Explained with ayahs 2–5
بعد از مرگ پشیمانی
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہوگی۔ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ ابن عباس اور انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الْحِجْر 1
یہ اس سورة کی مختصر تعارفی تمہید ہے جس کے بعد فورا ہی اصل موضوع پر خطبہ شروع ہوجاتا ہے۔
قرآن کے لیے ”مبین“ کا لفظ صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیات اس قرآن کی ہیں جو اپنا مُدّعا صاف صاف ظاہر کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
معارف و مسائل
ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا الخ سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کو مقصد اور اصلی مشغلہ بنا لینا اور دنیاوی عیش و عشرت کے سامان میں موت سے بےفکر ہو کر طویل منصوبوں میں لگے رہنا کفار ہی سے ہوسکتا ہے جن کا آخرت اور اس کے حساب و کتاب اور جزا وسزا پر ایمان نہیں مومن بھی کھاتا پیتا ہے اور معاش کا بقدر ضرورت سامان کرتا ہے اور آئندہ کاروبار کے منصوبے بھی بناتا ہے مگر موت اور فکر آخرت سے غافل ہو کر یہ کام نہیں کرتا اسی لئے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر رہتی ہے اور فضول منصوبہ بندی کو مشغلہ نہیں بناتا رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی…
Read the full tafseer →ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ۔ یعنی اگر یہ اپنی سرمستیوں میں گم ہیں، تم کو اور تمہاری دعوت کو (خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے) خاطر میں نہیں لا رہے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، چند دن یہ کھا پی لیں، مزے کرلیں اور لذیذ آرزوؤں کے خواب دیکھ لیں، عنقریب وہ وقت آیا چاہتا ہے جب یہ اپنی سرمستی کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 یہ تہدید و تو یخ ہے کہ کافر و مشرک اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آ رہے ہیں تو انھیں چھوڑ دیجئے یہ دنیاوی لذتوں سے محفوظ ہولیں اور اپنی امیدیں برلائیں۔ عنقریب انھیں اپنے کفر و شرک کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: اس آیت میں قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ صرف کھانے پینے اور دنیا میں مزے اڑانے کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لینا اور اسی کے لیے اس طرح لمبی لمبی خیالی امیدیں باندھتے رہنا جیسے زندگی بس یہی۔ یہ کافروں کا کام ہے مسلمان دنیا میں رہتا ضرور ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے مگر اس دنیا کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بناتا۔ بلکہ اسے آخرت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے جس کا بہترین راستہ شریعت کے احکام کی پابندی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…
Read the full tafseer →2 یعنی جب کوئی نصیحت کارگر نہیں تو آپ ان کے غم میں نہ پڑیے بلکہ چند روز انھیں بہائم کی طرح کھانے پینے دیجئے۔ یہ خوب دل کھول کر دنیا کے مزے اڑالیں اور مستقبل کے متعلق لمبی چوڑی امیدیں باندھتے رہیں عنقریب وقت آیا چاہتا ہے جب حقیقت حال کھل جائے گی اور اگلا پچھلا کھایا پیا سب نکل جائے گا۔ چناچہ کچھ تو دنیا ہی میں مجاہدین کے ہاتھوں حقیقت کھل گئی۔ اور پوری تکمیل آخرت میں ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا
زمین میں جو مہلت انہیں ملی ہوئی ہے اس میں خوب مزے کرلیں۔
وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ
