Explained with ayahs 35–36
حرمت و عظمت کا مالک شہر
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ ؑ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے باامن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ سب سے پہلا بابرکت اور باہدایت اللہ کا گھر مکہ شریف کا ہی ہے، جس میں بہت سی واضح نشانیوں کے علاوہ مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس شہر میں جو پہنچ گیا، امن وامان میں آگیا۔ اس شہر کو بنانے کے بعد خلیل اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ اس شہر کو پر امن بنا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق جیسے بچے عطا فرمائے۔…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 46
عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب ان خاص احسانات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قریش پر کیے تھے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ نے یہاں لا کر کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں بسایا تھا، اس کی دعاؤں کے جواب میں کیسے کیسے احسانات ہم نے تم پر کیے، اور اب تم اپنے باپ کی تمناؤں اور اپنے رب کے احسانات کا جواب کن گمراہیوں اور بداعمالیوں سے دے رہے ہو۔
سورة اِبْرٰهِیْم 47
یعنی مکہ۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ ابراہیم ؑ نے (حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو بحکم الہی میدان مکہ میں لا کر رکھنے کے وقت دعاء کے طور پر) کہا کہ اے میرے رب اس شہر (مکہ) کو امن والا بنا دیجئے (کہ اس کے رہنے والے مستحق امن رہیں یعنی حرم کر دیجئے) اور مجھ کو اور میرے خاص فرزندوں کو بتوں کی عبادت سے (جو کہ اس وقت جہلاء میں شائع ہے) بچائے رکھئے (جیسا اب تک بچائے رکھا) اے میرے پروردگار (میں بتوں کی عبادت سے بچنے کی دعاء اس لئے کرتا ہوں کہ) ان بتوں نے بہتیرے آدمیوں کو گمراہ کردیا، (یعنی ان کی گمراہی کا سبب ہوگئے اس لئے ڈر کر آپ کی پناہ چاہتا ہوں اور میں جس طرح اولاد کے بچنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آگے کا مضمون آیات 35 تا 41: ملت ابراہیمی کی وضاحت : قریش اپنے مذہب شرک کی حمایت میں سب سے بڑی دلیل جو پیش کرتے تھے وہ یہ تھی کہ یہ دین ان کو اپنے جد اعلی حضرت ابراہیم سے وراثت میں ملا ہے۔ آگے اسی دعوے کی تردید آرہی ہے اور یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم نے ایک زرخیز و شاداب علاقہ سے ہجرت کرکے اس وادی غیر ذی زرع میں اپنی ذریت کو اس لیے بسایا تھا کہ وہ اس میں خدائے واحد کی عبادت کا ایک مرکز قائم کرسکیں تاکہ ان کی اولاد شرک کی تمام آلودگیوں سے پاک رہ کر خدائے وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرسکے۔ اس وادی غیر ذی زرع میں امن و رزق کی تمام برکتیں حضرت ابراہیم ؑ کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں لیکن قریش نے…
Read the full tafseer →35۔ 1 ' اس شہر ' سے مراد مکہ ہے۔ دیگر دعاؤں سے قبل یہ دعا کی کہ اسے امن والا بنا دے، اس لئے کہ امن ہوگا تو لوگ دوسری نعمتوں سے بھی صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں گے، ورنہ امن و سکون کے بغیر تمام آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود، خوف اور دہشت کے سائے انسان کو مضطرب اور پریشان رکھتے ہیں۔ جیسے آجکل کے عام معاشروں کا حال ہے۔ سوائے سعودی عرب کے۔ وہاں اس دعا کی برکت سے اور اسلامی حدود کے نفاذ سے آج بھی ایک مثالی امن قائم ہے۔ صانھا اللہ عن الشرور والفتن۔ یہاں انعامات الہیہ کے ضمن میں اسے بیان فرما کر اشارہ کردیا کہ قریش جہاں اللہ کے دیگر انعامات سے غافل ہیں اس خصوصی انعام سے بھی غافل ہیں کہ اس نے انھیں…
Read the full tafseer →24: اس سے مراد مکہ مکرمہ کا شہر ہے جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اہلیہ ہاجرہ ؓ اور اپنے صاحب زادے حضرت اسماعیل ؑ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چھوڑا تھا، اس وقت یہاں کوئی آبادی نہیں تھی نہ بظاہر زندہ رہنے کا کوئی سامان، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں پہلے زمزم کا کنواں جاری فرمایا، جسے دیکھ کر قبیلہ جرہم کے لوگ یہاں آکر حضرت ہاجرہ ؓ کی اجازت سے آباد ہوئے اور پھر رفتہ رفتہ یہ ایک شہر بن گیا۔
