Ibrahim 14:36

Ibrahim · from ayah 36

14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ— فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ ۚ— وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضۡلَلۡنَ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ‌ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِىۡ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡ‌ۚ وَمَنۡ عَصَانِىۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

My Lord, indeed they have led astray many among the people. So whoever follows me - then he is of me; and whoever disobeys me - indeed, You are [yet] Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 6 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:36

پروردگار، اِن بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے (ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راه سے بھٹکا دیا ہے۔ پس میری تابعداری کرنے واﻻ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بہت ہی معاف اور کرم کرنے واﻻ ہے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرے پروردگار ! ان بتوں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کیا ہے۔ لہذا جو کوئی میری راہ پر چلے، وہ تو میرا ہے، اور جو میرا کہنا نہ مانے، تو (اس کا معاملہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں) آپ بہت بخشنے والے بڑے مہربان ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے میرے رب! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی تو بیشک تُو بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے رب ! بیشک انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا، پھر جو میرے پیچھے چلا تو یقینا وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا تو بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پروردگار ! ان معبودوں نے تو بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ لہذا جس نے میری پیروی کی وہ یقینا میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی سو تو معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے رب ! ان بتوں نے لوگوں میں سے ایک خلق کثیر کو گراہ کررکھا ہے تو جو میری پیروی کرے وہ تو مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

میرے مالک ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے پس جو کوئی میرے طربقے پر چلا وہ تو میرا ہے، اور جس نے میرے خلاف طریقہ اختیار کیا تو (اس کا معاملہ تیرے حوالے ہے کہ) تو ہی بڑا بخشنے والا، نہایت ہی مہربان،

— مولانا اسحاق مدنی

سو جو کوئی میری راہ پر چلے گا وہ تو میرا ہی ہے۔ اور جو کوئی میری نافرمانی کرے تو تو بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے میرے پروردگار ! ان بتوں نے (پہلے بھی) بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ تو جو کوئی میری پیروی کرے وہ تو بلاشبہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بلاشبہ تو بخشنے والا مہربان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ) اے میرے رب ! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے، اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

My Lord! They have caused many people to go astray. Now, if anyone follows my way, he is from me; and if anyone follows a way opposed to mine, then surely You are Ever-Forgiving, Most Merciful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My Lord, they have misled many a people. So, the one who follows me does surely belong to me. As for the one who disobeys me, then You are Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

My Lord, they have misled many a people. So, the one who follows me does surely belong to me. As for the one who disobeys me, then You are Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O my Lord! They have indeed led astray many among mankind. But whoso follows me, he verily, is of me. And whoso disobeys me, still You are indeed Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My Lord! Lo! they have led many of mankind astray. But whoso followeth me, he verily is of me. And whoso disobeyeth me - Still Thou art Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

My Lord, indeed they have led astray many among the people. So whoever follows me - then he is of me; and whoever disobeys me - indeed, You are [yet] Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Lord, the idols have misled many people. Whoever follows me is my friend. As for those who disobey, You are certainly All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

My Lord! surely they have led many men astray; then whoever follows me, he is surely of me, and whoever disobeys me, Thou surely art Forgiving, Merciful:

— Muhammad Habib Shakir

My Lord! they have sent astray many among mankind; whosoever followeth me, verily he is of me; and whosoever disobeyeth me, then verily Thou art Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

"O my Lord! they have indeed led astray many among mankind; He then who follows my (ways) is of me, and he that disobeys me,- but Thou art indeed Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–36