اَلْھٰی ‘ یُلْھِی ‘ اِلْھَاءً کے معنی ہیں غافل کردینا۔ سورة التکاثر میں فرمایا گیا : اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ”غافل کیے رکھا تمہیں کثرت کی خواہش کے مقابلے نے ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں“۔ انسان کے لمبے لمبے منصوبے بنانے کو ”طولِ اَمل“ کہتے ہیں۔ جب انسان اس گورکھ دھندے میں پڑجائے ‘ تو خواہشوں اور آرزوؤں کا یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا ‘ مگر زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ حدیث نبوی ہے : مَا قَلَّ وَکَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَاَلْھٰی یعنی اگر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2 کافر کون کون سے وقت مسلمان ہونے کی خواہش کریں گے ؟ ربما تکثیر اور تقلیل دونوں مواقع پر استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا معنی بسا اوقات اور اکثر اوقات بھی ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی بھی۔ اور اس لفظ کا استعمال بالخصوص اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا متوقع ہو لیکن وہ یاد نہ کرے تو اسے کہتے ہیں کہ کبھی تو ہمیں یاد کرو گے۔ اور اس سے مراد ہر وہ وقت ہوسکتا ہے جب کسی کافر کو اپنی سابقہ زندگی اور اعمال پر حسرت اور ندامت ہو اور اپنے مقابلہ میں مسلمانوں کو عزت اور فلاح و بہبود سے سرفراز ہوتا دیکھے۔ جیسے غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کی خوب پٹائی ہوئی اور مسلمانوں کو عزت اور فتح نصیب…
Read the full tafseer →3۔ یعنی عنقریب ہی انہیں کافرانہ زندگی کے انجام کا مشاہدہ اور ذاتی تجربہ ہوا چاہتا ہے۔ (آیت) ” سوف “۔ یعنی مرنے کے ساتھ ہی۔ (آیت) ” ذرھم “۔ یعنی آپ ان کے کفر پر زیادہ غم وحزن نہ کیجئے۔ یہ مطلب نہیں کہ ان پر تبلیغ ترک کردیجئے (آیت) ” یاکلوا ویتمتعوا ویلھھم الامل “۔ کھانے پینے کی لذتوں میں پڑے رہنا، فوری اور وقتی مقصدوں کی الٹ پھیر میں لگے رہنا، مدت عمر کو دور ودراز کی خیالی آرزوؤں اور منصوبوں میں گزارتے رہنا، یہ سب خصوصیات آخرت سے غافل اور خدا فراموش قوموں کی ہیں۔ اور جس طرح گزشتہ مشرک اور جاہلی قوموں کے حق میں صادق تھیں آج بھی فرنگستان کی ” مہذب “ و روشن خیال “ قوموں پر کیسی صادق آرہی ہیں !۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →ذرھم یا کلوا ویتمتعوا ویلھھم الامل فسوف یعلمون (اے محمد ! ) آپ ان (کافروں) کو رہنے دیجئے کہ کھائیں اور (دنیا کے) مزے اڑائیں اور (آخرت کی تیاری سے) ان کو (طول زندگی کی) امید روکے رہے (جب عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو) اپنی بدانجامی ان کو خود معلوم ہوجائے گی۔
اس کلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ کافروں کے ایمان لانے سے آپ ناامید ہوجائیں اور سمجھ لیں کہ اللہ کے علم میں ان کافروں کی شقاوت لکھی ہوئی ہے۔ اگرچہ اللہ نے ان کو نصیحت کی ہے مگر یہ ایمان نہیں لائیں گے ‘ نصیحت سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آیت میں اتمام حجت بھی ہے اور عیش پرستی سے بازداشت بھی اور طول امید کے نتیجہ سے تحذیر بھی۔
Read the full tafseer →(3) اے محمد ﷺ ان کو ان کے حال پر رہنے دیجیے تاکہ وہ خوب کھالیں اور کفر و مال حرام میں خوب مزے اڑا لیں اور لمبی لمبی آرزوئیں ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غفلت میں ڈالے رکھیں، ان کو مرنے کے وقت اور قبر میں اور پھر قیامت کے دن حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ ان کو کیا سزا ملے گی۔
Read the full tafseer →ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ : ”ذَرْ“ مثال واوی سے فعل امر ہے، اس کا صرف امر اور مضارع استعمال ہوتا ہے، اس کے باقی صیغوں کی جگہ ”تَرَکَ“ کے مشتقات استعمال ہوتے ہیں۔ ”وَيُلْهِهِمُ“ ”لَھْوٌ“ سے باب افعال کا مضارع ”یُلْھِیْ“ ہے جو ”ذَرْ“ کا جواب ہونے کی و جہ سے یا لام امر مقدر ہونے کی و جہ سے مجزوم ہے، اس کی ”یاء“ اور ”يَاْكُلُوْا“ اور ”وَيَتَمَتَّعُوْا“ کا نون بھی اسی و جہ سے گرگئے ہیں۔ یہ سارے امر انھیں ڈانٹنے کے لیے ہیں، یہ نہیں کہ انھیں اجازت دی جا رہی ہے۔ اس معنی کی آیات کے لیے دیکھیے سورة مرسلات (46) ، سورة زخرف (83) اور سورة طور (45)…