25: مکہ مکرمہ کے مشرکین حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا بڑا مانتے تھے اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ ان کی یہ دعا نقل فرما کر انہیں متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ تو بت پرستی سے اتنے بیزار تھے کہ انہوں نے اپنی اولاد کو اس سے محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
آیت نمبر 35 تا 41
اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر…
Read the full tafseer →6 روسائے قریش جن کی ناشکر گزاری اور شرک و کفر کا بیان اوپر ( اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) 14 ۔ ابراہیم :28) میں ہوا تھا، انھیں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ یاد دلا کر متنبہ کرتے ہیں کہ تم جن کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے کعبۃ اللہ اور حرم شریف کے مجاور بنے بیٹھے ہو، انہوں نے اس کعبہ کی بنیاد خالص توحید پر رکھی تھی، ان ہی کی دعاؤں سے خدا تعالیٰ نے یہ شہر مکہ آباد کیا اور پتھر یلے ریگستان میں ظاہری و باطنی نعمتوں کے ڈھیر لگا دیے۔ وہ دنیا سے یہ ہی دعائیں اور وصیتیں کرتے ہوئے رخصت ہوئے کہ ان کی اولاد شرک کا طریقہ اختیار…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ
یہ مضمون سورة البقرۃ کے پندرھویں رکوع کے مضمون سے ملتا جلتا ہے۔ حضرت ابراہیم سے ما قبل زمانہ کی جو تاریخ ہمیں معلوم ہوئی ہے اس کے مطابق اس دور کی سب سے بڑی گمراہی بت پرستی تھی۔ آپ سے پہلے کی تمام اقوام اسی گمراہی میں مبتلا تھیں۔ آپ کی اپنی قوم کا اس سلسلے میں یہ حال تھا کہ انہوں نے ایک بہت بڑے بت خانے میں بہت سے بت سجا رکھے تھے۔ انہی بتوں کا سورة الانبیاء میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے ان کو توڑا تھا۔ اس کے علاوہ آپ کی قوم ستاروں کی پوجا بھی کرتی تھی جبکہ نمرود نے انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
38 مکہ کو پر امن شہر بنانے کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا :۔ چند آیات پہلے مشرک رؤسائے قریش کا ذکر ہوا کہ کس طرح وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گڑھے تک لے گئے تھے۔ یہ قریش چونکہ اپنے آپ کو سنت ابراہیم کا پیروکار سمجھتے اور کہلواتے تھے لہذا سیدنا ابراہیم کا ذکر بیان کرکے انھیں بتایا جارہا ہے کہ وہ شرک سے کس قدر بیزار تھے۔ نیز یہ کہ تم ان کی اتباع کا دعویٰ کیسے کرتے ہو۔ انہوں نے تو اس شہر مکہ کو پرامن بنانے کے لیے دعا ہی یہ کی تھی کہ اے میرے پروردگار مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی شرک کی نجاستوں اور بتوں کی پوجا پاٹ سے محفوظ رکھنا۔ کیونکہ اکثر لوگ انہی بتوں کی پوجا پاٹ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →60۔ یعنی یہ بت ان کی گمراہی کا سبب اور ذریعہ بن گئے ہیں، یہ مراد نہیں کہ ان بےجان مورتیوں نے عمدا اور قصدا کسی کو گمراہ کیا ہے۔ (آیت) ” کثیرا من الناس “۔ اس میں دنیا میں بت پرستوں کی کثرت تعداد کی جانب اشارہ ہے جو مشاہد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
آیت نمبر 35 تا 41
ترجمہ : اور اس وقت کا ذکر کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار تو اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے اور بلاشبہ اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمالی اور اس کا محترم بنادیا، کہ وہاں نہ کسی انسان کا خون بہایا جاتا ہے اور نہ وہاں کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور نہ اس کے جانور کا شکار کیا جاتا ہے اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جاتی ہے، اور تو (اے میرے پروردگار) مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بت پرستی کریں دور رکھ، اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہت سے انسانوں کو ان کے ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے گمراہ کردیا، پس جس نے توحید کے معاملے میں میری اتباع کی تو وہ میرا یعنی…
Read the full tafseer →واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا اور جب ابراہیم نے کہا : اے میرے رب ! اس شہر (یعنی مکہ) کو امن والا (شہر) بنا دے ‘ جو یہاں رہے (یا آئے) امن سے رہے ‘ امن سے ہوجائے۔ حضرت ابراہیم نے اس جگہ مکہ سے خوف کو دور کرنے اور شہر کو پرامن بنانے کی دعا کی اور آیت اجْعَلْ ھٰذَا بَلَداً اٰمِنّا میں یہ درخواست کی کہ اس وادی کو امن کی بستی بنا دے (یعنی یہاں وادی میں ایک شہر بسا دے جو پرامن ہو) ۔
واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی کرنے سے بچا ‘ دور رکھ ‘ الگ رکھ۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ انبیاء کا معصوم ہونا محض اللہ کی توفیق اور نگہداشت سے وابستہ ہے (یعنی انسانی فطرت تو انبیاء…
Read the full tafseer →(35) اور حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کے بعد دعا فرمائی کہ میرے پروردگار مکہ کو امن والا بنا دیجیے کہ کوئی اس پر حملہ آور نہ ہو اور اس طور پر کہ خوف زدہ اس میں آکر پناہ حاصل کرسکے اور مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بتوں اور آگ کی پوجا سے بچائے رکھیے۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ۔۔ : عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم ؑ کا ان کے جد اعلیٰ اسماعیل ؑ کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ نے کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اس شہر کے پرامن بنانے کی اور اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی، مگر آج تم ان احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو اپنا دین قرار دے دیا۔
اٰمِنًا : یہ ”ذَا اَمْنٍ“ (امن والا) کے معنی میں ہے، جیسے ”لَابِنٌ“ (دودھ والا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت نمبر 35 تا 36
قولہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا، ھذا البلد سے مراد مکہ ہے سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام یعنی مجھے ان (بتوں) کی عبادت سے ایک طرف کر دے۔ اور نبی کے قول سے آپ کی مراد آپ کے صلبی بیٹے تھے جن کی تعداد آٹھ تھی، اور ان میں سے کسی ایک نے بھی بتوں کی عبادت نہیں کی۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ ہر اس آدمی کے لیے دعا ہے اللہ تعالیٰ جس کے لیے دعا چاہے۔
جحدری اور عیسیٰ نے واجنبنی الف قطعی کے ساتھ پڑھا ہے معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے، کہا جاتا ہے : جنبت ذالک الأمر، وأجنبتہ وجنبتہ ایاہ، فتجانبہ واجتنبہ ان کا معنی ہوگا : اس نے اس کو چھوڑ دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء :
1:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا البلد امنا واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمایا ان کی اولاد کے بارے میں ان کی دعا کے بعد ان کی اولاد میں سے کسی نے بت کی عبادت نہیں کی اس شہر کو امن والا بنادیا اور اس کے رہنے والوں کو پھل عطا فرمائے ان کو امام بنایا اور ان کی اولاد میں سے نماز کو قائم کرنے والے بنائے اور ان کی دعا کو قبول فرمایا اور ان کو (ابراہیم (علیہ السلام) کو) مناسک حج سکھائے اور ان کی توبہ قبول فرمائی۔
2:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر…
Read the full tafseer →[وَاِذْ : اور جب ] [ قَالَ : کہا ] [ اِبْرٰهِيْمُ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ اجْعَلْ : تو بنا ] [هٰذَا الْبَلَدَ : اس شہر کو ] [ اٰمِنًا : امن میں ہونے والا ] [وَّاجْنُبْنِيْ : اور تو دور کر دے مجھ کو ] [وَبَنِيَّ : اور میرے بیٹوں کو ] [ ان : کہ ] [نَّعْبُدَ : ہم عبادت کریں ] [الْاَصْنَامَ : بتوں کی ]
ترکیب : (آیت۔ 35) ۔ وَاجْنُبْ کا مفعول ہونے کی وجہ سے بَنِیَّ حالت نصب میں ہے ۔ یہ لفظ بَنِیْنَ تھا۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو بَنِیْ باقی بچا پھر اس پر مضاف الیہ یائے متکلم داخل ہوئی تو بَنِیَّ استعمال ہوا۔ (آیت۔ 37) ۔ بِوَادٍ نکرہ مخصوصہ ہے اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی اولاد کو بیت اللہ کے نزدیک ٹھہرانا اور ان کے لیے دعا کرنا کہ شرک سے بچیں اور نماز قائم کریں
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے ان کے علاقہ کے لوگ جو بابل کے قریب تھا بت پرست تھے، خود ان کا باپ بھی بتوں کی پوجا کرتا تھا آپ نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور اس بارے میں بہت تکلیفیں اٹھائیں یہاں تک کہ انہیں آگ تک میں ڈالا گیا پھر اپنے علاقہ سے ہجرت کرکے فلسطین میں تشریف لے آئے ہجرت میں ان کی بیوی بھی ساتھ تھیں۔ یہ چچا کی لڑکی تھیں، جن کا نام سارہ تھا۔ پھر سفر ہجرت میں ایک بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوایا بدنیتی سے ہاتھ ڈالا تو اس کے ہاتھ پاؤں اکڑ گئے پھر ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
