Al-Hijr 15:5

Al-Hijr · from ayah 5

15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ۟مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاْخِرُوۡنَ‏

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No nation will precede its term, nor will they remain thereafter.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:5

کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کوئی گروه اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے رہتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کوئی قوم اپنے معین وقت سے نہ پہلے ہلاک ہوتی ہے اور نہ اس سے آگے جاسکتی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کو ئی گروہ اپنے وعدہ سے آگے نہ بڑھے نہ پیچھے ہٹے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کوئی بھی قوم (قانونِ عروج و زوال کی) اپنی مقررہ مدت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کوئی امت اپنے مقرر وقت سے نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کوئی قوم اس مقررہ مدت سے پہلے ہلاک نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس مدت کے بعد بچی رہ سکتی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کوئی قوم نہ اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھتی نہ پیچھے ہٹتی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کوئی بھی قوم نہ تو اپنے مقرر وقت سے پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ ہی اس سے پیچھے رہ سکی ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

کوئی قوم اپنی میعاد مقرر سے نہ آگے نکل سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کوئی امت نہ تو اپنے وقت معین سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کوئی جماعت اپنی وفات کے وقت سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

No people can outstrip the term for its destruction nor can it delay it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No people can precede their appointed time, nor can they exceed it.

— Muhammad Taqi Usmani

No people can precede their appointed time, nor can they exceed it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No nation can advance its term, nor delay it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

No nation can outstrip its term nor can they lag behind.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No nation will precede its term, nor will they remain thereafter.

— Saheeh International

Every nation can only live for the time appointed for it.

— Muhammad Sarwar

No people can hasten on their doom nor can they postpone (it).

— Muhammad Habib Shakir

No community precedeth the term thereof nor doth it fall behind.

— Abdul Majid Daryabadi

Neither can a people anticipate its term, nor delay it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–5

بعد از مرگ پشیمانی کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہوگی۔ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ ابن عباس اور انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة الْحِجْر 2 ”مطلب یہ ہے کہ کفر کرتے ہی فورا تو ہم نے کبھی کسی قوم کو بھی نہیں پکڑ لیا ہے، پھر یہ نادان لوگ کیوں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نبی کے ساتھ تکذیب و استہزاء کی جو روش انہوں نے اختیار کر رکھی ہے اس پر چونکہ ابھی تک انہیں سزا نہیں دی گئی، اس لیے یہ نبی سرے سے نبی ہی نہیں ہے۔ ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ ہم ہر قوم کے لیے پہلے سے طے کرلیتے ہیں کہ اس کو سننے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے اتنی مہلت دی جائے گی، اور اس حد تک اس کی شرارتوں اور خباثتوں کے باوجود پورے تحمّل کے ساتھ اسے اپنی من مانی کرنے کا موقع دیا جاتا رہے گا۔ یہ مہلت جب تک باقی رہتی ہے۔ اور ہماری مقرر کی ہوئی حد جس وقت تک آ نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–7

معارف و مسائل ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا الخ سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کو مقصد اور اصلی مشغلہ بنا لینا اور دنیاوی عیش و عشرت کے سامان میں موت سے بےفکر ہو کر طویل منصوبوں میں لگے رہنا کفار ہی سے ہوسکتا ہے جن کا آخرت اور اس کے حساب و کتاب اور جزا وسزا پر ایمان نہیں مومن بھی کھاتا پیتا ہے اور معاش کا بقدر ضرورت سامان کرتا ہے اور آئندہ کاروبار کے منصوبے بھی بناتا ہے مگر موت اور فکر آخرت سے غافل ہو کر یہ کام نہیں کرتا اسی لئے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر رہتی ہے اور فضول منصوبہ بندی کو مشغلہ نہیں بناتا رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

تفسیر آیت 4۔ 5: عاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ : وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آرہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہوجاتی ہے ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–6