Read the full tafseer →آیت نمبر 3
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ذرھم یاکلوا ویتمتعوا یہ ان کیلئے تہدید اور جھڑک ہے۔ ویلھھم الامل یعنی جھوٹی امید انہیں طاعت سے غافل اور مشغول رکھے۔ کہا جاتا ہے : ألھاہ عن کذا یعنی اس نے اسے اس سے مشغول کردیا، غافل کردیا۔ اور لھی ھو عن الشئ یلھی (وہ فلاں شے سے غافل ہوگیا) فسوف یعلمون (وہ حقیقت کو خودبخود جان لیں گے) جب وہ قیامت کو دیکھیں گے اور اپنے کرتوتوں کا وبال چکھیں گے۔ یہ آیت آیۃ السیف کے ساتھ منسوخ ہے۔
مسئلہ نمبر 2: مسند بزار میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” چار چیزیں شقاوت اور بدبختی میں سے ہیں آنکھ کا خشک ہوجانا، دل…
Read the full tafseer →1:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذرھم یاکلوا ویتمعوا “ سے مراد ہیں یہ کافر لوگ۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذرھم “ یعنی ان کو چھوڑ دو ۔
3:۔ امام ابن احمد نے زہد میں، طبرانی نے الاوسط میں، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عمروبن شعیب (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں اس امت کی پہلی درستی زہد اور یقین کے ساتھ ہے اور آخر میں اس کی ہلاکت بخل اور امید کے ساتھ ہے۔
4:۔ امام احمد اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لکڑی اپنے آگے اور ایک اپنے پہلو کی طرف اور ایک اپنے پیچھے…
Read the full tafseer →[ذَرْ : آپ ﷺ چھوڑ دیں ] [هُمْ : ان لوگوں کو ] [ يَاْكُلُوْا : کہ وہ کھائیں ] [ وَيَتمتَّعُوْا : اور فائدہ اٹھائیں ] [ وَيُلْهِهِمُ : اور غافل کرے ان کو ] [ الْاَمَلُ : امید ] [فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [يَعْلَمُوْنَ : وہ جان لیں گے ]
ء م ل
[اَمَلًا : (ن) امید کرنا۔] [اَمَلٌ: اسم ذات بھی ہے۔ امید۔ زیر مطالعہ آیت۔ 3 ۔]
(آیت۔ 3) ذَرْ فعل امر ہے۔ اس کا جواب امر ہونے کی وجہ سے یَاْکُلُوْا۔ یَتَمَتَّعُوْا۔ اور یَلَھِ مجزوم آئے ہیں۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (ذَرْھُمْ یَاْکُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا) کہ آپ ان کو چھوڑئیے یعنی ان کی طرف سے رنجیدہ نہ ہویئے انہیں اسلام قبول نہیں کرنا وہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنے والے نہیں ہیں یہ لوگ دنیا میں مشغول ہیں کھنا پینا اور دوسری چیزوں سے متمتع ہونا یہی ان کی زندگی ہے موت کے بعد کے حالات کی طرف سے غافل ہیں اور بڑی بڑی آرزوئیں باندھ رکھی ہیں ان آرزوؤں نے انہیں آخرت سے غافل کر رکھا ہے ان حالات میں جس قدر بھی آگے بڑھیں گے مزید عذاب در عذاب کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے اسی کو فرمایا (فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) کہ یہ لوگ عنقریب جان لیں گے یعنی ان کے اعمال اور افعال کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
بیان حسرت اہل غفلت در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ : ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین .... الیٰ .... وما یستاخرون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کریم کا من جانب اللہ ہونا بیان کیا۔ اب آئندہ آیت میں اس کے نہ ماننے والوں کا انجام بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ جو آج دنیا کی شہوات و لذات میں غرق ہیں اور غفلت کا پردہ ان کے پڑا ہے قیامت کے دن یا بوقت مرگ نہایت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور اس کتاب پر ایمان لائے یا یہ کہ جب کفار یہ دیکھیں گے کہ انبیاء (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو ثواب مل رہا ہے اور ان کے نہ ماننے والوں کو عذاب مل رہا ہے تو اس وقت یہ خواہش کریں گے کہ کاش ہم مسلمان…
