Ibrahim 14:37

Ibrahim · from ayah 37

14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ— رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ ۟رَبَّنَاۤ اِنِّىۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِىۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِۙ رَبَّنَا لِيُقِيۡمُوۡا الصَّلٰوةَ فَاجۡعَلۡ اَ فۡـئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهۡوِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ وَارۡزُقۡهُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُوۡنَ‏

اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Our Lord, I have settled some of my descendants in an uncultivated valley near Your sacred House, our Lord, that they may establish prayer. So make hearts among the people incline toward them and provide for them from the fruits that they might be grateful.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 6 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:37

پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو اِن کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اوﻻد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وه نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی، ہمارے پروردگار ! (یہ میں نے اس لیے کیا) تاکہ یہ نماز قائم کریں۔ لہذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کشش پیدا کردیجیے، اور ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمایے۔ تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس اے میرے رب اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ احسان مانیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہمارے رب! بیشک میں نے اپنی اولاد (اسماعیل علیہ السلام) کو (مکہ کی) بے آب و گیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسا دیا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں پس تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ شوق و محبت کے ساتھ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں (ہر طرح کے) پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر بجا لاتے رہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! بیشک میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں آباد کیا ہے، جو کسی کھیتی والی نہیں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور انھیں پھلوں سے رزق عطا کر، تاکہ وہ شکر کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے قابل احترام گھر کے پاس ایسے میدان میں لا بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں۔ تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پروردگار ! بعض لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے اور انھیں کھانے کو پھل مہیا فرما۔ توقع ہے کہ یہ شکرگزار رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولاد میں سے ایک بن کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے، اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے، اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

میرے پروردگار (حالات کی ناسازگاری کے باوجود) میں نے لا بسایا اپنی کچھ اولاد کو، ایک ایسی وادی میں جس میں کوئی کھیتی (باڑی) نہیں تیرے حرمت والے گھر کے پاس، ہمارے پروردگار، (یہ اس لئے کیا کہ) تاکہ یہ نماز قائم کریں پس تو (اے میرے مالک اپنے کرم و عنایت سے) ایسا ایسا پھیر دے ان کی طرف کچھ لوگوں کے دلوں کو کہ وہ ان کے گرویدہ ہوجائیں، اور ان کو روزی عطا فرما طرح طرح کی پیداواروں سے تاکہ شکر ادا کریں

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بےزراعت میدان میں آباد کردیا ہے تیرے معظم گھر کے قریب۔ (یہ اس لئے) اے ہمارے پروردگار کہ وہ لوگ نماز کا اہتمام رکھیں۔ سو تو کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کھانے کو پھل دے جس سے یہ شکرگزار رہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولاد (کی ایک شاخ) کو آباد کردیا ہے اس بےآب وگیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس اے ہمارے پروردگار ! تاکہ یہ نماز قائم کریں تو تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو رزق عطا کر پھلوں سے تاکہ وہ شکر ادا کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے میرے رب ! میں نے اپنی اولاد (میدان مکہ میں) جہاں کھیتی نہیں ہوتی تیرے عزت و ادب والے گھر کے پاس لا بسائی ہے، اے میرے رب ! تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ تیرا شکر کریں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

"Our Lord! I have made some of my offspring settle in a barren valley near Your Sacred House! Our Lord! I did so that they may establish Prayer. So make the hearts of people affectionately inclined to them, and provide them with fruits for their sustenance that they may give thanks.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Our Lord, I have settled some of my children in a valley of no vegetation, close to Your sanctified House, so that, Our Lord, they may establish Salah. So, make hearts of people yearn towards them, and provide them with fruits, so that they may be grateful.

— Muhammad Taqi Usmani

Our Lord, I have settled some of my children in a valley of no vegetation, close to Your sanctified House, so that, Our Lord, they may establish Salah. So, make hearts of people yearn towards them, and provide them with fruits, so that they may be grateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O our Lord! I have made some of my offspring dwell in an uncultivable valley by Your Sacred House in order, O our Lord, that they may perform Salah. So fill some hearts among men with love towards them, and (O Allah) provide them with fruits so that they may give thanks.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Our Lord! Lo! I have settled some of my posterity in an uncultivable valley near unto Thy holy House, our Lord! that they may establish proper worship; so incline some hearts of men that they may yearn toward them, and provide Thou them with fruits in order that they may be thankful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Our Lord, I have settled some of my descendants in an uncultivated valley near Your sacred House, our Lord, that they may establish prayer. So make hearts among the people incline toward them and provide for them from the fruits that they might be grateful.

