Ibrahim 14:40 · Rabbij alni muqimas salah (dua)

Ibrahim · from ayah 40

14:40

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ۖۗ— رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ۟رَبِّ اجۡعَلۡنِىۡ مُقِيۡمَ الصَّلٰوةِ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ‌‌ ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ‏

اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما

— Fateh Muhammad Jalandhari

My Lord, make me an establisher of prayer, and [many] from my descendants. Our Lord, and accept my supplication.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 6 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:40

ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا رب ! مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا دیجیے اور میری اولاد میں سے بھی (ایسے لوگ پیدا فرمایے جو نماز قائم کریں) اے ہمارے پروردگار ! اور میری دعا قبول فرمالیجیے ،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب اور ہماری دعا سن لے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے رب ! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب ! اور میری دعا قبول کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پروردگار ! مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی نماز قائم رکھنے والے بنا۔ پروردگار ! میری یہ دعا قبول فرما

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے رب مجھے نماز کا اہتمام کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرما

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

میرے پروردگار، مجھے بنا دے قائم رکھنے والا نماز کا، اور میری اولاد میں سے بھی (کچھ ایسے لوگ پیدا فرما جو یہ کام کریں) ہمارے پروردگار اور قبول فرما لے میری دعا کو

— مولانا اسحاق مدنی

اے میرے پروردگار مجھ کو بھی نماز کا پابند رکھیے اور میری نسل میں سے بھی (کچھ کو) اے ہمارے پروردگار ہماری دعا قبول کر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے میرے پروردگار ! مجھے بنا دے نماز قائم کرنے والا اور میری اولاد میں سے بھی اے ہمارے پروردگار ! میری اس دعا کو قبول فرما

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے اللہ ! مجھے ایسی توفیق دے کہ نماز قائم کرتا رہوں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش، اے رب العلمین ! میری دعا قبول فرما۔

— محترمہ رفعت اعجاز

My Lord! Enable me and my offspring to establish Prayer, and do accept, our Lord, this prayer of mine.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My Lord, make me steadfast in Salah, and my offspring as well. And, Our Lord, grant my prayer.

— Muhammad Taqi Usmani

My Lord, make me steadfast in Salah, and my offspring as well. And, Our Lord, grant my prayer.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O my Lord! Make me one who performs Salah, and (also) from my offspring, our Lord! And accept my invocation."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My Lord! Make me to establish proper worship, and some of my posterity (also); our Lord! and accept my prayer.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

My Lord, make me an establisher of prayer, and [many] from my descendants. Our Lord, and accept my supplication.

— Saheeh International

Lord, make me and my offspring steadfast in prayer and accept our worship.

— Muhammad Sarwar

My Lord! make me keep up prayer and from my offspring (too), O our Lord, and accept my prayer:

— Muhammad Habib Shakir

My Lord! make me establisher of prayer and also from my progeny, our Lord! and accept Thou my supplication.

— Abdul Majid Daryabadi

O my Lord! make me one who establishes regular Prayer, and also (raise such) among my offspring O our Lord! and accept Thou my Prayer.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–41

مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 38–40

سورة اِبْرٰهِیْم 51 یعنی خدایا جو کچھ میں زبان سے کہہ رہا ہوں وہ بھی تو سن رہا ہے اور جو جذبات میرے دل میں چھپے ہوئے ہیں ان سے بھی تو واقف ہے۔ سورة اِبْرٰهِیْم 52 یہ جملہ معتر ضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے قول کی تصدیق میں فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس حمد وثناء کے بعد پھر دعاء میں مشغول ہوگئے اور فرمایا(آیت) رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ ڰ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ جس میں اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے نماز کی پابندی پر قائم رہنے کی دعاء کی اور آخر میں پھر بطور الحاح کے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری یہ دعا قبول فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 40–41

تفسیر آیات 40 تا 41: رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ ڰ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَاب۔ یہ آخر میں اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس مقصد میں سرگرم رہنے کی دعا کی جس کے لیے انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اور جس کا ذکر اوپر رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کے الفاظ میں ہوچکا ہے۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ میں من تبعیض کا ہے اس لیے کہ مکہ میں انہوں نے اپنی ذریعت میں سے صرف حضرت اسمعیل کو بسایا تھا۔ سب سے آخر میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور تمام اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی دعا مانگی، جیسے اس سے قبل بھی اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی دعا مانگی کہ انھیں پتھر کی مورتیوں کو پوجنے سے بچا رکھنا۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین کے داعیوں کو اپنے گھر والوں کی ہدایت اور ان کی دینی تعلیم و تربیت سے غافل نہیں رہنا چاہیے تبلیغ و دعوت میں انھیں اولیت دینی چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو بھی حکم دیا (وَ اَنْذِرُ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ) 26۔ الشعراء :214) ' اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائے '

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–40

27: حضرت ابراہیم ؑ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل مکہ مکرمہ کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، موسم حج میں تو یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ کہاں کہاں سے لوگ مشقتیں اٹھا کر اس خشک اور بےآب وگیاہ علاقے میں پہنچتے ہیں، موسم حج کے علاوہ بھی لوگ بار بار عمرے اور دوسری عبادتوں کے لئے وہاں پہنچتے ہیں، اور جو ایک مرتبہ وہاں چلا جاتا ہے، اسے بار بار حاضری کا شوق لگا رہتا ہے، اور پھلوں کی افراط کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر کے پھل بڑی تعداد میں وہاں پہنچتے ہیں، حالانکہ وہاں کی زمین میں اپنا کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی میری ذریت میں ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نمازوں کو ٹھیک طور پر قائم رکھیں۔ 4 یعنی میری سب دعائیں قبول فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

آیت 40 رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ یعنی مجھے توفیق عطا فرما دے کہ میں نماز کو پوری طرح قائم رکھوں اور پھر میری اولاد کو بھی توفیق بخش دے کہ وہ لوگ بھی نماز قائم کرنے والے بن کر رہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–40

39 یہاں بخاری سے ایک طویل حدیث درج کی جاتی ہے کہ کن حالات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو اس بےآب وگیاہ وادی میں لا کر بسایا تھا اور اللہ نے ان کے کھانے پینے کا سامان کیسے کیا۔ چاہ زمزم کا پھوٹنا اور بیت اللہ کی تعمیر وغیرہ بہت سے حالات اس حدیث میں تفصیلاً آگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے سیدہ ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا تاکہ سارہ ان کا سراغ تک نہ پائیں۔ چناچہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہاجرہ (علیہ السلام) اور اس کے بچے کو وہاں سے نکال لائے۔ ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھی۔ سیدنا ابراہیم نے انھیں ایک بڑے درخت تلے بٹھا دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ دعاء کے آداب اور طریقے کوئی حضرات انبیاء ہی سے سیکھے، عبودیت کے کن کن پہلوؤں سے کیسے کیسے لجاجت کے انداز سے اپنے محبوب مالک کو پکارتے رہتے ہیں، (آیت) ” رب اجعلنی مقیم الصلوۃ “۔ نماز کی اہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ ایک نبی جلیل القدر اپنے حق میں اس کے واسطے دعائے خصوصی کرتے ہیں۔ (آیت) ” ومن ذریتی “۔ محققین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وحی سے علم ہوگیا تھا کہ حضرت کی نسل میں سب مومن ہی نہ ہوں گے کچھ غیر مومن بھی ہوں گے اس لئے دعاء سب کے حق میں نہ فرمائی، اے بعض ذریتی۔۔۔ انما بعض لانہ علم باعلام اللہ انہ یکون فی ذریتہ کفار (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 ترجمہ : اور اس وقت کا ذکر کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار تو اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے اور بلاشبہ اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمالی اور اس کا محترم بنادیا، کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ وہاں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس کے جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جاتی ہے، اور تو (اے میرے پروردگار) مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بت پرستی کریں دور رکھ، اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے انسانوں کو ان کے ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیا، پس جس نے توحید کے معاملے میں میری اتباع کی تو وہ میرا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی اے میرے رب ! مجھے اور میری کچھ نسل کو نماز کا پابند بنا۔ اقامت صلوٰۃ ‘ نماز کو ارکان و آداب اور پابندی اوقات و شرائط کے ساتھ ہمیشہ ادا کرنا۔ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ میں مِنْ تبعیضی اسلئے ذکر کیا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے یہ معلوم ہوچکا تھا کہ آئندہ میری نسل میں کچھ کافر بھی ہوں گے کیونکہ اللہ نے فرما دیا تھا : لا ینال عھدی الظالمین۔ ربنا وتقبل دعاء اے میرے رب ! اور میری دعا (یا عبادت) قبول فرما۔ ترمذی نے حضرت انس کی روایت سے ‘ امام احمد اور بخاری نے الادب میں اور چاروں اصحاب السنن نے اور ابن حبان نے اور حاکم نے حضرت نعمان بن بشیر کی روایت سے ابویعلی نے حضرت براء بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(40) میرے پروردگار مجھ کو بھی نماز قائم کرنے والا بنادیجیے اور میری اولاد میں سے بھی یعنی مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی نماز کی بدولت عزت و سرفرازی عطا فرمائیے، پروردگار میری عبادت قبول ومنظور فرما۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ : یہ ابراہیم ؑ کی عاجزانہ دعاؤں کا آخری حصہ ہے، جس میں انھوں نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اس چیز پر پابند رہنے کی دعا کی ہے جو توحید و رسالت کے یقین و اقرار کے بعد اسلام میں سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے، یعنی نماز جو خاشعین (عاجزی کرنے والوں) کے سوا سب لوگوں کے لیے نہایت دشوار ہے (دیکھیے بقرہ : 45، 46) اور جس کے متعلق موسیٰ ؑ (جَزَاہ اللّٰہُ عَنَّا وَ عَنْ جَمِیْعِ أُمَّتِنَا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ) نے کہا تھا کہ میں نے بنی اسرائیل کو بہت زیادہ بھگتا ہے، آپ کی امت پانچ نمازوں کی طاقت بھی نہیں رکھے گی۔ سو جو ایمان و کفر کے درمیان فرق…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–41