حرمت و عظمت کا مالک شہر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ ؑ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ سب سے پہلا بابرکت اور باہدایت اللہ کا گھر مکہ شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن وامان میں آگیا۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اِبْرٰهِیْم 48 یعنی خدا سے پھیر کر اپنا گرویدہ کیا ہے۔ یہ مجازی کلام ہے۔ بت چونکہ بہتوں کی گمراہی کے سبب بنے ہیں اس لیے گمراہ کرنے کے فعل کو ان کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔ سورة اِبْرٰهِیْم 49 یہ حضرت ابراہیم ؑ کی کمال درجہ نرم دلی اور نوع انسانی کے حال پر ان کی انتہائی شفقت ہے کہ وہ کسی حال میں بھی انسان کو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوتے نہیں دیکھ سکتے بلکہ آخر وقت تک عفو و درگزر کی التجا کرتے رہتے ہیں۔ رزق کے معاملہ میں تو انہوں نے یہاں تک کہہ دینے میں دریغ نہ فرمایا کہ وارْزُقْ اَھْلَہ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ باللہِ وَالْیَوْ مِ الْاٰ خِرِ (البقرہ۔ آیت 126)۔ لیکن جہاں آخرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں اپنی اس دعاء کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ بت پرستی سے ہم اس لئے پناہ مانگتے ہیں کہ ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے یہ اس لئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد اور قوم کا تجربہ کرچکے تھے کہ بت پرستی کی رسم نے ان کو ہر خیر وصلاح سے محروم کردیا۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی ان میں سے جو شخص میرا اتباع کرے یعنی ایمان اور عمل صالح کا پابند ہوجائے وہ تو میرا ہی ہے مطلب یہ ہے کہ اس پر فضل و کرم کی امید تو ظاہر ہے اور جو شخص میری نافرمانی کرے تو آپ بہت مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنے والے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 35–36

آگے کا مضمون آیات 35 تا 41: ملت ابراہیمی کی وضاحت : قریش اپنے مذہب شرک کی حمایت میں سب سے بڑی دلیل جو پیش کرتے تھے وہ یہ تھی کہ یہ دین ان کو اپنے جد اعلی حضرت ابراہیم سے وراثت میں ملا ہے۔ آگے اسی دعوے کی تردید آرہی ہے اور یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم نے ایک زرخیز و شاداب علاقہ سے ہجرت کرکے اس وادی غیر ذی زرع میں اپنی ذریت کو اس لیے بسایا تھا کہ وہ اس میں خدائے واحد کی عبادت کا ایک مرکز قائم کرسکیں تاکہ ان کی اولاد شرک کی تمام آلودگیوں سے پاک رہ کر خدائے وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرسکے۔ اس وادی غیر ذی زرع میں امن و رزق کی تمام برکتیں حضرت ابراہیم ؑ کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں لیکن قریش نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 گمراہ کرنے کی نسبت ان پتھروں کی مورتیوں کی طرف جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، باوجود اس بات کے کہ وہ غیر عاقل ہیں، کیونکہ گمراہی کا باعث تھیں اور ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

26: مطلب یہ ہے کہ اپنی اولاد اور دوسرے لوگوں کو بت پرستی سے بچنے کی تاکید کرتا رہوں گا، پھر جو لوگ میری ان ہدایات پر عمل کریں گے، وہ تو مجھ سے تعلق رکھنے کا دعوی کرسکیں گے، لیکن جو میری بات نہیں مانیں گے، ان کے لئے میں بددعا نہیں کرتا ؛ بلکہ اسکا معاملہ آپ پر چھوڑتا ہوں، آپ غفور رحیم ہیں، اس لئے ان کی مغفرت کا یہ راستہ بھی نکال سکتے ہیں کہ ان کو ہدایت عطا فرمادیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی یہ پتھر کی مورتیاں بہت آدمیوں کی گمراہی کا سبب ہوئیں۔ 9 یعنی جس نے توحید خالص کا راستہ اختیار کیا اور میری بات مانی وہ میری جماعت میں شامل ہے۔ جس نے کہنا نہ مانا اور ہمارے راستہ سے علیٰحدہ ہوگیا تو آپ اپنی بخشش اور مہربانی سے اس کو توبہ کی توفیق دے سکتے ہیں۔ آپ کی مہربانی ہو تو وہ ایمان لا کر اپنے کو رحمت خصوصی اور نجات ابدی کا مستحق بنا سکتا ہے۔ یا یہ مطلب ہو کہ آپ کو قدرت ہے اسے بھی بحالت موجودہ بخش دیں گو آپ کی حکمت سے اس کا وقوع نہ ہو۔ (تنبیہ) سورة مائدہ کے آخر میں ہم نے حضرت خلیل (علیہ السلام) کے اس قول اور مسیح (علیہ السلام) کے مقولے میں فرق بیان کیا ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36 رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ میں نے خود کو ہر قسم کے شرک سے پاک کرلیا ہے اب جو لوگ میری پیروی کریں شرک سے دور رہیں توحید کے راستے پر چلیں ایسے لوگ تو میرے ہی ساتھی ہیں ان کے ساتھ تو تیرا وعدہ پورا ہوگا۔ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ حضرت ابراہیم کی طبیعت کے بارے میں ہم سورة ہود میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ چکے ہیں : اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ کہ آپ بہت ہی نرم دل حلیم الطبع اور ہر وقت اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ چناچہ جب گنہگاروں کا ذکر ہوا ہے تو آپ نے اللہ کی صفات غفاری اور رحیمی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 35–36