— Saheeh International

"Lord, I have settled some of my offspring in a barren valley near your Sacred House so that they could be steadfast in prayer. Lord, fill the hearts of the people with love for them and produce fruits for their sustenance so that they may give thanks.

— Muhammad Sarwar

O our Lord! surely I have settled a part of my offspring in a valley unproductive of fruit near Thy Sacred House, our Lord! that they may keep up prayer; therefore make the hearts of some people yearn towards them and provide them with fruits; haply they may be grateful:

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord! verily have caused some of my progeny to dwell in a valley uncultivable near Thy Sacred House, Our Lord! in order that they may establish prayer; make Thou therefore the hearts of some of mankind to Yearn toward them, and provide them Thou With fruits, haply they may give thanks.

— Abdul Majid Daryabadi

"O our Lord! I have made some of my offspring to dwell in a valley without cultivation, by Thy Sacred House; in order, O our Lord, that they may establish regular Prayer: so fill the hearts of some among men with love towards them, and feed them with fruits: so that they may give thanks.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

دوسری دعا یہ دوسری دعا ہے پہلی دعا اس شہر کے آباد ہونے سے پہلے جب آپ حضرت اسماعیل ؑ کو مع ان کی والدہ صاحبہ کے یہاں چھوڑ کر گئے تھے۔ تب کی تھی اور یہ دعا اس شہر کے آباد ہوجانے کے بعد کی اسی لئے یہاں بیتک المحرم کا لفظ لائے اور نماز کے قائم کرنے کا بھی ذکر فرمایا۔ ابن جریر رحمۃ اللہ عیہ فرماتے ہیں یہ متعلق ہے لفظ المحرم ساتھ یعنی اسے باحرمت اس لئے بنایا ہے کہ یہاں والے باطمینان یہاں نمازیں ادا کرسکیں۔ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ نے فرمایا کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے، اگر سب لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکانے کی دعا ہوتی تو فارس و روم یہود و نصاری غرض تمام دنیا کے لوگ یہاں الٹ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اِبْرٰهِیْم 50 یہ اسی دعا کی برکت ہے کہ پہلے سارا عرب مکہ کی طرف حج اور عمرے کے لیے کھچ کر آتا تھا، اور اب دنیا بھر کے لوگ کھچ کھچ کر وہاں جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی اسی دعا کی برکت ہے کہ ہر زمانے میں ہر طرح کے پھل، غلے، اور دوسرے سامان رزق وہاں پہنچتے رہتے ہیں، حالانکہ اس وادی غیر ذی زرع میں جانوروں کے لیے چارہ تک پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کی ایک اور حکیمانہ دعا اس طرح مذکور ہے کہ (آیت) رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ الخ۔ الآیۃ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ ذریت یعنی اہل و عیال کو ایک ایسے دامن کوہ میں ٹھہرا دیا ہے جس میں کوئی کھیتی وغیرہ نہیں ہو سکتی (اور بظاہر وہاں زندگی کا کوئی سامان نہیں) یہ دامن کوہ آپ کے عظمت والے گھر کے پاس ہے تاکہ یہ لوگ نماز قائم کریں اس لئے آپ کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردیں کہ ان کے انس اور آبادی کا سامان ہوجائے اور ان کو ثمرات (پھل) عطا فرمائیے تاکہ یہ لوگ شکر گذار ہوں۔ حضرت خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعاء کا واقعہ یہ ہے کہ بیت اللہ شریف کی تعمیر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ۔ ہجرت کا اصل مقصود : یعنی میں نے اپنی اولاد کو ایک بن کھیتی کی چٹیل زمین میں، تیرے محترم گھر کے پاس، اس لیے لا بسایا ہے تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں۔ تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار رہیں۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ خدا کی توحید اور خالص اسی کی بندگی وہ چیز ہے جس کی خاطر انسان سب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 مِنْ ذُرِّیَّتِیْ میں مِن اولاد کے لئے ہے۔ یعنی بعض کہتے ہیں حضرت ابراہم ؑ کے آٹھ صلبی بیٹے تھے، جن میں سے صرف حضرت اسماعیل ؑ کو یہاں بسایا (فتح القدیر) 37۔ 2 عبادت میں صرف نماز کا ذکر کیا، جس سے نماز کی اہمیت واضح ہے۔ 37۔ 3 یہاں بھی اولاد کے لئے ہے۔ کہ کچھ لوگ، مراد اس سے مسلمان ہیں۔ چناچہ دیکھ لیجئے کہ کس طرح دنیا بھر کے مسلمان مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور حج کے علاوہ بھی سارا سال یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اگر حضرت ابراہیم ؑ اَفْئِدَۃَ النَّاسِ (لوگوں کے دلوں) کہتے تو عیسائی، یہودی، مجوسی اور دیگر تمام لوگ مکہ پہنچتے۔ مِنَ النَّاسِ کے مِنْ نے اس دعا کو مسلمانوں تک محدود کردیا (ابن…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–40