دعاء ابراہیمی کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا .... الیٰ .... یوم یقوم الحساب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید و نعم الٰہیہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں دعاء ابراہیمی کا ذکر کرتے ہیں چونکہ اہل مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے طریقہ پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا نقل فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ بڑے مؤحد تھے اور شرک سے متنفر تھے۔ اور اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ان سب کو شرک اور بتوں سے دور رکھنا لہٰذا ان کی نسل کو چاہئے کہ ان کے طریقہ پر چلے اور انہیں کی دعاؤں سے یہ ریگستانی…
Read the full tafseer →34:۔ ” وَ اِذْ قَالَ “ تا ” یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ “ دوسری نقلی دلیل تفصیلی از حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اللہ تعالیٰ سے دعاء کی تھی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو شرک سے محفوط رکھ۔ ” ھٰذَا الْبَلَدَ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے اور ” اٰمِنًا “ نسبت کے لیے ہے ای ذا امن۔ یعنی شہر مکہ کو پر امن بنا اور اس کے باشندوں کو مال و جان میں سلامتی اور امن عطا فرما ” وَ جْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ “ مجھے اور میری اولاد کو شرک سے محفوط رکھ یعنی جس طرح ہم پہلے سے توحید اور ملت اسلام پر ہیں اسی طرح ہم کو اس پر قائم اور ثابت قدم رکھ ای ثبتنا علی ما نحن علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عام نعمتوں کا ذکر تھا جن میں سے ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، اب اللہ نے خاص نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے ، اس ضمن میں قریش مکہ کو یہ بات سمجھائی ہے کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور جد امجد مانتے ہو ، انہوں نے جس خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اس کی بنیاد تو حید پر تھی مگر تم کفر اور شرک میں کیسے مبتلا ہوگئے ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ان دعاؤں کا ذکر کیا ہے جن سے کفر وشرک سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی وجہ سے سرزمین مکہ پر جو خصوصی انعامات فرمائے تھے ، ان کا ذکر بھی کیا ہے توحید کی…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ 35ۭ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
واذقال ابراھیم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو مکہ کے بیابان میں چھوڑ کر چلے اور دل میں مفارقت اولاد کا رنج تھا اس وقت خانہ کعبہ کے سامنے آپ نے اللہ سے یہ دعا کی (1) اس مکہ کے جنگل کو امن کا شہر کر دے (چنانچہ کردیا جاہلیت کے ایام میں بھی وہاں کوئی کسی کو ایذا نہ دیتا تھا اس میں مشرکین مکہ پر تعریض ہے کہ تم محمد ﷺ کو کیوں اس شہر میں تکلیف دیتے ہو) ۔ (2) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچانا حضرت کو الہاماً معلوم ہوا ہوگا کہ ایسے معابد میں انجام کار ملت متغیر ہوتے ہوتے بت پرستی بھی ہونے لگے گی سو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی سعادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَالْاَصْنَامَ ۔ رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ج فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ج وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 35۔ 36)
(یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو بچالے اس بات سے کہ ہم بتوں کی پوجا کریں۔ اے ہمارے پروردگار ان بتوں نیبہت سے لوگوں کو گمراہی میں ڈالا ہے۔ اور جو کوئی میرے پیچھے چلاتو وہ میرا ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی (تو اس کا معاملہ تیرے سپرد ہے) بیشک تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی توحید کا انکار کرنے والا شخص ظالم اور ناقدری کرنے والا ہوتا ہے قریش مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تصور کرتے تھے۔ انہیں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ بتلاکریہ احساس دلایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے قدر دان اور صرف اسی کے تابع فرمان تھے۔
