Explained with ayahs 38–41
مناجات
خلیل الرحمن ﷺ اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔
ولوادی کی قرأت بعض نے والوالدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سورة اِبْرٰهِیْم 53
حضرت ابراہیم ؑ نے اس دعائے مغفرت میں اپنے باپ کو اس وعدے کی بنا پر شریک کرلیا تھا جو انہوں نے وطن سے نکلتے وقت کیا تھا کہ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ ، (مریم۔ آیت 47)۔ مگر بعد میں جب انہیں احساس ہوا کہ وہ تو اللہ کا دشمن تھا تو انہوں نے اس سے صاف تبری فرما دی۔ (التوبہ۔ آیت 114)۔
Read the full tafseer →آخر میں ایک جامع دعاء فرمائی (آیت) رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤ ْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَاب یعنی اے ہمارے پروردگار میری اور میرے والدین کی اور تمام مؤمنین کی مغفرت فرما اس دن جب کہ محشر میں تمام زندگی کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
اس میں والدین کے لئے بھی مغفرت کی دعاء فرمائی حالانکہ والد یعنی آذر کا کافر ہونا قرآن میں مذکور ہے ہوسکتا ہے کہ یہ دعاء اس وقت کی ہو جب کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کافروں کی سفارش اور دعائے مغفرت سے منع نہیں کیا گیا تھا جیسے دوسری جگہ قرآن کریم میں ہے (آیت) وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ۔
احکام و ہدایات
آیات مذکورہ سے دعاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
تفسیر آیات 40 تا 41: رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ ڰ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَاب۔
یہ آخر میں اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس مقصد میں سرگرم رہنے کی دعا کی جس کے لیے انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اور جس کا ذکر اوپر رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کے الفاظ میں ہوچکا ہے۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ میں من تبعیض کا ہے اس لیے کہ مکہ میں انہوں نے اپنی ذریعت میں سے صرف حضرت اسمعیل کو بسایا تھا۔ سب سے آخر میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور تمام اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ حضرت…
Read the full tafseer →41۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا اس وقت کی جب کہ ابھی ان پر اپنے ماں باپ کا عَدُوُّاللّٰہِ ہونا واضح نہیں ہوا تھا، جب یہ واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے اظہار سبکدوشی کردیا۔ اس لئے کہ مشرکین کے لئے دعا کرنا جائز نہیں چاہے وہ قرابت قریبہ ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔
Read the full tafseer →28: یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا باپ آزر تو کافر تھا اس کے لیے آپ نے مغفرت کی دعا کیسے فرمائی جواب یہ ہے کہ جس وقت یہ دعا فرمائی ہوسکتا ہے کہ اس کے کفر کی حالت میں مرنے کی آپ کو خبر نہ ہوئی ہو۔ لہذا دعا کا مطلب یہ ہوا کہ اس کو ایمان کی توفیق مل جائے۔ جو اس کے لیے مغفرت کا سبب ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک آپ کو مشرک باپ کے لیے دعا کرنے سے منع نہ فرمایا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر…
Read the full tafseer →5 یہ دعا غالباً اپنے والد کے حالت کفر پر مرنے کی خبر موصول ہونے سے پہلے کی۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ اسے اسلام کی ہدایت کر کے قیامت کے دن مغفرت کا مستحق بنا دے۔ اور اگر مرنے کی خبر ملنے کے بعد دعا کی ہے تو شاید اس وقت تک خدا تعالیٰ نے آپ کو مطلع نہیں کیا ہوگا کہ کافر کی مغفرت نہیں ہوگی۔ عقلاً کافر کی مغفرت محال نہیں، سمعاً ممتنع ہے۔ سو اس کا علم سمع پر موقوف ہوگا اور قبل از سمع امکان عقلی معتبر رہے گا۔ بعض شیعہ نے یہ لکھا ہے کہ قرآن کریم میں ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کو جو کافر کہا گیا ہے وہ ان کے حقیقی باپ نہ تھے بلکہ چچا وغیرہ کوئی دوسرے خاندان کے بڑے تھے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
آیت 40 رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ
یعنی مجھے توفیق عطا فرما دے کہ میں نماز کو پوری طرح قائم رکھوں اور پھر میری اولاد کو بھی توفیق بخش دے کہ وہ لوگ بھی نماز قائم کرنے والے بن کر رہیں۔