5۔ 1 جس بستی کو بھی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کرتے ہیں، تو فوراً ہلاک نہیں کر ڈالتے، بلکہ ہم ایک وقت مقرر کئے ہوئے ہیں، اس وقت تک اس بستی والوں کو مہلت دی جاتی ہے لیکن جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو انھیں ہلاک کردیا جاتا ہے پھر وہ اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہوتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–8

2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اتارنے کی فرمائش کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا ہو، اس کے پاس ہم فرشتے اس وقت اتارتے ہیں جب اس قوم کی نافرمانی حد سے گذر جاتی ہے، اور اس فیصلے کا وقت آجاتا ہے کہ اب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ اور جب یہ فیصلہ کر کے فرشتے بھیج دئیے جاتے ہیں تو پھر اس قوم کو ایمان لانے کی مہلت نہیں ملتی۔ کیونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان بالغیب ہے جس میں انسان اپنی عقل اور سمجھ کو کام میں لا کر اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ اگر غیب کی ساری چیزیں دنیا میں دکھا دی جائیں تو امتحان ہی کیا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی امم مہلکہ کی تخصیص نہیں بلکہ ہر قوم کے عروج وزوال یا موت وحیات کی جو میعاد مقرر ہے وہ اس سے ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ ہر قوم پر آنے والے عذاب کا ایک وقت معین تھا جو پہلے سے لکھا ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–5

2 کافر کون کون سے وقت مسلمان ہونے کی خواہش کریں گے ؟ ربما تکثیر اور تقلیل دونوں مواقع پر استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا معنی بسا اوقات اور اکثر اوقات بھی ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی بھی۔ اور اس لفظ کا استعمال بالخصوص اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا متوقع ہو لیکن وہ یاد نہ کرے تو اسے کہتے ہیں کہ کبھی تو ہمیں یاد کرو گے۔ اور اس سے مراد ہر وہ وقت ہوسکتا ہے جب کسی کافر کو اپنی سابقہ زندگی اور اعمال پر حسرت اور ندامت ہو اور اپنے مقابلہ میں مسلمانوں کو عزت اور فلاح و بہبود سے سرفراز ہوتا دیکھے۔ جیسے غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کی خوب پٹائی ہوئی اور مسلمانوں کو عزت اور فتح نصیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–5

4۔ ( چناچہ ان کافروں پر بھی فی الفور جو گرفت نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہی ہے کہ ابھی ان کا وقت موعود نہیں آیا ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون کوئی قوم اپنے مقررہ وقت ہلاکت سے پہلے ہلاکت کی طرف نہ بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ یعنی مقررہ وقت سے نہ پہلے ہلاکت ہوسکتی ہے نہ پیچھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) کوئی امت اپنے وقت مقررہ سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ اس وقت مقررہ سے پیچھے رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ نیز دیکھیے سورة انعام (2)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 5 اس میں من صلہ ہے، جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : ما جاءنی من احد (یعنی اس میں بھی من صلہ ہے) یعنی اس کی مقررہ مدت تجاوز نہیں کریگی کہ وہ اس سے زیادہ ہوجائے، اور نہ اس سے پہلے آئے گی۔ اور اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : فاذا جآء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔ (الاعراف) (سو جب آجائے ان کا مقررہ وقت تو نہ وہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ وہ آگے بڑھ سکتے ہیں)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما اھلکنا من قریۃ الا ولھا کتاب معلوم “ یعنی وہ وقت جو معلوم ہے (اور فرمایا) (آیت ) ” ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون “ یعنی موخر کرنے والا نہیں ہے اس کے بعد۔ 2:۔ امام ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون “ سے مراد ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب اس کی موت حاضرہوتی ہے تو ایک گھڑی نہ موخر ہوتی ہے اور نہ آگے ہوتی ہے اور (جب) اس کی موت حاضر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ موخر کردیتے ہیں اور مقدم کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَا تَسْبِقُ : آگے نہیں نکلتی ] [ مِنْ اُمَّةٍ : کوئی بھی امت ] [اَجَلَهَا : اپنے وقت سے ] [وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں ] (آیت۔ 5) تَسْبِقُ کا فاعل ہونے کی وجہ سے مِنْ اُمَّۃٍ محلَّا حالت رفع میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

