Ibrahim 14:39

Ibrahim · from ayah 39

14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَی الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ ؕ— اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ ۟اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ وَهَبَ لِىۡ عَلَى الۡـكِبَرِ اِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ‌ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَسَمِيۡعُ الدُّعَآءِ

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Praise to Allah, who has granted to me in old age Ishmael and Isaac. Indeed, my Lord is the Hearer of supplication.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 6 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:39

"شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحاقؑ جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل واسحاق (علیہما السلام) عطا فرمائے۔ کچھ شک نہیں کہ میرا پالنہار اللہ دعاؤں کا سننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (جیسے بیٹے) عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب بڑا دعائیں سننے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (علیھما السلام دو فرزند) عطا فرمائے، بیشک میرا رب دعا خوب سننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔ بیشک میرا رب تو بہت دعا سننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحٰق عطا کئے۔ بلاشبہ میرا پروردگار دعا سنتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب دعا کا سننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تمام تعریفیں اس اللہ ہی کو سزاوار ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں عطا فرمائے اسماعیل اور اسحاق (جیسے بیٹے) بیشک میرا رب بڑا ہی سننے والا ہے (ہر کسی کی) دعا کو،

— مولانا اسحاق مدنی

ساری حمد ہے اللہ کیلئے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل واسحق (دو بیٹے) دیئے بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا بڑا سننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کل شکر اور کل ثنا اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے عطا فرمائے باوجود بڑھاپے کے اسماعیل اور اسحاق (جیسے بیٹے) یقیناً میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All praise be to Allah Who, despite my old age, has given me Ishmael and Isaac. Surely my Lord hears all prayers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Praise be to Allah who, despite my old age, blessed me with Ismai'l (Ishmael) and IsHaq (Isaac). Surely, my Lord is the One who listens to the prayer.

— Muhammad Taqi Usmani

Praise be to Allah who, despite my old age, blessed me with Ismail (Ishmael) and IsHaq (Isaac). Surely, my Lord is the One who listens to the prayer.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"All praise is due to Allah, Who has given me in old age Isma'il and Ishaq. Verily, my Lord is indeed the All-Hearer of invocations."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Praise be to Allah Who hath given me, in my old age, Ishmael and Isaac! Lo! my Lord is indeed the Hearer of Prayer.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Praise to Allah, who has granted to me in old age Ishmael and Isaac. Indeed, my Lord is the Hearer of supplication.

— Saheeh International

It is only God who deserves all praise. I praise Him for His giving me my sons Ishmael and Isaac during my old age. My Lord, certainly, hears all prayers.

— Muhammad Sarwar

Praise be to Allah, Who has given me in old age Ismail and Ishaq; most surely my Lord is the Hearer of prayer:

— Muhammad Habib Shakir

All praise be unto Allah who hath bestowed upon me, despite old age lsma'il and ls-haq; verily my Lord is the Hearer of supplication.

— Abdul Majid Daryabadi

"Praise be to Allah, Who hath granted unto me in old age Isma'il and Isaac: for truly my Lord is He, the Hearer of Prayer!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–41

مناجات خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔ ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 38–40

سورة اِبْرٰهِیْم 51 یعنی خدایا جو کچھ میں زبان سے کہہ رہا ہوں وہ بھی تو سن رہا ہے اور جو جذبات میرے دل میں چھپے ہوئے ہیں ان سے بھی تو واقف ہے۔ سورة اِبْرٰهِیْم 52 یہ جملہ معتر ضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے قول کی تصدیق میں فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ اس آیت کا مضمون بھی اس دعاء کا تکملہ ہے کیونکہ یہ دعا کے آداب میں سے ہے کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جائے حضرت ابراہیم ؑ نے خصوصیت سے اس جگہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا کہ شدید بڑھاپے کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرما کر اولاد صالح حضرت اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) عطا فرمائے۔ اس حمد وثنا میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ بچہ جو بےیارومدد گار چٹیل میدان میں چھوڑا ہے آپ ہی کا عطیہ ہے آپ ہی اس کی حفاظت فرمائیں گے آخر میں حمد وثناء کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ۔ یہ اپنی دعا کے حق میں اللہ تعالیٰ کے پچھلے عظیم احسانات کا حوالہ دے کر گویا سفارش بہم پہنچائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل و اسحاق عطا فرمائے، میں اس سے یہی امید رکھتا ہوں کہ جس طرح اس نے ان کے باب میں میری دعا کو قبولیت سے نوازا اسی طرح میری اس دعا کو بھی شرف قبول بخشے گا۔ میں اس سے مانگ کر کبھی محروم نہیں ہوا ہوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

