Explained with ayahs 32–34
سب کچھ تمہارا مطیع ہے
اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 45
یعنی تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کی، تمہاری زندگی کے لیے جو جو کچھ مطلوب تھا مہیا کیا، تمہارے بقا اور ارتقاء کے لیے جن جن وسائل کی ضرورت تھی سب فراہم کیے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ یعنی اللہ تعالیٰ نے دیا تم کو ہر اس چیز میں سے جو تم نے مانگی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش کسی کے مانگنے پر موقوف نہیں ہم نے تو اپنا وجود بھی نہیں مانگا تھا اسی نے اپنے فضل سے بےمانگے عطا فرمایا۔
مانبودیم و تقاضا مانبود لطف تو ناگفتہ مامی شنود
اسی طرح آسمان، زمین، چاند، سورج، وغیرہ پیدا کرنے کی دعا کس نے مانگی تھی یہ سب کچھ مالک نے بےمانگے ہی دیا ہے اسی لئے قاضی بیضاوی نے اس لفظ کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ہر وہ چیز دے دیجو مانگنے کے قابل ہے اگرچہ تم نے مانگا نہ ہو لیکن اگر الفاظ کے ظاہری معنی ہی مراد ہوں تو ان میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
تفسیر آیات 32 تا 34:۔ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ۔ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۔
یہ اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے جو اوپر گزر چکا ہے کہ نعمتیں تو ساری کی ساری اللہ نے بخشیں لیکن ظالم مشرکوں نے…
Read the full tafseer →34۔ 1 یعنی اس نے تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں مہیا کیں جو تم اس سے طلب کرتے ہو، وہ بھی دیتا ہے اور جسے نہیں مانگتے، لیکن اسے پتہ ہے کہ وہ تمہاری ضرورت ہے، وہ بھی دے دیتا ہے۔ غرض تمہیں زندگی گزارنے کی تمام سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
34۔ 2 یعنی اللہ کی نعمتیں ان گنت ہیں انھیں کوئی شمار میں نہیں لاسکتا۔ چہ جائیکہ کوئی ان نعمتوں کے شکر کا حق ادا کرسکے۔ ایک اثر میں حضرت داؤد ؑ کا قول نقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ' اے رب ! میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں ؟ جب کہ شکر بجائے خود تیری طرف سے مجھ پر ایک نعمت ہے ' اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اے داؤد اب تو نے میرا شکر ادا کردیا جب کہ تو نے اعتراف کرلیا کہ یا اللہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
23: اس سے مراد حساب و کتاب کا دن ہے۔ اس دن کوئی شخص پیسے خرچ کر کے جنت نہیں خرید سکے گا اور نہ دوستی کے تعلقات کی بنا پر اپنے آپ کو عذاب سے بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
آیت نمبر 32 تا 34
یہ ایک زبردست تنقیدی حملہ ہے ، انسانی شعور پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں۔ زمین و آسمان کے بڑے بڑے اجرام و پہاڑ ، شمس و قمر ، گردش لیل ونہار ، بارشیں اور پھل ، یہ سب کوڑے اور سنگ باری کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں اس ظالم انسان کے شعور کے لئے سخت کاٹ بھی ہے اور پر محبت اور پرسوز آواز بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل فکر کے لئے اس کتاب کے معجزات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر اور نفس انسانی کی الجھنوں کو عقیدۂ توحید کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اور ہر چمک کو ایک اشاراتی رنگ دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی نفس کے تصورات اور اشراقات میں سے ہر…
Read the full tafseer →3 یعنی جو چیزیں تم نے زبان قال یا حال سے طلب کیں، ان میں ہر چیز کا جس قدر حصہ حکمت و مصلحت کے موافق تھا مجموعی طور پر تم سب کو دیا۔
