Al-Hijr 15:6

Al-Hijr · from ayah 6

15:6

وَقَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ ۟ؕوَ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الَّذِىۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؕ‏

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "O you upon whom the message has been sent down, indeed you are mad.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:6

یہ لوگ کہتے ہیں "اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو یقیناً دیوانہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا کہ اے وه شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اے وہ شخص جس پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے ! تم یقینی طور پر مجنون ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک مجنون ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (کفار گستاخی کرتے ہوئے) کہتے ہیں: اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے! بیشک تم دیوانے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے ! بیشک تو تو دیوانہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کافر یہ کہتے ہیں کہ : اے وہ شخص جس پر یہ قرآن نازل ہوا ہے تو تو دیوانہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یاد دہانی اتاری گئی ہے تم تو ایک خبطی ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں یہ لوگ (اللہ کے رسول سے) کہ اے وہ شخص جس پر اتارا گیا ہے یہ ذکر، تو تو پرلے درجے کا دیوانہ ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر (بہ قول اس کے) نصیحت نامہ اتر ا ہے تو تو مجنون ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر (اس کے بقول) یہ ذکر نازل ہوا ہے (ہمارے نزدیک) تم تو یقیناً دیوانے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت کی کتاب نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: "O you to whom the Admonition has been revealed, you are surely crazed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :O you to whom the Dhikr (the Qur‘an) has been revealed, you are surely insane.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :O you to whom the Dhikr (the Qur‘an) has been revealed, you are surely insane.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they say: "O you (Muhammad) to whom the Dhikr (the Qur'an) has been revealed! Verily, you are a madman!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: O thou unto whom the Reminder is revealed, lo! thou art indeed a madman!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "O you upon whom the message has been sent down, indeed you are mad.

— Saheeh International

(The unbelievers have said), "You to whom the Quran has been revealed are insane.

— Muhammad Sarwar

And they say: O you to whom the Reminder has been revealed! you are most surely insane:

— Muhammad Habib Shakir

And they say: O thou unto whom the Admonition hath been sent down! verily thou art possessed.

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "O thou to whom the Message is being revealed! truly thou art mad (or possessed)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–9

سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) اس پر سونے کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الْحِجْر 3 ”ذکر“ کا لفظ قرآن میں اصطلاحا کلام الہٰی کے لیے استعمال ہوا ہے جو سراسر نصیحت بن کے آتا ہے۔ پہلے جتنی کتابیں انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوئی تھیں وہ سب بھی ”ذکر“ تھیں اور یہ قرآن بھی ”ذکر“ ہے۔ ذکر کے اصل معنی ہیں ”یاد دلانا“ ”ہوشار کرنا“ اور ”نصیحت کرنا“۔ سورة الْحِجْر 4 یہ فقرہ وہ لوگ طنز کے طور پر کہتے تھے۔ ان کو تو یہ تسلیم ہی نہیں تھا کہ یہ ذکر نبی ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ نہ اسے تسلیم کرلینے کے بعد وہ آپ کو دیوانہ کہہ سکتے تھے۔ دراصل ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ”اے وہ شخص جس کا دعوی یہ ہے کہ مجھ پر یہ ذکر نازل ہوا ہے“۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسی فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–7

معارف و مسائل ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا الخ سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کو مقصد اور اصلی مشغلہ بنا لینا اور دنیاوی عیش و عشرت کے سامان میں موت سے بےفکر ہو کر طویل منصوبوں میں لگے رہنا کفار ہی سے ہوسکتا ہے جن کا آخرت اور اس کے حساب و کتاب اور جزا وسزا پر ایمان نہیں مومن بھی کھاتا پیتا ہے اور معاش کا بقدر ضرورت سامان کرتا ہے اور آئندہ کاروبار کے منصوبے بھی بناتا ہے مگر موت اور فکر آخرت سے غافل ہو کر یہ کام نہیں کرتا اسی لئے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر رہتی ہے اور فضول منصوبہ بندی کو مشغلہ نہیں بناتا رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

تفسیر آیت 6 تا 7: وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ۔ لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بِالْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ آنحضرت ﷺ کو طنزیہ انداز میں خطاب کرکے کہتے کہ اے وہ شخص جو مدعی ہے کہ اس پر خدا کی طرف سے ہمارے لیے یاد دہانی اتری ہے تم تو ہمیں ایک خبطی معلوم ہوتے ہو کہ ہمیں تو عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو اور اپنے لیے فوزوفلاح کے مدعی ہو درآنحالیکہ ہمارے حالات تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حالات سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ اگر ہم خدا کے مبغوض و مقہور ہیں اور تم خدا کے محبوب و منظور نظر ہو تو ہم کو یہ نعمتیں کیوں ملی ہوئیں ہیں اور تم ان سے کیوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–6