38۔ 1 مطلب یہ ہے کہ میری دعا کے مقصد کو تو بخوبی جانتا ہے، اس شہر کے لئے دعا سے اصل مقصد تیری رضا ہے تو تو ہر چیز کی حقیقت کو خوب جانتا ہے، آسمان و زمین کی کوئی چیز تجھ سے پوشیدہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–40

27: حضرت ابراہیم ؑ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل مکہ مکرمہ کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، موسم حج میں تو یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ کہاں کہاں سے لوگ مشقتیں اٹھا کر اس خشک اور بےآب وگیاہ علاقے میں پہنچتے ہیں، موسم حج کے علاوہ بھی لوگ بار بار عمرے اور دوسری عبادتوں کے لئے وہاں پہنچتے ہیں، اور جو ایک مرتبہ وہاں چلا جاتا ہے، اسے بار بار حاضری کا شوق لگا رہتا ہے، اور پھلوں کی افراط کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر کے پھل بڑی تعداد میں وہاں پہنچتے ہیں، حالانکہ وہاں کی زمین میں اپنا کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی بڑھاپے میں اسحاق سارہ کے اور اسماعیل ہاجرہ کے بطن سے غیر متوقع طور پر عنایت کیے۔ جیسے آپ نے اولاد کے متعلق میری دعا (رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :100) سنی یہ دعائیں بھی قبول فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ جب حضرت اسماعیل کی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم کی عمر 81 برس تھی اور اس کے کئی سال بعد حضرت اسحاق پیدا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–40

39 یہاں بخاری سے ایک طویل حدیث درج کی جاتی ہے کہ کن حالات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو اس بےآب وگیاہ وادی میں لا کر بسایا تھا اور اللہ نے ان کے کھانے پینے کا سامان کیسے کیا۔ چاہ زمزم کا پھوٹنا اور بیت اللہ کی تعمیر وغیرہ بہت سے حالات اس حدیث میں تفصیلاً آگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے سیدہ ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا تاکہ سارہ ان کا سراغ تک نہ پائیں۔ چناچہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہاجرہ (علیہ السلام) اور اس کے بچے کو وہاں سے نکال لائے۔ ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھی۔ سیدنا ابراہیم نے انھیں ایک بڑے درخت تلے بٹھا دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

