Explained with ayahs 2–5
بعد از مرگ پشیمانی
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہوگی۔ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ ابن عباس اور انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الْحِجْر 2
”مطلب یہ ہے کہ کفر کرتے ہی فورا تو ہم نے کبھی کسی قوم کو بھی نہیں پکڑ لیا ہے، پھر یہ نادان لوگ کیوں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نبی کے ساتھ تکذیب و استہزاء کی جو روش انہوں نے اختیار کر رکھی ہے اس پر چونکہ ابھی تک انہیں سزا نہیں دی گئی، اس لیے یہ نبی سرے سے نبی ہی نہیں ہے۔ ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ ہم ہر قوم کے لیے پہلے سے طے کرلیتے ہیں کہ اس کو سننے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے اتنی مہلت دی جائے گی، اور اس حد تک اس کی شرارتوں اور خباثتوں کے باوجود پورے تحمّل کے ساتھ اسے اپنی من مانی کرنے کا موقع دیا جاتا رہے گا۔ یہ مہلت جب تک باقی رہتی ہے۔ اور ہماری مقرر کی ہوئی حد جس وقت تک آ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
معارف و مسائل
ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا الخ سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کو مقصد اور اصلی مشغلہ بنا لینا اور دنیاوی عیش و عشرت کے سامان میں موت سے بےفکر ہو کر طویل منصوبوں میں لگے رہنا کفار ہی سے ہوسکتا ہے جن کا آخرت اور اس کے حساب و کتاب اور جزا وسزا پر ایمان نہیں مومن بھی کھاتا پیتا ہے اور معاش کا بقدر ضرورت سامان کرتا ہے اور آئندہ کاروبار کے منصوبے بھی بناتا ہے مگر موت اور فکر آخرت سے غافل ہو کر یہ کام نہیں کرتا اسی لئے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر رہتی ہے اور فضول منصوبہ بندی کو مشغلہ نہیں بناتا رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
تفسیر آیت 4۔ 5: عاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ : وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آرہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہوجاتی ہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 یہ تہدید و تو یخ ہے کہ کافر و مشرک اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آ رہے ہیں تو انھیں چھوڑ دیجئے یہ دنیاوی لذتوں سے محفوظ ہولیں اور اپنی امیدیں برلائیں۔ عنقریب انھیں اپنے کفر و شرک کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اتارنے کی فرمائش کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا ہو، اس کے پاس ہم فرشتے اس وقت اتارتے ہیں جب اس قوم کی نافرمانی حد سے گذر جاتی ہے، اور اس فیصلے کا وقت آجاتا ہے کہ اب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ اور جب یہ فیصلہ کر کے فرشتے بھیج دئیے جاتے ہیں تو پھر اس قوم کو ایمان لانے کی مہلت نہیں ملتی۔ کیونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان بالغیب ہے جس میں انسان اپنی عقل اور سمجھ کو کام میں لا کر اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ اگر غیب کی ساری چیزیں دنیا میں دکھا دی جائیں تو امتحان ہی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…
Read the full tafseer →3 یعنی جس قدر بستیاں اور قومیں پہلے ہلاک کی گئیں، خدا کے علم میں ہر ایک کی ہلاکت کا ایک وقت معین تھا جس میں نہ بھول چوک ہوسکتی تھی نہ غفلت اور نہ خدا کا وعدہ ٹل سکتا تھا جب کسی قوم کی میعاد پوری ہوئی اور تعذیب کا وقت آپہنچا، ایک دم میں غارت کردی گئی۔ موجودہ کفار بھی امہال و تاخیر عذاب پر مغرور نہ ہوں۔ جب ان کا وقت آئے گا خدائی سزا سے بچ نہ سکیں گے۔ جو تاخیر کی جا رہی ہے اس میں خدا کی بہت حکمتیں ہیں۔ مثلاً ان میں سے بعض کا یا بعض کی اولاد کا ایمان لانا مقدر ہے۔ فوری عذاب کی صورت میں اس کے وقوع کی کوئی صورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ
ہر قوم پر آنے والے عذاب کا ایک وقت معین تھا جو پہلے سے لکھا ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2 کافر کون کون سے وقت مسلمان ہونے کی خواہش کریں گے ؟ ربما تکثیر اور تقلیل دونوں مواقع پر استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا معنی بسا اوقات اور اکثر اوقات بھی ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی بھی۔ اور اس لفظ کا استعمال بالخصوص اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا متوقع ہو لیکن وہ یاد نہ کرے تو اسے کہتے ہیں کہ کبھی تو ہمیں یاد کرو گے۔ اور اس سے مراد ہر وہ وقت ہوسکتا ہے جب کسی کافر کو اپنی سابقہ زندگی اور اعمال پر حسرت اور ندامت ہو اور اپنے مقابلہ میں مسلمانوں کو عزت اور فلاح و بہبود سے سرفراز ہوتا دیکھے۔ جیسے غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کی خوب پٹائی ہوئی اور مسلمانوں کو عزت اور فتح نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ ( چناچہ ان کافروں پر بھی فی الفور جو گرفت نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہی ہے کہ ابھی ان کا وقت موعود نہیں آیا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →وما اھلکنا من قریۃ الاولھا کتاب معلوم اور ہم نے جتنی بستیاں ہلاک کی ہیں ‘ ان کیلئے ایک معین وقت نوشتہ تھا۔ یعنی لوح محفوظ میں اس کی ہلاکت کا وقت لکھا ہوا تھا جو اللہ کو معلوم تھا۔
Read the full tafseer →(4) اور ہم نے جتنی بستی والوں کو ہلاک کیا ہے سب کی ہلاکت کے لیے ایک معین وقت نوشتہ ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ : وہ مقرر لکھا ہوا وقت جب تک باقی رہا اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دی، لیکن جونہی مدت پوری ہوئی فوراً انھیں پکڑ لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول ﷺ کے جھٹلانے اور ٹھٹھا اڑانے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ابھی تک ہم نے گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ تمہاری گرفت ہوگی ہی نہیں ؟
Read the full tafseer →آیت نمبر 4
مراد وہ مقررہ وقت ہے جو ان کے لئے لوح محفوظ میں لکھا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما اھلکنا من قریۃ الا ولھا کتاب معلوم “ یعنی وہ وقت جو معلوم ہے (اور فرمایا) (آیت ) ” ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون “ یعنی موخر کرنے والا نہیں ہے اس کے بعد۔
2:۔ امام ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون “ سے مراد ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب اس کی موت حاضرہوتی ہے تو ایک گھڑی نہ موخر ہوتی ہے اور نہ آگے ہوتی ہے اور (جب) اس کی موت حاضر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ موخر کردیتے ہیں اور مقدم کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →[وَمَآ اَهْلَكْنَا : اور ہم نے ہلاک نہیں کیا ] [مِنْ قَرْيَةٍ : کسی بھی بستی کو ] [اِلَّا : مگر ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَهَا : اس کے لئے تھی ] [كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ: ایک معلوم کتاب ]
(آیت۔ 4) ۔ اَھْلَکْنَا کا مفعول ہونے کی وجہ سے مِنْ قَرْیَۃٍ محلّا حالت نصب میں ہے۔
نوٹ۔ 1: کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کے لئے پہلے سے طے کرلیتا ہے کہ اس کو سننے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لئے اتنی مہلت دی جائے گی اور اس حد تک اسے اپنی من مانی کرنے کا موقع دیا جاتا رہے گا۔ یہ مہلت جب تک باقی رہتی ہے وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے اور سرکشی کرتے ہی فوراً اس نے کبھی بھی کسی قوم کو نہیں پکڑا (تفہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
جو بستیاں ہلاک کی گئیں ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا
اس کے بعد فرمایا (وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ ) (الآیۃ) اور ہم نے جتنی بھی بستیوں کو ہلاک کیا ہے ان کے لیے ایک اجل معین ہے جو ہمارے علم میں ہے جس قوم کی ہلاکت کے لیے جو بھی اجل مقرر کر رکھی تھی اسی کے مطابق ان کی ہلاکت ہوئی اس مضمون کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرمایا (مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ) (کوئی امت اپنی مقررہ اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں) اس آیت کے جو الفاظ ہیں ان کے عموم نے یہ بتادیا کہ آئندہ بھی اگر کوئی قوم ہلاک ہوگی تو اس کی ہلاکت کا جو وقت مقرر اور مقدر ہے وہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
