Al-Hijr 15:2

Al-Hijr · from ayah 2

15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ۟رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ كَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ‏

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Perhaps those who disbelieve will wish that they had been Muslims.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:2

بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آ جائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کر دیا ہے پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بہت آرزوئیں کریں گے کافر کاش مسلمان ہوتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کفار (آخرت میں مومنوں پر اللہ کی رحمت کے مناظر دیکھ کر) بار بار آرزو کریں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کسی وقت چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش ! وہ مسلم ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایک وقت آئے گا جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ وقت آئیں گے جب یہ لوگ، جنہوں کفر کیا ہے تمنا کریں گے کہ کاش ہم مسلم بنے ہوتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کافر لوگ رہ رہ کر پچھتائیں گے، کہ کاش ہم مسلمان ہوتے،

— مولانا اسحاق مدنی

کافر بار بار تمنا کریں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ایک وقت خواہش کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا کہ کاش وہ مسلمان ہوتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کسی وقت کفار یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Soon will the time come when the unbelievers will wish they were Muslims.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

On many occasions, the disbelievers will wish that they were Muslims.

— Muhammad Taqi Usmani

On many occasions, the disbelievers will wish that they were Muslims.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

How much would those who disbelieved wish that they had been Muslims.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It may be that those who disbelieve wish ardently that they were Muslims.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Perhaps those who disbelieve will wish that they had been Muslims.

— Saheeh International

How strongly the unbelievers will wish that they had been Muslims.

— Muhammad Sarwar

Often will those who disbelieve wish that they had been Muslims.

— Muhammad Habib Shakir

Oft times would those who disbelieve fain that they had been Muslims.

— Abdul Majid Daryabadi

Again and again will those who disbelieve, wish that they had bowed (to Allah's will) in Islam.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–5

بعد از مرگ پشیمانی کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہوگی۔ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ ابن عباس اور انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الْحِجْر 1 یہ اس سورة کی مختصر تعارفی تمہید ہے جس کے بعد فورا ہی اصل موضوع پر خطبہ شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن کے لیے ”مبین“ کا لفظ صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیات اس قرآن کی ہیں جو اپنا مُدّعا صاف صاف ظاہر کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک کامل کتاب کی اور قرآن واضح کی (یعنی اس کی دونوں صفتیں ہیں کامل کتاب ہونا بھی اور قرآن واضح ہونا بھی ان کلمات سے قرآن کا کلام حق ہونا واضح کرنے کے بعد ان لوگوں کو حسرت اور عذاب کا بیان ہے جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے یا اس کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے فرمایا رُبَمَا يَوَدُّ یعنی جب قیامت نے حشر ونشر کے میدان میں کافروں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا تو) کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ (یعنی ہم دنیا میں) مسلمان ہوتے (بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت و مصیبت دیکھیں گے تو ہر مرتبہ اپنے اسلام نہ لانے پر حسرت تازہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ۔ یعنی آج تو یہ لوگ غرور و رعونت کے ساتھ اس کتاب کا انکار کر رہے ہیں لیکن اگے ایسے وقت آئیں گے اور بار بار آئیں گے جب یہ تمنائیں کریں گے کہ کاش اس کتاب کو قبول کرکے مسلمان بنے ہوتے کہ ان ہولناک نتائج سے محفوظ رہتے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم آیت 44 میں بھی گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یہ آرزو کب کریں گے ؟ موت کے وقت، جب فرشتے انھیں جہنم کی آگ دکھاتے ہیں یا جب جہنم میں چلے جائیں گے یا اس وقت جب گنہگار ایمانداروں کو کچھ عرصہ بطور سزا، جہنم میں رکھنے کے بعد جہنم سے نکالا جائے گا یا میدان محشر میں، جہاں حساب کتاب ہو رہا ہوگا اور کافر دیکھیں گے کہ مسلمان جنت میں جا رہے ہیں تو آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ رُبَمَا اصل میں تو تکثیر کے لئے ہے لیکن کبھی کمی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی طرف سے یہ آرزو ہر موقعے پر ہوتی رہے گی لیکن اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اس آیت میں قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ صرف کھانے پینے اور دنیا میں مزے اڑانے کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لینا اور اسی کے لیے اس طرح لمبی لمبی خیالی امیدیں باندھتے رہنا جیسے زندگی بس یہی۔ یہ کافروں کا کام ہے مسلمان دنیا میں رہتا ضرور ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے مگر اس دنیا کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بناتا۔ بلکہ اسے آخرت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے جس کا بہترین راستہ شریعت کے احکام کی پابندی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی آج منکرین نے قرآن و اسلام جیسی عظیم الشان نعمت الٰہیہ کی قدر نہیں کی لیکن ایسا وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ اپنی محرومی پر ماتم کریں گے اور دست حسرت مل کر کہیں گے کاش ہم مسلمان ہوتے ! وہ وقت کب آئے گا ؟ اس میں اختلاف ہوا ہے ہم ابن الانباری کے قول کے موافق اس کو عام رکھتے ہیں۔ یعنی دنیا و آخرت میں جو مواقع کافروں کی نامرادی اور مسلمانوں کی کامیابی کے پیش آتے رہیں گے ہر موقع پر کفار کو رو رو کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا اور نعمت اسلام سے محروم رہ جانے کی حسرت ہوگی۔ اس سلسلہ میں پہلا موقع تو جنگ بدر کا تھا جہاں کفار مکہ نے مسلمانوں کی طرف کھلا ہوا غلبہ اور تائید غیبی دیکھ کر اپنے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ایک وقت آئے گا کہ ان لوگوں کے لیے ان کا کفر موجب حسرت بن جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–5