Read the full tafseer →41 سیدنا ابراہیم کی اپنے والدین کے حق میں معافی کی دعا یا تو مشرک کے لیے دعائے مغفرت سے امتناع سے پہلے کی ہے اور یا اپنے باپ سے اس وعدہ کی بنا پر ہے جو آپ نے گھر سے رخصت ہوتے وقت اپنے والد سے کیا تھا جس کا ذکر سورة توبہ کی آیت نمبر 114 میں گزر چکا ہے تاہم یہ دعا اس قدر جامع ہے جو ہر مسلمان کو اپنے والدین کے حق میں مانگتے رہنا چاہیے۔ اور اسی اہمیت کے پیش نظر ہر نماز میں درود کے بعد اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →69۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے لئے اور مومنین کے حق میں دعاء مغفرت کرنا تو ایک صاف اور سیدھی سی بات ہے البتہ شبہ اس میں پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے کافر والد کے حق میں دعائے مغفرت کیسے کردی ؟ سو اگر یہ دعاء آپ (علیہ السلام) نے ان کی زندگی ہی میں کی تھی جب تو آپ (علیہ السلام) کی مراد یہی ہوگی کہ انہیں توفیق ہدایت دے کر ان کی مغفرت کا سامان کردیاجائے۔ اور اگر بعد وفات یہ دعا کی تھی تو یہ دعاء ان کی ایمان کے ساتھ (علم الہی میں) مشروط ہوگی، یعنی اے پروردگار اگر تیرے علم میں ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے تو ان کی مغفرت کردے۔ (آیت) ” اغفرلی “۔ غفر کے معنی ہیں رحمت الہی کا ڈھانپ لینا، اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
آیت نمبر 35 تا 41
ترجمہ : اور اس وقت کا ذکر کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار تو اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے اور بلاشبہ اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمالی اور اس کا محترم بنادیا، کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ وہاں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس کے جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جاتی ہے، اور تو (اے میرے پروردگار) مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بت پرستی کریں دور رکھ، اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے انسانوں کو ان کے ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیا، پس جس نے توحید کے معاملے میں میری اتباع کی تو وہ میرا یعنی…
Read the full tafseer →ربنا اغفر لی ولوالدی اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والدین مسلمان تھے۔ آذر آپ کا چچا تھا اور تارخ آپ کے باپ کا نام تھا۔ تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ چونکہاب کا لفظ چچا کیلئے بھی بولا جاتا ہے ‘ اسلئے اگر والدیَّ کی جگہ اَبَوَیَّ کا لفظ استعمال کیا جاتا تو خیال ہوسکتا کہ شاید حضرت نے آذر کیلئے بھی دعائے مغفرت کی تھی (باوجودیکہ آذر مشرک تھا اور مشرک ناقابل مغفرت ہے) اس خیال کو دفع کرنے کیلئے وَالِدیَّ فرمایا ‘ یعنی حقیقی ماں اور حقیقی باپ اور بالفرض اگر آذر کو (حقیقی) باپ مان بھی لیا جائے تو اس کیلئے دعائے مغفرت کی وجہ خود…
Read the full tafseer →(41) اور میری اور میرے ماں باپ اور تمام مسلمانوں مرد وعورتوں کی مغفرت فرمائیے جس دن کہ حساب قائم ہوگا اور نیکیوں اور برائیوں کا وزن کیا جائے گا، سوجوس کی نیکیاں غالب ہوں گی تو اس کے لیے جنت ہے اور جس کی برائیاں غالب ہوں گی، اس کے لیے دوزخ ہے اور جس کی نیکیاں غالب ہوگی تو اس کے لیے جنت ہے اور جس کی برائیاں غالب ہوں گی، اس کے لیے دوزخ ہے اور جس کی نیکیاں اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی وہ اہل اعراف سے ہوگا۔
Read the full tafseer →رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ۔۔ : والد کے لیے بخشش کی دعا وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے تھی جو انھوں نے گھر سے نکلتے وقت اس سے کیا تھا، مگر جب وہ شرک ہی پر فوت ہوگیا اور اللہ سے اس کی دشمنی ختم ہونے کی امید ہی نہ رہی تو وہ اس سے صاف بری ہوگئے۔ (دیکھیے توبہ : 114) رہی اپنی والدہ کے لیے دعا تو شاید وہ پہلے ہی مسلمان ہوچکی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق تفصیل سے کچھ بیان نہیں فرمایا۔ تمام مومنین کے حق میں مغفرت کی دعا نوح ؑ (نوح : 28) سے لے کر ہمارے نبی کریم ﷺ (بخاری : 7510) تک انبیاء اور اہل ایمان کرتے چلے آئے ہیں۔ (دیکھیے حشر : 10)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیت نمبر 38 تا 41