38 مکہ کو پر امن شہر بنانے کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا :۔ چند آیات پہلے مشرک رؤسائے قریش کا ذکر ہوا کہ کس طرح وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گڑھے تک لے گئے تھے۔ یہ قریش چونکہ اپنے آپ کو سنت ابراہیم کا پیروکار سمجھتے اور کہلواتے تھے لہذا سیدنا ابراہیم کا ذکر بیان کرکے انھیں بتایا جارہا ہے کہ وہ شرک سے کس قدر بیزار تھے۔ نیز یہ کہ تم ان کی اتباع کا دعویٰ کیسے کرتے ہو۔ انہوں نے تو اس شہر مکہ کو پرامن بنانے کے لیے دعا ہی یہ کی تھی کہ اے میرے پروردگار مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی شرک کی نجاستوں اور بتوں کی پوجا پاٹ سے محفوظ رکھنا۔ کیونکہ اکثر لوگ انہی بتوں کی پوجا پاٹ کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

61۔ (اور اس کے لئے تیرا وعدہ مغفرت موجود ہی ہے) 62۔ (تو تیرے لئے کیا مشکل ہے کہ تو اب انہیں ہدایت دے کر ان کی مغفرت و رحمت کا سامان کردے) (آیت) ’ ومن عصانی “ یعنی جو لوگ دین حق کے پیرو نہ بنے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 ترجمہ : اور اس وقت کا ذکر کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار تو اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے اور بلاشبہ اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمالی اور اس کا محترم بنادیا، کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ وہاں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس کے جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جاتی ہے، اور تو (اے میرے پروردگار) مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بت پرستی کریں دور رکھ، اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے انسانوں کو ان کے ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیا، پس جس نے توحید کے معاملے میں میری اتباع کی تو وہ میرا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رب انھن اضللن کثیرا من الناس اے میرے رب ! ان مورتیوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے ‘ ان کی وجہ سے لوگ راہ حق سے بھٹک گئے ‘ ان کی پوجا کرنے لگے ‘ یہ مورتیاں لوگوں کی گمراہی کا سبب بن گئیں۔ ومن تبعنی فانہ منی پس جو شخص (دین میں) میرا پیرو ہوگا ‘ وہ میرا ہے۔ یعنی مجھ سے متعلق ہے ‘ دنیا اور آخرت میں اس کا تعلق مجھ سے نہیں ٹوٹے گا یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ ومن عصانی فانک غفور رحیم اور جو میری نافرمانی کرے گا تو (اس کو تو بخش دے ‘ اس پر رحم فرما کیونکہ تو) غفور و رحیم ہے۔ سدی نے کہا : اس فقرہ کا مطلب یہ ہے : جو میری نافرمانی کرے ‘ پھر توبہ کرلے تو اس کو تو معاف کر دے ‘ تو غفور و رحیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(36) کیوں کہ اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کردیا، انکی پوجا سے بہت سے لوگ گمراہ ہوگئے۔ سو جو میری راہ پر چلے گا اور میری اطاعت کرے گا وہ تو میرے دین پر قائم ہے اور جو میری رہ پر نہ چلے تو ان میں سے جو توبہ کرے اس کی آپ توبہ قبول فرمانے والے ہیں اور جو توبہ پر مرے تو آپ اس پر رحمت فرمانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ۔۔ : صنم پرستی عام ہونے اور لوگوں کے بہت جلد اس میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہیں دو ہیں، ایک تو یہ کہ ان دیکھے معبود (اللہ تعالیٰ) پر یقین رکھنے کے بجائے انسان چاہتا ہے کہ وہ ایسی چیز کی عبادت کرے جو اسے نظر آئے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ظاہر کوئی چیز نہیں، کیونکہ کائنات کی ہر چیز اپنے بنانے والے کے وجود اور توحید کی شہادت دے رہی ہے اور لطف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا یہ دعویٰ نہیں کہ یہ زمین و آسمان اور ساری کائنات میں نے بنائی ہے، اگر کوئی یہ دعویٰ کرلے تو ہر شخص اسے جھوٹا کہے گا، بلکہ خود اس کا دل اسے جھٹلائے گا کہ آسمان و زمین تو تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–36

