی بات بھی ایسی نہیں کہ جس کو خلاف عقل محض اعتقاداً ماننے پر مجبور کیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ الحجر : 1) (ال ر … یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی۔ ) الٓرٰ… حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس پر ہم کسی حد تک تفصیل سے سورة البقرہ کے آغاز میں عرض کرچکے ہیں۔ اس لیے اب اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ آیت کریمہ اس سورت کی مختصر تمہید ہے جس کے فوراً بعد اصل خطبہ شروع ہوگیا ہے۔ اس تمہید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس سورت کی آیات جو تمہارے سامنے ہیں یہ الکتاب کی آیات ہیں، یعنی اس کتاب کی جس کا پہلی کتابوں میں پروردگار نے وعدہ فرمایا تھا کہ انسانی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مفصل کتاب نازل فرمائیں گے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن الم۔ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ جن کے بارے میں پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ان کا حقیقی علم اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ جن سورتوں کے شروع میں مقطعات لائے گئے ہیں اس میں کیا حکمت پنہاں ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جن سورتوں کی ابتداء حروف مقطعات سے کی ہے۔ اس میں کوئی خاص حکمت مضمر ہے۔ جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سورة الحجر کی ابتدا بھی حروف مقطعات سے ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ کتاب الٰہی ہے جس کا نام قرآن مجید ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو اپنے احکام بالکل واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عظمت قرآن : 1: الٓرٰ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْٰانٍ مُّبِیْنٍ الٓرٰ (یہ آیات ہیں کامل کتاب اور واضح قرآن کی ) ۔ تلکؔ سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو اس سورت میں ہیں۔ الکتاب اور قرآن مبین سے سورت مراد ہے۔ قرآنؔ کو نکرہ بطور تفخیم ِشان کے ذکر کیا ہے۔ معنی یہ ہے یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو کتاب ہونے میں کامل ہے اور قرآن مبین کی آیات ہیں۔ گویا اسطرح فرمایا۔ الکتاب الجامع للکمال و للغرابۃ فی البیان۔ ایسی کتاب جو کمال اور غرابت فی البیان کو جمع کرنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 1۔۔۔۔۔۔” الر “ اس کا معنی ہے کہ میں اللہ ہوں اور دیکھنے والا ہوں۔” تلک آیات الکتاب “ یہ اس کتاب کی واضح نشانیاں ہیں ۔ ” وقرآن “ قرآن کی نشانیاں ہیں ۔ ” مبین “ حلال و حرام اور حق و باطل کے درمیان واضح دلائل اور نشانیاں موجود ہیں۔ ایک شبہ کا ازالہ سوال یہ ہے کہ پہلے کتاب کا ذکر کر کے پھر دوبارہ قرآن مبین کہنے کا کیا مطلب ہے ؟ دونوں کا معنی تو ایک ہی ہے ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ ہر ایک کا ذکر علیحدہ فائدے کے لیے ہے کیونکہ کتاب کہا جاتا ہے جو اس کے اندر لکھا جائے اور قرآن کہتے ہیں بعض اشیاء کا جمع کرنا ۔ بعض نے جواب دیا کہ کتاب سے مراد توریت و انجیل ہے اور قرآن سے مراد یہ کتاب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