قولہ تعالیٰ : ربنا انک تعلم ما نخفی وما نعلن یعنی تجھ پر ہمارے حالات میں سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل نے کہا : اسماعیل اور اس کی ماں کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر ان کے متعلق جو میرے جذبات ہیں جن کو میں نے دل میں چھپا رکھا ہے اور جن کو میں نے ظاہر کر رکھا ہے تو سب کو جانتا ہے۔ وما یخفی علی اللہ من شیئ فی الارض ولا فی السمآء ایک قول یہ ہے : یہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) کی گفتگو کا حصہ ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ربنا انک تعلیم ما نخفی وما نعلن کہا تو اللہ تعالیٰ نے وما یخفی علی اللہ من شیئ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
1:۔ امام ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا انک تعلم ما نخفی “ یعنی اسماعیل اور اس کی مال کی محبت میں سے جو کچھ ہم چھپائے ہوئے ہیں (تو اس کو جانتا ہے) (آیت) ” وما نعلن “ یعنی جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں ان دونوں کے لئے جفا (یعنی سخت دلی) کو (اس کو بھی جانتا ہے ) ۔
2:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق “ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بہت عرصہ بعد (اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا)
3:۔ امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک سو سترہ سال کے بعد اولاد…
Read the full tafseer →[رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [ اغْفِرْ لِيْ : تو بخش دینا مجھ کو ] [وَلِوَالِدَيَّ : اور میرے والدین کو ] [وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ : اور تمام ایمان لانے والوں کو ] [يَوْمَ : جس دن ] [ يَقُوْمُ : قائم ہوگا ] [الْحِسَابُ : حساب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
پھر یوں دعا کی (رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ ) (اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری ذریت میں سے بھی نماز قائم کرنے والے بنائیے اے ہمارے رب دعا کو قبول فرمائیے) اس کے بعد اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے اور تمام مومنین کے لیے دعا کی کہ جس دن حساب قائم ہو اس دن ان سب کی مغفرت فرما۔
یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تو کافر مشرک تھا اس کے لیے کیسے مغفرت کی دعا کی جبکہ کافروں کی بخشش نہ ہوگی اس کا جواب سورة توبہ کی آیت (وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
دعاء ابراہیمی کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا .... الیٰ .... یوم یقوم الحساب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید و نعم الٰہیہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں دعاء ابراہیمی کا ذکر کرتے ہیں چونکہ اہل مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے طریقہ پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا نقل فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ بڑے مؤحد تھے اور شرک سے متنفر تھے۔ اور اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ان سب کو شرک اور بتوں سے دور رکھنا لہٰذا ان کی نسل کو چاہئے کہ ان کے طریقہ پر چلے اور انہیں کی دعاؤں سے یہ ریگستانی…
Read the full tafseer →39:۔ انبیاء (علیہم السلام) بارگاہ الٰہی میں انتہائی تقرب کے باعث اپنی معمولی لغزشوں اور بھول چوک کو بھی گناہ سمجھتے۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی ہی معمولی لغزشوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ رہے ہیں۔ والدین سے آدم و حواء (علیہما السلام) مراد ہیں اور اگر حقیقی والدین مراد ہوں تو یہ دعاء ان کے ایمان سے مایوسی اور نہی ربانی سے قبل کی ہوگی ای اٰدم وحواء او قالہ قبل النھی والیاس عن ایمان ابویہ (مدارک ج 2 ص 204) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
(ربط آیات)