آیت نمبر 35 تا 36 قولہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا، ھذا البلد سے مراد مکہ ہے سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام یعنی مجھے ان (بتوں) کی عبادت سے ایک طرف کر دے۔ اور نبی کے قول سے آپ کی مراد آپ کے صلبی بیٹے تھے جن کی تعداد آٹھ تھی، اور ان میں سے کسی ایک نے بھی بتوں کی عبادت نہیں کی۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ ہر اس آدمی کے لیے دعا ہے اللہ تعالیٰ جس کے لیے دعا چاہے۔ جحدری اور عیسیٰ نے واجنبنی الف قطعی کے ساتھ پڑھا ہے معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے، کہا جاتا ہے : جنبت ذالک الأمر، وأجنبتہ وجنبتہ ایاہ، فتجانبہ واجتنبہ ان کا معنی ہوگا : اس نے اس کو چھوڑ دیا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–36

ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء : 1:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا البلد امنا واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمایا ان کی اولاد کے بارے میں ان کی دعا کے بعد ان کی اولاد میں سے کسی نے بت کی عبادت نہیں کی اس شہر کو امن والا بنادیا اور اس کے رہنے والوں کو پھل عطا فرمائے ان کو امام بنایا اور ان کی اولاد میں سے نماز کو قائم کرنے والے بنائے اور ان کی دعا کو قبول فرمایا اور ان کو (ابراہیم (علیہ السلام) کو) مناسک حج سکھائے اور ان کی توبہ قبول فرمائی۔ 2:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبِ : اے میرے رب ] [انهُنَّ : بیشک انہوں نے ] [اَضْلَلْنَ : گمراہ کیا ] [كَثِيْرًا : بہتوں کو ] [مِّنَ النَاسِ : لوگوں میں سے ] [ فَمَنْ : پس جس نے ] [ تَبِعَنِيْ : پیروی کی میری ] [فَانهٗ : تو بیشک وہ ] [مِنِّىْ : مجھ میں سے ہے ] [ وَمَنْ : اور جس نے ] [عَصَانيْ : نافرمانی کی میری ] [فَانكَ : تو بیشک تو ] [غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–36