جو بستیاں ہلاک کی گئیں ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا اس کے بعد فرمایا (وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ ) (الآیۃ) اور ہم نے جتنی بھی بستیوں کو ہلاک کیا ہے ان کے لیے ایک اجل معین ہے جو ہمارے علم میں ہے جس قوم کی ہلاکت کے لیے جو بھی اجل مقرر کر رکھی تھی اسی کے مطابق ان کی ہلاکت ہوئی اس مضمون کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرمایا (مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ) (کوئی امت اپنی مقررہ اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں) اس آیت کے جو الفاظ ہیں ان کے عموم نے یہ بتادیا کہ آئندہ بھی اگر کوئی قوم ہلاک ہوگی تو اس کی ہلاکت کا جو وقت مقرر اور مقدر ہے وہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–5

بیان حسرت اہل غفلت در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ : ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین .... الیٰ .... وما یستاخرون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کریم کا من جانب اللہ ہونا بیان کیا۔ اب آئندہ آیت میں اس کے نہ ماننے والوں کا انجام بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ جو آج دنیا کی شہوات و لذات میں غرق ہیں اور غفلت کا پردہ ان کے پڑا ہے قیامت کے دن یا بوقت مرگ نہایت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور اس کتاب پر ایمان لائے یا یہ کہ جب کفار یہ دیکھیں گے کہ انبیاء (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو ثواب مل رہا ہے اور ان کے نہ ماننے والوں کو عذاب مل رہا ہے تو اس وقت یہ خواہش کریں گے کہ کاش ہم مسلمان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

5:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے آج تک کسی قوم کو مبتلائے عذاب نہیں کیا جب تک کہ ہم پیغمبر بھیج کر ان پر اپنی حجت قائم نہ کردیں اس لیے ہر قوم کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کردیا گیا کہ اگر وہ نہیں مانیں گے تو انہیں مہلت دی جائے گی تاکہ وہ سوچ بچار سے کام لے کر راہ راست پر آنے کا موقع پا سکیں۔ لیکن جب وہ اجل مسمی تک انکار وعناد پر ڈٹے رہے تو ان کو ہلاک کردیا گیا۔ آج تک کسی قوم کو اجل مقررہ سے پہلے ہلاک نہیں کیا گیا اور نہ کسی قوم کو اس کے بعد مہلت دی گئی۔ یخبر تعالیٰ انہ ما اھلک قریۃ الا بعد قیام الحجۃ علیھا وانتھاء اجلھا وانہ لا یؤخر امۃ حان ھلاکھم عن میقاتہم ولا یتقدمون عن مدتھم (ابن کثیر ج 2 ص…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

(نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة الحجر ہے ، حجر ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور شام کے درمیان تبوک کے قریب واقع ہے ، ہزاروں سال پہلے ثمود جیسی متمدن قوم اس وادی میں آباد تھی یہاں پر ان کے سترہ سو بڑے بڑے شہر اور قصبات تھے ، اس سورة کا نام اسی وادی کے نام سے الحجر موسوم ہے ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہوئے ، یہ سورة مبارکہ مکی دور میں نازل ہوئی ، اس کی 99 آیات اور چھ رکوع ہیں ، یہ سورة 654 الفاظ اور 2770 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) سابقہ مکی سورتوں کی مانند اس سورة مبارکہ میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد قرآن پاک کی حقانیت ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ ۝ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–8