4 یعنی خدا کی نعمتیں اتنی بیشمار بلکہ غیر متناہی ہیں کہ اگر تم سب مل کر اجمالاً ہی گنتی شروع کرو تو تھک کر اور عاجز ہو کر بیٹھ جاؤ۔ اس موقع پر امام رازی نے نعمائے الٰہیہ کا بیشمار ہونا، اور علامہ ابو السعود نے ان کا غیر متناہی ہونا ذرا بسط سے بیان فرمایا ہے اور صاحب روح المعانی نے ان کے بیانات پر مفید اضافہ کیا۔ یہاں اس قدر تطویل کی گنجائش نہیں۔
5 یعنی جنس انسان میں بہتیرے بےانصاف اور ناسپاس ہیں، جو اتنے بیشمار احسانات دیکھ کر بھی منعم حقیقی کا حق نہیں پہچانتے۔
Read the full tafseer →آیت 34 وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ
یہ مانگنا شعوری بھی ہے اور غیر شعوری بھی۔ یعنی وہ تمام چیزیں بھی اللہ نے ہمارے لیے فراہم کی ہیں جن کا تقاضا ہمارا وجود کرتا ہے اور ہمیں اپنی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انسان کو پوری طرح شعور نہیں ہے کہ اسے کس کس انداز میں کس کس چیز کی ضرورت ہے اور اس کی ضرورت کی یہ چیزیں اسے کہاں کہاں سے دستیاب ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی دنیوی زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اسباب و نتائج کے ایسے ایسے سلسلے پیدا کردیے ہیں جن کا احاطہ کرنا انسانی عقل کے بس میں نہیں ہے۔ اللہ نے بہت سی ایسی چیزیں بھی پیدا کر رکھی ہیں جن سے انسان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
37 اللہ کی نعمتوں کی ناشکری :۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں بندوں پر اپنے احسانات کا ذکر کیا ہے جن کے بغیر ان کی زندگی ممکن ہی نہ تھی۔ مثلاً زمین اور آسمان پیدا کیے۔ زمین اس کائنات میں بنی نوع انسان کا مسکن ہے پھر زمین و آسمان میں ہواؤں اور بادلوں کا نظام جاری کیا تاکہ اس زمین میں بارش برسے اور انسانوں اور دوسرے جانوروں کو خوراک مہیا ہوسکے اور وہ زندہ رہ سکیں۔ اگر بارش کا سلسلہ منقطع ہوجائے تو انسان کو نہ کچھ پینے کو ملے اور نہ کھانے کو۔ پھر دودھ اور سواری کے لیے چوپائے بنائے اور بحری سفر کے لئے کشتیاں۔ اگر کشی کی ساخت میں چند مخصوص طبعی قوانین سے مدد نہ لی جاتی تو…
Read the full tafseer →59۔ (جیسا کہ اب تک بچائے رکھا ہے) آیت میں صاف دلالت اس امر پر ہے کہ حضرات انبیاء تک امکان کفر وشرک سے م اور انہیں ہوجاتے بلکہ برابر اس سے ڈرتے ہی رہتے ہیں، کہنا چاہیے کہ اسی خوف لغزش ہی نے تو انہیں معصوم رکھا ہے تو بھلا ہم دنیا داروں کا کیا ذکر جو ہر وقت نفس اور شیطان کی کمند میں پھنسے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” ھذا البلد “ یعنی شہر مکہ، (آیت) ” امنا “۔ یعنی اسے حرم مقرر کردے جس کے رہنے بسنے والے مستحق امن ہوتے ہیں۔ (آیت) ” واذ قال ابراہیم “۔ یہ وقت وہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شہر مکہ میں خانہ کعبہ کے قریب حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ ؓ کو لا کر چھوڑ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت نمبر 28 تا 34
ترجمہ : کیا آپ نے ان پر نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمتوں یعنی ان کا شکر کو ناشکری سے بدل دیا اور وہ کفار قریش ہیں، اور اپنی قوم کو گمراہ کرکے ہلاکت کے گھر میں لا اتارا یعنی جہنم میں یہ عطف بیان ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ دین اسلام سے بہکائیں یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اپنی دنیا میں (چند دن) مزے اڑالو، تمہاری جائے بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے (اے نبی) میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دیجئے کہ نماز کی پابندی کریں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ظاہر اور…