27: حضرت ابراہیم ؑ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل مکہ مکرمہ کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، موسم حج میں تو یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ کہاں کہاں سے لوگ مشقتیں اٹھا کر اس خشک اور بےآب وگیاہ علاقے میں پہنچتے ہیں، موسم حج کے علاوہ بھی لوگ بار بار عمرے اور دوسری عبادتوں کے لئے وہاں پہنچتے ہیں، اور جو ایک مرتبہ وہاں چلا جاتا ہے، اسے بار بار حاضری کا شوق لگا رہتا ہے، اور پھلوں کی افراط کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر کے پھل بڑی تعداد میں وہاں پہنچتے ہیں، حالانکہ وہاں کی زمین میں اپنا کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اسماعیل (علیہ السلام) کو۔ کیونکہ دوسری اولاد حضرت اسحاق وغیرہ شام میں تھے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ حضرت اسماعیل کو بحالت شیر خوارگی اور ان کی والدہ ہاجرہ کو یہاں چٹیل میدان میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ بعدہ ' قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وہاں پہنچے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کو تشنگی اور ہاجرہ کی بیتابی کو دیکھ کر فرشتے کے ذریعہ سے وہاں زمزم کا چشمہ جاری کردیا۔ جرہم کے خانہ بدوش لوگ پانی دیکھ کر اتر پڑے اور ہاجرہ کی اجازت سے وہیں بسنے لگے۔ اسماعیل (علیہ السلام) جب بڑے ہوئے تو اسی قبیلہ میں ان کی شادی ہوئی۔ اس طرح جہاں آج مکہ ہے ایک بستی آباد ہوگئی۔ حضرت ابراہیم گاہ بگاہ ملک شام سے تشریف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 37–38

آیت 37 رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ اے ہمارے پروردگار ! تیرے حکم کے مطابق میں نے یہاں تیرے اس محترم گھر کے پاس اپنی اولاد کو لا کر آباد کردیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا میں پہلے رَبِّ ‘ رَبِّ اے میرے پروردگار ! کا صیغہ آ رہا تھا مگر اب ”رَبَّنَا“ جمع کا صیغہ آگیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ کے ساتھ حضرت اسماعیل بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یہاں پر عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ کے الفاظ سے ان روایات کو بھی تقویت ملتی ہے جن کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت آدم نے کی تھی۔ ان روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت آدم کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–40

39 یہاں بخاری سے ایک طویل حدیث درج کی جاتی ہے کہ کن حالات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو اس بےآب وگیاہ وادی میں لا کر بسایا تھا اور اللہ نے ان کے کھانے پینے کا سامان کیسے کیا۔ چاہ زمزم کا پھوٹنا اور بیت اللہ کی تعمیر وغیرہ بہت سے حالات اس حدیث میں تفصیلاً آگئے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے سیدہ ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا تاکہ سارہ ان کا سراغ تک نہ پائیں۔ چناچہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہاجرہ (علیہ السلام) اور اس کے بچے کو وہاں سے نکال لائے۔ ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھی۔ سیدنا ابراہیم نے انھیں ایک بڑے درخت تلے بٹھا دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