2 کافر کون کون سے وقت مسلمان ہونے کی خواہش کریں گے ؟ ربما تکثیر اور تقلیل دونوں مواقع پر استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا معنی بسا اوقات اور اکثر اوقات بھی ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی بھی۔ اور اس لفظ کا استعمال بالخصوص اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا متوقع ہو لیکن وہ یاد نہ کرے تو اسے کہتے ہیں کہ کبھی تو ہمیں یاد کرو گے۔ اور اس سے مراد ہر وہ وقت ہوسکتا ہے جب کسی کافر کو اپنی سابقہ زندگی اور اعمال پر حسرت اور ندامت ہو اور اپنے مقابلہ میں مسلمانوں کو عزت اور فلاح و بہبود سے سرفراز ہوتا دیکھے۔ جیسے غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کی خوب پٹائی ہوئی اور مسلمانوں کو عزت اور فتح نصیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (اور ان شدید ترین اور ناقابل برداشت عذابوں سے محفوظ رہتے ! ) یہ کلمات حسرت وتأسف کافروں کی زبان پر آخرت میں جاری ہوں گے، جب اپنا حشران پر منکشف ہوچکے گا، اور طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونے لگیں گے۔ (آیت) ” ربما “۔ یہ کلمات حسرت کی تکرار شاید اس لیے کہ جب جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی، اور ساتھ ہی محسوس ہوگا کہ اس کی علت کفر ہی ہے، تو یہ حسرت ہر دفعہ تازہ ہوجائے گی، (آیت) ” الذین کفروا “۔ اس میں ہر نوع کے کافر شامل ہیں، جن میں قدر مشترک صفت کفر ہے۔ (آیت) ” لوکانوا مسلمین “۔ آیت میں صرف مسلمین ہے، متقین۔ خاشعین وغیرہ نہیں۔ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابوموسی اشعری ؓ ، حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ (یعنی ہم دنیا میں) مسلمان ہوتے۔ لفظ رُبَّ اظہار قلت کیلئے آتا ہے لیکن اس جگہ مجازاً اظہار کثرت کیلئے آیا ہے۔ تقلیل و تکثیر میں علاقۂ تضاد ہے یا اس بات پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ اگر ان کو اسلام سے کچھ بھی مودت ہوتی ‘ خواہ ایک ہی بار ہوتی تو ضرور جلد از جلد اسلام کے دائرے میں آجاتے۔ پس جب ان کو اسلام کی مودت بہت زیادہ ہے تو پھر کفر پر قائم رہنا تعجب انگیز ہے۔ یا تکثیر سے اس طرف اشارہ ہے کہ اسلام کی مودت ان کے دلوں میں اتنی زیادہ ہوگئی ہے جو ناقابل بیان ہے۔ پس قلت کا لفظ ہی اس کیلئے کافی ہے۔ بعض اہل تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(2) کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کاش ہم دنیا میں مسلمان ہوتے اور جب کہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ہر مومن کو نکال کر جنت میں داخل فرمائے گا اس وقت بھی کافر خواہش کرے گا کہ کاش میں دنیا میں مسلمان ہوتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ :”رُبَّ“ حرف جر ہے، ”مَا“ بمعنی وقت۔ ”رُبَّ“ کا لفظ تقلیل کے لیے آتا ہے، یعنی کسی وقت، جیسے : ”رُبَّ أَخٍ لَمْ تَلِدْہُ اُمُّکَ“ ”کئی بھائی ہیں جنھیں تیری ماں نے نہیں جنا“ اور تکثیر کے لیے بھی، مثلاً ”رُبَّمَا یَنْجُو الذَّکِیُّ“ ”بہت دفعہ ذہین آدمی کامیاب ہوجاتا ہے۔“ فرق موقع کو ملحوظ رکھ کر ہوتا ہے، مثلاً یہی مثال اگر اس طرح ہو کہ ”رُبَّمَا یَنْجُ الْکَسُوْلُ“ تو معنی ہوگا ”کسی وقت سست آدمی بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔“ اس آیت میں بعض علماء نے یہ لفظ تقلیل کے لیے قرار دیا ہے، یعنی ”کسی وقت“ اور بعض نے تکثیر کے لیے، یعنی بہت بار، صاحب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 2 رب یہ فعل پر داخل نہیں ہوتا، لیکن جب اس کے ساتھ ما مل جائے تو وہ اسے فعل پر داخل ہونے کے قابل بنا دیتا ہے مثلاً تو کہتا ہے : ربما قام زید، اور ربما یقوم زید۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ما نکرہ بمعنی شئ ہو، اور یود اس کی صفت ہو، ای رب شئ یود الکافر (یعنی کافر بہت زیادہ آرزو کریں گے) ۔ نافع اور عاصم نے ربھا باکو مخفف پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے اسے مشدد پڑھا ہے اور اس میں دونوں لغات ہیں۔ ابو حاتم نے کہا ہے : اہل حجاز ربما کو مخفف پڑھتے ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : ربما ضربۃ بسیف صقیل بین بصری و طعنۃ نجلاء اور تمیم، قیس اور ربیعہ اسے مشدد پڑھتے ہیں۔ اور اس میں : ربما اور ربما، ربتما اور ربتما،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الر “ اور الٓم “ شروع کرنے والے (کلمات ہیں) کہ ان کے ذریعہ اس کی کلام کو شروع کیا جاتا ہے ” (آیت ) ” تلک ایت الکتب “ یعنی تورات وانجیل۔ 2ـ:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” الٓر تلک ایت “ یعنی وہ کتابیں جو قرآن سے پہلے تھیں کہ قرآن مبین اور قرآن جو بیان کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ورشد اور خیر کو۔ قولہ تعالیٰ : ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ابو مالک اور ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباسؓ اور مرۃ اور ابن مسعود ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رُبَمَا : بہت ہی ] [ يَوَدُّ : خواہش کریں گے ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ لَوْ : کاش ] [ كَانوْا : وہ ہوتے ] [مُسْلِمِيْنَ : فرمانبرداری کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافر بار بار تمنا کریں گے کہ کاش مسلمان ہوتے یہاں سے سورة الحجر شروع ہو رہی ہے اس کے چھٹے رکوع میں اصحاب حجر کا تذکرہ ہے اس لیے یہ سورت اس نام سے موسوم ہوئی، اس کی ابتداء بھی ا ل ر ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اس کے بعد فرمایا کہ یہ کتاب (کامل) کی آیات ہیں اور قرآن مبین کی آیات ہیں، مبین واضح اور خوب زیادہ ظاہر کے معنی میں آتا ہے قرآن مجید کی بعض دیگر آیات میں قرآن مجید کو قرآن مبین فرمایا ہے، چونکہ قرآن اپنے مضامین کو خوب واضح کرکے بیان کرتا ہے اس لیے اسے قرآن مبین فرمایا، صاحب معالم التنزیل اس کا معنی بتاتے ہوئے لکھتے ہیں ای بین الحلال من الحرام والحق من الباطل یعنی قرآن نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