Read the full tafseer →واتکم من کل ما سالتموہ اور جو کچھ تم نے اس سے مانگا ‘ اس میں سے کچھ (بقدر ضرورت و مناسبت) تم کو دیا۔ مَنْ کُلِّ میں مِنْ تبعیضیہ ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے : شاید مراد یہ ہے کہ تمہاری ضرورتوں کا جو تقاضا تھا اور تمہاری حاجتیں (فطری طور پر جس چیز کی خواہش مند تھیں ‘ وہ سب کچھ تم کو دیا خواہ زبان سے تم نے مانگا ہو یا نہ مانگا۔ لفظ کل کثرت کے اظہار کیلئے استعمال کیا گیا ہے (استغراق حقیقی مراد نہیں ہے) جیسے محاورے میں بولا جاتا ہے : فلاں شخص سب کچھ جانتا ہے (یعنی بقدر ضرورت) اس کے پاس ہر شخص آگیا ‘ یعنی بہت آدمی آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فتحنا علیھم ابواب کل شیء یعنی بہت چیزوں کے دروازے ہم نے…
Read the full tafseer →(34) اور جو چیز تم نے مانگی وہ تمہیں دی، اب تمہارے لیے مانگنا مناسب نہیں رہا، کیوں کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے احسانات کو شمار کرنے لگو تو شمار میں نہیں لاسکتے اور نہ ان کا شکر ادا کرسکتے ہو یقیناً کافر بہت ہی بڑا بےانصاف اور بہت ہی اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا ناشکرا ہے۔
Read the full tafseer →وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ : یعنی یہ سب کچھ اور بہت کچھ تمہارے مانگے بغیر دیا۔ علاوہ ازیں جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے بھی جتنا چاہا اس نے تمہیں دیا۔ ”من“ تبعیضیہ ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ زبان حال یا قال سے تم نے جو مانگا، یعنی اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے تمہاری حالت جو تقاضا کرتی تھی اور جو بھی تمہاری ضرورت ہوسکتی تھی اس نے اس میں سے جتنا چاہا تمہیں دیا۔
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا : یعنی مختصر طور پر بھی نہیں گن سکو گے، کجا یہ کہ تم لا محدود نعمتوں کو شمار کرسکو، تو سوچو تم اس کا شکر کس طرح ادا کرسکتے ہو۔ (شوکانی) ”كَفَّارٌ“ بہت ناشکرا۔ ”اَحْصٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
آیت نمبر 32 تا 34
قولہ تعالیٰ : اللہ الذی خلق السموت والارض یعنی بغیر کسی مثال کے اس نے ان کو بنایا اور ایجاد فرمایا۔ وانزل من السمآء یعنی بادلوں سے مآء فاخرج بہ من الثمرات یعنی درخت سے پھل نکالے۔ رزقا لکم تمہارے کھانے کے لیے۔ وسخر لکم الفلک لتجری فی البحر بامرہ اس کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ وسخر لکم الانھر یعنی میٹھے دریا مسخر کیے تاکہ تم ان سے پانی پیو، کھیتوں کو سیراب کرو اور کاشت کاری کرو، اور نمکین دریا مختلف فوائد کے حصول کے لیے مسخر کیے ہیں۔ وسخر لکم الشمس والقمر دآئبین یعنی نباتات وغیرہ میں سے جن کی اصلاح ان کے ذریعے ممکن ہوتی ہے ان کی اصلاح میں اللہ تعالیٰ نے سورج و چاند کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
1:۔ امام عبدالرزاق، سعید بن منصور، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے مراد مکہ کے رہنے والے کافر ہیں۔
2:۔ امام بخاری نے تاریخ میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش میں سے فاجر ترین مراد ہیں بنو مغیرہ اور بنوامیہ بنومغیرہ کا بدر کی لڑائی میں تم نے کام تمام کردیا اور بنوامیہ کو کچھ عرصہ تک مزے اڑانے کا موقعہ دے دیا گیا۔
3:۔ امام ابن مردویہ نے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →[وَاٰتٰىكُمْ : اور اس نے دیا تم لوگوں کو ] [ مِّنْ كُلِ مَا : اس کے سب میں سے جو ] [سَاَلْتموْهُ : تم لوگوں نے مانگا اس سے ] [ وَان : اور اگر ] [ تَعُدُّوْا : تم لوگ گنتی کرو گے ] [نِعْمَتَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کی ] [لَا تُحْصُوْهَا : تو شمار پورا نہ کر پائو گے اس کا ] [ان : بیشک ] [الْانسَان : انسان ] [لَظَلُوْمٌ: یقینا بےانتہا ظلم کرنے والا ہے ] [ كَفَّارٌ: انتہائی ناشکرا ہے ]
ح ص ی
[حَصْیًا : (ض) (1) کنکری سے مارنا۔ (2) کنکری پر گنتی کرنا۔] [اِحْصَائً : (افعال) (1) کسی چیز کی گنتی کو پورا کرنا۔ شمار مکمل کرنا۔ (2) کسی کام کا حق پورا کرنا۔ نباہنا۔ (3) پھیرلینا۔ احاطہ کرنا۔ زیر مطالعہ…