آیت نمبر 38 تا 41 قولہ تعالیٰ : ربنا انک تعلم ما نخفی وما نعلن یعنی تجھ پر ہمارے حالات میں سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل نے کہا : اسماعیل اور اس کی ماں کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر ان کے متعلق جو میرے جذبات ہیں جن کو میں نے دل میں چھپا رکھا ہے اور جن کو میں نے ظاہر کر رکھا ہے تو سب کو جانتا ہے۔ وما یخفی علی اللہ من شیئ فی الارض ولا فی السمآء ایک قول یہ ہے : یہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) کی گفتگو کا حصہ ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ربنا انک تعلیم ما نخفی وما نعلن کہا تو اللہ تعالیٰ نے وما یخفی علی اللہ من شیئ فی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–43

1:۔ امام ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا انک تعلم ما نخفی “ یعنی اسماعیل اور اس کی مال کی محبت میں سے جو کچھ ہم چھپائے ہوئے ہیں (تو اس کو جانتا ہے) (آیت) ” وما نعلن “ یعنی جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں ان دونوں کے لئے جفا (یعنی سخت دلی) کو (اس کو بھی جانتا ہے ) ۔ 2:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق “ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بہت عرصہ بعد (اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا) 3:۔ امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک سو سترہ سال کے بعد اولاد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبِ : اے میرے رب ] [اجْعَلْنِيْ : تو بنا دے مجھ کو ] [ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ : نماز کو قائم رکھنے والا ] [وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ : اور میری اولاد میں سے (بھی)] [رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [وَتَقَبَّلْ : اور تو قبول کر ] [دُعَاۗءِ : میری دعا کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–41

پھر یوں دعا کی (رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ ) (اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری ذریت میں سے بھی نماز قائم کرنے والے بنائیے اے ہمارے رب دعا کو قبول فرمائیے) اس کے بعد اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے اور تمام مومنین کے لیے دعا کی کہ جس دن حساب قائم ہو اس دن ان سب کی مغفرت فرما۔ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تو کافر مشرک تھا اس کے لیے کیسے مغفرت کی دعا کی جبکہ کافروں کی بخشش نہ ہوگی اس کا جواب سورة توبہ کی آیت (وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–41

دعاء ابراہیمی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا .... الیٰ .... یوم یقوم الحساب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید و نعم الٰہیہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں دعاء ابراہیمی کا ذکر کرتے ہیں چونکہ اہل مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے طریقہ پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا نقل فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ بڑے مؤحد تھے اور شرک سے متنفر تھے۔ اور اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ان سب کو شرک اور بتوں سے دور رکھنا لہٰذا ان کی نسل کو چاہئے کہ ان کے طریقہ پر چلے اور انہیں کی دعاؤں سے یہ ریگستانی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