67۔ (چنانچہ اس نے جس طرح میری پچھلی دعائیں سن لیں اور قبول کرلیں اس کی ذات سے یقین ہے کہ آیندہ بھی ایسا ہی کرتا رہے گا) (آیت) ’ لسمیع الدعآء “۔ یعنی بڑا قبول کرنے والا۔ اے مجیب الدعاء (مدارک) اے انہ یستجیب ممن دعاہ (ابن کثیر) فالسمع بمعنی القبول والاجابۃ مجاز کمافی سمع اللہ تعالیٰ لمن حمدہ (روح) (آیت) ” الحمد للہ “۔ الخ۔ اولاد خصوصا کبرسنی کی اولاد، اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، مسرت وشکر کے قابل نہ کہ کوئی عیب جسے چھپایا جائے یا اس سے شرمایا جائے۔ (آیت) ” علی الکبر “۔ توریت میں ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 84 سال کی تھی، (پیدائش 16: 16)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 ترجمہ : اور اس وقت کا ذکر کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار تو اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے اور بلاشبہ اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمالی اور اس کا محترم بنادیا، کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ وہاں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس کے جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جاتی ہے، اور تو (اے میرے پروردگار) مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بت پرستی کریں دور رکھ، اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے انسانوں کو ان کے ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیا، پس جس نے توحید کے معاملے میں میری اتباع کی تو وہ میرا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الحمد اللہ الذی وھب لی علی الکبر اسماعیل واسحٰق تعریف ہے اس اللہ کو جس نے باوجود بڑھاپے کے مجھ کو اسماعیل و اسحاق (دونوں بچے) عطا فرمائے۔ یعنی بڑھاپے کی وجہ سے میں مایوس ہوگیا تھا ‘ ایسی حالت میں اللہ نے اولاد عطا فرمائی۔ یہ اللہ کی عظیم الشان نعمت اور شان قدرت ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب حضرت ابراہیم کی عمر ننانوے سال کی تھی تو حضرت اسماعیل پیدا ہوئے اور ایک سو بارہ سال کی عمر میں حضرت اسحاق کی ولادت ہوئی۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم کو ایک سو سترہ سال کی عمر میں حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ ان ربی لسمیع الدعآء میرا رب دعا کو خوب سننے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) تمام حمد اسی کے لیے ہے جس نے بڑھاپے میں مجھے اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ عطا کیے، حقیقت میں میرا رب دعا کا بڑا سننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ۔۔ : ”وَھَبَ یَھَبُ ھِبَۃً“ کا معنی کسی معاوضے کے بغیر عطا کردینا ہے۔ معلوم ہوا اولاد اللہ تعالیٰ کا ہبہ ہے، یہ صرف اسباب جمع ہوجانے سے نہیں ہوتی، ورنہ ہر تندرست جوڑے کے ملنے سے اولاد ہوجاتی، بلکہ یہ محض عطائے الٰہی ہے، وہ بھی اس کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے، چاہے تو لڑکے ہی دے، چاہے لڑکیاں، چاہے دونوں ملا کر دے اور چاہے تو بےاولاد رکھے۔ (مزید دیکھیے الشوریٰ : 50) رازی نے فرمایا، قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم ؑ کو یہ دونوں بیٹے بڑی عمر اور بڑھاپے میں عطا کیے گئے، لیکن یہ بات کہ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی معلوم نہیں ہوتی، اس کے لیے صرف اسرائیلی روایات…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–41

آیت نمبر 38 تا 41 قولہ تعالیٰ : ربنا انک تعلم ما نخفی وما نعلن یعنی تجھ پر ہمارے حالات میں سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل نے کہا : اسماعیل اور اس کی ماں کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر ان کے متعلق جو میرے جذبات ہیں جن کو میں نے دل میں چھپا رکھا ہے اور جن کو میں نے ظاہر کر رکھا ہے تو سب کو جانتا ہے۔ وما یخفی علی اللہ من شیئ فی الارض ولا فی السمآء ایک قول یہ ہے : یہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) کی گفتگو کا حصہ ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ربنا انک تعلیم ما نخفی وما نعلن کہا تو اللہ تعالیٰ نے وما یخفی علی اللہ من شیئ فی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–43

1:۔ امام ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا انک تعلم ما نخفی “ یعنی اسماعیل اور اس کی مال کی محبت میں سے جو کچھ ہم چھپائے ہوئے ہیں (تو اس کو جانتا ہے) (آیت) ” وما نعلن “ یعنی جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں ان دونوں کے لئے جفا (یعنی سخت دلی) کو (اس کو بھی جانتا ہے ) ۔ 2:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق “ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بہت عرصہ بعد (اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا) 3:۔ امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک سو سترہ سال کے بعد اولاد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلْحَمْدُ : تمام شکر و سپاس ] [ للّٰهِ الَّذِي : اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] [ وَهَبَ : عطا کیا ] [ لِيْ : میرے لئے ] [عَلَي الْكِبَرِ : بڑھاپے کے باوجود ] [اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل ] [وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق ] [ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ : یقینا دعا کو سننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–39

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شکر ادا کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے، اور اپنے لیے اور آل و اولاد کے لیے نماز قائم کرنے کی دعا کرنا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزید دعاؤں کا تذکرہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا (رَبَّنَآ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ ) (الآیۃ) کہ اے ہمارے رب آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں آپ ہماری نیتوں اور ارادوں سے اور ہمارے عزائم سے باخبر ہیں جیسا کہ آپ ہمارے ظاہری اعمال و احوال اوراقوال و اشغال سے باخبر ہیں اور ایک ہمارے ہی اعمال و احوال کیا اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–41

دعاء ابراہیمی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا .... الیٰ .... یوم یقوم الحساب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید و نعم الٰہیہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں دعاء ابراہیمی کا ذکر کرتے ہیں چونکہ اہل مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے طریقہ پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا نقل فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ بڑے مؤحد تھے اور شرک سے متنفر تھے۔ اور اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ان سب کو شرک اور بتوں سے دور رکھنا لہٰذا ان کی نسل کو چاہئے کہ ان کے طریقہ پر چلے اور انہیں کی دعاؤں سے یہ ریگستانی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