بیان حسرت اہل غفلت در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ : ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین .... الیٰ .... وما یستاخرون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کریم کا من جانب اللہ ہونا بیان کیا۔ اب آئندہ آیت میں اس کے نہ ماننے والوں کا انجام بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ جو آج دنیا کی شہوات و لذات میں غرق ہیں اور غفلت کا پردہ ان کے پڑا ہے قیامت کے دن یا بوقت مرگ نہایت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور اس کتاب پر ایمان لائے یا یہ کہ جب کفار یہ دیکھیں گے کہ انبیاء (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو ثواب مل رہا ہے اور ان کے نہ ماننے والوں کو عذاب مل رہا ہے تو اس وقت یہ خواہش کریں گے کہ کاش ہم مسلمان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ تمہید کے بعد اصل مقصود کا ذکر کیا گیا۔ سورة ابراہیم میں وقائع امم سابقہ زکر کردئیے گئے ہیں تاکہ تم ان سے عبرت حاصل کرو اور عذاب کے ڈر سے مسئلہ مان لو اس لیے اب وقت ہے ضد و انکار سے باز آجاؤ اور مسئلہ قبول کرلو ورنہ پچھتاؤ گے جیسا کہ بہت بار ایسا ہوچکا ہے اقوام گذشتہ کے کفار و مشرکین جب دیکھتے کہ کفر و انکار اور ضد وعناد کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے اور ایمان والے اس سے بچ گئے ہیں تو وہ حسرت و افسوس سے کہنے لگتے کاش ہم نے بھی مسئلہ توحید مان لیا ہوتا تو آج ہم بھی اس عذاب سے بچ جاتے مگر اس وقت کے پچھتانے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

(نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة الحجر ہے ، حجر ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور شام کے درمیان تبوک کے قریب واقع ہے ، ہزاروں سال پہلے ثمود جیسی متمدن قوم اس وادی میں آباد تھی یہاں پر ان کے سترہ سو بڑے بڑے شہر اور قصبات تھے ، اس سورة کا نام اسی وادی کے نام سے الحجر موسوم ہے ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہوئے ، یہ سورة مبارکہ مکی دور میں نازل ہوئی ، اس کی 99 آیات اور چھ رکوع ہیں ، یہ سورة 654 الفاظ اور 2770 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) سابقہ مکی سورتوں کی مانند اس سورة مبارکہ میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد قرآن پاک کی حقانیت ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ ۝ رُب وَ «رُبَّ» لاستقلال الشیء، ولما يكون وقتا بعد وقت نحو : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] . ( ر ب ب ) الرب ( ن ) رب تقلیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے ۔ جیسے فرمایا : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کافر بہترے ہی ارمان کریں گے ( کہ ) اے کاش ( ہم بھی ) مسلمان ہوئے ہوتے ۔ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–8

ترکیب : رب بالتخفیف والتشدید و ضم الراء فتحہا وما کافۃ لرب و یمکن ان یکون نکرۃ موصوفۃ ای رب شیء یودہ الذین درب حرف جر لایعمل فیہ مابعدہ و العامل محذوف تقدیرہ رب کافر یود الاسلام الادلھا جملہ نعمت ہے قریۃ کی لوما بمعنی ھلا۔ بروز قیامت کفار کی حسرت : تفسیر : ربما یود کہ قیامت کے دن یا بوقت مرگ یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان والے ہوتے۔ رب کے معنی بعض کہتے ہیں کہ بہت کے ہیں کہ بہت حسرت کریں گے اور بعض کہتے ہیں کم کے ہیں مگر مراد یہاں بہت ہے کہ عرب کی عادت ہے کہ کبھی کثیرالوجود چیز کو یقین دلانے کے لیے بلفظ قلیل ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اس شخص کی نسبت کہ جس سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رُبَمَا یَوَدُّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 2) (وہ وقت آئیں گے جب یہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ ) رُبَمَاکی تحقیق رُبَّ حرف جار ہے اور یہ اسم پر داخل ہوتا ہے اور جب اسے فعل پر داخل کرنا ہو تو اس کے ساتھ مَاکافۃ لگا دیتے ہیں۔ اس طرح رُبَمَا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد یہ فعل پر بھی داخل ہوسکتا ہے۔ رُبَّقلت کے معنی پر دلالت کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے یا کثرت پر دلالت کرنے کے لیے۔ علمائِ نحو کا اس مسئلہ پر کافی اختلاف ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اس کی اصل وضع معنی قلت کے لیے ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ کثرت کے معنی پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–5