Read the full tafseer →4:۔ مقصود اصلی بیان کرنے کے بعد ” و ما یستاخرون “ تک زجر اور تخویف دنیوی کا زکر کیا گیا کہ اس کا تعلق سورة ابراہیم کے دعوے سے ہے یعنی ان کو وقائع امم سابقہ سناؤ تاکہ وہ ان سے ڈر کر شرک سے توبہ کرلیں۔ اب تخویف دنیوی سنائی گئی کہ اچھا اگر وہ ان وقائع سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور ضد وعناد پر اڑے ہوئے ہیں تو انہیں ان کے حال پر چھور دو وہ دنیوی ساز و سامان اور انواع اکل و شرب سے خوب فائدہ اٹھا لیں اور باطل امیدوں میں ڈوب کر حق سے خوب غافل ہو لیں جب اچانک ہمارا عذاب ان کو آلیگا۔ تو انہیں حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(نام اور کوائف)
اس سورة کا نام سورة الحجر ہے ، حجر ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور شام کے درمیان تبوک کے قریب واقع ہے ، ہزاروں سال پہلے ثمود جیسی متمدن قوم اس وادی میں آباد تھی یہاں پر ان کے سترہ سو بڑے بڑے شہر اور قصبات تھے ، اس سورة کا نام اسی وادی کے نام سے الحجر موسوم ہے ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہوئے ، یہ سورة مبارکہ مکی دور میں نازل ہوئی ، اس کی 99 آیات اور چھ رکوع ہیں ، یہ سورة 654 الفاظ اور 2770 حروف پر مشتمل ہے ۔
(مضامین سورة )
سابقہ مکی سورتوں کی مانند اس سورة مبارکہ میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد قرآن پاک کی حقانیت ،…
Read the full tafseer →ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔
متع
الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ترکیب : رب بالتخفیف والتشدید و ضم الراء فتحہا وما کافۃ لرب و یمکن ان یکون نکرۃ موصوفۃ ای رب شیء یودہ الذین درب حرف جر لایعمل فیہ مابعدہ و العامل محذوف تقدیرہ رب کافر یود الاسلام الادلھا جملہ نعمت ہے قریۃ کی لوما بمعنی ھلا۔
بروز قیامت کفار کی حسرت :
تفسیر : ربما یود کہ قیامت کے دن یا بوقت مرگ یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان والے ہوتے۔ رب کے معنی بعض کہتے ہیں کہ بہت کے ہیں کہ بہت حسرت کریں گے اور بعض کہتے ہیں کم کے ہیں مگر مراد یہاں بہت ہے کہ عرب کی عادت ہے کہ کبھی کثیرالوجود چیز کو یقین دلانے کے لیے بلفظ قلیل ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اس شخص کی نسبت کہ جس سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا…
Read the full tafseer →ذَرْھُمْ یَاْکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا وَیُلْھِھِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْن۔ (سورۃ الحجر : 3)
(چھوڑ دو انھیں وہ کھائیں پئیں اور عیش کریں اور غافل رکھے انھیں جھوٹی امید عنقریب جان لیں گے۔ )
دین سے بیزاری کا حقیقی سبب
جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ اپنے کفر پر پچھتائیں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش ہم نے اسلام کا راستہ اختیار کیا ہوتا لیکن آج آپ ﷺ جیسی عظیم شخصیت، آپ ﷺ جیسا عظیم پیغمبر، آپ ﷺ جیسی دعوت و نصیحت اور آپ ﷺ جیسی گہری ہمدردی و موعظت کے باوجود یہ لوگ آپ ﷺ کی بات سن کے نہیں دیں گے کیونکہ آپ ﷺ کی دعوت زندگی کے بارے میں گہری بصیرت پر مبنی ہے۔ آپ ﷺ ایک ایسی بات کی دعوت دے رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
فہم القرآن
ربط کلام : اگر کفار ایمان نہیں لاتے تو انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کیا جاتا ہے کہ وقت آئے گا کہ انہیں مسلمان نہ ہونے پر پچھتاوا ہوگا۔