38:۔ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں جس نے بڑھاپے میں مجھے دو بیٹے اسمعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ ” رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ “ میرے پروردگار ! مجھے بھی نماز کا پابند رکھ اور ہر زمانے میں میری اولاد میں ایسے لوگ پیدا کر جو نماز کے پابند ہوں اس سے نماز کی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور حقیقت میں تقرب الٰہی کا اعمال میں سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–41

(ربط آیات) گذشتہ درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا تھی جس میں انہوں نے قریش مکہ پر ہونے والے خصوصی انعامات کا ذکر کیا تھا ، خود مکہ مکرمہ کے حق میں آپ کی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے پر امن شہر بنا دے ، پھر اپنے لیے اور اپنے متعلقین کے لیے شرک سے بچنے کی دعا کی کیونکہ اصنام پہلے ہی بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بن چکے تھے ، پھر عرض کیا کہ میں اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے گھر کے قریب بےآب وگیاہ سرزمین میں چھوڑ رہا ہوں تاکہ نماز قائم کریں کیونکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس سے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے ، پھر یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ! لوگوں کے دلوں کو میری اولاد کی طرف مائل کردے اور ان کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ 39؁ حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–41

واذقال ابراھیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ کر چلے اور دل میں مفارقت اولاد کا رنج تھا اس وقت خانہ کعبہ کے سامنے آپ نے اللہ سے یہ دعا کی (1) اس مکہ کے جنگل کو امن کا شہر کر دے (چنانچہ کردیا جاہلیت کے ایام میں بھی وہاں کوئی کسی کو ایذا نہ دیتا تھا اس میں مشرکین مکہ پر تعریض ہے کہ تم محمد ﷺ کو کیوں اس شہر میں تکلیف دیتے ہو) ۔ (2) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچانا حضرت کو الہاماً معلوم ہوا ہوگا کہ ایسے معابد میں انجام کار ملت متغیر ہوتے ہوتے بت پرستی بھی ہونے لگے گی سو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی سعادت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ ط اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآئِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 39) (حمد اور شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب دعائوں کا بہت سننے والا ہے۔ ) سابقہ احسانات کا حوالہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بارگاہ ِ الوہیت میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں اور دل پر عجیب کیفیتیں گزر رہی ہیں۔ حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے بھی واقف ہیں اور اس کی بےنیازیاں بھی ان کے سامنے ہیں۔ مانگتے مانگتے خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دعا کی قبولیت میں تردد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں ہوئے مزید مانگتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کے خاندان کا مختصر تعارف : حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے اور ایک بچی تھی۔ جس کا نام مؤرخین نے بشامہ لکھا ہے۔ آپ کے بارہ بیٹوں کے نام 1۔ نیابوط، جن کو عرب نابت کہتے ہیں۔ 2۔ قید ار حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اس صاحبزادے نے بڑی شہرت حاصل کی نبی اکرم ﷺ اس قیدار کی نسل عدنان سے پیدا ہوئے۔ 3۔ ادبایل 4۔ بمشام 5۔ سمع۔ 6۔ دومہ 7۔ مسا 8۔ حدود 9۔ یلتماد 10۔ جسطور 11۔ نفیس 12۔ قدمہ (توراۃ پ 25) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سروردو عالم ﷺ کے سوا کوئی نبی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ (تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے بڑھاپے میں مجھے عطاء کیا) علیؔ مع کے معنی میں ہے اور یہ موضع حال میں ہے یعنی اس نے مجھے عطاء کیا اس حال میں کہ میں بوڑھا تھا اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ (اسماعیل اور اسحاق) روایت میں ہے کہ جب اسماعیل ( علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تو اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 99 ننانوے سال تھی۔ اور اسحاق ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت 112 سال تھی روایت تفسیر میں ہے کہ اسماعیل ( علیہ السلام) کی پیدائش 64 سال کی عمر میں اور اسحاق ( علیہ السلام) کی پیدائش 90 سال کی عمر میں تھی۔ کبر ؔ بڑھاپے کا ذکر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39۔” الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر “ عطا کریں میرے بڑھاپے کی عمر میں ۔ ” اسماعیل و اسحاق ان ربی لسمیع الدعائ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جب پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ننانوے سال تھی اور ایک سو بارہ سال کی مدت میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک سو سترہ سال کی عمر میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–40