گذشتہ درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا تھی جس میں انہوں نے قریش مکہ پر ہونے والے خصوصی انعامات کا ذکر کیا تھا ، خود مکہ مکرمہ کے حق میں آپ کی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے پر امن شہر بنا دے ، پھر اپنے لیے اور اپنے متعلقین کے لیے شرک سے بچنے کی دعا کی کیونکہ اصنام پہلے ہی بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بن چکے تھے ، پھر عرض کیا کہ میں اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے گھر کے قریب بےآب وگیاہ سرزمین میں چھوڑ رہا ہوں تاکہ نماز قائم کریں کیونکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس سے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے ، پھر یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ! لوگوں کے دلوں کو میری اولاد کی طرف مائل کردے اور ان کو…
Read the full tafseer →رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ 41ۧ
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
واذقال ابراھیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ کر چلے اور دل میں مفارقت اولاد کا رنج تھا اس وقت خانہ کعبہ کے سامنے آپ نے اللہ سے یہ دعا کی (1) اس مکہ کے جنگل کو امن کا شہر کر دے (چنانچہ کردیا جاہلیت کے ایام میں بھی وہاں کوئی کسی کو ایذا نہ دیتا تھا اس میں مشرکین مکہ پر تعریض ہے کہ تم محمد ﷺ کو کیوں اس شہر میں تکلیف دیتے ہو) ۔ (2) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچانا حضرت کو الہاماً معلوم ہوا ہوگا کہ ایسے معابد میں انجام کار ملت متغیر ہوتے ہوتے بت پرستی بھی ہونے لگے گی سو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی سعادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْصلے ق رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآئِ ۔ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب۔ (سورۃ ابراھیم : 40۔ 41)
(اے میرے رب ! مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔ اے ہمارے رب ! میری التجا ضرور قبول فرما۔ اے ہمارے رب ! مجھے اور میرے والدین کو اور مومنین کو اس دن بخش جس دن حساب قائم ہوگا۔ )
مقصد میں سرگرم ہونے کی دعا
یہ وہ آیت کریمہ ہے جسے بالعموم مسلمان نماز کے آخر میں دعا کے طور پر پڑھتے ہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نماز میں اپنی اور اپنی اولاد کے لیے سرگرم رہنے کی دعا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزید دعائیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ برا سلوک کرنے کے باوجود باپ کے لیے بخشش کی دعا کا وعدہ :
” ابراہیم کا تذکرہ کیجیے یقیناً وہ سچا نبی تھا جب انھوں نے اپنے باپ سے کہا ابا جان آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنتے ہیں نہ بولتے ہیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکتے ہیں ابا جان مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا میری فرمانبرداری کیجیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلاؤں گا۔ ابا جان شیطان کی پرستش نہ کیجیے یقیناً شیطان اللہ کا نافرمان ہے۔ ابا جان مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو اللہ کا عذاب آپکڑے اور آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں۔ اس نے کہا ابراہیم…
Read the full tafseer →41: رَبَّنَااغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ (اے میرے رب ! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے) آدم و حواء مراد ہیں۔ نمبر 2۔ اپنے والد کے ایمان سے مایوس اور دعا کی ممانعت سے قبل یہ دعا کی جیسا دوسری آیت میں ہے۔ ماکان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ (الاٰیۃ) وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ ( اور ایمان والوں کو بخش دے قیامت کے دن) یعنی جس دن حساب ثابت ہوگا نمبر 2۔ حساب کی طرف قیام کی نسبت اسناد مجازی ہے جیسے وسئل القریۃ ] یوسف : 82[ میں ہے۔
Read the full tafseer →41۔” ربنا اغفرلی ولوالدی “
ایک شبہ اور اس کا جواب
سوال : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کے لیے کیسے استغفار فرمایا حالان کہ وہ دونوں مؤمن نہیں تھے ؟
جواب : بعض نے کہا کہ آپ کی والدہ مسلمان ہوگئی تھیں ۔ بعض نے کہا کہ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ وہ اسلام لے آئیں اور توبہ کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب آپ کو آپ کے باپ کے متعلق وضاحت بیان نہیں کی گئی تھی لیکن جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کے متعلق سورة توبہ میں بیان کردیا گیا تو آپ ان کے متعلق استغفار سے رک گئے۔ ” وللمومنین “ اور تمام مومنین کو بخشش دے۔ ” یوم…