اے نبی ﷺ ! آپ کے اخلاص اور جہد مسلسل کے باوجود یہ لوگ اپنے رب کی خالص بندگی کرنے اور آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ان سے الجھنے کی بجائے ان کو ان کی حالت پر چھوڑتے ہوئے فرما دیجئے : اے حق کا انکار کرنے والو ! تم کھاؤ، پیو اور عیش اڑاؤ۔ اپنے خوبصورت سپنوں اور امیدوں میں مگن رہو۔ لیکن یاد رکھنا وقت آئے گا کہ یہ خواب ایک دن چکنا چور ہوجائیں گے اور جس ذات کبریا کا تم انکار کرتے ہو قیامت کے دن اس کے سامنے تمہیں حاضر ہو کر اپنے اعمال کا…
Read the full tafseer →معاند سے ایمان کی طمع مت کریں :
3: ذَرْھُمْ (آپ ان کو رہنے دیں) یہ امر توہین کیلئے ہے کہ آپ ان کے ایمان لانے کی طمع چھوڑ دیں۔ اور جس کام میں وہ مبتلا ہیں ان سے روکنا چھوڑ دیں اور نصیحت و تذکیر ان کے لئے فائدہ مند نہ ہوگی ان کے حال پر رہنے دیں۔ یَاْکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا (کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے اڑائیں) اپنی دنیا میں وَیُلْھِھِمُ الْاَمَلُ (اور ان کی تمنائیں اور امیدیں ان کو ایمان سے غافل کئے رکھیں) فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (عنقریب ان کو علم ہوجائے گا) اپنی بدکرداری کا۔
نکتہ : اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ تلذذوتنعم اور جو چیزیں لمبی امیدیں پیدا کرنے والی ہوں ان کو ترجیح دینا ایمان والے بندوں…
Read the full tafseer →3۔” ذرہم “ اے محمد ! ان کافروں کو ” یاکلوا “ یعنی ان کو چھوڑ دو دنیا میں ” ویتمتعوا “ اس کی لذت سے فائدہ اٹھا لیں ۔ ” ویلھھم “ ان کو مشغول رکھے ۔” الامل “ اپنے حصے سے لے لیں ، ایمان و اطاعت سے۔” فسوف یعلمون “ جب قیامت کے دن وارد ہوں گے اور اپنی سزا کا مزہ چکھ لیں گے اور جو کچھ انہوں نے کیا اس کا انجام دیکھ لیں گے ، یہ کافروں کے لیے بطور تہدید اور وعید ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ ان کی تہدید کو رہنے دو اور ” فسوف یعلمون “ دوسری تہدید ہے تو یہاں زندگی میں کہاں عیش ہوسکتی ہے ان دونوں تہدیدوں کے متعلق یہ آیت جہاد کی آیت سے منسوخ ہوگئی۔
Read the full tafseer →3۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن کفار بعضے مسلمان گنہگاروں کو دوزخ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر یہ کہیں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو اس وقت یہاں سے نکال لئے جاتے اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہتے اب اس آیت اللہ تعالیٰ نے حضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑو اور ان کے پیچھے نہ پڑو کہ خواہی نخواہی یہ ایمان ہی لائیں اور اچھے عمل کریں بت پرستی چھوڑ دیں دین حق کو قبول کریں یہ کبھی راہ راست پر نہیں آئیں گے ان سے کہہ دو کہ دنیا میں جتنا جی چاہے کھا پی لو اور عیش و آرام کرلو اور ہمیشہ جینے کی امید پر بیٹھے رہو آگے جو ہوگا سب تمہیں معلوم ہوجائے گا ابھی تو یہی گمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
آیت 5
جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انہوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہوجائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔ پس (ذرھم یاکلوا ویتمتعوا) ” چھوڑ دیں ان کو، کھالیں اور فائدہ اٹھا لیں “ اپنی لذتوں سے (ویلھھم الامل) ” اور امیدان کو غفلت میں ڈالے رکھے “ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5۔ منکروں اور غافلوں کا معاملہ ان کے انجام کے اعتبار سے :