5۔ 1 جس بستی کو بھی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کرتے ہیں، تو فوراً ہلاک نہیں کر ڈالتے، بلکہ ہم ایک وقت مقرر کئے ہوئے ہیں، اس وقت تک اس بستی والوں کو مہلت دی جاتی ہے لیکن جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو انھیں ہلاک کردیا جاتا ہے پھر وہ اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہوتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–8

2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اتارنے کی فرمائش کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا ہو، اس کے پاس ہم فرشتے اس وقت اتارتے ہیں جب اس قوم کی نافرمانی حد سے گذر جاتی ہے، اور اس فیصلے کا وقت آجاتا ہے کہ اب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ اور جب یہ فیصلہ کر کے فرشتے بھیج دئیے جاتے ہیں تو پھر اس قوم کو ایمان لانے کی مہلت نہیں ملتی۔ کیونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان بالغیب ہے جس میں انسان اپنی عقل اور سمجھ کو کام میں لا کر اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ اگر غیب کی ساری چیزیں دنیا میں دکھا دی جائیں تو امتحان ہی کیا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 مشرکین مکہ یہ الفاظ محض بطریق استہزاء و استخفاف کہتے تھے یعنی آپ سب سے آگے بڑھ کر خدا کے یہاں سے قرآن لے آئے، دوسروں کو احمق و جاہل بتلانے لگے بلکہ ساری دنیا کو الٹی میٹم دیا، اس پر یہ دعویٰ ہے کہ آخر میں ہی غالب ہوں گا اور ایک وقت آئے گا کہ منکرین حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوجاتے۔ یہ کون سی عقل و ہوش کی باتیں ہیں ؟ کھلی ہوئی دیوانگی ہے اور جو پڑھ کر سناتے ہو مجنون کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ معاذ اللہ ! ثم معاذ اللہ ! ! مجنون ”جن“ سے مشتق ہے۔ عربی میں جن کے معنی مخفی چیز کے ہیں۔ اسی معنی میں رحم مادر میں بچے کو جنین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے لفظ ”جنت“ بھی اسی مادہ سے ہے اور اس سے مراد ایسی زمین ہے جو درختوں اور گھاس وغیرہ سے پوری طرح ڈھکی ہوئی ہو۔ سورة الانعام آیت 76 میں حضرت ابراہیم کے تذکرے میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ یعنی جب رات کی تاریکی نے اسے ڈھانپ لیا۔ چناچہ مجنون اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جس پر جن کے اثرات ہوں آسیب کا سایہ ہو اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

3 قریش کا آپ کو مجنوں کہنا :۔ آپ نے سرداران قریش سے کہا تھا کہ اگر تم میری ایک بات مان لو تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ انہوں نے کہا : ایک کیا ہم آپ کی ایسی دس باتیں بھی ماننے کو تیار ہیں تب آپ نے کلمہ ئتوحید کی دعوت پیش کی۔ اس پر یہ قریشی سردار تلملا اٹھے اور کہنے لگے کہ یہ پیغمبر اور اس کے چند ساتھی عجیب طرح کے خبط اور دیوانگی میں پڑے ہوئے ہیں۔ انھیں کھانے کو ملتا نہیں، مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اسلحہ جنگ نام کو نہیں اور خواب دیکھتے ہیں قیصر و کسریٰ جیسی سپر طاقتوں کو فتح کرنے کے۔ یہ اس پیغمبر کی دیوانگی نہیں تو کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (جو پیغمبری اور وحی کے دعوے کرتا ہے) (آیت) ” الذکر “۔ ذکر کے لفظی معنی تو نصیحت کے ہیں، مگر الذکر اصطلاح قرآنی میں قرآن ہی کا ایک نام مقرر ہوچکا ہے۔ اے القران (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون اور (ان کافروں نے بطور استہزاء) کہا : اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے ! تو بلاشبہ پاگل ہے۔ یعنی دیوانوں کی ایسی باتیں کرتا ہے کہ کہتا ہے : مجھ پر قرآن اتارا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–7