1۔ الٓر حروف مقطعات میں سے ہے جن کا ذکر سورة بقرہ میں ہوچکا ہے کہ اس کے معنے سوائے خدا کے کسی کو نہیں معلوم اور جس طرح تمام سورتوں میں جو حروف مقطعات سے شروع ہوئی ہیں قرآن کی عظمت بیان فرمائی ہے اسی طرح اس سورت میں بھی حروف مقطعات کے بعد فرمایا کہ یہ سورت قرآن مجید کی آیتوں میں سے تھوڑی سی آیتیں ہیں اور پھر قرآن کی صفت بیان فرمائی کہ اس سے حق بات ناحق بات سے صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریف ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کے سبب سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1۔ قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ آیتیں ہیں اس کتاب حکیم کی یعنی یہ اس طرح کے جملے اور فقرے نہیں جو عام لوگوں کے کلام اور ان کی گفتگو میں پائے جاتے ہیں بلکہ ان میں سے ایک ایک ٹکڑا اور حصہ ایک آیت اور نشانی ہے ایسے عظیم الشان معانی اور حقائق کی جو انقلاب آفرین ہیں، اور جن سے ا نسانی زندگی اور معاشرے کے دھارے بدل جاتے ہیں۔ سو ان آیات کریمات کو اسی اعتبار سے دیکھا اور پڑھا جائے، سو یہ اس عظیم الشان کتاب حکیم کی آیتیں ہیں جو کہ اللہ کے رسول، ﷺ پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں لوگوں کو، سو یہ کلام حکیم کوئی عام کلام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس کے حصے کوئی عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ۔ الکتاب یعنی وہ عظیم الشان کتاب جس کے علاوہ کوئی کتاب ” الکتاب “ کہلانے کی مستحق نہیں اور قرآن مبین یعنی وہ قرآن جس کا مدعا نہایت واضح اور صاف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:1) تلک۔ اشارہ ہے ان آیات کی طرف جو اس سورة میں ہیں۔ الکتب۔ مکمل کتاب۔ ایسی کتاب جو اپنی افادیت اور جامعیت کے اعتبار سے صحیح معنوں میں کتاب کہلانے کی مستحق ہے۔ قران۔ کی تنکیر تعظیم کے لئے ہے۔ ایت قران۔ یہ آیات الکتاب کی ہیں اور قرآن مبین کی ۔ مبین۔ صفت ہے قرآن کی۔ یعنی وہ قرآن جو اپنا مدعا صاف صاف ظاہر کرتا ہے جو الرشد اور الغی کو مبین (واضح) طور پر بیان کرتا ہے۔ فارق بین الحق والباطل والحلال والحرام۔ جو حق اور باطل اور حلال و حرام میں فرق بیان کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5 تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ مبین کھلا، واضح، روشن۔ ربما کبھی کبھی۔ اکثر ۔ یود پسند ہوگا۔ لو اگر، کاش۔ مسلمین فرماں بردار۔ گردن جھکانے والے۔ ذر چھوڑ دے۔ یا کلون وہ کھائیں گے۔ یتمتعوا وہ فائدہ حاصل کریں گے۔ یلھھم (الھاء لھو) ، دل لگانا، غافل ہونا الامل امید، آزاد۔ سوف جلد، عنقریب۔ اھلکنا ہم نے ہلاک کیا۔ برباد کیا۔ قریۃ بستی۔ شہر کتاب لکھا ہوا۔ معلوم مقرر۔ ماتسبق آگے نہیں بڑھتی۔ امۃ جماعت، گروہ ۔ اجل مدت، موت۔ یستاخرون وہ دیر کرتے ہیں۔ پیچھے ہٹتے ہیں۔ تشریح آیت نمبر : 1 تا 5 مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی منکرین توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہ لانے والوں کا بھیانک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

الرا۔ مقطعات حروف میں سے ہے جن کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اس میں قرآن کی عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔ اسی طرح اس سورت میں بھی حروف مقطعات کے بعد فرمایا کہ یہ سورة قرآن مجید کی آیتوں سے تھوڑی سی آیتیں ہیں، اور پھر قرآن کی صفت بیان فرمائی کہ اس سے حق اور ناحق بات صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا دیگر معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریک ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کے سبب سے مجھے امدی ہے کہ قیامت کے دن میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد دوسری امتوں کے نیک لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی۔ یہ حدیث و قرآن مبین کی گویا تفسیر ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 ۔ الر قف یہ سورت ایک کامل کتاب اور قرآن واضح کی آیتیں ہیں ۔ قرآن کریم واضح فرمایا کتاب کو یعنی اس کے مسائل اور دلائل اور اس کا طرز بیان نہایت صاف اور واضح ہے اور جو کتاب کامل ہے اسی کا نام قرآن مبین ہے۔ ایک ہی چیز کی دو صفتیں ہیں کتاب کامل ہونا اور قرآن مبین ہونا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ خلاصہ اس سورت کا یہ مضامین ہیں حقیقت قرآن، تعذیب کفار، تحقیق رسالت، اثبات توحید، ذکر بعض انعامات جزائے مطیعین، سزائے مخالفین، بعضے قصص بطور نمونہ جزا و سزا، حقیقت قیامت، تسلیہ رسول اللہ ﷺ ۔ 3۔ یعنی اس کو دونوں صفتیں ہیں، کامل کتاب ہونا بھی اور قرآن واضح ہونا بھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کی آیات کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ 1۔ الف ۔۔۔۔ لام ۔۔۔۔۔۔ م ۔۔۔۔۔۔۔ را۔۔۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہیں اور یہ حروف قرآن کریم کی انتیس سورتوں کے شروع میں بیان ہوئے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان سورتوں کے مضامین خاص کر اہم ہیں لہذا ان کو پوری توجہ سے دل لگا کر سن لو اور انکے احکام کے مطابق عمل کرو اس میں تمہارا فائدہ ہے ، فرمایا یہی وہ کتاب ہے جو صحیح معنوں میں کتاب کہلانے کی مستحق ہے جو اپنی افادیت اور جامعت کے اعتبار سے نہایت پختہ ہے اور اس کے مضامین ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو گہرائی میں جا کر دیکھے تو انسانی زندگی کیلئے سنہری اصول ہیں جو اس سورت میں بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1. This verse is the brief introduction to the Surah, and immediately after this begins its theme.“These are the verses of the Book and a clear Quran”: These are the verses of that Quran which makes its meaning lucid and understandable.

Read the full tafseer →