سو ایسے غافلوں اور منکروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ کھاتے پیتے اور عیش کرتے رہیں اور ان کی من گھڑت اور چھوٹی آرزوئیں ان کو دھوکے میں ڈالے رکھیں، یہاں تک کہ یہ اپنے انجام کو پہنچ کررہیں، عنقریب ان کو خود معلوم ہوجائے گا اس وقت یہ خود دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟ جب حقائق کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے کہ یہ جب دعوت حق کو سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں اس فانی دنیا کی ان حقیر لذتوں ہی کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں، تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ اس کا بھگتان یہ خود بھگت لیں گے، اور وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
کفار کی حسرت اور امتوں کی اجل
تشریح : آیات کو پڑھنے سے مطلب واضح ہو رہا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے حدیث سنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (اپنے گناہوں پر ندامت سے نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل (لمبی امید) اور دنیا کی حرص۔ “ (قرطبی عن مسند البزار عن انس ؓ
رسول کریم ﷺ نے فرمایا : کہ اس امت کے پہلے طبقے کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اغراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل (لمبی مدت) کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن)
ہر فرد کی موت کا وقت اور جگہ اللہ کے پاس لکھی ہوئی موجود ہے جو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔
ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ کہ وہ کس غلط روش پر چل رہے تھے اور یہ کہ انہوں نے دعوت حق کو ٹھکرا کر کسی اور کا نہیں خود اپنا ہی نقصان کیا ہے۔
Read the full tafseer →(15:3) ذرہم۔ امر واحد مذکر حاصر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو چھوڑ دے تو ان کو رہنے دے۔
یأکلوا ویتمتعوا۔ مضارع مجزوم بوجہ جو اب امر ہیں یا یہ جائز ہے کہ ان سے پہلے لام مقدرہو۔ یتمتعوا۔ مضارع مخبروم ۔ جمع مذکر غائب۔ مزے اڑالیں۔ عیش کرلیں۔
یلہہم۔ مضارع مجزوم بوجہ متذکرہ بالا۔ واحد مذکر غائب۔ الھی یلھی الھاء (افعال) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو بھلائے رکھے۔ ان کو غافل بنائے رکھے۔
الامل۔ امید۔ توقع۔ امال جمع۔ فاعل۔ یلہہم الامل۔ ان کی (جھوٹی) ا میدان کو غافل بنائے رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5
تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ مبین کھلا، واضح، روشن۔ ربما کبھی کبھی۔ اکثر ۔ یود پسند ہوگا۔ لو اگر، کاش۔ مسلمین فرماں بردار۔ گردن جھکانے والے۔ ذر چھوڑ دے۔ یا کلون وہ کھائیں گے۔ یتمتعوا وہ فائدہ حاصل کریں گے۔ یلھھم (الھاء لھو) ، دل لگانا، غافل ہونا الامل امید، آزاد۔ سوف جلد، عنقریب۔ اھلکنا ہم نے ہلاک کیا۔ برباد کیا۔ قریۃ بستی۔ شہر کتاب لکھا ہوا۔ معلوم مقرر۔ ماتسبق آگے نہیں بڑھتی۔ امۃ جماعت، گروہ ۔ اجل مدت، موت۔ یستاخرون وہ دیر کرتے ہیں۔ پیچھے ہٹتے ہیں۔
تشریح آیت نمبر : 1 تا 5
مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی منکرین توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہ لانے والوں کا بھیانک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
دنیا کی لذتوں مین پڑے رہنے کا ذکر
اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ان کے پیچھے نہ پڑئیے کہ خواہی نہ خواہی (لازمی طور پر) یہ ایمان ہی لائیں اور اچھے عمل کریں، بت پرستی چھوڑ دیں، دین حق کو قبول کریں یہ کبھی راہ راست پر نہیں آئیں گے۔ ان سے کہہ دو کہ دنیا میں جتنا جی چاہے کھا پی لو، اور عیش و آرام کرلو اور ہمیشہ جینے کی امید پر بیٹھے رہو، آگے جو ہوگا وہ سب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ ابھی تو یہی گمان کرتے رہو کہ ہماری عمر بہت بڑی ہے ہم ابھی کیا مرنے والے ہیں۔ اس آیت میں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ دنیا کی لذتوں میں پڑے رہنا اور طول طویل امید پر بیٹھے رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[2] یعنی مرنے کے ساتھ ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