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی اولاد کو بیت اللہ کے نزدیک ٹھہرانا اور ان کے لیے دعا کرنا کہ شرک سے بچیں اور نماز قائم کریں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے ان کے علاقہ کے لوگ جو بابل کے قریب تھا بت پرست تھے، خود ان کا باپ بھی بتوں کی پوجا کرتا تھا آپ نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور اس بارے میں بہت تکلیفیں اٹھائیں یہاں تک کہ انہیں آگ تک میں ڈالا گیا پھر اپنے علاقہ سے ہجرت کرکے فلسطین میں تشریف لے آئے ہجرت میں ان کی بیوی بھی ساتھ تھیں۔ یہ چچا کی لڑکی تھیں، جن کا نام سارہ تھا۔ پھر سفر ہجرت میں ایک بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوایا بدنیتی سے ہاتھ ڈالا تو اس کے ہاتھ پاؤں اکڑ گئے پھر ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–41

دعاء ابراہیمی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا .... الیٰ .... یوم یقوم الحساب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید و نعم الٰہیہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں دعاء ابراہیمی کا ذکر کرتے ہیں چونکہ اہل مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے طریقہ پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا نقل فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ بڑے مؤحد تھے اور شرک سے متنفر تھے۔ اور اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ان سب کو شرک اور بتوں سے دور رکھنا لہٰذا ان کی نسل کو چاہئے کہ ان کے طریقہ پر چلے اور انہیں کی دعاؤں سے یہ ریگستانی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ اضلال یعنی گمراہ کرنے کی نسبت اصنام کی طرف اس لیے کی گئی کہ وہ گمراہی کا سبب ہیں کیونکہ صلحائے عباد کے بتوں کے ساتھ جو مشرکانہ روایتیں وابستہ ہیں ان کی وجہ سے مشرکین کے دلوں میں ان کی پستش کا جذبہ پایا جاتا ہے اس طرح ان کے بت گمراہی کا سبب بعید ہیں اس لیے مجازاً گمراہی کی نسبت ان کی طرف کی گئی ہے۔ لما کانت سببا للاضلال اضاف الفعل الیھن مجازا ً (قرطبی ج 9 ص 268) یا مطلب یہ ہے کہ لوگ ان اصنام کی عبادت کے سبب گمراہی اور فتنے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ” والمعنی انھم ضلوا بعباد تھا کما تقول فتنتھم الدنیا ای افتتنوا بھا واغتروا بسببھا “ (بحر ج 5 ص 431) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 35–37

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عام نعمتوں کا ذکر تھا جن میں سے ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، اب اللہ نے خاص نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے ، اس ضمن میں قریش مکہ کو یہ بات سمجھائی ہے کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور جد امجد مانتے ہو ، انہوں نے جس خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اس کی بنیاد تو حید پر تھی مگر تم کفر اور شرک میں کیسے مبتلا ہوگئے ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ان دعاؤں کا ذکر کیا ہے جن سے کفر وشرک سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی وجہ سے سرزمین مکہ پر جو خصوصی انعامات فرمائے تھے ، ان کا ذکر بھی کیا ہے توحید کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 36؀ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–41

واذقال ابراھیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ کر چلے اور دل میں مفارقت اولاد کا رنج تھا اس وقت خانہ کعبہ کے سامنے آپ نے اللہ سے یہ دعا کی (1) اس مکہ کے جنگل کو امن کا شہر کر دے (چنانچہ کردیا جاہلیت کے ایام میں بھی وہاں کوئی کسی کو ایذا نہ دیتا تھا اس میں مشرکین مکہ پر تعریض ہے کہ تم محمد ﷺ کو کیوں اس شہر میں تکلیف دیتے ہو) ۔ (2) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچانا حضرت کو الہاماً معلوم ہوا ہوگا کہ ایسے معابد میں انجام کار ملت متغیر ہوتے ہوتے بت پرستی بھی ہونے لگے گی سو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی سعادت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 35–36

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَالْاَصْنَامَ ۔ رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ج فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ج وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 35۔ 36) (یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو بچالے اس بات سے کہ ہم بتوں کی پوجا کریں۔ اے ہمارے پروردگار ان بتوں نیبہت سے لوگوں کو گمراہی میں ڈالا ہے۔ اور جو کوئی میرے پیچھے چلاتو وہ میرا ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی (تو اس کا معاملہ تیرے سپرد ہے) بیشک تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 35–36