بیان حسرت اہل غفلت در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ : ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین .... الیٰ .... وما یستاخرون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کریم کا من جانب اللہ ہونا بیان کیا۔ اب آئندہ آیت میں اس کے نہ ماننے والوں کا انجام بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ جو آج دنیا کی شہوات و لذات میں غرق ہیں اور غفلت کا پردہ ان کے پڑا ہے قیامت کے دن یا بوقت مرگ نہایت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور اس کتاب پر ایمان لائے یا یہ کہ جب کفار یہ دیکھیں گے کہ انبیاء (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو ثواب مل رہا ہے اور ان کے نہ ماننے والوں کو عذاب مل رہا ہے تو اس وقت یہ خواہش کریں گے کہ کاش ہم مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے آج تک کسی قوم کو مبتلائے عذاب نہیں کیا جب تک کہ ہم پیغمبر بھیج کر ان پر اپنی حجت قائم نہ کردیں اس لیے ہر قوم کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کردیا گیا کہ اگر وہ نہیں مانیں گے تو انہیں مہلت دی جائے گی تاکہ وہ سوچ بچار سے کام لے کر راہ راست پر آنے کا موقع پا سکیں۔ لیکن جب وہ اجل مسمی تک انکار وعناد پر ڈٹے رہے تو ان کو ہلاک کردیا گیا۔ آج تک کسی قوم کو اجل مقررہ سے پہلے ہلاک نہیں کیا گیا اور نہ کسی قوم کو اس کے بعد مہلت دی گئی۔ یخبر تعالیٰ انہ ما اھلک قریۃ الا بعد قیام الحجۃ علیھا وانتھاء اجلھا وانہ لا یؤخر امۃ حان ھلاکھم عن میقاتہم ولا یتقدمون عن مدتھم (ابن کثیر ج 2 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(نام اور کوائف)
اس سورة کا نام سورة الحجر ہے ، حجر ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور شام کے درمیان تبوک کے قریب واقع ہے ، ہزاروں سال پہلے ثمود جیسی متمدن قوم اس وادی میں آباد تھی یہاں پر ان کے سترہ سو بڑے بڑے شہر اور قصبات تھے ، اس سورة کا نام اسی وادی کے نام سے الحجر موسوم ہے ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہوئے ، یہ سورة مبارکہ مکی دور میں نازل ہوئی ، اس کی 99 آیات اور چھ رکوع ہیں ، یہ سورة 654 الفاظ اور 2770 حروف پر مشتمل ہے ۔
(مضامین سورة )
سابقہ مکی سورتوں کی مانند اس سورة مبارکہ میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد قرآن پاک کی حقانیت ،…
Read the full tafseer →وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه :
افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29]
- وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله :
وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام .
والثالث :
الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار :
وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] .
( ھ ل ک ) الھلاک
یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے
ایک یہ کہ
کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ترکیب : رب بالتخفیف والتشدید و ضم الراء فتحہا وما کافۃ لرب و یمکن ان یکون نکرۃ موصوفۃ ای رب شیء یودہ الذین درب حرف جر لایعمل فیہ مابعدہ و العامل محذوف تقدیرہ رب کافر یود الاسلام الادلھا جملہ نعمت ہے قریۃ کی لوما بمعنی ھلا۔
بروز قیامت کفار کی حسرت :
تفسیر : ربما یود کہ قیامت کے دن یا بوقت مرگ یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان والے ہوتے۔ رب کے معنی بعض کہتے ہیں کہ بہت کے ہیں کہ بہت حسرت کریں گے اور بعض کہتے ہیں کم کے ہیں مگر مراد یہاں بہت ہے کہ عرب کی عادت ہے کہ کبھی کثیرالوجود چیز کو یقین دلانے کے لیے بلفظ قلیل ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اس شخص کی نسبت کہ جس سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ وَلَھَا کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اََجَلَھَا وَمَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 4۔ 5)
(ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے معین نوشتہ رہا ہے۔ کوئی قوم نہ اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے ہٹتی ہے)
ایک سوال کا جواب
ان آیتوں میں ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے جو طنز کی صورت میں اشرافِ قریش کی زبان پر رہتا تھا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہو اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص پیغام دے کر بھیجا ہے تو یہ معاملہ تو بہت نازک بھی ہے اور بہت سنگین بھی۔ اس پیغام کی قدر نہ کرنا بلکہ اس کا مذاق اڑانا نہ صرف ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
فہم القرآن
ربط کلام : اگر کفار ایمان نہیں لاتے تو انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کیا جاتا ہے کہ وقت آئے گا کہ انہیں مسلمان نہ ہونے پر پچھتاوا ہوگا۔
اے نبی ﷺ ! آپ کے اخلاص اور جہد مسلسل کے باوجود یہ لوگ اپنے رب کی خالص بندگی کرنے اور آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ان سے الجھنے کی بجائے ان کو ان کی حالت پر چھوڑتے ہوئے فرما دیجئے : اے حق کا انکار کرنے والو ! تم کھاؤ، پیو اور عیش اڑاؤ۔ اپنے خوبصورت سپنوں اور امیدوں میں مگن رہو۔ لیکن یاد رکھنا وقت آئے گا کہ یہ خواب ایک دن چکنا چور ہوجائیں گے اور جس ذات کبریا کا تم انکار کرتے ہو قیامت کے دن اس کے سامنے تمہیں حاضر ہو کر اپنے اعمال کا…
Read the full tafseer →ہر ایک کی ہلاکت کا وقت ہے :
4: وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا وَلَھَا کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ (اور ہم نے جتنی بستیاں ہلاک کی ہیں ان کے لئے ایک معین وقت تحریر تھا)
سوال : وَلَہَاکِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ یہ جملہ قریہ کی صفت ہے اور قیاس کا تقاضا ہے کہ ان کے درمیان وائو نہ لائی جائے۔ جیسا کہ اس آیت میں وَمَا اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّالَھَا مُنْذِرُوْنَ ] الشعراء : 208[
جواب : یہ واؤ درمیان میں اسلئے لائی جاتی ہے تاکہ موصوف صفت کا الصاق پختہ ہوجائے۔ کیونکہ صفت تو موصوف کے ساتھ بغیر وائو کے ملی ہوئی ہوتی ہے وائو لاکر اس الصاق کی تاکید کردی گئی۔
نمبر 2۔ بہتر وجہ یہ ہے کہ یہ جملہ قریۃؔ سے حال…
Read the full tafseer →تفسیر 4۔” وما اھلکنا من قریۃ “ اہل قریہ میں سے کتنی ہلاک کیں ” الا ولھا کتاب معلوم “ ان کیلئے ایک وقت متعین تھا نہ اس سے پہلے یہاں تک کہ ان پر عذاب پہنچ گیا اور نہ ہی عذاب ان سے موخر ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ 5۔ اس آیت میں اس بات کی خبر دی گئی کہ کوئی گاؤں بغیر حجت تمام کئے ہوئے ہلاک نہیں کیا گیا اور جب تک اس کا مقرر وقت نہ آچکا عذاب نہیں نازل کیا گیا جب کسی قوم کا وقت مقرر آجاتا ہے تو پھر نہ اس سے گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے اجل کے معنے وقت مقررہ کے ہیں اس سے زیادہ اس کی تفصیل سورت انعام میں گزر چکی ہے۔ اس آیت میں اہل مکہ کو جو کافر اور مشرک تھے خوف دلایا گیا ہے کہ تم جس کفر اور شرک پر جمے بیٹھے ہو ایک روز یہ کفر اور شرک جڑ سے اکھڑ جاوے گا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
آیت 5
جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انہوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہوجائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔ پس (ذرھم یاکلوا ویتمتعوا) ” چھوڑ دیں ان کو، کھالیں اور فائدہ اٹھا لیں “ اپنی لذتوں سے (ویلھھم الامل) ” اور امیدان کو غفلت میں ڈالے رکھے “ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5۔ منکروں اور غافلوں کا معاملہ ان کے انجام کے اعتبار سے :