اے دنیا جہان کے انسانو بالخصوص مکہ میں بسنے والے لوگو ! جس عالی مرتبت شخصیت کے ساتھ تم ناطہ جوڑتے اور اس کے بسائے ہوئے شہر میں رہتے ہو اس کا عقیدہ یہ تھا کہ جب اس نے اپنی زوجہ مکرمہ اور اکلوتے لخت جگر کو مکہ میں ٹھہرا کر اس شہر کی بنیاد رکھی تھی تو اس نے اپنے رب کے حضور سب سے پہلے یہ…
Read the full tafseer →ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعائیں :
35: وَاِذْقَالَ اِبْرٰھِیْمُ (اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا) اذکر اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ (اے میرے رب تو بنا دے اس شہر کو) البلد سے بلد حرام مراد ہے اٰمِنًا (امن والا)
فائدہ : اس آیت اور سورة بقرہ میں جو آیت گزری اس کا فرق یہ ہے اس میں یہ سوال ہے کہ اس کو ان شہروں میں سے کردے کہ جنکے رہنے والے مامون ہوتے ہیں۔ اور اس آیت میں یہ ہے کہ اس کو خوف والی حالت سے نکال کر امن والی حالت میں بدل دے گویا اس طرح فرمایا۔ ھوبلد مخوف فاجعلہ اٰمنا۔ کہ وہ خوف والا شہر ہے اس کو امن والابنا دے۔ وَّ اجْنُبْنِیْ (اور…
Read the full tafseer →35۔” واذقال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد “ بلد سے مراد سے حرام ہے۔” آمنا “ امن والا شہر ” واجنبنی “ اور دور فرما۔” وبنی ان نعبد الاصنام “ ۔۔۔۔۔۔ ’ ’ اجنبتہ جنباً ، جنبتہ ، تجنیبا ً ، اجتنا با ً ، ان سب کا منی ایک ہی ہے۔
شبہ اور اس کا ازالہ
اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی پوجا کرنے سے معصوم تھے، پھر یہ سوال کرنا درست نہیں ۔ دوسرا یہ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی وبنی ان نعبد الاصنام حالانکہ کیسے کر رہے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے بعض لوگوں نے بت پرستی کو شروع کیا ہوا تھا، پھر یہ کیسے صحیح ہوگا ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ دعا ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
35۔ 36۔ یہ دعا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جو انہوں نے حرم شریف کے امن اور اپنی اولاد کے لئے بتوں کی پرستش سے بچنے کو کی تھی اللہ پاک نے بطور حجت کے اس کو ذکر کیا کہ جب مکہ معظمہ کا شہر بسایا گیا اور خانہ کعبہ بنا اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے جن کے سبب سے یہ شہر آباد ہوا یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ تو شہر کو امن میں اور ویران ہونے سے محفوظ رکھیو سورت بقرہ میں بھی یہ دعا گزر چکی 1 ؎ ہے۔ مگر اس میں اور اس دعا میں یہ فرق ہے کہ وہاں کی دعا کعبہ کے تیار ہونے سے پہلے کی تھی۔ اس لئے وہاں یہ دعا کی تھی کہ اس کو آباد کرنا اور امن میں رکھنا اور یہاں تیاری کے بعد کی دعا ہے یہاں صرف امن مقصود ہے…
Read the full tafseer →(و) ” اور یعنی اس حالت جمیلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کو یاد کیجئے (آیت) ” جب ابراہیم نے کہا، اے رب ! بنادے اس شہر کو “ یعنی حرم مبارک کو (آمناً ) ” امن والا “ پس اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً آپ کی دعا قبول فرمائی اور اس کی حرمت کے اسباب میسر فرمائے جو کہ ہمیں معلوم ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ظالم حرم میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قلع قمع کردیتا ہے جیسے اصحاب فیل کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے، اپنے بیٹوں کے لئے اور اس ارض محترم کے لئے امن کی دعا کی۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے دور رکھ “ یعنی ان کے قریب جانے سے بچا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
72۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء بت پرستی سے بچاؤکے لیے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعاء میں اپنے سے مزید عرض کیا کہ اے میرے رب بچا دے مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی بت پرستی (کی نجاست ولعنت) سے کہ تیری توفیق و عنایت کے بغیر کوئی بھی نہیں بچ سکتا، سبحان اللہ کیا شان ہے تفویض ورضاء کی، کہ ابو الانبیاء رئیس الموحدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے بت شکنی کے سلسلہ میں بےمثال تاریخ رقم کی، وہ بھی اپنے رب سے بت پرستی سے بچنے کی اد طرح دعاء فرماتے ہیں، علیہ وعلی نبینا اطیب الصلوۃ والتسلیم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