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی توحید کا انکار کرنے والا شخص ظالم اور ناقدری کرنے والا ہوتا ہے قریش مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تصور کرتے تھے۔ انہیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ بتلاکریہ احساس دلایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے قدر دان اور صرف اسی کے تابع فرمان تھے۔ اے دنیا جہان کے انسانو بالخصوص مکہ میں بسنے والے لوگو ! جس عالی مرتبت شخصیت کے ساتھ تم ناطہ جوڑتے اور اس کے بسائے ہوئے شہر میں رہتے ہو اس کا عقیدہ یہ تھا کہ جب اس نے اپنی زوجہ مکرمہ اور اکلوتے لخت جگر کو مکہ میں ٹھہرا کر اس شہر کی بنیاد رکھی تھی تو اس نے اپنے رب کے حضور سب سے پہلے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36: رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ (اے میرے رب انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا) بطور تسبب کے ان کو مضلات فرمایا کیونکہ لوگ بتوں کی وجہ سے گمراہ ہوئے گویا خود ان بتوں نے گمراہ کیا۔ فَمَنْ تَبِعَنِیْ (پس جس نے میری بات مانی) میری ملت پر چلا اور وہ میری طرح حنیف و مسلم بنا۔ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ (پس وہ مجھ سے ہے) وہ میرا بعض حصہ ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ میرے ساتھ خصوصیت رکھنے والا ہے۔ وَمَنْ عَصَانِیْ (اور جس نے میری نافرمانی کی) ان باتوں میں جو شرک کے علاوہ ہیں (کبائر و صغائر) فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (پس بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے) نمبر 2۔ جس نے میری نافرمانی کر کے شرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36۔” رب انھن اضللنن کثیرا ً من الناس “ ان بتوں کی پوجا کرنے کی وجہ سے بہت سارے لوگ راہ دایت سے بھٹک گئے۔ حتیٰ کہ بہت سارے لوگ بتوں کی عبادت کرنے میں مصروف ہوگئے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے ” انما ذلکم الشیطان یخوف الیاء ہ “ اور بعض نے کہا کہ یہاں گمراہی کی نسبت بتوں کی طرف کی کنو کہ انہی کے سبب کی وجہ سے جیسا کہ کہنے والے نے یوں کہا کہ مجھے دنیا نے فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔ یہاں فتنہ کی نسبت دنیا کی طرف کی کیونکہ یہ فتنہ کا سبب ہے۔ ’ ’ فمن تبعنی فانہ منی “ یعنی وہ میرے دین اور ملت کا پیروکار ہے۔ ” ومن عصانی فانک غفور الرحیم “ سدی (رح) کا قول ہے کہ جس نے میری نافرمانی کی پھر اس نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–36

35۔ 36۔ یہ دعا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جو انہوں نے حرم شریف کے امن اور اپنی اولاد کے لئے بتوں کی پرستش سے بچنے کو کی تھی اللہ پاک نے بطور حجت کے اس کو ذکر کیا کہ جب مکہ معظمہ کا شہر بسایا گیا اور خانہ کعبہ بنا اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے جن کے سبب سے یہ شہر آباد ہوا یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ تو شہر کو امن میں اور ویران ہونے سے محفوظ رکھیو سورت بقرہ میں بھی یہ دعا گزر چکی 1 ؎ ہے۔ مگر اس میں اور اس دعا میں یہ فرق ہے کہ وہاں کی دعا کعبہ کے تیار ہونے سے پہلے کی تھی۔ اس لئے وہاں یہ دعا کی تھی کہ اس کو آباد کرنا اور امن میں رکھنا اور یہاں تیاری کے بعد کی دعا ہے یہاں صرف امن مقصود ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں ان خدشات کا ذکر فرمایا جو انہیں اکثر لوگوں کے ان بتوں کی عبادت کے فتنے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئے، اس لئے انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا : (آیت) ” اے پروردگار ! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ “ یعنی ان کے سبب سے بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ (فمن تبعنی) ” پس جس نے میری اتباع کی “ یعنی توحید الٰہی اور اخلاص للہ میں جس نے میری پیروی کی۔ (فانہ منی) ’۔ تو وہ میرا ہے “ یعنی کامل موافقت کی وجہ سے وہ مجھے سے ہے، جو کوئی جس قوم سے محبت کرتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے، وہ اسی قوم سے ملحق شمار ہوتا ہے۔ (آیت) ” اور جس نے میری نافرمانی کی، تو تو بہت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 35–36

72۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء بت پرستی سے بچاؤکے لیے : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء میں اپنے سے مزید عرض کیا کہ اے میرے رب بچا دے مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی بت پرستی (کی نجاست ولعنت) سے کہ تیری توفیق و عنایت کے بغیر کوئی بھی نہیں بچ سکتا، سبحان اللہ کیا شان ہے تفویض ورضاء کی، کہ ابو الانبیاء رئیس الموحدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے بت شکنی کے سلسلہ میں بےمثال تاریخ رقم کی، وہ بھی اپنے رب سے بت پرستی سے بچنے کی اد طرح دعاء فرماتے ہیں، علیہ وعلی نبینا اطیب الصلوۃ والتسلیم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–41

جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو اللہ کے حکم سے وادیٔ فاران کے ایک چٹیل میدان میں چھوڑ آئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلی آیات میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کا بیان تھا تو یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کو حنیف کا لقب ملا۔ حنیف، یعنی یکسو ہو کر عبادت کرنے والا صرف اور صرف اللہ سے لو لگا کر اسی کی عبادت کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے توحید کے سبق کو سب سے زیادہ محنت اور کامیابی سے پھیلایا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–41

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔ (دعا کا طریقہ) حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 ۔ یعنی تیری سیدھی راہ سے پھیر دیا۔ بت چونکہ بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے اس لئے مجازی طور پر گمراہ کرنے کے فعل کو ان کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔ اس جملہ میں دعا کی علت کی طرف اشارہ ہے۔ (شوکانی) ۔ 01 ۔ شاید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا اس وقت کی جب انہیں مشرک کے لئے استغفار کرنے کا حکم معلوم نہ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ شاید دوسرے گناہ مراد ہیں۔ یا ” تو بخشنے والا مہربان ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ ” تو اسے توبہ کی توفیق دینے والا ہے۔ “ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:36) انہن۔ ان حرف مشبہ بالفعل ھن ۔ ضمیر جمع مؤنث غائب بیشک ان (بتوں) نے۔ رب۔ یا رب۔ اے میرے پروردگار۔ اضللن۔ اضلال (افعال) سے۔ ان مورتیوں نے گمراہ کیا۔ بہکایا۔ یہاں مراد بتوں سے ہے یعنی ان بتوں نے گمراہ کیا۔ من عصانی۔ جس نے میری نافرمانی کی۔ عصی سے ماضی واحد مذکر غائب۔ نون وقایہ ی ضمیر متکلم کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–41

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41 اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–36

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مناجات کی کہ یا الٰہی تو اس شہر کو یعنی مکہ معظمہ کو مکروہ اور خوف کی چیزوں سے امن میں کردے۔ یا الہی ! مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بت پرستی سے محفوظ رکھ۔ یا الٰہی ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا پس جو کوئی میری اتباع کرے گا وہ میرا ہے اور جو کوئی میرے خلاف کرے گا تو اس کی مغفرت کردیجیو۔ کیونکہ تو یقینا مغفرت کرنے والا اور مہربان ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی۔ حرم کے اندر کسی کا خون نہٰں ہوتا شکار تک نہیں کیا جاتا۔ اور نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے۔ پرندے بھی حرم کے اندر آ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[20] یعنی بت ان کی گمراہی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ یہ مراد نہیں کہ بےجان بتوں نے قصداً کسی کو گمراہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–38