63۔ یعنی خانہ کعبہ سے متصل، کعبہ اگرچہ اس وقت منہدم حالت میں تھا تاہم اس کی جگہ تو خوب جانی پہچانی ہوئی اور نگاہوں میں محترم ومتبرک تھی، (آیت) ” من ذریتی “۔ ذریت سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کا سلسلہ اولاد ہے۔ من تبعیضیہ ہے یعنی اپنی اولاد میں سے کچھ من بمعنی بعض اے اسکنت بعض ذریتی (روح) اے بعض ذریتی اور ذریۃ من ذریتی (بیضاوی) (آیت) ’ ’ غیرذی زرع “۔ شہر مکہ جو ملک عرب کے صوبہ حجاز میں بحر احمر سے 48 میل پر سمت مشرق میں واقع ہے اپنی زمین کی خشکی کے لئے مشہور ہے اور زمین کے کہیں تو پتھریلی اور کہیں ریتلی ہونے کے باعث حضرات ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے زمانہ میں نہیں بلکہ اس وقت تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–41

آیت نمبر 35 تا 41 ترجمہ : اور اس وقت کا ذکر کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار تو اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے اور بلاشبہ اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمالی اور اس کا محترم بنادیا، کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ وہاں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس کے جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جاتی ہے، اور تو (اے میرے پروردگار) مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بت پرستی کریں دور رکھ، اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے انسانوں کو ان کے ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیا، پس جس نے توحید کے معاملے میں میری اتباع کی تو وہ میرا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ربنآ انی اسکنت من ذریتی اے ہمارے رب ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو باشندہ کردیا ہے۔ کچھ اولاد سے مراد ہیں حضرت اسماعیل اور آپ کی نسل۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو وادی مکہ میں رکھا تھا ‘ نسل اسماعیلی اس کے ذیل میں آگئی۔ بواد غیر ذی زرع ایسی وادی میں جہاں کھیتی نہیں ہے۔ لغت میں وادی ‘ پہاڑی نالے کو کہتے ہیں ‘ پھر (توسیع استعمال کے بعد) چند پہاڑوں یا ریت کے ٹیلوں کے درمیانی میدان پر اس لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ مکہ کی بستی بھی ایسے ہی میدان میں تھی جو پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ چونکہ یہ وادی پتھریلا علاقہ تھا ‘ ناقابل روئیدگی تھا ‘ اسلئے اس کو غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ فرمایا۔ عند بیتک المحرم تیرے ممنوعہ گھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(37) ہمارے پروردگار میں خانہ کعبہ کے قریب اسماعیل اور اس کی والدہ کو ایک ویران میدان میں جہاں نہ کھیتی ہے اور نہ گھاس ہے آباد کرتا ہوں تاکہ قبلہ کی جانب نماز کا اہتمام رکھیں اور آپ کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردیجیے تاکہ ان کو اس مقام کا شوق پیدا ہو اور ہر سال اس کی زیارت کے لیے حاضر ہوں اور ان کو مختلف قسم کے پھل کھانے کے لیے دے دیجیے تاکہ آپ کی نعمت کا شکر کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے۔ ”کچھ اولاد“ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابراہیم ؑ نے یہ دعا کی تو اس وقت اسحاق ؑ پیدا ہوچکے تھے۔ انھیں اور ان کی والدہ سارہ[ کو ابراہیم ؑ نے دوسری جگہ (شام میں) ٹھہرایا ہوا تھا۔ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ : وادی نیچی جگہ کو کہا جاتا ہے، جہاں کبھی پانی بہتا ہو، خصوصاً پہاڑوں کے درمیان گہری جگہ کو ”وادی“ کہتے ہیں۔ ”ذِيْ زَرْعٍ“ مکہ اور اس کے گردو نواح بلکہ ارض عرب میں کھیتی باڑی نہیں تھی، کیونکہ بارش کے علاوہ وہاں پانی نہیں ملتا تھا اور زمین بھی پتھریلی یا ریتلی تھی، خصوصاً مکہ والی جگہ میں تو بالکل نہ پانی تھا نہ کھیتی باڑی۔ ان غیر آباد بیابان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 37 اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: امام بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : عورتوں میں سب سے پہلے بیٹی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ماں کی طرف سے باندھی گئی آپ نے اس لیے پیٹی باندھی تاکہ حضرت سارہ کو آپ اپنے اثر سے بچا سکیں، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انہیں اور ان کے بیٹے اسماعیل کو لے کر آئے حضرت اسماعیل ابھی دودھ پیتے تھے حتی کہ ان دونوں کو آپ نے زمزم کے اوپر بیت اللہ میں چھوڑ دیا، اس وقت مکہ میں کوئی بھی آباد نہیں تھا، اور نہ ہی پانی تھا، ان دونوں کو وہاں چھوڑا، ایک تھیلا ان کے پاس رکھا جس میں کھجوریں تھیں اور ایک مشکیزہ رکھا جس میں پانی تھا، پھر حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ امام واقدی اور ابن عساکر نے عامر بن سعد (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سارہ (علیہما السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے نکاح میں تھیں کچھ عرصہ گزر گیا مگر ان سے اولاد نہ ہوئی جب سارہ نے یہ دیکھا کہ اولاد نہیں ہورہی تو انہوں نے اپنی لونڈی ہاجرہ ان کو ہبہ کردی جو سارہ کی باندی تھی اس کے بطن سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے سارہ کو اس پر غصہ آنے لگا اور ہاجرہ پر عتاب کرنے لگیں اور قسم کھائی کہ میں ان کے تین اعضاء کاٹوں گی ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو اپنی قسم پورا کرنا چاہتی ہے ؟ کہنے لگی میں کیسے پورا کروں ؟ فرمایا ان کے کانوں میں سوراخ کردے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [ انىٓ: بیشک میں نے ] [ اَسْكَنْتُ : بسا دیا ] [مِنْ ذُرِّيَّتِيْ : اپنی اولاد میں سے (ایک کو)] [بِوَادٍ : ایک ایسی وادی میں جو ] [غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ : کھیتی والی نہیں ہے ] [ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ : تیرے محترم گھر کے پاس ] [رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [لِيُقِيْمُوا : تاکہ وہ لوگ قائم رکھیں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [فَاجْعَلْ : پس تو بنا دے ] [اَفْىِٕدَةً : کچھ دلوں کو ] [مِّنَ النَاسِ : لوگوں میں سے ] [ تَهْوِيْٓ: (کہ) وہ مائل ہوتے ہوں ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [ وَارْزُقْهُمْ : اور تو رزق دے ان کو ] [ مِّنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے ] [ لَعَلَهُمْ : شائد وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اولاد کے نمازی ہونے کے لیے فکر مند ہونا پیغمبرانہ شان ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں یوں عرض کیا کہ میں نے اپنی ذریت کو اس وادی میں آپ کے گھر کے پاس ٹھہرایا ہے جہاں کھیتی نہیں ہے اور ساتھ ہی (لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) بھی کہا تاکہ وہ نماز قائم کریں اس سے نماز قائم کرنے کی اہمیت معلوم ہوئی جو ایمان کے بعد افضل الاعمال ہے نیز معلوم ہوا کہ اپنے اہل و عیال کی نماز کے لیے فکر مند رہنا کہ وہ نماز قائم کریں یہ بھی ایک ضروری بات ہے پھر رکوع کے ختم پر ان کی دعا کا تذکرہ فرمایا ہے کہ انہوں نے بارگاہ خداوندی میں یوں عرض کیا (رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلوٰۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–41