Read the full tafseer →مذکورہ بالا نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اجمالاً دوسری نعمتوں کا بھی تذکرہ فرمایا اور فرمایا (وَاٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ ) (اور جو کچھ تم نے اللہ سے مانگا اس سب میں سے تمہیں عطا فرما دیا) (وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا) (اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہیں کرسکتے) اللہ تعالیٰ شانہٗ کی بیشمار نعمتیں ہیں بہت سی نعمتوں کا تو انسان کو علم بھی نہیں۔ جن سے منتفع ہوتا ہے سر سے پاؤں تک انسان کے جسم میں کیا کیا ہے کتنی رگیں ہیں کتنے پٹھے ہیں ان سب کا پتہ عامۃ الناس کو تو ہے ہی نہیں جن لوگوں نے آلات کے ذریعے ریسرچ کی ہے وہ بھی اب تک پوری طرح جسم انسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
مذمت کفار و مشرکین و مدح مومنین صالحین
قال اللہ تعالیٰ الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا .... الیٰ .... ان الانسان لظلوم کفار
یہ آیت کفار مکہ کے حق میں نازل ہوئی جن پر اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے انعامات کیے اور ان کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے شجرہ طیبہ کی دعوت دی اور شجرہ خبیثہ کی مضرتوں سے آگاہ فرمایا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کی ناشکری کا اور بجائے اس کے کہ منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرتے اس کی ناشکری پر کمر بستہ ہوگئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قل لعبادی الذین امنوا میں اپنے خاص بندوں کو مراہم عبودیت بجا لانے کی تلقین فرمائی کہ تم اپنے منعم حقیقی کی…
Read the full tafseer →33:۔ جو کچھ ہم اللہ سے مانگتے ہیں اور جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ ہمیں اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے یعنی ہمارے پاس جس قدر بھی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ کی ہی کی عطا کی ہوئی ہیں یہ مطلب نہیں کہ ہم جو کچھ بھی مانگیں وہ سب کچھ ہمیں دے دیتا ہے کیونکہ دینا نہ اس کے اختیار میں ہے اور اس کا فعل حکمت بالغہ پر مبنی ہے۔ البتہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ سب اللہ ہی کا دیا ہوا ہے اور اتنا ہے کہ ہم اس کو شمار نہیں کرسکتے مگر اس کے باوجود انسان بڑا ناشکر گذار اور احسان فراموش ہے۔ نعمتیں اللہ تعالیٰ دیتا ہے مگر وہ ان کو غیر اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے مثلا بیٹا فلاں پیر نے دیا۔ شفا فلاں بزرگ کی نذر ماننے سے ہوئی اور مصیبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا اثبات اور کفر وشرک کا رد فرمایا تھا ، اس سلسلہ میں کلمہ توحید کی مثال پاکیزہ درخت کے ساتھ اور کلمہ کفر وشرک کی مثال ایک گندے درخت کے ساتھ بیان فرمائی فرمایا کہ دنیا وآخرت میں ایمان والوں کی ثابت قدمی کلمہ توحید کے ساتھ منسلک ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منکرین نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی جس کی وجہ سے کود بھی جہنم میں پہنچے اور دوسروں کو بھی ساتھ لے گئے ، خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ، فرمایا ، یہ لوگ چند دن تک فائدہ اٹھالیں ، بالآخر ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا…
Read the full tafseer →وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ 34ۧ
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
عد
العَدَدُ : آحاد مركّبة، وقیل : تركيب الآحاد، وهما واحد . قال تعالی: عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5]
( ع د د ) العدد
( گنتی ) آحا د مرکبہ کو کہتے ہیں اور بعض نے اس کے معنی ترکیب آحاد یعنی آجا د کو ترکیب دینا بھی کئے ہیں مگر ان دونوں معنی کا مرجع ایک ہی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عَدَدَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