38۔ 41۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کرنے کے بعد یہ بات کہی کہ اے رب تو خوب جانتا ہے کہ میری غرض اس دعا سے کیا ہے میرا مقصد یہی ہے کہ تیری خوشنودی اور رضا مندی ہو تجھ پر کوئی بات ظاہر اور پوشیدہ چھپی نہیں رہتی تجھے سب باتوں کا علم ہے تجھ پر زمین و آسمان کہیں کی کوئی شی پوشیدہ نہیں ہے اس کے بعد خدا کا شکر کیا کہ بڑہاپے میں جب کہ اولاد ہونے کی کوئی امید نہیں ہوتی تو نے اسماعیل و اسحاق دو صاحبزادے مجھ کو عطا کئے اور میری دعا کو قبول کرلیا پھر اپنے واسطے اور اولاد کے واسطے دعا کی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو نماز پر قائم رکھنا اور اپنے لئے اور ماں باپ کے لئے اور سارے مومنوں کے لئے قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت ) ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحٰق عطا کئے “ اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے اور بڑھاپے میں، مایوسی کی حالت میں اولاد کا عطا ہونا ایک دوسری نعمت ہے۔ پھر ان سب کا صالح انسان اور نبی ہونا جلیل ترین اور افضل ترین مرتبہ ہے۔ (ان ربی لسمیع الدعآء) ” میرا رب دست دعا کا سننے والا ہے۔ “ یعنی جو کوئی اس سے دعا مانگتا ہے وہ قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔ میں نے بھی اس کے سامنے دست دعا دراز کیا اور اس نے مجھے ناامید نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80۔ حاجت رواومشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : حضرات انبیاء ورسل بھی اسی کے محتاج ہیں، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ سب تعریفیں اور تمام شکر وسپاس اس اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے مجھے بڑھاپے میں اولاد سے نوازا، جو کہ بچے ملنے کا وقت نہیں ہوتا، کہ بقول حضرت ابن عباس ؓ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت آپ کی عمر ننانوے برس تھی، اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ایک سو بارہ برس، سبحان اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسی عظیم الشان ہستی جو ابو الانبیاء اور امالموحدین کے لقب سے مشہور و معروف ہے، اور جن جیسی امتیازی شان اور خصوصیات کی حامل دوسری کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–41

جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو اللہ کے حکم سے وادیٔ فاران کے ایک چٹیل میدان میں چھوڑ آئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلی آیات میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کا بیان تھا تو یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کو حنیف کا لقب ملا۔ حنیف، یعنی یکسو ہو کر عبادت کرنے والا صرف اور صرف اللہ سے لو لگا کر اسی کی عبادت کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے توحید کے سبق کو سب سے زیادہ محنت اور کامیابی سے پھیلایا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–41

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔ (دعا کا طریقہ) حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی بڑھاپے کے عالم میں ہاجرہ کے بطن سے اسماعیل ( علیہ السلام) اور سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) غیر متوقع طور پر عنایت فرمائے۔ اب جس طرح میری پہلی دعا : رب ھب لی من الصالحین۔ “ ( اے میرے پروردگار مجھے نیک اولاد عنایت فرما) قبول فرمائی ہے اسی طرح میری یہ دعا بھی قبول فرما۔ ہوسکتا ہے کہ میری معت کے بعد ان دونوں اور ان کی اولاد ی اعانت فرماتا رہے اسی طرح الحمد اللہ “۔ کی پہلی دعا سے مناسبت بھی ظاہر ہوجاتی ہے۔ (رازی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 38–41