ترکیب : رب بالتخفیف والتشدید و ضم الراء فتحہا وما کافۃ لرب و یمکن ان یکون نکرۃ موصوفۃ ای رب شیء یودہ الذین درب حرف جر لایعمل فیہ مابعدہ و العامل محذوف تقدیرہ رب کافر یود الاسلام الادلھا جملہ نعمت ہے قریۃ کی لوما بمعنی ھلا۔ بروز قیامت کفار کی حسرت : تفسیر : ربما یود کہ قیامت کے دن یا بوقت مرگ یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان والے ہوتے۔ رب کے معنی بعض کہتے ہیں کہ بہت کے ہیں کہ بہت حسرت کریں گے اور بعض کہتے ہیں کم کے ہیں مگر مراد یہاں بہت ہے کہ عرب کی عادت ہے کہ کبھی کثیرالوجود چیز کو یقین دلانے کے لیے بلفظ قلیل ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اس شخص کی نسبت کہ جس سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ وَلَھَا کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اََجَلَھَا وَمَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 4۔ 5) (ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے معین نوشتہ رہا ہے۔ کوئی قوم نہ اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے ہٹتی ہے) ایک سوال کا جواب ان آیتوں میں ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے جو طنز کی صورت میں اشرافِ قریش کی زبان پر رہتا تھا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہو اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص پیغام دے کر بھیجا ہے تو یہ معاملہ تو بہت نازک بھی ہے اور بہت سنگین بھی۔ اس پیغام کی قدر نہ کرنا بلکہ اس کا مذاق اڑانا نہ صرف ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–5

فہم القرآن ربط کلام : اگر کفار ایمان نہیں لاتے تو انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کیا جاتا ہے کہ وقت آئے گا کہ انہیں مسلمان نہ ہونے پر پچھتاوا ہوگا۔ اے نبی ﷺ ! آپ کے اخلاص اور جہد مسلسل کے باوجود یہ لوگ اپنے رب کی خالص بندگی کرنے اور آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ان سے الجھنے کی بجائے ان کو ان کی حالت پر چھوڑتے ہوئے فرما دیجئے : اے حق کا انکار کرنے والو ! تم کھاؤ، پیو اور عیش اڑاؤ۔ اپنے خوبصورت سپنوں اور امیدوں میں مگن رہو۔ لیکن یاد رکھنا وقت آئے گا کہ یہ خواب ایک دن چکنا چور ہوجائیں گے اور جس ذات کبریا کا تم انکار کرتے ہو قیامت کے دن اس کے سامنے تمہیں حاضر ہو کر اپنے اعمال کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وقت سے آگے پیچھے نہ ہوگا : 5: مَاتَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا (کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے سبقت نہیں کرتی) اپنی کتاب کی جگہ میں وَمَا یَسْتَاْ خِرُوْنَ (اور نہ وہ اس سے پیچھے ہٹتے ہیں) ای عنہ کو حذف کردیا گیا کیونکہ وہ معلوم ہے۔ نکتہ : پہلی مرتبہ امت کو مؤنث لائے پھر دوسری مرتبہ مذکر ذکر کیا تاکہ لفظ و معنی دونوں کا لحاظ ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5۔” ما تسبق من امۃ اجلھا “ نہ اس کی ہلاکت ہوسکتی ہے وقت سے پہلے۔ ” ومایستاخرون “ ان کی موت نہ پہلے آسکتی ہے اور نہ دیر سے آسکتی ہے۔ بعض نے کہا کہ ان کے عذاب میں جلدی یا تاخیر نہیں ہوسکتی ۔ بعض نے کہا کہ ان کی زندگی کا وقت متعین ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–5

4۔ 5۔ اس آیت میں اس بات کی خبر دی گئی کہ کوئی گاؤں بغیر حجت تمام کئے ہوئے ہلاک نہیں کیا گیا اور جب تک اس کا مقرر وقت نہ آچکا عذاب نہیں نازل کیا گیا جب کسی قوم کا وقت مقرر آجاتا ہے تو پھر نہ اس سے گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے اجل کے معنے وقت مقررہ کے ہیں اس سے زیادہ اس کی تفصیل سورت انعام میں گزر چکی ہے۔ اس آیت میں اہل مکہ کو جو کافر اور مشرک تھے خوف دلایا گیا ہے کہ تم جس کفر اور شرک پر جمے بیٹھے ہو ایک روز یہ کفر اور شرک جڑ سے اکھڑ جاوے گا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–8