سو ایسے غافلوں اور منکروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ کھاتے پیتے اور عیش کرتے رہیں اور ان کی من گھڑت اور چھوٹی آرزوئیں ان کو دھوکے میں ڈالے رکھیں، یہاں تک کہ یہ اپنے انجام کو پہنچ کررہیں، عنقریب ان کو خود معلوم ہوجائے گا اس وقت یہ خود دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟ جب حقائق کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے کہ یہ جب دعوت حق کو سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں اس فانی دنیا کی ان حقیر لذتوں ہی کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں، تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ اس کا بھگتان یہ خود بھگت لیں گے، اور وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
کفار کی حسرت اور امتوں کی اجل
تشریح : آیات کو پڑھنے سے مطلب واضح ہو رہا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے حدیث سنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (اپنے گناہوں پر ندامت سے نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل (لمبی امید) اور دنیا کی حرص۔ “ (قرطبی عن مسند البزار عن انس ؓ
رسول کریم ﷺ نے فرمایا : کہ اس امت کے پہلے طبقے کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اغراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل (لمبی مدت) کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن)
ہر فرد کی موت کا وقت اور جگہ اللہ کے پاس لکھی ہوئی موجود ہے جو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔
ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ جب تک یہ مدت باقی رہی اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلت دی۔ لیکن جوں ہی مدت پوری ہوئی فوراً انہیں گرفت میں لے لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول (محمد ﷺ ) کیساتھ تکذیب و استھذا کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ہم نے تاحال گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا ہے کہ تمہاری گرفت میں لے لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول (محمد ﷺ ) کے ساتھ تکذیب و استھزا کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ہم نے تاحال گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا ہے کہ تمہاری گرفت ہوگی ہی نہیں۔
Read the full tafseer →(15:4) من قریۃ۔ ای قریۃ من القری۔ بستیوں میں سے کسی بستی کو۔
کتب۔ ایک مقرروقت۔ وقت جو لوح محفوظ پر مکتوب ہے۔
معلوم۔ جو ہر وقت علم میں ہے ۔ بھول چوک کی نذر نہیں ہوتا۔ کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہوجائے۔ ولھا کتاب معلوم یہ جملہ قریۃ کا حال ہے یا جیسا کہ صاحب ِ کشاف (رح) نے لکھا ہے کہ یہ قریۃ کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5
تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ مبین کھلا، واضح، روشن۔ ربما کبھی کبھی۔ اکثر ۔ یود پسند ہوگا۔ لو اگر، کاش۔ مسلمین فرماں بردار۔ گردن جھکانے والے۔ ذر چھوڑ دے۔ یا کلون وہ کھائیں گے۔ یتمتعوا وہ فائدہ حاصل کریں گے۔ یلھھم (الھاء لھو) ، دل لگانا، غافل ہونا الامل امید، آزاد۔ سوف جلد، عنقریب۔ اھلکنا ہم نے ہلاک کیا۔ برباد کیا۔ قریۃ بستی۔ شہر کتاب لکھا ہوا۔ معلوم مقرر۔ ماتسبق آگے نہیں بڑھتی۔ امۃ جماعت، گروہ ۔ اجل مدت، موت۔ یستاخرون وہ دیر کرتے ہیں۔ پیچھے ہٹتے ہیں۔
تشریح آیت نمبر : 1 تا 5
مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی منکرین توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہ لانے والوں کا بھیانک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
دنیا کی لذتوں مین پڑے رہنے کا ذکر
اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ان کے پیچھے نہ پڑئیے کہ خواہی نہ خواہی (لازمی طور پر) یہ ایمان ہی لائیں اور اچھے عمل کریں، بت پرستی چھوڑ دیں، دین حق کو قبول کریں یہ کبھی راہ راست پر نہیں آئیں گے۔ ان سے کہہ دو کہ دنیا میں جتنا جی چاہے کھا پی لو، اور عیش و آرام کرلو اور ہمیشہ جینے کی امید پر بیٹھے رہو، آگے جو ہوگا وہ سب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ ابھی تو یہی گمان کرتے رہو کہ ہماری عمر بہت بڑی ہے ہم ابھی کیا مرنے والے ہیں۔ اس آیت میں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ دنیا کی لذتوں میں پڑے رہنا اور طول طویل امید پر بیٹھے رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[2] یعنی مرنے کے ساتھ ہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