ترکیب : کفروا مفعول ثانی بدل کا جہنم بدل ہے دارالبوار سے۔ یقیموا و ینفقوا امر کے صیغے بحذف لام ای لیقیموا و لینفقوا کیونکہ قل اس پر دال ہے سرًا و علانیۃً مصدر ہیں موقع حال میں دائبیں حال الشمس والقمر سے ل مضاف ماموصولہ مضاف الیہ جملہ مفعول انکم من بقول اخفش زائد ہے۔ ھذا موصوف البلد صفت یا ھذا اسم اشارہ البلد مشارٌا لبہ یہ سب مفعول اول اجعل کا آتنا اس کا مفعول ثانی۔ ان نعبد ای عن نعبد من عصانی شرط فانک جواب والعائد محذوف ای لہ من ذریتی میں من زائدہ بواد موصوف عند بیتک صفت یا بدل علی الکبر حال ہے وہب لی سے۔
تفسیر : یہاں کلمہ خبیثہ کے پھل بیان فرماتا ہے الم تر سے لے کر الی النار تک کہ اللہ نے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّـکُمْ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الْاَنْھٰرَ ۔ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ ۔ ج وَاٰتٰـکُمْ مِّنْ کُلِّ مَاسَاَلْتُمُوْہُ ط وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْھَا ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ۔
(سورۃ ابراھیم : 32۔ 33۔ 34)
(اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور بلندی سے پانی اتارا، پھر نکالے اس پانی سے تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
فہم القرآن
ربط کلام : جس اللہ کی عبادت اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس کی صفات یہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ چاہتا تو انسان کو صرف حکم دیتا کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میری عبادت کرو۔ اس نے حکم دینے کی بجائے اپنی ذات پر ایمان لانے اور اپنی عبادت کے استحقاق کے بیشمار دلائل دیے ہیں۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اے لوگو ! اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہارے کھانے پینے کے لیے انواع و اقسام کے پھل پیدا کیے۔ بس اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ کیونکہ تم جانتے ہو زمین و…
Read the full tafseer →34: وَاٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَاسَاَلْتُمُوْہُ (اور تمہیں وہ دیا جو تم نے اس سے مانگا) من تبعیض کیلئے ہے یعنی اس میں سے بعض عنایت کیا جو تم نے مانگا۔ نمبر 2۔ اور اس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا اور جو نہ مانگا۔ اس میں ماؔ موصولہ ہے اور جملہ اسکی صفت ہے۔ اور دوسرا جملہ محذوف ہے کیونکہ بقیہ حصہ محذوف پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا سرابیل تقیکم الحر ] النحل : 81[ میں گرمی سے بچانا ذکر کردیا دوسرا خود سمجھا گیا۔
قراءت : ابو عمرو نے مِنْ کُلٍّ پڑھا اور ماسألتموہ کو نفی قرار دیا۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اتاکم من جمیع ذالک غیر سائلیہ۔ تمہیں وہ تمام دیا جس کے…
Read the full tafseer →” واتا کم من کل ماسالتموہ “ وہ تمہارے پاس سب کچھ آگئی جو تم نے ان سے سوال کیا تھا۔ دوسرے شئی کو محذوف قرار دیا جس پر پہلا شئی دلالت کررہا ہے اور بعض نے کہا کہ بہ تکثیر پر دلالت کر رہا ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص تمام اشیاء کو جانتا ہے اور اس کے پاس بہت سارے لوگ آتے ہیں اور ان میں سے تم بعض لوگوں کا ارادہ رکھتے ہو ۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فتحنا علیھم ابواب کل شیء “ حسن نے ” کل “ کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور ما بمعنی نفی کے ہے۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہے کہ تمہیں وہ چیزیں بھی عطا کی گئیں جو انہوں نے جو انہوں نے طلب کیں اور وہ اشیاء بھی دیں جو انہوں نے طلب نہیں کیں ۔ ” وان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32۔ 34۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے بندوں پر جو احسان کئے ہیں ان کا حال بیان فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین کو تمہارے فائدہ کے لئے بنایا اور آسمان سے مینہ برسایا جس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل درختوں میں لگتے ہیں اور ہزاروں قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جس پر انسان کی زندگی کا دارو مدار ہے اور کشتیاں انسان کے قبضہ میں کردیں دریا کو بس میں کردیا تاکہ لوگ کشتیوں پر سوار ہو کر دریا کی راہ سے جہاں جی چاہے جائیں یہاں کی چیزیں وہاں اور وہاں کی یہاں لے جایا لے آیا کریں تجارت سے نفع اٹھائیں اور اس کے علاوہ دریا سے کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کریں اس کا پانی خود بھی پیویں اور اپنے جانوروں کو بھی پلائیں سورج…
Read the full tafseer →(0) (واتکم من کل ما سالتموہ) ” اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگا “ یعنی اس نے تمہیں ہر وہ چیز عطا کی جس کے ساتھ تمہاری آرزوئیں اور ضرورتیں وابستہ ہیں جو تم اپنی زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہو۔ مثلاً مال مویشی، مختلف اقسام کے آلات وصناعات وغیرہ ( وان تعدوانعمت اللہ لا تحصوھا) ” اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو تم شمار نہ کرسکو۔ “ یعنی تمہارا ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو کجا، تم ان کو شمار بھی نہیں کرسکتے۔ (ان الانسان لظلوم کفار) ” یقیناً انسان نہایت نادان، بہت بےشکرا ہے “ یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے، کیونکہ وہ نہایت ظالم، معاصی کے ارتکاب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →71۔ انسان کی ہر ضرورت کی تکمیل کا سامان :
سو اس قادر مطلق رب ذوالجلال والا کرام نے انسان کی ہراس ضرورت کی تکمیل کا از خود انتظام فرمایا جو اس زندگی کے لیے ناگزیرتھی، سو کتنی ہی ایسی نعمتیں ہیں جو انسان کی ذات اور اس کے جسم کے اندر موجود ہیں اور کتنی ہی ایسی ہیں جو اس کے جسم کے باہر اس پوری کائنات میں ہر طرف پھیلی بکھری ہیں، جن سے انسان طرح طرح سے اور ہمیشہ مستفید و فیضیاب ہوتا ہے اور اس واہب مطلق جل جلالہ نے انسان کو یہ سب کو یہ سب کچھ از خود اور انسان کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر عطا فرمایا، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے تم کو عطا فرمایا وہ سب کچھ جس کا تم نے اس سے سوال کیا "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
صالح اعمال اور اللہ کے احسانات
تشریح : یہ آیات مومن بندوں کو اس کی حیثیت، فرائض، اللہ کی وحدانیت، اس کے احسانات جو انسان پر کیے گئے اور تمام کائنات کا نقشہ بڑے ہی بہترین، جامع اور مختصر انداز میں بیان کر رہی ہیں۔ مخاطب پیارے رسول ﷺ کو کیا گیا ہے کہ ایمان لانے والے بندوں کو بتا دو کہ وہ اشرف المخلوقات ہیں اور زمین میں ان کو اللہ کا نائب بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ جو مالک کائنات اور مالک روز جزا، منصف (انصاف کرنے والا) رحیم و جبار، سمیع وبصیر، غفور الرحیم اور ناظم اعلیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، ایسے عظیم الشان رب العلمین کا نائب یا خلیفہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں، اس لیے انسان کو اپنے مالک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ذرا ان لوگوں کا حال ملاحظہ ہو کہ قانون قدرت اور تقاضائے ربوبیت کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو تو پایا مگر بجائے شکر ادا کرنے کے کفر کی راہ اختیار کرلی ، نعمائے الہی میں ظاہرا تو خود وجود انسانی اور اس کی بیشمار صلاحیتیں ہیں پھر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب وذرائع اور اس کے استعمال کے لیے بیشمار نعمتیں ، یہ سب کچھ از خود عظمت باری پہ بہت بڑی دلیل ہے ، جبکہ اللہ جل جلالہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتابیں نازل فرما کر انعامات کی حد کردی انسان ایک باشعور اور باصلاحیت مخلوق تھی اسے چاہئے تو یہ تھا کہ ان…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ دن کو کام کام کرتے ہو اور رات کو سوتے اور آرام کرتے ہو۔