آیت 5 جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انہوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہوجائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔ پس (ذرھم یاکلوا ویتمتعوا) ” چھوڑ دیں ان کو، کھالیں اور فائدہ اٹھا لیں “ اپنی لذتوں سے (ویلھھم الامل) ” اور امیدان کو غفلت میں ڈالے رکھے “ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6۔ ہر قوم اپنے مقررہ وقت پر اپنے انجام کو پہنچ کررہی : پس تاریخ کے اس حوالے سے موجودہ دورے سرکش کفار کو سبق لینا چاہئے۔ اور کچھ عرصہ اگر عذاب نہیں آتا تو اس سے دھوکے میں پڑنے اور مست ہونے کی بجائے ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ اور اپنی روش بدل لینی چاہیے۔ ورنہ وہ عذاب ان پر اپنے مقررہ وقت پر آ کررہے گا جس کے یہ مستحق ہیں، مگر اس وقت کے پچھتاوے سے ان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے ایک ہے۔ پس جس انجام سے کل وہ باغی قومیں دوچار ہوئیں وہ ان کے لئے بھی آکر رہے گا۔ سو ان لوگوں پر جو ان کے کفر وانکار، تمردوسرکشی اور مطالبہ عذاب کے باوجود عذاب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 2–5

کفار کی حسرت اور امتوں کی اجل تشریح : آیات کو پڑھنے سے مطلب واضح ہو رہا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے حدیث سنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (اپنے گناہوں پر ندامت سے نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل (لمبی امید) اور دنیا کی حرص۔ “ (قرطبی عن مسند البزار عن انس ؓ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : کہ اس امت کے پہلے طبقے کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اغراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل (لمبی مدت) کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔ (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن) ہر فرد کی موت کا وقت اور جگہ اللہ کے پاس لکھی ہوئی موجود ہے جو نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ (نیز دیکھئے سورة انعام آیت 2) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:5) ما تسبق۔ ما نفی کا ہے۔ تسبق۔ مضارع واحد مؤنث غائب سبق (ضرب) سے جس کے اصل معنی چلنے میں مقدم ہونے کے ہیں مگر اس کا استعمال بطور مجازواستعارہ مطلق بڑھنے اور سبقت کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔ ما تسبق وہ آگے نہیں نکل جائے گی۔ وہ آگے نہیں نکل سکتی اس کا فاعل امۃ ہے۔ من امۃ ۔ ای امۃ من الامم قوموں میں سے کوئی قوم۔ اجلہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی تقدیر کی معاد مقررہ۔ اس میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب افراد قوم کی رعایت سے لائی گئی ہے۔ جس طرح کہ یستاخرون میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ لا یستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال) وہ پیچھے نہیں رہ سکتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–9

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 9 یایھا اے (حرف ندا) ۔ نزل نازل کیا گیا، اتارا گیا ۔ الذکر یاد دھانی کی چیز۔ قرآن مجید۔ مجنون دیوانہ، اگل۔ تاتینا تو ہمارے پاس آتا ہے۔ ماننزل ہم نازل نہیں کرتے اذا اس وقت۔ انا بیشک ہم۔ نحن ہم سب حافظون حفاظت کرنے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 9 جب نبی کریم ﷺ مکی زندگی میں کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین اور آخرت کی ابدی سچائیوں کی طرف بلاتے تب وہ اپنی روایتی ضد، عناد، ہٹ دھرمی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتوں کو ہونا چاہئے تھا جو اس بات کی علامت ہوتے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سوائے جنون اور دیوانگی کے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–5