نقطہ توحید کی تعمیر ! (ف 1) یہ اس وقت کی بات جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی تاسیس کی اخلاص و توحید کی بنیاد رکھی ، جب قوم کے لئے ایک مرکز وحدت تعمیر کای جب معبد عمومی نقطہ عبادت منصہ شہروپر جلوہ گر ہوئے ۔ اس وقت قرب و جوار کے لوگوں میں بت پرستی کا رواج تھا لوگ غیر اللہ کی پوجا میں منمک تھے ، اور اللہ کی چوکھٹ کو چھوڑ کر جبینوں کو غیروں کے آگے جھکایا جا رہا تھا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ مولا اس اخلاص و توحید کے گھر کو دارالامن بنانیویہ یہاں روحانی اور مادی بےچینوں سے لوگ رہائی حاصل کریں ، مجھے اور میری اولاد کو توفیق دیجیو کہ لوگوں کو بس مرکز توحید پر جمع کردیں ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

36 ۔ اے میرے پروردگار اس میں کچھ شک نہیں کہ ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کردیا پھر جو میری راہ پر چلا اور میری پیروی کی وہ تو میراہی ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا اور میری نافرمانی کی تو آپ بڑے بخشنے والے اور بڑی مہربانی کے مالک ہیں ۔ یعنی یہ مورتیاں اور اصنام بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے بہت لوگ گمراہ ہوئے ہیں میں ان گمراہوں کو سمجھانے کی کوشش کر روں گا پھر جو سمجھ کر میرے ساتھ ہو لیا وہ تو میرا ہی ہے لیکن جو لوگ راہ راست پر نہ آئیں تو آپ ان کو ہدایت دیجئے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمایئے کیونکہ آپ غفور الرحیم ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ مقصود اس دعا سے شفاعت مومنین کے لیے اور طلب ہدایت غیرمومنین کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دعا بھی جاری ہے اور فرما رہے ہیں اے اللہ ! کتنے ہی لوگوں کو انہوں نے گمراہ کر رکھا ہے ؟ 37 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ابھی جاری ہے فرماتے ہیں اے میرے رب ! یہ بت اور صاحب بت ان لوگوں کی گمراہی کا سبب اور ذریعہ بن گئے ہیں یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے عمداً اور قصداً کسی کو گمراہ کیا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ شرک کا باعث ہوتے ہیں اور ساتھ پوری دنیا میں کثرت غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کی ہی رہی ہے ایسا کیوں ہوا ہے ؟ اس لئے کہ اکثریت اکثر بےعقلوں اور بےشعوروں ہی کی رہی اور وہ چاہتے تھے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں تو کچھ دیکھ کر کریں کیونکہ ان دیکھا اور ان سمجھا خدا ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اور سمجھانے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second verse (36), he gives the reason for making this prayer. He said that he sought refuge from idol-worship because it has led many a people astray. He said so because he had seen his father and his people falling victims to the custom of idol-worship which had left them deprived of all possibilities of betterment in their lives. In the closing sentence of the verse, it was said: فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ(So, the one who follows me is surely mine, and the one who disobeys me, then You are Most Forgiving, Very Merciful). It means…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

48. This is a figurative way of saying that idols have been the means of turning many people away from Allah’s way into the ways of deviation. 49. This forbearance shown towards those who followed a different way from the right way is an instance of Prophet Abraham’s (peace be upon him) leniency to mankind. He left their case to the Forgiveness and Mercy of Allah for he could not bear to see them under divine scourge. Another instance of this has been cited in Surah Houd. When the angels were on their way to destroy the wicked people of Lot, Prophet Abraham (peace be upon him) began to plead…

Read the full tafseer →