5 ۔ یعنی اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے تمہیں جن اسباب و وسائل کی ضرورت تھی اور جو تمہارے تقاضے تھے وہ سب اس نے فراہم کردئیے۔
6 ۔ یعنی اجمالی طور پر بھی گن نہیں سکو گے چہ جائیکہ تفصیلی طور پر ان کا احصاء ہوسکے تو سوچو تم اس کا شکر کیونکہ ادا کرسکتے ہو۔ (شوکانی)
7 ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں اور ہر آن ہوتے رہتے ہیں مگر وہ ہے کہ ذرا سی تکلیف پہنچتی ہے تو ناشکری پر اتر آتا ہے۔ ظلوم سے یہی مراد ہے۔ (از وحیدی) ۔
Read the full tafseer →(14:34) اتکم۔ اس نے تم کو دیا۔ اتی یؤتی ایتاء (باب افعال) سے صیغہ واحد مذکر غائب ماضی معروف۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔
تعدوا۔ عد یعد (باب نصر) سے مضارع مذکر حاضر۔ نون اعرابی ان شرطیہ کے آنے سے گرگیا۔ اگر تم گننے لگو۔ اگر تم شمار کرنے لگو۔ عدد مادّہ۔
لا تحصوھا۔ مضارع منفی مجزوم۔ جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی بوجہ لاحذف ہوگیا ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ تم اس کو شمار نہ کرسکو گے۔ یعنی تم اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکو گے۔ احصی یحصی احصائ۔ (افعال) سے مصدر۔ گننا۔ شمار کرنا۔ اصل میں یہ لفظ حصی سے مشتق ہے۔ جس کا معنی کنکریاں ہے۔ اور اس سے گننا کا معنی اس لئے لیا گیا ہے کہ عرب لوگ گنتی میں کنکریاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34
انزل اس نے اتارا، نازل کیا۔ اخرج نکالا۔ الثمرات (ثمرۃ) ، (پھل، سبزہ، سبزی) رزق کھانے کو۔ سخر مسخر کردیا، حکم کے تابع کردیا ۔ الفلک کشتی، جہاز دائبین ہمیشہ کام میں لگے رہنے والے ۔ اتکم اس نے تمہیں دیا۔ سالتموہ تم نے اس سے مانگا۔ تعدوا تم گننا چاہو۔ تم شمار کرنا چاہو۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ ظلوم بہت ظالم
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34
جیسا کہ گزشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ انسانی زندگی اور اس کی بقا و سلامتی کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ اللہ نے ایک نعمت کے طور پر اس کائنات میں بکھیر دی ہیں۔ جن پر ہر انسان کو اللہ کا شکر ادا ا کرنا چاہئے مگر انسان ہر آن اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
اللہ تعالیٰ کا احان بندو پر : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو احسان کیے ہیں ان کا بیان فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین کو تمہارے فائدے کے لیے بنایا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ جس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل اور ہزاروں قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ اور کشتیاں انسان کے قبضہ میں کردیں دریا کو بس میں کردیا۔ تاکہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوکر دریا کی راہ سے جہاں جی چاہے چائیں۔ تجارت کو ترقی ہو، سورج و چاند سے فائدہ اٹھائیں جو رات دن گردش میں رہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ بس اسی پر اکتفا نہٰں بلکہ تمہاری ہر ایک خواہش کو بھی پورا کیا۔ اس لی اگر خدا کی نعمتیں شمار کی جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[19] یعنی تمہاری فطرت کی ہر مانگ پوری کی اور تمہاری زندگی کے لئے جو کچھ مطلوب تھا بقدر مناسب تمہیں دیا۔
Read the full tafseer →چاند سورج مسخر ہیں !