دنیا کی لذتوں مین پڑے رہنے کا ذکر اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ان کے پیچھے نہ پڑئیے کہ خواہی نہ خواہی (لازمی طور پر) یہ ایمان ہی لائیں اور اچھے عمل کریں، بت پرستی چھوڑ دیں، دین حق کو قبول کریں یہ کبھی راہ راست پر نہیں آئیں گے۔ ان سے کہہ دو کہ دنیا میں جتنا جی چاہے کھا پی لو، اور عیش و آرام کرلو اور ہمیشہ جینے کی امید پر بیٹھے رہو، آگے جو ہوگا وہ سب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ ابھی تو یہی گمان کرتے رہو کہ ہماری عمر بہت بڑی ہے ہم ابھی کیا مرنے والے ہیں۔ اس آیت میں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ دنیا کی لذتوں میں پڑے رہنا اور طول طویل امید پر بیٹھے رہنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) جس افراد کی زندگی ہے اسی طرح جماعتوں کی زندگی ہے ، جس طرح افراد کے لئے مہلک بیماریوں ہوتی ہیں ، اسی طرح قوموں کے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں ، جو ان کو فنا کردیتے ہیں ، عذاب الہی کے معنے قوموں کی ہلاکت اور موت کے ہیں ، جب وقت آجائے قوموں کی زندگی کا پیمانہ لبریز ہوجائے ، جب ان کی معصیتیں اور گناہ اور ان کی زندگی کو مختصر بنا دیں اور موت کو قریب کردیں اس وقت ایک لمحہ توقف نہیں ڈرتا ۔ یہ اصول ہلاکت ان لوگوں کو اس لئے بتایا جا رہا ہے ، تاکہ انہیں معلوم ہو کر قرآن زندگی وحیات کا سرچشمہ سے اگر تم نے اس کے مجرموں سے نفس کو تازہ دم نہ کیا تو کفر وشرک تمہارے جسموں کو مدقوق کردیں گے اور تمہاری ہلاکت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

5 ۔ کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ اس کے افراد پیچھے رہ سکتے ہیں ۔ یعنی مقررہ وقت سے کوئی قوم اور کوئی جماعت آگے پیچھے نہ ہوسکی لہٰذا ان کا جو وقت علم الٰہی اور حکمت الٰہی میں مقرر ہے اس وقت یہ بھی ختم کردیئے جائیں گے اور آگے بڑھنے او پیچھے سرکنے کی مجال نہ ہوگی ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–8

ف 4۔ بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور معلوم ہوگا کہ اس کی علت کفر ہے تب ہی اسلام نہ لانے پر تازہ حسرت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کوئی امت نہ تو اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے ۔ 5۔ گزشتہ مضمون کی مزید تفصیل اس آیت میں کردی کہ کوئی امت نہ تو اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے اس لئے کافروں پر اگر فی الفور عذاب نہیں آرہا اور گرفت نہیں ہو رہی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی ان کا وقت موعود نہیں آیا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–7

Commentary From: ذَرْ‌هُمْ يَأْكُلُوا (Let them eat ...3) we can see that the making of eating and drinking the real occupation and aim of life, and keeping glued to long-drawn material plans while surrounded by countless things of worldly comfort, and becoming totally heedless to death, is something which can be done only by the disbelievers. The reason is that they do not believe in the 'Akhirah, the life to come, and the accounting of deeds there, and the reward and punishment for it. As for eating and drinking, a believer does it too, and takes care of economic needs to the measure of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

2. This is to refute the fallacious argument of the disbelievers that Muhammad (peace be upon him) was not a true Prophet because they had received no prompt punishment for their disbelief. It is like this: We have never seized a community at the first committal of kufr. We prescribe a limit for every community to hear and understand the message and reform its ways. Then We tolerate its mischief and evil deeds up to that limit and allow it full freedom to do as it likes, and give it respite till the term expires. That is why We are tolerating their attitude of ridicule and denial. (For the…

Read the full tafseer →