دعاء ابراہیمی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا .... الیٰ .... یوم یقوم الحساب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید و نعم الٰہیہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں دعاء ابراہیمی کا ذکر کرتے ہیں چونکہ اہل مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے طریقہ پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا نقل فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ بڑے مؤحد تھے اور شرک سے متنفر تھے۔ اور اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ان سب کو شرک اور بتوں سے دور رکھنا لہٰذا ان کی نسل کو چاہئے کہ ان کے طریقہ پر چلے اور انہیں کی دعاؤں سے یہ ریگستانی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

36:۔ ” لِیُقِیْمُوْا “ اَسْکَنْتُ کے متعلق ہے۔ اور ” رَبَّنَا “ کا اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ یعنی میں نے اپنی اولاد کو یہاں اس لیے آباد کیا ہے تاکہ وہ تیرے عزت والے گھر کے پاس نماز قائم کریں اور تیرے گھر کو آباد کریں۔ ” تَھْوِیْ اِلَیْھِمْ ای تمیل الیھم “ اور لوگوں کے دلوں میں ان سے محبت و الفت پیدا کردے تاکہ وہ بھی یہاں آکر ان کے پاس آباد ہوجائیں۔ اور ان کے ارد گرد بستیاں آباد فرما دے جہاں کے لوگ اہل مکہ کے لیے پھل اور میوے اگائیں۔ ” وانما یکوان المراد عمارۃ القری بالقرب منھا لتحصیل تلک الثمار منھا “ (کبیر ج 5 ص 362) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 35–37