(ف 1)
اسلام نے انسان کا مرتبہ بہت بلند رکھا ہے ، اسے کائنات میں مرکزی مقام عنایت فرمایا ہے ، اور کہا ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہے ، وہ تمہارے لئے ہے چاند ، سورج ، رات ، دن ، نہریں اور سمندر سب تمہارے تابع ہیں ، تمہاری حکومت اور تسخیر کا دائرہ وسیع ہے تمہیں اللہ نے ہر نوع کی نعمتیں بخشی ہیں ، مگر تمہیں کہ اللہ کی نعمتوں سے استفادہ نہیں کرتے ، اس نے تمہارے لئے سمندر مسخر کئے چاند اور سورج کو تمہارے تابع بنایا ۔ رات اور دن تمہارے فائدے کے لئے بنائے مگر تم بعضے کافر نعمت ہو کہ ذرے ذرے کے سامنے جھکتے ہو ، ہر چیز کو اپنا معبود کہتے ہو اور اپنے ماتھے کو ہر بلند وبالا شے کے سامنے…
Read the full tafseer →34 ۔ اور جو کچھ تم نے مانگا اور طلب کیا اس سب میں سے اس نے تم کو عطا کیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو اس قدر ہیں کہ اگر ان کو تم شمار کرنے لگو تو تم ان کا شمار او احاطہ نہیں کرسکتے بلا شبہ انسان بڑا ناانصاف اور بڑا ہی نا سپاس ہے۔
مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری ضرورت اور تمہارے مناسب حال ہر شے میں سے تم کو دیا ، وہ مانگنا زبان حال سے ہو یا زبان قال سے اور اسی پر کیا منحصر ہے اس کی نعمتیں تو ایسی ان گنت ہیں کہ تم اگر گننے لگو تو ان کو گن بھی نہیں سکتے ان کے شمار سے عاجز ہو کر بیٹھ جائو باوجود اس عنایت و مہربانی کے پیشر انسان ناانصاف اور نا سپاس ہیں بعض تو شکر بجا لانے کے خوگر ہی نہیں اور بعض…
Read the full tafseer →ف 3۔ کیونکہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر اور شکر نہیں کرتا بلکہ اور بالعکس کفر و معصیت کرنے لگتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ نے ضرورت کی ہرچیز تم کو دی اور تم اللہ کی نعمتوں کو گن نہیں سکتے
35 ؎ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری طلب کی ہرچیز تم کو دی اور وہ عظیم انعامات ہیں جو تمہارے عالم وجود میں قدم رکھنے سے پہلے بن مانگے تمہارے لئے مہیا کردیئے گئے لیکن ان کے علاوہ ہم تمہاری ان ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں جن کے متعلق تم ہم سے التجائیں کرتے ہو اور دعائیں مانگتے ہو اور اس کے انعامات و احسانات اتنے کثیر ہیں کہ تم اگر ان کا شمار کرنا چاہو تو نہ کرسکو تمہارے ہند سے ختم ہوجائیں اور تمہاری زبانیں گنتے گنتے تھک جائیں لیکن تم ان کی گنتی نہ کرسکو۔ انسان اگر اپنے گرد و پیش سے آنکھیں بند کر کے صرف اپنے وجود ہی میں غور کرے تو…
Read the full tafseer →Then, in the first sentence of verse 34, it was said: وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (And He gave you whatever you asked for) - though, what Allah Tad is pleased to give does not depend on being asked by someone for, the truth of the matter is, that we had never asked for our existence itself. This is what He gave to us in His infinite grace without the asking.
Similarly, who had raised hands of prayer that the skies, the earth, the moon, the sun and so many things other than them be created for us? The Master just gave all this to us without our asking for them. Therefore, Al-Qadi…
Read the full tafseer →45.“And He gave you from all that you asked of Him”: He has provided for everything that is required for your life, its development and evolution.
Read the full tafseer →