فہم القرآن ربط کلام : اگر کفار ایمان نہیں لاتے تو انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کیا جاتا ہے کہ وقت آئے گا کہ انہیں مسلمان نہ ہونے پر پچھتاوا ہوگا۔ اے نبی ﷺ ! آپ کے اخلاص اور جہد مسلسل کے باوجود یہ لوگ اپنے رب کی خالص بندگی کرنے اور آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ان سے الجھنے کی بجائے ان کو ان کی حالت پر چھوڑتے ہوئے فرما دیجئے : اے حق کا انکار کرنے والو ! تم کھاؤ، پیو اور عیش اڑاؤ۔ اپنے خوبصورت سپنوں اور امیدوں میں مگن رہو۔ لیکن یاد رکھنا وقت آئے گا کہ یہ خواب ایک دن چکنا چور ہوجائیں گے اور جس ذات کبریا کا تم انکار کرتے ہو قیامت کے دن اس کے سامنے تمہیں حاضر ہو کر اپنے اعمال کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت کے دن کفار کی حسرت : 2: رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے) ۔ قراءت : مدنی و عاصم نے تخفیف سے پڑھا۔ باقی نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ماؔ یہ کافہ ہے کیونکہ رب حرف جر ہے اور مابعد کو مجرور کرتا ہے یہ اسم نکرہ کے ساتھ خاص ہے۔ جب عمل سے روک دیا گیا تو اس کے بعد فعل ماضی اور اسم آسکتا ہے۔ اور جائز ہے۔ یود الذین کفروا کیونکہ انتظار کرنے والے اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے سے ماضی کی طرح قطعیت اور تحقیق رکھتے ہیں۔ گویا اس طرح کہہ دیا گیا۔ ربما ودّ اور ان کا یہ چاہنا موت کے وقت ہوگا۔ نمبر 2۔ قیامت کے دن ہوگا جب کہ اپنی حالت اور مسلمانوں کی حالت کا مشاہدہ کریں گے۔ نمبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر :۔” ربما “ ابو جعفر ، نافع ، عاصم ن، باء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔” رب “ تقلیل کے لیے آتا ہے لیکن مجازا ً اظہار کثرت کے لیے آتا ہے۔ رب اسم پر داخل ہوتا ہے اور کبھی کبھار فعل پر بھی داخل ہوتا ہے۔ جیسے ” رب رجل جاءنی وربما جاءنی رجل “ یہاں پر یہ فعل پر داخل ہے۔ ” یود “ وہ آرزو کریں گے۔” الذین کفروا لو کانوا مسلمین “۔ لو کانوا مسلمین کی مختلف تفاسیر جس حالت میں کافر اسلام کی تمنا کریں گے اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ ضحاک (رح) کا قول ہے کہ جب ان کا معائنہ کیا جائے گا یا اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا ۔ بعض نے کہا قیامت کے دن ، مشہور قول یہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

2۔ طبرانی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعضے کلمہ گو مسلمان گناہ گار جس وقت دوزخ میں جاویں گے تو کافر ان پر طعن کریں گے کہ تمہاری مسلمانی تمہارے کچھ کام نہ آئی آخر تم بھی ہمارے ساتھ عذاب میں پھنسے اللہ تعالیٰ ان کافروں کے یہ طعن سن کر جھٹ ان مسلمان کلمہ گو لوگوں کو دوزخ سے نکالنے کا حکم دیوے گا اس وقت کافر لوگ یہ تمنا کریں گے کاش کہ ہم بھی کلمہ گو ہوتے۔ یہ ذکر فرما کر آپ نے یہ آیت 1 ؎ پڑھی جس سے معلوم ہوا کہ اصل شان نزول اس آیت کی یہ ہے سوائے اس کے علمائے متقدمین و متاخرین نے اور شان نزول جو اس آیت کی بیان کی ہے مثلاً کافروں کا موت کے وقت عذاب کے فرشتوں کو دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–8