38:۔ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں جس نے بڑھاپے میں مجھے دو بیٹے اسمعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ ” رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ “ میرے پروردگار ! مجھے بھی نماز کا پابند رکھ اور ہر زمانے میں میری اولاد میں ایسے لوگ پیدا کر جو نماز کے پابند ہوں اس سے نماز کی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور حقیقت میں تقرب الٰہی کا اعمال میں سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–41

(ربط آیات) گذشتہ درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا تھی جس میں انہوں نے قریش مکہ پر ہونے والے خصوصی انعامات کا ذکر کیا تھا ، خود مکہ مکرمہ کے حق میں آپ کی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے پر امن شہر بنا دے ، پھر اپنے لیے اور اپنے متعلقین کے لیے شرک سے بچنے کی دعا کی کیونکہ اصنام پہلے ہی بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بن چکے تھے ، پھر عرض کیا کہ میں اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے گھر کے قریب بےآب وگیاہ سرزمین میں چھوڑ رہا ہوں تاکہ نماز قائم کریں کیونکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس سے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے ، پھر یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ! لوگوں کے دلوں کو میری اولاد کی طرف مائل کردے اور ان کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ ڰ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ 40؁ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ تَّقَبُّلُ : قَبُولُ الشیء علی وجه يقتضي ثوابا کا لهديّة ونحوها . قال تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ ما عَمِلُوا[ الأحقاف/ 16] ، وقوله : إِنَّما يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ [ المائدة/ 27] ، تنبيه أن ليس كل عبادة مُتَقَبَّلَةً ، بل إنّما يتقبّل إذا کان علی وجه مخصوص . قال تعالی: إِنِّي نَذَرْتُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–41

واذقال ابراھیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ کر چلے اور دل میں مفارقت اولاد کا رنج تھا اس وقت خانہ کعبہ کے سامنے آپ نے اللہ سے یہ دعا کی (1) اس مکہ کے جنگل کو امن کا شہر کر دے (چنانچہ کردیا جاہلیت کے ایام میں بھی وہاں کوئی کسی کو ایذا نہ دیتا تھا اس میں مشرکین مکہ پر تعریض ہے کہ تم محمد ﷺ کو کیوں اس شہر میں تکلیف دیتے ہو) ۔ (2) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچانا حضرت کو الہاماً معلوم ہوا ہوگا کہ ایسے معابد میں انجام کار ملت متغیر ہوتے ہوتے بت پرستی بھی ہونے لگے گی سو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی سعادت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 40–41

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْصلے ق رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآئِ ۔ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب۔ (سورۃ ابراھیم : 40۔ 41) (اے میرے رب ! مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔ اے ہمارے رب ! میری التجا ضرور قبول فرما۔ اے ہمارے رب ! مجھے اور میرے والدین کو اور مومنین کو اس دن بخش جس دن حساب قائم ہوگا۔ ) مقصد میں سرگرم ہونے کی دعا یہ وہ آیت کریمہ ہے جسے بالعموم مسلمان نماز کے آخر میں دعا کے طور پر پڑھتے ہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نماز میں اپنی اور اپنی اولاد کے لیے سرگرم رہنے کی دعا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : آدمی ہر حال اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت کا محتاج ہے اس کے لیے اسے وہی ذرائع اور طریقے اختیار کرنے چاہییں جن کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ آدمیجن ذرائع سے اللہ کی مدد کا مستحق اور اس کی رحمت کا سزاوار ہوتا ہے ان میں مؤثر ترین ذریعہ نماز کی ادائیگی ہے۔ مؤذن چوبیس گھنٹوں میں ایک مقررہ وقفے کے بعد پانچ مرتبہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نام لے کر مسلمانوں کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی نوید سناتے ہوئے دعوت دیتا ہے کہ اے کلمہ طیبہ کا اقرار اور اظہار کرنے والو ! آؤ تمہاری کامیابی اللہ کی عبادت ‘ نبی اکرم ﷺ کی اطاعت اور جماعت بندی میں ہے۔ تابع فرمان مسلمان ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