(6۔ 7) عبداللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھیوں نے رسول اکرم ﷺ سے یوں کہا اے وہ شخص جس پر تمہارے مطابق بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم نازل کیا گیا ہے، تم مجنون یا دیوانے ہو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہمارے پاس آسمان سے فرشتے کیوں نہیں لاتے جو تمہارے رسول اللہ ﷺ ہونے کی گواہی دیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ : وہ یہ بات بھی استہزا کے لیے کہہ رہے ہیں، یہ نہیں کہ وہ اسے مانتے تھے۔ ”الذِّكْرُ“ سے ہر وہ چیز مراد ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی، اس میں قرآن مجید بھی شامل ہے اور حدیث بھی۔ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ : پچھلی آیات میں کفار کو کتاب اللہ کے جھٹلانے پر ڈانٹا گیا تھا، اب ان کی سرکشی کا بیان ہے اور ان کے رسول کے ساتھ استہزا اور آپ کو جھٹلانے کا بیان ہے۔ وہ لوگ مذاق کے طور پر آپ ﷺ کو پاگل اور دیوانہ کہتے تھے، حالانکہ آپ سب سے زیادہ عقل مند تھے۔ یہ ان کے کفر و استہزا کی بدترین صورت تھی اور انھوں نے یہ بات اس قدر مشہور کر رکھی تھی کہ صحیح مسلم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

آیت نمبر 6 تا 7 کفار قریش نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بطور استہزاء یہ کہا : بعدازاں آپ ﷺ سے اپنی صداقت پر بطوردلیل ملا ئ کہ کو لا نے کا مطا لبہ کیا۔ اور لوما یہ کسی کام پر ابھار نے کیلئے آتا ہے جیسا کہ لولا اور ھلا ہیں۔ اور فراء نے کہا ہے : لو ما میں میم لو لا میں لام کا بدل ہے اور اسی کی طرح استولی علی الشئ اور استوی علیہ ہے۔ اور اس کی مثال خالستہ اور خاللتہ بھی ہے، اور خلمی اور خلی بھی یہی ہے یعنی صدیقی (میرادوست) اور اس بنا پر یہ جائز ہے کہ لوما بمعنی خبر ہو، آپ کہتے ہیں : لومازید لضرب عمرو (اگر زیدنہ ہوتا تو عمر ومارتا) کسائی نے کہا ہے : لولا اور لوماخبر اور استفہام میں دونوں برابر ہیں۔ ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–9

1:۔ امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا یایھا الذی نزل علیہ الذکر “ میں ذکر سے مراد ہے قرآن۔ 2:۔ امام ابوعبید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوما تاتینا بالملٓئکۃ “ اس آیت سے لے کر (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء “ تا کی تقدیم اور تاخیر ہے اور فرمایا (آیت) ” فظلوا فیہ یعرجون “ یعنی اگر ہم کھول بھی دیتے ہیں ان پر دروازہ آسمان سے اور وہ سارا دن اس میں اوپر چڑھتے رہتے (یعنی فرشتے) (آیت ) ” لقالوا انما سکرت ابصارنا “ تو یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کردیا گیا۔ 3:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَالُوْا : اور انھوں نے کہا ] [يٰٓاَيُّھَا الَّذِي : اے وہ (شخص)] [ نُزِّلَ : نازل کیا گیا ] [ عَلَيْهِ : جس پر ] [ الذِّكْرُ : اس نصیحت کو ] [ انكَ : بیشک تو ] [لَمَجْنُوْنٌ: یقینا مجنون ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

جو بستیاں ہلاک کی گئیں ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا اس کے بعد فرمایا (وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ ) (الآیۃ) اور ہم نے جتنی بھی بستیوں کو ہلاک کیا ہے ان کے لیے ایک اجل معین ہے جو ہمارے علم میں ہے جس قوم کی ہلاکت کے لیے جو بھی اجل مقرر کر رکھی تھی اسی کے مطابق ان کی ہلاکت ہوئی اس مضمون کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرمایا (مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ) (کوئی امت اپنی مقررہ اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں) اس آیت کے جو الفاظ ہیں ان کے عموم نے یہ بتادیا کہ آئندہ بھی اگر کوئی قوم ہلاک ہوگی تو اس کی ہلاکت کا جو وقت مقرر اور مقدر ہے وہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–15

ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

6:۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ماننے کے بجائے الٹا آنحضرت ﷺ سے استہزاء کرتے اور آپ کو دیوانہ ہونے کا طعن دیتے اور پھر ازراہ عناد آپ سے مطالبہ کرتے کہ آپ کی تصدیق کرنے کے لیے فرشتے آئیں جو بآواز بلند آپ کی صداقت و رسالت کا اعلان کریں۔ ” مَانُنَزِّلُ الْمَلٰئِکَةَ “ یہ جواب شکوی ہے۔ فرشتوں کا اتارنا ہماری حکمت بالگہ کے ما تحت ہوتا ہے اور فرشتوں کے نازل نہ ہونے ہی میں تمہارا بھلا ہے کیونکہ جب فرشتوں کی آمد کے بعد بھی تم نہ مانو گے تو پھر فوراً ہلاک کردئیے جاؤ گے اور ہرگز مہلت نہ ملے گی۔ ای لو تنزلت الملائکۃ تشھد لک فکفروا بعد ذلک لم ینظروا۔ (قرطبی ج 10 ص 4) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

(ربط آیات) سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ ۝ۭ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–8

ترکیب : رب بالتخفیف والتشدید و ضم الراء فتحہا وما کافۃ لرب و یمکن ان یکون نکرۃ موصوفۃ ای رب شیء یودہ الذین درب حرف جر لایعمل فیہ مابعدہ و العامل محذوف تقدیرہ رب کافر یود الاسلام الادلھا جملہ نعمت ہے قریۃ کی لوما بمعنی ھلا۔ بروز قیامت کفار کی حسرت : تفسیر : ربما یود کہ قیامت کے دن یا بوقت مرگ یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان والے ہوتے۔ رب کے معنی بعض کہتے ہیں کہ بہت کے ہیں کہ بہت حسرت کریں گے اور بعض کہتے ہیں کم کے ہیں مگر مراد یہاں بہت ہے کہ عرب کی عادت ہے کہ کبھی کثیرالوجود چیز کو یقین دلانے کے لیے بلفظ قلیل ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اس شخص کی نسبت کہ جس سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

وَقَالُوْا یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ۔ لَوْمَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِکَۃِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 6۔ 7) (اور یہ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے تم تو ایک مجنون ہو۔ اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے۔ ) قریش کی گری ہوئی حرکت کی حقیقت یہ قریش مکہ کے بگاڑ کی انتہا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو کسی مناسب طریقے سے خطاب کرنے کی بجائے طنزیہ انداز میں اور کسی حد تک حقارت کے ساتھ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ قرآن نازل کیا گیا یہ وہی انداز ہے جو عام طور پر کسی ناقابلِ ذکر آدمی سے کوئی بڑا آدمی بات کرتا ہوا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : حق کا انکار اور دنیا پرستی کی وجہ سے لوگ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مجنوں کہا کرتے تھے۔ حق کے منکر اور دنیا پرست لوگوں کے سامنے دنیا کی جاہ و حشمت، وسائل اور ترقی ہی سب کچھ ہوا کرتی ہے۔ وہ انبیاء (علیہ السلام) اور مصلحین حضرات کو پاگل قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو مقدم سمجھا جائے۔ ظاہر ہے یہ بات دنیا پرست شخص کو کسی صورت گوارا نہیں ہوتی۔ اس لیے حق کے منکر اور دنیا پرست لوگ درج ذیل وجوہات کی بناء پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پاگل کہا کرتے تھے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء ( علیہ السلام) دنیا میں مبعوث فرمائے وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آپ ﷺ پر طعنہ جنون : 6: وَقَالُوْا (اور انہوں نے کہا) یعنی کفار نے یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ (اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا) ذکر سے قرآن مراد ہے اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ (بیشک تو مجنون ہے) مراد اس سے حضرت محمد ﷺ کی ذات لیتے تھے۔ اور یہ کہنا ان کی طرف سے بطور استہزاء تھا۔ جیسا کہ فرعون نے کہا اِنَّ رَسُوْلَکُمْ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ] الشعرا : 27[ وہ نزول قرآن کے کیسے قائل ہوسکتے ہیں جبکہ وہ آپ کو مجنون کہہ رہے ہیں۔ ان کے کلام میں یہ عکس استہزاء کو ظاہر کرتا ہے۔ اور تہکم امنڈ رہا ہے۔ یہ اس طرح جیسا فرمایا فَبَشِّرْ ھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ] آل عمران : 21[…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔” وقالوا “ مشرکین مکہ کہتے تھے ” یایھا الذین نزل علیہ الذکر “ اس سے مراد قرآن ہے اور اس سے مراد محمد ﷺ ہیں ۔” انک لمجنون “ وہ بطور استہزاء کے کہتے کہ اس شخص پر قرآن اتارا گیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