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عام نعمتوں کا ذکر تھا جن میں سے ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، اب اللہ نے خاص نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے ، اس ضمن میں قریش مکہ کو یہ بات سمجھائی ہے کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور جد امجد مانتے ہو ، انہوں نے جس خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اس کی بنیاد تو حید پر تھی مگر تم کفر اور شرک میں کیسے مبتلا ہوگئے ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ان دعاؤں کا ذکر کیا ہے جن سے کفر وشرک سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی وجہ سے سرزمین مکہ پر جو خصوصی انعامات فرمائے تھے ، ان کا ذکر بھی کیا ہے توحید کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ 37؀ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–41

واذقال ابراھیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ کر چلے اور دل میں مفارقت اولاد کا رنج تھا اس وقت خانہ کعبہ کے سامنے آپ نے اللہ سے یہ دعا کی (1) اس مکہ کے جنگل کو امن کا شہر کر دے (چنانچہ کردیا جاہلیت کے ایام میں بھی وہاں کوئی کسی کو ایذا نہ دیتا تھا اس میں مشرکین مکہ پر تعریض ہے کہ تم محمد ﷺ کو کیوں اس شہر میں تکلیف دیتے ہو) ۔ (2) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچانا حضرت کو الہاماً معلوم ہوا ہوگا کہ ایسے معابد میں انجام کار ملت متغیر ہوتے ہوتے بت پرستی بھی ہونے لگے گی سو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی سعادت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَبَّنَآ اِنِّیْ ٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَبَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ لا رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْ ٓ اِلَیْہِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ ابراھیم : 37) (اے ہمارے رب ! میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھرکے پاس لا بسایا ہے۔ اے ہمارے رب ! یہ اس لیے تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس آپ لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنادیں۔ اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔ ) خاندان ابراہیمی کی تاریخ کے چند اوراق جس زمانے میں آپ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–38

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مزیدد عائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس لیے بیت اللہ کے قریب ٹھہرایا تھا تاکہ حضرت ہاجرہ نماز قائم کریں اور جب اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہوں تو وہ بھی نماز پڑھتے رہیں۔ قرآن مجید کے مقدس الفاظ سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہاں ٹھہرا یا تو اس وقت بیت اللہ کی مقدس جگہ اور بنیادیں موجود تھیں مگر گردش ایام کی وجہ سے بیت اللہ کی عمارت موجود نہ تھی۔ جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ازسرنو تعمیر فرمایا۔ جس کا ذکر البقرۃ کی آیت : 127 میں ان الفاظ میں ہوا ہے : ”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37: رَبَّنَآ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ (اے ہمارے رب بیشک میں نے اپنی اولاد کو ٹھہرا دیا) مِنْ ، تبعیضیہ ہے بعض اولاد مراد ہے اور وہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جو آپ کے بڑے بیٹے تھے بِوَادٍ (وادی میں) اس سے وادیٔ مکہ مراد ہے۔ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ (ایسی وادی میں جسمیں زراعت نہیں) اس میں کھیتی کی قسم میں سے کوئی چیز بالکل نہیں ہوتی۔ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ (تیرے عظمت والے گھر کے پاس) وہ بیت اللہ الحرام ہے۔ اس کو المحرمؔ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر تعرض کرنا حرام کیا ہے۔ نمبر 2۔ تذلیل کرنا حرام کیا اور اس کے ماحول کو اس کے مرتبہ کی وجہ سے حرمت والا بنایا نمبر 3۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 37۔” ربنا انی اسکنت من ذریتی “۔۔۔۔۔ ” من تبعیضیہ “ داخل کیا ۔ اس آیت سے مجازا ً یہ مرا د لیا ہے کہ میں نے اپنی اولاد کو باشندہ کردیا ۔ ” بو اد غیر ذی زرع “ اس سے مراد مکہ ہے کیونکہ ان دو پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔” عند بینک المحرم “ اس کو محرم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے قریب ہر وہ چیز حرام ہوجاتی ہے جو اس کے باہر حرام نہیں ہوتی۔ حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کا قصہ حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سب سے پہلے نطاق حضرت ہاجرہ علیہا السلا م نے اس غرض سے پہنا کہ قدموں کے نشانوں کو پیچھے سے نطاق کا سر ا مٹاتا چلے اور حضرت سارہ کو ان کا نشان قدم معلوم نہ ہو ۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

37۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں یہ کہا کہ یا اللہ دنیا کی مخلوقات میں سے کچھ لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل فرما دے اگر بجائے اس کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے منہ سے یہ نکل جاتا کہ یا اللہ دنیا کے لوگوں کے دل مکہ کی طرف مائل فرما دے تو کسی قوم کا کوئی آدمی ایسا دنیا میں باقی نہ رہتا جس کے دل میں مکہ کا شوق پیدا نہ ہوجاتا 1 ؎۔ اس دعا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے حق میں بت پرستی کے بچنے کی جو دعا کی تھی یہ دعا چند پشت کے حق میں قبول ہوئی پھر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کے سلسلہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اے رب ! میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو، ایسے میدان میں جہاں کھیتی نہیں، تیرے محترم گھر کے پاس “ یعنی آنجناب ﷺ نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہما التسلیم کو شام سے لاکر مکہ مکرمہ کی سرزمین میں بسایا تھا، اس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دودھ پیتے تھے۔ اس وقت یہ وادی بالکل سنسان تھی اور اس میں کوئی آبادی نہ تھی۔ جب آپ نے ماں بیٹے کو اس وادی میں آباد کردیا تو اس وقت یہ دعا مانگی : (ربنا انی اسکنت من ذریتی) یعنی میں نے اپنی تمام اولاد کو نہیں بلکہ اپنی کچھ اولاد کو یہاں لا بسایا ہے۔ کیونکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) شام میں تھے اسی طرح ان کے دیگر بیٹے بھی شام میں آباد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 37–38

76۔ وادیء غیر زرع کی آبادی کے مقصد کا ذکر وبیان : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بےآب وگیاہ بستی یعنی وادی غیرزرع میں بسایا یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اور جو ان کی نسل میں آگے پیدا ہوں گے ان کو (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ) سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اسی وادی غیرذرع میں بیت اللہ کے پاس بسایا اور ان کے بارے میں اپنے رب کے حضور اس طرح عرض کیا، تاکہ اس طرح اس کی آبادی کا سامان ہو، اور اس طرح ایک نئی دنیا کی داغ بیل پڑے جس طرح کہ فی الواقع بعد میں ہوا اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–41

جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو اللہ کے حکم سے وادیٔ فاران کے ایک چٹیل میدان میں چھوڑ آئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلی آیات میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کا بیان تھا تو یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کو حنیف کا لقب ملا۔ حنیف، یعنی یکسو ہو کر عبادت کرنے والا صرف اور صرف اللہ سے لو لگا کر اسی کی عبادت کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے توحید کے سبق کو سب سے زیادہ محنت اور کامیابی سے پھیلایا،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–41

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔ (دعا کا طریقہ) حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 ۔ یعنی خانہ کعبہ کے پاس۔ یہ دعا خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد کی ہے جیسا کہ دعا کے الفاط سے معلوم ہوتا ہے۔ یا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے وحی کے اشارہ سے وہاں حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کو بسایا ہو کہ یہاں کعبہ تعمیر ہوگا اور اس بنا پر دعا میں یہ الفاط کہدئے ہوں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ۔ 12 ۔ وہ تیرے اس گھر کا حج اور عمرہ کرنے کے لئے اس کی طرف کشاں کشاں آنے لگیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ” افئدۃ من الناس “ کہا کہ کچھ لوگوں کے دل اس طرف جھک جائیں اور اگر افئدۃ الناس۔ (لوگوں کے دل) کہتے تو ایرانی، رومی الغرض سب لوگ لپکے پڑتے اور مکہ میں جگہ نہ ملتی۔ (ابن کثیر) ۔ 1 ۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:37) اسکنت۔ اسکان (افعال) سے ماضی واحد متکلم۔ میں نے بسایا۔ سکن مادہ۔ ذریتی۔ میری اولاد۔ ذریۃ مضاف۔ ی ضمیر واحد متکلم۔ مضاف الیہ۔ غیر ذی زرع۔ جس میں کوئی زراعت نہیں۔ جہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں۔ لیقیموا الصلوۃ۔ اس لئے کہ وہ نماز کی پابندی کریں۔ افئدۃ۔ فواد کی جمع بمعنی دل۔ افئدۃ من الناس۔ ای افئدۃ من افئدۃ الناس۔ لوگوں کے دلوں میں سے کچھ دل یعنی کچھ لوگ۔ من تبعیض کے لئے ہے۔ تھوی الیہم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب ذریتی کی طرف راجع ہے۔ ھوی یھوی (باب ضرب) ھوی سے تھوی مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ بمعنی وہ گرتی ہے وہ گرے گی۔ وہ پھینک دیتی ہے وہ پھینک دے گی۔ ھوی کے معنی سرعت سے اوپر سے نیچے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–41