جد الانبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں
تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) کو اللہ کے حکم سے وادیٔ فاران کے ایک چٹیل میدان میں چھوڑ آئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلی آیات میں شرک کی مذمت اور توحید کی تعریف کا بیان تھا تو یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کو حنیف کا لقب ملا۔ حنیف، یعنی یکسو ہو کر عبادت کرنے والا صرف اور صرف اللہ سے لو لگا کر اسی کی عبادت کرنے والا۔ کیونکہ آپ نے توحید کے سبق کو سب سے زیادہ محنت اور کامیابی سے پھیلایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مکہ اپنے کو اپنے آباؤ اجداد کا پیرو کہتے ہیں تو سب سے محترم ہستی ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی اور اہل مکہ کو بھی انہی کی پیروی کا دعوی تھا تو ان کا حال تو یہ تھا کہ مکہ مکرمہ کا وجود نہ تھا جب اس بیابان ویرانے میں انہوں نے اپنے ننھے منے لخت جگر اور عمر بھر کی وفا شعار بیوی کو یہاں چھوڑا تھا تو دعا کی تھی کہ اے اللہ اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچا کر رکھئے ۔
(دعا کا طریقہ)
حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں مقدم دنیا کا حال ہے اور وہ بھی بہت عجیب انداز ہے کہ پہلے تو اس…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ عام احساناتن کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کا ان کے جدِ اعلیٰ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کن تمنائوں کے ساتھ تمہیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اپنے اور بیٹوں کے لئے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی۔ مگر آج تم ان تمام احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو پہنا دین قرار دے لیا۔
Read the full tafseer →(14:35) ھذا البلد۔ البلد الحرام۔ مکہ معظمہ۔
امنا۔ امن والا۔ پر امن۔ امن سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ امن یامن (باب سمع) سے۔
اجنبنی۔ تو مجھ کو دور رکھ۔ تو مجھ کو بچا۔ جنب سے باب نصر جس کے معنی دور رکھنے اور بچانے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔
بنی۔ میرے بیٹوں کو۔ اصل میں بنینی تھا۔ نون جمع ی متکلم کی طرف اضافت سے گرگیا۔ اور جمع کی ی اور متکلم کی ی مدغم ہوئیں۔ ان بمعنی کہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 41
اجعل بنا دے۔ البلد شہر، (مکہ مکرمہ) امن پرامن ۔ اجنبنی مجھے بچا لے۔ بنی میری اولاد ۔ ان نعبد یہ کہ ہم عبادت کریں ۔ الاصنام (صنم) ، بت ۔ اضللن انہوں نے بھٹکایا ۔ تبعنی میری پیروی کی۔ عصانی میری نافرمانی کی۔ اسکنت میں نے آباد کردیا۔ بسا دیا۔ ذریتی میری اولاد واذ میدان۔ غیر ذی ذرع کھیتی نہ اگتی ہو۔ المحرم احترام والا۔ افئدۃ (فواد) ، دل، قلوب ۔ تھوی مائل ہوں۔ مائل ہوتے ہوئے نخفی ہم چھپاتے ہیں۔ نعلن ہم اعلان کرتے ہیں۔ ہم ظاہر کرتے ہیں۔ وھب عطا کیا۔ دیا۔ الکبر بڑھاپا۔ سمیع الدعا دعا سننے والا۔ مقیم قائم رکھنے والا۔ والدی میرے والدین اغفر معاف کردے ۔ بخش دے ۔ یقوم قائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا
مطلب یہ ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مناجات کی کہ یا الٰہی تو اس شہر کو یعنی مکہ معظمہ کو مکروہ اور خوف کی چیزوں سے امن میں کردے۔ یا الہی ! مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بت پرستی سے محفوظ رکھ۔ یا الٰہی ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا پس جو کوئی میری اتباع کرے گا وہ میرا ہے اور جو کوئی میرے خلاف کرے گا تو اس کی مغفرت کردیجیو۔ کیونکہ تو یقینا مغفرت کرنے والا اور مہربان ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی۔ حرم کے اندر کسی کا خون نہٰں ہوتا شکار تک نہیں کیا جاتا۔ اور نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے۔ پرندے بھی حرم کے اندر آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[19] یعنی تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کی اور تمہاری زندگی کے لئے جو کچھ مطلوب تھا بقدر مناسب تمہیں دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
نقطہ توحید کی تعمیر !