40: رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ (اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا دے اور میری اولاد میں سے بھی) مِنْ تبعیضیہ ہے۔ بعض اولاد مراد ہے۔ اجعلنی کے منصوب پر عطف ہے اور بعض اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کی اولاد میں کفار ہونگے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد میں قیامت تک لوگ فطرت پر قائم رہیں گے رَبَّنَا وَتَقَبَّلَ دُعَآئِ (اے ہمارے رب تو دعا کو قبول فرما) قراءت : مکی نے وصل، وقف میں یاءؔ کے ساتھ پڑھا ابو عمرو نے اسکی موافقت کی۔ اور حمزہ نے وصل میں اسی طرح کہا باقی قراء نے بغیر یاؔ ء کے پڑھا ہے ای استجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

40۔” رب اجعلنی مقیم الصلوٰۃ “ ان میں سے وہ لوگ جو نماز کو اس کے تمام ارکان کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور اس پر محافظت کرتے ہیں ” ومن ذریتی “ میری ذریت میں سے نماز کو قائم کرنے والا بنا دے۔” ربنا و تقبل دعاء “ میرے عمل اور میری عبادت کو قبول فرما ۔ یہاں پر عبارت کو دعا کے ساتھ ذکر فرمایا ۔ حدیث میں آیا کہ دعا عبادت کا مغز ہے، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ اس نے میری دعا کو قبول فرمایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–40

38۔ 41۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کرنے کے بعد یہ بات کہی کہ اے رب تو خوب جانتا ہے کہ میری غرض اس دعا سے کیا ہے میرا مقصد یہی ہے کہ تیری خوشنودی اور رضا مندی ہو تجھ پر کوئی بات ظاہر اور پوشیدہ چھپی نہیں رہتی تجھے سب باتوں کا علم ہے تجھ پر زمین و آسمان کہیں کی کوئی شی پوشیدہ نہیں ہے اس کے بعد خدا کا شکر کیا کہ بڑہاپے میں جب کہ اولاد ہونے کی کوئی امید نہیں ہوتی تو نے اسماعیل و اسحاق دو صاحبزادے مجھ کو عطا کئے اور میری دعا کو قبول کرلیا پھر اپنے واسطے اور اولاد کے واسطے دعا کی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو نماز پر قائم رکھنا اور اپنے لئے اور ماں باپ کے لئے اور سارے مومنوں کے لئے قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–41

40-41: پھر خلیل (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے ان الفاظ میں دعا مانگی (آیت) ” اے میرے رب ! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اور میری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب ! بخش مجھ کو، میرے ماں باپ کو اور سب مومنوں کو جس دن قائم ہو حساب۔ “ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہر دعا قبول فرمالی، سوائے ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کے، جو انہوں نے اپنے باپ کے ساتھ ایک وعدے کی بنا پر مانگی تھی، اور جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے، تو آپ نے اس سے براءت کا اظہار کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–41

83۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء مغفرت وبخشش کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء مغفرت وبخشش کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے اپنے لیے بھی اور اپنی اولاد کے لیے بھی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب بخشش فرمادے میری بھی اور میری اولاد کی بھی کہ یہ سب عقیدہ و ایمان کی دولت سے سرفراز ہو کر تیرے بن جائیں، کہ ایمان وعمل کی یہی پونجی وہ پونجی ہے جو انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے اللہم فشرفنا بہ وزدنا منہ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعاء سے ایک بات یہ واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ مختار کل ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–41

جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو اللہ کے حکم سے وادیٔ فاران کے ایک چٹیل میدان میں چھوڑ آئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلی آیات میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کا بیان تھا تو یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کو حنیف کا لقب ملا۔ حنیف، یعنی یکسو ہو کر عبادت کرنے والا صرف اور صرف اللہ سے لو لگا کر اسی کی عبادت کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے توحید کے سبق کو سب سے زیادہ محنت اور کامیابی سے پھیلایا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–41

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔ (دعا کا طریقہ) حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ یعنی مجھے یہ توفیق دے کہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور آداب کے ساتھ اس کے اوقات پر پابندی سے ادا کرتا رہوں۔ 5 ۔ اسی طرح نماز کا پابند بنا۔ 6 ۔ یا میری پوری دعا جو میں نے تجھ سے مانگی ہے، قبول فرمایا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 38–41