آیت 5 جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انہوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہوجائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔ پس (ذرھم یاکلوا ویتمتعوا) ” چھوڑ دیں ان کو، کھالیں اور فائدہ اٹھا لیں “ اپنی لذتوں سے (ویلھھم الامل) ” اور امیدان کو غفلت میں ڈالے رکھے “ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4۔ کافروں کی حسرت اور ان کے افسوس کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے وقت اور مواقع آئیں گے کہ جب کافر لوگ رہ رہ کر پچھتائیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے، سو ان کا یہ پچھتاؤا ان کی موت کے وقت بھی ہوگا جب کہ وہ جانکنی کی سختیوں سے دوچار ہوں گے۔ نیز قیامت کے روز بھی جب وہاں کے احوال دیکھیں گے، جب کہ گناہ گار مسلمانوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جایا جائے گا اور کافروں کی وہیں جلتا چھوڑ کر دوزخ کو ان پر موند دیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے تمام مواقع پر یہ کافر لوگ جو کہ آج اپنے کفر وباطل پر مست ومگن ہیں اور حق بات سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے رہ رہ کر پچھتائیں گے اور حسرت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 2–5

کفار کی حسرت اور امتوں کی اجل تشریح : آیات کو پڑھنے سے مطلب واضح ہو رہا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے حدیث سنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (اپنے گناہوں پر ندامت سے نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل (لمبی امید) اور دنیا کی حرص۔ “ (قرطبی عن مسند البزار عن انس ؓ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : کہ اس امت کے پہلے طبقے کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اغراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل (لمبی مدت) کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن) ہر فرد کی موت کا وقت اور جگہ اللہ کے پاس لکھی ہوئی موجود ہے جو نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ ” یعنی موت کے وقت یا قیامت کے دن “۔ یا جب اللہ تعالیٰ گنہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا اور کافروں کو اس میں رہنے دگا۔ مطلب یہ کہ جب کافروں پر حقیقت حال واضح ہوجائے گی تو وہ پچھتا پچھتا کر آرزو کریں گے کہ کاش ہم نے اپنی غلط روش شے توبہ کرکے اسلام دعوت قبول کرلی ہوتی۔ مگر اس وقت ان کا پچھتانا اور یہ آرزو کرنا ان کے کسی کام نہ آسکے گا۔ بظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت حال واضح ہوجانے کے بعد کفار ہر لحظہ یہ آرزو کرتے رہیں گے۔ (کذافی الشوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:2) ربما رب وربۃ وربما وربتما۔ حرف جر ہے۔ ربما فتح وتشدید باء کے ساتھ یا ربما فتح باء بلاتشدید کے ساتھ ہر دو صورت میں مستعمل ہے۔ سیاق کلام کے موافق تکثیرو تقلیل۔ یعنی ” اکثر “ اور ” کبھی کبھی “ کا فائدہ دیتا ہے۔ رب نکرہ پر داخل ہوتا ہے اور زائد کے حکم میں ہوتا ہے جیسے رب جھل رفع۔ اور جب اس پر ما کافہ داخل ہوجائے (کافّہ یعنی سابق عامل کو عمل سے روک دینے والا) تو اس کا دخول فعل اور معرفہ پر جائز ہوتا ہے۔ جیسے ربما الخلیل مقبل اور ربما اقبل الخلیل اس صورت میں بیشتر اس کا دخول ایسے جملہ فعلیہ پر ہوتا ہے جس کا فعل ماضی ہو خواہ وہ لفظاً موجود ہو یا معناً ۔ لیکن آیہ ہذا میں یہ فعل مستقبل پر داخل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5 تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ مبین کھلا، واضح، روشن۔ ربما کبھی کبھی۔ اکثر ۔ یود پسند ہوگا۔ لو اگر، کاش۔ مسلمین فرماں بردار۔ گردن جھکانے والے۔ ذر چھوڑ دے۔ یا کلون وہ کھائیں گے۔ یتمتعوا وہ فائدہ حاصل کریں گے۔ یلھھم (الھاء لھو) ، دل لگانا، غافل ہونا الامل امید، آزاد۔ سوف جلد، عنقریب۔ اھلکنا ہم نے ہلاک کیا۔ برباد کیا۔ قریۃ بستی۔ شہر کتاب لکھا ہوا۔ معلوم مقرر۔ ماتسبق آگے نہیں بڑھتی۔ امۃ جماعت، گروہ ۔ اجل مدت، موت۔ یستاخرون وہ دیر کرتے ہیں۔ پیچھے ہٹتے ہیں۔ تشریح آیت نمبر : 1 تا 5 مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی منکرین توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہ لانے والوں کا بھیانک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