(ف 1)
یہ اس وقت کی بات جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی تاسیس کی اخلاص و توحید کی بنیاد رکھی ، جب قوم کے لئے ایک مرکز وحدت تعمیر کای جب معبد عمومی نقطہ عبادت منصہ شہروپر جلوہ گر ہوئے ۔
اس وقت قرب و جوار کے لوگوں میں بت پرستی کا رواج تھا لوگ غیر اللہ کی پوجا میں منمک تھے ، اور اللہ کی چوکھٹ کو چھوڑ کر جبینوں کو غیروں کے آگے جھکایا جا رہا تھا ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ مولا اس اخلاص و توحید کے گھر کو دارالامن بنانیویہ یہاں روحانی اور مادی بےچینوں سے لوگ رہائی حاصل کریں ، مجھے اور میری اولاد کو توفیق دیجیو کہ لوگوں کو بس مرکز توحید پر جمع کردیں ، اور…
Read the full tafseer →35 ۔ اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب اس شہرم کہ کو امن والا اور امن کی جگہ بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے دور رکھیو کہ ہم مورتیوں کو پوجیں اور اصنام پرستی میں مبتلا ہوں ۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ بت پرستی سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے اور اپنی مخصوص اولاد کے حق میں دعا فرمائی یا تمام اولاد کے لئے دعا کی ہو لیکن بعض کے حق میں قبول نہ ہوئی ہو ۔ شہر کو امن والا بنادے یعنی حرم بنادے کہ اس کے رہنے والے مستحق امن رہیں ۔
Read the full tafseer →ف 4۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو بحکم الٰہی میدان مکہ میں لاکررکھنے کے وقت۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر جو مکہ کی آبادی کیلئے مانگی گئی تھی
36 ؎ پیچھے اس انسان کا ذکر تھا جو ” ظلوما کفارا “ تھا اور اب اس انسان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو کفر و شرک کی ہوا سے بھی دور رہنے والا ہے اور اس میں انسانیت کیلئے کتنا بڑا سبق موجود ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کفر و شرک سے ماورا نہیں ہوجاتے بلکہ برابر اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور کہنا چاہیے کہ اس خوف لغزش ہی نے ان کو معصوم رکھا ہے تو بھلا ہم دنیا داروں کا کیا ذکر جو ہر وقت نفس اور شیطان کی کمند میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے یہ دعا آپ (علیہ السلام) نے اس وقت کی جب اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ…
Read the full tafseer →Commentary
Stated in the previous verses was the rational strength and cardinal position of Tauhid, the belief in the Oneness of Allah. And also mentioned there in contrast was the gross ignorance of Shirk, the ascribing of partners in the pristine divinity of Allah, and a condemnation thereof. Among the group of prophets (علیہم السلام) the most successful Jihad waged to establish pure monotheism was that of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . Therefore, the religion preached by him is known particularly as the upright religion.
In view of this, reference has been made to the story of Sayyidna…
Read the full tafseer →46. In the preceding (verses 32-35), an appeal was made to the Quraish to be grateful to that Allah Who has bestowed so many bounties on mankind in general. But in this passage the same appeal is being made on the plea that Allah had bestowed His special bounties on the Quraish in particular. They have been asked to remember that Prophet Abraham (peace be upon him) had settled forefathers of the Quraish near the Kabah and made their city, Makkah, a city of peace and Allah showered His blessings on the Quraish in answer to the prayer of Prophet Abraham (peace be upon him). They have been…
Read the full tafseer →