Read the full tafseer →41۔ شریعت میں ظلم کا لفظ شرک اور کبیرہ گناہ دونوں معنوں میں بولا جاتا ہے چناچہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسند امام احمد ترمذی اور نسائی میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب سورت انعام کی آیت { الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم } [6: 82] نازل ہوئی تو صحابہ کرام کو بڑا اندیشہ ہوا اور صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت ہم میں ایسا کون شخص ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا اور طرح طرح کے گناہ نہیں کرتا آپ نے فرمایا اس آیت میں ظلم کے معنے شرک کے ہیں لیکن صحابہ نے ظلم کے معنے گناہ کے جو سمجھے تھے اس کی ایک طرح سے آپ نے تائید فرمائی کہ سورت لقمان کی آیت { ان الشرک لظلم عظیم } [31: 13] پڑھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
40-41: پھر خلیل (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے ان الفاظ میں دعا مانگی (آیت) ” اے میرے رب ! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اور میری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب ! بخش مجھ کو، میرے ماں باپ کو اور سب مومنوں کو جس دن قائم ہو حساب۔ “ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہر دعا قبول فرمالی، سوائے ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کے، جو انہوں نے اپنے باپ کے ساتھ ایک وعدے کی بنا پر مانگی تھی، اور جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے، تو آپ نے اس سے براءت کا اظہار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
83۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء مغفرت وبخشش کا ذکر وبیان :
سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء مغفرت وبخشش کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے اپنے لیے بھی اور اپنی اولاد کے لیے بھی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب بخشش فرمادے میری بھی اور میری اولاد کی بھی کہ یہ سب عقیدہ و ایمان کی دولت سے سرفراز ہو کر تیرے بن جائیں، کہ ایمان وعمل کی یہی پونجی وہ پونجی ہے جو انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے اللہم فشرفنا بہ وزدنا منہ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعاء سے ایک بات یہ واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ مختار کل ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں
تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو اللہ کے حکم سے وادیٔ فاران کے ایک چٹیل میدان میں چھوڑ آئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلی آیات میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کا بیان تھا تو یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کو حنیف کا لقب ملا۔ حنیف، یعنی یکسو ہو کر عبادت کرنے والا صرف اور صرف اللہ سے لو لگا کر اسی کی عبادت کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے توحید کے سبق کو سب سے زیادہ محنت اور کامیابی سے پھیلایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔
(دعا کا طریقہ)
حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے وطن سے ہجرت کے وقت اپنے والد سے کہا تھا۔ “ ساستغفرلک ربی (میں تیرے لئے اپنے رب سے بخشش چاہوں گا) ۔ اس لئے اس دعا میں انہوں نے اپنے والد کو شریک کرلیا۔ لیکن بعد میں جب انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے قطعی بیزاری کا اعلان کردیا۔ (دیکھئے سورة توبہ آیت 411) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
(14:38) نخفی۔ مضارع جمع متکلم (باب افعال) اخفاء مصدر۔ (جو) ہم چھپاتے ہیں۔ چھپا کر کرتے ہیں۔ چھپا کر رکھتے ہیں۔
نعلن۔ مضارع جمع متکلم۔ (باب افعال) اعلان مصدر ہم ظاہر کرتے ہیں۔
وھب۔ ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ وھب۔ ھبۃ۔ مصدر۔ (باب فتح) اس نے بخشا۔ وھاب بہت عطا کرنے والا۔
علی الکبر۔ بڑھاپے میں۔ باوجود بڑھاپے کے۔