کفار کی تمنا : طبرانی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعضے مسلمان کلہ گو گناہگار جس وقت دوزخ میں جاویں گے تو کافر ان پر طعن کریں گے کہ تمہاری مسلمانی کچھ کام نہ آئی، آخر تم بھی ہمارے ساتھ عذاب میں پھنسے۔ اللہ تعالیٰ ان کافروں کے یہ طعن سن کر جھٹ ان مسلمان کلمہ گو لوگوں کو دوزخ سے نکالنے کا حکم کرے گا۔ اس وقت کافر لوگ یہ تمنا کریں گے کاش ہم بھی کلمہ گو ہوتے۔ یہ ذکر فرما کر حضور نے یہ آیت پڑھی جس سے معلوم ہوا کہ اصل شان نزول اس آیت کا یہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–4

جب نشہ غفلت کافور ہوجائیگا : (ف 1) اصل تقسیم سورتوں کی ہے ، پاروں کی تقسیم اور کی ہے اور اس میں مضمون کی رعایت نہیں ہوتی ، یہی وجہ ہے بعض دفعہ بارپ شروع ہوجاتا ہے مگر مضمون کا تعلق سابقہ آیات سے ہوتا ہے ۔ سورة الحجر شروع ہے ، ایک آیت ادھر ہے اور ایک آیت بعد پارہ شروع ہوجاتا ہے ، حالانکہ مضمون کا تقاضا یہ تھا کہ پارہ کو ابتداء سورت سے شروع کردیا جاتا ۔ سورت میں قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ یہ واضح اور بین ہدایت نامہ ہے ، آج گو منکرین اس کے حقائق ومعارف کا انکار کر رہے ہیں مگر ایک وقت آئے گا جب یہ لوگ پچھتائیں گے ، اور کہیں گے اے کاش ! ہم نے اسلام کی ہدایت کو قبول کرلیا ہوتا ، اس کے بعد حضور ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2 ۔ بسا اوقات کافر اس بات کی آرزو اور تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے اور اسلام قبول کرلیتے ۔ یعنی باربار یہ آرزو کریں گے کہ وہ دنیا میں مسلمان ہوگئے ہوتے کیونکہ جب عذاب میں شدت ہوگی اور مسلمانوں کو عذاب سے محفوظ اور جنت میں دیکھیں گے اور اپنے آپ کو انواع و اقسا م کے عذاب میں مبتلا پائیں گے اور اس عذاب میں تخفیف دیکھنا نصیب نہ ہوگا تب ہی ایمان نہ لانے پر حسرت ہوگی اور بار بار یہ تمنا ہوگی کہ کیا اچھا ہوتا جو وہ بھی دنیا میں اسلام قبول کرلیتے اگرچہ وہاں بھی اپنے ایمان کا اعلان کریں گے لیکن وہ بیکار ہوگا ۔ وانی لھم التناوش من مکان بعید۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–8

ف 4۔ بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور معلوم ہوگا کہ اس کی علت کفر ہے تب ہی اسلام نہ لانے پر تازہ حسرت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انکار کرنے والے عنقریب حسرت کریں گے کہ کاش ہم مان لیتے : 2۔ یہ کلمات حسرت وافسوس کے ہیں ، جو کافروں کی زبان پر آخرت میں جاری ہوں گے ، خصوصا جب اپنا حشران پر منکشف ہوچکے گا اور طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونے لگیں گے ” ربما ‘ خود کلمات حسرت وافسوس میں سے ہے اور یہ تکرار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور ساتھ ہی محسوس ہوگی کہ اس کی اصل وجہ انکا کفر ہی ہے تو ظاہر ہے کہ یہ حسرت ہر دفعہ تازہ ہوجائے گا اور اس میں ہر نوع اور ہر قسم کے کافر شامل ہیں جن میں قدر مشترک صفت کفر ہے خواہ وہ کسی طرح اور کسی قسم کا ہے ۔ (آیت) ” لوکانوا مسلمین “۔ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے یہ افسوس انکو اس وقت ہوگا جب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1. This verse is the brief introduction to the Surah, and immediately after this begins its theme.“These are the verses of the Book and a clear Quran”: These are the verses of that Quran which makes its meaning lucid and understandable.

Read the full tafseer →