(14:38) نخفی۔ مضارع جمع متکلم (باب افعال) اخفاء مصدر۔ (جو) ہم چھپاتے ہیں۔ چھپا کر کرتے ہیں۔ چھپا کر رکھتے ہیں۔ نعلن۔ مضارع جمع متکلم۔ (باب افعال) اعلان مصدر ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب۔ ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ وھب۔ ھبۃ۔ مصدر۔ (باب فتح) اس نے بخشا۔ وھاب بہت عطا کرنے والا۔ علی الکبر۔ بڑھاپے میں۔ باوجود بڑھاپے کے۔ من ذریتی۔ ای بعض ذریتی۔ (میری اولاد میں سے بھی بعض کو) بعض اس واسطے کہا کہ ان کو منجانب اللہ علم تھا کہ آئندہ اولاد میں سے کافر بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم کو (حضرت ابراہیم کو) لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ تو حضرت ابراہیم نے کہا قال ومن ذریتی۔ (کیا میری نسل سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–41

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41 اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–41

حضرت ہاجرہ اور اسماعیل (علیہما السلام) کو خانہ کعبہ کی سرزمین میں چھوڑنا اور وہاں چشمہ زمزم کا نکلنا۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔ اس وقت آپ کی پہلی بیوی جن کا نام سارہ تھا ان کو دیکھ کر رشک پیدا ہوا۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کردیجیے۔ حکمت الہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چناچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسماعیل کو اس سرزمین میں لے جائیں جہاں اب مکہ معظمہ ہے۔ آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوار کرکے حرم میں لائے اور کعبہ شریف کے نزدیک اتارا، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–46

اخلاص کی پکار : (ف 1) دعاء کا بقیہ حصہ یہ ہے ، کہ اللہ اپنا نیاز مند بنائیو ، رکوع و سجود کی توفیق دیجؤ، مجھے اور میرے والدین کو اپنے آغوش رحمت میں جگہ دیجؤ، مخلص دل سے نکلی ہوئی یہ دعا قبول ہوئی ، آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کی وہی شان ہے زائرین کا ہر وقت تانتا لگا ہوا ہے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بالخصوص ہر سال زیارت کعبہ کے لئے جاتے ہیں ، ” حوللیہ من کل فج عمیق “۔ روزی کی ہر چیز فراوانی کے ساتھ موجود ہے ، غور فرمائیے ایک غیر معروف شخص ایک لق ودق صحرا میں ایک معبد تعمیر کرتا ہے ، اخلاص اور قوت روحانی کا یہ اثر ہے کہ دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

40 ۔ اے میرے پروردگار مجھ کو نماز کی پابندی اور نماز کا اہتمام کرنے والا رکھیو اور میری اولاد میں سے بھی بعضوں کو نماز کا پابند اور اہتمام کرنے والا کیجئو اے ہمارے رب اور میری یہ دعا قبول کرلے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–40

ف 8۔ یہ دعائیں محض عبودیت وافتقار کے لیے ہیں آپ کو اپنی حاجات کی اطلاع کے لیے نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے رب میرے مجھے اور میری اولاد کو نمازی بنا دے اے اللہ ہماری دعا قبول فرما 43 ؎ سبحان اللہ ! دعا کے آداب اور طریقے جو حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) کو آتے تھے دوسرے لوگوں کو کہاں آئیں گے فرمایا ” اے میرے رب ! مجھے نماز کا ادا کرنے والا بنا دے۔ نماز کی اہمیت اس دعا سے ظاہر ہے کہ ایک نبی اور وہ بھی جلیل القدر نبی و رسول اپنے رب سے اپنے حق میں دعائے خصوصی کرتا ہے اور ساتھ ہی ان کی مزیداہمیت جتلانے کو فرماتا ہے کہ ” ومن ذریتی “ اور اے اللہ ! اے میرے رب ! میری اولاد میں سے بھی نمازی بنا دے۔ ” اور اولاد میں سے “ کہنے میں کیا حکمت پنہاں ہے واضح ہو رہا ہے کہ آپ کی نسل میں سے بھی کوئی نہ کوئی ایسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

Brimming with wisdom, there is another prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) which appears in the third verse (37) as follows: رَّ‌بَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّ‌يَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ‌ ذِي زَرْ‌عٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّ‌مِ رَ‌بَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْ‌زُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَ‌اتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُ‌ونَ : 'Our Lord, I have settled some of my children in a valley of no vegetation [ nor any other obvious life support system ] close to Your sanctified House, so that, Our Lord, they may establish Salah. So, make hearts of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–40

51. That is, Lord: You hears what I utter with my tongue and also has full knowledge of my thoughts and feelings. 52. This parenthetical clause has been inserted to confirm the statement of Prophet Abraham (peace be upon him).

Read the full tafseer →