من ذریتی۔ ای بعض ذریتی۔ (میری اولاد میں سے بھی بعض کو) بعض اس واسطے کہا کہ ان کو منجانب اللہ علم تھا کہ آئندہ اولاد میں سے کافر بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم کو (حضرت ابراہیم کو) لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ تو حضرت ابراہیم نے کہا قال ومن ذریتی۔ (کیا میری نسل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41
اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
حضرت ہاجرہ اور اسماعیل (علیہما السلام) کو خانہ کعبہ کی سرزمین میں چھوڑنا اور وہاں چشمہ زمزم کا نکلنا۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔ اس وقت آپ کی پہلی بیوی جن کا نام سارہ تھا ان کو دیکھ کر رشک پیدا ہوا۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کردیجیے۔ حکمت الہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چناچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسماعیل کو اس سرزمین میں لے جائیں جہاں اب مکہ معظمہ ہے۔ آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوار کرکے حرم میں لائے اور کعبہ شریف کے نزدیک اتارا، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی…
Read the full tafseer →[22] ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کرنا اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے وطن سے نکلتے وقت کیا جیسا کہ سورة مریم آیت 47 صفحہ 706 میں مذکور ہے، مگر بعد میں اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو اس سے روک دیا تو آپ رک گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
اخلاص کی پکار :
(ف 1)
دعاء کا بقیہ حصہ یہ ہے ، کہ اللہ اپنا نیاز مند بنائیو ، رکوع و سجود کی توفیق دیجؤ، مجھے اور میرے والدین کو اپنے آغوش رحمت میں جگہ دیجؤ،
مخلص دل سے نکلی ہوئی یہ دعا قبول ہوئی ، آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کی وہی شان ہے زائرین کا ہر وقت تانتا لگا ہوا ہے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بالخصوص ہر سال زیارت کعبہ کے لئے جاتے ہیں ، ” حوللیہ من کل فج عمیق “۔ روزی کی ہر چیز فراوانی کے ساتھ موجود ہے ، غور فرمائیے ایک غیر معروف شخص ایک لق ودق صحرا میں ایک معبد تعمیر کرتا ہے ، اخلاص اور قوت روحانی کا یہ اثر ہے کہ دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں ،…
Read the full tafseer →41 ۔ اے ہمارے پروردگار ! محاسبہ اعمال کے دن مجھ کو اور میرے والدین کو اور سب ایمان والوں کو بخش دیجئو ۔ یعنی جس دن حساب قائم ہو اور محاسبہ اعمال کا دن ہو تو اس دن تیری طرف سے یہ بخشش کا سامان ہو۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے ‘ اپنے والدین کے لئے اور سارے مومنوں کے لئے دعا فرمائی
44 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنے والدین کیلئے جو دعائے مغفرت فرمائی اس کا ذکر واضح الفاظ میں قرآن کریم میں موجود ہے اس لئے بعض مفسرین نے اس سے یہ اخذ کیا ہے اور پھر اس پر دلائل پیش کئے ہیں کہ آذر جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے اگرچہ ابراہیم (علیہ السلام) اس کو مخاطب کر کے ” یا ابنی “ کے الفاظ کہتے رہے جیسا کہ قرآن کریم میں موجود ہے تاہم مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ دراصل آذر آپ کے والد نہیں تھے بلکہ آذر آپ کا چچا تھا آپ کے والد کا نام ” تارح “ ہے اور وہ مسلمان ہوگیا تھا اور اس کا ثبوت یہ آیت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
Brimming with wisdom, there is another prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) which appears in the third verse (37) as follows: رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ : 'Our Lord, I have settled some of my children in a valley of no vegetation [ nor any other obvious life support system ] close to Your sanctified House, so that, Our Lord, they may establish Salah. So, make hearts of a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
53. Prophet Abraham (peace be upon him) included his mushrik father in his prayer because he had made promise that he would pray to his Lord for his forgiveness (Surah Maryam, Ayat 48). But afterwards, when he realized that he should not pray for his forgiveness because he was an enemy of Allah, he absolved himself of that promise. (Surah At-Tauba, Ayat 114).
Read the full tafseer →