جب نشہ غفلت کافور ہوجائیگا :
(ف 1) اصل تقسیم سورتوں کی ہے ، پاروں کی تقسیم اور کی ہے اور اس میں مضمون کی رعایت نہیں ہوتی ، یہی وجہ ہے بعض دفعہ بارپ شروع ہوجاتا ہے مگر مضمون کا تعلق سابقہ آیات سے ہوتا ہے ۔
سورة الحجر شروع ہے ، ایک آیت ادھر ہے اور ایک آیت بعد پارہ شروع ہوجاتا ہے ، حالانکہ مضمون کا تقاضا یہ تھا کہ پارہ کو ابتداء سورت سے شروع کردیا جاتا ۔
سورت میں قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ یہ واضح اور بین ہدایت نامہ ہے ، آج گو منکرین اس کے حقائق ومعارف کا انکار کر رہے ہیں مگر ایک وقت آئے گا جب یہ لوگ پچھتائیں گے ، اور کہیں گے اے کاش ! ہم نے اسلام کی ہدایت کو قبول کرلیا ہوتا ، اس کے بعد حضور ﷺ کو…
Read the full tafseer →3 ۔ اے پیغمبر ! آپ ان کے حال پر چھوڑ دیجئے تا کہ خوب کھائیں اور دنیا کا چند روزہ فائدہ حاصل کریں اور ان کو ان کی خیالی امید الجھائے رکھے ان کو تھوڑے ہی دنوں میں سب حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے اور عنقریب ان کو معلوم ہوا جاتا ہے۔ یعنی یہ لوگ چونکہ آخرت سے غافل ہیں اور ہدایت قبول نہ کرنے میں انتہائی سخت ہیں اس لئے ان کو ان کے حال پر چھوڑیئے یہ خوب کھا پی لیں اور دنیا کے عارضی منافع حاصل کرلیں اور یہاں کے ساز و سامان برت لیں اور محض خیالی لمبی لمبی امیدیں ان کو مشغول رکھیں اور انہیں لغو اور بےمنی امیدوں میں الجھے رہیں پھر بچ کر کہاں جائیں گے دم نکلتے ہی حق و باطل ان پر آشکارا ہوجائے گا اور ان کو کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ف 4۔ بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور معلوم ہوگا کہ اس کی علت کفر ہے تب ہی اسلام نہ لانے پر تازہ حسرت کریں گے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو وہ وقت دور نہیں کہ ان کو حقیقت واضح ہوجائے گی :
3۔ نبی اعظم وآخر ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اے میرے رسول ! ان احمقوں کو اسی حالت میں رہنے دیجئے جن کو اپنے نفع ونقصان کی بھی سمجھ نہیں اور یہ امتیاز بھی نہیں کہ کون ہمارا خیر خواہ ہے اور کون خیر خواہ نہیں ہے ؟ ان کو مزید سمجھانے کی ضرورت نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ یہ ہدایت کے طلب گار نہیں یہ بات جو کہی گئی ہے کہ ان کا مطلب فریضہ نبوت سے منع کرنا نہیں بلکہ آپ کو تسلی دینا مقصود ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ دل برداشہ نہ ہوں کہ یہ لوگ ماننے کیلئے تیار نہیں اگر وہ نہیں مان رہے تو نقصان کس کا کر رہے ہیں ؟ یقین جانئے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
Commentary
From: ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا (Let them eat ...3) we can see that the making of eating and drinking the real occupation and aim of life, and keeping glued to long-drawn material plans while surrounded by countless things of worldly comfort, and becoming totally heedless to death, is something which can be done only by the disbelievers. The reason is that they do not believe in the 'Akhirah, the life to come, and the accounting of deeds there, and the reward and punishment for it. As for eating and drinking, a believer does it too, and takes care of economic needs to the measure of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1. This verse is the brief introduction to the Surah, and immediately after this begins its theme.“These are the verses of the Book and a clear Quran”: These are the verses of that Quran which makes its meaning lucid and understandable.
Read the full tafseer →