6۔ جب آنحضرت ﷺ نے قریش کو قرآن شریف کی آیتیں پڑھ کر سنائیں اور قریش سے یہ کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو قریش نے یہ دو باتیں کہیں جن کا ان آیتوں میں ذکر ہے ایک تو یہ کہ اللہ کے رسول کو انہوں نے دیوانہ بتلایا دوسری بات یہ کہی جس کا ذکر آگے ہے کہ اگر تم اللہ کے رسول ہو تو تمہارے کلام کی تصدیق کو آسمان سے فرشتے ہماری آنکھ کے سامنے کیوں نہیں آتے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اپنے رسول کو تسلی دی اور قریش کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ اے رسول اللہ کے ان لوگوں کے دیوانہ کہنے سے تم کو کچھ رنج و الم میں نہ پڑنا چاہیے یہ کچھ نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو اللہ کے رسول تھے ان سے بھی مخالف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–8

آیت 5 جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انہوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہوجائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔ پس (ذرھم یاکلوا ویتمتعوا) ” چھوڑ دیں ان کو، کھالیں اور فائدہ اٹھا لیں “ اپنی لذتوں سے (ویلھھم الامل) ” اور امیدان کو غفلت میں ڈالے رکھے “ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–8

7۔ کفار کے پیغمبروں سے مذاق واستہزاء کے ایک نمونے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے یقینا تو پرلے درجے کا دیوانہ ہے، سو کفار ناہنجار کا حضرت محمد ﷺ سے ایسا کہنا مذاق واستہزاء کے طور پر تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس سے ان بدبختوں کے اس مزاح واستہزاء کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے۔ جس کا ارتکاب وہ حضرت رسالت مآب ﷺ کی جناب اقدس واعلیٰ کے بارے میں کیا کرتے تھے، کیوں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا ٹھٹھا اور مذاق کے طور پر تھا۔ یعنی اے وہ شخص جو اپنے اوپر قرآن کے اترنے کا دعویدار ہے (صفوۃ، محاسن، جامع ور مراغی وغیرہ) اور اس طرح انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–9

کفار کا نبی ﷺ کو مجنون کہنا اور فرشتوں کے نزول کا مطالبہ تشریح : اسی مضمون کی آیات پچھلے اسباق میں بھی گزر چکی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کفار مکہ اور آج کل کے کفار میں کوئی خاص فرق نہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ وہ ان پڑھ جاہل اور انتہائی وحشی لوگ تھے۔ ان کو سیدھے راستے پر لانا نبی اکرم ﷺ کا ہی حوصلہ تھا۔ آجکل کے پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی صرف اپنی ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے، حالانکہ قرآن حکیم اتنا زبردست معجزہ ان کے سامنے ہے اسی سے سائنس اور حکمت کے بنیادی اصول لے کر بڑی بڑی سائنسی ایجادات کر رہے ہیں۔ مگر مانتے نہیں۔ قرآن میں جو کچھ حقائق بتائے گئے ہیں وہ اتنے محکم، پکے اور لازوال ہیں کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ کفار کی تہدید کے بعد اب ان کی سرکشی کا بیان ہے۔ نیز اوپر کی آیا تمہیں کفر بالکتاب کا بیان تھا اب کفر بالرسالت کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (شوکانی) ۔ آنحضرت ﷺ کو استہزا کے طور پر مجنون کہتے تھے اور قرآن اور پیغمبر کے ساتھ یہ استہزا کفر کی شدید ترین قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:6) قالوا۔ اشارہ ہے کفار مکہ کی طرف۔ الذکر۔ ذکر کے لفظی معنی تو نصیحت کے ہیں لیکن قرآنی اصطلاح میں قرآن ہی کا ایک نام ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–9

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 9 یایھا اے (حرف ندا) ۔ نزل نازل کیا گیا، اتارا گیا ۔ الذکر یاد دھانی کی چیز۔ قرآن مجید۔ مجنون دیوانہ، اگل۔ تاتینا تو ہمارے پاس آتا ہے۔ ماننزل ہم نازل نہیں کرتے اذا اس وقت۔ انا بیشک ہم۔ نحن ہم سب حافظون حفاظت کرنے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 9 جب نبی کریم ﷺ مکی زندگی میں کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین اور آخرت کی ابدی سچائیوں کی طرف بلاتے تب وہ اپنی روایتی ضد، عناد، ہٹ دھرمی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتوں کو ہونا چاہئے تھا جو اس بات کی علامت ہوتے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سوائے جنون اور دیوانگی کے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–9