(14:38) نخفی۔ مضارع جمع متکلم (باب افعال) اخفاء مصدر۔ (جو) ہم چھپاتے ہیں۔ چھپا کر کرتے ہیں۔ چھپا کر رکھتے ہیں۔ نعلن۔ مضارع جمع متکلم۔ (باب افعال) اعلان مصدر ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب۔ ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ وھب۔ ھبۃ۔ مصدر۔ (باب فتح) اس نے بخشا۔ وھاب بہت عطا کرنے والا۔ علی الکبر۔ بڑھاپے میں۔ باوجود بڑھاپے کے۔ من ذریتی۔ ای بعض ذریتی۔ (میری اولاد میں سے بھی بعض کو) بعض اس واسطے کہا کہ ان کو منجانب اللہ علم تھا کہ آئندہ اولاد میں سے کافر بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم کو (حضرت ابراہیم کو) لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ تو حضرت ابراہیم نے کہا قال ومن ذریتی۔ (کیا میری نسل سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–41

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41 اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–41

حضرت ہاجرہ اور اسماعیل (علیہما السلام) کو خانہ کعبہ کی سرزمین میں چھوڑنا اور وہاں چشمہ زمزم کا نکلنا۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔ اس وقت آپ کی پہلی بیوی جن کا نام سارہ تھا ان کو دیکھ کر رشک پیدا ہوا۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کردیجیے۔ حکمت الہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چناچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسماعیل کو اس سرزمین میں لے جائیں جہاں اب مکہ معظمہ ہے۔ آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوار کرکے حرم میں لائے اور کعبہ شریف کے نزدیک اتارا، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 39–46

اخلاص کی پکار : (ف 1) دعاء کا بقیہ حصہ یہ ہے ، کہ اللہ اپنا نیاز مند بنائیو ، رکوع و سجود کی توفیق دیجؤ، مجھے اور میرے والدین کو اپنے آغوش رحمت میں جگہ دیجؤ، مخلص دل سے نکلی ہوئی یہ دعا قبول ہوئی ، آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کی وہی شان ہے زائرین کا ہر وقت تانتا لگا ہوا ہے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بالخصوص ہر سال زیارت کعبہ کے لئے جاتے ہیں ، ” حوللیہ من کل فج عمیق “۔ روزی کی ہر چیز فراوانی کے ساتھ موجود ہے ، غور فرمائیے ایک غیر معروف شخص ایک لق ودق صحرا میں ایک معبد تعمیر کرتا ہے ، اخلاص اور قوت روحانی کا یہ اثر ہے کہ دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

39 ۔ تمام تعریفیں اور تمام حمد و ثنا اس اللہ تعالیٰ کو سزا وار ہے جس نے بڑھاپے میں مجھ کو اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمائے۔ بلا شبہ میرا پروردگار کا بڑا سننے والا ہے۔ حضرت حق کی مہربانیوں کا اعتراف کیا تا کہ دعا کی قبولیت کے لئے مفید ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–40

ف 8۔ یہ دعائیں محض عبودیت وافتقار کے لیے ہیں آپ کو اپنی حاجات کی اطلاع کے لیے نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ہمارے رب ! تیری ذات کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ تو نے مجھے بڑھاپے میں اولاد عطا کی 41 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اے اللہ ! جس طرح تو نے میری پچھلی دعائیں سن لیں اور قبول کرلیں تیری ذات سے مجھے پختہ یقین ہے کہ تو آئندہ بھی ایسا ہی کرتا رہے گا کہ تو دعائوں کا قبول کرنے والا ہے۔ اب تک تو ابراہیم (علیہ السلام) طلب مزید کیلئے دامن پھیلائے رہے اب سابقہ عنایات کا شکریہ ادا کرنے لگے کہ پہلے بھی ہم تیرے دست وجود و سخا کے پروردہ ہیں۔ آج تک تیری ہی چشم لطف و کرم نے ہماری حاجت روائیاں کی ہیں ۔ جب میں بوڑھا ہوگیا ‘ میری بیوی بانجھ ہوگئی اور عام طور پر اولاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

Brimming with wisdom, there is another prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) which appears in the third verse (37) as follows: رَّ‌بَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّ‌يَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ‌ ذِي زَرْ‌عٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّ‌مِ رَ‌بَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْ‌زُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَ‌اتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُ‌ونَ : 'Our Lord, I have settled some of my children in a valley of no vegetation [ nor any other obvious life support system ] close to Your sanctified House, so that, Our Lord, they may establish Salah. So, make hearts of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–40

51. That is, Lord: You hears what I utter with my tongue and also has full knowledge of my thoughts and feelings. 52. This parenthetical clause has been inserted to confirm the statement of Prophet Abraham (peace be upon him).

Read the full tafseer →