جب نشہ غفلت کافور ہوجائیگا :
(ف 1) اصل تقسیم سورتوں کی ہے ، پاروں کی تقسیم اور کی ہے اور اس میں مضمون کی رعایت نہیں ہوتی ، یہی وجہ ہے بعض دفعہ بارپ شروع ہوجاتا ہے مگر مضمون کا تعلق سابقہ آیات سے ہوتا ہے ۔
سورة الحجر شروع ہے ، ایک آیت ادھر ہے اور ایک آیت بعد پارہ شروع ہوجاتا ہے ، حالانکہ مضمون کا تقاضا یہ تھا کہ پارہ کو ابتداء سورت سے شروع کردیا جاتا ۔
سورت میں قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ یہ واضح اور بین ہدایت نامہ ہے ، آج گو منکرین اس کے حقائق ومعارف کا انکار کر رہے ہیں مگر ایک وقت آئے گا جب یہ لوگ پچھتائیں گے ، اور کہیں گے اے کاش ! ہم نے اسلام کی ہدایت کو قبول کرلیا ہوتا ، اس کے بعد حضور ﷺ کو…
Read the full tafseer →4 ۔ اور ہم نے کسی بستی کو برباد و ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کی ہلاکت و بربادی کا ایک وقت مقرر لکھا ہوا تھا۔ یعنی کفر کی وجہ سے جو آبادیاں ہلاک و برباد کی گئیں ان کی بربادی کا ایک مقررہ وقت علم الٰہی میں لکھا ہوا تھا اس لئے کافروں کو جو مہلت ملی ہوئی ہے اس پر مغرور نہ ہوں ، اور مسلمان نہ اندیشہ نہ کریں کہ ان پر عذاب میں جلدی کیوں نہیں کی جاتی کیونکہ جس طرح اور بستیوں پر لکھے ہوئے وقت رہی عذاب آیا اسی طرح ان پر بھی لکھے ہوئے مقررہ وقت پر عذب نازل ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ف 4۔ بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور معلوم ہوگا کہ اس کی علت کفر ہے تب ہی اسلام نہ لانے پر تازہ حسرت کریں گے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
ہم نے کبھی کسی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس وقت پر جو اس کیلئے مقرر تھا :
4۔ فرد اور قوم کی ہلاکت کا وقت مقرر ہے اور جب تک وہ وقت مقررہ نہ آجائے ہم اس کو کبھی ہلاک نہیں کرتے کیونکہ اس وقت میں تقدیم وتاخیر نہیں ہو سکتی اور یہ مضمون قرآن کریم میں اتنی بار بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بیان کی زیادہ ضرورت نہیں ، بلکہ اس کو سمجھ لینے کے بعد اس پر قائم رہنا اور اس پر پختہ یقین کرنا ضروری ہے ، گزشتہ قوموں کے واقعات آپ پیچھے پڑھتے آرہے ہیں اور خصوصا سورة ہود میں آپ نے ہر نبی ورسول کی امت کا تفصیلی تذکرہ بھی اسی جلد میں پڑھا ہے اس پر غور کرو گے تو یہ بات مزید واضح ہوجائے گی کہ جس قوم کی ہلاکت کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
Commentary
From: ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا (Let them eat ...3) we can see that the making of eating and drinking the real occupation and aim of life, and keeping glued to long-drawn material plans while surrounded by countless things of worldly comfort, and becoming totally heedless to death, is something which can be done only by the disbelievers. The reason is that they do not believe in the 'Akhirah, the life to come, and the accounting of deeds there, and the reward and punishment for it. As for eating and drinking, a believer does it too, and takes care of economic needs to the measure of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2. This is to refute the fallacious argument of the disbelievers that Muhammad (peace be upon him) was not a true Prophet because they had received no prompt punishment for their disbelief. It is like this: We have never seized a community at the first committal of kufr.
We prescribe a limit for every community to hear and understand the message and reform its ways. Then We tolerate its mischief and evil deeds up to that limit and allow it full freedom to do as it likes, and give it respite till the term expires. That is why We are tolerating their attitude of ridicule and denial. (For the…
Read the full tafseer →