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41 اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–41

حضرت ہاجرہ اور اسماعیل (علیہما السلام) کو خانہ کعبہ کی سرزمین میں چھوڑنا اور وہاں چشمہ زمزم کا نکلنا۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔ اس وقت آپ کی پہلی بیوی جن کا نام سارہ تھا ان کو دیکھ کر رشک پیدا ہوا۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کردیجیے۔ حکمت الہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چناچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسماعیل کو اس سرزمین میں لے جائیں جہاں اب مکہ معظمہ ہے۔ آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوار کرکے حرم میں لائے اور کعبہ شریف کے نزدیک اتارا، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–38

نقطہ توحید کی تعمیر ! (ف 1) یہ اس وقت کی بات جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی تاسیس کی اخلاص و توحید کی بنیاد رکھی ، جب قوم کے لئے ایک مرکز وحدت تعمیر کای جب معبد عمومی نقطہ عبادت منصہ شہروپر جلوہ گر ہوئے ۔ اس وقت قرب و جوار کے لوگوں میں بت پرستی کا رواج تھا لوگ غیر اللہ کی پوجا میں منمک تھے ، اور اللہ کی چوکھٹ کو چھوڑ کر جبینوں کو غیروں کے آگے جھکایا جا رہا تھا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ مولا اس اخلاص و توحید کے گھر کو دارالامن بنانیویہ یہاں روحانی اور مادی بےچینوں سے لوگ رہائی حاصل کریں ، مجھے اور میری اولاد کو توفیق دیجیو کہ لوگوں کو بس مرکز توحید پر جمع کردیں ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

37 ۔ اے ہمارے پروردگار میں اپنی اولاد میں سے بعض اولاد کو ایک بےزراعت اور خشک میدان میں تیرے محترم گھر کے پاس آباد کر رہا ہوں اور اور ان کو یہاں بسا رہا ہوں تا کہ یہ لوگ اے ہمارے پروردگار نماز کی پابندی رکھیں لہٰذا ! میں جن کو یہاں بسا رہا ہوں تو ان کی طرف کچھ لوگوں کے قلوب مائل کر دے اور ان کو کھانے کے لئے اپنی قدرت سے پھل عطا کرتا کہ یہ لوگ تیرا شکر ادا کرتے رہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی بیوی اور بچے کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہاں بسایا تھا مکہ کے آس پاس کوئی زراعت کی جگہ نہ تھی پابندی نماز کی دعا اس لئے کی کہ عبادات میں نماز خاص اہمیت رکھتی ہے لوگوں کے دلوں کو مائل فرما دے تا کہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دعا میں اپنی اولاد کو شامل کر رہے ہیں جن کو یہاں آباد کرنے کیلئے ساتھ لائے تھے 38 ؎ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا جاری ہے اور آپ (علیہ السلام) کی دعا کے سلسلہ میں یہ تیسری آیت آرہی ہے ۔ پہلی دو آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) اپنی ذات کو مخاطب کر کے دعا فرما رہے تھے لیکن زیر نظر آیت کے اس پہلے حصے میں مخاطب تو اپنی ذات ہی کیلئے ہیں لنکل اصل دغا اپنی اس اولاد کے لئے مخصوص کر رہے ہیں جس اولاد کو مکہ بسانے کیلئے ساتھ لائے تھے اور یہاں ان کی رہائش کا مکمل انتظام کرنا چاہتے ہیں اور یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

Brimming with wisdom, there is another prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) which appears in the third verse (37) as follows: رَّ‌بَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّ‌يَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ‌ ذِي زَرْ‌عٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّ‌مِ رَ‌بَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْ‌زُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَ‌اتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُ‌ونَ : 'Our Lord, I have settled some of my children in a valley of no vegetation [ nor any other obvious life support system ] close to Your sanctified House, so that, Our Lord, they may establish Salah. So, make hearts of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

50. Allah granted this prayer of Prophet Abraham (peace be upon him). That was why people from the whole of Arabia used to come there for Hajj and Umrah at the time of the revelation of this Surah, and now people gather there from all over the world. Besides this, there is plenty of food and fruit in all seasons of the year, though the valley is absolutely barren and no vegetation grows in it even for animals.

Read the full tafseer →