کفار کا حضور ﷺ سے تمسخر مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے قریش کو قرآن شریف کی آیتیں پڑھ کر سنائیں اور قریش سے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو قریش نے دو باتیں کہیں : اول تو یہ کہ اللہ کے رسول کو انہوں نے دیوانہ بتلایا۔ دوسری بات یہ کہی جس کا ذکر نیچے کی آیت میں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو تمہارے کلام کی تصدیق کو آسمان سے فرشتے ہماری آنکھوں کے سامنے کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اپنے رسول کریم ﷺ کو تسلی دی اور قریش کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ اے محبوب ﷺ ان لوگوں کے دیوانہ کہنے سے تم کو کچھ رنج والم میں نہ پڑنا چاہیے۔ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جو اللہ کے رسول…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

دانائے عرب کے متعلق جاہلوں کا فتوی : (ف 3) مجنون کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کی مادی آنکھیں روحانی قوتوں کو محسوس نہیں کرسکتیں ، جب انہوں نے نبوت کی حقیقت کو نہ سمجھا ، تو سہل کاروں سے کہہ دیا ، کتاب کا دماغ مختمل ہے ۔ ضرورت یہ تھی کہ یہ لوگ خود دیوانے اور عقل وبصیرت سے بیگانہ تھے نبوت چونکہ ایک فرق العقل حساسئہ بصیرت وادراک کا نام ہے ، اس لئے یہ کوتاہ فہم اس کو نہیں سمجھ سکے ، کیا یہ جنون ہے کہ بصائر ومعارف کا دریا بہا دیا جائے ، لوگوں کو سکون خاطر کی نعمت سے سرفراز کیا جائے انسان کو پورا کیا جائے ، اور انسانوں کو زندگی کا مکمل بروکر عنایت فرمایا جائے ۔ جس کی امت کے ادنی افراد فلسفہ و حکمت کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6 ۔ اور کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب بنا کو یوں کہا اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور جس کا یہ دعویٰ ہے کہ مجھ پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے بیشک تو مجنون و دیوانہ ہے معاذ اللہ یعنی حضور اکرم ﷺ کو رو در رو دیوانہ کہتے ہیں اور خطاب کرتے ہیں کہ اے وہ شخص جو اپنے پر نزول قرآن کا مدعی ہے بلا شبہ تو مجنون و پاگل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–8

ف 4۔ بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور معلوم ہوگا کہ اس کی علت کفر ہے تب ہی اسلام نہ لانے پر تازہ حسرت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : اے پیغمبر اسلام ! یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو دیوانہ بنایا ہے ۔ 6۔ ” ذکر “ کیا ہے ؟ ذکر سے مراد قرآن کریم ہے یہ لفظ اصطلاحا ” کلام الہی کیلئے استعمال ہوا ہے جو سراسر لوگوں کیلئے نصیحت بن کر آیا ہے ، گزشتہ انبیائے کرام (علیہم السلام) پر جو کتابیں نازل کی گئیں وہ بھی ” ذکر “ تھیں اور یہ قرآن کریم بھی ” ذکر “ ہے ” اسے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا “ یہ فرقہ وہ لوگ دراصل استہزا اور مذاقا کہتے تھے یہ بات ان کو تسلیم ہی نہیں تھی کہ یہ ” ذکر “ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے اگر وہ ایسا تسلیم کرتے ہوتے تو پھر آپ ﷺ کو وہ دیوانہ کیوں کہتے ؟ دراصل ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ” اے وہ شخص جس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–7

Commentary From: ذَرْ‌هُمْ يَأْكُلُوا (Let them eat ...3) we can see that the making of eating and drinking the real occupation and aim of life, and keeping glued to long-drawn material plans while surrounded by countless things of worldly comfort, and becoming totally heedless to death, is something which can be done only by the disbelievers. The reason is that they do not believe in the 'Akhirah, the life to come, and the accounting of deeds there, and the reward and punishment for it. As for eating and drinking, a believer does it too, and takes care of economic needs to the measure of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

3. The word zikr literally means“to cause to remember”,“to caution”and“to give advice”. But the Quran has used it as a technical term for“admonition”, which comes as a precept. Thus all the Books that had been sent down to the Messengers were zikr, and the Quran is also zikr.

Read the full tafseer →